41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 41:47–54

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو اور اگر قیامت سچ بھی ہو تو میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے پس کافر جو عمل کیا کرتے ہیں وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو تو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق) کی پرلے درجے کی مخالفت میں ہو

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے ؟

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت کے وقوع کا علم ہے مخلوق کو اس کا کوئی علم نہیں اور ظاہر ہے کہ اگر مخلوق کو قیامت کے آنے کا علم نہ ہو تو اس سے یہ کیسے لازم آسکتا ہے کہ قیامت آنے والی نہیں ہے جیسا کہ یہ منکرین استدلال کرتے ہیں، اور قیامت تو کیا ہر چیز کا علم اللہ ہی کو ہے تمام کائنات اسی احاطہ علم میں گھری ہوئی ہے حتی کہ وہی پروردگار جانتا ہے جو پھل اپنے خوشوں اور گپھوں سے نکلتے ہیں، اور اس حمل کو جو کوئی عورت اٹھائے ہوئے ہو۔ اور نہ ہی کوئی عورت بچہ جنتی ہے مگر اسی کے علم سے کہ کیا ہوگا کیسا ہوگا کب ہوگا غرض یہ سب کچھ اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے اور قیامت تو وہ دن ہوگا کہ اس میں پروردگار پکارے گا ان مشرکین کو اور کہے گا کہاں ہے وہ میرے شریک جن کو تم نے میری عبادت اور الوہیت میں شریک ٹھہرایا تھا اب ان کو لاؤ تاکہ وہ اس مصیبت و پریشانی سے تم کو نجات دلا دیں، جواب دیں گے، اے پروردگار ہم تو آپ سے یہی کہتے ہیں کہ اب ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے یا دعوی کرنے والا نہیں ہے کیونکہ اب سب حقائق روشن ہوگئے اور وہ تمام معبود ان سے غائب ہوں گے جن کو یہ پہلے پکارا کرتے تھے، اور یہ لوگ سمجھیں گے کہ اب ان کے واسطے کوئی بچاؤ نہیں ہے، ایسا انسان جس کے دل میں نہ ایمان ہو اور نہ اعتقاد توحید مال کی خواہش اور طلب سے کبھی نہیں تھکتا بلکہ حرص میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے اور یہ بات کفر ومعصیت کے آثار لازمہ میں سے ہے جو انسانی طبیعت پر بہرکیف مرتب ہو کر رہتی ہے، ساتھ ہی اس کی اخلاقی خرابی اور گندگی کا یہ اثر ہوتا ہے کہ اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچنے تو ناامید وبدحواس ہوجاتا ہے، غرض مال کا لالچ، اخلاقی خرابیوں میں مبتلا، اپنے رب سے بدگمان یہ ہیں وہ آثار خبیثہ جو کفر وشرک پر مرتب ہو کر رہتے ہیں اور انہی آثار خبیثہ میں سے یہ بھی ہے اگر ہم ایسے انسان کو کسی مہربانی کا مزہ چکھا دیں بعد کسی مصیبت کے کہ جو اس کو پہنچی تھی، تو یہ کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق ہی ہے، مجھ کو یہ ملنا ہی چاہئے تھا، کیونکہ میں تو بہت لائق اور باکمال ہوں میں نے تو اپنی قابلیت سے ایسی ہی تدابیر اختیار کی تھیں تو میری حسن تدبیر کا یہی نتیجہ ہونا چاہئے تھا، اور پھر اپنی اس خود فریبی میں مبتلا غرور ومستی کی حالت میں یوں کہتا ہے، اور میں تو نہیں سمجھتا کہ روز قیامت آنے والا ہے اور اگر مجھ کو میرے رب مونہوں سے اب اس قسم کی باتیں کررہے ہیں۔ لیکن یاد رکھو یقیناً ہم ان منکروں کو خوب بتا دیں گے ان کے وہ تمام کام جو انہوں نے کیے اور ضرور بالضرور ہم ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور ایسے انسان کی یہ بھی ایک عجیب فطرت ہے کہ ہم جب اس اس پر انعام فرماتے ہیں تو وہ بےرخی کرتا ہے اور اپنا پہلو بچانے لگتا ہے اور ظاہر ہے کہ نعمتوں میں منعم سے منہ موڑ لینا انتہائی کمینہ پن ہے، اور پھر جب اس کو تکلیف پہنچے تو لمبی چوڑی دعاؤں والا ہوجاتا ہے، یہ اس کی غایت بےصبری، دنیا میں انہماک اور حب مال حرص اور نفس کی خواہشات میں مبتلا ہونے میں بدترین آثار ہیں جو اللہ کی نافرمانی اور کفر وشرک کے باعث انسان میں پیدا ہوجاتے ہیں، ان حقائق اور کفر وشرک کے مفاسد، بیان کرتے ہوئے ان منکرین سے نہایت ہی نرمی اور تلطف کے انداز میں آپ ﷺ کہہ دیجئے اگر یہ قرآن جس کا کلام الہی ہونا اس کی معجزانہ شان علوم الہیہ اور حکمتوں سے لبریز ہونے آخرت اور غیب کی خبروں پر مشتمل ہونے کے باعث اظہر من الشمس ہے ایسی صورت میں کہ تم اس پر ابھی تک ایمان نہیں لائے، میں کہتا ہوں عقل اور فطرت کے لحاظ سے سوچو اور اس پر غور کرکے جواب دو کہ اگر یہ قرآن جیسا کہ حقیقت ہے، اللہ کی طرف سے ہو اور پھر بھی تم اس کا انکار کرو تو بھلا بتاؤ اس شخص سے زیادہ اور کون گمراہ ہوسکتا ہے جو انتہائی مخالفت میں پڑا ہوا ہے حق کے قبول کرنے سے سوچو اور عقل سے کام لوتا کہ حق واضح ہوجائے، اور قبول حق میں طبعا کوئی تامل نہ ہو تو ہم اس مقصد کے لیے عنقریب ان کو دکھا دیں گے، اپنی قدرت کی نشانیاں آفاق عالم میں یا ان کے اطراف واکناف میں اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان کے سامنے یہ ظاہر ہے جائے گا کہ بیشک یہ قرآن حق ہی ہے اور یہ مجبور ہوجائیں گے کہ اس کی حقانیت کو دل سے مانیں گو عناد کی وجہ سے انکار کرتے رہے، چناچہ ان کے قرب و جوار میں ظاہر کیے جانے والے دلاء ل میں غزوۂ بدر اور اس میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی تھی، حالانکہ اس بےسروسامانی میں ظاہری اسباب کے لحاظ سے یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوجائے گی، اور خود ان کی ذات اور وجود میں ایسے بیشمار دلائل موجود ہیں جن کے باعث ان کو ایمان لانے اور قرآن کریم کی حقانیت تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے، تو کیا یہ بات آپ ﷺ کے رب کو ثبوت اور شہادت کے درجے میں کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے، وہ ہر چیز کو دیکھتا اور جانتا ہے اور ایسے علیم وخبیر سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوسکتی ہے اور اس رب کی شہادت میں آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی گواہی بھی ہے اور اللہ کا گواہ ہونا بہت بڑی بات ہے جیسے کہ ارشاد ہے (آیت ) ” وکفی باللہ شھیدا “۔ عقلا ایسے دلائل و شواہد کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ منکرین آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لاتے اور جو کچھ آپ ﷺ قیامت کے متعلق کہتے ہیں، اس کو مانتے لیکن خبردار ہوجاؤ یہ لوگ تو شک وتردد ہی میں پڑے ہوئے ہیں اپنے پروردگار سے قیامت کے روز ملاقات کرنے سے یاد رکھو وہ پروردگار تو ہر چیز کا پورا پورا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے، ہر شخص کے اعمال واحوال بھی اس کے احاطہ علم میں گھرے ہوئے ہیں۔ لہذا قیامت کے روز ہر ایک کے عمل کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے گا اور جب کہ ہر چیز اس کے علم میں ہے تو اصل قیامت کے آنے کا علم بھی اسی کو ہے تو منکرین کا یہ سوال نہایت ہی لغوبات ہے کہ قیامت کب آئے گی، بس اس کا علم اور جو اب اسی رب کی طرف لوٹایا جائے گا جس کا علم ہر چیز کو محیط ہے، (آیت ) ” سنریھم ایتنا “۔ کی تفسیر میں حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ہم ایسے دلائل اور حجتیں قائم کریں گے جن سے یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ قرآن اللہ کا کلام منزل ہے جو اس کے رسول پر اتارا گیا جن میں سے بعض دلائل تو خارجیہ ہوں گے جو عالم کے کناروں یا کفار قریش کے قرب و جوار میں ظاہر ہوں گے چناچہ فتوحات اسلام کی اشاعت اور تمام ادیان و مذاہب پر اس کے غلبہ نے اس حقیقت کو ظاہر اور ثابت کردیا اور (آیت ) ” فی انفسھم “۔ سے انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی میں قدرت خداوندی کے عجیب نمونے اور اس کے احوال مختلفہ مراد ہیں۔ دلائل آفاق وانفس : آیت مبارکہ (آیت ) ” سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم “۔ اس امر کو واضح کرتی ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کی خالقیت وقدرت اور وحدانیت نیز اثبات قیامت اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کے دلائل دو قسم کے ہیں ایک قسم دلائل کی متکلمین کے یہاں دلائل انفس کہلاتی ہے اور دوسری قسم دلائل آفاق، حضرات ائمہ متکلمین ان دونوں قسموں کی تفصیل وتحقیق فرماتے ہیں، ان تفصیلات کی تو یہاں گنجائش نہیں، اجمالا یہ سمجھ لیا جائے کہ دلائل انفس سے مراد انسانی زندگی اور اس کے جملہ احوال و کیفیات ہیں کہ انسان جب بھی اپنی ذات وصفات اور وہ تمام عوارض و کیفیات جو اس پر واقع ہوتی ہیں غور کرے تو اس کو اس بات پر یقین کرنا پڑے گا کہ ضرور اس کا کوئی خالق ہے اور وہ واحد ویکتا ہے وہی اس کا رب ہے جس کی عظمت وکبریائی کی کوئی حد نہیں، دلائل انفس کے تتبع اور تلاش کے لیے حق تعالیٰ شانہ نے انسانی فکر کو دعوت دی اور فرمایا (آیت ) ” وفی انفسکم افلا تبصرون “۔ یعنی اے انسانو ! خود تمہارے نفسوں میں بہت نشانیاں ہیں (جن کے ذریعے تم اپنے رب کو پہچان سکتے ہو) تو کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے ہو۔ انسانی ہستی حق تعالیٰ کی خالقیت اور کمال قدرت کی ایسی زندہ دلیل ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا فلسفی اس دلیل کے معارضہ اور مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔ ظاہر ہے کہ انسان ابتدا میں معدوم محض تھا اس کو نہ کسی قسم کا حسی وجود حاصل تھا، اور نہ عقلی وجود، خدا ہی نے اس کو وجود کا خلعت عطا کیا، اس مضمون پر قرآن کریم کی سینکڑوں آیات مشتمل ہیں، ملاحظہ فرمائیں کتاب منازل العرفان فی علوم القرآن از ص 449 تا ص 490) حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کا استدلال : حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) اپنے رسالہ ” حجۃ الاسلام “ میں فرماتے ہیں ” کون شخص ہے جو یہ نہیں جانتا ہو کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ ہم پر دۂ عدم میں مستور تھے، اور عنقریب پھر وہی ایک زمانہ آنے والا ہے کہ ہم اس پر پردۂ عدم میں جا چھپیں گے، ہمارا وجود دوعدموں میں اس طرح گھرا ہوا ہے جس طرح نور زمین شب گزشتہ اور شب آئندہ کی دو ظلمتوں میں محصور ہے زمین پرنور کی یہ آمد ورفت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ یہ نور زمین کا ذاتی نہیں ہے بلکہ مستعار اور عطاء غیر ہے کیونکہ اگر یہ نور زمین کا ذاتی ہوتا تو کبھی زائل نہ ہوتا پس اس طرح موت وحیات کی کشمکش اور وجود وعدم کی آمد ورفت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ کائنات کا وجود ذاتی نہیں ہے، ورنہ عدم وزوال کو کبھی قبول نہ کرتا، بلکہ جس طرح زمین کی روشنی آفتاب کا فیض ہے اور پانی کی گرمی مثلا