43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 43:1–15

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

کتاب روشن کی قسم

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا اسی طرح تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کیے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب ان پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے

بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی طرف سے ایک بلند ہے ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی طرف سے ایک جامع کتاب ہدایت ہے اور بیشک یہ قرآن عربی لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہمیشہ سے ہے جو نہایت ہی بلند پایہ بڑا ہی مستحکم اور محفوظ حکمتوں سے لبریز ہے ،۔ 1 حاشیہ (مستحکم ومضبوط اور حکمتوں سے لبریز کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لفظ حکیم اس جگہ دونوں معنی پر مشتمل ہے۔ ) کیا پھر تم سے ہم اعراض کرلیں، ذکر ونصیحت کرنے سے اس بنا پر کہ تم حد سے گزر جانے والے ہو، کہ ہم تمہیں نہ نصیحت کریں، اور نہ تمہاری برائیوں پر تنبیہ و وعید نازل کریں نہیں ایسا نہیں ہوگا بلکہ ہم زجر وتنبیہ بھی کریں گے، وعظ ونصیحت بھی کریں گے خواہ تم حد سے تجاوز کرنے والے ہو اور یہ بات تمہاری اے کفار مکہ آج کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ دستور تو پرانے زمانوں سے چلا آرہا ہے، اور ہم نے کتنے ہی رسول بھیجے پہلی قوموں میں وہ اللہ کا پیغام لے کر ان قوموں میں مبعوث ہوتے رہے، اور نہ آتا ان کے پاس کوئی بھی رسول اللہ کے رسولوں میں سے مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ مذاق کرتے، تو کسی کے مذاق و تمسخر سے اللہ رب العزت اپنی ہدایات کے نزول کو نہیں روکتا، پھر ہم نے ہلاک کرڈالا، ان میں سے سخت زور والوں کو بھی، اور چلی آئی ہے یہ مثال اور ایک عبرت ناک تاریخ پہلے لوگوں کی، اللہ رب العزت کے رسولوں کے منکرین ومکذبین کے یہ عبرتناک واقعات حق تعالیٰ کی قدرت والو ہیت اور عظمت کی کھلی نشانیاں ہیں، ان کو دیکھ کر کوئی بھی خدا کی قدرت وخالقیت کا انکار نہیں کرسکتا، اور یہ منکرین بھی اگرچہ اپنی زبانوں سے انکار کرتے ہوں لیکن ان کے دل اقرار کرتے ہیں، چناچہ اگر تم ان سے سوال کرو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ضرور یہی کہیں گے کہ اس پروردگار نے جو بڑی ہی عزت، زبردست علم والا ہے، کیونکہ ہر مخلوق اپنے خالق کی عظمت بھی بتا رہی ہے، اور اس کے علم و حکمت کی بھی واضح دلیل ہے، وہی ہے پروردگار جس نے اے انسانو ! زمین کو تمہارے واسطے بچھونا بنایا، اور بنائے اس زمین میں تمہارے واسطے راستے تاکہ تم اپنے منافع اور حوائج کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ راستہ پاسکو اور سہولت سے سفر کرسکو اور وہ پروردگار ایسا مہربان ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اندازے کے مطابق کہ جہاں جتنا چاہا برسایا، پھر اس پانی کے ذریعہ شاداب کردیا ایک مردہ جگہ کو جو بےآب وگیاہ بنجر علاقہ تھا پانی نے برس کر اس کو سرسبز و شاداب بنا دیا تو جسطرح مردہ زمین سے سبزہ اور غلہ آگ رہا ہے اور مردہ زمین کی تہوں کے اندر سے نباتات اور سبزے نمودار ہورہے ہیں زمین کی تہہ میں دبے ہوئے تخم اور دانے زمین میں مل جانے اور مٹی مٹی ہوچکنے کے بعد پھر اسی طرح نباتاتوسبزہ کی شکل میں رونما ہورہے ہیں