41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 41:1–8

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہرا پن ہے) اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں (بھی) آدمی ہوں جیسے تم (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔ حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح کہ یہ قرآن ہے عربی زبان میں تاکہ اہل عرب اس کے معارف ومعانی بسہولت سمجھ کر ایمان لے آئیں اور بہت سہولت سے یہ جان لیں کہ کسی بشر کا کلام نہیں کیونکہ وہ عربی ہیں فصاحت وبلاغت کے امام ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر عرب کا کوئی امی عربی کلام پیش کررہا ہے تو ان فصحأ وادباء کو اس سے بڑھ کر کلام پیش کردینا چاہئے، چہ جائیکہ وہ مقابلہ سے عاجز رہیں، اور عاجز رہنا بلاشبہ اس کا ثبوت ہوگا کہ یہ کلام بشر نہیں، بہرکیف یہ اللہ کا کلام قرآن عربی سامان ہدایت ہے، اس قوم کیلئے جو عقل رکھتی ہو، جو ماننے اور عمل کرنے والوں کے واسطے بشارت سنانے والا ہے اور انکار ونافرمانی کرنے والوں کے لیے ڈرانے والا ہے، قرآن حکیم اور ان صفات کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایسی عظیم کتاب ہدایت پر سب لوگ ایمان لاتے، لیکن اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی پھر وہ اپنے دلی عناد ونفرت کی وجہ سے سنتے ہی نہیں ہیں، اور جب ان کو حق وہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل تو غلافوں اور پردوں میں محفوظ ہیں اس بات سے جس کی طرف آپ ﷺ ہم کو بلا رہے ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ کی کوئی بات بھی ہمارے دل قبول نہیں کرتے، اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے اس لیے اصل میں ہمیں آپ ﷺ کی بات سنائی ہی نہیں دیتی، اور ہمارے آپ کے درمیان تو ایک حجاب رکاوٹ اور پردہ ہے تو اس صورت میں آپ ﷺ کی طرف نہ رخ ہوسکتا ہے اور نہ قلبی میلان ہوسکتا ہے، لہذا آپ ﷺ فرما دیجئے میں اس بات کی تو قدرت نہیں رکھتا کہ زبردستی تمہارے دلوں کو ایمان کی طرف پھیردوں، اور تمہیں اس کے قبول کرنے پر مجبور کردوں، بس میں تم ہی جیسا ایک بشر ہوں اور کسی بشر کو یہ قدرت نہیں کہ وہ کسی کا دل پھیر دے، یہ قدرت اور طاقت تو صرف رب العالمین کو ہے، البتہ یہ شرف اور برتری اور امتیاز مجھ کو عطا کیا گیا ہے کہ مجھ پر اللہ کی وحی نازل کی جاتی ہے جو عین عقل و فطرت کے مطابق ہے وہ یہ کہ اے لوگو ! بس تم سب کا معبود تو صرف ایک ہی خدا ہے، اس لیے بس اس کی طرف تم اپنا رخ پوری استقامت و پختگی کے ساتھ کرلو نہ کسی اور کی عبادت کرو، اور زندگی کے ہر شعبہ میں بس اس کی پیروی کرو، اور آج تک جو قصور و گناہ سرزد ہوئے ان کی اسی سے معافی مانگو، اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ مشرک کرنے والوں کے لیے بڑی ہلاکت وتباہی ہے، جو زکوٰۃ ،۔ 1 حاشیہ (یہ سورت مکی ہے اور زکوٰۃ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا اور پھر شرک کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا جانا کہ ہلاکت ہے ان مشرکین کے لیے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو باعث تردد ہوتا ہے کہ مشرک زکوٰۃ کیا ادا کریں گے اور عدم ادائیگی پر وعید کا کیا مفہوم ہوسکتا ہے، اس لیے اگر یہاں زکوٰۃ کا لغوی مفہوم طہارت و پاکی کا لحاظ کرتے ہوئے ترجمہ اس طرح کرلیا جائے ” جو پاکی اور طہارت نہیں حاصل کرتے “ تو یہ اشکال رفع ہوجائے گا۔ ) اور آخرت میں ایسا اجر ہے جو کبھی بھی منقطع ہونے والا نہیں، کیونکہ آخرت کی ہر نعمت دارالخلد کی نعمت ہے اور ان نعمتوں کو زوال وفنا نہیں، جیسے کہ ارشاد ہے، (آیت ) ” عطآء غیر مجذوذ “۔ کہ یہ ایسی عطا ہے جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گی، دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت ) ” مالہ من نفاذ “۔ کہ ان انعامات کا کبھی خاتمہ نہیں ہے۔ قبول حق اور ہدایت سے محرومی کے اسباب : قبول حق اور ہدایت سے محرومی اور بدنصیبی کے بیان میں ان تین چیزوں کا ذکر کیا (آیت ) ” قلوبنا فی اکنۃ فی اذاننا وقر، بیننا وبینک حجاب “۔ یعنی دلوں کا غلافوں میں مستور ہونا، کانوں میں ڈٹ کی بندش اور درمیان میں پردہ، علامہ ابوحیان (رح) بیان فرماتے ہیں کیونکہ قلب ہی معرفت کا محل ہے اور سمع وبصر (کان اور نگاہ) دونوں اس کے واسطے معین ہیں، تو کفار مکہ نے اپنی بدنصیبی اور محرومی کے ذکر میں انہی تینوں کو بیان کیا کہ یہ تینوں ذرائع مسدود اور محجوب ہیں۔ لہذا جو کچھ بھی اللہ کا رسول ﷺ ان کی طرف القاء کرے اس کا کوئی اثر ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ (آیت ) ” قلوبنا فی اکنۃ “ میں لفظ فی کی تعبیر مبالغہ اور شدت کے ظاہر کرنے کے لیے ہے اگرچہ قلب کے محجوب ہونے کا مفہوم (آیت ) ” علی قلوبھم اکنۃ “۔ کے لفظ سے بھی حاصل ہوسکتا ہے جیسے کہ خود آیتہ قرآنیہ (آیت ) ” انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقرا “۔ میں ” علی “ استعمال کیا گیا۔ مگر ان کفار نے وحی اور ہدایت رسول سے غایت تنفر اور بغض کے باعث یہ کہا (آیت ) ” فی اکنۃ “۔ کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں کہ غلاف بمنزلہ ظرف کے محیط ہیں او قلوب بمنزلہ مظروف اسی کے اندر سمائے ہوئے ہیں، یعنی جس طرح کوئی چیز ہر جانب سے کسی غلاف میں لپٹی ہوئی ہو، اسی طرح ہمارے قلوب بھی ہیں کہ کوئی گوشہ اور جانب خالی نہیں کہ اس سمت اور رخ سے قلب میں حق داخل ہوسکے، اس لیے لفظ فی استعمال کیا گیا، اس کے بالمقابل اس دوسری آیت (آیت ) ” انا جعلنا علی قلوبہم اکنۃ “۔ میں حق تعالیٰ کی طرف سے صرف حکایت تھی اور یہ بتانا تھا ان کے دل قبول حق اور اس کی معرفت سے محروم کردیئے گئے ہیں کہ ان پر پردہ پڑا ہوا ہے، اور ضرورت نہ تھی کہ شدت و مبالغہ اور تنفر کا اظہار کیا جائے جو لفظ فی کے استعمال سے ظاہر ہورہا ہے تو اس وجہ سے اس آیت میں (آیت ) ” جعلنا علی قلوبھم اکنۃ “۔ کی تعبیر اختیار فرمائی گئی، اگرچہ نفس مراد کی ادائیگی میں دونوں عنوان ایک ہی درجہ رکھتے ہیں لیکن ہر مقام کی خصوصیت کے پیش نظر ظاہر ہوا کہ اس موقعہ پر (آیت ) ” قلوبنا فی اکنۃ “۔ کی تعبیر میں وہ بلاغت اور معنوی لطافت ہے جو اس جگہ لفظ علی میں حاصل نہ ہوتی اور وہاں اللہ رب العزت کی طرف سے ایک حالت کا بیان ہے اس میں اس طرح کی شدت کا بیان ضروری نہیں تو وہاں لفظ علی ہی بلیغ ہے، اگر وہاں علی کے بجائے فی استعمال کیا جاتا تو وہاں وہ بلاغت نہ رہتی، جو لفظ علی کے استعمال میں ہے بلکہ اصول عربیت کی رو سے یہ زائد از ضرورت کے درجہ میں شمار ہوتا۔ 1، حاشیہ : (علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی جلد 24 ص 25 پر آیت مذکورہ میں فی کے استعمال کی حکمت (آیت ) ” وفی اذانھم وقرا “۔ کی رعایت بیان فرمائی ہے کہ کان مستقر ہوتے ہیں، وقر اور بوجھ کے، تو اس کی مناسبت سے قلوب کے پردوں میں بھی فی استعمال کرلیا گیا ہے، اگرچہ علی اور فی سے ایک ہی معنی حاصل ہوتے ہیں، ناچیز نے جو کچھ بتوفیق خداوندی عرض کیا، وہ اس کے علاوہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر جگہ پر استعمال کیا ہوا لفظ ہی بلیغ ہے اور اس میں ایک ایسا نکتہ ہے جو اسی لفظ سے مفہوم ہوسکتا ہے۔
Ayahs 41:9–18

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اسکے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے (کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں) سے محفوظ رکھا یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسی چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ انکو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) انکو مدد بھی نہ ملے گی

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو انکے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں دلائل قدرت بیان فرمائے گئے، ساتھ ہی مجرمین ونافرمان کا عبرتناک انجام تاریخی حقائق کے طور پر ذکر کرکے کفار کو تنبیہ وتہدید فرمائی گئی، فرمایا آپ ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کیا تم انکار کرتے ہو اس پروردگار کا جس نے زمین کو باوجود اپنی عظیم وسعت کے دو روز کے بقدر وقت میں پیدا کیا، اور تم اس پروردگار کی شان خالقیت اور قدرت عظیم کے مناظر و شواہد دیکھنے کے باوجود جن میں سے ہر ایک چیز اپنی دلالت اور زبان حال سے خدا کی وحدانیت کو ظاہر کررہی ہے، پھر بھی تم اس کے واسطے شریک قرار دے رہے ہو حالانکہ یہی خدا جس کی قدرت کا تم مشاہدہ کررہے ہو، سارے جہانوں کا رب ہے اور اسی نے اس زمین میں پہاڑ بنائے جو زمین میں گڑے ہوئے ہیں، اور ان پہاڑوں سے میخوں کی طرح زمین کو ٹھہرایا ہوا ہے، اور اس میں بڑی ہی برکتیں رکھیں، معدنیات وخزائن ہیں اسی سے غلے اور پھل پھول اگتے ہیں جن میں مخلوق کے واسطے فائدے رکھے ہیں اور اس زمین میں اس پر رہنے والوں کی غذائیں اندازے کے ساتھ رکھ دیں اور جس طرح اور جس انداز ومقدار سے چاہا اپنی حکمت سے پیدا کیا، یہ سب کچھ چار دن میں ہوگا، دو دن میں زمین اور دو دن میں پہاڑ، درخت، بہائم وجملہ مخلوقات ارضیہ جو پورے ہیں، کمیت اور کیفیت خلق کو دریافت کرنے والوں کے لیے، پھر یہ سب کچھ پیدا کرنے کے بعد متوجہ ہوا وہ پروردگار آسمان کی جانب جب کہ دھواں تھا جس کا یہ مادہ دخانیہ اگر زمین کے بچھانے سے قبل تھا لیکن بحیثیت موجودہ زمین کے بچھانے کے بعد سات آسمانوں کی صورت میں پیدا کیا گیا، تو اس صورت میں آسمان و زمین سے کہا تو دونوں آجاؤ، ہمارے حکم کے سامنے اطاعت وفرمانرداری کے ساتھ خواہ خوشی سے یا زبردستی سے یعنی ہم جو بھی حکم تکوینی طور پر تمہیں دیں اس کی تعمیل کرنی ہوگی خواہ رضاوخوشنودی یا مجبوری اور زبردستی سے بہر حال تم کو مجال نہ ہوگی کہ ہمارے حکم کے مقابلہ میں ذرہ برابر بھی رکاوٹ وتردد کرسکو، جب ہم چاہیں گے چاند، سورج، ستارے طلوع و غروب ہوں گے، جب ہم حکم دیں گے ہوائیں چلیں گی، اور جب حکم ہوگا رکیں گی، جب چاہیں گے بارشیں برسیں گی جہاں چاہیں گے، اور جتنی چاہیں گے، جس قدر غلہ چاہیں گے اگے گا، اسی طرح پھل پھول اور جملہ غذائیں جب تک چاہیں زمین ٹھہری رہے گی، اور جب چاہیں گے زلزلہ برپا کردیں گے، الغرض اس قسم کے ہمارے ہر حکم کی اطاعت کے لیے اور جملہ احوال وتغیرات کے لیے جو واقع کریں، اے آسمان و زمین تیار رہو جس میں تمہیں ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کی مجال نہ ہوسکے گی، آسمان و زمین دونوں نے عرض کیا۔ 1 حاشیہ (حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر جلد 4 میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت کا یہ مضمون ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ رب العزت کے اس فرمان پر زمین کے اس حصہ نے جواب دیا جہاں کعبۃ اللہ ہے اور آسمان کے اس ٹکڑے نے جواب دیا جو بیت اللہ کے محاذات میں واقع ہے تو (آیت ) ” اتینا طآئعین “۔ کا شرف جواب زمین و آسمان کے اس حصہ کو حاصل ہوا۔ 12) ہم دونوں حاضر ہیں خوشی سے تیرے تمام احکام کی تعمیل کے لیے سو دو روز کے بقدر وقت میں آسمان کے اس مادۂ دخانیہ کو پورے سات آسمان بنادیئے اور ہر آسمان میں اپنا حکم جاری فرمادیا جو اس کے مناسب تھا، فرشتوں کو احکام تکوینیہ جارہی فرما دیئے گئے اور فرشتوں کی جو جماعت نظام عالم کے جس شعبہ پر مامور فرمائی تھی اس کو اس پر مامور کردیا گیا، اور مزین کردیا ہم نے آسمان دنیا کو یعنی قریب والے آسان کو جو کرۂ ارضی پر بسنے والے انسانوں سے قریب ہے روشن چراغوں یعنی چمکنے والے ستاروں سے اور ان ہی ستاروں کو آسمان دنیا کی زینت کے ساتھ ذریعہ حفاظت بھی بنایا تاکہ کوئی جن یا شیطان اگر آسمان کا رخ کرے اور یہ چاہے کہ اللہ کے تکوینی امور میں سے کوئی چیز سن لے اور معلوم کرے تو یہ ستارے اس کو جلا کر خاک کردیں جیسا کہ ارشاد ہے (آیت ) ” الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب ثاقب “۔ یہ ہے کائنات کی تخلیق وتقدیر اور اندازہ کے موافق ہر شئے کا وجود اس پروردگار کی جو زبردست وقوت وعزت اور علم والا ہے کہ ہر مخلوق خدا کی عزت وقوت اور اس کے علم بےپایاں کی گواہی دے رہی ہے، ہر ایک مخلوق اپنے خالق قادر مطلق کا مل صفات کی وحدانیت کی شہادت دیتے ہوئے یہی کہہ رہی ہے کوئی نہیں عبادت کے لائق سوائے ایک خدائے واحد کے ، الغرض اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ خدائے واحد، کی خالقیت اور قدرت کے یہ مناظر ان کو دکھاتے ہوئے پوچھئے کہ کیا ایسے خالق عزیز وعلیم کا تم انکار کرتے ہو، ان مشاہدات و دلائل سے انسانی فطرت اور عقل کا تو یہی تقاضا ہے کہ وہ آپ ﷺ کی بات کی طرف توجہ کریں اور اس پر ایمان لائیں لیکن اس کے باوجود پھر بھی اگر وہ اعراض وبے رخی کریں تو آپ ﷺ کہہ دیجئے، اے لوگو میں تم کو ایسی ہی کڑک اور عذاب سے ڈراتا ہوں جیسی عاد وثمود پر مسلط ہونے والی کڑک تھی جب کہ ان کے پاس ان کے رسول آئے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے بھی یعنی ان کے طرف مبعوث ہونے والے پیغمبر جو تعداد میں بہت تھے، ان کو ہر طرح تبلیغ کرتے رہے اور ایمان باللہ کی دعوت دیتے رہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح کبھی سامنے سے آتے، اور کبھی پیچھے سے نصیحت اور تفہیم میں کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا یہی کہتے تھے کہ ہرگز عبادت نہ کرو سوائے اللہ کے کسی کی مگر شقاوت اور بدنصیبی کہ کہنے لگے کہ اگر ہمارے رب کو منظور ہوتا کہ ہماری طرف کسی کو پیغمبر بنا کر بھیجے تو وہ فرشتوں کو اتار دیتا، اور وہ یہ کام سرانجام دیتے جو تم کررہے ہو، بس اب اس صورت میں تو ہم اس توحید کا انکار کرتے ہیں جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے یہ تھی شقاوت جس کے باعث انہوں نے اللہ کے رسولوں کا انکار کیا، تو آپ کے ان کافروں کو بھی معلوم ہوجانا چاہئے کہ ان منکرین ومکذبین کے غرور ونخوت و غرور میں پڑگئے، زمین میں سرکشی ونافرمانی کا ناحق مظاہرہ کیے ہوئے اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ طاقت وزور وال ا، اپنی جوانی، تنومندی ہاتھ پاؤں کے زور پر اکڑتے ہوئے اس بات کو بھلا دیا کہ جس ذات نے ایسے تنومند مضبوط طاقتور آدمی پیدا کیے وہ ان سے بھی زائد طاقت والا ہے۔ افسوس۔ 1 حاشیہ (آیت ) ” اولوم یروا “۔ کے ترجمہ میں لفظ افسوس اس لیے بڑھایا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس جگہ ہمزہ استفہام توبیخ وملامت کے لیے ہے اور لفظ افسوس توبیخ وملامت کی ترجمانی کررہا ہے، 12) کیا انہوں نظر نہیں آیا کہ جس ذات نے ان کو پیدا کیا ہے وہی ان سے زیادہ طاقتور وزور والا ہے وہ پہلے ہی سے نشانیوں کا انکار کرتے تھے، اگرچہ دل میں یقین تھا اور سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کی برحق نشانیاں ہیں مگر عناد اور تکبر کی وجہ سے انکار اور ضد پر تلے ہوئے تھے تو ان کی اس روش کی وجہ سے ہم نے ان پر بھیج دی ایک تیز اور تند ہوا جو ہر چیز کو اکھاڑ پھینک دینے والی تھی، کئی دنوں جو ان کے واسطے بڑی نحوست کے تھے تاکہ چکھا دیں ہم ان کو ذلت ورسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں بھی تاکہ ان کا غرور ٹوٹے، سات راتیں۔ 2 حاشیہ (جیسے ارشاد مبارک ہے (آیت ) ” سبع لیال وثمانیۃ ایام حسوما “۔ (الحاقہ ) اور آٹھ روز تک مسلسل یہ طوفان چلتا رہا اور آخرت کا عذاب تو بڑی ذلت ورسوائی کا ہے، یہ تو حشر و انجام ہوا عاد والوں کا اور وہ جو ثمود تھے سو ہم نے ان کو راستہ حق اور ہدایت کا دکھلایا لیکن انہوں نے اندھا پن ہی اختیار کیے رکھا، ہدایت کے روشن راستے کے مقابلہ میں اس لیے پکڑ لیا ان کو ذلت کے عذاب کی کڑک نے ان اعمال کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے، چناچہ ایک ایسی ہیبت ناک آواز (جس سے جگر بھی پھٹ جائیں) کے ساتھ زلزلہ آیا، جس سے وہ تباہ ہوگئے، اور بچا لیا، ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اور اللہ کا تقوی اختیار کرتے تھے، بچ کرچلتے تھے کہ کہیں اللہ کی نافرمانی ہم سے ہوجائے، عذاب خداوندی آیا اور اس نے مجرموں کو ہلاک کیا مگر فرمانبردار اور کا ڈر رکھنے والے، ایمان داروں پر ذرہ برابر آنچ بھی نہ آئی، بس اسی طرح آج ہی ان کفار مکہ کو اللہ کے پیغمبر کی نافرمانی کا انجام سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا میں بھی ذلت وناکامی کا عذاب چکھنا پڑے گا، اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے جس کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں ، تخلیق کائنات اور ارض وسماء کی تربیت ومدت : ان آیات مبارکہ میں آسمان و زمین اور آسمان و زمین میں جو کچھ اللہ رب العزت نے پیدا کیا، اس کی تخلیق کا ذکر ہے کہ زمین دو دن میں پیدا کی، اور پھر دو دن میں زمین پر پہاڑوں کو گاڑا، نہریں جاری کی گئیں غلے پیدا کیے گئے، زمین کو تہوں میں اور پہاڑوں کے جگر میں قسم قسم کی نعمتیں اور خزائن رکھ دیئے گئے، اس طرح مکمل چار روز میں ان جملہ مخلوقات کی تخلیق وپیدائش کے بعد حق تعالیٰ نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، اس صورت میں کہ وہ دخان (دھویں) جیسا ایک مادہ تھا جس کو سات آسمانوں کی شکل میں بنا دیا اور ان میں شمس وقمر اور کواکب پیدا فرما دئیے یہ تمام کواکب اور ستارے اگرچہ ایک دوسرے سے بلند اور متفاوت ہیں کوئی آسمان دنیا پر اور کوئی اس سے نیچے اور کوئی اس سے اوپر بلندیوں پر لیکن دیکھنے والا ہر ایک کو اپنی نظر میں برابر محسوس کرتا ہے، اور مجموعی طور پر سب کے سب آسمان دنیا ہی کی زینت معلوم ہوتے ہیں، تو ان آیات میں زمین کی تخلیق آسمان سے قبل بیان کی گئی، اور اسی طرح کی توتیب آیت بقرہ میں ہے فرمایا۔ (آیت ) ” ھو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا ثم استوی الی السمآء فسواھن سبع سموت وھو بکل شیء علیم “۔ لیکن سورة والنازعات کی آیت میں ہے۔ (آیت ) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء بنھا رفع سمکھا فسوھا واغطش لیلھا واخرج ضحھا والارض بعد ذلک دحھا اخرج منھا مآء ھا ومرعھا والجبال ارسھا “۔ کیا تم زیادہ مضبوط ہوباعتبار پیدائش کے یا آسمان جس کو اللہ نے بہت بلند کیا اور اس کی سطح کو برابر کیا اور اس کی رات کو ڈھانکا تاریک بنایا اور دن کو نکالا ظاہر اور روشن کیا اور زمین کو اس کے بعد بچھایا پھر اس سے اس کا پانی نکالا اور سبزہ اگایا اور پہاڑوں کی اس پر گاڑا، تو ان آیات سورة والنازعات میں آسمان اور آسمانوں کے ستارے شمس وقمر کی تخلیق مقدم بیان کی گئی، اور یہ کہ ان فلکیات سے فارغ ہو کر اللہ نے زمین کو بچھایا پانی نکالا سبزے اگائے اور پہاڑ گاڑے۔ علامہ آلوسی (رح) تفسیر روح المعانی ج 24 میں فرماتے ہیں (آیت ) ” خلق السموت والارض “۔ کی تقدیم وتاخیر میں ان آیات اور اسی طرح کی روایات کی بنا پر ائمہ مفسرین میں اختلاف ہے، ان آیات اور سورة بقرہ کی آیت ”۔ ثم استوی الی السمآء “۔ سے تو ظاہر ہے یہی ہے کہ زمین کی تخلیق مقدم ہے تو آیات ” حم سجدہ “۔ اور آیت بقرہ کی وضاحت و تفصیل کو ملحوظ رکھتے ہوئے بعض ائمہ مفسرین نے اسی کو ترجیح دی کہ خلق ارض مقدم ہے اور زمین اور پہاڑوں کی تخلیق کے بعد آسمان بنائے، اور آیات (آیت ) ” والنازعات “۔ میں۔ (آیت ) ” والارض بعد ذلک دحھا “۔ کی یہ تاویل کی کہ یہ بعدیت باعتبار وجود اور زمان کے نہیں ہے بلکہ یہ بعدیت باعتبار ذکر کے ہے، یعنی مخاطب کو بطور خطاب یہ فرمایا جارہا ہے کہ اے مخاطب حق تعالیٰ کی ان عظیم مخلوقات کی تخلیق کو جاننے کے بعد تو یہ بھی یاد کر یا غور کر کہ اللہ نے زمین بچھائی، الخ، تو (آیت ) ” والارض “۔ منصوب ہوگا، ایک فعل محذوف اذکر یا تذکر یا تدبر جیسے فعل کی تقدیر کے ساتھ۔ بعض حضرات مفسرین نے ان آیات میں تطبیق کی وہ صورت اختیار کی جو عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث سے مفہوم ہوتی ہے جس کو حاکم اور بیہقی (رح) نے سعید بن جبیر ؓ کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے قرآن میں بہت سی جگہ اختلاف نظر آتا ہے تو ابن عباس ؓ نے فرمایا بتاؤ تمہیں کہاں کہاں اختلاف معلوم ہوا ہے، بولا کہ دیکھو یہ آیات ” قل اء نکم لتکفرون “ میں تو یہ بیان کیا جارہا ہے کہ زمین آسمان سے پہلے پید ا کی گئی، اور (آیت ) ” والنازعات “ کی آیات (آیت ) ” ء انتم اشد خلقا “ ، میں (آیت ) ” والارض بعد ذلک دحھا “۔ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین آسمان کے بعد پیدا کی گئی پہلے آسمان بنالیا گیا، بلندی اور استواء دن کی روشنی اور رات کی تاریکی پیدا کرچکنے کے بعد زمین بچھائی گئی ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے زمین دو دن میں پیدا کی اور یہ آسمان کی تخلیق سے قبل تھی، اور آسمان دخان (دھویں) کی صورت میں تھا تو دو دن میں اس کو سات آسمان بنادئیے زمین کو پیدا کرنے کے بعد اور رہی یہ بات کہ (آیت ) ” والارض بعد ذلک دحھا “۔ جو سورة نازعات میں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں اللہ نے پہاڑ رکھے، نہریں اور سمندر بنائے اور درخت اگائے، علامہ خفاجی (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کے جواب اور کلام کا حاصل یہ ہے کہ (آیت ) ” اخرج منھا مآء ھا ومرعھا “۔ بدل یا عطف بیان ہے لفظ ” دحھا “ کے لیے جو اس کی مراد کو واضح کرنے والا ہے یعنی زمین کا بچھانا پیدا کرنا نہیں۔ بلکہ زمین میں جو چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں وہ مراد ہیں تو (آیت ) ” بعد ذلک “۔ میں تاخر ذاتی یعنی زمین کا اپنی اصل ذات سے آسمانوں کے بعد بنانا مراد نہیں بلکہ زمین کے منافع اور مخلوقات کا بعد میں بنانا مراد ہے، اور اس کی تکمیل وترتیب ہے اور بعدیت منافع کے حصول اور منافع سے متمتع ہونے کی حیثیت سے بھی ہوسکتی ہے، تو (آیت ) ” والارض بعد ذلک دحھا “۔ میں بعدیت اس نوع کی ہے، لہذا ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہ رہا۔ خفاجی (رح) نے ابن عباس ؓ کے کلام کی جو مراد بیان کی ہے وہ ابن عباس ؓ کے ظاہر الفاظ کی پیش نظر محتاج تامل معلوم ہوتی ہے۔ بعض حضرات مثلا واحدی (رح) نے مقاتل بن حیاں (رح) کے کلام سے یہ مراد متعین کی کہ آسمان کی تخلیق مقدم ہے اور آیات (آیت ) ” حم “۔ میں (آیت ) ” خلق الارض “۔ کا ذکر نفس الامر میں پیدا کرنے کے معنی میں نہیں بلکہ یہ خلق بمعنی تقدیر ہے کہ اللہ نے یہ مقدر اور طے فرمایا جیسے آیت مبارکہ (آیت ) ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “۔ میں، خلق۔ قدر۔ کے معنی میں ہے، (تفسیر روح المعانی ) بہرکیف آلوسی (رح) نے اس طرح کے اقوال نقل کرکے ان آیات کے تعارض کو رفع کیا تفصیل کے لیے تفسیر ابن کثیر ج 4۔ روح المعانی ج 24 از ص 88 تاص 97۔ ملاحظہ فرمائیں۔ استاذ محترم شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں، احقر کو ابو حیان (رح) کی تفسیر پسند ہے کہ آیت ” ثم استوی الی السمآء “۔ اور ” والارض بعد ذلک “۔ میں یہ ضروری نہیں کہ ثم اور لفظ بعد تراخی زمان کے لیے ہو ممکن ہے کہ تراخی فی الاخبار یاتراخی رتبی مراد ہو جیسے آیت ” ثم کان من الذین امنوا “۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ جو اوصاف اس سے قبل بیان کیے گئے ہیں وہ مومن ہی کے اوصاف ہیں اور ایمان کے بعد ہی ان اوصاف کا تحقق ہوتا ہے نہ کہ ایمان نہ ایمان ان اوصاف کے بعد حاصل ہو، بہرحال قرآن کریم میں ترتیب زمانی کی تصریح نہیں ہاں نعمت کے تذکرہ میں زمین کا ذکر مقدم رکھا اور عظمت وقدرت کے تذکرہ میں آسمان کا ذکر مقدم رکھا جس کی لطافت ادنی تائل وغور سے ظاہر ہے، تو اس ترتیب ذکری سے یہ لازم نہیں کہ اس کو ترتیب وقوعی اور ترتیب وجود ہی قرار دیا جائے تخلیق کائنات میں دنوں کی بعض روایات میں تعیین بھی آئی ہے مثلا حدیث ابوہریرہ ؓ میں ہے کہ مٹی کو اللہ نے سینچر کے روز پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے روز اور نباتات کو پیر کے روز، برائیوں اور بیماریوں کو منگل کے روز، نور اور بھلائیوں کو بدھ کے روز، بہائم اور چوپائے جمعرات کے روز اور آدم (علیہ السلام) کو جمعہ کے روز کے آخری پہر میں عصر ومغرب کے درمیان لیکن ابن کثیر (رح) نے اس کو معلول فرمایا، اگرچہ امام مسلم (رح) نے اس حدیث کو تخریج فرمایا ہے، مگر ابن کثیر (رح) نے اس کو غرائب صحح میں بیان کیا، امام بخاری (رح) نے بھی اس کو معلول فرمایا، امام بخاری (رح) اور علی بن المدینی (رح) اسکو کعب احبار ؓ کا کلام قرار دیتے ہیں، واللہ اعلم بالصواب (فوائد شیخ الاسلام (رح) ابن جریر (رح) نے عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کیا یہودی آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آسمانوں اور زمین کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی شنبہ اور یک شنبہ کے دن پہاڑ اور پہاڑوں کے منافع سہ شنبہ کے دن، اور درخت، پانی، نہریں، اور آبادیاں چہار شنبہ کے دن یہ چار دن مکمل ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے کے ہوگئے اس کے بعد پنجشنبہ کے دن آسمان بنائے اور جمعہ کے روز ستارے، چاند، سورج اور فرشتے پیدا کیے، تو یہ مضمون پہلی روایت سے مختلف ہے، مناسب اور بےتکلف وہی چیز ہے جس کو شیخ الاسلام (رح) نے اختیار فرمایا۔ عاد وثمود کی تاریخ اہل عرب کے لیے عظیم درس عبرت : مقام عبرت وتنبیہ میں عاد وثمود کے واقعہ کا حوالہ ان آیات میں خاص طور پر اس وجہ سے دیا گیا کہ قریش کے لوگ اور عرب میں بسنے والے ان قوموں کو خوب جانتے تھے ان کے سازوسامان مادی وسائل کی کثرت وفراوانی اور طاقت و غلبہ سب کچھ تاریخی حیثیت سے مشہور ومعروف تھا تو ان کا ذکر کرکے یہ واضح کردیا گیا کہ جب یہ طاقت ور قومیں بھی اللہ کی نافرمانی اور اللہ کے رسولوں کا مقابلہ کرکے اللہ تعالیٰ کے قہر و عذاب سے نہیں بچ سکیں جن کے آثار ونشا نات آج تک بھی اہل عرب، یمن اور شام کے سفر میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح عذاب خداونید نے ان کو ہلاک کیا، ان آیات میں عاد وثمود کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا۔ (آیت ) ” اذجآء تھم الرسل “۔ یعنی جب کہ ان کے پاس ان کے رسول آئے (جمع کے صیغے کے ساتھ) قوم عاد کے رسول تو حضرت ہود (علیہ السلام) تھے اور ثمود کے رسول حضرت صالح (علیہ السلام) تھے تو ان دورسولوں کو جمع کے صیغے سے یا تو اس بنا پر تعبیر فرمایا گیا کہ ممکن ہے کہ ان دو کے علاوہ بھی کچھ اور رسول و پیغمبر قوم عاد وثمود کے لیے بھیجے گئے ہوں، لیکن قرآن کریم نے ان ہی دو حضرات کا ان کی عظمت وخصوصیت کے باعث ذکر کیا، اور بعض دیگر انبیاء کا ذکر نہیں فرمایا بقانون (آیت ) ” منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک “۔ یا اس بناء پر کہ کسی قوم کا ایک رسول کی تکذیب کرنا بھی اللہ کے سارے پیغمبروں کو جھٹلانا تھا، جیسے کہ ارشاد فرمایا (آیت ) ” کذبت قوم نوح، المرسلین “۔ کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا حالانکہ قوم نوح تو صرف نوح (علیہ السلام) ہی کی تکذیب کی مرتکب ہوئی تھی، اور یہ ظاہر ہے کہ گزشتہ مضامین میں متعدد مواقع پر یہ بات دلائل سے واضح کی جا چکی کہ حق تعالیٰ کے تمام انبیاء ورسل اصول توحید جزاء وسزا اور قیامت کے مسئلہ میں متفق ہیں، اس وجہ سے کسی بھی ایک رسول کا انکار اللہ کے تمام رسولوں کا انکار ہے، اس بنیاد پر عیسائی یا دوسرے اہل کتاب آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے خود اپنے پیغمبر پر بھی ایمان رکھنے والے نہ رہیں گے، اس کے برعکس ہر مسلمان جس طرح وہ نبی آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اسی طرح وہ حضرت عسی (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان رکھتا ہے، تو عیسائیوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان کا دعوی کرنے والوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جب تک وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وحضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھی کافر ومنکر رہیں گے ، حضور اکرم ﷺ کی شان نبوت تو یہ ہے کہ اگر بالفرض آج موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی آنحضرت ﷺ ایمان لاتے، جیسے کہ حدیث میں ہے لوکان موسیٰ حیا لما وسعہ الا اتباعی “۔ اور یہ وجہ ہے کہ جب حضرت عسی (علیہ السلام) قیامت کے قریب زمین پر نزول فرمائیں گے تو وہ آپ ﷺ کے امتی ہوں گے اور قرآن پر عمل کریں گے اور اسی کو نافذ وجاری کریں گے۔
Ayahs 41:19–32

