42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 42:1–12

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہو (گا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے (اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا اور سنتا ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے

اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی ہے اسی طرح اے ہمارے پیغمبر ﷺ ہم آپ ﷺ پر وحی اتارتے ہیں اور ان پیغمبروں پر بھی جو آپ ﷺ پہلے گذرے، یہ وحی اس خدا کی طرف سے ہے جو بڑی عزت والا زبردست حکمت والا ہے، اس پروردگار کی شان یہ ہے کہ اس کے واسطے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہی سب سے برتر اور بڑی عظیم شان والا ہے اس کی عظمت شان کو اگر کوئی منکر و کافر نہ جانے تو نہ جانے لیکن اس کی عظمت شان کی حقیقت تو یہ ہے کہ قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں، اس کی ہیبت و عظمت کو برداشت نہ کرسکنے کی و جہ سے۔ 1، حاشیہ (عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح بخاری اور مسلم میں ہے کہ آسمانوں کا اوپر سے پھٹ پڑنا اللہ رب العزت کی عظمت اور ہیبت بیان فرمایا گیا۔ علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں شاید اس وجہ سے کہ کفر اور شرک کو دیکھ کر آسمان و زمین کانپ جاتے ہیں جیسا کہ سورة مریم میں ہے (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا “۔ جامع ترمذی کی روایت میں ہے۔ اطت السمآء وحق لھا ان تئط مامن موضع منہ اربعۃ اصابع الاوملک واضع حببھتہ ساجد اللہ “۔ یعنی آسمان کر اہتا ہے ناقابل برداشت بوجھ کی وجہ سے اور ضروری ہے کہ وہ کرا ہے آسمان میں چار انگلی کے بقدر بھی کوئی ایسی جگہ خالی نہیں کہ اس میں کوئی فرشتہ ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے سامنے سجدہ میں نہ ہو تو عظمت خداوندی اور اسکی ہیبت و جلال سے آسمان قریب ہے کہ پھٹ پڑیں، اور شرک وکفر سے پھٹ پڑنے کے قریب ہونا بھی اللہ رب العزت کی عظمت ہی کے باعث ہے، لہذا ان دونوں توجہیوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ 12۔ ) اور وہ فرشتے جو آسمانوں میں پا کی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی حمد وثناء کے ساتھ اور استغفار کرتے رہتے ہیں زمین والوں کے لیے کیونکہ اللہ کا حق عظمت ادا کرنے سے ہر شخص قاصر ہے خواہ وہ کتنا ہی عابد وزاہد اور مطیع وفرمانبردار ہو اور اس لحاظ سے بندہ اپنے رب کا حق نہ ادا کرسکے لامحالہ مستحق عقوبت ہے تو اس وجہ سے روئے زمین پر بسنے والوں کے لیے فرشتے معافی مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار تیرے حق میں بندوں سے جو کچھ تقصیر وکوتاہی کرہ گئی تو اس سے درگزر فرما، آگاہ ہوجاؤ اے لوگو ! اللہ بڑا ہی مغفرت والا نہایت ہی مہربان ہے کہ اہل ایمان کی تقصیرات اور گناہوں سے درگزر فرماتے ہوئے اپنے انعامات ورحمتوں سے نوازتا ہے، اور کافروں کو بھی اس نے اپنی اسی شان غفوری ورحیمی سے یہ موقع دے دیا کہ جب بھی وہ کفر سے تائب ہو کر خدا کی بندگی کا رخ کریں اور ایمان لائیں تو ان کو دھتکارا نہیں جاتا، اے نبی کریم ﷺ آپ ﷺ ایسے نافرمانوں کو دیکھ کر رنج نہ کریں ایسے لوگوں کی نافرمانی خدا کی شان عظمت میں کوئی کمی نہیں کرستی، اور جن لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبود اور کارساز بنالیے ہیں، اللہ ان کو خوب دیکھ بھال کر رہا ہے، جونہی اس کی حکمت کے لحاظ سے مناسب وقت ہوگا خدا ان کو سزا دے گا اور وہ نہ خدا کے علم سے چھپے ہوئے ہیں اور نہ خدا کی گرفت سے بچ سکتے، اور آپ ﷺ ان کے کوئی ذمہ دار نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے، اور نہ ہی آپ ﷺ کو یہ اختیار ہے کہ آپ ﷺ جب چاہیں ان پر عذاب نازل کردیں، اور ہم نے اسی طرح جیسا کہ یہ تمام احکام خداوندی آپ ﷺ کے سامنے ہیں آپ ﷺ کی طرف بذریعہ وحی بھیجا ہے، قرآن عربی تاکہ آپ ﷺ ڈرائیں (آیت ) ” ام القری “۔ یعنی مکہ میں بسنے والوں کو اور ان لوگوں کو جو اس کے اردگرد ہیں اور اس دن سے جو میدان حشر میں اولین وآخرین کے جمع ہونے کا ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جس میں بس یہی فیصلہ ہونا ہے کہ ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ جہنم میں۔ 