Ayahs 41:33–38فضیلت دعوت الی اللہ وبیان صبر و استقامت وحلم و درگذر درراہ حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ ....... الی ....... وھم لا یسئمون “۔
(ربط) گذشہ آیات میں اہل ایمان اور ایمان پر استقامت والوں کا اللہ کے یہاں کیا عظیم مقام و مرتبہ ہے بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی فضیلت بیان کی جارہی اور یہ کہ عقل و فطرت کے اس قانون کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ہے، اور دعوت الی اللہ اور اشاعت حق میں انسان کو بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ اور شدائد پر صبر کی ضرورت ہے، یہ چیز کمال کی نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص برا طرز عمل اختیار کرے تو اس کے میں وہی طرز اختیار کیا جائے اس طرز عمل سے برائی کا خاتمہ نہیں ہوتا، بلکہ اور زائد پھیلتی ہے اگر برائی کو مٹانا مقصود ہو تو اس کا بس یہی ایک طریقہ ہے کہ ملاطفت اور نرمی سے اس کو دور کیا جاسکتا ہے یہی صورت کامیابی اور ترقی کی ہوسکتی ہے، اور اس راہ میں جہاں خارجی رکاوٹیں پیش آتی ہیں، ساتھ ہی خود انسان کے قلب و دماغ پر بسا اوقات ایسے خطرات وخیالات وارد ہوتے ہیں کہ قریب ہوتا ہے کہ راہ حق سے اس کے قدم ڈگمگاجائیں تو خارجی رکاوٹوں کے ساتھ یہ داخلی رکاوٹیں بھی پیش آیا کرتی ہیں تو وساوس شیطانیہ سے بچاؤ صرف اللہ رب العزت کی پناہ و حفاظت سے ہوتا ہے تو دعوت الی اللہ کی بلند منزلوں کو طے کرنے میں اللہ ہی کی پناہ مانگنی چاہئے، تو فرمایا، اور اس سے بہتر کون شخص ہوسکتا ہے، اپنے قول و دعوت کے لحاظ سے جو لوگوں کو خدا کی طرف بلائے، اور خود نیکی کا کام کرتا رہے، اور اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر یہ اعلان کرتا رہے کہ میں تو (اللہ کے) فرمانبرداروں میں سے ہوں، مشرکین ومنکرین کے ایسے ماحول میں جو اللہ کے دین کو حقیر سمجھتے ہوں، ان کے سامنے بجائے مرعوب ومحجوب ہونے کے فخر کے ساتھ کہے کہ (آیت ) ” اننی من المسلمین اپنے مذہب پر اس طرح کے فخر اور علان سے کافروں کے حوصلے پست ہوں گے اور اہل سعادت کو ایمان کی رغبت اور پختگی نصیب ہوگی، اور بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا فرض انجام دینے میں جہلاء کا مقابلہ اور معاندین کی طرف سے ایذاء رسانی کا معاملہ ہوتا ہے تو ایسی صورت پیش آنے پر ایک ضابطہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ برابر نہیں ہے نیکی، برائی اور بدی کے اور نہ بدی برابر ہے نیکی کے، ہر ایک کا حال اور اثر جدا ہوتا ہے، نیکی کا انجام فلاح و کامرانی ہوتا ہے اور بدی کا انجام ذلت وناکامی اس لیے دعوت الی اللہ میں مشغول انسان یقیناً کامیاب وسربلند ہوں گے۔ اور ان کے مقابلہ ومعارضہ کرنے والے معاند ذلیل وناکام ہوں گے، اے مخاطب بس تو اپنا دوستور العمل یہ بنا لے کہ مدافعت کرتا رہ برائی کا ایسے طریقہ سے جو نہایت ہی خوبی کا ہو تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ تو دیکھ لے گا کہ تیرے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہے وہ گویا۔ 1
حاشیہ (” کانہ “۔ یعنی گویا کہ وہ تیرا دوست وہمدرد ہے یہ عنوان اس لحاظ سے ہے کہ اگرچہ وہ دشمن جس کے ساتھ تم نیکی کا برتاؤ کرو گے حقیقتا دوست نہ بنے مگر بہرکیف اگر اس میں انسانی شرافت کا ادنی سا بھی اثر ہے تو وہ یقیناً معاملہ ایسا ہی کرنے لگے گا جیسا کہ دوست ہو۔ )
گویا کہ تیرا نہایت ہی مخلص وہمدرد وقریبی دوست اور رشتہ دار ہے، اور یہ بات نہیں حاصل ہوتی مگر صرف ان ہی لوگوں کو جو اپنے اخلاق وکردار سے صابر ومستقل مزاج ہوں اور نہیں نصیب ہوتی یہ خصلت مگر ان لوگوں کو جو بڑے ہی نصیب والے ہیں، یہ طرز عمل تو اس وقت ہے جب دعوت الی اللہ اور راہ حق میں رکاوٹیں خارج سے پیش آئیں، اور اگر خود تیرے قلب و دماغ میں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو کر تجھ کو ڈگمگائے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کر، بیشک وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے، وہ پروردگار تیرے عمل واخلاص کو دیکھنے اور تیرے قول کو سننے کی وجہ سے تجھ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، نہ خارجی عداوتیں تجھے نقصان پہنچا سکیں گی اور نہ تیرے نفس کی داخلی رکاوٹ اور وسوسے تجھے ناکام بنا سکیں گے، اور اللہ کی نشانیوں سے تورات اور دن ہے اور سورج و چاند ہیں، جو اپنے انقلاب وتبدیلی سے ہر مشاہدہ کرنے والے انسان کو یہ سمجھاتے ہیں کہ دنیا میں کوئی حالت ایسی نہیں کہ جو تبدیل نہ ہو، رات کی تاریکی کے بعد دن کی روشنی نمودار ہو کر زبان حال سے یہ بتاتی رہتی ہے کہ کسی بھی مغلوب و عاجز یا پریشان ومغموم شخص کو جو آلام و انکار کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا مایوس نہ ہونا چاہئے، اس کے انکار وپریشانیوں کی تاریکیاں عنقریب کامیابی اور غلبہ کی صبح صادق کے نور سے مٹ جائیں گی، قدرت خداوندی کے ان کرشموں کو دیکھ کر اے لوگوکارخانہ عالم کے پیدا کرنے والے اور چلانے والے رب کو پہچانو، ہرگز پرستش نہ کرو، سورج کی اور نہ چاند کی اور صرف اسی خدا کے لیے سجدہ کرو جس نے سورج و چاند کو پیدا کیا ہے، اگر تم کو اسی خدا کی عبادت کرنا ہے کیونکہ خدا کی خالقیت کے اقرار کے ساتھ کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک کرنا درحقیقت اس کی عبادت ہی سے انکار ہے۔ لہذا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کی عبادت وپرستش کرتے ہوئے یہ دعوی کریں کہ ہم تو اسی خدا کی عبادت کرتے ہیں۔
