Ayahs 40:28–45قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے چناچہ اس کا اظہار واعلان بھی کیا یہ کہتے ہوئے کہ (آیت) ” ذرونی ٓ اقتل موسیٰ ولیدع ربہ “۔ تو اس مجلس مشورہ میں ایک مومن شخص بھی فرعون کے خاندان سے تھا، جس نے ابھی تک اپنے ایمان کو مخفی رکھا تھا یا کسی اور طریقہ سے اس کو علم ہوا ہو تو اس شخص مومن نے اس رائے کی شدت سے مخالفت کی اور ایسا کرنے سے منع کیا اور اس ضمن میں فرعون کو اور فرعون کے ارکان حکومت کو نصیحت کی اور ایمان کی دعوت دی، تو ان آیات میں اس مرد مومن کا قصہ بیان کیا جارہا ہے اور اس کی ان پاکیزہ اور بلند نصیحتوں کا ذکر ہے جو اس نے فرعون اور اس کے ارکان حکومت کو سشدو فلاح کی دعوت دیتے ہوئے کیں فرمایا۔
اور کہا ایک شخص۔ 1
حاشیہ (ائمہ مفسرین کے نزدیک مشہور قول یہی ہے کہ یہ شخص مومن قبطی تھا فرعون کے خاندان سے سدی (رح) نے یہ تصریح کی ہے یہ فرعون کا ابن عم یعنی چچازاد بھائی تھا اور ایک قول کے مطابق یہ وہ شخص ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے ہمراہیوں میں بحرقلزم سے عبور کرنے اور نجات پانے والا تھا۔ ابن جریر (رح) نے اس قول کو اختیار کیا اور ان بعض مفسرین کا قول رد کیا جن کا خیال یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل میں سے تھا کیونکہ فرعون نے اس کی بات سنی اور متاثر بھی ہوا، چناچہ ان ہی مرد مومن کے موثر خطاب سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ارادۂ قتل سے باز آیا۔ اگر یہ بنی اسرائیل میں سے ہوتے تو اول تو اتنی جرأت ہی مشکل تھی اور اگر جرأت کرکے کچھ کہنا شروعی کرتا تو فرعون فورا ہی اس کا کام تمام کردیتا اور نوبت ہی نہ آنے دیتا کہ اتنی مفصل گفتگو اور اس تفصیل کیساتھ سلسلہ نصیحت شروع کردے، ابن جریر (رح) نے عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت کیا ہے کہ فرعون کے خاندان سے سوائے اس مرد مومن اور اس کی بیوی آسیۂ (علیہ السلام) کے اور کوئی ایمان نہیں لایا، ) (ابن کثیر ج 4)
مومن نے فرعون کے خاندان سے جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، کیا تم ایک شخص کو قتل کررہے ہو، محض اس وجہ سے کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب تو بس اللہ ہے یقیناً یہ بات ایسی تو نہیں ہے کہ اس پر کسی کے قتل کا منصوبہ بنایا جائے، حالانکہ وہ تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور دلائل لے کر آیا ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے تو بڑی ہی بری بات ہے کسی معقول چیز کا انکار کرنا، پھر جب کہ وہ اپنی صداقت کے لیے دلائل اور نشانیاں بھی رکھتا ہو اور صرف یہی نہیں کہ تم اس کی بات کو قبول نہ کرو تم تو اس کے قتل کرنے پر آمادہ ہو جو نہایت ہی نازیبا بات ہے، ایسا نہ کرو، اور اگر بالفرض وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا جس کے نتیجہ میں وہ خود ہی ذلیل وناکام ہوگا، اور اس صورت میں ہمیں نقصان و تکلیف کا کوئی اندیشہ نہ ہونا چاہئے اور اگر وہ سچا ہے تو اس میں سے ضرور تم کو کچھ پہنچے گا جس کا وہ وعدہ اور پیش گوئی کررہا ہے کیونکہ اس کا یہ اعلان ہے (آیت) ” انا قد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی “۔ کہ ہمیں یہ وحی بھیجی گئی ہے۔ بیشک خدا کا عذاب اس شخص پر واقع ہو کر رہے گا جو خدا کی بات جھٹلائے اور روگردانی کرے تو سچا ہونے کہ صورت میں تو اس کو قتل کرنا در حقیقت اپنے واسطے عذاب اور مصیبت کو دعوت دینا ہے اور ظاہر ہے یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے کہ خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالا جائے۔
الغرض ایک لحاظ سے یہ قتل بےسود اور بےکا رہے اور ایک لحاظ سے خود اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، عقل کا تقاضا ہے بےسود کام سے بچا جائے اور ہلاکت سے بھی اپنے کو بچایا جائے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو حد سے بڑھ جانے والا اور بہت جھوٹ بولنے والا ہو اگرچہ کسی جھوٹے کی کوئی بات ابتداء چل پڑے مگر انجام کار ایسے شخص کو ذلت وناکامی اور محرومی ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس ضابطہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بس سمجھ لینا چاہئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اگر اپنے دعوائے نبوت و رسالت میں جھوٹے ہیں تو یہ جھوٹ براہ راست خدا پر افتراء اور بہتان ہونے کی وجہ سے حد سے بڑھ جانا ہے اور مخلوق خدا کو دھوکہ میں ڈالنا ہے اور حق تعالیٰ خود ایسے شخص کو ذلیل وناکام بنائے گا، یہ مرد مومن ان کلمات میں اس امر کی طرف اشارہ کررہا تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں دونوں احتمال ہیں تو ان کے صادق ہونے کی صورت میں اس کی تکذیب اور قتل پر اقدام اے فرعونیو ! یہ تمہاری طرف سے زیادہ ہوگی اول تو تم اس بناء پر مسرف ہوگے اور اپنے مقصد کو نہیں پہنچ سکو گے۔ اس قانون سے کہ (آیت) ” ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب “۔ جس کا انجام یہ ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل بھی نہ کرسکوگے اور دوسرے یہ کہ ان کے صادق ہونے کی وجہ سے جو بات وہ کہتے ہیں وہ پوری ہوگی اور تمہیں اس عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے خبر دی ہے۔
اس مرد مومن نے اس بلیغ اور پر اثر گفتگو میں فرعونیوں کو حق اور صداقت کی طرف دعوت دی اور نہایت لطیف انداز میں اس پر آمادہ کرنا چاہا پھر اسی پر اکتفانہ کی بلکہ جس دولت و حکومت پر غرور نے اس ناپاک ارادہ پر آمادہ کیا تھا اس کے بارے میں اس نے نصیحت کی اور کہا اے میرے بھائیو ! آج تمہارے واسطے سلطنت واقتدار ہے اس طرح کہ تم اس سرزمین میں غالب وحکمران ہو لیکن بتاؤ کون ہماری مدد کرے گا اللہ کا عذاب آنے کی صورت میں اگر وہ ہم پر آگیا، موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردینے کی وجہ سے فرعون نے اس مرد مومن کی ان باتوں کو سن کر کہا میں تم کو وہی رائے دوں گا جو میں بہتر سمجھ رہا ہوں، اور میں تم کو وہی راستہ بتارہا ہوں جو عین مصلحت ہے اور وہ یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا جائے یہ مرد مومن اس بات کو سن کر مغموم و متفکر ہوا سوچا کہ نرمی اور نصیحت سے مخاطب کوئی اثر قبول نہیں کرتا، کلام کا رخ بدلا اور کہا اس مومن شخص نے اے میری قوم مجھے تو ڈر لگ رہا ہے تمہارے متعلق ایسے ہی روز بد کا جیسے اور امتوں پر قہر و عذاب کا دن آیا جیسا حال قوم نوح قوم عاد وثمود اور ان لوگوں کا جو انکے بعد آنے والوں کا یعنی قوم لوط وغیرہ کا ہوا، کہ ان کو ان کی اسی طرح شقاوت اور نخوت وتکبر کی وجہ سے عذاب خداوندی نے ہلاک کرڈالا، یقیناً یہ سب کچھ صرف انہی کی اعمال کے باعث ہوا اور خدا تو بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنا نہیں چاہتا، مگر ظاہر ہے کہ تمہارے اعمال ان ہی جیسے ہوں گے تو یقیناً اسی طرح کا عذاب تم پر بھی مسلط ہوگا، یہ تو دنیا کی زندگی میں عذاب ہے جو ایسی قوموں کو ہلاک کرتا ہی ہے اور میرے بھائیو ! مجھے تو تمہارے متعلق اندیشہ ہے اس دن کے بھی شدید عذاب کا جس دن میں کثرت ندائیں پکار اور آوازیں پڑنے والی ہوں گی اور ان آوازوں اور نداؤں سے لوگوں کے ہوش و حواس پر اگندہ ہوں گے، اول نداء ہولناک تو صور کی آواز ہوگی جب پھونکا جائے گا اور سب مدہوش ہوجائیں گے پھر ندادوبارہ نفخ صور کی ہوگی جس سے سارے مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوں گے یہ وہی ندا ہوگی جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں (آیت) ” یوم یناد المناد من مکان قریب یوم یسمعون الصیحۃ بالحق “۔ پھر ایک ندا اور ہوگی کہ اے لوگو، ! کھڑے ہوجاؤ حساب کے واسطے، جیسے ارشاد ہے (آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامھم “۔ پھر ایک ندا اور پکار جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ہوگی جس کا ذکر (آیت) ” ونادی اصحاب الاعراف، ونادی اصحاب الجنۃ اصحاب النار “۔ اور ” ونادی اصحاب النار اصحاب الجنۃ “۔ آیات میں ہے پھر سب سے اخیر میں ایک وہ ندا ہوگی جو موت کو ذبح کرنے کے وقت اہل جنت اور اہل جہنم کو دی جائے گی یا اہل الجنۃ اور یا اہل النار۔ اس ندا پر جب جنتی اور جہنمی متوجہ ہوں گے اور دیکھنے لگیں گے جنتی گھبرا کردیکھیں گے کیا ماجرا ہے ہم کو کیوں آواز دی جارہی ہے، جہنمی دیکھیں گے اور متوجہ ہوں گے کچھ توقع اور طمع کے ساتھ کہ شاید ہمیں عذاب سے نجات کا پروانہ دینے کے لیے پکارا گیا ہوگا مگر ان نداؤں کے بعد اور اہل جنت واہل نار کے متوجہ ہونے کے بعد اعلان ہوگا موت کو ذبح کرتے ہوئے ” خلود لاموت “۔ کہ بس اب جب کے موت کو موت دے دی گئی، دوام وخلود ہی ہے آئندہ کسی کو موت نہیں نہ اہل جنت کو نہ دوزخیوں کو، غرض ان تمام نداؤں کے اجتماع کے باعث یہ دن یوم التناد ہوا، (ماخوذ از تفسیر حکیم الامت حضرت تھانوی (رح)