1 حاشیہ (حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ باہر مجلس میں ہماری سامنے تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں دو کتابیں (دستاویزیں) تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو یہ دو کتابیں کیسی ہیں، ہم نے عرض کیا نہیں، یا رسول اللہ ﷺ مگر یہ کہ ہمیں بتا دیں، آپ ﷺ نے اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو دائیں ہاتھ میں تھی، فرمایا، یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے، جس میں اہل جنت کے نام مع ان کے آباد کے ناموں کے اور قبائل کے لکھے ہوئے ہیں اور ان کے آخر میں میزان اجمالی (آخری) لگا دی گئی ہے جس میں نہ کوئی کمی ہوگی اور نہ کوئی اضافہ ہوسکے گا، پھر آپ ﷺ نے اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو بائیں ہاتھ میں تھی، فرمایا اس میں اہل جن ہم کے نام ہیں مع ان کے آباؤ اجداد اور قبائل کے ناموں کے اور پھر اخیر میں آخری میزان اجمالی (آخری) لگا دی گئی ہے جس میں نہ کوئی کمی ہوگی اور نہ کوئی اضافہ ہوسکے گا، پھر آپ ﷺ نے اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو بائیں ہاتھ میں تھی، فرمایا اس میں اہل جہنم کے نام ہیں مع ان کے آباؤ اجداد اور قبائل کے ناموں کے اور پھر اخیر میں میزان لگادی گئی کہ اب آئندہ اس میں نہ کمی ہوگی اور نہ اضافہ ہوگا اس پر حضرات صحابہ ؓ نے عرض کیا تو پھر یا رسول ﷺ اب عمل کیا کیا ضرورت باقی رہ گئی (اگر یہ فیصلہ ہوچکا) آپ ﷺ نے فرمایا سددوا وقاربوا کہ استقامت و پختگی کے ساتھ مسلسل عمل میں لگے رہو اور اعتدال کے ساتھ شریعت کے راستے پر چلتے رہو، جنتی شخص کے لیے جنت کے کام کے ساتھ مہر لگا دی گئی اسی پر اس کا خاتمہ ہوگا، خواہ پہلے وہ کسی قسم کا بھی کام کرچکا ہو، اور جو شخص جہنم کے لیے طے ہوگیا، اس کے واسطے جہنم کے کام کی مہر لگ گئی ہے خواہ وہ پہلے کچھ بھی کرچکا ہو پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاتھ سمیٹتے ہوئے فرمایا۔ ذرغ ربکم من العباد۔ ایک ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” فریق فی الجنۃ “۔ بائیں ہاتھ سے دوسری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” فریق فی السعیر “ (جامع ترمذی) اس موضوع کی تفصیلات مسئلہ تقدیر کے ذیل میں گذر چکیں۔ 12۔ واللہ اعلم بالصواب ‘۔ ) اور سب کچھ اللہ کی حکمت اور اس کی تقدیر سے ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ان انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور ان میں ایمان وکفر اور توحید وشرک کا فرق واختلاف نہ ہوتالیکن یہ اللہ کی بےپایاں حکمتیں ہیں کہ وہ جس کو چاہتا ہے ایمان وہدایت کے لیے اس کو اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور جس کو چاہے اس کی بدنصیبی اور شقاوت کی وجہ سے محروم کردے اور ایسے ظالموں کے واسطے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار اور قیامت کے روز جو یوم الجمع ہے یہ ظالم بےسروسامانی اور بدحواسی کے عالم میں عذاب خداوندی میں ڈال دیئے جائیں گے، حق تعالیٰ کی عظمت کو پہچاننا چاہئے اور مشرکین ومنکرین کو اس کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈرنا چاہئے، آخر اس طرح کی بےخوفی اور جرأت کس وجہ سے ہے ؟ کیا انہوں نے خدا کے علاوہ اپنے واسطے کچھ مددگار بنا لیے ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بس اللہ ہی ہے جو مددگار ولی ہے۔ وہی سب کا کارساز ہے، بگڑی ہوئی بنانا تو کیا وہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، الغرض توحید وشرک اور ایمان وکفر کا فرق دنیا میں اللہ نے اپنی حکمت سے مقدر فرمایا ہے کیونکہ دنیا دارالامتحان ہے اور آخرت دارالجزاء ہے، اس لیے بحکمت خداوندی ضروری تھا کہ دنیا میں دونوں چیزیں مقدر کی جانیں تاکہ آخرت میں مطیعین کو جزاء اور مجرمین کو سزا دی جائے، اور اللہ رب العرت سے کسی بھی شخص کا حال اور اس کا عمل پوشیدہ نہیں اس لیے اے لوگو ! سن لو تم جس کسی بات پر بھی اختلاف کرو گے پس اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے، اس کی بارگاہ سے ہر چیز کا فیصلہ صادر ہوگا، یہی ہے خدا جو میرا رب ہے بس میں تو اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف ہر حالت میں رجوع کرتا ہوں میں تمہاری مخالفت سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تمہاری کسی قسم کی دلجوئی کے لیے تمہارے طرف مائل ہوسکتا ہوں، وہ پروردگار تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے تمہارے