Ayahs 39:1–6اثبات حقانیت کتاب الہی و توحید خداوندی وابطال شرک :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ....... الی ....... فانی تصرفون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں زیادہ ترمضامین اثبات رسالت کے متعلق تھے اور مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب ورد تھا اور ان کے بیہودہ تمسخر پر تحمیق وتجہیل تھی اب اس سورت میں توحید خداوندی کا بیان ہے اور ابطال شرک اور یہ کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اس میں کسی کو شریک کرنا خواہ کسی بھی عقیدہ اور تخیل سے ہو عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور شرک کے مرتکب کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ان مضامین کیلئے بطور تمہید حقانیت قرآن کا ذکر فرما کر یہ سلسلہ مضامین شروع کیا جارہا ہے۔
(آیت) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم : تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم “۔
فرمایا یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے اس لئے کسی کو جرأت نہ ہونی چاہیے کہ اس کا انکار کرے اگر انکار وتردد کیا تو ظاہر ہے اس غلبہ اور طاقت والے پروردگار کی گرفت اور سزا سے نہیں بچ سکے گا اور چونکہ وہ حکمت والا ہے اس وجہ سے کسی کو قدرت نہیں کہ اس کے کسی پیغام وحکم کو خلاف مصلحت کہے بیشک ہم نے اتارا ہے اس کتاب کو آپ ﷺ کی طرف حق کے ساتھ ٹھیک طور سے لہذا آپ ﷺ اللہ کی عبادت کرتے رہیے جیسا کہ اب تک آپ ﷺ اسکی عبادت میں مصروف ہیں خالص اللہ ہی کی معبودیت والوہیت کا اعتقاد رکھتے ہوئے یاد رکھو اللہ ہی کے لیے عبادت و بندگی مخصوص ہے جوہر قسم کی شرک کی گندگی سے پاک ہو اور اللہ کی توحید وخالقیت اور عبادت صرف اسی کا حق ہے یہ عین فطرت اور عقل کے مطابق ہے فطرت انسان اور عقل اس کو ہرگز گوارہ نہیں کرتی کہ اس معبود حقیقی کی عبادت میں کسی کو شریک بنایا جائے اس لیے ہر ایک پر یہ لازم ہے کہ اسکو قبول کرے اور اس کے مطابق عمل کرے اور جن لوگوں نے اللہ کی عبادت خاصہ چھوڑ کر خدا کے سوا اور معبود تجویز کر رکھے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں عبادت کرتے ہیں ان معبودوں کی مگر صرف اس لئے کہ یہ معبود ہم کو اللہ کے قریب کردیں گے اور اسکا مقرب ہم کو بنا دیں گے سو ان کا یہ گمان اور عقیدہ لغو اور باطل ہے بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے گا ان کے اور اہل ایمان کے درمیان قیامت کے روز انکے اس اختلافی معاملہ میں کہ اہل ایمان و توحید کو جنت میں داخل فرمادیا جائے گا اور اہل شرک ذلت و خواری کے ساتھ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے اور اس طرح عملا اس اختلاف کا فیصلہ ہوجائے گا آپ ﷺ ایسے بدنصیبوں کی گمراہی اور ہلاکت پر غم نہ کیجئے اور نہ تعجب کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود کیوں راہ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز ایسے شخص کو راہ پر نہیں لاتا جو جھوٹا اور نافرمان ہو اور جو اپنی زبان سے اقوال کا ذبہ اور کفریہ بولتا ہو دل کفر کے اعتقاد سے لبریز ہو اور عمل سے نافرمانی اور کفر پر تلا ہوا ہو ظاہر ہے کہ یہ جملہ احوال ایسے شخص کی بدنصیبی اور محرومی ہی کا باعث ہیں۔
مشرکین کا ایک شرک یہ بھی تھا کہ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا خدا کا بیٹا قرار دیا تو ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اگر بالفرض اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا اس بات کا کہ کسی کو بیٹا بنائے تو چن لیتا اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ہر چیز کائنات میں اس کی مخلوق ہے اور بیٹا ہونے کے لئے اگر کسی کو منتخب کرتا تو وہ بھی اس کی مخلوق ہوتا جو یقیناً اللہ کی جنس سے نہ ہوتا اور یہ بات ظاہر ہے کہ بیٹا باپ کی جنس سے ہوتا ہے تو یہ کیونکر ممکن تھا کہ مخلوق اس کی اولاد ہوجائے اور اگر بالفرض ایسا ہو تو یہ بہت بڑا عیب اور نقصان ہے کہ بیٹا والد کی جنس سے نہ ہو وہ تو ہر عیب سے پاک ہے وہ اللہ یکتا ہے کہ اس کا کوئی شریک اور نمونہ نہیں جو زبردست عزت اور غلبہ والا ہے لہذا نہ اس کی طرف اولاد کی نسبت کی جاسکتی ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ایسے شرک کا ارتکاب کرنے والے اس کی گرفت اور عذاب سے بچ سکیں اس کی قوت اور غلبہ کا تو یہ عالم ہے کہ اس نے آسمان و زمین کو حکمت سے پیدا کیا اور رات کی ظلمت کو لپیٹ دیتا ہے دن کی روشنی پر جس سے دن غائب ہوجاتا ہے اور ایسا ہی ہوجاتا ہے جیسے کسی چیز کو کسی میں لپیٹ کر چھپا دیا گیا اور دن کی روشنی کو لپیٹ دیتا ہے رات کی ظلمت پر جس سے رات غائب ہوجاتی ہے اور مسخر کردیا ہے اس نے سورج کو اور چاند کو ہر ایک کو اپنے کام میں لگا رکھا ہے کہ ان میں ہر ایک چلتا رہے گا ایک وقت مقرر تک ہر ایک کی رفتار اور نظام لیل ونہار قیامت تک اسی بہترین اسلوب کے ساتھ جاری رہے گا یہ آسمان اور زمین اور لیل ونہارا اپنے میں کس قدر حکمتیں اور خالق رب العالمین کی وحدانیت اور الوہیت کی دلیلیں لئے ہوئے ہیں خبر دار ہوجاؤ وہی ہے زبردست قدرت والا ان لوگوں کو عذاب دینے کے لیے جو ان دلائل کے باوجود اس کی توحید پر ایمان نہ لائیں ساتھ ہی بڑی مغفرت کرنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنی گذشتہ زندگی کے کفر وشرک کو چھوڑ کر ایمان لے آئیں آخر سوچنا چاہیے کہ انسان اس خالق حقیقی اور رب منعم کا انکار اور اس کے ساتھ شرک کرتا ہے جس نے اس کی تخلیق میں مادہ وحدت اور یگانگت کا رکھا کہ تمام بنی نوع انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں پھر یہی وہ اس کے ساتھ شرک کرکے انسانوں میں مومن و