بہرحال یہ حقائق ہیں جن کا تسلیم کرنا ہر صاحب عقل پر ضروری ہے، پھر بھی اگر یہ لوگ اللہ کی عبادت و توحید سے تکبر کریں اور اپنے آبائی دین کو چھوڑنے میں یہ سمجھیں کہ ہماری ذلت ہوگی تو پھر ایسے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اے ہمارے پیغمبر جو فرشتے آپ کے رب کے نزدیک ہیں اور بارگارہ خداوندی کے مقرب ہیں وہ تو تسبیح و پاکی، بیان کرتے رہتے ہیں، اسی رب کے لیے رات اور دن اور وہ اس سے تھکتے نہیں ہیں تو جس خدا کی عظمت و برتری کا یہ مقام ہے کہ ملائکہ مقربین شب وروز اس کی حمد وثنا اور تسبیح میں مصروف ہیں اس کو کسی کی عبادت کی حاجت نہیں۔ او نہ اس کو کسی شب وروز اس کی حمد ثنا اور تسبیح میں مصروف ہیں اس کو کسی کی عبادت کی حاجت نہیں، اور نہ اس کو کسی کی نافرمانی سے کچھ نقصان پہنچ سکتا ہے، وہ پروردگار عالم تو تمام جہانوں سے مستغنی وبے نیاز ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے کہ اگر اولین وآخرین زندہ و مردہ جن وانس جاندار وبے جان چیزیں سب کی سب سراپا تقوی ہوجائیں تو خدا کی خدائی میں مچھر کے پر کے برابر اضافہ نہیں کرسکتے اور اگر یہ سب خدا کی نافرمانی اور شقاوت کا پیکر بن جائیں تو خدا کی ملک میں مچھر کے پر کے برابر کمی نہیں کرسکتے۔
دعوت الی اللہ کے آداب اور صبروتحمل کے بہترین ثمرات :
حکیم الامۃ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس اللہ سرۂ نے اپنے ایک وعظ دعوت الی اللہ میں ان آیات کی تفسیر وتشریح میں عجیب لطائف ونکات بیان فرمائے، یہ پورا مضمون حضرت اقدس ہی کی عبارت کے ساتھ ہدیہ قارئین ہے۔
فرماتے ہیں ان آیات میں حق تعالیٰ نے ایک خاص عمل کی فضیلت مع اس کے مکملات اور آداب کے ارشاد فرمائی ہے، وہ خاص عمل دعوت الی اللہ یعنی حق تعالیٰ کی طرف بلانا یعنی اس کے دین کی طرف بلانا یہ تو مقصود ہے اور دو اس کے مکمل ہیں یعنی عمل صالح اور تواضع اور اعتراف فرمانبرداری ،
ترجمہ آیت :” کون شخص ہے زیادہ احسن ازروئے قول کے اس شخص سے جو خدا کی طرف بلاوے “ استفہام انکار ہے یعنی اس سے اچھا کسی کا قول نہیں جو اللہ کی طرف بلاوے، احسن سے معلوم ہوا کہ اچھی باتیں تو اور بھی ہیں مگر جتنی اچھی باتیں ہیں ان میں سب سے زیادہ اچھی بات ” دعوۃ الی اللہ “۔ ہے استفہام بقصد نفی ہے۔ سبحان اللہ ! کیا بلاغت ہے کہ پوچھتے ہیں کون ہے احسن از روئے قول کے “۔ اس میں مبالغہ زیادہ ہے کیونکہ عادت ہے کہ جس جگہ یہ تردد ہوتا ہے کہ کوئی خلاف جواب دے دے گا، وہاں پوچھا نہیں کرتے مثلا یوں کہتے ہیں کہ میاں فلاں تجارت سے اچھی کون سی تجارت ہے یہ وہاں کہتے ہیں کہ جہاں مخاطب کو متکلم کی رائے سے اختلاف نہ ہو اور جہاں یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید مخاطب خلاف جواب دے وہاں پوچھا نہیں کرتے بلکہ یوں بتلاتے ہیں کہ میاں اس سے اچھی کوئی تجارت نہیں اور جہاں یہ احتمال نہیں ہوتا بلکہ اعتماد ہوتا ہے کہ مخاطب بھی پوچھنے پر یہی جواب دے گا وہاں پوچھا کرتے ہیں کہ تم ہی بتاؤ کہ کونسی بات اچھی ہے کیونکہ ظاہر بات ہے بدیہی اور حسی بات کا کوئی انکار نہیں کرسکتا اسی طرح اس دعوۃ الی اللہ کی فضیلت اتنی صاف بدیہی اور محسوس تھی کہ صرف پوچھنا کافی ہوگیا، گویا کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اس سے اچھی فلاں بات ہے تو استفہام میں تو یہ بلاغت ہے۔
(آیت ) ” احسن قولا “۔ کی تحقیق :
سو یہ افعل التفضیل کا صیغہ ہے یعنی کس کی گفتگو سب سے اچھی ہے، وجہ اس ترجمہ کی ظاہر ہے کیونکہ احسن باعتبار قصد کے صفت ہے قولا کی اوراقوال ہی کے اعتبار سے اس کی تفضیل بھی ہے اور چونکہ مفضل جنس مفضل علیہ ہی سے ہوتا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ سب قولوں سے اچھا اس شخص کا یہ قول ہے اور یہاں تک تو کوئی اشکال نہ تھا مگر آگے ارشاد ہے، (آیت ) ” وعمل صالحا “۔ اور عمل صالح بھی کرے اس جملہ کو اس کے معطوف علیہ کے ساتھ ملانے سے حاصل یہ ہوا کہ سب سے اچھی بات اس شخص کی ہے جو دعوت الی اللہ کرے اور نیک کام کرے، اس میں اشکال یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کو تو احسنیہ قولا، میں داخل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ خود قول ہے اور سب سے احسن مگر عمل صالح کا اس میں کیا دخل ؟ کیونکہ وہ فعل ہے قول نہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ وہ قول نہیں، مگر آداب ومکملات قول سے ہے اس لیے یہ بھی قول کے احسن ہونے میں دخیل ہے تو حاصل یہ ہوا کہ صاحب قول احسن وہ ہے جو دعوت الی اللہ بھی کرے اور اس کے ساتھ ہی خود عمل بھی کرے، یعنی جو کچھ کہے اس کے موافق عمل بھی کرے تب وہ صاحب قول احسن ہے اس پر یہ سوال پیدا ہوگا کہ کوئی بہت اچھی بات کرے اور عمل اچھا نہ کرے تو قول تو اچھا ہے مگر عمل اچھا نہیں ہے مثلا اگر کوئی دعوت الی الاسلام کرے اور خود مسلمان نہ ہو دعوت الی الصلوۃ کرے اور خود نمازی نہ ہو اسلام کے اوصاف بیان کرے، اور خود ان پر عقیدہ نہ رکھے تو اس پر (آیت ) ” من احسن قولا “۔ تو صادق آتا ہے کیونکہ اس کے معنی میں قولہ احسن ہیں، یعنی جس کی بات بہت اچھی ہو وہ احسن قولا ہے جب یہ بات سمجھ میں آگئی تو اس اگر کوئی خود عمل نہ کرے تو اس کے قول کے احسن ہونے میں کیا خلل رہا اگر اس نے خود نماز نہ پڑھی تو اس کا یہ قول احسن ہے زائد سے زائد یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمل احسن نہیں تو اس سے قول کے احسن ہونے کیا خلل پڑا، اس کا جواب بنص قرآن بجز اس کے کچھ نہیں ہوسکتا کہ قول کے اچھے ہونے میں عمل کے اچھے ہونے کو بھی دخل ہے اور اس بنا پر اس آیت سے ایک مسئلہ بھی مستنبط ہوا کہ داعی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک صاحب عمل صالح اور ایک غیر صاحب عمل صالح اول کا قول یا دعوۃ احسن ہے یا دعوۃ غیر احسن ہے۔ الدعوۃ الی اللہ ص 12 تا 13 الغرض احسنیتہ جب ہوگی کہ جہاں وعظ کی ساتھ عمل بھی ہوگا، اور جہاں نرا وعظ ہوگا اور عمل نہ ہوگا وہ بیان احسن نہ ہوگا، کیونکہ افعل التفضیل کی نفی سے مجرد صفت کی نفی لازم آتی ہے اور چونکہ بسا اوقات وعظ اور عمل صالح کے ساتھ ہی اس میں کبر اور عجب بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ میں بڑا صاحب کمال ہوں اس لیے آگے اس کے علاط کے لیے تواضح کی تعلیم فرماتے ہیں، (آیت ) ” وقال اننی من المسلمین “۔ یعنی یہ بھی کہے کہ میں تو اس کے فرمانبرداروں میں سے ہوں کہ ” من نیز از غلامان ادیم “۔ کے حکم پر چلتا ہوں اور اننی من مسلم نہیں فرمایا کہ جس سے تفرد کا شبہ ہوتا اس لیے (آیت ) ” اننی من المسلمین “۔ فرمایا تاکہ اس طرف اشارہ ہوجائے کہ غلام اور فرمانبردار بہت ہیں ان میں سے ایک میں بھی ہوں ایک غلام نے اگر فرمانبرداری نہ کی تو اپنا ہی کچھ کھویا، جاننا چاہئے کہ (آیت ) ” اننی من المسلمین “۔ کے دو معنی ہوسکتے تھے، ایک دعوی وفخر اور ایک تواضع مگر یہاں تواضع مراد ہے اور اس کی تائید کہ ایک ہی لفظ دو معنوں میں مستعمل ہوسکتا ہے خود قرآن مجید کے دوسرے موقع سے بھی ہوتی ہے چناچہ ایک جگہ مقبولین کی مدح میں ان کا مقولہ ارشاد ہے۔ (آیت ) ” ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنوا بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیئاتنا “۔ یعنی اے اللہ ہم نے ایک منادی کو سنا کہ وہ ایمان کے لیے ندا دیتا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ فامنا پس ہم ایمان لائے، اے پروردگار بس بخش دیجئے ہمارے گناہ اور دور کردیجئے ہماری برائیاں دیکھئے یہاں (آیت ) ” امنا “۔ تواضع انکسار وافتقار کے لیے ہے جس کو ذوق سلیم اور سیاق وسباق صاف بتلا رہا ہے، اب دوسری آیت لیجئے جو اسی لفظ کو کبر وعجب کے طور پر استعمال کرنے پر دال ہے۔ (آیت ) ” قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا “۔ الایۃ یہاں بھی وہی آمنا ہے مگر یہاں اس کو رد کیا گیا ہے جس کا سبب وہی ہے کہ دعوی اور فخر سے کہتے تھے چناچہ بعد والی آیت اس پر صریح دال ہے، چناچہ ارشاد ہے (آیت ) ” یمنون علیک ان اسلموا قل لاتمنوا علی اسلامکم باللہ یمن علیکم ان ھداکم للایمان ان کنتم صادقین “۔ یعنی وہ لوگ آپ ﷺ پر احسان رکھتے ہیں اپنے اسلام لانے کا، فرمادیجئے کہ احسان نہ رکھو مجھ پر اپنے اسلام کا بلکہ خدا کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی بشرطیکہ تم اس قول میں سچے ہو، غرض یہاں ان کا امنا کہنا دعوی اور فخر کے طور پر تھا۔ اس کے جواب سے صاف طور پر معلوم ہوگیا کہ واقعی خدا کا احسان ہے جو اس نے ہمیں نیک کام کی ہدایت کردی، اسی طرح یہاں بھی فرما دیا۔ (آیت ) ” قال اننی من المسلمین “۔ تو ایک تکمیل دعوت الی اللہ کی یہ ہوئی تو اب کل تین چیزیں ہوئیں، ایک مقصود یعنی دعوت الی اللہ اور دو اس کے مکمل یعنی عمل صالح اور تواضع وافتقار واعتراف وفرمانبرداری۔ (الدعوت الی اللہ، 29۔ ، 30) (آیت ) ” وقال اننی من المسلمین “۔ کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ فخر اور لذت کے طور پر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہو نہ یہ کہ اس کو اپنے اس عنوان اور انتساب کے اظہار میں کوئی جھجھک یا شرم معلوم ہوا اور یہ شرم نہ تو قولااعلان اسلام میں اور نہ ہی اپنے عمل سے اپنے اسلام کے اظہار میں ہو، الحاصل داعی میں دعوت کے ساتھ عمل صالح اور ساتھ تواضع اور انکسار اور اعتراف فرمانبرداری بھی ضروری ہے اپنی دعوت اور خدمت پر فخر نہ کرے اس لیے کہ سب کام خدا کی توفیق سے ہوتا ہے اس لیے اپنے اوپر نظر نہ کرنی چاہئے، اب آگے بقیہ آیات کا ترجمہ اور تفسیر بیان کیے دیتا ہوں۔
