Ayahs 39:27–31تمثیل حق و باطل وفرق درمیان عبد مومن ومطیع وبندۂ مشرک وعاصی :
(ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ جس کسی کا دل اللہ نے ایمان کے لئے کھول دیا وہ ہدایت وسعادت کی روشنی پر ہے تو ایسا شخص جس کو نور ہدایت حاصل ہوچکا وہ اس بدنصیب انسان کی طرح نہیں ہوسکتا جو کفر وگمراہی کی تاریکیوں میں مبتلا ہے اب ان آیات میں حق و باطل کی تمثیل اور مومن و مشرک کے فرق کو ایک حسی مثال میں پیش کیا جارہا ہے اور یہ بیان کیا جارہا ہے ان حقائق کو سمجھانے میں قرآن کریم نے تو کوئی کمی نہیں کی دلیلوں سے سمجھا دیا مثالوں سے واضح کردیا اس کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے اور نہ مانے تو یہ اس کی حماقت و غفلت ہے قرآن کے بیان میں کوئی کمی نہیں تو ارشاد فرمایا اور بیشک ہم نے بیان کردی ہے لوگوں کی ہدایت و عبرت کے لئے ہر قسم کی مثال میں سے عمدہ اور بلیغ مثال امید ہے کہ لوگ اس کے ذریعے نصیحت حاصل کریں جس کی شان یہ ہے کہ وہ قرآن عربی ہے جس میں ذرہ برابر بھی کجی نہیں یہ صاف اور سیدھی باتیں اس لیے اتاری گئیں تاکہ یہ لوگ اللہ کا تقوی اختیار کرلیں ان واضح حقائق کو سن کر ہر شخص ایمان وکفر اور توحید وشرک کی حقیقت بخوبی سمجھ سکتا ہے اور یہ کہ شرک ونافرمانی کا کیسا برا انجام ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ بیان کردی ہے اللہ نے ایک مثال موحد اور مشرک کی کہ ایک شخص ہے غلام جس میں متعدد شرکائیں جو آپس میں کھینچا تانی اور مزاحمت کررہے ہیں، ہر ایک مالک چاہتا ہے کہ یہ میرا کام انجام دے جو دوسرے مالک کی مرضی اور مقصد کے خلاف ہے تو ظاہر ہے کہ اس طرح مشترک غلام میں اس کے سارے مالکین ضدا ضدی کریں گے اور ہر ایک اپنی خدمت کے لئے اس کو کھینچے گا جس کا انجام ظاہر ہے کہ وہ کسی کی بھی اطاعت نہ کرسکے گا اور کوئی بھی اس کے آقاؤں میں سے اس سے راضی نہ ہوسکے گا اور اس کے برعکس دوسرا شخص وہ غلام ہے جو پورے طور پر ایک ہی کے لئے ہے اور صرف ایک ہی غلام ہے جو پوری طرح اپنے آقا کی اطاعت بجا لاسکتا ہے اور اس کا آقا اس کی اس فرمانبرداری کی وجہ سے اس سے راضی بھی ہوسکتا ہے تو کیا یہ دونوں اپنی حالت کے لحاظ سے برابر ہوسکتے ہیں نہیں ہرگز نہیں بلکہ پہلا غلام متحیر وبدحواس رہے گا کہ کس کی مانوں اور نہ ہی اس کا کوئی آقا تحیر کے بعد اس سے راضی ہوگا اور اس کے برعکس دوسرا بڑے اطمینان و سکون سے اپنے ایک آتا کی فرمانبرداری میں لگا رہیگا، اس کا آقا اس سے خوش ہوگا انعامات سے ہی نوازے گا اور اپنے غلام کی ضرورت و حاجت بھی پوری کرتا رہے گا یہ دیکھ کر کہ یہ تو بس میرا ہی ہے میں اس کی حاجت پوری نہ کروں تو پھر کون کرے گا اور اس کا کوئی آقا میرے سوا نہیں تو یہ کس کے در پہ جائے گا الحمد للہ کہ حق واضح ہوگیا اور ثابت بھی ہوگیا مگر افسوس پھر یہ لوگ قبول نہیں کرتے قبول تو کیا کرتے بلکہ اکثر تو ان میں سے یہ چیزیں جانتے ہی جاننا تو درکنار سمجھنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ وہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں بہرحال یہ ایک فیصلہ ہے جس سے کسی کو سرتابی کی مجال نہیں ہوسکتی قیامت کے روز اپنے پروردگار کے سامنے اپنے اپنے مقدمات پیش کروگے اور ظاہر ہے اس وقت حق اور باطل کا عملی فیصلہ سب کے سامنے آجائے گا اور وہ باطل پرست جن کو ہر دلیل سے حق اور ہدایت کو سمجھایا گیا اپنی آنکھوں سے اس عذاب وقہر کو دیکھتے ہوں گے جو ان کی گمراہی کے باعث ان پر مسلط ہوگا۔
