Ayahs 44:40–59تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ،
اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی رسالت پر یقین کرنے میں ہے اور یہ سب باتیں قرآن کریم اور وحی الہی پر ایمان لانے ہی پر موقوف ہیں تو اخیر میں قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوئے زبان عربی میں نہایت آسان اور سہل تعبیرات کے ساتھ نازل کیے جانے کی حکمت بیان کردی گئی، اور اس پر ایمان نہ لانے والوں کو یہ دھمکی بھی دے دی گئی کہ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو پھر عذاب خداوندی کا ان کے واسطے انتظار کریں تو ارشاد فرمایا۔
بیشک فیصلہ کا دن یعنی روز قیامت ان سب کا ایک مقرر کردہ وقت ہے کہ سب کا حساب و کتاب بیک وقت ہی ہوجائے گا یہ دن وہ ہوگا کہ جس میں کوئی دوست کسی دوست کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ہی وہ مدد کیے جائیں گے مگر وہ شخص جس پر اللہ رحم کرے، بس وہی اس دن کے عذاب اور پریشانی سے بچ سکے گا، ورنہ کسی کو کسی ذریعہ نہ کوئی مدد مل سکے گی اور نہ کوئی کسی کے کچھ کام آئیگا، یقیناً وہی بڑی قوت والا مہربان ہے اس کی مہربانی اس قدر غالب ہے کہ ہر چیز پر محیط ہے اور وہ اپنی شان رحیمی کے ساتھ اتنا زبر دست اور طاقت والا ہے کہ اس کی رحمت کو کوئی روک نہیں سکتا، بیشک درخت زقوم کھانا ہے گنہگار کا وہ اپنی شدت تلخی کے علاوہ ایسا ہے، جیسے پنگھلا ہوا تانبا ایسا سخت گرم ہوگا کہ کھولتا ہوگا پیٹوں میں جیسے کھولتا ہوا گرم پانی ان تکالیف وآلام کے ساتھ حکم ہوگا فرشتوں کو جو عذاب جہنم پر مامور ہوں گے کہ پکڑو اس کو اور دھکیل کرلے جاؤ اس دہکتی ہوئی آگ (جہنم) کے بیچ میں پھر ڈالو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب جو دماغ سے اتر کر آنتوں کو کاٹتا ہوا باہر نکل پڑے گا (اعاذ ناللہ) اس دردناک عذاب اور ایسے شدید عذاب میں مبتلا ہونے والے مجرم کو تہدید وتحقیر کے ساتھ کہا جائے گا لے چکھ لے اب اس عذاب وذلت کا مزہ تو ہی ہے وہ بڑی عزت و کرامت والا کہ اپنے اس غرور ونخوت کی وجہ سے اللہ کے سامنے سرجھکانے اور اللہ کے پیغمبر کی فرمانبرداری سے انکار کرتا رہا اب دیکھ لے وہ تیری عزت وسرداری کہاں گئی یہی تو ہے بیشک اے مجرمو ! وہ آخرت اور عذاب آخرت جس کے بارے میں تم دھوکے ہی میں پڑے ہوئے تھے اور بےمحابا خدا کے پیغمبر کا انکار کرتے تھے اور دعوی کرتے تھے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے تو پھر نہ زندہ اٹھنا ہے اور نہ حشر ہے اور نہ ثواب و عقاب یہ سزائیں اور ذلت ورسوائی تو مجرمین کے واسطے ہوگی، مگر اس کے برعکس یقیناً تقوی والے امن وچین کی جگہ میں ہوں گے باغات اور چشموں میں ہر قسم کی نعمتوں وراحتوں میں ہوں گے، پہنتے ہوں گے پوشاک نرم ولطیف اور گاڑھے ریشم کی کہ بعض پوشاک نرم و باریک ہوگی اور بعض دبیزان نعمتوں اور عزتوں کے ساتھ حالت یہ ہوگی کہ ایک دوسرے کے سامنے رخ کرنے والے ہوں گے یہ نہیں کہ ایک دوسرے سے اعراض کرے یا نفرت وبغض کی وجہ سے ایک دوسرے سے منہ موڑے جو کہ انسانی زندگی میں ایک آزار ہے تو ہر نوع کی الجھن اور کلفت سے پاک مخلصانہ اور دوستانہ انداز میں ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں گے رخ اور توجہ کرنے والے ہوں گے اے مخاطبو ! سن لو ایسا ہی ہے حال ہمارے انعامات اور نوازشوں کا جو ہم اہل ایمان اور تقوی پر کرتے ہیں، اور ہم ان متقین، مومنین کے ساتھ ان کے جوڑے ملادیں گے، ایسی حوروں کے جو بڑی آنکھوں والیاں ہوں گی ان پر نعمتوں کی فراخی اور ان کے اکرام وعزت کا یہ مقام ہوگا، طلب کرتے ہوں گے ان جنتوں میں ہر قسم کا میوہ اور پھل نہایت ہی اطمینان اور سکون کی حالت کے ساتھ، ہر ڈر اور خوف و پریشانی سے مامون ہوں گے، نہ چکھیں گے وہاں موت کا مزہ مگر بس وہی موت جو پہلے آچکی اور یہ کس قدر انعام ہے خداوند عالم کا کہ بچا لیا ان کو جہنم کے عذاب سے جو محض فضل ہے، اے مخاطب تیرے رب کی طرف سے وگرنہ کوئی بھی اپنے عمل اور تقوے سے مستحق نہیں ہے کہ ایسے انعامات سے نوازا جائے اور یہ بھی اللہ کا واقعی فضل وکرم ہے کہ جو انسان اپنی فطری اور طبعی کمزوریوں سے طرح طرح کی خطاؤں اور غلطیوں کا مرتکب ہوتا ہے اس کو عذاب جہنم سے بچا دے۔