(آیت ) ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیءۃ “۔ یعنی اچھائی اور برائی برابر نہیں یہاں سوال ہوتا ہے، کہ اوپر تو دعوت الی اللہ کا ذکر تھا یہاں یہ بیان ہے کہ نیکی بدی برابر نہیں ہے آخر اس جملہ کو سیاق وسباق سے کیا مناسبت ہے، آگے ارشاد ہے (آیت ) ” ادفع بالتیھی احسن “۔ یعنی مدافعت کیجئے اس طریقہ سے جو اچھا ہو یہ بھی بےجوڑ سا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اخلاق کی تعلیم ہورہی ہے جواب یہ ہے کہ اصل تعلق تو دعوت الی اللہ کے معمول سے (آیت ) ” ادفع بالتیھی احسن “ کا ہے اس طرح سے کہ جو شخص دعوت کے لیے کھڑا ہوتا ہے عموما اس کی مخالفت ہوتی ہے لوگ برا بھلا کہتے ہیں، ممکن ہے کہ اس وقت اس میں ہیجان پیدا ہو اور یہ بھی بدی کے بدلہ بدی کربیٹھے اس لیے ایسے واقعات کے پیش آنے سے پہلے ہی سے تعلیم فرماتے ہیں کہ اخلاق درست کرو اپنے میں ضبط وصبر پیدا کرو یہ معنی ہوئے، (آیت ) ” ادفع بالتیھی احسن “ کے یعنی ” ادفع السیءۃ بالحسنۃ ‘۔ کہ کوئی برائی کرے تو اسے نیکی کرکے دفع کردو پس اصل تعلق تو جملہ (آیت ) ” ادفع “۔ کا ہے باقی (آیت ) ” لا تستوی الحسنۃ “۔ الخ، یہ اس کی تمہید ہے یعنی بتلانا تو مقصود ہے (آیت ) ” ادفع بالتی الخ “۔ کا مگر تمہید میں پہلے ایک قاعدہ کلیہ بتاتے ہیں کہ دیکھو نیکی اور بدی اثر میں برابر نہیں ہوتی یعنی اگر برائی کا انتقام برائی سے لے لیا تو اس کا اثر اور ہوگا اور اگر ٹال دیا تو اس اس کا اثر اور ہوگا اور وہ اثر یہ ہوگا کہ (آیت ) ” فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم “۔ جس شخص کے اور تمہارے درمیان میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسے گاڑھا دوست، مطلب یہ کہ دعوت الی اللہ کے لیے اس کی بھی ضرورت ہے کہ مخالفین بھڑکیں نہیں، کیونکہ اگر بھڑکے گا تو اس کا شر اور بڑھے گا پہلے چھپی عداوت کرتا تھا تو اب کھلی ہوئی کرے گا، تو اس عداوت سے اور شر سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ٹال دو اور انتقام لینے کی فکر نہ کرو، تو دشمن دوست بن جائے گا، اور پھر وہ اگر تمہیں مدد بھی نہ دے گا تو تمہاری کوششوں کو روکے گا بھی نہیں، اور دعوت الی اللہ کا کام مکمل ہوجائے گا، یہاں اس کے متعلق ایک شبہ ہے کہ ہم بعض جگہ دیکھتے ہیں کہ باوجود اس رعایت کے بھی وہ دوست نہیں بنتا بلکہ وہ اپنے شر و فساد میں اسی طرح سرگرم رہتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بقاعدۂ عقلیہ ایک شرط ملحوظ ہے وہ یہ کہ بشرط سلامۃ الطبع کہ وہ شر سے اس وقت باز رہے گا جبکہ سلیم الطبع ہو اور اگر سلامت طبع کی قید نہ ہو تو اس وقت یہ جواب ہے کہ ولی حمیم نہیں فرمایا بلکہ (آیت) ” کانہ ولی حمیم “۔ فرمایا تشبیہ کا حاصل یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ شرہی میں کمی رہے گی اور اگر تم انتقام لو گے تو گو اس وقت وہ عدم قدرت کی وجہ سے خاموش ہوجائے مگر درپردہ کینہ مضمر رکھے گا اور حتی الامکان لوگوں سے تمہارے خلاف سازش کرے گا جس کو غلطی سے آدمی کبھی یوں سمجھ جاتا ہے کہ انتقام اصلح ہوا، تو ایک ادب یہ بتایا تبلیغ کا کہ صبر وضبط سے کام لیا جائے اور جو ناگوار امور مخالفین کی طرف سے پیش آویں انہیں برداشت کیا جائے اور یہ مدافعت سیءۃ بالحسنۃ چونکہ کام تھا نہایت مشکل اس لیے اس کی ترغیب کے لیے فرماتے ہیں (آیت ) ” وما یلقاھا الا لذین صبروا “۔ اور یہ بات انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہے تو اس مدافعت کی ترغیب دو وجہ سے دلائی گئی ہے ایک باعتبار اخلاق کے کہ ایسا کرنے سے صابرین میں شمار ہوگا اور ایک باعتبار اجروثواب کے ایسا کرو گے تو اجر عظیم کے مستحق ہوجاؤ گے اب اس میں ایک مانع بھی تھا۔ یعنی دشمن شیطان جو ہر وقت لگا ہوا ہے اس کا بھی علاط بتاتے ہیں، (آیت ) ” اما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ “۔ اگر آپ کو شیطان کی طرف سے وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے یعنی بعض اوقات مخالفین کی باتوں پر شیاطین غصہ دلاتے ہیں اور اس وقت صبر کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہے تو ایسے وقت کے لیے فرماتے ہیں (آیت ) ” فاستعذ باللہ “۔ خدا کی پناہ میں چلے جاؤ یہ مطلب نہیں کہ صرف زبان سے (آیت ) ” اعوذ باللہ “۔ پڑھ لیا کرو، مطلب یہ ہے کہ خدا سے دل سے دعا کرو کہ وہ شیطان کے وسوسے کو دور کردے، اور صبر پر استقامت دے، (آیت ) ” انہ ھو السمیع العلیم “۔ بلاشبہ وہ سننے والا خوب جاننے والا ہے یعنی وہ تمہاری زبان سے پناہ مانگنے کو بھی سنیں گے اور دل سے پناہ مانگنے کو بھی جانیں گے اور پھر تم کو پناہ دیں گے اور مدد کریں گے اور شیطان کو دفع کردیں گے ان آیات میں حق تعالیٰ نے پورے پورے آداب اور مکملات دعوت الی اللہ کے اور اس کے طریقے سب بتلا دیئے انتہی کلامہ، اس مضمون کی افادیت کے پیش نظر تبرکا اور تلذذا یہ تمام کلمات وعظ الدعوت الی اللہ از ص۔۔ 46 تا ص۔۔۔ 48 سے نقل کیے گئے ہیں حضرات قارئین اصل کی مراجعت فرمالیں۔