حضرت شاہ عبدالقادر (رح) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اپنے فوائد میں لکھتے ہیں ایک غلام جو کئی ایک کا غلام ہو کوئی اسکو اپنا نہ سمجھے تو اسکی پوری خبر نہ لے اور ایک غلام جو سارا ایک کا ہو وہ اس کو اپنا سمجھے اور پوری خبر لے یہ مثال ہے انکی جو ایک رب کے بندے ہیں اور جو کئی رب کے بندے ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) (آیت ) ” متشاکسون “۔ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی کئی حصہ دار ایک غلام یا نوکر میں شریک ہوں اور ہر حصہ دار اتفاق سے کج خلق اور بےمروت اور سخت ضدی واقع ہوا ہو چاہتا ہو کہ یہ غلام دوسرے سے سروکار نہ رکھے تو اس کھینچ تان میں ظاہر ہے کہ غلام سخت پریشان اور پراگندہ دل ہوگا برخلاف اس کے کہ جو غلام پورا ایک کا ہو تو اسے ایک طرح کی یکسوئی اور طمانیت حاصل ہوگی اور کئی آقاؤں کی خوش رکھنے کی کشمکش میں گرفتار نہ ہوگا اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں غلام برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح موحد و مشرک کو سمجھ لو مشرک کا دل کئی طرف بٹا ہوا ہے اور کتنے ہی جھوٹے معبودوں کو خوش رکھنے کی فکر میں رہتا ہے اس کے برخلاف موحد کی کل توجہات وخیالات اور دادودہش کا (صرف) ایک مرکز ہے اور وہ پوری دل جمعی کے ساتھ اس کو خوش رکھنے کی فکر میں ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی خوشنودی کے بعد کسی اور کی خوشنودی کی ضرورت نہیں۔
(آیت ) ” عند ربکم تختصمون “۔ کی تفسیر میں بالعموم مفسرین اہل حق اور باطل کی خصومت مراد لیتے ہیں جس کی طرف دوران ترجمہ اضافہ کردہ کلمات سے اشارہ کردیا گیا حافظ ابن منذر (رح) نے کتاب الروح میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ یہ جھگڑا صرف انسانوں کے درمیان ہی نہیں ہوگا بلکہ روح اور جسم میں ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوں گے روح جسم سے کہے گی کہ یہ سب کچھ تو نے کیا جسم روح سے کہے گا نہیں میں تو بےقصور ہوں اصل حکم اور عمل کرانے والی طاقت تو تو ہی تھی ہر ایک دوسرے کو ملزم ٹھہراتا ہوگا تو اس خصومت کی حالت میں اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو بھیجے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کردے یہ فرشتہ ان سے آکر یہ کہے گا تمہارے واسطے ایک مثال ہے اور تم دونوں کا حال اس کی مانند ہے ایک اپاہج ومعذور شخص آنکھوں والا ہے جس کو نظر تو سب کچھ آتا ہے لیکن چل پھر نہیں سکتا دوسرا شخص نابینا مگر چل پھر سکتا ہے دونوں ایک باغ میں داخل ہوئے اپاہج نے اندھے سے کہا اے میرے ساتھی میں یہاں باغ میں بہت سے پھل اور میوے دیکھ رہا ہوں لیکن معذور ہوں پھلوں تک پہنچ نہیں سکتا اندھے نے اپاہج سے کہا تو مجھ پر سوار ہوجا اور مجھے وہاں تک لے چل جہاں تو پھل دیکھ رہا ہے چناچہ اپاہج اندھے پر سوار ہو کر پھلوں تک پہنچا اور پھل کھانے لگا تو بتاؤ ان میں سے کون ظالم ہے جسم اور روح دونوں نے جواب دیا ان دو میں میں سے کوئی ایک تنہا ظالم نہیں ہے ظالم تو دونوں ہی ہیں فرشتہ یہ فیصلہ سن کر بولا اے جسم وروح بس تم نے خود ہی فیصلہ کردیا کہ مجرم اور ظالم تم دونوں ہی مراد یہ کہ جسم سواری ہے اور روح اس پر بمنزلہ سوار کے ہے کہ جو اس سواری پر سوار ہو کر اعمال وافعال کا ارتکاب کرتی پھرتی ہے لہذا جسم وروح دونوں ہی عذاب اور سزا کے مستحق ہوں گے۔
(تفسیر ابن کثیر ج 4) الحمد للہ 23 واں پارہ مکمل ہوا۔
Ayahs 39:32–37تنبیہ وتہدید بر تکذیب حق وصداقت وبیان حسرت وملال مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ ..... الی ..... بعزیز ذی انتقام :
(رابط) گذشتہ آیات میں موحد و مشرک کی حقیقت ایک مثال کے رنگ میں بیان کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا کہ شرک کا انجام سوائے حیرت و اضطراب اور ناکامی کے اور کچھ نہیں حقیقی اطمینان و سکون وانسان کی اصل فلاح وسعادت توحید خداوندی اور صرف اپنے ایک ہی رب کے ساتھ رشتہ حیات وابستہ کرلینے میں ہے اب ان آیات میں ان بد نصیبوں پر تنبیہ فرمائی جارہی ہے جن کا کام اللہ پر بہتان باندھنا اور اللہ کے رسولوں کی تردید وتکذیب کرنا ہے اور یہ کہ ایسے بدنصیب تباہی سے کبھی نہیں بچ سکتے، اور جو لوگ اللہ کی راہ اور ہدایت اختیار کرتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ کامیاب ہوں ان کے گناہوں کا بھی کفارہ اور معافی فرمائی جاتی ہے تو ارشاد فرمایا جب کہ قیامت کے روز بوقت خصومت ہر ایک کا انجام سامنے آجائے گا تو پھر بتاؤ اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور مثلا یہ کہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا کے ساتھ اور بھی شریک ہیں اور سچی بات کو جھٹلائے یعنی قرآن جو سراپا صداقت وحق ہے، جب کہ وہ سچی بات اس کے پاس پہنچ چکی تو کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانہ منکروں کا یقیناً یہ منکرو کافر بڑے ہی ظالم ہیں اور ظلم پر عقوبت وسزا عقل و فطرت کا تقاضا ہے اس لیے ظالموں اور حق سے منہ موڑنے والوں کا یہی انجام ہوسکتا ہے اور اس کے برعکس جو سچی بات لے کر آیا خدا کی طرف سے یا خدا کے رسول کی طرف سے اور اس نے اس کی تصدیق بھی کی تو بیشک یہ لوگ ہی صاحب تقوی ہیں خدا کے ایسے برگزیدہ اور متقی بندوں کا انجام یہ ہوگا کہ ان کے لیے جو وہ چاہیں گے ان کے پروردگار کے یہاں ہوگا اور ظاہر ہے کہ ان کی ہر خواہش اور طلب کا پورا کیا جانا انتہائی اعزاز واکرام ہوگا، بیشک یہ صلہ ہے نیکوکاروں کا یہ صلہ اور انعام ان کے واسطے اس لیے تجویز کیا گیا تاکہ کفارہ کردے اللہ تعالیٰ ان کے ان برے کاموں کا جو انہوں نے کیے اور ثواب دے ان کو ان کے بہترین کاموں کا جو وہ اپنی دنیوی زندگی میں کیا کرتے تھے، منکرین کا رسول خدا کو جھٹلانا اور نافرمانی کرنا خدا کے رسول اور اہل ایمان کے لیے باعث تشویش ورنج نہ ہونا چاہئے کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندہ محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے، جب اللہ کافی ہے تو وہی حفاظت بھی کرے گا اور وہی منکرین ومجرمین کو ذلیل اور رسوا کرے گا۔ اور یہ لوگ ڈراتے ہیں۔ اے محمد ﷺ آپ کو ان جھوٹے معبودوں سے خدا کے سوا جو انہوں نے تجویز کر رکھے ہیں، حالانکہ ان معبودان باطلہ میں خود کوئی قدرت نہیں عاجز محض ہیں، اس لیے ان مشرکوں اور کافروں کا رسول اللہ ﷺ کو ڈرانا اور یہ کہنا کہ ہم اپنے معبودوں سے کہیں گے کہ وہ آپ ﷺ کو دیوانہ کردیں حقیقت میں کھلی ہوئی حماقت اور گمراہی ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں، خداوند عالم کی اس قدرت عظیم کے پیش نظر نہ خدا کے رسول ﷺ کو اور نہ ہی اہل ایمان کو ان کی ایسی احمقانہ دھمکیوں سے مرعوب وخوف زدہ ہونا بلکہ یقین رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ ضرور ان سے ایسی بیہودہ باتوں اور مجرمانہ اعمال کا بدلہ لے گا کیا خدا تعالیٰ زبردست انتقام والا نہیں ہے ؟ وہ اپنے رسول ﷺ کی مدد کرے گا۔ اور نافرمانوں سے انتقام لے گا، اور ان مجرموں کے معبود بےبس ولا چار ہیں تو ہمارے عذاب سے ان مجرموں کو ان کے معبودبچا بھی نہیں سکیں گے۔ اور ہم قادر مطلق ہیں اس لیے ہماری نصرت وحمایت کو کوئی روک نہیں سکتا (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “۔ ” صدق “۔ سچائی کا نام ہے، خدا کی کتاب بھی سچی ہے، خدا کا ہر پیغام سچا ہے، بالخصوص یہ پیغام توحید (آیت) ” لا الہ الا اللہ “ کی صداقت وحقانیت تو اس قدر روشن ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز اس کی دلیل ہے حافظ ابن کثیر (رح) نے (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “۔ کی تفسیر میں متعدد اقوال ذکر فرمائے ہیں مجاہد (رح) قتادۃ (رح)، ربیع بن انس ؓ اور ابن زید (رح) سے منقول ہے کہ وہ سچائی لانے والے رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اور اس کی تصدیق کرنے والا ہر وہ شخص ہے جو آپ ﷺ پر ایمان لائے اور ظاہر ہے کہ جو شخص دنیا میں سب سے پہلے آپ ﷺ کی تصدیق کرنے والا ہوا۔ وہ اس آیت کا اولین مصداق ہے۔ اور وہ ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔
بعض مفسرین نے یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “۔ جبریل امین (علیہ السلام) ہیں جو اللہ کی طرف سے سچائی اور ہدایت لے کر آئے اور (آیت ) ” وصدق بہ “۔ کے مصداق رسول اللہ ﷺ ہیں کیونکہ وحی کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے خدا کے رسول ہیں ہوتے ہیں۔ ترجمہ آیت کے درمیان اضافہ کردہ کلمات میں انہیں دو قولوں کی طرف اشارہ ہے لیکن جمہور مفسرین نے پہلے قول کو ترجیح دی اور آیت مبارکہ میں آخری کلمہ (آیت ) ” واولئک ھم المتقون “۔ بھی اس کی تائید کرتا ہے۔
Ayahs 39:38–41بیان قدرت خداوندی وعدم استطاعت پر مدافعت عذاب :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولئن سالتھم من خلق السموت والا رض ...... الی ....... علیھم بوکیل “۔
(ربط) مضمون سابق میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا کہ مجرمین کو بس اللہ ہی کا عذاب سرکوبی کے لیے بہت کچھ ہے اور یہ مجرم اس عذاب خداوندہی سے کسی طرح نہیں بچ سکتے کیونکہ اللہ عزیز ذوانتقام ہے اب ان آیات میں اللہ رب العزت اپنی اس قدرت و طاقت کا ذکر فرمارہا ہے جو خود ان منکرین کو تسلیم ہے، مقصد یہ ہے کہ مشرکین کا یہ لغو اور بعید از عقل طریقہ کہ آپ ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اگر ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیا تو اقرار کرتے کہ کائنات کا خالق اللہ ہی ہے چناچہ ارشاد ہے۔ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے، اور ظاہر ہے ایسی عظیم مخلوقات کا پیدا کرنا اس کی کمال قدرت کی دلیل ہے تو آپ اس اقرار و تسلیم کے بعد ان سے یہ کہہ دیجئے تو پھر تم مجھے یہ بتلاؤ کہ جن معبودوں کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو، اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا تمہارے معبود اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اللہ اگر مجھ پر اپنی عنایت کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی عنایت کو روک سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس پر ان کو اسی طرح جواب دینا پڑے گا جیسا خدا کی خالقیت کو تسلیم کرنے کا جواب دیا، تو جب صورت حال یہ ہے کہ وہ اپنی خالقیت میں بھی منفرد ہے اسی طرح وہ کمال قدرت میں بھی منفرد ہے جیسا کہ اس کی خالقیت میں کوئی شریک نہیں، اسی طرح اس کی قدرت کے مقابلہ میں کوئی مزاحمت نہیں کرتا، پھر یہ کسی منہ سے اے ہمارے پیغمبر ﷺ آپ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے ہیں۔ اس لیے آپ کہہ دیجئے بس میرا خدا ہی میرے واسطے کا فی ہے اسی پر توکل کرنے والے تو کل کرتے ہیں اور میں بھی اسی رب پر بھروسہ اور توکل کررہا ہوں۔ اس لیے مجھ کو تمہاری دھمکیوں کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ اور جب دلائل وبراہین کے ذریعے حقیقت واضح ہوگئی، تو آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجئے۔ اچھا اگر تم اس کے باوجود بھی اپنی روش سے باز نہیں آتے تو تم اپنی حالت پر عمل کیے جاؤ میں بھی اپنے طرز پر کار فرما ہوں اور یہ کیسے ممکن ہے، اہل باطل تو باطل نہ چھوڑیں مگر اہل حق ان کی رعایت سے حق سے پہلوتہی کرلیں سو اب تم کو جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون وہ شخص ہے جس پر دنیا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو ذلیل کردے گا، اور بعد از مرگ ایسا عذاب اس پر مسلط ہوگا جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا، چناچہ بدر میں اللہ نے ان پر ایسی سزا مسلط فرمائی کہ بہت سے قتل ہوئے بہت سے قید ہوئے اور ذلت کے ساتھ شکست کھا کر مکہ واپس لوٹنا پڑا۔ دنیا کا یہ عذاب کا مزہ چکھنا پڑے گا اور وہ عذاب دائمی ہوگا۔