اور یہ یوم التناد وہ دن ہوگا جس میں تم پشت پھیر کر دوزخ کی طرف جاتے ہوگے اس وقت تم کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا اللہ کے عذاب سے اور حقیقت یہ ہے کہ جس کسی بدنصیب کو اللہ ہی گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ راست پر لانے والا نہیں، ان حقائق اور سبق آموز نصیحتوں کے بعد تو بیخ وتہدید کے انداز میں اس مرد مومن نے کہا اور اے لوگو ! تمہارے پاس تو اس سے قبل یوسف بھی بینات و دلائل لے کر آئے لیکن اے قوم قبط تم یعنی تمہارے اسلاف جن کے نقش قدم پر تم چل رہے ہو، ہمیشہ شک ہی میں مبتلا رہے اس چیز کے بارے میں جو وہ لے کر آئے تھے اور چونکہ وہ تمہارے اسلاف تھے اور تم ان کی باتوں کو سند سمجھتے ہو اس بنا پر تم ہی کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم برابر اس میں شک کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ وفات پاگئے تو تم کہنے لگے کہ بس اب اللہ تعالیٰ اور کوئی رسول نہیں بھیجے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہماری اس حالت کو دیکھ کر سمجھ جائیں گے کہ یہ بدنصیب انبیاء کی تعلیم وہدایت کا کوئی اثر قبول ہی نہیں کرتے لہذا ان کے پاس کسی رسول کا بھیجنا بیکار ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ باتیں حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے ہیں ان کے غرور ونخوت نے ان کو اللہ کے احکام میں گستاخ بنادیا ہے اور اللہ تعالیٰ اسی طرح غلطی میں ڈالے رکھتا ہے ہر ایسے حد سے بڑھ جانے والے شک وتردد میں پڑجانے والے لوگوں کو جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے رہتے ہیں۔ بغیر کسی سند وحجت کے جو ان کے پاس آئی ہو بہت ہی بڑی ہے یہ چیز ناگواری اور نفرت کے لحاظ سے اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک، کہ انسان اللہ ہی کے احکام اور اس کی آیتوں میں خصومت کرتا رہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر مغرور و جابر کے پورے قلب پر مہر لگا دیتا ہے۔ اور سارا قلب اس مہر کے احاطہ میں گھر جاتا ہے اور اس کا کوئی گوشہ خالی نہیں رہتا کہ اس خالی رخ اور سمت سے حق فہمی کی کوئی صلاحیت باقی رہ جائے، جیسے کسی برتن کے پورے منہ پر اگر مہر لگ گئی تو اس کے بعد ظاہر ہے کہ کوئی ایسا سوراخ ومنفذ باقی نہیں رہتا کہ باہر سے کوئی چیز اس برتن کے اندر ڈالی جاسکے، اور علی ہذا جب اس پر مہر لگ گئی تو اندر سے کسی چیز کے نکلنے کا امکان نہیں رہا، تو بس یہی حال ایسے مغرور و سرکش انسان کے قلب کا ہوتا ہے جب پورے قلب پر مہر لگ گئی تو باہر سے ہدایت ونصیحت اندر نہیں جاسکتی اور اندر کی شقاوت باہر نہیں نکل سکتی۔ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “۔
یہاں تک اس مرد مومن کی ناصحانہ تقریری تھی جو فرعون اور اس کے ارکان حکومت کو خطاب کرتے ہوئے کی آج سے پہلے اگرچہ اس بزرگ مومن نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا ہو لیکن اس واضح اور کھلم کھلا دعوت توحید اور شقاوت وبدبختی سے زجروتوبیخ کی وجہ سے تو ان کا ایمان علی الاعلان ظاہر ہوگیا، اس مرد مومن نے اپنی اس تقریر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے یہ جو دو شقیں اختیار کیں، (آیت) ” ان یک کاذبا فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم “۔ العیاذ باللہ۔ اس بنا پر نہیں کہ یہ دو احتمال موسیٰ (علیہ السلام) میں ممکن اور محتمل تھے بلکہ ظاہر ہے کہ وہ ان کی صداقت وحقانیت پر کامل یقین و ایمان رکھنے والے تھے یہ محض تعبیر اور بیان میں دو شقیں حجت پوری کرنے کے لیے تھیں اور اس غرض سے کہ مخاطبین اس سے پوری طرح متاثر ہوں اور ان کی بات کو اس تخیل کے ساتھ سنیں کہ یہ کسی طرح حمایت اور جانبداری کے جذبہ سے نہیں بلکہ ایک اصولی اور قطعی بات ہے اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ کے ایسی ہی روشنی اور ضابطہ کے تحت بخوبی سمجھا جاسکتا ہے اس سے یہ استدال بھی نہ کیا جائے کہ کوئی مدعی نبوت اور کذاب ومفتری جس کا کذب اور افتراء دلائل سے ثابت ہوچکا ہو، اس کی تکذیب وتردید کے قطعی پہلو کو چھوڑ کر اس کے لیے ایسا ہی طرز اختیار کرلیا جائے اور یہ کہہ کر بات ٹلا دی جائے کہ اگر جھوٹا ہوگا تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا۔ الخ۔ بلکہ ایسے کذاب ودجال کی تو واضح طور پر ڈٹ کر تردید اور مقابلہ کرنا فرض ہوگا، اب جبکہ آنحضرت ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا قطعی دلائل شریعت سے ثابت ہوچکا اور یہ کہ آپ کے بعد اب اور کوئی پیغمبر نہیں آئیگا تو مدعی نبوت کی قطعی طور سے تکذیب وتردید اور تکفیر کی جائے گی اور وہ مدعی نبوت اور اس پر ایمان لانے والے واجب القتل ہوں گے، جیسے حضرت صدیق اکبر ؓ نے مسیلمہ کذاب مدعی نبوت اور اس کے پر وؤں کے ساتھ قتال فرمایا اور وہ قتل کیے گئے۔
آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب اور اس کے خصوصی نکات :
یہ مرد مومن فرعون کے خاندان اور قبطیوں میں سے تھے اور بقول ایمہ مفسرین فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ آل فرعون میں سے ایمان لانے والے ایک مرد مومن تھے اور دوسرا مومن خود فرعون کی بیوی تھی، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورة تحریم میں فرمایا، یہ صاحب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ایمان لاچکے تھے، ان کا یہ خطاب ہے جو فرعون کی طرف سے قتل موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ کرنے پر تھا جس میں نصیحت وہمدردی کا پہلو پوری طرح نمایاں ہے اور حق کا مقابلہ کرنے پر زجروتوبیخ ہے، اور ایسا حکیمانہ انداز ہے کہ ادنی فہم اور صلاحیت رکھنے والا انسان بھی اس کو تسلیم کیے بغیر نہیں نہ رہ سکے۔
اس مرد مومن نے اپنے اس خطاب میں جو خاص امور اور حکیمانہ نکات اور معاندانہ رویہ ترک کرنے کے لیے اثر انگیز نصیحتیں کیں وہ یہ تھیں، سب سے پہلے (1) ابتداء خطاب میں (آیت) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “ ‘۔ کہہ کر بےوجہ اقدام قتل جیسے برے فعل کی مذمت کی اور اس پر اظہار نفرت کیا، (2) اور یہ کہ جس بنیاد پر قتل کا ارادہ ہے وہ اس شخص کا یہ کہنا ہے۔” میرا رب اللہ ہے “۔ حالانکہ یہ بات اگرچہ تمہارے تخیل یا عقیدہ کے خلاف ہو، کسی بھی ضابطہ سے قتل کی اجازت نہیں دیتی، (3) پھر یہ کہ وہ اپنی اس بات پر جب واضح دلائل پیش کر رہا ہے قتل کیا جائے، (4) اور پھر یہ کہ یہ دلائل کوئی عام قسم کی شہادتیں اور دلائل نہیں ہیں بلکہ تمہارے رب کی طرف سے دلائل ہیں ، (5) اور لفظ (آیت) ” من ربکم “۔ بول کر ایک لطیف طنز بھی کرڈالا کہ وہ تمہارا رب ہے اب یہ تمہاری حماقت ہے کہ تم اپنے رب کو نہ پہنچانو۔ (6) اور پھر یہ کہ اگر تم ان دلائل حقانیت سے قطع نظر کرلو تو سوچو کہ قتل کا جواز تو اس صورت میں تصور کیا جاسکتا ہے جب کوئی سبب اور وجہ قتل متحقق ہو اور ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں کوئی چیز بھی موجب قتل نہیں معلوم ہوتی، تو ایسی صورت میں یہ مناسب ہے کہ اس شخص کو اپنے حال میں کوئی چیز بھی موجب قتل نہیں معلوم ہوتی، تو ایسی صورت میں یہ مناسب ہے کہ اس شخص کو اپنے حال پر چھوڑ دو اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر ہوگا، (7) علاوہ ازیں جب کہ تمہارے پاس اس کی تردید کے لیے کوئی دلیل معقول نہیں تو اس احتمال کو خود تمہاری حد تک بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ صادق ہے اور اس صورت میں کہ وہ سچا ہو اور تم اس کا مقابلہ کرو، ظلم وستم کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کر ڈالوتو یہ قطعی بات ہے کہ (آیت) ” یصبکم بعض الذی یعدکم “۔ کہ تم کو وہ مصیبت ضرور پہنچ کر رہے گی جس کا وہ وعدہ کرتا ہے اور اس کی دھمکی دے رہا ہے اور پھر (8) یہ کہ تم لوگ ایسی صورت میں کہ اس کے پاس دلائل ہیں اور تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں، تمہارے لیے اس کے قتل کا کوئی جواز نہیں اور خود تمہارے اصول سے اس کے صادق ہونے کا احتمال ہے تو ان تمام باتوں کے باوجود بھی اس کے قتل پر اقدام بلاشبہ انتہائی زیادتی اور ظلم ہوگا، اور (آیت ) ” ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب “۔ (خدا تعالیٰ کسی بھی زیادتی کرنے والے کذاب وجھوٹے کو مقصد میں کامیاب نہیں کرتا) (9) اور اگر اس کے برعکس یہ احتمال فرض کرو کہ وہی اپنے اس دعوائے نبوت میں جھوٹا ہے تو پھر وہ مسرف وکذاب ہوگا کہ اس نے زیادتی کی اور خدا پر جھوٹ بولا اور ایسی صورت میں وہ اپنے مقصد میں ضرور ناکام و ذلیل ہوگا، تو اس سے تم لوگوں کو کسی قسم کا نقصان نہ ہوگا، پھر کیا فائدہ کہ بغیر کسی اہم مقصد کے کسی کو قتل کرڈالا جائے۔ (10) پھر (آیت) ” یقوم لکم الملک الیوم “ الخ۔ کہہ کر یہ سمجھانا چاہا کہ ملک واقتدار کے حاصل ہوجانے پر تمہیں یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ظلم وتعدی کی روش اختیار کی جائے یاد رکھو اگر ایسا کیا جائے گا تو نہ صرف یہ کہ انسانی فطرت سے بعید ہے بلکہ اللہ کے عذاب وانتقام کا بھی موجب ہے اور خداوند عالم کے عذاب اور انتقام سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی تو ان کلمات میں نہایت لطیف انداز سے فرعون کے ذہن کو اس طرف متوجہ کیا کہ اگر تو غور کرے تو سمجھ جائے گا کہ یہ حکومت اور غلبہ خود تیرا حاصل کردہ نہیں ہے کہ تو نے اپنی کسی صلاحیت یا محنت سے اسے حاصل کیا ہو یقیناً تجھے ماننا چاہئے کوئی قدرت و طاقت ایسی ہے جو انسانی قدرت اور وسائل سے بالاتر ہے بس اسی قدرت کا مالک اللہ ہے، جس نے تجھ کو یہ سلطنت دی اور جس نے ایسی بڑی حکومت دی ہے وہ پروردگار اسے چھین بھی سکتا ہے، ناراض ہو کر عذاب وقہر بھی نازل کرسکتا ہے تو اگر ایسا ہوا تو اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت نہیں کرسکتی تو اس حصہ نصیحت میں مرد مومن نے نہایت ہی لطیف وانداز سے قدرت خداوندی، اس کی نعمت، اور اس کی سزا کا ذکر کرڈالا اور اس فرعون کو جو مدعی تھا (آیت) ” انا ربکم الاعلیٰ “۔ کا ان کلمات سے دعوت فکر بھی دے دی کہ ان چیزوں کو سوچ کر خدا کی ربوبیت کو پہچان لے اور اس پر ایمان لائے اور خدا کے پیغمبر کے مقابلہ سے باز آجائے۔
یہ تھے دس خصوصی نکات جس پر اس مرد مومن کا نا صحانہ خطاب مشتمل تھا، اس ناصحانہ وحکیمانہ معقول ومدلل خطاب اور انسانی فطرت اور اس کے شعور کو بیدار کرنے والے حقائق سے فرعون بظاہر متاثر ہونے لگا ہوگا اور ڈرا ہو کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ میں خود ہی اپنے ذہن میں رچے ہوئے تصورات اور متقدات کو غلط قرار دے دوں، تو فورا بات کا ٹنے کے انداز میں اس مرد مومن کے وعظ کے دوران جو ابھی مزید نکات اور حقائق بیان کرنیو الا تھا بول پڑا جس کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا (آیت) ” قال فرعون ما اریکم الا ما اری وما اھدیم الا سبیل الرشاد “۔ فرعون اس پر کہنے لگا کہ اے لوگو ! بس میں تو تم کو وہی بات سمجھاتا ہوں اور اسی چیز کی رہنمائی کرتا ہوں جس کو میں خود بہتر سمجھتا ہوں اور میں تم کو صرف بھلائی ہی کا راستہ دکھا رہا ہوں ،
اس مرد مومن نے اس لغو، مہمل اور بےدلیل بات کی تردید وتغلیط کی طرف رخ کرنے کے بجائے پھر وہی اصل حکیمانہ خطاب کے باقی اہم نکات کا سلسلہ بیان شروع کردیا جو فرعون نے بیچ میں غلط طریقہ سے کاٹ دیا تھا۔
چناچہ مزید گزشتہ تاریخی عبرتناک واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا (آیت) ” یقوم انی اخاف علیکم “۔ الخ۔ کہ اگر تمہاری یہی روش رہی تو پھر مجھے اسی قسم کے عذاب کا اندیشہ ہے جو پہلی قوموں قوم نوح، عاد وثمود، اور ان کے بعد والوں پر نازل ہوا، اور یہ بھی سمجھ لو کہ اس طرح کے عذاب کوئی وقتی اور اتفاقی قسم کے پیش آنے والے حادثات نہیں ہیں بلکہ یہ براہ راست اللہ رب العزت کی طرف سے مجرمین کو سزا ہوتی ہے اور اس طرح کی سزائیں کسی قسم کا ظلم نہیں ہوتیں بلکہ مجرمین درحقیقت ایسی ہی سزاؤں کے مستحق ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بندوں پر ذرہ برابر ظلم کا ارادہ نہیں رکھتے اور جو رب ایسا ارادہ بھی نہیں رکھتا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس سے واقعۃ ظلم کا تحقق ہوجائے۔
اور چلو یہ تو جو کچھ ہوگا دنیوی زندگی تک کا معاملہ ہے مگر یہ جان لو کہ اسی پر بس ہونے والی نہیں مجھے تو اس سے بھی بڑھ کر تمہاری نسبت (آیت) ” یوم التناد “۔ یعنی اس دن کے عذاب کا ڈر ہے جس دن آوازیں پڑیں گی، پکارا جاتا ہوگا، اس پکار اور نداوالے دن کا معاملہ تو یہ ہوگا کہ تم پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگوگے، اور تم کو عذاب خداوندی سے کوئی بھی بچانے والا نہ ہوگا۔ اور پھر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اس پر بھی سوچو کہ یہ تمہاری بدبختی اور گمراہی خدا کی طرف سے محرورمی ہے جس کی وجہ سے یہ باتیں تم سے ظاہر ہورہی ہیں۔ اور میں تم کو یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ تمہاری یہ خصلت تمہارے گزرے ہوئے آباواجداد سے ورثہ میں ملی ہے تمہارے بزرگوں کے زمانہ میں ان کے پاس اللہ کے پیغمبر حضرت یوسف (علیہ السلام) آئے، ان کے ساتھ یہی معاملہ نافرمانی اور ایذارسانی کا کیا اور آج تم اسی نقش قدم پر چل رہے ہو ،
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اپنے فوائد میں تحریر فرمایا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی میں مصر والے ان کی نبوت کے قائل نہ ہوئے، ان کی موت کے بعد جب مصر کی سلطنت کا بندوبست بگڑا تو کہنے لگے کہ یوسف (علیہ السلام) کا قدم اس شہر پر کیسا مبارک ہے اب ایسا نبی آئندہ کوئی نہٰیں آئے گا۔