کافر کی تفریق پیدا کررہا ہے ان باہر کے دلائل کے علاوہ خود اس کے وجود میں ایسے دلائل ہیں کہ وہ ان سے خدا کو پہچان سکتا ہے اور یہ کہ اس کی وحدانیت پر ایمان لانا عین فطرت کا تقاضا ہے تو اے انسانو ! پیدا کیا اس نے تم کو ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پھر اسی سے بنایا اس کا جوڑا یعنی حوا (علیہا السلام) کو پیدا کیا جس سے دنیا انسانوں کی پیدائش کا سلسلہ جاری ہوا اور بنائے تمہارے نفع کے لیے جو پاؤں میں سے آٹھ نرو مادہ اونٹ، گائے بھیڑ، بکری، جو پروردگار پیدا کرتا ہے تم کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تمہاری ماؤں کے پیٹ میں ایک طرح کے بعد دوسری طرح پر تین اندھیروں میں یعنی بتدریج تم کو نطفہ سے علقہ بناتا ہے اور پھر اس دم بستہ کو مضغۂ لحم پھر اس پر ہڈیاں اور گوشت چڑھاتا ہے پھر روح پھونک کر حیات وزندگی کے ساتھ ان تین۔ 1
حاشیہ نمبر 1 (تین اندھیروں سے مراد ایک پیٹ ہے دوسرا اندھیرا رحم ہے اور تیسرا وہ جھلی جس میں بچہ محفوظ ہوتا ہے ان اندھیروں میں ہی خدا نے اس کو بتدریج نشوونما کی پھر حیات وزندگی بخشی اور پھر اس رحم مادر سے باہر نکالا تو وہ دیکھنے اور سننے والا تھا۔ 12۔ )
اندھیروں سے تم کو باہر لاتا ہے سن لو یہ ہے اللہ تمہارا رب جس کی یہ عظیم قدرتیں اور بلند پایہ حکمتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک چیز اسکی ربوبیت وخالقیت اور وحدانیت کی ایسی دلیل ہے جو تمہارے وجود میں رچی ہوتی ہے اسی کی سلطنت وحکمرانی ہے اس کے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں سوائے انسانو ! ان دلائل وحقائق کے بعد بھی تم کہاں بھٹک رہے ہو تم پر واجب ہے کہ اس کی خالقیت اور وحدانیت پر ایمان لاؤ۔
ان آیات مبارکہ میں حق تعالیٰ نے کتاب الہی کو حق کے ساتھ نازل کئے جانے پر یہ حکم تنوع فرمایا (آیت ) ” فاعبد اللہ مخلصا لہ الدین “۔ اس لیے کہ جو کتاب حق واصداقت لے کر نازل ہوئی اس پر عمل اس طرح ممکن ہے کہ اخلاص نیت کے ساتھ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے اخلاص کے بغیر توحید کا حق ادا نہیں ہوسکتا کیونکہ اخلاص کی نفی اور ضد شرک اور ریاء ہے اخلاص کے حکم کے ساتھ (آیت ) ” الا للہ الدین الخالص “۔ اسی کی تاکید اور تکمیل کے لیے فرمایا گیا تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ اللہ کی بارگاہ میں پسندیدہ دین وہی ہے جو شرک کی آمیزش سے ہر طرح پاک ہویزید رقاشی ؓ سے منقول ہے ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ہم میں سے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مال خرچ کرتے اللہ کی راہ میں مگر وہ چاہتے ہیں ان کی شہرت ہو تو کیا ایسی صورت میں کوئی اجر وثواب ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت صرف اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو صرف اسی کے واسطے خالص کی گئی ہو اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” الا للہ الدین الخالص “۔
(آیت ) ” لو اراد اللہ ان یتخذوالدا “۔ سلسلہ توحید خداوندی میں یہ آیت مشرکین ونصاری اور ان تمام گمراہ فرقوں کا رد ہے جو اللہ کے لئے اولاد تجویز کرتے ہیں مثلا نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور اسی کے ساتھ تین خداؤں (تثلیث) کے بھی قائل ہیں اور مشرکین عرب میں بعض قبیلے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے۔
مراد یہ ہے کہ بالفرض اگر خدا تعالیٰ یہ ارادہ کرتا کہ اس کی کوئی اولاد ہو تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی مخلوق ہی میں کسی کو اس مقصد کے لئے چنتا کیونکہ یہ بات تو دلائل سے ثابت ہوچکی کہ خدا ایک ہے اور اس کے سوا کائنات میں جو کچھ ہے وہ اسکی مخلوق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ مخلوق اور خالق میں کسی طرح کا بھی نوعی یا جنسی اشتراک نہیں ہوسکتا تو پھر ایک دوسرے کا باپ بیٹا کیسے ہوسکتا ہے اور جب مخلوق و خالق میں یہ رشتہ محال ہے تو یقیناً اللہ کی طرف سے ایسا ارادہ کرنا بھی محال ہوگا علاوہ ازیں اگر اس محال کے بارے میں بھی یہ فرض کرلیں کہ یہ محال نہیں تب بھی فرشتوں کو بیٹیاں بنانا عقل میں آنے والی بات نہیں ہے اس لیے کہ جب مخلوق میں انتکاب ہی کرنا ٹھیرا تو اس کا کیا مطلب ہے خدا تعالیٰ اپنی واسطے گھٹیاچیز انتخاب کرے یعنی بیٹیاں اور عمدہ چیز چن چن کر تمہیں دے دے یعنی بیٹے غرض یہ کہ ایسا فرض کرنا بھی امکان سے خارج ہے اور اللہ کی الوہیت میں تو کوئی دوسرا کیا شریک ہوتا اسکے ساتھ تو کسی کو نوعی یا جنسی اشتراک بھی نہیں ہوسکتا ،
(آیت ) ” وانزل لکم من الانعام “۔ میں لفظ انزل بمعنی خلق یعنی پیدا کئے تمہارے واسطے آٹھ اقسام چوپایوں کے نرومادہ سے ملاکر یہاں انزل بمعنی خلق (آیت ) ” اوجد “ ہوا اور یہ ایسا ہی ہوا جیسے (آیت ) ” وانزلنا الحدید “۔ اور (آیت ) ” یا بنی ادم قد انزلنا علیکم لباسایواری سوء تکم “۔ میں لفظ انزل استعمال کیا گیا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عنوان اس لحاظ سے اختیار کیا گیا ہو کہ یہ تمام اشیا ازقبیل انعامات خداوندی ہیں اور انعام کی عطا و بخشش ملا اعلی سے دنیا والوں کے لیے ہوتی ہے تو اس وجہ سے انزل کا عنوان اختیار فرمالیا گیا یا یہ کہ انعام وچوپایوں اور لباس جو نباتات کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے ان کے وجود میں آسمان کے پانی اور بارش کو دخل ہے یا بقول بعض مفسرین یہ اشیا درحقیقت اپنی اصل لحاظ سے جنت میں تھیں انکو جنت سے زمین پر اتارا گیا۔
Ayah 39:7قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان تکفروا فان اللہ غنی ....... الی ....... علیم بذات الصدور “۔