واسطے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے اور اسی طرح مویشیوں میں سے جوڑے انواع و اقسام کے بنائے اور ان جوڑوں کے ملانے اور ازدواجی صورت پیدا فرما دینے کے ذریعے تمہیں پھیلا رہا ہے نسلا بعد نسل، یقیناً وہ پروردگار اپنی ذات جو صفات میں ایسا کامل اور برتر ہے کہ اس کا کوئی مثل نہیں ہے اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی اسی کے تصرف میں تمام کائنات ہے جب چاہا کسی چیز کو خواہ رزق ہو عمل ہدایت وگمراہی ہوراحت و تکلیف ہو نفع ونقصان صحت وبیماری ہو، عزت وذلت ہو ان سب چیزوں کی کنجیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں، اگر وہ کسی چیز کو کھول دے تو کوئی دوسرا بند نہیں کرسکتا۔ اور اگر بند کر دے تو کھول نہیں سکتا یہ سب باتیں دلائل سے ثابت ہیں، جن کے انکار کی عقلا تو کوئی گنجائش نہیں اسی کے قبضہ میں رزق ہے جس کے واسطے چاہے رزق پھیلا دے، اور جس کے واسطے چاہے تنگ کردے بیشک وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، جانتا ہے کہ جس کو رزق زیادہ دیا تو کس حکمت سے دیا، اور جس پر تنگی کی تو کس حکمت سے کی۔ من حولھا اور ام القری کا مفہوم : بالعموم مفسرین (آیت ) ” ام القری “۔ سے مکہ مکرمہ عرب کی سرزمین میں قدیم ترین شہر اور قوم عرب کا اصل مولد ومسکن تھا اس وجہ سے مکہ مکرمہ کو ام القری کہا گیا اور تاریخ قدیم میں اسی نام سے اس کو ذکر کیا گیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) اور حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کو اسی وادی میں چھوڑا تھا جیسے ( آیت) ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع “۔ میں مکہ مکرمہ کی آبادی کی تفصیل گذر چکی۔ اس آیت مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ کو فرمایا جانا کہ آپ ڈرائیں مکہ میں بسنے والوں کو اور اس کے اطراف واکناف میں بسنے والوں کو آنحضرت ﷺ کی عمومی بعثت کے منافی تھیں آپ ﷺ تمام عالم کے لیے داعی اور بشیر ونذیر ہیں تو اس آیت میں تخصیص ام القری ومن حولہا کی یا تو اہل مکہ اور قرب و جوار میں رہنے والوں کی اہمیت کی وجہ سے ہے یا یہ معنی کہ اولا آپ ﷺ ان کو ڈرائیں، پھر تمام دنیا کے انسانوں کو جیسے کہ ابتداء میں ( آیت) ” وانذر عشیرتک الاقربین “۔ میں قرابت دار عشیرہ وقبیلہ والوں کو ڈرانے کا حکم نازل ہوا امام راغب (رح) فرماتے ہیں مکہ مکرمہ کو ام القری اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ کرہ ارضی اور تمام روئے زمین کے واسطے یہ حصہ زمین اصل نقطہ مرکز یہ ہے، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ پانی کی سطح پر اللہ رب العزت نے پہلے بلبلے کی طرح یہ ٹکڑا جامد ظاہر فرمایا اور پھر اسی سے ساری زمین بچھائی اور پھیلائی گئی تو تمام آبادی عالم اور خطہ زمین کے لیے یہی جگہ اصل ہوئی اور اصل کو ام یعنی ماں کہا جاتا ہے، امام بغوی (رح) اور شیخ قشیری (رح) نے بھی اسی کو اختیار فرمایا اور یہ کہ کعبہ سرۃ الارض یعنی زمین کی ناف ہے اور تمام دنیا اس کے ارد گرد پھیلائی گئی، اگرچہ جانب شمال میں آبادی زائد ہے، بہ نسبت جنوب کی جانب کے ، آیت مبارکہ ( آیت) ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعلمین “۔ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر (رح) اور ابن جریر طبری (رح) نے یہی بیان کیا کہ روئے زمین پر دنیا کی آبادی کی اصل یہی سرزمین مکہ ہے جہاں کعبۃ اللہ ہے، علامہ یاقوت حموی (رح) نے ابن عباس ؓ سے ایک روایت کا یہ مضمون بیان کیا ہے کہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کا عرش پانی پر تھا، اللہ نے ایک ہوا چلائی جس نے پانی کی لہروں کو شق کیا اور پانی کی سطح پر ایک بلبلہ نمودار ہوا جو قبہ کی سی شکل کا تھا پھر اسی سے اللہ نے تمام زمین کو مرکب فرمایا اور بنایا اور سطح زمین کو پانی پر بچھا دیا، متعدد روایات سے ثابت ہے کہ زمین کا جو ٹکڑا سب سے پہلے اللہ نے پیدا فرمایا وہ جگہ کعبۃ اللہ کی ہے تو یہ جگہ روئے زمین کے واسطے نقطہ مرکز یہ ہوا، اس تکوینی مرکزیت کے ساتھ اللہ نے اس کو شرعی مرکزیت بھی عطا کردی، کہ روئے زمین کے انسانوں کو اسی کی طرف عبادت کا حکم دیا، حضرت آدم (علیہ السلام) کے لیے اسی جگہ جنت سے موتیوں کا خیمہ اتار گیا تھا جس کا انہوں نے طواف کیا، پھر اسی جگہ بیت اللہ کی عمارت قائم ہوئی، تفصیل کے لیے ناچیز کی کتاب تاریخ الحرمین ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرزمین مکہ میں آمد اور اس کی آبادی : تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد زمین پر پھیلی تو حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریبا دو ہزار دو سوسینتالیس برس قبل شہر بابل اور اس کے برج کی بنیاد رکھی گئی، یہ شہر ملک عراق میں دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان دو آب میں واقع تھا، اور بقول بعض، فرات کے کنارے پر تھا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو تارخ کے بیٹے تھے جن کو آذر بھی کہا جاتا ہے، قصہ اہواز میں پیدا ہوئے جو شہر بابل کے کنارے واقع تھا اور بعض کا خیال ہے خاص شہر بابل میں پیدا ہوئے وہاں کلدانی قوم آباد تھی جو بت پرست تھے، اور بت بنا بنا کر بیچا کرتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ بھی بت پرست بلکہ بت تراش تھے اس زمانہ میں ایک بڑی تعداد لوگوں کی ستاروں کی پوجا کیا کرتی تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خداوند عالم نے ابتداء ہی سے رشد وہدایت سے نوازا تھا، بت پرستی اور ستاروں کی پوجا کی بڑی شدومد سے مخالفت کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں کی دلائل وحقائق سے تجہیل وتحمیق بھی کیا کرتے تھے جس کی تفصیل گزشتہ پاروں کی تفسیر میں گذر چکی ہے، قصہ نمردو اور ایسے بعض واقعات کے بعد اللہ رب العزت کی وحی سے آپ (علیہ السلام) اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ہاجرہ (علیہ السلام) کو وادی مکہ کی طرف لے کر روانہ ہوگئے، حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اس وقت شیر خوار بچے تھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو یہاں چھوڑ کر شام کی طرف روانہ ہوگئے ایک مشک میں پانی اور کچھ کھجوریں چھوڑ کرگئے، پانی جب ختم ہوگیا اور پیاس کی شدت سے اسمعیل (علیہ السلام) تڑپنے لگے، اور اسی حالت میں حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) پانی تلاش کرنے کے لیے صفاومروہ پہاڑیوں پر چکر لگانے لگیں تو ساتویں چکر پر اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ پر پانی دیکھا دوڑی ہوئی آئیں، یہ زم زم کا چشمہ اللہ نے ظاہر فرمایا، اسی کی یادگار سعی بین الصفاوالمروہ کی صورت میں مقرر کردی گئی، تفصیل کے لیے احادیث وکتب تاریخ کی مراجعت فرمائی جائے، تو جب چاہ زم زم میں ایک کثیر مقدار میں پانی دیکھ کر اس غیر آباد بنجر وادی میں ایک قافلہ نے قیام کرنے اور یہاں سکونت کی درخواست کی، تو ہاجرہ (علیہا السلام) نے تنہائی کے خیال سے ان کو اجازت دیدی کہ بہتر ہے کہ یہاں کچھ لوگ آباد ہوجائیں، اس طرح ابتداء میں یہ ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہوا، یہ قبیلہ جرھم تھا، اہل یمن سے یہ لوگ تھے، حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے انہی لوگوں سے عربی زبان سیکھی، اور ان کے بڑے ہونے پر اس قوم نے اسمعیل (علیہ السلام) کو اپنا سردار بنالیا رفتہ رفتہ یہ مختصر گاؤں ایک عظیم شہر مکہ مکرمہ ہوگیا۔
Ayahs 42:13–16

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں خدا ہم (سب) کو اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

مقصد وحید جملہ ادیان سماویہ توحید خداوندی و قیام عدل و انصاف : قال اللہ تعالیٰ : شرع لکم من الدین ...... الی ...... ولھم عذاب شدید “۔ (ربط) سورة شوری کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور توحید کے بیان سے تھی، اسی کے ضمن میں وحی الہی کا اثبات تھا، اور کفر وشرک کا رد اور ابطال اب ان آیات میں ذکر فرمایا جارہا ہے اللہ رب العزت نے جس قدر بھی پیغمبر مبعوث فرمائے، حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تک اور جتنے ادیان وشرائع مقرر فرمائے ان سب کا مقصد وحید صرف توحید خدا و ندی رہا، بلکہ جملہ ادیان کی بھی تعلیم تھی، اور ہر پیغمبر کی یہی ہدایت تھی، اب اسی تعلیم ہدایت کو لے کر آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے ہیں، اس لحاظ سے آپ ﷺ کی دعوت کوئی نئی دعوت نہیں، آپ ﷺ کی تعلیم کوئی نرالی تعلیمات نہیں بلکہ جملہ تعلیمات وہدایت سماویہ کا لباب وجوہر اور ان کی تکمیل ہیں، اس بنا پر کسی کتابی اور آسمانی مذہب رکھنے والے کو آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے میں اصولا کوئی تأمل نہ ہونا چاہئے، اور آپ ﷺ کا