Ayahs 41:39–46بیان دلائل وقدرت وتنبیہ وتہدید برائے ملحدین درآیات و احکام خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض ...... الی ...... بظلام للعبید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دعوت الی اللہ کے مضمون کے ضمن میں معاندین کے مقابلہ اور ان کی رکاوٹوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ذکر فرما رہے ہیں جن کو تصور کرکے داعی الی اللہ کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ طبعی طور سے یہ ممکن ہے کہ داعی الی اللہ مخاطبین کی بےبسی غفلت عناد اور بغاوت کا رنگ دیکھ کر مایوس ہوجائے تو اس کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھنی چاہئے کہ زمین بجز ہوچکنے کے بعد بسا اوقات سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے سبزہ اور پھلواریاں اس میں لہلہانے لگتی ہیں تو اس طرح یہ بہت ممکن ہے جو مخاطبین آج تک وعظ ونصیحت کا اثر نہیں قبول کررہے ہیں، وہ کسی بھی وقت وحی الہی جو قلوب کے لیے حیات وشادابی کا سامان ہے سے اپنے قلوب کو شاداب بنالیں گے، اس وجہ سے مایوس نہ ہونا چاہئے، اسی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ایسے مجرمین جو اللہ کے دین میں تحریف کرتے ہیں، وہ خدا سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، اور اس سلسلے میں جو کچھ بھی ذہنی کوفت اور اذیت آپ ﷺ کو پہنچے اس پر صبر کیجئے، یہ بات آج کوئی نئی بات نہیں، انبیاء سابقین کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوتا رہا ہے ایسے مجرمین کا جرم بیشک اس امر کا موجب ہے کہ وہ جلد ہی حق تعالیٰ کے عذاب اور قہر سے ہلاک کردیئے جائیں لیکن خدا کا یہ قانون طے ہوچکا ہے کہ ان کو مہلت دی جائے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ اللہ کا دین وہ سچا دین ہے کہ مخالفین کی عداوت سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، تو ارشاد فرمایا۔
اور اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے یہ بھی ایک عظیم نشانی ہے کہ اے مخاطب تو دیکھتا ہے زمین کو کہ دبی دبائی پڑی ہے، پھر جب ہم نے اس پر پانی برسایا تو لہلہانے لگی، ابھرنے اور پھلنے پھولنے لگی، بیشک جس پروردگار نے اس خشک وبجر زمین کو زندہ کیا، یقیناً وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے، تو اسی طرح قیامت میں مردوں کو زندہ کرے گا اور قدرت کاملہ سے وہ دنیا میں بھی مردہ قلوب کو حیات بخش کر ان کو ایمان ومعرفت اور تقوی وطاعت کی شادابی سے سرسبزوشاداب بنا سکتا ہے حق تعالیٰ شانہ کے یہ دلائل قدرت یقیناً ایسے واضح ہیں کہ ان کو سن کر ہر ایک شخص کو چاہئے کہ اس کی طاعت و بندگی کے لیے سرنگوں ہوجائے لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ پھر بھی بہت سے لوگ اللہ کی آیات میں کج روی اختیاری کرتے ہیں، سو ایسے ملحدین کو سن لینا چاہئے کہ بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی اختیاری کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، ہم ان کو خوب دیکھ رہے ہیں، اور ان کو سزا دینے پر بھی ہم قادر ہیں تو بھلا یہ بتاؤ جو شخص آگ میں ڈالا جائے جیسا کہ ان مکذبین ومجرمین کو ڈالا جائے گا وہ اچھا ہے یا وہ شخص جو قیامت کے روز نہایت ہی امن و سکون کی حالت میں آئے، یہ ہے قانون خدا وندی اور اس کا فیصلہ لہذا کرلو جو جی چاہے، بیشک جو کچھ تم کررہے ہو وہ خوب دیکھ رہا ہے کہ ایسے مجرمین کس طرح اللہ کی باتوں اس کی نشانیوں اور احکام میں کج روی اختیاری کرتے ہیں، اور آیات اللہ کا مطلب اپنی خواہشات کے مطابق گھڑ لیتے ہیں تو بلاشبہ ایسے سرکش وباغی اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتے، وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے جہاں ان کا بہت برا حشر ہوگا اور ظاہر ہے کہ ایسا شخص اور وہ سلیم الفطرت انسان جو اپنی سلامتی اور فطرت سے اللہ کے پیغام نصیحت کا انکار کیا جب کہ ان کے پاس وہ پہنچ چکا، وہ درحقیقت اپنی کج روی، عناد اور حق کے ساتھ بغاوت ہی کی وجہ سے انکار و روگردانی کرتے ہیں، خود پیغام خداوندی میں کسی طرح کی بھی کئی کمی نہیں وہ تو یقیناً ایک بہت ہی باوقعت بلند پایہ کتاب ہے کہ ہرگز نہیں آسکتا ہے کوئی باطل اس تک نہ اس کے سامنے سے اور نہ اس کے پیچھے سے یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس پروردگار کی طرف سے جو بڑی حکمتوں والا نہایت پسندیدہ قابل تعریف ہے، اپنی ذات وصفات کے لحاظ سے ایسی بلند پایہ حکمتوں سے لبریز کتاب پر بھی اگر یہ بدنصیب ایمان نہ لائیں تو اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ اس پر غم نہ کیجئے اور نہ مایوس ہوں ان منکرین کی طرف سے نہی کہی جارہی ہیں یہ باتیں آپ ﷺ کو مگر وہی جو آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کو کہی گئیں تو جس طرح انہوں نے ان باتوں کو برداشت کیا آپ ﷺ بھی برداشت کریں اور اس امر سے بھی تسلی حاصل کیجئے کہ بیشک آپ ﷺ کا رب بڑی مغفرت فرمانے والا ہے، اگر کوئی شخص بغاوت وسرکشی سے باز آجائے اور بہت ہی درد ناک سزا والا ہے۔
