Ayahs 40:10–17بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کریں، ارشاد فرمایا۔
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ان کو پکارا جائے گا، جب کہ ان کا فیصلہ ہوچکا ہوگا، اور دوزخ میں داخل ہونے کے بعد اپنے کفر وشرک پر حسرت وافسوس کررہے ہوں گے۔ حسرت وملال اور خود اپنے اوپر غصہ کا یہ عالم ہوگا کہ اپنی انگلیاں شدت حسرت کی وجہ سے چبا رہے ہوں گے تو اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا یقیناً اللہ کی نفرت بڑھ کر ہے تمہاری اس نفرت سے جو تم کو اس وقت خود اپنے سے ہے جب کہ دنیا میں تم کو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر پھر بھی تم کفر کرتے تھے یہ سن کر ان کی حسرت واذیت میں اور اضافہ ہوگا اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو بار بحالت موت رکھا کہ ایک موت ہماری پیدائش سے قبل تھی جبکہ ہم بےجان تھے اور پھر دوسری موت ہماری دنیوی زندگی کے بعد جس کو عام طور پر موت کہا جاتا ہے اور دو بار تو نے ہم کو حیات دی، ایک حیات جو دنیا میں تھی اور دوسری یہ حیات جو بعث بعد الموت آخرت میں اب حاصل ہے ،۔ 1
حاشیہ (یہ دو مرتبہ موت کی حالت اور دو مرتبہ حیات کی حالت وہی ہے جو سورة بقرہ کی آیت کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون “۔ ) جس کا ہم پہلے انکار کرتے تھے اور نہیں مانتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوتا ہے اور اسی انکار کے باعث ہم نے کفر وشرک کیا اور تیرے احکام کی نافرمانی کی لیکن اب ہم کو اپنی غلطی کا اعتراف ہوگیا سو اب ہم اقرار کرتے ہیں اپنی خطاؤں کا تو کیا ہے یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ تاکہ ہم پھر دنیا میں جاکر اپنی خطاؤں کا تدارک کرلیں، ایمان لے آئیں اور مطیع وفرمانبردار بن جائیں، جیسے کہ دوسرے موقع پر ارشاد ہے کہ یہ لوگ یوں کہیں گے (آیت) ” فھل الی مرد من سبیل “۔ 2
حاشیہ 2 (منکرین و کفار کے اس کہنے کا کہ تو نے دو مرتبہ ہم کو بحالت موت رکھا اور دو مرتبہ زندگی وہی یہ مقصد تھا کہ جب اسے پروردگار آپ اس بات پر قادر ہیں تو یقیناً آپ کو یہ بھی قدرت ہے کہ تیسری مرتبہ ہم کو پھر دنیا کی طرف لوٹا دیں تاکہ اس مرتبہ خوب نیکیاں سمیٹ کرلائیں تو آئندہ کلمات میں جواب دیا گیا کہ نہیں اب اس کا امکان نہیں اور یہ فیصلہ علی کبیر کی عدالت عالیہ سے جاری ہوا ہے جس پر اب کوئی اپیل مرافعہ نہیں ہوسکتی۔ )
ظاہر ہے کہ اس کا یہی جواب ہے کہ نہیں اور فرمایا جائے گا اے لوگو اس کی وجہ تو یہ ہے کہ جب صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کا نام لیا جاتا تو اس پر تم ایمان لاتے پس اب فیصلہ اللہ ہی کے لیے ہے جو بڑی شان اور بڑے رتبہ والا ہے جو اس کی بارگاہ سے صادر ہوچکا کہ (آیت) ” انھم لایرجعون “۔ کہ اب یہ کافر ہرگز دنیا کی طرف نہیں لوٹیں گے اور اگر بالفرض لوٹیں بھی تو کیا فائدہ ہوگا کیونکہ ایمان تو اسی وقت ایمان تھا جب غیب پر تھا، اب جب کہ سب باتوں کا مشاہدہ کرلیا آخرت اور قیامت کا سب کچھ نظروں کے سامنے آچکا تو اب ایمان کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں رہی اور آج روز قیامت کی یہ باتیں ہی خدا کی معرفت کی دلیل ہیں کہ اب تمہیں یہ سمجھ میں آیا کہ خدا پر ایمان لانا چاہیے وہ پروردگار تو ہمیشہ سے تم کو اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور اتارتا ہے تمہارے واسطے آسمان سے روزی تو کیا یہ دلیلیں نہ تھیں اور کیا ان مشاہدات سے تم کو خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی مگر ان سب آیات کے باوجود تم غافل ہی رہے اور حقیقت یہ ہے کہ نصیحت صرف وہی حاصل کرتا ہے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور جب تم نے اپنی زندگی میں کبھی خدا کی طرف رخ ہی نہیں کیا تو بتاؤ پھر کس طرح تمہیں ہدایت ہوسکتی ہے تو اے لوگو ! پکارو اللہ کو اسی کے واسطے دین کو خالص کرتے ہوئے نہ اس کے سوا کسی کو عبادت کرو اور نہ کسی سے کچھ مانگو اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو، کیونکہ کافر یہ پسند نہیں کرتے کہ اہل ایمان حق پر اور توحید پر قائم رہیں اور وہ چاہا کرتے ہیں کہ اہل حق ان کی رعایت کریں اور ان کی خوشنودی کا لحاظ کریں تو اے مسلمانو ! اگر تم اپنے دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو کافروں کی خوشنودی کی فکر چھوڑ دو اور ان کی ناراضگی سے بےخوف ہو کر دین پر مضبوطی سے جمے رہو۔
وہ رفیع الدرجات سے عرش کا مالک ہے جب وہ بلند درجوں والا عرش کا مالک ہے تو اصل اس کی خوشنودی کی فکر کرنی چاہئے، اور کافروں کی ناراضگی کا ڈریا یہ خیال کہ ان کی ناراضگی سے ہمیں کچھ نقصان یاذلت کا سامنا کرنا پڑے گا لغو اور غلط خیال ہے عزت اور سربلندی کا مالک تو رفیع الدرجات ہی ہے وہی درجے بلند کرنے والا بھی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے احکام میں سے کسی بھی حکم کی وحی بھیجتا ہے تاکہ وہ صاحب وحی ملاقات و اجتماع کے دن سے لوگوں کو ڈرائے جس دن کہ سب لوگ خدا کے سامنے پیش ہوں گے حال یہ ہوگا کہ اللہ پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہ ہوگی اس وقت ہر دیکھنے والا ہر سوچنے والا اور پوچھنے والا جب یہ کہتا ہوگا (آیت) ” لمن الملک الیوم “۔ کہ آج کے دن کس کی حکومت ہے تو حالات ومشاہدات اور خدا کے فرشتے یہی جواب دیں گے اور سب سے آخر پروردگار عالم ہی کا جواب ہوگا جب کہ ساری مخلوق ہیبت و عظمت خدا وندی کے باعث کوئی حرف زبان سے بولنے پر قادر نہ ہوگی۔ (آیت) ” للہ الواحد القھار “۔ بس اسی خدا کے لیے ہے جو یکتا اور غالب ہے، آج کے دن بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو اسی کام کا جو اس نے کیا، نہ کسی کی نیکی ضائع ہوگی اور نہ کسی کی برائی چھپی رہے گی آج کے دن کچھ ظلم نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے تمام خلائق ایک کھلے میدان میں اللہ رب العزت کے روبرو حاضر ہوں گے نہ کوئی شخص اس کی نظروں سے غائب ہوگا اور نہ کوئی عمل اس سے چھپا ہوگا، اس حساب کی سرعت کا عالم یہ ہوگا کہ تمام مخلوق سے حساب اس قدر سریع ہوگا جیسے ایک انسان سے حساب کرلیا جائے جیسے کہ ارشاد مبارک ہے (آیت) ” وما خلقکم ولابعثکم الاکنفس واحدۃ “۔ اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں تو ہر بڑے سے بڑا کام بھی بس پلک جھپکنے میں ہوجاتا ہے (آیت) ” وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر “۔
دعا کی روح اخلاص اور توجہ الی اللہ ہے :