حق تعالیٰ شانہ نے دلائل توحید وخالقیت کے بعد اپنی شان بےنیازی کا ذکر فرمایا کہ کسی کے ایمان سے خدا کو کوئی نفع اور کسی کے کفر سے اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچتا وہ تو بےنیاز ہے اس کی بارگاہ میں کفر ونافرمانی پسند نہیں ہاں شکر و اطاعت اسکو محبوب ہے اس لیے ہر شخص کو سمجھ لینا چاہئے ایمان وکفر کا نفع نقصان خود مومن و کافر کی ذات ہی کو پہنچے گا قانون خدا وندی ہے (آیت ) ” کل امری بما کسب رھین “۔ ہر انسان اپنے کئے ہوئے پر ماخوذ ہے اور (آیت ) ” ان اللہ لغنی عن العالمین “۔ خدا تمام جہانوں سے بےنیاز ہے تو فرمایا اے لوگو ! اگر تم کفر ونافرمانی اور شرک کروگے تو سن لو خدا اس میں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں کیونکہ اللہ بےنیاز ہے تم سے اس کو تمہاری طاعت و عبادت کی کوئی حاجت نہیں ہے تمہاری نافرمانی اور بغاوت سے اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور وہ اپنے بندوں کے واسطے کفر کو پسند نہیں کرتا کیونکہ کفر سے خود بندوں کو ضرر پہنچتا ہے تو اسکو کفرناپسند ہونا بندوں پر رحمت اور محبت کی وجہ سے ہے اور محبت ورأفت کا تقاضا یہی ہے بندوں کی ہلاکت وتباہی اور امن و عافیت کی بربادتی ناگوار ہو اور اگر تم شکر کروگے تو اللہ اس شکر گزاری اور طاعت وفرمانبرداری کو تمہارے واسطے پسند کرے گا اور ظاہر ہے کہ اس کا نفع اے انسانو ! تم ہی کو پہنچے گا اور اس کا ایمان وطاعت کو پسند کرنا اسی لیے ہے نہ کہ کہ اس کو بندوں کے ایمان وطاعت کی کوئی حاجت ہے اور نہ ضابطہ طے پاچکا ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا اس لیے کسی کو کفر ونافرمانی کر کے یہ تصور نہ کرنا چاہئے کہ اس کے گناہوں کا بوجھ کوئی دوسرا اٹھائے گا دنیا میں بیشک ایسا ہوجاتا ہے کسی کے متبعین و خدام یا دوست اور اعزاء دوسرا اٹھالیں مگر آخرت میں کوئی کسی کے کام نہ آئے گا وہاں انسان کا صرف ایمان اور اس کا عمل ہی اس کا سہارا ہوگا اور اعمال کے ثمرات ونتائج بہرحارحمۃ اللہ علیہ بھگتنے ہیں یہ ممکن نہیں کہ کوئی اس سے بچ جائے دنیوی حیات میں مجرمین بسا اوقات اس بنا پر اپنے جرم کی پاداش سے بچ جایا کرتے ہیں کہ ان کے جرم کی اطلاع نہیں ہوئی مگر بار گاہ خداوندی میں ہر عمل موجود و محفوظ ہے اور وہاں ضرورر جانا ہے اس لیے اس سے غافل نہ ہونا چاہئے کہ پھر تمہارے رب کی طرف تمہارا لوٹنا ہے تو وہ تمہارے سارے اعمال تم کو بتا دیگا جس کے بعد تم کسی بھی عمل اور بات کا انکار نہ کرسکو گے وہ تو دلوں کی بات بھی خوب جاننے والا ہے اس لیے یہ خیال تمہارا بالکل باطل ہے کہ یہ قیامت ہے اور نہ جزاء سزا اور نہ تمہارے اعمال کی اس کو خبر ہے۔
حق تعالیٰ شانہ نے اس آیت مبارکہ میں اپنی شان بےنیازی واستغناء کا جو ذکر فرمایا یہ مضمون مشہور حدیث قدسی میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے جس کو امام مسلم (رح) نے اپنی صحیح میں اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے جس میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے اے میرے بندو اگر تم میں سے اولین و آخرین جن وانس زندہ و مردہ تر اور خشک یعنی جاندار اور بےجان سب کے سب مل کر ایک شقی ترین انسان کا پیکر بن جائیں تو یہ سب میرے ملک میں مچھر کے پر کے برابر بھی نقصان نہیں کرسکتے یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی قوم سے خطاب کے ذیل میں ذکر فرمائی فرمایا (آیت ) ” ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا فان اللہ لغنی حمید “۔ (کہ اے لوگو ! اگر تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی ملکر کفر کرو تو (جان لو خدا کا کوئی نقصان نہیں) بیشک اللہ تو ہر حال میں بےنیاز ہے اور لائق ستائش وحمد وثناء ہے۔ ،
Ayah 39:8فراموشی و غفلت انسان از رب منعم درحالت نعمت و اضطراب وانابت در مصیبت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذا مس الانسان ...... الی ...... من اصحب النار “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ رب العزت نے اپنی شان بےنیازی بیان فرمائی اب اس کے بالمقابل انسان کی اس فطری ونائت کا ذکر کیا رہا ہے جس میں بالعموم وہ مبتلا ہوتا ہے اس دنائت وکمینگی سے پاک کرنے والی چیز صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات وتعلیمات ہیں اور اس امر کا احساس و شعور کو خدا کے اس پر کیسے عظیم انعامات ہیں اور انعامات کا تقاضا ہے اور انسان ہر حالت میں اپنے رب کے ساتھ تعلق رکھے نعمتوں میں شاکر بن کر خدا سے رابطہ رکھے اور تکلیف ومشقت میں صابر ہو کر اس کی رحمتوں اور عنایات کا مستحق بنے۔
فرمایا اور اس انسان کو جس نے اپنے رب سے کوئی واسطہ نہیں رکھا جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے وہ رب جس کی معرفت اسکی فطرت میں موجود ہے جو عہد الست سے اس میں سرایت کیئے ہوئے ہے اور اس وقت اس کو اپنے وہ معبودان باطلہ یاد نہیں آتے جن کو اس نے اپنا معبود بنایا ہوا یا خدا کی الوہیت میں شریک کیا ہوا ہے پھر جب اللہ اس کو اپنی طرف سے نعمت امن و عافیت اور آسائش عطا فرما دیتا ہے تو بھول جاتا ہے جس تکلیف کے دفع کرنے کے لئے پہلے سے وہ (خدا کو) پکار رہا تھا اور پھر غفلت وبغاوت کے ساتھ خدا کے شریک بنانے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی گمراہی کے علاوہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے بھٹکا دے آپ ﷺ ایسے شخص سے کہدیجئے نفع اٹھالے اپنے کفر کے ساتھ تھوڑا سا کیونکہ یہ متاع دنیا قلیل ہے اور یہاں کی لذتیں اور راحتیں بھی عارضی ہیں آخرت میں بہر کیف جانا ہے بیشک تو وہاں جہنمیوں میں سے ہوگا جہاں کا عذاب شدید اور ابدی ہوگا جس سے کبھی چھٹکارا نصیب نہ ہوگا تو اس نافرمان و کافر انسان کی بڑی غلطی ہے کہ دنیا کی چند روزہ نعمتوں اور لذتوں میں پڑ کر جہنم کا دائمی عذاب اختیار کررہا ہے، (آیت ) ” لیضل عن سبیلہ “۔ اکثر مفسرین وقراء اسکو یا کہ ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں جس کا ترجمہ ہے تاکہ گمراہ کرے کیونکہ کافر خو اپنے عمل سے گمراہ تو ہوتا ہی ہے لیکن وہ اپنی ذات کی گمراہی کے علاوہ اپنے عمل اور گمراہ کن کوششوں سے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے اس لیے اسکے کفر کا حقیقت میں نتیجہ یہی نکلتا ہے تو وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرے ،