جو پہلے موجود تھی تو اسی طرح اے لوگو ! تم بھی اپنی قبروں سے نکالے جاؤ گے تم زمین میں دفن ہونے کے بعد زمین کے اجزاء کے ساتھ خلط ملط ہوجاؤ ریزہ ریزہ ہوجاؤ، لیکن پھر تمہارا نکلنا اور اٹھنا ہر تخم سے دوبارہ درخت اور سبزہ کے نمودار ہونے کی طرح ہوگا اور وہ پروردگار جس نے جوڑے بنائے ہر چیز کے مثلا نرومادہ نیک وبد، اچھا برا، سیاہ وسفید، خشک وتر، گرم وسرد اور نافع ومضر اور بنا دیا کشتیوں اور چوپایوں کو ایسا کہ تم ان پر سوار ہوتے ہو۔ اور ان پر تم برد بحر کا سفر کرتے ہو اور کشتیوں اور جانوروں کو اس طرح بنایا ہے کہ تم ان کشتیوں اور چوپاؤں کی پشت پر برابر جم کر بیٹھ سکو پھر تم اپنے رب کی نعمت کو یاد کیا کرو جب تم ان پر سوار ہوا کرو اور کہا کرو اپنے پروردگار کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے، پاکی ہے اس ذات کی جس نے مسخر وتابع کردیا، ہمارے واسطے اس کو اور ہم تو نہ تھے ایسے کہ اس کو قابو لانے والے ہوتے۔ ظاہر ہے کہ یہ طاقتور حیوان اور وہ تمام مشینیں جو کائنات کی طاقتوں ہوا پانی، اور آگ کی قوتوں سے چلتی ہوں انسان ضعیف کی کیا مجال تھی ان کو اپنے قابو میں لاسکتا، اور اے انسانو ! تم اپنے اس دنیوی مضر کے وقت اصل منزل کی طرف واپسی کا تصور کرتے ہوئے یہ سوچا کرو کہ دنیا کی یہ زندگی بھی ایک سفر ہے اور اس سفر سے اصل حقیقی منزل کی طرف ہی لوٹنا ہے اور کہا کرو۔ 1 حاشیہ (چنانچہ کتاب الا زکار والا رعیہ میں یہ حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سفر شروع کرتے وقت سواری پر سوار ہونے کے بعد یہ کلمات دعائیہ پڑھنے کی ہدایت فرمائی، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جب سواری پر سوار ہوتے تو تین بار تکبیر فرماتے اور تین بار سبحان اللہ “۔ فرماتے اور ایک بار ”۔ لاالہ الا اللہ “۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ” الا الہ الا اللہ “۔ بھی تین بار فرماتے اور پھر یہ آیت مبارکہ (آیت ) ” سبحان الذی سخرلنا “۔ پڑھتے، اس کے بعد یہ کلمات فرماتے۔ اللہم انی اسئلک فی سفری ھذا من البر والتقوی ومن العمل ما تحب وترضی اللہم ھون علینا السفر واطولنا البعد اللہم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل اللہم اصحبنا فی سفرنا ھذا واخلفنا فی اھلنا “۔ یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اپنے اس سفر میں نیکی اور تقوی کا اور عمل میں سے ایسے عمل کا جو تجھے پسند ہو اے اللہ ہم پر یہ سفر آسان کر اور اس کے بعد کو تو لپیٹ دے مختصر کردے، اے اللہ تو ہی ساتھی ہے ہمارا سفر میں اور خلیفہ ہے ہمارے اہل میں، اے اللہ تو ہمارا ساتھی رہے ہمارے سفر میں، اور خلیفہ ونگران رہے ہمارے اہل میں، 12) بیشک ہم تم اپنے رب ہی کی طرف یقیناً واپس لوٹنے والے ہیں، یہ دلائل قدرت اور انعامات عظیمہ بلاشبہ اس بات کا موجب تھے کہ لوگ اللہ کی خالقیت اور اس کی وحدانیت کو پہچانتے اور اس پر ایمان لاتے لیکن افسوس بہت سے انسانوں نے اپنی بدنصیبی اور محرومی کا ثبوت دیا اور اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے ہی اولاد کو ٹھہرایا، جیسے نصاری نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو خدا کو بیٹا قرار دیا، جو صریح شرک ہے، اور حق تعالیٰ کی الوہیت ووحدانیت کا انکار ہے، بیشک انسان بڑا ہی کھلم کھلا ناشکرا اور نافرمان ہے بجائے اس کے کہ حق تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان کر اس کا شاکرومطیع ہوتا اس نے نافرمانی اور گستاخی کا طریقہ اختیار کیا کہ اللہ کے واسطے اولاد تجویز کی ، نصاری نے تو ایک بیٹا تجویز کیا تھا مشرکین مکہ نے مزید یہ ظلم کیا کہ بیٹیاں تجویز کرڈالیں، جب کہ خود ان لوگوں کو بیٹیوں سے عار معلوم ہوتا ہے، اولاد چونکہ باپ کے وجود کا ایک جز ہوتا ہے تو خداوند عالم کے لیے تجویز اولاد کو اس عنوان سے تعبیر کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “۔ اور ظاہر ہے یہ عقیدہ اس امر کے موجب ہے کہ خداوند عالم کو ایک مرکب شئی تصور کیا گیا، اور مرکب چیز بلاشبہ حادث ہوتی ہے، تو اس طرح تجویز اولاد اس امر کو مستلزم ہوئی کہ خداوند عالم کی خالقیت اور قدرت ہی کا انکار ہے پھر یہ کہ اولاد اور باپ میں یقیناً مشابہت اور مجانست ہوتی ہے، دونوں ایک جنس کے نہ ہوں تو والد ومولود کیونکر ہوسکتے ہیں تو اس طرح خدا کے واسطے امثال اور نظائر بھی گویا تجویز کردیئے، جو اس کی شان صمدیت کے منافی ہے پھر یہ بھی ہے کہ اولاد کا رشتہ عالم کائنات میں ایک طرح کی احتیاج پر مشتمل ہے تو اولاد کی تجویز خداوند عالم کے محتاج ہونے کو ثابت کرنے والی ہے جو کسی طرح بھی ممکن التصور نہیں، تو پھر کیونکر ایسا لغو اور احمقانہ عقیدہ خدا کے لیے اختیار کیا جاتا ہے تو اس سے بڑھ کر انسان کی ناشکری اور نافرمانی کی کیا دلیل ہوسکتی ہے۔
Ayahs 43:16–25

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دے دئیے

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے ؟

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ کالا ہوجاتا ہے اسی کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا جارہا ہے کہ قبول حق سے انکار محض عصبیت کی وجہ سے ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقہ کو چھوڑنا گوارا نہیں کرتے تو مخصوص کردیا بیٹوں کے ساتھ کہ تم اپنے واسطے تو بیٹیاں گوارا نہ کرو، اور خدا کے واسطے ان کو تجویز کرو، حالانکہ جب کبھی بھی ان میں سے کسی کو بشارت سنائی جائے اس چیز کی جس کو انہوں نے رحمن کے واسطے نمونہ بنا رکھا ہے تو غصہ کے مارے اس کا منہ سیاہ ہوجا تا ہے دن بھر اور حال یہ ہے کہ وہ دل میں گھٹ رہا ہے اور پیچ وتاب کھاتا ہے یہ تو عجیب احمقانہ فیصلہ اور مضحکہ خیز تصور ہے تو کیا وہ لڑکی جو پرورش پاتی ہے (زیب وزینت) زیور میں اور وہ جو خصومت میں اپنے مدعا کو بھی ظاہر کرنے والی نہیں ہے، وہ اس قابل ہے کہ اس کو خدا کی اولاد اور اس کا نمونہ قرار دیا جائے، ظاہر ہے کہ زیبائش و آرائش میں نشوونما پانا جسمانی ضعف اور قوائے بدنیہ کے نقصان کی علامت ہے کیونکہ جسمانی زیب وزینت اور آرائش و آسائش انسان کی عملی صلاحیتوں کو ناقص بنانے والی ہے اور اپنے مدعی کو ظاہر وثابت نہ کرسکنا یہ قوائے فکریہ اور عقل کی کمزوری کی علامت ہے، چناچہ یہ کمزوری عورتوں میں واضح طور پر پائی جاتی ہے گو بات طویل کریں گی لیکن نہ تو اپنے مقصد کو مدلل کرسکیں گی اور نہ مخالف کی بات کا معقول جواب اور رد کرسکیں گی، اور ٹھہرایا انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ رحمن کے بندے ہیں عورتیں کس قدر ظلم اور حماقت ہے کہ خدا کے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا جائے کیا یہ لوگ موجود تھے ان کی تخلیق کے وقت، اب ہم لکھ رکھیں گے ان کی گواہی اور ان سے باز پرس کی جائیگی کہ تم نے اولا تو خدا کی اولاد تجویز کی اور پھر فرشتوں کو مؤنثوں