غرض اس بات سے مراد یہ تھی کہ نعمت کی قدر زوال کے بعد ہوتی ہے، فی الحال تم کو موسیٰ (علیہ السلام) کی قدر نہیں لیکن یاد رکھو تم اسی طرح پچھتاؤ گے جیسے کہ اہل مصر یوسف (علیہ السلام) کے بعد پچھتائے۔ ان نصائح اور دل پر اثر ڈالنے والے حقائق کو بیان کرتے ہوئے مرد مومن نے اخیر میں صاف کہہ ڈالا کہ سب کچھ تمہاری طرف سے غلط قسم کی تعدی اور زیادتی ہے اور خدا کی نشانیوں میں بےدلیل حجت بازی اور جھگڑا کرنا ہے اور یہ تمام باتیں اس بات کی نشاند ہی کررہی ہیں کہ تمہارے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور واقعی تم جیسے مغرور اور سرکش لوگوں کے تو پورے قلب پر مہر لگا دیتا ہے پھر کوئی گوشہ ایسا باقی نہیں رہتا کہ قلب تک ہدایت رسائی حاصل کرلے گویا یا بتادیا کہ یہ فطرت کا مسخ ہوجانا ہے جو انسان کی انتہائی بدنصیبی ہے۔
آل فرعون کے مرد مومن کے ایمان واخلاص سے صدیق اکبر ؓ کا جذبہ ایمان بڑھ کر تھا :
امم سابقہ میں جو فضائل و کمالات حق تعالیٰ نے عطا فرمائے وہ اس امت کے افراد میں بھی بدرجہ اتم واکمل پائے گئے ہیں، یہ کلمات اس مرد مومن کے (آیت) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “۔ جو قرآن کریم نے ذکر فرمائے وہی الفاظ ہیں جو صدیق اکبر ؓ کی زبان مبارک سے اس وقت نکلے جب کہ کفار مکہ نبی کریم ﷺ پر ظلم وستم ڈھانے پر تلے ہوئے تھے، عروہ بن الزبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے کہا کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کو سب سے زائد جو سخت تکلیف پہنچائی وہ مجھے بتاؤ تو فرمایا ایک روز رسول اللہ ﷺ حطیم کعبہ میں نماز ادا کررہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے آکر آپ کی گردن میں کپڑا ڈالا اور اس زور سے کھینچا کہ گلا گھنٹے لگا اور تکلیف انتہائی شدت کو پہنچ چکی تھی سامنے سے ابوبکر ؓ آگئے اور عتبہ کو زور سے ایک دھکا دیا اور ڈانٹتے ہوئے فرمایا، (آیت) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جآء کم بالبینات “۔ (افسوس تم ایک شخص کو قتل کرنے کے درپے ہو محض اس بات پر کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور حال یہ ہے کہ وہ تو تمہارے پاس نبوت و رسالت کے واضح اور روشن دلائل تمہارے رب کی طرف سے لے کر تمہارے پاس آیا ہے) تو آل فرعون کا مرد مومن تو اپنے ایمان کو چھپانے والا تھا، مگر امت محمدیہ ﷺ کا یہ مرد مومن وہ تھا کہ جس نے روز اول سے اپنے ایمان کا اعلان کیا، مسند بزار اور دلائل ابونعیم میں محمد بن علی سے مروی ہے کہ ایک روز حضرت علی ؓ نے اثناء خطبہ یہ فرمایا، بتاؤ سب سے زیادہ بہادر اور طاقتور کون ہے لوگوں نے جواب دیا ہم میں سب سے زیادہ شجاع اور بہادر تو آپ ہیں، حضرت علی ؓ نے فرمایا، میرا حال تو یہ ہے کہ جس کسی نے میرا مقابلہ کیا میں نے اس سے انتقام لیا، سب سے زیادہ شجاع تو ابوبکر ؓ تھے، میں نے دیکھا کہ قریش کے لوگ رسول اللہ ﷺ کو مارتے جاتے ہیں اور یہ کہتے جارہے ہیں، انت جعلت الالھۃ الھا واحد ا۔ کیا تو ہی ہے وہ شخص جس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنادیا تو اس وقت ہم میں سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ آپ کے قریب جاسکے، اتفاقا سامنے سے ابوبکر ؓ آگئے اور مشرکین کے ہجوم میں گھس پڑے اور بڑی قوت کے ساتھ کسی کے لات ماری اور کسی کو گھونسہ مارا اور بآواز بلند مشرکین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ (آیت) ” ویلکم “۔ (ہلاکت ہو تمہاری) (آیت) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ یہ کہہ کر روپڑے اور فرمایا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آل فرعون کا رجل مومن افضل تھا یا ابوبکر ؓ ؟ لوگ خاموش ہوگئے، آپ نے فرمایا خدا کی قسم ابوبکر ؓ کی ایک گھڑی آل فرعون کے مرد مومن کی تمام زندگی سے بدرجہا بہتر ہے۔ اس نے تو اپنے ایمان کو چھپا یا تھا مگر ابوبکر ؓ نے اپنے ایمان کا اظہار واعلان کیا، پھر یہ کہ اس مرد مومن کی حمایت ناصحانہ خطاب اور باتوں تک محدود رہی گویا کہ یہ بھی بہت بڑا جہاد تھا لیکن ابوبکر ؓ نے تو زبانی نصیحت وحمایت کے علاوہ اپنے ہاتھ پاؤں اور عمل سے اللہ کے پیغمبر کی حمایت اور مدد کی، تو بیشک یہ بہت ہی اونچا اور اعلی مقام تھا جو اللہ تعالیٰ نے صدیق اکبر ؓ کو عطا فرمایا۔