(آیت) ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ کی تفسیر میں امام احمد بن حنبل (رح) سے فرض نماز کے بعد ان کلمات دعائیہ کو بھی بیان کیا گیا جو عبداللہ بن زبیر ؓ سے منقول ہیں کہ ہر نماز کا سلام پھیرنے کے بعد یہ کہا کرتے ،۔ لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ۔ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر لاحول ولا قوۃ الا باللہ لا الہ الا اللہ ولا نعبد الا ایاہ لہ النعمہ ولہ الثنآء الحسن لاالہ الا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکفرون “۔ اور عبداللہ بن زبیر ؓ یہ فرمایا کرتے تھے کہ (آیت) ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ کا عموم اگرچہ مومن کی زندگی کے ہر مرحلہ کے لیے شامل ہے توحید اور عبادت کے اخلاص سے لے کر ہر نماز کے بعد ان کلمات کو پڑھنے تک، اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ (آیت) ” فادعو اللہ مخلصین لہ الدین “۔ کی مراد یہ بھی ہے کہ اللہ سے اس طرح دعا مانگی جائے کہ اس کی قبولیت کا اللہ کے فضل سے یقین کامل ہو۔
(آیت) ” لمقت اللہ “۔ لغت میں مقت کے معنی نفرت اور بغض کے ہیں اور بعض ایمہ لغت شدت بغض کے معنی بیان کرتے ہیں، لام مفتوح تاکید کا ہے، عربیت اور اصول نحو کی رو سے (آیت) ” لمقت اللہ ینادون “۔ کا مفعول اور مقولہ ہے کہ کافروں کو پکار کر جو کہا جائے گا وہ یہ قول ہوگا۔ (آیت) ” لمقت اللہ “۔ الخ۔
(آیت) ” مقت اللہ “۔ ترکیب اضافی ہے اور مصدر کی اضافت فاعل کی جانب ہے اکثر مفسرین اس آیت کی تفسیر اسی تقدیر کے لحاظ سے سے کرتے ہیں اور ” اذ “۔ کو ظرفیت کے معنی پر محمول کرتے ہیں تو اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ کافروں کو پکار کر کہا جائے گا کہ اے کافر و یقیناً اللہ کا مبغوض رکھنا تم کو دنیا میں جب کہ تمہیں ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اس نفرت وبغض سے بڑھ کر تھا جو آج تم کو اس وقت اپنی جانوں سے ہے کیونکہ انسان جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ طبعی امر ہے کہ وہ خود اپنے سے متنفر ہوتا ہے چناچہ کلبی (رح) کا قول ہے ہر جہنمی جب جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوگا تو کہے گا اے میری جان میں تجھ کو مبغوض رکھتا ہوں اور تجھ سے مجھے نفرت ہو رہی ہے، اس پر فرشتے کہیں گے، بیشک اللہ کا بغض ونفرت تم سے اس سے زائد تھا، جیسے آج تم کو خود اپنے سے ہے ،
یہ مفہوم تو اذ کے ظرفیہ ہونے کی صورت میں ہوا، اور اگر اذ کو تعلیلیہ لیا جائے تو (آیت) ” اذ تدعون الی الایمان “۔ علت ہوگی بیان کردہ اللہ کی مقت ناراضگی اور ناگورای کی یعنی آج جس قدر اے جہنمیو ! تم کو اپنی جانوں سے بغض ونفرت ہے خدا کو دنیا میں تم سے اس سے بھی زیادہ بغض تھا، کیونکہ تم کو بار بار ایمان کی طرح بلایا جاتا تھا اور تم کفر و انکار کرتے تھے (روح المعانی جلد 24)
(آیت) ” رفیع الدرجات “۔ رفیع صیغہ صفت مشبہ ہے بمعنی مرتفع اور بلند۔ رفیع الدرجات بلند مرتبے والے کو کہا جاتا ہے، ان بلند مرتبوں سے جو اللہ رب العزت کے لیے یہاں ذکر فرمائے جارہے ہیں۔ اس کی صفات عظیمہ اور جلال و کمال ہے کہ پروردگار عالم اپنی صفات کمالیہ عظمت و جلال کے باعث بہت اونچے مرتبوں والا ہے وہ اپنی وحدانیت و عظمت کے باعث تمام مخلوق سے مستغنی وبے نیاز ہے اور ساری مخلوق خواہ عالم اجسام ہو یا عالم ارواح اسی کی محتاج ہے، مخلوق کی احتیاج مادی اور احتیاج روحانی ہر قسم کی احتیاج اسی کی بارگاہ عنایت سے پوری ہوتی ہے، رزق کے ذریعہ مادی احتیاج پوری فرماتا ہے اور وحی نازل فرما کر روحانی احتیاج کو پورا فرماتا ہے تو اس پہلو کے لحاظ سے (آیت) ” یلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ “۔ فرما کر نظام تشریع اور وحی الہی کو بیان فرما دیا گیا کہ جس طرح اللہ رب العزت رزق پیدا فرما کر مخلوق کی عام مادی حاجتیں پوری فرماتا ہے اسی طرح وحی نازل فرما کر بندوں کی روحانی حاجتیں بھی پوری کی جاتی ہیں، تو اس ذات خداوندی کا ایسی بلند وبالا صفات سے متصف ہونا اور شان صمدیت (بےنیازی) اور اس امر کا کہ کل کائنات اس کی محتاج ہے، مادی احتیاج کے لحاظ سے بھی اور روحانی احتیاج کے لحاظ سے بھی غرض یہ جملہ امور اس کے مقتضی ہیں کہ وہ یکتا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، بعض اقوال مفسرین کی رو سے رفیع بمعنی رافع یعنی بلند کرنے والا ہے اور درجات سے مخلوق کے درجات و مراتب مراد ہیں تو مراد یہ ہوگی کہ وہ مخلوق کے درجات بلند کرنے والا ہے کہ انبیاء واولیاء کے درجات عام مومنین پر بلند کیے اور مومنین کے درمیان علم وفضل اخلاق کے لحاظ سے کسی کے درجے کسی پر بلند کیے۔ چناچہ ارشاد ہے (آیت) ” یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات “۔ اور پھر اہل ایمان کو کل بنی آدم میں فرقیت دی، اسی طرح ملائکہ میں بعض کو بعض پر بلندی عطا کی جیسے کہ (آیت) ” وما منا الا لہ مقام معلوم “۔
علی ہذا القیاس اجسام میں بھی اللہ نے بعض اجسام کو بعض دوسرے اجسام پر فضیلت وبلندی عطا کی بعض سفلیات ہیں تو بعض علویات، بعض اجرام مکدر وبے نور اور مظلم و تاریک ہیں تو بعض اجرام روشن ومنور بلکہ عالم کو روشن کرنے والے ہیں ،
بعض اقوال مفسرین میں ” درجات “ سے آسمان مراد لیے ہیں کہ آسمانوں کو بلند بنایا (آیت) ” والسمآء رفعھا “۔ اور ” رفع سمکھا فسواھا “۔ جیسے ارشاد فرمایا گیا، سعید بن جبیر (رح) سے منقول ہے، فرمایا کرتے وہ ہر آسمان کے اوپر دوسرا آسمان ہے اور ” سبع سموات “۔ پر عرش الہی “۔
روح سے مراد وحی الہی ہے، جیسے آیت مبارکہ (آیت) ” وکذالک اوحینآ الیک روحا من امرنا “۔ میں وحی کو روح کے عنوان سے تعبیر کیا گیا، روح سے مراد بعض نے جبریل امین (علیہ السلام) لیا ہے کیونکہ وہ روح القدس ہیں چناچہ (آیت) ” نزل بہ الروح الامین علی قبلک “۔ میں حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کا بھی اترنا بیان کیا گیا۔
یوم التلاق قیامت کا نام ہے :
یوم التلاق۔ تلاقی لغت میں ایک کا دوسرے سے ملنا ہے، تلاقی بمعنی ملاقات علی بن طلحہ ؓ حضرت عبداللہ بن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ” یوم التلاق “۔ یوم قیامت کے ناموں سے ایک نام ہے ابن جریج (رح) نے عبد اللہ بن عباس ؓ سے یوم التلاق کی وجہ تسمیہ میں یہ ذکر کیا گیا کہ قیامت کا دن اس وجہ سے یوم التلاق کہلاتا ہے کہ وہ ملاقات کا روز ہوگا کہ اس میں کل اولاد آدم ایک دوسرے سے ملاقات کرے گی اس دن انسانوں کی فرشتوں سے ملاقات ہوگی ہر انسان اپنے عمل سے ملاقات کرے گا۔ ہر انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ ملے گا، اور وہ اپنے انجام سے ملنے والا ہوگا، یہی دن وہ ہوگا اس میں بندہ اپنے پروردگار سے ملے گا، غرض ہر لحاظ سے قیامت کا دن ملاقات کا دن ہے، (تفسیر ابن کثیر ج 4)