کی صف میں لے جا کر کھڑا کردیا ہے، حالانکہ وہ نہ جنس مذکر ہیں اور نہ مؤنث، اور پوچھا جائے گا کہ تمہاری اس بات کی کیا دلیل ہے بجائے اس کے کہ اپنی اس احمقانہ اور بیہودہ بات پر شرمندہ ہوتے اور یہ کہنے لگے اگر اللہ چاہتا تو ہم ان بتوں کی عبادت نہ کرتے جب اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہر بات جانتا ہی ہے تو اس نے ہماری یہ بات جاننے کے باوجود جب ہم کو نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ ہمارا یہ سب عمل اس کی مرضی سے ہے، اور اچھا ہے، حالانکہ ان کو اس کی کچھ بھی خبر نہیں کہ اس چیز کی وجہ سے انسان کے اپنے اختیار و ارادہ سے کیے ہوئے برے کام اچھے نہیں ہوسکتے، خیر وشر بیشک اللہ کے ارادہ اور قدرت سے ہے، لیکن انسان اپنے اعمال وافعال کا ذمہ دار ہے، اگر ان کا یہ فلسفہ درست قرار دے لیاجائے تو ہر ظالم وخونخوار اپنے ہر عمل کے درست ہونے کے واسطے یہی استدلال پیش کرنے لگے گا کہ جب خدا نے مجھے اس کام سے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ کام اچھا ہے اور ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی صاحب عقل اس فلسفہ کو تسلیم کرنے لیے نہیں تیار نہیں ہوسکتا، یہ تو سب اٹکل اور تخمین کی باتیں کرتے ہیں، جو خود انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ رکھی ہیں کیا ہم نے ان کو کوئی کتاب دے رکھی ہے اس سے پہلے تو وہ اس کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں کوئی نوشتہ پیغام یا دلیل عقلی تو کیا ہوتی بلکہ وہ تو یہ کہنے لگتے ہیں بیشک ہم نے پایا ہے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر اور ہم انہی کے نشانات قدم سے راہ پاتے ہیں اور جس طرح یہ منکرین ومشرکین اپنے باپ دادوں کی اتباع کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، اسی طرح یہ ہے کہ جب بھی ہم نے آپ سے پہلے کسی کو رسول بنا کر بھیجا اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا کسی بستی میں تو وہاں کے عیش پرستوں نے یہی کیا کہ ہم نے تو پایا ہے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر اور ہم تو بس انہی کے قدموں پر چلتے ہیں ، اللہ کا وہ پیغمبر ہمیشہ ان منکرین کی بات پر بولا تو کیا اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت کی چیز لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے، تو بھی تم میرا انکار کرو گے اور اس بےدلیل اور عقل و فطرت کے خلاف بات کے مقابلہ میں رشد وہدایت کی یہ معقول بات نہیں مانوگے تو انہوں نے بس یہی جواب دیا ہم تو اس چیز کا انکار کرتے ہیں جو تم دے کر بھیجے گئے ہو تو ہم نے اس بات پر ان سے انتقام لیا، اور ظاہر ہے کہ ایسی گستاخیاں کب تک برداشت کی جاسکتی ہیں، سو اے مخاطب تو دیکھ لے کیسا ہوتا ہے انجام اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا اور مکذبین ومنکرین یعنی قوم عاد وثمود وغیرہ کے واقعات تاریخ عالم ہوچکے ہیں، ان کو ہر شخص اور بالخصوص اہل عرب خوب جانتے ہیں تو ان عبرت ناک واقعات سے بخوبی یہ کفار قریش عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔
Ayahs 43:26–35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع رہیں