یوم التناد کی تفسیر :
یوم التناد کی تفسیر میں بالعموم مفسرین نے یہی بیان کیا ہے کہ وہ قیامت کا دن ہے کہ اس میں آوازیں پڑیں گی، وہ نداؤں اور ہانک پکار کا دن ہوگا، ان نداؤں کی تفصیل اور انواع کی طرف ترجمہ کے دوران تشریحی الفاظ میں اشارہ کردیا گیا کہ نفخ صور کے وقت جب زمین پر زلزلہ ہوگا اور شق ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہورہے ہوں گے اور اس ہیبت ناک منظر سے لوگ بدحواس وپریشان ہوں گے تو شدت پریشانی میں بھاگ رہے ہوں گے تو ایک دوسرے کو پکارتا ہوگا، یا یہ ندا فرشتوں کو آواز ہوگی میدان حشر میں جمع ہوجانے کے لیے، نیز یہ ندا فرشتوں کی ہوگی مجرمین کو، اگر تم سے ہوسکے تو آسمان و زمین کے کناروں سے نکل جاؤ، تم کہیں بھی چلے جاؤ خدا کے قبضہ قدرت سے نہیں نکل سکتے ایک ندا وہ ہوگی جب منکرین بدحواسی کے عالم میں بھاگنے لگیں گے تو فرشتے کہیں گے، (آیت) ” لاوزر الی ربک یومئذ المستقر “۔ کہ بھاگنے کی اب کوئی جگہ نہیں۔ اب تو اے انسان تیرے رب ہی کی طرف تیرا ٹھکانا ہے، ایک ندا میزان اعمال پر ہوگی، ایک ندا جنتیوں کو جنت میں جانے کے لیے اور دوزخیوں کو جہنم میں داخل ہونے کے لیے، ایک ندا اعراف والوں کی ہوگی کہ اپنی جان پہچان کے کافروں کو ملامت وتوبیح کریں گے۔ ایک ندا اہل جنت کی جہنمیوں کو ہوگی ایک ندا اہل نار کی طرف سے اہل جنت کو ہوگی، جب وہ اہل جنت سے کچھ پانی یا دوسری کوئی نعمت جنت کی نعمتوں میں سے مانگتے ہوں گے اور ایک ندا اخیر میں رب العزت کی طرف سے اہل جنت اور اہل نار کو ہوگی موت کو ذبح کرتے ہوئے کہ اے لوگو ! سن لو اب خود موت ہی کو موت دی جارہی ہے، اس کے بعد بس خلود و دوام ہی ہے لاموت۔ (موت کا اس کے بعد اب کسی کو تصور ہی نہ کرنا چاہئے) غرض ان سب نداؤں کی وجہ سے اس کو یوم التناد کہا گیا۔
تفسیر مظہری جلد ہشتم میں قاضی محمد ثناء اللہ صاحب الحنفی المظہری (رح) نے یوم التناد کی تفسیر فرماتے ہوئے ابوہریرہ ؓ کی ایک طویل حدیث ذکر فرمائی جس میں تین نفخات کا ذکر ہے، اس سلسلہ میں حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ حق تعالیٰ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو پہلی بار صور پھونکنے کا حکم فرمائیں گے اور فرمائیں گے۔ انفخ، نفخۃ الفزع کہ اے اسرافیل فزع (گھبراہٹ) کا صور پھونکو تو وہ پھونکیں گے جس پر آسمان و زمین والے سب ہی گھبراہٹ وبدحواسی کے عالم میں مبتلا ہوجائیں گے، بجز ان کے کہ جن کو اللہ تعالیٰ مستثنی فرما دے یہ وقت وہ ہوگا کہ دودھ پلانے والی ماں اپنے بچہ کو دودھ پلانے سے غافل ہوجائے گی اور حاملہ عورتوں کے حمل وضع ہوجائیں گے اور بچے ہیبت و گھبراہٹ کی شدت سے بوڑھے ہوجائیں گے، جنات و شیاطین بدحواس ہو کر بھاگنے لگیں گے حتی کہ کناروں تک پہنچ جائیں گے تو فرشتے ان کے چہروں پر گرز مار کر واپس لوٹائیں گے، اس پر وہ لوٹیں گے تو لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوں گے، ایک دوسرے کو پکارتا ہوگا، اس طرح یہ دن پکار کا دن ہوگا،
ابونعیم (رح) ابوحازم الاعرج ؓ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ابو حازم الاعرج خود اپنے آپ کو مخاطب بنا کر فرمایا کرتے۔ اے اعرج قیامت کے دن جب بعض خطا کاروں کو پکارا جائے گا کہ فلاں فلاں خطا کرنے والو کھڑے ہوجاؤ، تو ان کے ساتھ تو کھڑا ہوگا، پھر جب دوبارہ پکار پڑے گی یا اہل الخطیات تو جب بھی تو انہیں کے ساتھ اٹھے گا بس میں تو یہی خیال کررہا ہوں کہ اے اعرج تیرا اٹھنا خطا کاروں ہی کے ساتھ ہوگا، خواہ وہ کتنے ہی اقسام و انواع کی خطائیں ہوں ،
ابن ابی عاصم (رح) نے کتاب السنہ میں عبداللہ بن عمر ؓ سے تخریج فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز ایک منادی ندا کرے گا، خبردار کھڑے ہوجائیں وہ لوگ جو خدا سے جھگڑنے والے ہیں، اس ندا پر فرقہ قدریہ کھڑا ہوگا (اور اس گمراہ فرقہ کے علاوہ علی ہذا القیاس جو بھی فرقے اہل بدعت کے ہوں گے خواہ ان کی بدعات عملہ ہوں یا اعتقادی سب کھڑے ہوجائیں گے) اور اسی روز اہل جنت اہل نار کو پکاریں گے، اور اہل اعراف جہنمیوں کو آواز دیں گے جس کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی، یہاں تک کہ آخری ندا یہ ہوگی، ہر ایک سعید وشقی کا نام پکارتے ہوئے، یہ ہیں سعادت والے جو کبھی ناکام نہ ہوں گے، اور یہ ہیں اشقیاء وبدبخت کو کبھی کامیاب وکامران نہ ہوں گے، (بیہقی (رح)
انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم کو قیامت کے روز میزان اعمال پر لایا جائے گا اور درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا، اگر اس کے اعمال حسنہ بھاری اور غالب ہوئے تو فرشتہ اس کی کامیابی کا اعلان کردے گا اور اگر اس کے اعمال سیۂ بھاری اور غالب ہوگئے تو اس کی بدبختی کا اعلان کردیا جائے گا اور یہ ایسی ندا ہوگی جس کو تمام مخلوق سنے گی۔
طبرانی نے ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت تخریج کی ہے، اس کا مضمون یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا روز ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم فرمائے گا، جو ندا کرے گا اے لوگو ! آگاہ ہوجاؤ میں نے ایک نسب بنایا تھا اور تم نے ایک نسب بنایا، میں نے تو یہ نسب مقرر کیا تھا کہ (آیت) ” ان اکرمکم عنداللہ اتقکم “۔ کہ تم میں سب سے زائد کرامت وعزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقوی والا ہے، مگر اے لوگو، تم نے یہ بات نہیں مانی اور تم باز نہ آئے مگر یہ کہ تم یہی کہو فلاں بن فلاں بہتر ہے فلاں بن فلاں سے یعنی تم خاندانی شرافت اور برتری میں لوگوں کو تولتے رہے۔ بس سمجھ لو کہ آج میں اپنے نسب کو بلند کرتا ہوں اور تمہارے نسب کو گھٹاتا ہوں، (اعلان ہوگا) کہاں میں تقوی والے، تو اس طرح اس روز اہل تقوی کو پکارا جائے گا، اور اسی دن ایک اور ندا دی جائے گی، جس وقت کہ موت کو ذبح کردیا جائے گا۔ یا اھل الجنۃ خلود لایموت ویا اھل النار خلود لایموت۔ امام بخاری (رح) ومسلم نے ابن عمر ؓ کی حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنتی جب جنت میں چلے جائیں گے اور جہنمی جہنم کو چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا (ایک کبش یعنی مینڈھے) کی شکل میں، یہاں تک کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھا جائے گا اور پھر اس کو ذبح کردیا جائے گا، اس اعلان کے ساتھ کہ اے اہل جنت اب ہمیشہ جنت میں رہنا ہے آئندہ کوئی موت نہیں اور اے اہل نار اب ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے آئندہ کوئی موت نہیں کہ مر کر ہی اس عذاب سے نجات مل جائے تو اس نداء واعلان پر اہل جنت کی خوشیوں پر مزید خوشی کا اضافہ ہوجائے گا اور اہل نار کے غموں پر اور غم کا اضافہ ہوجائے گا، الغرض اس طرح کی تمام نداؤں کا اجتماع اس دن کو ”’ یوم التناد “ بنا دینے والا ہوگا۔
یہ تفصیل اس صورت میں ہے کہ یوم التناد دال کے کسرہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھاجائے۔ عبداللہ بن عباس ؓ اور ضحاک (رح) اس کو دال کی تشدید کے ساتھ یوم التناد پڑھا کرتے تھے تو اس قرأت کی رو سے یہ مصدر مشتق ہوگا، ند، یند سے ہوگا، بمعنی بھاگنا بدکنا، کہا جاتا ہے۔ ندا البعیر۔ جب اونٹ بدک کر بھاگ جائے، اس قرأت کی تائید اس روایت سے ہے جو ابن المبارک (رح) اور ضحاک (رح) نے بیان کی ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کو حکم فرمائے گا تو وہ مع اپنی تمام مخلوق کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ ملائکہ اس کے کناروں پر ہوں گے جس وقت پروردگار کا حکم ہوگا تو وہ اتریں گے اور زمین والوں کا احاطہ کرلیں گے، پھر اسی طرح دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں چھٹے آسمان کو حکم ہوگا ہر ایک کے فرشتے علیحدہ علیحدہ صفیں بنا لیں گے، پھر ایک بہت بلند تر فرشتہ اترے گا جس کے بائیں جانب جہنم ہوگی، جب زمین والے جہنم دیکھیں گے تو گھبرا کر بھاگنے لگیں گے تو اس حالت میں زمین کے جس کو نہ اور جانب کا رخ کریں گے وہاں فرشتوں کو صف بستہ پائیں گے کہ ان کی سات صفیں مرتب ہیں (اور انہوں نے ہر راستہ گھیر رکھا ہے، بھاگ کر کہاں جائیں گے) تو یہ دیکھ کر پھر اپنی جگہ لوٹ آئیں گے، ضحاک (رح) فرمایا کرتے یہی مراد ہے اس آیت مبارکہ (آیت) ” انی اخاف علیکم یوم التناد “۔ کی کہ میں تمہارے بارے میں خوف کررہا ہوں اس دن کا کہ جب ہر طرف سے لوگ بھاگتے ہونگے اور ان کو کسی رخ سے بھی پناہ نہ ملے گی اور نہ نکلنے کا راستہ ہوگا (تفسیر مظہری جلد ہشتم )
حضرت شاہ صاحب (رح) نے یوم التناد کے ایک اور معنی بیان کیے، فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں فرعونیوں پر عذاب آیا چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہانک پکار کا دن ان پر آیا جس دن بحر قلزم میں غرق ہوئے اس وقت ڈوبتے ہوئے ایک دوسرے کو پکارنے لگا (شاید) اس مرد مومن کو کشف سے معلوم ہوا ہوگا یا قیاس سے کہ ہر قوم پر اسی طرح عذاب آتا ہے۔ (از فوائد شیخ الاسلام (رح)