بعض قراء مثلا ابن کثیر (رح) اور ابو حفص (رح) اس کو بفتح یا پڑھتے ہیں تو اس تقدیر پر ترجمہ ہوگا تاکہ گمراہ ہو اللہ کے راستہ سے۔
Ayahs 39:9–18مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔
(ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و تدبر ہی کے ذریعہ انسان ہدایت قبول کرتا ہے اس لیے علم اور جہل برابر نہیں ہوسکتے اسی سلسلہ مضمون میں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ لوگوں کو ایمان وتقوی کی دعوت دیں اور یہ کہ اعلان فرما دیں خود میرا عمل اور طرز زندگی سراپا اخلاص اور عبادت خداوندی ہے اور خوف خدا اور فکر آخرت سے میں کسی بھی لمحہ غافل نہیں اب اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اپنی باغیانہ روش ترک نہیں کرتا تو آپ ﷺ اس سے بیزاری کا اعلان فرما دیجئے اور یہ کہدیجئے کہ ایسے لوگ خود اپنے آپ کو اور اپنے اہل ومتبعین کو بھی ہلاکت وتباہی میں مبتلا کررہے ہیں ارشاد فرمایا بھلا کیا وہ شخص جو اطاعت و بندگی میں لگا ہوا رات کے ٹکڑوں میں جبکہ بالعموم لوگ آرام و راحت کے ساتھ بستروں پر ہوں یہ بجائے نیند اور استراحت کے خدا کی یاد میں سجدے کرتا ہے اور کھڑا ہوا اللہ کو پکاررہا ہے آخرت سے ڈر رہا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے اور وہ شخص جو خدا سے غافل اور آخرت سے بےفکر شرک وکفر اور نافرمانی میں مبتلا ہے برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ قانت ومطیع اللہ کی بندگی میں مصروف رات کی تاریکیوں میں اس کے لیے سربسجود جو اس کے عذاب وقہر سے ڈر رہا ہے اور رحمت کا امیدوار ہے اللہ کے نزدیک محمودوپسندیدہ اور محبوب ہے اور وہ مشرک ونافرمان جو مطلب نکالنے کے بعد خدا کو بھلا دیتا ہے خدا کے نزدیک مبغوض اور قابل نفرت ہے آپ اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے کہہ دیجئے کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ لوگ جو علم والے ہیں اور ہو جو جاہل ہیں کسی قسم کا قطعا علم نہیں رکھتے۔
دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ علم اور جہل برابر نہیں اور عالم و جاہل کا درجہ یکساں نہیں ہوسکتا اسی طرح یہ بھی ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ ایمان وکفر اور مومن و کافر برابر نہیں ہوسکتے مگر افسوس کہ ان حقائق کو اکثر لوگ نہ سوچتے ہیں اور نہ اس سے عبرت وسبق حاصل کرتے ہیں ان چیزوں سے تو صرف وہی لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں اور جب یہ واضح اور ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ لوگ صرف وہی ہیں جن کا شیوہ اللہ کی بندگی اور فکر آخرت ہی ہے تو آپ فرما دیجئے میرے بندوں کو میری طرف سے میرا یہ پیغام اے میرے وہ بندو ! جو ایمان لائے ڈرو تم اپنے رب سے اب اس طرح کا ڈر جو اس ذات بابرکت کا حق تقوی ادا کرنے والا ہے اور اس خوف و خشیت سے تم عبادت پر دوام وپابندی اختیار کئے رکھو اور یہ سمجھ لو جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کے کام کئے واسطے بہترین بدلہ ہے آخرت میں تو یہ بدلہ ضرور ملنا ہی ہے دنیا میں بھی موجب رحمت و برکت ہے خواہ ظاہرہ ہو یا باطنہ اور اگر جس سرزمین میں تم رہتے ہو وہاں طاعت و بندگی سے موانع ہیں تو ہجرت کرکے دوسری جگہ جاسکتے ہو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے طاعت و نیکی میں استقلال و استقامت اختیار کرو کیونکہ صبر و استقامت اختیار کرنے والوں کو اجر بےحساب دیا جاتا ہے اور ہر عمل اخلاص ہی سے بارگاہ خداوندی میں قابل اعتبار ہے تو آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجئے کہ مجھ کو تو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اس طرح کہ اسی کے لئے عبادت و بندگی کو خالص کرنے والا ہوجاؤں جس میں شرک کا ادنی شائبہ بھی نہ ہو اور مجھ کو یہ بھی حکم ہوا ہے کہ میں طاعت کرنے والوں میں سب سے پہلا اطاعت کرنے والا ہوں تاکہ دنیا میں خدا کا ہر مطیع وفرمانبردار بندہ میری اطاعت وفرما نبرداری ہی کو اپنے واسطے اسوہ اور نمونہ بنائے اور ظاہر ہے کہ اطاعت و بندگی خشیت خداوندی کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ کوئی نڈر غلام اپنے آقا کا کبھی فرمانبردار نہیں ہوسکتا اس لیے یہ بات بھی کہہ دیجئے میں تو ڈرتا ہوں اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں ایک بڑے دن کے عذاب سے آپ اگر ان تمام باتوں کے بعد بھی ان نافرمانوں میں اللہ کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ محسوس نہ کریں تو پھر کہہ دیجئے میں تو اللہ کی عبادت اسی طرح کرتا رہوں گا اس لئے اپنی بندگی خالص کرتے ہوئے اب تم جس کی چاہو عبادت کرلو اس کو چھوڑ کر تمہیں خود اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اس حقیقت کے پیش نظر آپ ﷺ اتمام حجت کے طور پر کہہ دیں پورا خسارہ اور نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو اپنی جانوں اور اپنے اہل و عیال کو جو ان کے نقش قدم پر چلے ہلاکت اور خسارہ میں ڈالنے والے ہیں قیامت کے روز یاد رکھو یہی صریح خسارہ ہے کہ نہ انسان کو خود نجات نصیب ہوئی اور نہ اہل و عیال اور متعلقین کو راحت دیکھنا نصیب ہوئی تو اس سے بڑھ کر اور کون ساخسارہ یا تباہی ہوسکتی ہے ان لوگوں کے واسطے تو ان کے اوپر سے سائبان ہوں گے آگ کے شعلوں کے اور ان کے نیچے سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور یہ اوپر اور نیچے کے شعلے اس طرح ہوں گے جیسے سمندر کی موجوں کے اندر غرق انسان کے اوپر بھی موجیں اور نیچے بھی طوفانی تھپیڑے یہی تو ہے وہ عذاب جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے سو اے میرے بندو مجھ سے ڈرو اور میرے احکام کی اطاعت میں لگ جاؤ ورنہ تو نافرمانوں کے لئے جو عذاب اللہ نے تیار کر رکھا ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