بلاشبہ یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے جو قرآنی مضامین اور وحی الہی کے ذریعہ دنیا کے سامنے بیان کردی گئی کیا ان حقائق کو اے ہمارے پیغمبر ﷺ آپ کے یہ مخاطبین اولین قریش مکہ نہیں سمجھتے ہم نے تو اس قرآن کو نہایت ہی آسان کردیا ہے آپ ﷺ کی زبان عربی میں شاید یہ لوگ نصیحت حاصل کرلیں اس کے باوجود بھی اگر یہ باز نہیں آتے، دشمنی اور مخالفت پر ڈٹے رہیں تو پھر انتظار کیجئے ان کی شقاوت ونافرمانی کے برے انجام کا، حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی راہ تک رہے ہیں اس بات کی کہ آپ ﷺ پر کوئی افتاد پڑے اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے لیکن اللہ کے فضل سے حق کو غلبہ ہوگا اور مجرمین ومنکرین ذلیل وناکام ہوں گے۔
درخت زقوم :
درخت زقوم جس کا ترجمہ اہل لغت سینڈ کا درخت کرتے ہیں یہ نہایت ہی بدبودار تلخ اور زہریلا ہوتا ہے اس درخت کو اللہ رب العزت نے اپنی قدرت سے دوزخ کے اندر اگایا ہے جو دوزخ کی آگ اور شعلوں سے نشوونما پاتا ہے جو ظالموں اور کافروں کے لیے عذاب جہنم کی مصیبتوں میں ایک خاص مصیبت کے درجہ میں رکھا گیا ہے دوزخی جب بھوک سے بیقرار ہوں گے تو ان کو یہ کھانے کے واسطے دیا جائے گا جس کی بدبو اور تلخی کی وجہ سے یہ ممکن ہی نہ ہوگا کہ اسے حلق کے نیچے اتارا جاسکے۔
اس کا ذکر سورة صافات میں گزر چکا ہے حضرت والد صاحب (رح) کی تفسیر کی مراجعت فرما لی جائے، (یعنی معارف القرآن ہذا کی جلد، 6)
دنیا کی درختوں میں یہ درخت نہایت بدبودار اور بدمزہ اور بدشکل ہوتا ہے اور ایسا زہریلا ہوتا ہے کہ اگر بدن سے چھو جائے تو تمام بدن میں زہر سرایت کرجائے اور وہ ہلاک ہوجائے ،
حافظ ابن کثیر (رح) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں درخت زقوم جہنم میں ایک ایسا درخت ہے جس کی شاخیں تمام جہنم میں پھیلی ہوئی ہیں جس طرح کہ شجرہ طوبی جنت کا وہ درخت ہے جس کی شاخیں تمام جنت میں پھیلی ہوئی ہیں۔
مجاہد (رح) کی روایت میں ہے کہ شجرۃ الزقوم ایسا تلخ اور بدمزہ ہے کہ اگر اس کا ایک قطرہ بھی زمین پر گر پڑے تو تمام دنیا میں بسنے والوں کی زندگی برباد کردے۔ 1
حاشیہ (تفسیر ابن کثیر جلد رابع۔ 12)
شیخ الاسلام حضرت الاستاذ مولانا شبیراحمد عثمانی (رح) اپنے فوائد قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ دوزخ کے اس درخت زقوم کو جس کو سیہنڈ کا درخت کہا جاتا ہے محض کسی ادنی مشابہت کی وجہ سے اس نام سے تعبیر کیا گیا ہے ورنہ دوزخ کے سیہنڈ کی کیفیت اللہ ہی کو معلوم ہے جس طرح کہ نعماء جنت اور جنت کے پھل ان ناموں سے تعبیر کیے گئے ہیں، جو دنیا کے پھلوں کو جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت نہیں جنت کے پھل کروڑہاکروڑ درجہ بڑھ کر ہیں اسی طرح دنیا کے زقوم سے جہنم کا زقوم بلاشبہ کروڑہا کروڑ درجہ بدتر ہے ،۔ 2
حاشیہ 2 (فوائد عثمانی۔ 12)
درخت زقوم کا آگ میں اگنا کوئی قابل تعجب امر نہیں ممکن ہے اس کا مزاج ناری ہو جیسے بعض کیڑے آگ میں پلتے ہیں اور رہتے ہیں۔
سہارن پور یو۔ پی، کے کمپنی باغ میں ایک درخت تھا جس سے آگ کے شعلے نظر آتے تھے اور کچھ درخت ایسے تھے جن کی نشوونما آگ کے ذریعے ہوتی تھی ،