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضاء) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر یہ توبہ کریں گے تو انکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں) کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد فرمایا جارہا ہے ارشاد ہے اور جس روز کہ جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو دوزخ کی آگ کی طرف گھسیٹتے ہوئے تو وہ اس وقت روکے ہوئے ہوں گے، تاکہ سب کے سب جمع ہوجائیں اور بیک وقت ان تمام مجرمین کو موقف حساب میں حساب اعمال کے لیے پیش کیا جائے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب آجائیں گے کیونکہ جہنم اور اس کی آگ کی لپٹیں انہیں موقف حساب سے قریب ہی نظر آتی ہوگی تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان ان کی نگاہیں اور ان کی کھالیں ان تمام اعمال کی جو یہ کیا کرتے تھے، اس وقت یہ بےبسی کے عالم میں حیران ہوں گی اور کہیں گے، اپنی کھالیں ان تمام اعمال کی جو یہ کیا کرتے تھے، اس وقت یہ بےبسی کے عالم میں حیران ہوں گے اور کہیں گے، اپنی کھالوں اور اپنے اعضا سے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں اور کیسے دی حالانکہ تم میں تو بولنے کی صلاحیت اور قدرت نہیں ہے، جواب دیں گے گویائی دی ہم کو اس اللہ رب العزت نے جس نے ہر ایک چیز کو گویائی دی، جو گویا ہے خواہ اس کی گویائی متعارف ومعتاد ہو جیسے انسانوں کی گفتگو اور جانوروں وپرندوں کی آوازیں خواہ غیر متعارف وغیر معتاد ہو یعنی جو چیز بھی گویائی کی صلاحیت رکھتی ہے وہ اس کے کسی مادہ اور طبیعت کا تقاضا نہیں بلکہ وہ محض عطاء الہی اور قدرت خداوندی ہے تو آپ اس کو اختیار ہے وہ اپنی قدرت سے جس کسی جز اور حصہ میں بھی قوت نطق وگویائی رکھ دے اور اس کے سمجھنے ماننے میں آخر کیا تردد ہے، اس کی عظمت قدرت کا یہ عالم ہے کہ اسی نے تو پیدا کیا تم کو پہلی بار جس کا تم مشاہدہ کرچکے تو اب اسی پروردگار نے اپنی قدرت سے تم کو دوبارہ یہاں اٹھایا اور جمع کیا اور تمہاری کھالوں ہاتھ پاؤں اور بدن کے ٹکڑوں میں گویائی پیدا کردی اور وہ بول رہے ہیں اور تم دنیا میں اپنے آپ کو اس چیز سے نہیں چھپا سکتے کہ تمہارے کان تمہارے خلاف گواہی دیں اور نہ اس سے کہ تمہاری نگاہیں، اور نہ اس سے کہ تمہاری کھالیں، اس لیے کہ انسان پر قادر ہی نہیں اپنے اعمال وافعال اپنی آنکھوں اور کانوں اور خود اپنے بدن کے ٹکڑوں سے چھپالیں دنیا کی نگاہوں سے بیشک پردہ حاصل کرسکتا ہے لیکن خود اپنے ہی سے وہ کیونکر چھپ جائے گا، اس حقیقت ومشاہدہ کا تقاضا تو یہ تھا کہ اے لوگو ! تم کسی وقت بھی جرم کے مرتکب نہ ہوتے، لیکن تم نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ بہت سی وہ چیزیں نہیں جانتا جو تم کرتے ہو، نہ تم کو قیامت کا خیال آیا، اور نہ حساب و کتاب کا خوب بےفکری سے یہ سب کچھ کرتے رہے، اے لوگو ! یہی تو تھا وہ تمہارا گمان فاسد جو تم نے اپنے رب کے ساتھ قائم کیا، جس نے تم کو ہلاک وتباہ کیا تو بس اسی گمان اور تصور کی وجہ سے تم لوگ ہوگئے ہو تباہ وبرباد ہوجانے والوں میں، بہرکیف یہ ہوگا انجام ایسے مجرموں کا جنہوں نے دنیاوی زندگی اسی دھوکہ میں گذار دی، نہ کبھی آخرت کو سوچا اور نہ وہاں کے عذاب کی فکر کی تو اس صورت حال میں اگر یہ صبر کریں اور فیصلہ خداوندی پر کسی طرح کی حجت بازی اور حیلہ بہانہ نہ کریں تو بھی دوزخ کی آگ ان کا ٹھکانہ ہے، یہاں یہ ممکن نہ ہوگا کہ خاموشی اور صبر سے مہربانی اور رحمت کے آثار ان کی طرف متوجہ ہوجائیں، اور اگر عذر پیش کرنا چاہیں گے تو ان کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور عذاب الہی کا جو فیصلہ انکے حق میں ہوگا وہ اس سے کسی طرح نہ بچ سکیں گے اور ہم نے دنیا میں ان کافروں کے واسطے کچھ ساتھی مقرر کردیئے تھے شیاطین میں سے ان کی بدنصیبی اور مسلسل عناد وتکبر کی وجہ سے سو انہوں نے رچا دیئے تھے ان کے لیے ان کے تمام اعمال اگلے اور پچھلے اس بنا پر وہ اپنے اعمال پر مصر رہے۔ اور جب وہ ان کو مستحسن سمجھتے تھے تو ظاہر ہے کہ ان کے چھوڑنے پر کیونکر تیار ہوتے، لہذا ان پر مسلط ہوگیا وہ فیصلہ جو ان سے پہلی گذری ہوئی قوموں کے حق میں نافذ ہوچکا تھا، خواہ وہ جن میں سے ہوں یا انسانوں میں سے کہ بیشک وہ سب ہی خسارہ اور بربادی میں پڑنے والوں میں سے ہیں۔ کیونکہ اللہ رب العزت کے مقابلہ میں سرکشی اور نافرمانی کا یہی انجام ہوسکتا ہے، اور اسی کے مطابق پہلی قو میں ہلاک کی گئیں تو اسی طرح بعد کے مجرمین کا بھی یہی حشر ہوگا، قیامت کے روز حسرت وناکامی کا جب ایسا منظر سامنے ہوگا تو کافربدحواس ہوں گے اور نہ صبر کرتے بن پڑے گی، اور نہ معذرت ومعافی سے کام چلے گا، ان واقعات کو سن کر چاہئے تو یہ تھا کہ کفار مکہ عبرت حاصل کرتے، کفر وبغاوت سے باز آتے لیکن اس کے برعکس اور کافروں نے یہ کہا کہ کان ہی نہ لگاؤ اس قرآن کی جانب اور نہ سنو۔ اور نہ سنو، اور اگر پیغمبر سنانے لگے تو اس میں شور وشغب مچاؤ، شاید تم ہی غالب آجاؤ، ان کافروں کو اپنی اس بیہودہ حرکت کا انجام معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ضرور بالضرور کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ضرور ہم ان کو بدلہ دیں گے ان برے کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے، یہی ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی اور وہ جہنم کی آگ ہے، ان کے واسطے اس جہنم میں ہمیشہ کا ٹھکانا ہوگا، اس چیز کے بدلے کے طور پر کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے اور اس فیصلہ اور انجام سے برافروختگی اور غصہ کے عالم میں کافر کہیں گے اے ہمارے پروردگار دکھا دے تو ہمیں وہ لوگ جن وانس میں سے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا کہ ہم ان کو روندیں اپنے قدموں کے نیچے تاکہ وہ بھی خوب ذلیل و خوار ہونے والوں میں سے ہوجائیں، اگرچہ ان کو گمراہ کرنے والے شیاطین جن وانس بھی جہنم کی آگ میں ہوں گے لیکن جہنم تو ایک وسیع عالم ہے اس بنا پر دیکھنے کی تمنا کریں گے، اور ذلت و خواری میں تو وہ پہلے مبتلا ہوچکے ہوں گے، لیکن مزید رسوائی ان کی اس طرح دیکھنا چاہتے ہوں گے کہ اپنے قدموں کے نیچے ان کو روندیں جن کو انہوں