اور جو لوگ شیطان سے بچتے ہیں اس بات میں کہ اس کی پرستش کریں اور اس کے کہنے پر چلیں اور انہوں نے نفس و شیطان سے منہ موڑ کر خالصۃ اپنی زندگی کا رخ اللہ کی طرف کر رکھا ہے تو آپ میرے ان بندوں کو خوش خبری سنا دیجئے جو اللہ کی بات کی طرف کان لگاتے ہیں تو جہ سے سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی ہیں وہ جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی ہیں وہ جو عقل والے تو ایسے ایمان واخلاص اور توجہ سے اللہ کی باتیں سننے اور ماننے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کو حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور جنت میں ہر طرح کے انعام و اعزاز کی بشارت سنا دیجئے۔
آیت مبارکہ (آیت ) ” امن ھو قانت “۔ کا مضمون جس میں مطیعین کی تعریف اور ان پر انعامات خداوندی کا ذکر فرمایا گیا بعینہ وہی مضمون ہے (آیت ) ” لیسوا سوآء، من اھل الکتاب امۃ قآئمۃ یتلون ایات اللہ انآء الیل وھم ویسجدون “۔ میں گزر چکا ان کلمات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ قنوت کا مفہوم صرف قیام نہیں بلکہ اس کے معنی خشوع کے زیادہ راجح معلوم ہوتے ہیں سفیان ثوری (رح) بروایت مسروق (رح) عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ قانت بمعنی مطیع ہے یعنی اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی اطاعت کرتا ہو (آیت ) ” انآء الیل “۔ رات کے ٹکڑوں کو کہا جاتا ہے رات کی تاریکی میں عبادت باعث سکون و فرحت بھی اور موجب قرب خداوندی بھی قیام لیل اور تہجد خدا کی بارگاہ میں اس قدر محبوب عمل ہے کہ فرشتے اس عمل کو بارگاہ خداوندی میں پیش کرنے کے لئے باہم خصومت کرتے ہیں ہر ایک فرشتہ کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس عمل کو لے کر وہی سب سے پہلے بارگاہ رب العزت میں پہنچے جیسے کہ حدیث اختصام ملاء اعلی میں ذکر فرمایا گیا۔
شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں یعنی جو بندہ رات کی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں لگا کبھی اس کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا کبھی سجدہ میں گزرا ایک طرف آخرت کا خوف اس کے دل کو بےقرار کیئے ہوئے ہے اور دوسری طرف اللہ کی رحمت نے ڈھارس بندھا رکھی ہے تو کیا یہ سعید بندہ اور وہ بدبخت انسان جس کا ذکر اوپر ہوا کہ مصیبت کے وقت خدا کو پکارتا ہے اور جہاں مصیبت کی گھڑی نکلی خدا کو چھوڑ بیٹھا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں ایسا ہو تو یوں کہو کہ ایک عالم اور جاہل یا سمجھ دار اور بیوقوف میں کچھ فرق نہ رہا مگر ظاہر ہے کہ اس بات کو وہی سوچتے اور سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے عقل دی ہے (انتہی کلامہ، ایمان کی حقیقت اور اصل روح چونکہ خوف ورجأ ہے اس وجہ سے یہاں اہل ایمان وطاعت کی یہ خصوصی صفت بیان کی گئی (آیت ) ” یحذرالاخرۃ ویرجوا رحمۃ ربہ “۔ یعنی آخرت کا ڈر اور اپنے رب کی رحمت کی امید حالت عبادت میں قائم کیئے ہوتے ہو کیونکہ جس طرح یہ صفت ایمان کا کمال ہے اسی طرح یہ وصف عبادت کا بھی کمال ہے خوف ورجایہ دونوں کیفیتیں ایمان کی روح اور عبادت کے جو ہر ہیں مگر ان میں سے ایک کیفیت خوف زندگی میں غالب چاہئیے اور جب انسان دنیا سے رحلت کررہا ہو تو پھر رجاء کا پلہ بھاری ہونا چاہئے کیونکہ اب وقت رجاء اور امید رحمت کا ہے اور خوف جو اصلاح عمل کے لیے ضروری تھا اب یہ انسان دارالعمل سے روانہ ہونے کی وجہ سے اس مرحلہ سے گزر چکا ہے عمل کے میدان کو عبور کرے دار الجزاء کے دروازے پر کھڑا ہے تو یہ وقت رجاء کے غلبہ کا ہے۔ ؛
عبد بن حمید (رح) نے باسناد انس بن مالک ؓ یہ حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ مرض الموت کی حالت میں تھے آپ ﷺ نے اس شخص سے دریافت فرمایا بتاؤ تم اس وقت اپنے آپ کو کیسی حالت میں پا رہے ہو جواب دیا انی ارجوا للہ واخاف ذنوبی “۔ کہ میں اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دو صفتیں کسی مومن بندہ کے قلب میں جمع ہوں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز عطا نہ فرمائے جس کی اسے امید ہے اور اس چیز سے اس کو مامون و محفوظ نہ فرما دے جس سے وہ ڈر رہا ہے (جامع ترمذی۔ سنن نسائی ) ۔
ابن ابی حاتم (رح) بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ البکاء (رح) نے ایک دفعہ ابن عمر ؓ کو ....... یہ (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ساجدا وقآئما یحذر الاخرۃ ویرجوا رحمۃ ربہ “۔ پڑھتے ہوئے سنا تو سن کر فرمایا یہ شخص جس کا ذکر قرآن کریم نے ان کلمات میں کیا وہ تو عثمان بن عفان ؓ ہیں کیونکہ ان کی یہی شان تھی کہ پوری رات تہجد اور تلاوت میں گذر جاتی تھی اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی رکعت میں پورا قرآن کریم پڑھ لیتے۔