پیغام تمام امتوں کے درمیان وحدت واتفاق کا پیغام ہے، اس وجہ سے بھی آپ کے پیغام کو قبول کرنے میں کسی کو اختلاف وتردد نہ ہونا چاہئے، چناچہ ارشاد فرمایا، مقرر کردیا ہے اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے واسطے وہی دین جس کا حکم اللہ نے نوح (علیہ السلام) کو کیا جس کی بنیاد توحید خداوندی ہے اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس کی دعوت دی، اور جس چیز کی ہم نے آپ ﷺ کو وحی بھیجی، اور جس چیز کا ہم نے حکم دیا ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کی امتوں کو وہ یہ تھا کہ اللہ کا یہ دین قائم رکھو، اور خدا کی توحید پر قائم رہو، اور اس کے سوا کسی کی بندگی ہرگز نہ کرو، اس کے تمام احکام مانو اور ان پر عمل کرو، اور یہ کہ اس میں تفرقہ نہ ڈالو، تمام انبیاء کی تعلیمات جب کہ ان بنیادی اصول میں متحد تھیں تو عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس دعوت کو قبول کیا جاتا، جو آنحضرت ﷺ لے کر مبعوث ہوئے اور شرک وبت پرستی سے اجتناب کیا جاتا مگر مشرکین پر یہ بات یعنی دعوت توحید بہت گران اور ناگوار ہے جس کی طرف آپ ﷺ ان کو بلا رہے ہیں لیکن اللہ اپنی طرف کھینچتا ہے اسی کو جس کو چاہے اور اپنے تک اسی کو رسائی عطا کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے یعنی اللہ ہی کی مشیت سے اجتباء وانتخاب ہوتا ہے اور توفیق ایمان سے نوازا جاتا ہے اور توفیق ایمان کے بعد جس کو رجوع اور انابت الی نصیب ہو اسی پر طاعت و بندگی اور قرب کے راستے کھلتے ہیں۔ اور امم سابقہ کا یہ تفرق واختلاف، حق میں کسی قسم کے خفا اور التباس کے باعث نہ تھا بلکہ ان لوگوں نے نہیں اختلاف کیا مگر اس کے بعد کے ان کے پاس علم آچکا تھا محض باہمی حسد اور بغض کی وجہ سے ایسی مذموم حرکت اور بدترین روش کا تقاضا تو یہ تھا کہ عذاب خداوندی ان پر مسلط ہوتا اور یہ ہلاک کردیئے جاتے لیکن اگر ایک فیصلہ آپ ﷺ کے رب کی طرف سے پہلے نہ ہوچکا ہوتا ایک متعین وقت تک مہلت کا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا، عذاب خداوندی نازل ہوجاتا اور دنیا دیکھ لیتی کہ حق سے اختلاف کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے، مگر اللہ نے اپنی حکمت سے یہ طے کرلیا تھا کہ دنیا دارالامتحان ہے، اسی طرح حق و باطل کی کشمکش چلتی رہے، قیامت قائم ہونے پر ایسے مجرمین اور حق سے اختلاف کرنے والوں کو جہنم کے عذاب میں ڈالا جائے گا اور بیشک ان امم سابقہ کے بعد اب جن لوگوں کو کتاب الہی کا وارث بنایا اور وہ آنحضرت ﷺ کی امت دعوت ہوئے وہ اس کتاب کی طرف شک ہی میں پڑے ہوئے ہیں جو ان کو تردد میں ڈالنے والا ہے، اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ ان منکرین کے انکار اور مشرکین کے شرک سے رنجیدہ نہ ہوں اور نہ ہی ہمت ہاریں بس آپ ﷺ تو اسی چیز کے لیے جس کی وحی آپ ﷺ کو کی گئی اور اس کا حکم نوح (علیہ السلام) کو ابراہیم (علیہ السلام) وموسی (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو کیا گیا، دعوت دیتے رہئے اور اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہئے جیسا کہ آپ ﷺ کو حکم کیا گیا، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے، اس خیال سے کہ ان کی بعض خواہشات اگر مان لی جائیں تو شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں اور بلکہ آپ ﷺ تو یہ اعلان کردیجئے کہ جب کہ یہ لوگ کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں تو میں تو ایمان لاچکا ہوں اس چیز پر جو اللہ نے اپنی کتاب سے نازل کی ہے لہذا اے منکرو ! اور کافرو ! تم یہ توقع نہ رکھو کہ میں تمہاری کسی خواہش کو پورا کرنے میں اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی یا اس کو نظر انداز کردوں گا، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں، انصاف کروں، حق اور باطل کے درمیان فرق کرکے حق پر تمہیں آمادہ کروں اور خود اس پر قائم رہوں۔ اس لیے کہ یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ میں تم کو حق کی دعوت دیتے ہوئے خود حق سے انحراف کرجاؤں اور تمہاری باطل خواہش اور خوشنودی کو پورا کرنے کا ارادہ کرلوں۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہی تمہارا بھی رب ہے، اب جب کہ تم کسی طرح حق قبول کرنے کو تیار نہیں تو بس ہمارے واسطے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے واسطے ہیں، لہذا جیسے تمہارے اعمال ہوں گے، ان کا انجام بھی ویساہی ہوگا، اب کوئی حجت بازی اور خصومت کی گنجائش نہیں، ہمارے تمہارے درمیان، اللہ ہم سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا، جس میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے، وہاں پہنچ کر سب پر حقیقت کھل جائے گی، ایمان وکفر اور توحید وشرک کا انجام نظر آجائیگا، اور اس وقت مجرمین ومشرکین کو سوائے حسرت وندامت کے اور کچھ بھی چارۂ کار نہ ہوگا، اور جو لوگ اللہ کے دین کے بارے میں حجت بازی کرتے ہیں بعد اس کے کہ اہل عقل کی طرف سے اس کو قبول کرلیا گیا اور سلیم الفطرت انسان ایمان لاچکے تو اب ایسے لوگوں کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر خدا کی طرف سے غضب نازل ہونے والا ہے، اور ان کے واسطے دنیوی عذاب اور غضب خداوندی کے علاوہ آخرت میں بڑا ہی سخت عذاب ہے کیونکہ اللہ کے دین کی سچائی اور اسکی کتاب کی حقانیت ظاہر ہوچکی، سمجھ دار لوگ ایمان لاچکے اور بہت سے وہ لوگ جو اگرچہ مذہبی تعصب اور عناد کی وجہ سے ایمان نہیں لائے، مگر کتاب الہی کی سچائی اور حقانیت اقرار کرتے ہیں، اس بنا پر اب حجت پوری ہوگئی، اب اس کے بعد جو لوگ بھی خواہ مخواہ جھگڑے ڈالتے ہیں یا ایمان لانے والوں سے الجھتے ہیں ان کے واسطے ظاہر ہے کہ عذاب خداوندی دنیا اور آخرت میں ہوگا، ابتداء تشریع احکام اور جملہ انبیاء (علیہم السلام) کا اصول، شرائع میں اتفاق : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد سب سے پہلے وہ رسول جن سے تشریع احکام کا سلسلہ شروع ہوا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں، اور سب سے آخری نبی جن پر سلسلہ نبوت و رسالت منتہی ہوا اور کمالات نبوت کی تکمیل ہوئی، وہ خاتم الانبیاء محمد رسول ﷺ ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) سے قبل دنیا میں ایمان وکفر اور توحید وشرک کا اختلاف نہ تھا دس قرن اسی طرح گذرے، سب سے پہلے رسول شرک کا مقابلہ کرنے والے حضرت نوح (علیہ السلام) ہی ہیں، اسی وجہ سے ایک حدیث میں ہے ”۔ اول رسول بعث الی الارض نوح (علیہ السلام) “۔ کہ سب سے پہلے رسول جو زمین والوں کے واسطے بھیجے گئے وہ نوح (علیہ السلام) ہیں، مراد یہ ہے کہ وہ پہلے رسول تھے کفر وشرک کے مقابلہ کے لیے، جیسا کہ آیت مبارکہ (آیت ) ” کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبین مبشرین ومنذرین “۔ سے معلوم ہوتا کہ آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ایک ہی سچا دین رہا، ایک مدت کے بعد جب لوگوں نے دین میں اختلاف ڈالا تو اللہ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا جو اہل ایمان وطاعت کو ثواب ونجات کی بشارت سناتے تھے اور اہل کفر ومعصیت کو عذاب سے ڈراتے ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد جس قدر بھی رسول دنیا میں آئے اور کتابیں نازل کی گئیں وہ سب اصول میں ایک تھے کیونکہ راستہ ایک ہی تھا ، (توحید و عبادت خداوندی) البتہ فروع میں تفاوت واختلاف ہونا چاہئے تھا، حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن قدس اللہ سرہ نے فرمایا اس کی مثال ایسی ہے جیسے تندرستی ایک ہے، اور بیماریاں بےشمار، جب ایک مرض پیدا ہوا تو اسی کے موافق دوا اور پرہیز مقرر کیا گیا، پھر جب دوسرا مرض پیدا ہوا تو دوسری دوا اور پرہیز اس کے موافق تجویز ہوا، پھر سب سے آخر میں ایسا طریقہ اور قاعدہ مقرر فرما دیا جو سب بیماریوں سے بچائے اور سب کے بدلے کفایت کرے، وہ طریقہ اسلام ہے، جس کے لیے نبی آخر الزمان ﷺ بھیجے گئے اور وہ نسخہ روحانی قرآن شریف ہے جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے پیغام شفاء ہے ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کے درمیان جتنے انبیاء ورسل آئے ان میں اولوالعزم رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں یہی زیادہ مشہور ہے اور ان کے مذہب کے پیرو دنیا میں کثیر تعداد میں ہوئے اس وجہ سے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی وحی اور آپ ﷺ کے دین کی تشریح ان انبیاء (علیہم السلام) کے شرائع کی شرکت اور مشابہت کے ساتھ بیان کی گئی، نیز اس وجہ سے بھی کہ ان ادیان سے تعلق رکھنے والوں کو آپ ﷺ کا دین قبول کرنے میں کوئی تامل باقی نہ رہے، جب کہ آپ ﷺ کی کتاب کتب سابقہ کی تصدیق کررہی ہے، اور ان انبیاء سابقین کی تعلیمات وہدایات بنیادی اصول کے لحاظ سے متفق ومتحد ہیں تو پھر ان انبیاء پر ایمان لانے والے ان کتب سابقہ کے ماننے والے یہود ونصاری کو عقلا وطبعا آپ ﷺ پر ایمان لانے سے کسی طرح بھی گریز نہ کرنا چاہئے۔