آگ کا فیضل ہے، اسی طرح ہمارا وجود بھی کسی ایسی ذات کا فیض اور عطیہ ہوگا کہ جس کا وجود اصلی اور خانہ زاد ہو اور وجود اس کی ذات کے لیے اس طرح لازم ہے جیسے آفتاب کے لیے نور اور آگ کے لیے حرارت اور چار کے عدد کے لیے زوجیت اور تین کے لئے فردیت لازم ہے یہ ناممکن ہے کہ آفتاب ہو اور نور نہ ہو آگ ہو اور حرارت نہ ہو اسی موجود اصلی ازلی اور دائمی کا نام اللہ تعالیٰ ” خدا “ اور ” واجب الوجود “ ہے یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کریم کی اس آیت نے بخوبی واضح کردیا۔ (آیت ) ” کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون “۔ (بقرہ ) کیسے تم اللہ تعالیٰ سے کفر کرتے ہو حالانکہ تم پہلے موجود نہ تھے، اسی خدا نے تم کو وجود وحیات عطا کی پھر وہی تم کو موت دیگا پھر تمہیں زندہ کریگا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ حکیم فرفوریوس کا مقالہ ہے کہ جو امور ہدایت عقل سے ثابت ہیں مجملہ ان کے ایک مسئلہ ثبوت صانع کا بھی ہے جتنے حق پسند حکماء گذرے ہیں، وہ سب اس مسئلہ کی ہدایت کے قائل تھے اور جو لوگ ثبوت صانع کی ہدایت کے قائل نہیں، وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان کا ذکر کیا جائے یا ان کو حکماء کے زمرہ میں شمار کیا جائے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد قرآن کریم میں فرماتے ہیں اگر قدرت کی طرف سے قلوب بنی آدم میں ابتداہی سے معرفت خدا ودی اور اس کی ربوبیت کی تخم ریزی نہ ہوتی اور انسانی حیات کا سب سے زیادہ اور انسانی حیات کا سب سے زیادہ اساسی اور جوہری عقدہ کا حل ناخن عقل وفکر کے سپرد کردیا جاتا تو یقیناً یہ مسئلہ بھی منطقی استدلال کی بھول بھلیاں میں پھنس کر صرف ایک نظری مسئلہ ہی بن کر رہ جاتاجس پر سب کا تو کیا اکثر آدمی بھی متفق نہ ہوسکتے، جیسا کہ تجربہ شاہد ہے کہ فکر و استدلال کی ہنگامہ آرائیاں اکثر اتفاق سے زیادہ اختلاف آراء پر منتج ہوا کرتی ہیں، اس لیے قدرت نے جہاں غوروفکر کی قوت اور نور وحی والہام کے قبول کرنے کی استعداد بنی آدم میں ودیعت فرمائی وہی اس اساسی وبنیادی عقیدہ کی تعلیم سے بھی فطرۃ بہرہ ور اور مانوس بنادیا، جس کے اجمال میں کل آسمانی ہدایات کی تفصیل لپٹی ہوئی تھی، اور جس کے بغیر مذہب کا کوئی ستون کھڑا نہیں رہ سکتا تھا، اسی ازلی اور خدائی تعلیم کا یہ اثر ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہر قرن اور گوشہ میں حق تعالیٰ کی ربوبیت پر کسی نہ کسی حدتک متفق رہی ہے اور جن معدودے افراد نے کسی عقلی اور روحانی بیماری کی وجہ سے عام فطری احساس کے خلاف آواز بلند کی وہ انجام کار دنیا کے سامنے بلکہ خود اپنی نظروں میں بھی ذلیل اور اسی طرح جھوٹے ثابت ہوئے جیسے بخار اور صفراء میں مبتلا مریض لذیذ وخوشگوار غذاؤں کو تلخ اور بدمزہ بتلانے میں جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ بہرحال ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک ہر طبقہ اور درجے کے انسانوں کا خدا تعالیٰ کی ربوبیت کبری پر عام اتفاق واجماع اس بات کی نہایت قوی اور واضح دلیل ہے کہ یہ عقیدہ افکار وعقول کی تگ ودو سے پہلے ہی خالق حقیقی کی طرف سے اولاد آدم کو بلاواسطہ تلقین فرمادیا گیا ہے، ورنہ فکر و استدلال کے راستہ سے ایسا اتفاق پیدا ہونا ممکن نہ تھا، قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے ان آیات میں انسانی فطرت میں رچے ہوئے اس عقیدہ پر روشنی ڈالی، یہ صحیح ہے کہ ہم کو یہ یاد نہیں کہ اس بنیادی عقیدہ کی تعلیم کب اور کہاں دی گئی۔ اور کس ماحول میں ہم اس عقیدہ سے مانوس ہوئے، لیکن جس کسی انشاء پرداز اور صاحب بیان انسان کو زمانہ طفولیت میں طے ہونے والے ان تمام مراحل کا علم نہیں اور نہ ہی قوت حافظہ میں ان چیزوں کے نقوش مستحضر ہیں، تاہم وہ یقین کرتا ہے کہ ضرور کسی معلم نے اس کو ابتداء عمر میں یہ الفاظ بولنے سکھائے اور ان الفاظ کے لکھنے کی تربیت دی تب ہی تو یہ اس طرح رواں دواں بول رہا ہے اور لکھ رہا ہے، اسی طرح بنی نوع انسان کا عقیدۂ ربوبیت الہی پر متفق ہونا اس کی کھلی شہادت ہے کہ یہ چیز ابتداء فطرت اور خلقت میں ضرور کسی معلم کے ذریعے ان تک پہنچی ہے۔ 1 حاشیہ : (از تحقیقات شیخ الاسلام علامہ شیبر احمد عثمانی (رح) الغرض انسانی فطرت اور انسان میں ودیعت رکھے ہوئے عظیم ترین دلائل قدرت دلائل انفس ہیں، ان میں غور وفکر خود انسانی فطرت اور اس میں ودیعت رکھے ہوئے کمالات ہی میں غور وفکر کرنا ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں امام رازی کی تفسیر علامہ حسین جسر طرابلسی کا رسالہ حمیدیہ فی حقیقۃ الدیانۃ الاسلامیہ وحقیقۃ الشریعۃ المحمدیہ۔ (منازل العرفان فی علوم القرآں تالیف ناچیز محمد مالک کاندھلوی ) خالق حقیقی کی حقیقت اور قدرت پر استدلال کے لیے دلایل کی دوسری قسم دلائل آفاق ہیں۔ دلائل آفاق سے مراد کائنات عالم آسمان و زمین اور ان کے درمیان جملہ موجودات و مخلوقات چاند سورج ستارے بحر وبر اور ان کے تہوں میں مستور ومخفی عجائب ہیں ان مخلوقات اور ان کے عجائب احوال جو عقول انسانی کو حیرت میں ڈالنے والے ہیں ان سے استدلال کرنا، یہ دلائل آفاق سے استدلال کی دوسری نوع ہے، دنیا کا بڑے سے بڑا فیلسوف اور طبیعات کا ماہر بھی ان احوال کا مشاہدہ کرکے ان کو مادی اسباب وعلل پر محمول کرنے سے عاجز ہے، ان موجودات کے مشاہدہ اور ان میں پیدا ہونے والے تغیرات سے خالق حقیقی پر ایمان لانا ہر عاقل کے لیے عقل کا قطعی فیصلہ معلوم ہوتا ہے اس موضوع پر بھی قرآن کریم نے بڑے بسط و تفصیل سے کلام کیا، اور خلق سموت وارض کے دلائل سینکڑوں آیات میں ذکر فرمادئیے۔ تفصیل کے لیے کتاب منازل العرفان فی علوم القرآن ملاحظہ فرمائیں۔ (آیت ) ” واذا انعمنا علی الانسان “۔ میں ایسے نافرمان انسان کی کمینہ فطرت کا ذکر فرمایا گیا جو اپنے منعم کو پہچاننے کی بجائے اس سے بےرخی اختیار کرے گا اور یبگانہ بن جائے، حالانکہ انعام کا تقاضا ہے کہ منعم سے تعلق ہو، منعم کی فرمانبرداری کرے اور منعم کی ناراضگی کا خوف ہو، اور انعام کے جو آثار حیوان پر بھی ظاہر ہوتے ہیں جو انسانی شعور اور احساس سے عاری ہوتا ہے، انسان اگر ایسی روش اختیار کرے تو بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے انسان نے اپنادرجہ جانوروں سے بھی زیادہ نیچا کرلیا، اور لفظ (آیت ) ” فذودعآء عریض “۔ سے وہ دعا مراد نہیں جو تضرع وزاری اور انابت الی اللہ کی صورت میں ہو بلکہ یہ دعا اس کا جزع وفزع اور اللہ کی شکایت کرنا، بےصبری کے ساتھ رب العا لمین کی بارگاہ میں شکوہ کرنے لگے تو جو شخص امن وعیش میں کفر اور کفران اور تکلیف میں بےصبری اختیار کرے، اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی انسان ذلیل وکمینہ ہوسکتا ہے، حق تعالیٰ نے ان کلمات میں ایسی مذموم خصلت سے بچنے کی تلقین فرمائی ، اللھم ووقنا لما تحب وترضی من القول والعمل واھدنا الی سواء الصراط، امین امین یا رب العلمین ، تم بحمد اللہ تفسیر سورة حم ٓ السجدۃ یوم الاثنین 23 ربیع الاول 1401 ھج