(آیت) ” لمن الملک الیوم “۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے بیان فرمایا، قیامت سے قبل ایک منادی پکارے گا (آیت) ” ایھا الناس اتتکم الساعۃ “۔ کہ اے لوگو ! قیامت آچکی ہے، اور یہ آواز ہر زندہ و مردہ کو سنائی جائے گی، اور اللہ رب العزت آسمان سے دنیا کی طرف نزول فرمائیں گے اور ارشاد ہوگا۔ (آیت) ” المن الملک الیوم “۔ اور خود رب العزت ہی کی طرف سے جواب صادر ہوگا۔ (آیت) ” للہ الواحد القھار “۔ عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں یہ مضمون اس طرح ذکر فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو اپنے دست قدرت میں لپیٹ لے گا اور پھر فرمائے گا۔ این الجبارون این المتکبرون این الملوک ‘۔ کہ کہاں ہیں بادشاہ کہاں ہیں بڑے زور و طاقت والے۔ کہاں ہیں بڑے غرور و نخوت والے، ہر طرف سے سکوت ہوگا، خود ہی ارشاد فرمائیں گے، انا الملک انا الجبار “ الخ، میں ہی ہوں بادشاہ میں ہی ہوں زور و طاقت والا، میں ہی ہوں، بڑائی والا۔
Ayahs 40:18–27تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ تم اللہ کے دین کا مقابلہ اور پیغمبر خدا کی مخالفت کرکے خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتے، عاد وثمود کو جب ان کی بےپناہ طاقت اور قوت نہ بچا سکی تو تمہاری کیا حقیقت ہے، تو فرمایا۔
اور اے ہمارے پیغمبر آپ ان کو ڈرائیے قریب آنے والے دن کی مصیبت سے جو قیامت کا دن ہے جس وقت کہ کلیجے منہ تک آتے ہوں گے شدت اضطراب وبے چینی کی وجہ سے دم گھٹتے ہوں گے شدت غم کی وجہ سے حال یہ ہوگا کہ اس وقت ان ظالموں کے واسطے نہ کوئی ولی اور دوست ہوگا اور نہ ہی کوئی ایسا سفارشی ہوگا، جس کی بات مانی جائے وہ پروردگار ظاہری اعمال وافعال اور نافرمانیاں تو درکنار وہ تو جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جن کو سینے چھپاتے ہیں اور جس پروردگار کا علم اس قدر وسیع اور محیط ہو وہ اللہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر جن کی پرستش کرتے تھے وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کو نہ علم ہے اور نہ قدرت ہے علم کے بغیر فیصلہ درست نہیں ہوسکتا اور قدرت کے بغیر نافذ نہیں ہوسکتا بیشک اللہ ہی وہ پروردگار ہے جو سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے اس بناء پر اس کا فیصلہ نہایت ہی محکم ہوگا اور ہر عمل کا بدلہ عین عمل کے مطابق ہوگا کیا یہ دیکھنے والا ہے اس بناء پر اس کا فیصلہ نہایت ہی محکم ہوگا اور ہر عمل کا بدلہ عین عمل کے مطابق ہوگا کیا یہ لوگ اے ہمارے پیغمبر جو آپ ﷺ کی تکذیب و انکار کررہے ہیں نہیں چلے پھرے ہیں زمین میں اور کیا انہوں نے ملک در ملک سفر نہیں کیا کہ یہ دیکھ لیتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے ان کے کفر اور خدا کے پیغمبر سے عناد رکھنے کی وجہ سے جو ان سے زیادہ مضبوط تھے طاقت اور زور کے لحاظ سے اور ایسی نشانیوں کے لحاظ سے جو زمین میں چھوڑ گئے ہیں، جیسے ان کی عمارات اور محفوظ ترین قلعے اور پہاڑوں سے تراشے ہوئے مکانات تو اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی وجہ سے اور جب عذاب ان پر مسلط ہوا تو ان کو خدا کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہ ہوا، یہ مواخذہ اور عذاب الہی ان پر اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں دلائل اور احکام خداوندی لے کر آتے رہے لیکن انہوں نے نہ مانا اور کفر پر ڈٹے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو پکڑا بیشک وہ تو بڑی قوت والا سخت سزا دینے والا ہے یہ تھی وہ علت اور وجہ ان مجرمین پر عذاب خدا وندی آنے کی تو اے کفار مکہ اگر تم بھی رسول خدا محمد ﷺ کی نافرمانی اور مخالف پر قائم رہے تو تمہارے انجام بھی ہلاکت وذلت میں ایسا ہی ہوگا۔