حاشیہ (سعید بن المسیب (رح) سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر اللہ کی مغفرت اور درگذر نہ ہوتا کسی کی زندگی خوشگوار نہ رہتی، اور اگر اس کی وعید و عقاب نہ ہوتا تو ہر شخص بےخوف ہوجاتا۔ )
اگر کوئی باز نہ آئے تو آپ ﷺ کو پریشان وغمگین نہ ہونا چاہئے مطیعین وفرمانبرداروں کے واسطے رحمت ومغفرت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور مجرمین، نافرمانوں کے واسطے سزا اور عذاب کی کوئی کمی نہیں۔ اور رہی یہ بات ان معترضین و مخالفین کی کہ قرآن کا کچھ حصہ عجمی زبان میں کیوں نہیں نازل کیا گیا تو اگر ہم اس قرآن کو عجمی بناتے اور اس کے کچھ حصے یا کل کو عجمی زبان میں نازل کرتے تو پھر یہ لوگ یوں کہتے کیوں نہیں صاف صاف بیان کی گئیں اس کی آیتیں، ہم تو عربی ہیں، اب عجمی زبان کیونکر سمجھیں اور یوں کہتے کیا عجیب بات ہے یہ قرآن عجمی ہے۔ اور رسول عربی ہے آپ کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر ﷺ یہ قرآن تو یقین کرنے والوں کے واسطے دلوں میں پیدا ہوجائیں جو لوگ اس کے باوجود بھی اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے ہیں تو درحقیقت ان کے کانوں میں ڈات ہے جس کی وجہ سے کوئی نصیحت و حکمت کی بات سننے ہی پر قادر نہیں اور وہ ان کے تدبر اور توجہ نہ ہونے کی وجہ سے چھپا ہوا ہے، عناد وتعصب نے ان کی آنکھیں چندھیا دی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں قرآنی حقائق اور معارف نظر نہیں آرہے ہیں جس طرح آفتاب کی روشنی خفاش کی آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے، تو یہ لوگ گویا پکارے جارہے ہیں کسی دور جگہ سے کہ آواز اگر سنائی بھی دے تو سمجھ میں نہیں آسکتا کہ کیا کہا جارہا ہے، بالکل اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے مضامین اس کے حقائق اور پیغام نصیحت سمجھنے سے قاصر و محروم ہیں اور یہ بات اور کفار مکہ کی روش کوئی نئی اور عجیب بات نہیں اللہ کے رسولوں کے ساتھ منکرین ہمیشہ سے ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں، چناچہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا، کسی نے مانا اور کسی نے نہیں مانا کسی نے کج روی اختیار کی اور کسی نے سلامتی طبع کا ثبوت دیا، تو آپ ﷺ کو ان کفار قریش کی ایسی روش پر مغموم نہ ہونا چاہئے، اور اگر ایک بات آپ ﷺ کے رب کی طرف سے طے نہ ہوچکی ہوتی اور وہ یہ کہ دنیا ان کو مہلت دینا ہے اور آخرت کا عذاب ان پر دائمی مسلط کیا جائے تو ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور عذاب سے ہلاک کردیئے جاتے اور لوگ تو بیشک اس عذاب کی طرف سے ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جو ان کو تردد میں ڈالنے والا ہے اللہ نے تو بس یہ قانون طے کردیا ہے کہ جو شخص نیک کام کرے تو وہ اسی کے فائدے کے لیے ہے اور جو کوئی شخص برا کام کرے اس کا وبال اسی پر ہے اور اے ہمارے پیغمبر ﷺ آپ کا پروردگار تو ذرہ برابر بھی بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے کہ وہ کسی کی نیکی اور طاعت کو ضائع کردے یا کسی کو بلاجرم اور معصیت کے عذاب میں ڈال دے۔ عدل و انصاف سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ ہوتا ہے جس کا وہ مستحق ہو۔
الحاد فی الدین اور تحریف :
(آیت ) ” ان الذین یلحدون فی ایتنا “۔ حق تعالیٰ شانہ نے ان آیات میں ملحدین پر بڑی ہی شدید وعید اور تنبیہ بیان فرمائی ہے، نافرمانی ہے، نافرمانی کے متعدد مراتب ہیں ایک درجہ کفر کا ہے کہ اللہ ہی پر ایمان نہ لائے، قیامت کا اور اللہ کے رسول ﷺ کا انکار کرے، ایک درجہ یہ ہے کہ ایمان لا کر احکام خداوندی کی تعمیل نہ کرے نہ فرائض ادا کرتا ہو اور نہ معاصی سے اجتناب کرتا ہو، ایک درجہ یہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو اپنی اغراض کے مطابق بنانے کے لیے اس کے کلام کو اصل مفہوم اور مقصد سے پھیر کر اپنے مقصد پر منطبق کرتا ہو تو اس تیسری نوع کی نافرمانی اور مخالفت کو الحاد کہتے ہیں۔
(آیت ) ” حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا ” الالحاد “۔ وضع الکلام علی غیر مواضعہ یعنی کلام کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا کر دوسرے کسی مقصد پر منطبق کرنا، اور اس کے مفہوم کو بدل دینا، اسی کو تحریف بھی کہا جاتا ہے۔