Ayahs 42:17–19

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

بیان نزول کتاب باحق وصداقت ونزول میزان برائے عدل و انصاف : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی انزل الکتب بالحق ....... الی ...... وھو القوی العزیز “۔ (ربط) گذشتہ آیات کا حاصل یہ تھا یہ حضور اکرم ﷺ کی وحی انبیاء سابقین اور اولوالعزم رسولوں کی وحی ہی کی طرح ہے، اور آپ ﷺ کا دین بھی اصولا وہی دین ہے، آپ ﷺ کی کتاب بھی جملہ کتب سابقہ کے علوم کی حامل اور مصدق ہے، اب ان آیات میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی کتاب حق وصداقت کے ساتھ نازل فرما دی ہے اور یہ کتاب الہی درحقیقت حق وصداق کو تولنے کی ترازو ہے، اس ترازو میں حق و باطل کو تولا جاتا ہے، جیسے مادی ترازو میں مادی اشیاء تولی جاتی ہیں، اور پورے تول سے عدل و انصاف قائم کیا جاتا ہے، اسی طرح یہ کتاب الہی ایک طرف حقوق خداوندی صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے معیار ہے تو دوسری طرف حقوق العباد کو بھی عدل و انصاف سے ادا کرنے کا ایک محکم ضابطہ اور مکمل دستور ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی پر آمادہ کرنے والی قوت وصلاحیت ایمان بالآخرت ہے، اسی یقین کے باعث انسان اپنے اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرسکتا ہے، اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہی دراصل ہر انسان کا اپنی ذات کے ساتھ عدل و انصاف کا قائم کرنا ہے، کیونکہ ان حقوق کا اتلاف حقیقت میں اپنی ذات پر ظلم کرنا ہے تو ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے اس کتاب یعنی قرآن کو اتارا حق کے ساتھ اور ترازو کو یعنی عدل و انصاف مقرر فرمایا تو جب یہ کتاب اللہ کی ہے تو اللہ پر ایمان کا مقتضی یہی ہے کہ اس کے احکام کی اطاعت ہو اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد میں عدل و انصاف قائم کیا جائے، جیسے ترازو میں کوئی چیز برابر تولی جائے یہی نجات کا ذریعہ ہے کہ قرآن پر ایمان لایا جائے، محض خدا کا قائل ہونا یا اس پر ایمان کا دعوی کافی نہیں تاوقتیکہ اس کے قانون اور دستور عدل و انصاف پر عمل نہ کیا جائے، منکرین کا بلادلیل معارضہ اور حجت بازی اور قیامت کا ذکر اور یہ سوال کرنا کہ وہ کب آئے گی، بےمعنی اور لغوبات ہے آپ ﷺ اس پر رنجیدہ نہ ہوں اور آپ کو کیا معلوم شاید یہ کہ قیامت قریب ہو اگر وقوع قیامت کا وقت معلوم نہیں تو اس سے یہ کیونکر تصور کیا جاسکتا ہے کہ آنے والی ہی نہیں جیسے کہ یہ منکرین کہتے ہیں، بات یہ ہے کہ جلد ہی قیامت کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان ویقین نہیں رکھتے کیونکہ ان کو قیامت کی عظمت وہیبت کا اندازہ نہیں ہے اور جو لوگ اس کا یقین رکھتے ہیں وہ تو اس سے کانپتے اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور واقع ہو کر رہے گی، خبردار ہوجاؤ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ انتہائی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں جو گمراہی کا ایسا آخری مقام ہے کہ حق اور یقین سے بہت ہی دور ہوچکا تو اب کیا توقع کی جائے کہ ایسے بدنصیب پھر حق کی طرف رجوع کرلیں گے، اور رہا یہ امر کہ منکرین اور نافرمان دنیا میں عیش و عشرت کررہے ہیں مال و دولت اور رزق کی کمی نہیں تو اصل یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربان ہے کہ مجرموں کو بھی دنیا میں روزی اور راحت دیتا ہے، جس کو چاہے وہ رزق دیتا ہے کیونکہ وہ تو رب ہے، اور شان ربوبیت تقاضا کرتی ہے کہ ہر جاندار کو روزی عطا فرمائے، خواہ وہ مومن ہو یا کافر، انسان ہو یا حیوان وہ بڑی ہی قوت اور عزت والا ہے جس کے فیصلہ اور تقسیم کو کوئی رد نہیں کرسکتا، اسی طرح آخرت میں بھی اس کے فیصلہ کو کوئی نہیں توڑ سکتا، مجرمین کو آخرت میں عذاب اور سزا سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا، اس لیے ان کفار ومجرمین کو دنیا کی نعمتوں سے مغرور نہ ہونا چاہئے اور اس دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے کہ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی میں بھی ان کا یہ مال و دولت انکے کچھ کام آسکے گا یا یہ اسی طرح آرام و راحت میں رہیں گے، اللہ رب العزت اپنی شان لطیفی کے باعث نیک وبد سب ہی کو رزق عطا فرماتا ہے، رزق اور دنیوی راحتوں کی زیادتی اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شخص اللہ کی نظروں میں بھی پسندیدہ ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عکرمہ ؓ ۔ 