اور بیشک ہم نے بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے احکام دے کر اور کھلی نشانی کے ساتھ جو ان کی نبوت و رسالت کی واضح دلیل تھی، فرعون وہامان اور قارون کی طرف، چاہئے تو یہ تھا کہ وہ معجزات اور واضح دلائل کی بناء پر اللہ کے احکام مانتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے کہا یہ جادوگر ہے بڑا ہی جھوٹا، معجزہ کو جادو قرار دیا، اور اعلان نبوت کو جھوٹ کہا کہ نہ یہ اللہ کے پیغمبر ہیں اور نہ یہ اس کے احکام لے کر آئے ہیں، یہ بات ابتداء میں فرعون وہامان اور قارون جیسے خواص کہتے رہے اور یہی چاہا کہ عام لوگوں کے سامنے اس حق وصداقت کو نہ آنے دیں اور اس تدبیر سے لوگوں کو برگشتہ کرتے رہیں مگر ان تمام کوششوں کے باوجود جب ان لوگوں یعنی بنی اسرائیل کے سامنے حق آگیا جو ہماری طرف سے تھا اور کچھ لوگ ایمان بھی لے آئے تو ان خاص لوگوں نے باہمی مشورہ اور تدبیر کے طور پر کہا قتل کرڈالو ان لوگوں کے بیٹوں کو جو ان کے ساتھ ہو کر ایمان لائے تاکہ یہ نسل جوان ہو کر قوت و جمعیت نہ حاصل کرسکے اور ان کی لڑکیاں زندہ چھوڑ دو کیونکہ ان سے اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں اور ان سے اپنے گھروں کی خدمت بھی لینی ہے ،۔ 1
حاشیہ (یہ قتل کی تدبیر جو مرتب کی گئی تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بعد کا قصہ ہے تو ظاہر ہے کہ (آیت) ” اقتلوآ ابنآء الذین امنوا “۔ اس قتل کے واقعہ کے علاوہ ہے جو (آیت) ” یذبح ابنآء ھم ویستحی نسآء ہم “۔ میں قبل از ولادت موسیٰ (علیہ السلام) تھا، کسی صریح روایت سے معلوم نہیں ہوسکی کہ اس تدبیر وسازش کے مطابق عمل ہوا یا نہیں۔ )
غرض ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غلبہ کے انسداد کی یہ تدبیر کی اور حالانکہ کافروں کی تدبیر سوائے بربادی اور بےاثر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں چناچہ ایسا ہی ہوا کہ فرعون وہامان کی ساری تدبیری رکھی رہیں اور اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کامیاب و غالب بنایا اور فرعون اور اس کے لشکر کو تباہ و غارت کیا۔
اور فرعون نے اہل دربار سے کہا مجھ کو چھوڑ دو تاکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرڈالوں اور اس کو چاہئے کہ وہ اپنے رب کو پکارلے۔ 2،
حاشیہ (حضرت شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں، فرعون نے کہا مجھ کو چھوڑ دو شاید اس کے ارکان سلطنت مارڈالنے کا مشورہ نہ دیتے ہوں گے کیونکہ معجزہ دیکھ کر ڈر گئے تھے کہیں اس کا رب بدلہ نہ لے فرعون خود بھی ڈرا ہوا تھا لیکن لوگوں پر اپنی قوت و شجاعت کا اظہار کرنے کے لیے انتہائی شقاوت وبیحیائی سے ایسا کہہ رہا تھا تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ اس کو قتل سے کوئی چیز مانع نہیں اور اس کو اپنے ارادہ سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ 12)