نے دنیا میں اپنے مقتدی و پیشوا بنا رکھا تھا یہ تو انجام ہوگا مجرمین و کفار کا مگر اس کے بالمقابل اللہ سے تعلق رکھنے والے اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے والے مومنین کا اعزاز واکرام اس طرح ہوگا کہ بیشک جن لوگوں نے اقرار کرلیا دل کی گہرائیوں سے کہ ہمارا رب اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود ومولی نہیں اور پھر وہ اسی پر مضبوطی سے جمے رہے اور صراط مستقیم پر استقامت کے ساتھ چلتے رہے اور مرتے دم تک اسی پر قائم رہے تو ان پر فرشتے اتریں گے، اللہ کا پیغام رحمت وبشارت لے کر کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو اللہ کی عنایت و رحمت سے تم دنیا میں بھی ہر اندیشہ سے مامون اور ہر فکر وغم سے محفوظ ہوؤ گے اور اس دنیاوی زندگی کے بعد آخرت میں خوشخبری سن لو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہم تمہارے ولی سرپرست اور رفیق ہیں، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی چناچہ اسی ولایت ورفاقت کا یہ اثر تھا کہ اہل ایمان کو طاعت اور نیک کام کی توفیق اور مصائب وشدائد پر صبر اور ایمان وتقوی پر استقامت نصیب ہوئی اور اسی پر خاتمہ ہوا، اور تمہارے واسطے ہر وہ چیز ہوگی جو تم طلب کرو گے یہ سب کچھ بطور مہمانی اور اکرام کے ہوگا۔ اس پروردگار کی طرف سے جو بڑی مغفرت کرنے والا بڑا ہی مہربان ہے، جو اپنی شان مغفرت سے ان کوتاہیوں سے درگزر کرنے والا ہوتا ہے جن کے بعد شاید ایسے اکرام و اعزاز کا استحقاق نہ ہوتا اور بڑا ہی مہربان ہے کہ اپنی شان رحیمی سے بندوں کے قلیل و حقیر پر ایسے بلند پایہ انعامات سے نوازتا ہے۔ استقامت کا مفہوم اور اس پر مرتب ہونیوالے ثمرات : آیتہ مبارکہ ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقامو ا “۔ میں ایمان پر استقامت کے ذکر کے بعد اس پر مرتب ہونے والے عظیم ثمرات اور بہترین نتائج کا بیان ہے۔ پہلا ثمرہ : (آیت ) ” تتنزل علیہم الملئکۃ “۔ ہے کہ فرشتے ان پر اترتے ہیں، اور فرشتوں کا ان اہل ایمان واہل استقامت پر اترنا ان کا انتہائی اعزاز واکرام ہے ، دوسراثمرہ : پیغام بشارت (آیت ) ” ان لا تخافوا ولا تحزنوا “۔ ہر خوف اور غم کے دور ہوجانے کا۔ تیسرا ثمرہ : تیسرا ثمرہ : جنت اور جنت کی نعمتوں کی بشارت جو (آیت ) ” وابشروا بالجنۃ التی کنتم تو عدون “۔ کے عنوان سے فرمائی گئی تاکہ اس بشارت کو سن کر ذہن ابتداء ہی سے ان بلند پایہ انعامات اور نعمتوں کی طرف متوجہ ہوجائے جن کی تفصیل نعماء جنت کے ذیل میں بیان کی جا چکی۔ چوتھا ثمرہ : (آیت ) ” نحن اولٓیاء کم “۔ ہے کہ ہم تمہارے ولی، سرپرست اور دوست ہیں دنیا اور آخرت میں اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی ولایت اور محبت دنیا میں اور آخرت میں ایک ایسا عظیم انعام ہے کہ دنیا اور مافیہا کی ساری نعمتیں اس کے مقابلہ میں حقیر ہیں، بلکہ اخروی نعمتوں میں بھی یہ بہت ہی بلند پایہ نعمت ہے کیونکہ اللہ رب العزت کی رضا اور خوشنودی جنت کی ہر نعمت اور راحت سے زائد اور بلند ہے جیسے کہ حدیث میں ہے کہ حق تعالیٰ جنت میں اہل جنت کو تمام انعامات سے نوازنے کے بعد فرمائے گا، اے میرے بندو ! کیا تمہیں کچھ اور چیز مطلوب ہے، جنتی جواب دیں گے اے ہمارے رب اب ہمیں اور کیا چاہئے ہم کو تو وہ نعمتیں دے دی گئیں ہیں جو جہان والوں میں کسی کو نہیں دی گئیں، اس پر اعلان ہوگا، رضائی لا اسخط علیکم بعدہ ابدا “۔ کہ میری رضا مندی اور خوشنودی ہے تمہارے لیے، اب آئندہ میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، (آیت ) ” ورضوان من اللہ اکبر، ذلک ھو الفوز العظیم “۔ پانچواں ثمرہ : (آیت ) ” ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم “۔ کہ ہر خواہش کا پورا ہونا۔ چھٹاثمرہ : (آیت ) ” ولکم فیھا ما تدعون “۔ کہ ہر طلب کی تکمیل کہ جو بھی چیز جتنی طلب کریں گے وہ حق تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوجائے گی، اور ہر طلب کا پورا ہونا اور ہر مطلوب کامل جانا نہایت ہی عظیم انعام ہے۔ ساتواں انعام وثمرہ : (آیت ) ” نزلا من غفور رحیم “۔ اعزاز واکرام ہے، جیسے مہمان کا اعزاز ہوتا ہے اور اس اعزاز واکرام میں خدا کی شان غفور ورحیمی ہر تقصیر سے درگزر کرتے ہوئے استحقاق سے بڑھ کر بےپایاں رحمتوں سے نوازنے والی ہوگی۔ حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرۂ نے فرمایا ان اوصاف کاملہ اور بشارات فاضلہ کے سب سے اولین مصداق خلفاء راشدین پھر مہاجرین اولین تھے جن کے ایمان و استقامت کی عظمت وبلندی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، اللہ کی ربوبیت ان کے اعتقاد کامل کی پوری تصویر اور ان کی عملی زندگی تھی پھر اطاعت وفرمانبرداری کا وہ مقام تھا کہ دنیا کی کوئی مشقت ورکاوٹ ان کی راہ اطاعت میں حائل نہ ہوسکی تھی، (آیت ) ” ربنا اللہ “۔ عقیدۂ توحید کی ترجمانی ہے اور اس کے بعد استقامت طاعت و بندگی کا کمال ہے کیونکہ استقامت ہر مأمور اور حکم کی تعمیل وپیروی اور ہر ممنوع اور خلاف شرع چیز سے پرہیز کرنے کا نام ہے جس میں اعمال قلوب اور افعال حسیہ وظاہرہ داخل ہیں اور اس عملی کیفیت کا نام ہے جو ایمان اسلام اور احسان کے مقام کو جامع ہو، اسی وجہ سے حضرات عارفین کا قول ہے کہ استقامت ہزار ہا کرامتوں سے بڑھ کر ہے، ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ پر (آیت ) ” فاستقم کمآ امرت “۔ الخ سے زائد کوئی سخت آیت نہیں نازل ہوئی، بعض صحابہ ؓ نے ایک مرتبہ آپ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ پر تو بڑھاپا بہت جلد ہی آگیا، اچانک آپ ﷺ پر آثار ضعف واقع ہوگئے تھے، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا ہے، اور یہ آیت سورة ہود ہی میں ہے۔ امام غزالی (رح) نے بیان کیا کہ صراط مستقیم (شریعت کے راستہ) پر استقامت جہنم پر قائم کردہ صراط (پل) پر گذرنے سے زیادہ شدید ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں صراط مستقیم پر استقامت اور وہاں آخرت میں صراط جہنم پر سے گذرنا بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے، مرتبہ استقامت کی اسی عظمت کے باعث ہر نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت کا حکم فرمایا گیا تاکہ صراط مستقیم پر استقامت کی درخواست بارگاہ خداوندی میں پیش کی جاتی رہے۔ نزول ملائکہ اور مواقع نزول : روایات ونصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کا نزول تین موقعوں پر ہوتا ہے ایک تو انسان کی موت کے وقت جیسا کہ احادیث میں ہے کہ مومن جب انتقال کرنے لگتا ہے تو فرشتوں کا نزول ہوتا ہے قبض روح کے لیے اور کہتے ہیں۔ اخری ایتھا النفس الطیبۃ الی روح وریحان ورب غیر غضبان “۔ اور بعض روایات میں لفظ المطمئنۃ یعنی اے پاکیزہ روح یا اے نفس مطمئنہ نکل تو خوشگوار ہواؤں اور خوشبوؤں کی طرف اور ایسے رب کی طرف جو غضبناک نہیں ہے، دوسرا وقت قبر میں ہوتا ہے کہ میت کے سامنے اس کی قبر میں فرشتے آکر اس سے سوال کرتے ہیں، من ربک۔ ومن نبیک، وما دینک، مومن جب جواب ٹھیک دے دیتا ہے تو فرشتے اس کو بشارت سناتے ہیں، جنت کی نعمتوں اور راحتوں کی، اور کہہ دیتے ہیں نم کنومۃ العروس۔ یعنی تو سو جادلہن کی طرح جس کے لیے ہر آرام اور راحت کا خیال رکھا جاتا ہے، تیسرا موقعہ نزول ملائکہ کا حشر ہے جب مومنین کو دخول جنت کی بشارت سناتے ہوں گے، (آیت ) ” ادخلوا الجنۃ بما کنتم “۔ اور کہا جارہا ہوگا، (آیت ) ” سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار اور کافروں کو دخول نار کی وعید سنائی جارہی ہوگی ، یہ مواقع نزول تو موت کے وقت سے لے کر حشر اور حساب و کتاب تک ہوئے، انسان کی دنیاوی حیات میں بھی فرشتوں کا مومنین پر اترنا متعدد صورتوں میں ہوتا ہے کبھی اعمال صالح کی تلقین اور قلب میں ان کی رغبت وشوق ڈالنے کے لیے اترتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات انسان اپنے قلب میں غیر شعوری طور پر اعمال صالح کی ایک عجیب رغبت وشوق کی کیفیت محسوس کرتا ہے اور کبھی مصیبت اور غم کے وقت سکینت وطمانینت کا القاء کرنے لیے اترتے ہیں جیسے غزوۂ بدر میں ہوا چناچہ ارشاد ہے (آیت ) ” اذ یوحی ربک الی الآئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “۔ ان دو قسموں کے نزول اور رفاقت کے علاوہ فرشتوں کا وہ نزول ہے جو نوبت بنوبت بندوں کے اعمال لکھنے والے اور اس کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے۔ لہ معقبات من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظون کہ من امر اللہ “۔ جنت میں تفاوت درجات کے باوجود باہمی تحاسد نہ ہوگا : (آیت ) ” ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم “۔ کا مدلول یہ ہے کہ اہل جنت جس کسی چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کو حاصل ہوجائے گی، حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی (رح) نے اس پر ایک لطیف نکتہ بلندی اور فضیلت رکھنے والے ہوں گے تو کم تردرجے کے لوگ اگر اپنے سے بلند مرتبہ والوں کو نہ جانیں گے تو جہل لازم آئے گا، اور جہالت عیب اور نقصٓن ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اہل جنت ناقص اور عیب دار ہوں، اور اگر جانے گا تو طبعی تقاضے کے باعث حسد ہوگا تو یہ بھی بری خصلت ہے تو فرمایا یہی شق اختیار کرلی جائے کہ بعض اہل جنت کو اپنے بلند درجات والوں کا علم ہوگا لیکن حسد انسانی خصائل میں سے ایک مذموم اور بری خصلت ہے اور جنتی جنت میں جب داخل کیے جائیں گے جیسا کہ ارشاد ہے، (آیت ) ” ونزعنا ما فی صدورھم من غل تجری من تحتھم الانھار “۔ اور حدیث میں آتا ہے۔ لا تحاسد بینھم ولا تباغض “۔ اس لیے اس طرح کی کوئی کیفیت نہیں ہوگی، اور رہی یہ بات کہ وہ یہ تمنا کرنے لگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے ایسے ہی مراتب عطا فرمادے تو یہ تمنا اس وجہ سے نہیں کریں گ ے کہ ان کو اپنی استعداد اور صلاحیت معلوم ہوگی، وہ اپنے مرتبہ اور استعداد سے بڑھ کر تمنا ہی نہیں کریں گے پھر یہ کہ جنت میں ہر ایک عبدیت کے اعلی اور بلند ترین مقام پر ہوگا اور ان کو تمام باطنی مقامات حاصل ہوں گے اس وجہ سے ان کو مقام رضا و تسلیم بھی حاصل ہوگا اور ہر ایک اپنے درجہ میں اس قدر مسرور وخوش ہوگا کہ دوسروں کے درجات کا احساس ہی نہ ہوگا چہ جائیکہ وہ ان درجات کی تمنا کرنے لگے، دنیا میں بھی رضا و تسلیم اور قناعت کا مقام حاصل کرنے والے ایسے بعض لوگ مل جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کو اپنے سے بہتر جاننے کے باوجود ان کے مراتب کی خواہش تو کیا ان کو اپنے اس درجہ سے ترقی سے بھی نفرت ہوتی ہے، تو جب دنیا میں بھی ایسے قانع افراد ہیں تو آخرت اور جنت میں تو ہر ایک ہی پیکر قناعت اور رضا و تسلیم ہوگا، حضرت حکیم الامت اس تحقیق کے دوران دل میں پیش آنے والے اشکال کو ہی رفع فرماگئے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جنتی اپنے بلند مرتبہ والوں کو دیکھ کر تمنا کریں گے جیسے ایک حدیث میں ہے کہ ایک جنتی دوسرے کو دیکھ کر تمنا کرے گا کہ میرا لباس بھی کاش ایسا ہی ہوتا تو فورا اس کا لباس اسی جیسا ہوجائے گا تو اصل یہ ہے کہ لباس کی برابری سے درجات کی برابری ضروری نہیں ہوسکتا ہے کہ مختلف درجات والوں کو لباس ایک سادے دیا جائے، جیسے کہ ضیافت میں مختلف المراتب لوگوں کو ایک ہی قسم کا کھانا کھلایا جائے اور ایک ہی طرح کا اکرام کیا جائے تو درجہ کی مساوات کی تمنا نہ ہوگی، نعمت میں برابری کی تمنا رتبہ میں مساوات کی تمنا کو مستلزم نہیں (ھذا مافہمت من کلمات حکیم الامت (رح)