(آیت ) ” ارض اللہ واسعۃ “۔ کے ترجمہ میں اضافہ کردہ کلمات سے یہ ظاہر کیا گیا کہ انسان اگر اپنے وطن میں عبادت نہیں کرسکتا تو پھر اس کو چاہئے کہ اس سرزمین سے ہجرت کرکے ایسی جگہ جائے جہاں اپنے رب کی اطاعت کرسکے اس تفسیر پر ماقبل سے ربط بخوبی واضح ہورہا ہے کہ اس دنیا میں نیکی کرنیو الوں کی نیکی کا بدلہ ضرور ان کو ملے گا رہا یہ کہ اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ میں تو ایسی جگہ محصور ہوں اور کفار کا غلبہ و تسلط ہے کہ اور عبادت کر ہی نہیں سکتا تو اس کو فرمایا جارہا ہے اگر یہ زمین تیرے واسطے تنگ ہے تو کیا ہوا کہیں اور چلا جا (آیت ) ” ارض اللہ واسعۃ “۔ اللہ کی زمین تو بہت وسیع ہے چناچہ مجاہد (رح) اسکی تفسیر میں فرمایا کرتے تھے فتھاجروا فیھا وجاھدوا واعتزلوا الاوثان، مجاہد (رح) کے اس کلمہ نے ایک لطیف اشارہ بھی کردیا مسلمانوں پر اگر کافروں کے غلبہ اور تسلط سے کوئی جگہ نیکی اور عبادت کے لئے تنگ ہے تو ہجرت کے ساتھ جہاد بھی کرو تاکہ جہاد کے ذریعہ اللہ کی وسیع زمین فتح کرو اور وہاں اللہ کا دین قائم کرو ،
عطاء (رح) کا قول ہے کہ جب تم کو کسی معصیت کی طرف بلایا جائے تو تم اس جگہ سے راہ فرار اختیار کرو (آیت ) ” الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا “۔ اسی معنی اور حکم کو ثابت کرنے کے لئے امام بخاری (رح) نے کتاب الایمان میں ایک باب ” من الدین الفرار من الفتن “۔ قائم کیا ہے کہ دین کے شعبوں میں سے ایک شعبہ یہ ہے کہ فتنوں کی سرزمین سے انسان راہ فرار اختیار کرے۔
Ayahs 39:19–21مذمت ووعید بر شقاوت مجر میں و فلاح وکامرانی مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن حق علیہ .......... الی .......... لاولی الالباب :
(ربط) گذشتہ آیات میں بالقصد اور اصل بیان مومنین ومطیعین کا اور عنداللہ انکے درجات و انعامات کا تھا درمیان میں ضمنا مجرمین کے خسارہ کا بھی ذکر ہوگیا تھا اب ان آیات میں ایسے بدنصیب اور محروم لوگوں کی ذلت وناکامی اور اہل ایمان وطاعت کی کامیابی کا بیان ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت کے یہاں انکے درجات کس قدر بلند ہوں گ ے۔
ارشاد فرمایا کیا وہ شخص جس پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے بھلا کیا آپ اس کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا سکتے ہیں اس لئے کہ جن کے حق میں یہ فیصلہ ہوچکا وہ ہرگز گمراہی سے نہیں نکل سکتے اور گمراہی پر مرنا عذاب جہنم کا موجب ہے اور جب انکی ہدایت اور ایمان اس تقدیری فیصلہ کے باعث ممکن نہ رہا تو کوئی بھی انکو جہنم میں جانے سے نہیں روک سکتا اور نہ اس کے عذاب سے چھڑا سکتا ہے جیسا کہ خود پروردگار عالم نے یہ فیصلہ ان بدنصیبوں کے حق میں فرما دیا جو بوجہ اپنی شقاوت کے ہدایت سے محروم کردیئے گئے تو اس صورت حال میں کون ان کو جہنم سے بچا سکتا ہے اس لیے آپ ﷺ ان پر غم اور ملال نہ کریں ان پر اس طرح کا غم بےسود ہے لیکن جو لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے رب کا تقوی اختیار کیا بیشک وہ انعامات خداوندی کے مستحق ہیں انکے واسطے جنت کے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں اور ان محلات کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے جو یقیناً پورا ہو کر رہے گا کیونکہ اللہ اپنے وعدہ میں خلاف نہیں کرتا ایسے انعامات جنت کے محل اور باغات پر تعجب کیوں ہو جو نعمتیں اللہ نے دنیا میں بندوں کو عطا کیں اور جیسی قدرت کی نشانیاں نظروں کے سامنے ہیں ان کو دیکھ کر یہ سب کچھ سمجھنا آسان ہے تو کیا اے مخاطب تو نے نہیں دیکھا اللہ نے آسمان سے کس طرح پانی برسایا پھر وہ اپنی قدرت سے اس پانی کو زمین کے سوتوں میں داخل کردیتا ہے چناچہ زمین کے ان ٹکڑوں سے پانی نکلتا ہے کنویں اور چشمے اپنے قعر اور گہرائیوں سے پانی ابال کر اوپر پھینکتے ہیں جس سے زمینیں سیراب ہوتی ہیں پھر اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کھیتیاں پیدا کرتا ہے جن کے رنگ اوراقسام مختلف ہوتے ہیں پھر وہ کھیتی پک جاتی ہے تو اسے مخاطب اس کو تو دیکھے گا خشک ہوجانے کے بعد زرد رنگ کی پھر اس کو چورا چورا کردیتا ہے جب کہ کھیتی کٹنے کے بعد روندی جائے بیشک اس میں بڑا ہی نمونہ ہے عبرت کا عقل والوں کے لیے تو یہی حالت دنیوی حیات کی ہے کہ ابتداء اسکی شادابی اور رونق وزینت ہے لیکن اس کی انتہا پامالی اور ہلاکت ہے اور پھر اس ضمن میں یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ جو پروردگار عالم دنیا میں آسمان سے پانی برسانے اور سبزوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے اسکی قدرت سے جنت کی ان نعمتوں پر بھی کوئی تعجب نہ کرنا چاہئے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اس مقام پر فوائد میں یہ فرماتے ہیں یعنی عقلمند آدمی کھیتی کا حال دیکھ کر نصیحت حاصل کرسکتا ہے کہ جس طرح اس کی رونق اور سرسبزی چند روزہ تھی، پھر چورار چورا کیا گیا یہی حال دنیا کی چہل پہل کا ہوگا چاہئے کہ آدمی اس عارضی بہار پر مفتون ہو کر انجام سے غافل نہ ہوجائے جیسے کھیتی مختلف اجزاء سے مرکب ہے مثلا اس میں دانہ ہے جو آدمیوں کی غذا بنتا ہے اور بھوسہ بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بنتا ہے اور ہر ایک جز سے منتفع ہونا بددن اس کے ممکن نہیں کہ دوسرے اجزاء سے اس کو الگ کریں اور اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچائیں اسی طرح دنیا کو سمجھ لو کہ اس میں نیکی بدی راحت تکلیف وغیرہ سب ملی جلی ہیں ایک وقت آئے گا کہ یہ کھیتی کٹے اور خوب چورا چورا کی جائے اور پھر اس میں سے ہر ایک جز کو اس کے مناسب ٹھکانے پر پہنچا دیا جائے نیکی اور راحت اپنے مستقر و مرکز پر پہنچ جائے اور بدی یا تکلیف اپنے خزانہ میں جاملے (نیکی اور راحت کا مستقر جنت ہے اور بدی و تکلیف کا مستقر جہنم ہے اس لحاظ سے سے نیکی کا انجام جنت اور جنت کی راحتیں سمجھ لینی چاہتیں اور بدی کا مستقر جہنم ہے تو بدی کا مال جہنم اور جہنم کی تکالیف ہوگا )