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ اپنی تفسیر بیان القرآن میں فرماتے ہیں کہ ایک مجلس میں احقر اور دو صاحب علم ہندی الاصل مکی المسکن ایک مجمع میں تھے اور دو حضرات میں سے کسی ایک نے کہا مکہ میں زقوم کا پھل کھایا جاتا ہے جس کو ” برشومی “ کہتے ہیں اور قرآن سے وہ طعام اہل نار کا معلوم ہوتا ہے تو ایسی لذیذچیز سے وعید کیا ہوئی ،
حضرت حکیم الامت (رح) فرماتے ہیں میں نے کہا قرآن شریف میں شجرۃ الزقوم آیا ہے ثمرۃ الزقوم نہیں آیا اور شجرہ مأکول نہیں ہے (تو یہ ممکن ہے کہ پھل کی کیفیت سے درخت کی کیفیت اور حالت جدا ہو) اور ان دونوں صاحبوں اور اہل مجلس نے اس جواب کو بہت پسند کیا، حضرت (رح) یہ بیان کرکے ارشاد فرماتے ہیں کہ اس جواب کی اس وقت ضرورت ہے کہ جب برشومی (درحقیقت) اسی زقوم کا پھل ہو اور اگر کوئی دوسری نوع ہے تو سوال بھی ساقط ہے۔ 1
حاشیہ 1 (تفسیر بیان القرآن جلد 10۔ )
شیخ الاسلام حضرت عثمانی (رح) نے اپنے فوائد میں یہ فرمایا کسی نے یہ کہا زقوم فلاں لغت میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں بعض عرب انہیں سامنے رکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں کہ آؤ زقوم کھائیں۔ 2
حاشیہ۔ 2 (فوائدعثمانی۔ سورة صافات۔ 12)
(واللہ اعلم بالصواب) کوئی تعجب نہیں کہ حضرت تھانوی (رح) کی مجلس میں جو زقوم کا پھل کھانے کا ذکر کیا ہو وہ اسی طرح کا ہو، (واللہ اعلم بالصواب )
اہل جنت کا ہر خوف اور تکلیف سے مامون ہونا :
دنیا دار الفناء اور دارالمحن ہے کہ یہاں نہ کسی چیز کو دوام ہے اور نہ کسی کو آلام ومصائب سے کلی طور پر تحفظ ہوسکتا ہے بلکہ کسی نہ کسی طرح سے تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہونا لوازم دنیا میں سے ہے اس کے بالمقابل جنت دارالخلد ہے وہاں کی ہر راحت اور نعمت دائمی ہے اور وہاں ہر خوف وحزن سے تحفظ ہے اس لیے فرمایا (آیت ) ” لایذوقون فیھا الموت “۔ کہ جنتی جنت میں کسی موت کا مزہ نہ چکھیں گے بس جو موت ان کو دنیوی زندگی میں آگئی وہ آگئی اب مزید کسی موت کا اندیشہ ان کو پریشان نہ کرے گا۔
صحیح بخاری، صحیح مسلم و دیگر کتب حدیث میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل دیوار پر اس کو کھڑا کردیا جائے گا (جہاں سے اس کو جنتی اور جہنمی دونوں دیکھ سکیں گے) اور پھر اس کو ذبح کرکے اعلان کردیا جائے گا۔ ؛ یا اھل الجنۃ خلود فلا موت ویا اھل النار خلود فلا موت۔ یعنی اے اہل جنت بس اب دوام ہے (تمہارے لیے) اس لیے آئندہ کوئی موت نہیں اور اہل نار تمہیں بھی دوام ہے بس اس کے بعد اب کوئی موت نہیں اس اعلان کے سننے پر اہل جنت کی مسرت کی کوئی انتہاء نہ رہے گی، اور اہل نار کی حسرت وبیقراری کا عالم عجیب ہوگا۔
ابواسحاق (رح) نے بروایت ابومسلم الاغررضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ابوسعید خدری ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنتی جب جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اعلان کیا جائے گا۔
یا اھل الجنۃ ان لکم ان تصحوا فلا تسقموا ابدا وان لکم ان تعیشوا فلا تموتوا ابدا وان لکم ان تنعموا فلا تبئسوا ابدا وان لکم ان تشبوا فلاتھرموا ابدا :
کہ اے اہل جنت (آگاہ ہوجاؤ) بیشک تمہارے واسطے (اب) یہ ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے اور تم ہمیشہ زندہ رہوگے کبھی نہیں مرو گے اور یہ کہ تم ہمیشہ خوش رہو گے کبھی سختی اور تنگی میں نہیں پڑو گے اور تمہارے واسطے یہ بھی ہے کہ تم ہمیشہ نوجوان اور مضبوط رہو گے کبھی بورھے اور کمزور نہ ہو گے ،
الحمد للہ تفسیر سورة دخان بتوفیق خداوندی مکمل ہوئی، فللہ الحمد والمنتہ۔