وحی الہی کے ذریعہ ایسے حقائق دنیا کے سامنے ظاہر کردیئے گئے کہ اب کسی کو انکار وتردد کی کوئی گنجائش نہیں رہی، بیشک ہم نے یہ کتاب قرآن حکیم آپ ﷺ پر اتاری ہے۔ حق وصداقت کے ساتھ لوگوں کے نفع ہی کے لیے آپ ﷺ کا کام لوگوں تک اللہ کے احکام وپیغامات پہنچا دینا ہے۔ اب اس کے بعد جو شخص راہ راست پر آئے گا تو وہ اسی کے نفع کے لیے ہوگا اور جو شخص گمراہ ہوگا اس کے گمراہ ہونے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور آپ ان پر ذمہ دار نہیں بنائے گئے ہیں کہ ان کی گمراہی کا الزام یا اس کی باز پرس آپ ﷺ سے ہو۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی سند سے مرفوعا یہ حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
من احب ان یکون اقوی الناس فلیتوکل علی اللہ ومن احب ان یکون اغنی الناس نلیکن بما فی ید اللہ عزوجل اوثق منہ بما فی یدیہ ومن احب ان یکون اکرم الناس فلیتق اللہ عزوجل “۔ جس شخص کو یہ بات محبوب ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ قوی ہو تو اس کو چاہئے وہ اللہ پر توکل کرے اور جو شخص چاہتا ہے کہ سب سے زیادہ غنی ہو اس کو چاہئے کہ جو چیز خدا کے ہاتھ میں ہے اس پر اس چیز سے زائد بھروسہ کرے جو خود اس کے ہاتھوں میں ہے، اور جو شخص چاہتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزت والا ہو تو اسے چاہئے کہ اللہ کا تقوی اختیار کرے۔
(آیت ) ” عذاب یخزیہ “۔ ان الفاظ میں مجرمین کو دو قسم کے عذاب کی دھمکی دی گئی، ایک دنیوی سزا کی جس کی ” یخزیہ “۔ کی قید کی ساتھ بیان فرمایا گیا۔ اور ظاہر ہے کہ دنیا میں مجرم کی ذلت ورسوائی سزا میں بہت اہمیت رکھنے والی بات ہے تو (آیت ) ” عذاب یخزیہ “۔ سے دنیا کا عذاب ذکر کیا گیا اور آخرت کا عذاب (آیت ) ” ویحل علیہ عذاب مقیم “۔ بیان فرمایا جس کو مقیم یعنی ہمیشہ قائم و باقی رہنے کی صفت سے متصف کیا گیا اور اس میں شبہ نہیں کہ آخرت کا عذاب وہی شدید عذاب ہے جو کبھی مجرم سے نہ ٹلے بلکہ ہمیشہ قائم رہے۔
Ayahs 39:42–45بیان قدرت خداوندی و اثبات حشروتنبیہ برشناعت مشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا ....... الی ....... اذا ھم یستبشرون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے منکرین کی رد میں اپنی قدرت کاملہ کا ذکر فرمایا تھا اور اس سے غرض نبی کریم ﷺ کو تسلی دینی تھی، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا تھا کہ قیامت کے روز مجرمین کا انجام خود ان کی نظروں کے سامنے آجائے گا اب ان آیات میں قیامت اور قیامت کے روز انسانوں کی حق تعالیٰ شانہ کے سامنے پیشی کا ایک منظر بیان کیا جارہا ہے اور یہ منظر ایسی ایک حالت ہے جو ہر روز وشب ہر انسان پر واقع ہوتی ہے وہ انسان کا سونا جو بمنزلہ موت ہے اور بیدار ہونا جو بعث بعد الموت کانمونہ ہے ارشاد فرمایا۔
اللہ ہی قبض کرلیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت جبکہ قضاء الہی سے ان کی موت کا وقت آجائے تو من کل الوجوہ ان کو قبض کرلیتا ہے اور ان جانوں کو بھی قبض فرماتا ہے حالت خواب میں جن کی موت نہیں آتی ہے ان کے سونے کے وقت میں، اس طرح سے کہ حواس تو معطل کردیئے جاتے ہیں مگر حیات باقی رہتی ہے پھر اس کے بعد ان جانوں کو تو ابدان کی طرف لوٹنے سے روک لیتا ہے جن پر موت کا فیصلہ فرما دیا اور باقی ان دوسری جانوں جن پر بحالت نوم صرف ادراک و شعور سے تعطل واقع فرمایا ہے اور ابھی ان کی موت کا وقت نہیں آیا ان کو چھوڑ دیتا ہے اور واپس فرما دیتا ہے، ابدان کے تصرف کی جانب ایک وقت معین تک کے لیے تاکہ بیداری کے بعد بدستور یہ جان بدن میں تصرف کرنے لگے، بیشک اس تمام مجموعہ حال میں بہت بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو غور وفکر کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے ان احوال وواقعات میں غور وفکر کرتے ہیں اور بیشک ہر انسان کا سونا اور سونیکے بعد اٹھنا، بعث بعد الموت اور قیامت کی بہت ہی واضح نشانی ہے۔ اب باوجود ان واضح دلائل کے قیام کے مشرکین کا پھر بھی حق تعالیٰ کی الوہیت و توحید کا نہ ماننا یا قیامت پر ایمان نہ لانا کیا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے خدا کے سوا اپنے واسطے کچھ سفارشی بنالیے ہیں جن پر انہوں نے بھروسہ کرلیا ہے کہ یہ ان کو کسی قسم کی تکلیف و عذاب نہ پہنچنے دیں گے یا عذاب سے بچا لیں گے آپ کہہ دیجئے کیا یہ ممکن ہے کہ یہ ان کے معبود ان کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گے اگرچہ یہ نہ تو کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ ہی کچھ سمجھتے ہوں، ظاہر ہے کہ شفاعت کے لیے علم اور قدرت دونوں چیزیں ضروری ہیں تو جو معبود نہ علم رکھتے ہوں اور نہ ان کو ذرہ برابر کسی چیز کی قدرت ہو بھلا وہ کسی کی کیا سفارش کرسکیں گے یا کسی مصیبت سے وہ کسی کو کیسے بچا سکیں گے، آپ کہہ دیجئے سفارش تو سب کچھ اللہ ہی کے اختیار میں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی شفاعت نہ کرسکے گا، اور جس کسی کو سفارش کی اجازت دی جاسکتی ہے وہ دو بنیادوں پر قائم ہے، ایک شفیع کا مقبول وپسندیدہ ہونا اور دوسرے جس کی سفارش کی جائے اس کا قابل معافی ہونا، اب جن معبودوں کو یہ مشرکین اپنا شفیع قرار دے رہے ہیں وہ اللہ کے نزدیک کسی درجہ میں بھی پسندیدہ نہیں۔ اور خود یہ لوگ اس کے اہل نہیں کہ ان کی نافرمانی معاف کی جائے پھر کس بناء پر ان کو زعم ہے کہ ہمارے معبود ہمیں آخرت کے عذاب سے بچا لیں گے اگر عذاب آنے میں بھی لگے، اس لیے سمجھ لینا چاہئے کہ اسی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے حکم کے بغیر کچھ حرکت بھی نہیں کرسکتی چہ جائیکہ اللہ کے عذاب اور قہر کا مقابلہ یا اس کی مدافعت کرسکے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور اس کی بارگاہ میں حاضری پر تمہارے یہ سب دھوکے اور فریب زائل ہوجائیں گے اور باوجود اس کے کہ دلائل توحید قائم ہوچکے لیکن کفار مکہ اور مشرکین کا حال یہ ہے کہ جب اللہ وحدہ لاشریک لہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب خدا کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جائے تو فورا ہی خوش ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کو ایمان و توحید سے نفرت ہے اور کفر وشرک کی محبت دلوں میں رچی ہوئی ہے۔ اسی کا یہ اثر ہے کہ اللہ کے ذکر سے ان کے دل بجھ جائیں اور چہرے کبیدہ ہوجائیں اور غیر اللہ کے ذکر پر انبساط و فرحت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں، اسی بناء پر یہ چیز دیکھی جاتی ہے کہ اہل باطل کو ایمانی باتوں کے سننے سے کراہت ہوتی ہے اور مادی دنیا کے تذکرے لذیذ وخوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔
توفی کی ایک قسم منام یعنی نیند اور دوسری قسم موت ہے :۔
لفظ توفی کی تشریح آیۃ مبارکہ (آیت ) ” یعسی انی متوفیک “۔ اور سورة انعام میں گزر چکی۔ آیت کے مضمون نے یہ واضح کردیا کہ حالت نوم اور خواب میں حواس وادراک کا قبض کرلینا بھی تو فی ہے، جیسے دوسرے موقع پر ارشاد ہے (آیت) ” وھو الذی یتوفکم بالیل ویعلم ماجرحتم بالنھار “۔ اس لیے توفی کے معنی صرف موت ہی سمجھنا نہ دلالت لغت کے لحاظ سے صحیح ہے اور نہ قرآنی تعبیرات اور تصریحات کی رو سے درست ہے۔
علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس کی تفسیر میں یہ ذکر فرمایا، ابن آدم میں نفس اور روح ہے جن دونوں کے درمیان سورج کی شعاع کی طرح ایک چمک حائل ہے نفس کے ذریعہ فہم تمیز اور احساس کا سلسلہ رہتا ہے اور روح سے حیات و حرکت کا تعلق قائم رہتا ہے تو موت کے وقت روح اور نفس دونوں قبض کرلیے جاتے ہیں جس کے بعد حیات و حرکت کا بھی سلسلہ ختم ہوجاتا ہے، لیکن نیند کے وقت صرف نفس قبض کیا جاتا ہے جس سے عقل وادراک اور تمیز کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے (روح المعانی ج 24 ص 8)
یہی وہ چیز ہے جو آنحضرت ﷺ نے لیلۃ التعریس میں فرمائی یعنی جس رات سفر غزوہ میں راستہ میں آرام فرمانے کے لیے لیٹے تو آنکھ نہ کھلی تاآنکھ تاآنکہ سورج نکل آیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ”۔ ان اللہ تعالیٰ قبض ارواحکم حین شاء وردھا الیکم حین شاء (صحیح بخاری، سنن نسائی) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ ” ویرسلھا ایھا الناس ان ھذہ ارواح عاریۃ فی العباد فیقبضھا اللہ اذا شآء ویرسلھا اذا شآء۔