الفاظ کو برقرار رکھتے ہوئے مراد بدل دینا تحریف معنوی ہے، اسی کو نام بروایت ابن عباس ؓ تاویل فاسد بھی ہے، اہل کتاب اور یہود کے قرآن کریم نے منجملہ دیگر عیوب کے یہ بھی ایک عظیم عیب فرمایا ہے، (آیت ) ” یحرفون الکلم عن مواضعہ “۔ یہود تحریف لفظی کے ساتھ معنوی کے بھی مرتکب ہوتے تھے حق تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا کیونکہ خود ہی وعدہ فرما لیاجی سے کہ ارشاد ہے (آیت ) ” انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون “۔ آیت میں تو یہ امکان نہ رہا کہ قرآن کریم میں کوئی تحریف کرسکے، البتہ تحریف معنوی کرنیوالے ملحدین ہوسکتے تھے کہ قرآن کریم میں کوئی تحریف کرسکے، البتہ تحریف معنوی کرنیوالے ملحدین ہوسکتے تھے کہ قرآن کریم کے مضامین اور معانی میں تحریف کریں چناچہ ایسا ہوا اور محرفین وملحدین نے اس طرح کی تحریفات کا ارتکاب کیا تو ان پر بطور وعید فرمایا گیا کہ وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
منکرین حدیث اور زائفین بہت سی آیات و احکام میں یہی روش اختیار کرتے ہیں، مثلا اقامت الصلوۃ کا مفہوم محض اللہ کی یاد ایتاء زکوٰۃ سے مراد پاکی اور اخلاقی عظمتوں کا حصول وغیرہ وغیرہ، اسی چیز کو ائمہ مفسرین تفسیر بالرائے کہتے ہیں۔ شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے علامہ ابن النقیب (رح) کا ایک کلام نقل کیا ہے جس میں انہوں نے تفسیر بالرائے کی صورتوں کو واضح فرمایا ہے۔
جملۃ ما تحصل فی معنی حدیث التفسیر بالرائے خمسۃ اقوال احدھا التفسیر من غیر حصول العلوم التی تجوز معھا التفسیر، والثانی تفسیر المتشابہ الذی لایعلم الا اللہ الثالث التفسیر للمذھب الفاسد بان یجعل المذھب اصلا والتفسیر تابع فیرد الیہ بای طریق امکن وان کان ضعیفۃ الرابع التفسیر ان مراد اللہ کذا علی القطع من غیر دلیل۔ الخامس التفسیر بالاستحسان للھوی الخ۔
(کہ حدیث تفسیر بالرائے کی شرح میں مجموعی طور پر جو اقوال حاصل اور مفہوم ہوتے ہیں وہ پانچ ہیں ایک یہ کہ تفسیر بالرائے یہ ہے کہ انسان ان علوم کو حاصل کیے بغیر تفسیر قرآن کرے، جن کے حاصل کیے بغیر تفسیر کرنا جائز ہی نہیں ہے، اور دوسرے ان متشابہات کی تفسیر اور بحث اور تمحیص جن کی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، تیسرے یہ کہ مذہب فاسد اور باطل کی حمایت کے لیے تفسیر کرے، جس کی صورت یہ ہو کہ اپنے اس مسلک اور مذہب کو اصل قرار دے پھر آیت قرآن کی تفسیر کو اس مذہب اور مسلک کی طرف پھیرے اور اس پر منطبق کرے، جہاں تک بھی اس کو قدرت وامکان ہو اگرچہ ایسی تاویلات بعیدہ اختیار کرنے کیلئے سند ضعیف ہی کیوں نہ ہو، چوتھے یہ کہ بلاکسی ثبوت اور سند (اپنی رائے سے) یہ دعوی کرے کہ بس اللہ کی مراد یہی ہے پانچویں صورت یہ کہ اپنی پسندیدہ خواہشات کے مطابق تاویل کرے اور ان ہی کی طرف آیات قرآن کو پھیرے (اور ان پر منطبق کرے) ی
یہی وہ چیز ہے جس کو خداوند عالم نے قرآن کریم میں بھی واضح فرمادیا ہے۔
(آیت ) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفؤاد کل اولٓئک کان عنہ مسؤلا “۔ (سورۂ بنی اسرائیل )
(اور اے مخاطب مت درپے ہو تو اس چیز کے جس کا تجھے کوئی علم نہیں بیشک انسان کے کان اور نگاہ اور دل یہ سب کے سب قیامت کے روز باز پرس کیے جائیں گے۔
اور اسی طرح فرمایا گیا۔
(آیت ) ” ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر ثانی عطفیہ لیضل عن سبیل اللہ لہ فی الدنیا خزی ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق “۔ (سورۂ الحج )
(اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جدال وخصومت کرتے ہیں بغیر کسی علم اور ہدایت اور روشن کتاب کے، جھکائے ہوئے ہے اپنے بازو (تکبر و غرور سے) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کردے ایسے شخص کے لیے دنیا میں ذلت ورسوائی ہے اور قیامت میں ہم اس کو جلتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ، )
اللہ کے ساتھ اور اس کے بارے میں جدال وخصومت یہی ہے کہ اللہ کی طرف ایسے امور کی نسبت کرے جو اس کی منشاء اور اس کے دین کے خلاف ہیں اور جن کو وہ پسند نہیں فرماتا گویا یہ روشن نظری اور فکری اعتبار سے اللہ رب العزت سے مقابلہ اور خصومت کرتا ہے اور اللہ کے ساتھ خصومت وجدال کرنے والا انسان اپنا رخ حق سے پھیر کر باطل کی طرف مائل کرنے والا ہوتا ہے، تو بالکل اس کی یہی تصویر ہوتی ہے اپنے بازوپھیرے ہوئے غرور تکبر سے جس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکائے ایسے ہی ظالموں اور خواہشات نفسانیہ کو اپنا معبود بنالینے والوں کے لیے یہ وعید نازل ہوئی ہے۔
(آیت ) ” ومن اضل ممن اتبع ھواہ بغیر ھدی من اللہ ان اللہ لایھدی القوم الظلمین “۔ (اور اس شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی بغیر اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے اللہ ایسے ظالموں کی رہبری نہیں کرتا۔ )