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور انکے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور (خوب) تجمل و آرائش (کر دیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک : قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور مشرکین سے نفرت وبیزاری ہی اختیار کرے گا، یہی اسوۂ ابراہیمی ان آیات میں بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ شانہ کی اس حکمت تکوینی کا بھی ذکر ہے جس کے باعث اس نے دنیا میں ایمان وکفر اور ہدایت وضلالت کی تقسیم فرمائی تو ارشاد فرمایا، اور جب کہ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو اور قوم کو کہ اے لوگو ! بیشک میں بیزارہوں ان چیزوں سے جن کی تم عبادت کرتے ہو اور تم نے ان کو اپنا معبود بنا رکھا ہے مگر اس ذات سے کہ مجھ کو پیدا کیا، بس میں تو اسی کی عبادت کرتا ہوں وہی میرا یکتا معبود حقیقی ہے، بیشک وہی مجھ کو راہ دکھاتا ہے، اور اسی بات کو ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک باقی رہنے والا پیغام بنا کر چھوڑ دیا اپنی اولاد میں تاکہ وہ رجوع کریں، اسی معبود واحد کی طرف، چاہئے تو یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ اسوہ اور ان کے میراث ان کی اولاد اور آنے والی نسلوں میں باقی رہتی، لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ یہ ہوا کہ میں نے ان کو دنیوی سازوسامان اور راحتوں سے متمتع کیا اور ان کے بزرگوں کو یہاں تک کہ ان کے پاس حق آگیا، اور ایسا رسول جو ہر بات کھول کر بیان کردینے والا ہے، جس نے سچا دین پیش کیا، واضح دلائل سے حق ثابت کیا قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سنائیں، حق و باطل کے فرق اور ان کے ثمرات کو نہایت صفائی سے بیان کردیا جس کے بعد کوئی گنجائش تو نہ تھی کہ ایسے رسول مبین پر لوگ ایمان نہ لاتے اور اس کے دین سے اعراض و انحراف کرتے مگر افسوس انہوں نے اعراض و انکار کیا اور جب ان کے پاس حق پہنچا تو انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے والے نہیں ہیں، اور کہا کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دونوں بستیوں والوں میں سے کسی بڑے مرد پر کہ وہ سربر آوردہ اور دولتمند ہوتا تو ہم اس کی پیروی کرلیتے، اب کسی فقیر اور معمولی آدمی کی کیونکر اتباع کریں، اے ہمارے پیغمبر تو کیا یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں آپ کے رب کی رحمت کو کہ نبوت و رسالت کا منصب ان کی رائے اور مرضی کے مطابق تقسیم دنیا کا خدا کے یہاں اور قانون ہے، اور نبوت و رسالت سے سرفراز فرمانے کا معیار دوسرا ہے، اور جس طرح دنیا کی نعمت تقسیم کرنے میں ہم ہی قادر ومختار ہیں اس میں کسی کے مشورہ اور مرضی کے پابند نہیں، اسی طرح رسالت ونبوت کی عطا میں بھی ہم ہی مختار مطلق ہیں جس کو چاہیں اس منصب سے نوازیں، نعمت خواہ دنیوی یا اخروی اور روحانی ہو اس کی عطا وتقسیم میں کسی کا کوئی دخل نہیں، چناچہ ضابطہ یہی ٹھہرا ہوا ہے کہ ہم ہی نے تقسیم کیا ہے ان کی روزی کو دنیا کی زندگی میں اور بلند کردئیے بعضوں کے درجے بعضوں پر کہ کسی کو غنی بنایا اور کسی کو فقیر کسی کو عزت والا تو کسی کو نیچے مرتبہ والا، یہ سب کچھ اس غرض سے کیا کہ بعض دوسرے بعض کو اپنا تابع اور مددگار بنا لے تاکہ دنیوی نظام صحیح اسلوب پر قائم رہے، اگر ہر ایک کو برابر کردیتا تو کوئی کسی کی بات نہ مانتا نہ تابعدار ہوتا، اور نہ کوئی کسی کی خدمت کرتا اور ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو نظام معیشت درہم برہم ہوجاتا تو فرق مراتب دنیوی مال و دولت میں مقتضائے حکمت