غرض کھیتی کے مختلف احوال دیکھ کر عقل مند لوگ بہت مفید سبق حاصل کرسکتے ہیں نیز مضمون آیت میں ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ جس خدا نے آسمان بارش سے زمین میں چشمے جاری کیئے وہ ہی جنت کے محلات میں نہایت قرینہ کے ساتھ نہروں کا سلسلہ جاری کردے گا۔
Ayahs 39:22–26بیان انشراح قلوب اہل ایمان وآثار خشیت وتقوی کہ از ذکر الہی وتلاوت قرآن است :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن شرح اللہ صدرہ ...... الی ....... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور اثبات حق کے لیے براھین اور شواہد بیان کئے گئے تھے اور عقائد باطلہ کی تردید وابطال کیا گیا تھا اب اس کے بعد ان آیات میں آیات خداوندی سے انتفاع اور قبول ہدایت کا ایک معیار ذکر کیا جارہا ہے وہ قلب کا اللہ رب العزت کی اطاعت کیلئے منشرح ہوجانا ہے اور یہ اس پر موقوف ہے کہ اس قلب پر اللہ کی خشیت و عظمت کے آثار ظاہر ہوں لیکن اگر قلب پر قساوت (سختی اور بےحسی) مسلط ہو تو پھر اس پر خدا کی عظمت وہیبت اثر انداز نہو گی اور نہ ہی اسکو ذکر اللہ کی رغبت ہوگی۔
نیز یہ بھی ایک ربط کی وجہ بیان کی جاسکتی ہے کہ گذشتہ آیات میں زمین کے چشموں اور کنوؤں کا ذکر تھا زمین کے چشمے اور کنویں جو اپنی تہوں سے پانی ابالتے ہیں اور خشک زمینوں کو سیراب کرتے ہیں وہ دو باتوں پر مبنی ہیں بخارات کا انقلاب برودت ارض سے اور آب باراں کا زمین کی گہرائیوں میں پیوست ہوجانا اور پھر ان کا سمٹ کر جمع ہوجانا تو اسی طرح اہل ایمان کے قلوب میں علوم ہدایت (جو قلوب کی ہدایت کے لئے بمنزلہ باراں رحمت) جمع ہوئے ہیں پھر ان قلوب سے وہ علوم ہدایت چشموں کے پانی کی طرح ابلتے ہیں اور دوسرے دلوں کو سیراب و شاداب کرتے ہیں اور یہ بات اس وقت ہوتی ہے جب قلوب میں اللہ کی خشیت وتقوی موجزن ہو اور اگر قلوب بنجر زمین کی طرح ہوجائیں تو ظاہر ہے وہ نہ خود علوم ہدایت کا ذخیرہ ان میں جمع ہوسکے گا کہ دوسروں کی تشنگی دور کرسکیں تو فرمایا سو جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور اسلام کی حقیقت وحقانیت کو پہچان کر اس کا مطیع فرمانبردار ہوگیا تو وہ ایک نور پر ہے جو اسکو اپنے رب کی طرف سے حاصل ہے کیا یہ شخص اور اہل قساوت برابر ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں جس طرح زندہ اور مردہ اور بینا اور نابینا برابر نہیں ایس طرح یہ دونوں بھی برابر ویکساں نہیں پس ہلاکت و بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہوچکے ہیں اللہ کے ذکر اور یاد سے ایسے لوگ بیشک کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اللہ نے تو نازل کردیا ہے بڑا ہی بہترین کلام ایک کتاب کی صورت میں یعنی قرآن حکیم جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے کہ اس کی تمام آیات اور باتیں فصاحت وبلاغت اور اسرار وحکم اور سعادت و فلاح کے ضامن وکفیل ہونے میں متشابہ اور ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے کہ اس کی تمام آیات اور باتیں فصاحت وبلاغت اور اسرار وحکم اور سعادت و فلاح کے ضامن وکفیل ہونے میں متشابہ اور ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ان آیات و احکام اور علوم میں نہ باہم اختلاف ہے نہ تضاد اور نہ تفاوت وفرق جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ کلام اسی قادر مطلق پروردگار کا ہے جس نے تمام کائنات کو کیسے حسن وتناسب اور سلیقہ سے بنایا اگر یہ کتاب غیر اللہ کی ہوئی تو ضرور تفاوت اور اختلاف پایا جاتا جیسے ارشاد ہے (آیت ) ” ولوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلاف کثیرا “۔ یہ ملتی جلتی متشابہ آیات ایسی ہیں جو بار بار دہرائی گئی جن کا تکرار اور دہرانا مختلف حکمتوں اور فوائد پر مشتمل ہوتا ہے اور اس لئے کہ یہ مضامین قلب و دماغ میں راسخ ہوجائیں اور انسان اپنی فکری اور ذہنی صلاحیتوں سے ان چیزوں کو اپنی عملی زندگی میں رچانے کے لئے تیار ہوجائے اور ظاہر ہے کہ یہ ثمرہ محض ایک دفعہ پیغام کسی بات کو بیان کردینے سے نہیں حاصل ہوتا تاوقتیکہ مختلف اسلوبوں کے ساتھ پہلے ایک بات ذہن نشین نہ کرا دی جائے پھر اس کی حکمتوں اور فوائد کے تکرار سے اس کی رغبت دل میں نہ بٹھا دی جائے حتی کہ یہ شوق ورغبت اس کو عمل پر مجبور کردے اس کتاب الہی کی ایسی عظیم تاثیر ہے کہ کانپ اٹھتی ہیں کھالیں یعنی بدن ان لوگوں کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر اس ایمانی اور طبعی خشیت الہی جس سے ان کا بدن بھی کانپتا ہوترقی کرکے ان کی عملی زندگی کو انقیاد و اطاعت کے ایسے بلند ترین مقام پر پہنچا دے کہ نرم ہوجائیں انکی کھالیں یعنی بدن اور دل اللہ کے ذکر کی طرف طاعت وفرمانبرداری کے ساتھ یعنی پوری توجہ اور انقیاد کے ساتھ اعمال جوارح اور اعمال قلب بجا لاتے ہیں یہی ہے اللہ کی ہدایت جس کی سراپا تفسیر وتشریح قرآن کریم ہے اسی کلام الہی کی تلاوت اس پر غور وفکر اور عمل ہدایت وسعادت اور کامیابی کی راہیں کھولتا ہے جس کو بھی اللہ چاہے اس کے ذریعے ہدایت سے سرفراز فرما دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی بادی نہیں اب ایسا بدنصیب جس نے اپنی قساوت قلبی سے کبھی اللہ کی طرف رخ نہ کیا ہو ظاہر ہے کہ اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے سورج کی روشنی سے تو وہی منتفع ہوسکتا ہے جو اپنی آنکھیں کھولے اور سورج کا رخ کرے اور جو عناد ونخوت میں اپنی آنکھیں نور ہدایت سے بند کیئے ہوئے ہے اس کو اب کیا نور حاصل ہوسکتا ہے یہی وہ بات ہے جس کو ارشاد فرمایا گیا (آیت ) ” ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فمالہ من نور “۔ بہرکیف وہ قلوب جن میں ایمان وتقوی ہے اور خوف خدا سے وہ پگھل رہے ہیں وہ ان قلوب کی طرح نہیں ہوسکتے جو قساوت کی وجہ سے مردہ ہوچکے اس وجہ سے ہر صاحب فہم یہ سمجھ سکتا ہے بھلا کیا وہ شخص جو عذاب کی سختی سے بچے گا اپنے چہرہ کے ذریعہ اس کو سپر بناتے ہوئے قیامت کے روز وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کی طرف لے جایا جارہا ہے پہلا شخص ذلت و خواری کی اس حالت میں مبتلا ہے کہ ہاتھ بندھے ہوتے ہیں اور عذاب خداوندی سامنے سے آرہا ہے اس کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ ہاتھ کے ذریعہ سے سامنے سے آنے والی چیز کو دفع کرے تو وہ اپنے چہرے ہی کو سامنے کرتے ہوئے اس عذاب کو دور کرنا چاہے گا اور دوسرا شخص جس کا دل اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تھا وہ اعزاز واکرام اور انعامات کا مستحق ہوگا اور اس وقت کہا جائے گا ظالموں سے کہ چکھ لو تم مزہ اپنے ان اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے کفار مکہ کو چاہئے کہ یہ باتیں سن کریقین کریں اگر انہوں نے جھٹلایا تو پھر سمجھ لینا چاہیے ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا عذاب خداوندی کو جو ان سے پہلے گذرے ہیں لیکن آگیا ان پر عذاب خداوندی ایسے طریقے سے کہ ان کو خبر بھی نہ تھی اور تصور بھی نہ کرسکتے ہیں اس طرح بھی کوئی ناگہانی عذاب کسی قوم کو تباہ وبرباد کرسکتا ہے تو چکھا دیا اللہ نے ان کو ذلت کا مزہ دنیا کی زندگی ہی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑا ہے کاش یہ لوگ جان لیتے کہ دنیا میں کتنی قومیں ایسی گذری ہیں کہ اللہ رب العزت کے پیغمبروں کی تکذیب ونافرمانی کی وجہ سے طرح طرح کے عذاب سے تباہ کردی گئیں۔
ائمہ مفسرین مثلا سدی (رح) وغیرہ کا قول ہے کہ اسلام کے لیے سینہ کھول دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہر حکم پر انقیاد و اطمینان نصیب ہوجائے اور یہ اطمینان ووثوق اس درجہ ہو کہ دل میں کسی بھی امر خداوندی پر کوئی تنگی باقی نہ رہے یہاں تک کہ احکام شریعت اور طبیعت کے تقاضوں میں کوئی فرق باقی نہ رہے اور یہ کیفیت اس کی ایمانی استعداد کے کامل ہونے کا نام ہے۔
صدر سینہ کو کہتے ہیں اور چونکہ قلب انسانی سینہ میں محفوظ کردیا گیا ہے اور یہی قلب وروح کا منبع ہے تو جس طرح ظرف کا ذکر کرکے مظروف مراد لیا جاتا ہے یہاں بھی سینہ کے کھل جانے سے قلب کا کھل جانا مراد لیا گیا عبد اللہ بن مسعود ؓ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں آنحضرت ﷺ نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو ہم نے عرض کیا یا نبی اللہ ﷺ سینہ کا کھلنا کس طرح ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس وقت اس میں نور داخل ہوتا ہے تو وہ کشادہ ہوجاتا ہے یعنی اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کی رغبت اور اشتیاق محسوس کرنے لگتا ہے ہم نے عرض کیا تو پھر یا رسول اللہ اس کی کوئی علامت ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس کی علامت ہے اور وہ ” الانابۃ الی دار الخلود والتجافی عن دارالغرور والتأھب للموت قبل النزول :۔ یعنی رجوع کرلیان ہمیشہ کے مسکن (جنت اور آخرت) کی طرف اور علیحدگی (وبیزاری) اختیار کرلینا دھوکہ کی جگہ (یعنی دنیا اور دنیا کی لذتوں سے) اور موت کے لیے تیاری کرنا موت کے اترنے سے پہلے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے (آیت ) ” من شرح اللہ صدرہ للاسلام “۔ صدیق اکبر ؓ ہیں مراد یہ کہ جس طرح پیغمبر کی تصدیق اور قبول حق میں صدیق اکبر ؓ سب سے مقدم ہیں اسی طرح اسلام کے واسطے سینہ کھل جانے میں بھی وہ سب سے مقدم اور سب سے افضل ہیں۔ لفظ تقشعر “۔ اقشعرار سے ہے اصل میں سکڑ جانے کو کہتے ہیں جب کہ شدت خوف سے کوئی کسی کی کھال سکڑ جائے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔
(آیت ) ” افمن یتقی بوجھہ “۔ کا عنوان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان مجرموں پر خدا کا عذاب آنے لگے گا تو طبعی تقاضہ کے باعث یہ اس عذاب کو دفع کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ان ظالموں کے ہاتھ جکڑے ہوئے ہوں گے تو عذاب کے تھپیڑ سیدھے منہ پر پڑتے ہوں گے یا اس بےبسی کے عالم میں یہ اپنا منہ اس کے سامنے کردے گا تو گویا یہ مجرم اپنے چہرہ کے ذریعے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے والا ہوگا اور اس وقت کہا جاتا ہوگا مزید تذلیل وتوہین کے طور پر اے ظالمو ! اپنے کئے ہوئے اعمال کا مزہ چکھ لو تو اس منظر کو ذکر کرکے سوال کیا جارہا ہے کیا ایسا شخص اور وہ مومن جو آخرت میں ہر تکلیف و پریشانی اور ذلت و حقارت سے مامون و محفوظ ہوگا برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں۔
اس آیت کا مضمون وہی ہے جو آیت مبارکہ (آیت ) ” افمن یلقی فی النار خیر امن یاتی امنا یوم القیمۃ “۔ میں بیان فرمایا گیا یا اسی طرح ارشاد ہے (آیت ) ” افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی امن یمشی سویا علی صراط مستقیم “۔ کہ کیا وہ شخص جو چل رہا ہو اوندھے منہ اپنے سر کے بل وہ راہ راست پر ہے یا وہ شخص جو چل رہا ہے برابر استقامت کے ساتھ صراط مستقیم پر۔
(آیت ) ” فاذا قھم اللہ الخزی فی الحیوۃ الدنیا “۔ کفار مکہ اور دشمنان اسلام کو دنیا کی زندگی میں سب سے پہلی ذلت غزوۂ بدر میں شکست کھا کر اٹھانی پڑی کہ بڑے بڑے سردار مارے گئے قیدی ہوئے اور اپنا مال ومتاع چھوڑ کر بھاگے جو اللہ نے مسلمانوں کے لئے غنیمت بنایا (آیت ) ” فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء۔ وللہ العزۃ ولرسولہ ولل مومنین ولکن المنافقین لا یعلمون “۔
صدق اللہ العظیم :