1 حاشیہ (روح المعانی ج 25۔ تفسیر مظہری ج 8) (آیت ) ” اللہ لطیف “۔ کی تفسیر میں یہ منقول ہے کہ اللہ رب العزت اپنے بندوں کے ساتھ بہت ہی انعام اور مہربانی کا معاملہ فرمانے والا ہے کہ ان کے حق اور استعداد سے زائد ان کو عطا فرماتا ہے بعض مفسرین نے فرمایا اللہ کا لطف وکرم بندوں کو ان کے حوائج و ضروریات سے بہت زائد عطا فرماتا ہے اور ان کو احکام کا مامور ان کی طاقت سے بہت کم کا فرمایا جاتا ہے، ورنہ تو یہ ہوسکتا تھا کہ انسانی قوی جس قدر عملی محنت برداشت کرسکیں، اتنی محنتوں کا ان کو مأمور کردیا جاتا، سبحان اللہ کیا لطف وکرم ہے کہ عطا میں تو ضرورت و حاجت کو نہیں دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے بڑھ کر جادیا جارہا ہے اور اطاعت میں جس قدر انسان کی ہمت ہوسکتی ہے اس سے بہت کم کا مامور بنایا جارہا ہے جیسا کہ ارشاد ہے، ان الدین یسر، یہ نہیں کہ جس قدر طاقت بشریہ ہے اتنا ہی مکلف کردیا جاتا، اور پھر ان پابندیوں میں بھی خطا اور نسیان سے درگزر کا ضابطہ عفومقرر فرمادیا گیا۔ خوف آخرت ایمان ومعرفت کا ثمرہ ہے : آخرت کا خوف ظاہر ہے کہ ایمان ویقین ہی پر مرتب ہوسکتا ہے، جو شخص قیامت پر ایمان رکھتا ہوگا اسی کا دل قیامت کی ہیبت سے کانپے گا اور جس کو قیامت کا یقین نہیں وہ اس کے ذکر ہی کو مذاق شمار کرے گا، اور اسی طرح کی بےوقعتی اس بات کا باعث بنے گی کہ وہ قیامت کا فکر دلانے والے اہل ایمان اور ان کی دعوت فکر کو سن کر یہ کہے کہ لے آؤ جلد ہی سے وہ قیامت جس سے تم ڈرا رہے ہو، اسی استہزاء اور تمسخر کی کیفیت کو قرآن کریم کے یہ لفظ نقل کررہے ہیں، (آیت ) ” یستعجل بھا الذین لایؤمنون بھا “۔ لیکن ان کے بالمقابل جو اہل ایمان ہیں وہ اس سے لرز رہے ہیں اور دل انکے کانپتے ہیں جو (آیت ) ” والذین امنوا مشفقون منھا “۔ میں بیان فرمایا گیا، اور یہ خوف ظاہر کہ اعتقاد قیامت ہی سے ہوسکتا ہے لفظ ” مشفقون “ اشفاق سے مشتق ہے لغت میں اشفاق کے معنی کسی چیز کے اندیشہ اور خوف سے دل کا کانپنا، قلب کا یہ اضطراب وخوف ایک تو قیامت کے واقع ہونے اعتقاد پر ہوگا، دوسرے اس عقیدہ اور تخیل پر کہ جو ایمان اور عمل صالح قیامت کے روز کام آتے ہیں، کہیں وہ رد نہ کردیئے جائیں، رہایہ امر کہ عارفین اور کامل الایمان اہل اللہ کو اشتیاق موت اور لقاء خدا وندی، وہ شوق طبعی ہوتا ہے، اور یہ خوف جس کا ذکر کیا گیا یہ کہ شوق کا باعث لقارب کا تصور ہوتا ہے اور خوف کا منشاء قیامت کی ہیبت اور اپنے اعملا کے ضیاع کا اندیشہ ہے اور یہ جائز ہے کہ ایک جہت سے قلب میں جذبہ شوق وارد ہوتودوسری جہت سے خوف سے اضطراب ہو، یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں بیان فرمایا گیا ” من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاء ہ “۔ کہ جو شخص اللہ کی ملاقات محبوب رکھے گا اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرمائے گا، اسی کیفیت کو قرآن کریم کی اس آیت میں فرمایا، (آیت ) ” قل یایھا الذین ھادوآان زعمتم انکم اولیآء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین “۔ تو یہاں اولیاء اللہ کی پہچان اور خصوصیت ہی یہ بیان کی گئی کہ وہ موت ولقاء خداوندی کے شائق و آرزو مند ہوں اور ولایت کا صدق تمناء موت ہی ہے، اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ بات بھی حل ہوگئی جو احوال قبور کے سلسلہ میں بیان کی گئی کہ بعض مردہ جب کہ وہ پروردگار کے قاصدوں یعنی نکیرین کا جواب صحیح صحیح دیدے گا تو کہے گا ،” رب اقم الساعۃ “۔ کہ اے پروردگار قیامت (جلد ہی ہی) قائم کردیجئے تو یہ خوف آخرت کے منافی نہیں، کیونکہ یہ اشتیاق اس کو جنت کی نعمتوں کی بشارت سن کر حاصل ہوگا، اور اس بشارت کے بعد خوف و اضطراب کا جو منشاء تھا وہ ہوچکا ہوگا، یا یہ کہ یہ شوق عالم برزخ اور احوال آخرت کے انکشاف پر ہے، اور جو خوف ایمان کی خصوصیت بیان کی گئی، وہ دنیوی زندگی، یعنی عالم دنیا میں ہے بہرکیف مومن کی زندگی خوف آخرت اور شوق لقاء خدا وندی متضاد جذبوں سے معمور رہتی ہے اور یہ کیفیت دراصل (آیت ) ” یرجون رحمتہ ویخافون عذابہ “۔ کی پوری پوری ترجمان ہوتی ہے۔