علامہ نظام الدین نیشا پوری (رح) تفسیر غرائب القرآن میں فرماتے ہیں کہ یہ بات جان لینی چاہئے کہ دیانت اور تقوی کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں ہرگز ایسی کوئی تاویل اختیار نہ کی جائے جن سے ان حقائق کا ابطال ہوتا ہو جن کی تفسیر وتشریح اور تحقیق نبی کریم ﷺ ، حضرات صحابہ ؓ اور سلف صالحین نے کی جیسے معاد جسمانی، حشرونشر، جنت و جہنم، صراط، میزان اعمال، نعماء جنت، حور و قصور، انہار واشجار وغیرہ بلکہ لازم اور ضروری ہے کہ ان تمام چیزوں کو انہی کیفیات، اور احوال کے ساتھ مانا جائے جن احوال و کیفیات سے یہ چیزیں رسول اللہ ﷺ سے ثابت اور منقول ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ ان حقائق کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے بعض لطائف و اسرار اور رموز کی طرف اشارہ کردیا جائے جو ان ہی حقائق و رموز سے ماخوذ ومستنبط ہوں جن کو شارع (علیہ السلام) نے بیان فرمایا ہے اسی نوع کے جو رموز ولطائف حضرات عارفین اور صوفیاء کی تفاسیر میں منقول ہوئے ہیں، وہ محض ایک تمثیل و تشبیہ اور اشارہ کا درجہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عالم کائنات میں جو حقائق خارج اور نفس الامر (یعنی عالم صورت) میں پیدا فرمائی ہیں ان کی کوئی نہ کوئی مثال اور نظیر عالم معنی میں ہوتی ہے۔ (انتہی کلامہ )
بلکہ عالم معنی میں تو انسان کے اعمال وافعال کی بھی مثالی صورتیں ہوتی ہیں جس کا قرینہ وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا ہے، مرد صالح اور مومن کے سامنے اس کی قبر میں سوال و جواب کے بعد ایک حسین و جمیل شکل ظاہر ہوگی تو یہ شخص پوچھے گا تو کون ہے تیرا چہرہ تو خیر کی مخبر ہی کر رہا ہے وہ شکل جواب دے گی انا عملک الصالح۔ کہ میں توتیرا عمل صالح ہوں۔ اور فاجر و بدکار شخص کے سامنے ایک شکل ظاہر ہوگی جو نہایت ہی قبیح اور ہیبت ناک ہوگی جس کو دیکھ کر یہ کافروفاجر آمدی دریافت کرے گا تو جواب دیا جائے گا۔ انا عملک الخبیث۔ کے میں تیرا عمل خبیث ہوں، غرض قبر میں ظاہر ہونے والی یہ حسین و جمیل شکل اور قبیح ومصیبت ناک صورت اعمال کی صورتیں ہوں گی ،
بہرکیف تفسیر بالرائے کی ان پانچ صورتوں کی علاوہ ایک شکل یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے ایسے معنی بیان کرنا جس سے ان حقائق کا ابطال اور رد لازم آتا ہو، جن کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فریاما اور شریعت نے اس کو متعین کیا۔
یہ شکل بھی تفسیر بالرائے کے ساتھ ملحق ہے کہ کسی آیت کے کوئی ایسے جدید معنی اختراع اور ایجاد کیے جائیں جس کی طرف نہ تو آنحضرت ﷺ نے کوئی اشارہ فرمایا ہو اور نہ ہی صحابہ وسلف صالحین اور ائمہ متقدمین میں سے کسی کا ذہن اس عجیب و غریب معنی کی طرف متوجہ ہوا ہو تو یہ تفسیر وتشریح بھی اصول شریعت کے لحاظ سے الحاد اور تحریف ہے، اس لیے کہ یہ کیونکہ ممکن ہے کہ قرآن کے یہ معنی نہ آنحضرت ﷺ نے سمجھے اور نہ صحابہ اور ائمہ مفسرین نے جن کی زندگیاں ہی قرآن و حدیث کی خدمت میں گذریں کیا وہ سبھی اس مفہوم کو تہ سمجھ سکے، اور ناگہاں چودہ سو برس کے بعد یورپ کی یونیورسٹیوں سے تربیت پاکر آنے والوں پر یہ معنی اور عجیب و غریب حائق منکشف ہونے لگے اور یہ لوگ نہایت ہی بےباکی کے ساتھ پیغمبر خدا اور صحابہ وائمہ اور علماء اسلام کے مد مقابل ان کی تعلیمات کو مٹانے اور مسخ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، جن حقائق کو قرآن میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ثابت کیا ان کے لیے کبھی سائنس اور فلسفہ کا سہارا لے رہے ہیں کبھی ادیبانہ عبارتوں سے نہایت عیاری اور چالاکی سے عامۃ المسلین کے ذہنوں کو پراگندہ اور مرعوب کررہے ہیں،
بہرکیف تمام امت کا اس پر اجماع ہے اور شریعت کے اصول سے یہ بات طے شدہ ہے کہ صحابہ ؓ وتابعین اور ائمہ مفسرین کے نزدیک قرآن کریم اور آیت کلام اللہ کی جو تفسیر متفق علیہ ہے اس سے خروج اور عدول بلاشبہ ضلالت اور گمراہی ہے کچھ نئے تعلیم یافتہ لوگ ان جدت طرازیوں کو کمال سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کمال نہیں بلکہ یہ تو ضلال ہے۔
فقہاء اور متکلمین ایسے ملحد اور تفسیر بالرائے کرنے والے کو زندیق ہی کہتے ہیں اور زندیق کے معنی یہ بیان کیے گئے کہ جو شخص اسلام اور شریعت کے الفاظ بولتا ہو مگر مراد اسلام اور شریعت کے خلاف لیتا ہو تو ایسے شخص کو اصطلاح شریعت میں زندیق کہتے ہیں، خداوند عالم سب مسلمانوں کو قرآن کریم اسی طرح سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح کے اس کے رسول ﷺ نے سمجھا یا اور اس پر عمل کی توفیق سے ہمارے قلوب کا تزکیہ اور تطہیر کا تزکیہ فرمائے جس کے لیے آنحضرت ﷺ مبعوث فرمائے گئے، آمین یا رب العلمین۔
الحمد للہ چوبیسویں پارے کی تفسیر مکمل ہوئی۔
احاطہ علم خداوندی وبیان ذلت وناکامی مجرمین درروز قیامت مع تجھیل وتحمیق اہل ضلال :