سلیم بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز فارق اعظم ؓ نے فرمایا کہ تعجب کی بات ہے کہ بعض شخص خواب دیکھتا ہے اور اس کے دل پر اس کا خطرہ بھی نہیں گزرا ہوتا پھر وہ خواب ہوبہو پورا واقع ہوتا ہے اور بعض شخص خواب دیکھتا ہے وہ غلط بلکہ کالعدم ہوتا ہے، حضرت علی مرتضی ؓ نے فرمایا اے امیر ال مومنین اس کی وجہ میں عرض کرتا ہوں، اللہ فرماتا ہے، (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی “۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روحین قبض کرتا ہے پس جو روحیں آسمان پر جا کر کچھ دیکھ آتی ہیں وہ حق ہوتا ہے اور وہ رؤیائے صادقہ ہے اور جو آسمان پر کچھ نہیں دیکھتیں بلکہ جب اجساد کی طرف واپس آتی ہیں تو اس حالت میں کہ جب وہ واپس ہوتی ہیں تو شیاطین انہیں کچھ القاء کرتے ہیں، وہ رؤیائے کا ذبہ ہے۔ حضرت عمر ؓ اس جواب سے بہت خوش ہوئے (روح المعانی ج 24۔ ازالۃ الخفاء ص 586)
Ayahs 39:46–52تسلی برائے نبی کریم ﷺ بضمن تلقین دعا وبیان بیچارگی عالم پیش قدرت رب کبریاء :۔
قال اللہ تعالیٰ : قل اللھم فاطر السموت والارض ......... الی ......... لقوم یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ آیات مجرمین ومنکرین کی سزا اور قیامت کے روز ان کی ذلت وندامت کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم دعا کی تلقین وتعلیم کے ضمن میں تسلی دی جارہی ہے تاکہ آپ ﷺ کفار کی مخالفت اور شدت عناد سے مغموم ومتأسف نہ ہوں، ارشاد فرمایا : کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر اپنے پروردگار سے دعا ومناجات کرتے ہوئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ظاہر و باطن کے جاننے والے آپ ہی قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے ان امور میں جن کے متعلق وہ باہم اختلاف کرتے تھے اور یہ کہہ کر آپ ہر معاملہ اللہ کے حوالے کردیجئے، اللہ خود ہی فیصلہ فرما دے گا اور یہ فیصلہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہوگا کہ جس کو کسی تدبیر اور ذریعہ سے رد کردیا ہی فیصلہ فرما دے گا اور یہ فیصلہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہوگا کہ جس کو کسی تدیبر اور ذریعہ سے رد کردیا جائے حتی کہ اگر ان لوگوں کے پاس جو کفر وشرک کرکے ظلم کرنے والے ہیں، دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور بلکہ ان کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں تو یہ لوگ ان چیزوں کو فدیہ کرنے لگیں قیامت کے دن سخت عذاب سے بچنے کے لیے اور خدا کی طرف سے ظاہر ہوگا ان کے لیے ایسا معاملہ عذاب وذلت کا جس کا وہ گمان بھی نہ کرتے تھے، اور اس وقت ان کو اپنے وہ تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے جو وہ کیا کرتے تھے اور جس عذاب کا وہ استہزاء و مذاق کرتے تھے وہ ان کو آکر گھیرلے گا، حقیقت یہ ہے کہ ایسا انسان اپنی نالائقی اور کمینہ فطرت کے باعث یہ روش اختیار کرتا ہے کہ جب اسکو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے اور اپنے ان معبودوں کو اس وقت بھول جاتا ہے جن کو وہ ہماری الوہیت و عبادت میں شریک کرتا تھا مگر پھر جب اس کو اپنی جانب سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو یہ کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے صرف اپنے علم وہنر اور تدبیر کی وجہ سے ملی ہے گویا اتنے ہی فرق اور حالت کی تبدیلی سے جس توحید کا اثر اس کے قلب میں اس اضطراروپریشانی کے عالم میں پیدا ہوا تھا فورا ہی ختم ہوجاتا ہے، اور خدا کے کیے ہوئے انعام میں اپنی تدبیر اور ہنر کو شریک کرنے لگ جاتا ہے حق تعالیٰ اس ناپاک ذہنیت کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں نہیں ہرگز ایسا نہیں بلکہ یہ نعمت تو ایک آزمائش ہے تاکہ ہم دیکھ لیں کہ یہ بندہ اس نعمت کے ملنے پر ہمیں یاد کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے یا ہم کو بھول جاتا ہے اور انعامات کے ذریعے بندوں کا امتحان یہ ہمارا قانون ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگو اس بات کو سمجھتے ہی نہیں، اور طرز بغاوت وناشکری کا آج اس قوم کا کوئی نیا طرز نہیں ہے بلکہ یہ بات ان لوگوں نے بھی شک کہی ہے جو ان سے پہلے گذرے جیسے کہ قارون نے بھی کہا تھا، (آیت ) ” انما اوتیتہ علی علم عندی “۔ مگر ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئی جو وہ کرتے تھے بلکہ ان کی وہ تمام بداعمالیاں ان پر آپڑیں جو وہ کرتے تھے اور جس طرح ان کی بداعمالیوں کا انجام ان پر مسلط ہوا اسی طرح ان میں کے ظالموں کی بداعمالیاں بھی عنقریب ان پر پڑیں گی اور یہ لوگ اس سے بچ نہیں سکتے، چناچہ بدر میں شکست اور بڑی ہی ذلت کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ ان کے پاس سازوسامان کی کوئی کمی نہ تھی اور مسلمان بےسروسامان اور تعداد میں نہایت قلیل تھے، ایسے تاریخی حقائق سے منکروں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے، اور دنیا کی دولت اور مادی اسباب پر غرور نہ کرنا چاہئے، کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کے واسطے چاہے رزق پھیلا دیتا ہے اور جس کے واسطے چاہے تنگ کردیتا ہے رزق کی وسعت و کثرت نہ حق کی دلیل ہے اور نہ غلبہ کی نشانی ہے، بیشک اس چیز میں بہت بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو ایمان ویقین رکھتے ہیں چناچہ ہر صاحب فہم دنیا کے احوال دیکھ کر اس اقرار پر مجبور ہوتا ہے کہ رزق کی وسعت اور تنگی انسان کے ہنروعلم پر موقوف نہیں بلکہ یہ صرف اللہ کی طرف سے تقسیم ہے بہت سے بےہنر اور بےتدبیر مال و دولت کے انبار رکھتے ہیں اور بہت سے سمجھ دار اور ہنر وتدبیر والے خسارہ اور ناکامی کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر رزق علم وہنر سے ہی حاصل کیا جاتا تو علم وہنر والے جاہلوں اور بےہنر لوگوں کے واسطے حبہ بھی نہ چھوڑتے، الغرض ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی فرمانے کے ساتھ کافروں اور ظالموں کو انجام بد سے متنبہ فرمایا اور یہ بھی واضح کردیا کہ مال و دولت سے نہ مغرور ہونا چاہئے، او نہ یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ ہمارے علم وہنر کا نتیجہ ہے بلکہ اس کو محض انعام خداوندی جاننا چاہئے اور منعم کا شاکر ومطیع ہونا چاہیئے اور یہ کہ خدا کے عذاب وقہر کے مقابلہ میں دنیا کے تمام اسباب ووسائل بھی عاجز ہیں تو اس پیغام تسلی کے ساتھ مجرمین کو تہدید ودھم کی بھی ہے اور ساتھ ہی اپنے رسول ﷺ کو کامیابی اور غلبہ کی بشارت بھی وہی جارہی ہے، ان آیات میں یہ دعائیہ کلمات نہایت ہی جامع اور بااثر ہیں، ان کلمات مبارکہ میں ایمان ومعرفت اور توکل علی اللہ کی حقیقت پوری طرح روشن ہے آنحضرت ﷺ تہجد کی ابتداء انہی کلمات سے فرمایا کرتے تھے، حضرت عائشہ ﷺ فرماتی ہیں آنحضرت ﷺ جس وقت رات میں بیدار ہو کر نماز کا سلسلہ شروع فرماتے، آپ ﷺ یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ اللہم رب جبریل ومیکائیل واسرافیل فاطر السموت والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھد فی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشآء الی صراط مستقیم (تفسیر ابن کثیر ج 4)
ربیع خثیم (رح) کی مجلس میں حضرت حسین ؓ کی شہادت کا ذکر کیا گیا اور بعض حاضرین مجلس نے اس بارے میں ان سے کچھ دریافت کرنا چاہا تو بڑے ہی رنج وکرب کی کیفیت کے ساتھ (آیت) ” انا للہ وانا الیہ راجعون “۔ پڑھا اور پھر یہی آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ” اللہم فاطرالسموت والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون۔