تھا تو اسی کے مطابق دنیا کی دولت تقسیم کی گئی کسی کو زائد دیا جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا کے ہاں اس کی قدر ومنزلت زائد ہے، اصل عزت اور خیر کی چیز رحمت خداوندی ہے، جو علوم نبوت ہیں، اور وہ رسول خدا ﷺ کی بارگاہ سے حاصل ہوتے ہیں، تو اے مخاطب تیرے رب کی رحمت بہتر ہے، ان چیزوں سے جو یہ دنیا والے جمع کرتے ہیں، نبوت و رسالت کا شرف دنیوی مال و دولت اور عزت وجاہ سے کہیں بڑھ کر ہے اس لیے یہ فیصلہ درست نہیں کہ نبی اور رسول کسی بستی کا دولت مند شخص ہی ہونا چاہئے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اور اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ہی ایک ہی جماعت ہوجائیں تو ہم ان لوگوں کے لیے جو (خدائے) رحمن کے منکر ہیں، گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی چاندی ہی کی بنا دیتے جن پر وہ چڑھیں، اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، یہ سب کچھ چاندی کی بنا دیتے اور سونے کے غرض مکانوں کی چھتیں، سیڑھیاں دروازے تخت وچوکیاں سب کچھ سونے چاندی کے بنا دیتے لیکن اس قدر زیب وزینت کو دیکھ کر انسانی طبائع کا متاثر ہونا اور ان چیزوں کی طرف مائل ہوجانا قریب تر تھا، جس کا نتیجہ یہی ہوتا کہ دنیا کے تمام لوگ آخرت سے ترک تعلق کرکے صرف دنیوی سازو سامان اور زیب وزینت ہی کے ہو کر رہ جاتے اور یہ بات حکمت خداوندی کے خلاف تھی، اس وجہ سے کافروں کو بھی دنیا کی دولت کم دی گئی، اور اصل یہی ہے یہ سب کچھ نہیں ہے، مگر صرف دنیا کی زندگی میں برتنے کا سامان جس سے چند روزہ تمتع ہی ہوسکتا ہے، اور آخرت کی تمام نعمتیں راحتیں، عزتیں، اے مخاطب تیرے رب کے ہاں صرف تقوی والوں ہی کے لیے ہے، دنیا کی شادابی اور بہار میں سب شریک ہیں، مگر آخرت کی دائمی اور لازوال نعمتیں ایمان وتقوی والوں کے واسطے مخصوص ہیں۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت رکھتی تو اللہ تعالیٰ کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ بھی نہ چکھاتا ، صحیحین میں سے کہ ازواج مطہرات نے جس زمانہ میں نفقہ کی زیادتی کیا مطالبہ کیا اور آنحضرت ﷺ نے اس مطالبہ سے ناراض ہو کر ایک ماہ تک کے لیے ازواج مطہرات سے ملنے جلنے بات چیت سے پرہیز کرنے کی قسم کھائی تھی، اور بالاخانہ پر مقیم تھے تو عمر فاروق ؓ جب وہاں حاضر ہوئے اور یہ دیکھا کہ آپ ﷺ کھری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں، جس کی پتیوں نے آپ ﷺ کے پہلو مبارک پر نشان ڈال رکھا ہے تو اس منظر کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسوآگئے، اور عرض کیا یارسول ﷺ اللہ یہ قیصروکسری جس حال میں ہیں، ظاہر ہے کہ (جن کے پاس دنیا کی نعمتوں کی کوئی حدوانتہا نہیں) اور آپ ﷺ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ہیں، (جو اس حالت میں ہیں) تو آپ ﷺ اپنی امت کے لیے دعا کردیجئے کہ اللہ ان کو فراخی عطا کردے کہ اللہ ان کو فراخی عطا کردے، روایات میں ہے کہ آپ ﷺ عمر فاروق ؓ کی یہ بات سنتے ہی چونک کر آگے کو ہو بیٹھے، اور دو بار آپ ﷺ نے یہ فرمایا افی شک انت یا ابن الخطاب (کہ اے ابن خطاب تو ابھی شک ہی میں پڑا ہوا ہے) یہ لوگ تو وہ ہیں کہ دنیا کی لذتیں انہیں دنیا میں جلدی ہی دے دی گئیں، جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور ایک حدیث میں یہ ہے کہ کیا تم راضی نہیں ہو کہ ان کے واسطے دنیا ہو، اور ہمارے واسطے آخرت ہو۔