اپنی مدد کے لیے، اے اہل دربار اس کی ان باتوں سے مجھ کو ایسا اندشیہ ہے کہ وہ تمہارا دین (نہ) بدل ڈالے یا ملک میں کوئی فساد نہ پھیلادے، کافر اور کافرانہ نظریات رکھنے والوں کے نزدیک پیغمبر خدا کی ہدایات اور تعلیمات کی اشاعت اور لوگوں کے اعمال واخلاق کی درستگی کا نام فساد ہے، گویا فساد ان کی خواہشات اور شہنشاہیت میں خلل پڑجانے کا نام ہے اہل دربار بظاہر قتل کی رائے نہ دیتے ہوں گے یا روکتے ہوں گے یا تو مصلحت کے خلاف ہونے کی وجہ سے یا اس بناء پر کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کو ان کے معجزات اور معقول دلائل سے حق سمجھ رہے ہوں اور یہ خیال کررہے ہوں اس حق کا مقابلہ ہمارے واسطے انجام کار تباہی کا موجب ہوگا، چناچہ (آیت) ” وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا “۔ یعنی ان لوگوں نے آیات بینات کا انکار کیا حالانکہ ان کے د ل اس کا پورا یقین کر رہے تھے یہ انکار محض ظلم اور تکبر کی وجہ سے تھا، پھر ان لفظوں سے کہ (آیت) ” ذرونی “۔ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرڈالوں یہ ظاہر ہورہا ہے کہ فرعون خود بھی اپنے دل میں خائف تھا، اور جرأت نہیں ہورہی تھی، کہ قتل کرڈالے اور ڈرتا ہوگا کہ اگر ایسا تو کہیں آسمانی بلاتباہ نہ کردے کیونکہ معجزات سے اس کو یقین تو ہوچکا تھا اور (آیت) ” ولیدع ربہ “۔ بھی محض عیاری، اپنی بڑائی اور قوت کا رعب ڈالنے کے لیے تھا ورنہ دل اندر سے کانپ رہا ہوگا، غرض فرعون کی طرف سے تو یہ سازش ومکاری کا سلسلہ جاری تھا۔
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سب کچھ معلوم ہونے پر نہایت ہی اطمینان سے کہا بیشک میں پناہ حاصل کرتا ہوں اپنے رب کی ہر مغرور ومتکبر شخص سے جو حساب کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اسی وجہ سے وہ بڑی دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ حق کے مقابلہ پر تلاہوا تھا۔ 1
حاشیہ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ فرمانا اس وقت تھا جب ان کو فرعون اور فرعون کے درباریوں کے اس مشورہ کا علم ہوا تو اپنی قوم سے فرمایا کہ مجھے ان دھمکیوں کی ہرگز کوئی پروا نہیں میں تو اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں اس کی پناہ کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی اور فرعون یا اس کے ارکان حکومت تو کیا مجھے تو دنیا کے سارے متکبرین وجبارین کا بھی کوئی ڈر نہیں مجھے بس اسی کی پناہ وحمایت کا فی ہے تو اپنی قوم سے تخاطب کی بنا پر (آیت) ” بربی وربکم “۔ کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں کا عنوان اختیار کیا، بہت ممکن ہے (آیت) ” وربکم “۔ کا عنوان فرعون کے لوگوں کو سنانے کے لیے کیا ہوتا کہ ان پر یہ بات جتلادیں کہ وہ تمہارا بھی رب ہے تم کدھر بھٹکے ہوئے ہو،
حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا کے تمام جبار ومتکبر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں تنہا اسی رب کی پناہ لے رہا ہوں وہی میرا حامی ومدد گار ہے جیسے کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” لا تخافآ اننی معکما اسمع واری “۔ حضرت تھانوی (رح) من کل متکبر “۔ کے ترجمہ میں یہ لفظ فرماتے ہیں ” ہر خرد دماغ شخص “۔
اور ظاہر ہے کہ اس طرح کا غرور ونخوت سوائے اس کے اور کسی وجہ سے نہیں ہوسکتی کہ اس شخص کو نہ قیامت کا ڈر ہے اور نہ خداوند عالم کے مواخذہ کی فکر ہے۔