39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 39:53–63

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میری طرف سے لوگوں سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اسکے فرمانبردار ہوجاؤ (ورنہ) پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے پیروی کرو

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے پھر ایک دفعہ دنیا میں جانا ہو تو میں نیکوکاروں میں ہوجاؤں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(خدا فرمائے گا) کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی ہیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور شیخی میں آگیا اور تو کافر بن گیا

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو پرہیزگار ہیں انکی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا انکو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غمناک ہوں گے

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگران ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔ (ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے تو اس طرح مایوسی کا تصور پیدا ہونا ایک طبعی سا امر تھا تو اس کو دلوں سے نکالنے کے لیے یہ آیات نازل کی گئیں جن میں ہر اس شخص کو اللہ کی رحمت ومغفرت کی بشارت دی گئی جو باطل سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف اپنا رخ کرلے، جیسے کہ عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث میں ہے کہ اہل مکہ یہ کہنے لگے کہ محمد ﷺ یہ کہتے ہیں جس شخص نے بت پرستی کی اور خدا کے ساتھ کسی اور معبود بنایا کسی کو قتل کیا تو اس کی کبھی مغفرت نہ ہوگی تو ہم کیسے ہجرت کریں، اور کس طرح اسلام لائیں حالانکہ ہم نے تو بتوں کو پوجا ہے اور خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کیا اور قتل بھی کیا تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں بعض سندوں سے یہ مضمون اس طرح منقول ہے، کچھ لوگ اہل شرک میں سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے جو اسلام کی رغبت رکھتے تھے، اور جاہلیت کے زمانہ میں انہوں نے شرک بھی کیا تھا، قتل کے بھی مرتکب ہوئے تھے اور زنا بھی وچوری بھی خوب کی تھی تو انہوں نے یہ عرض کیا یا رسول اللہ، آپ جس چیز کی دعوت دے رہے ہیں وہ نہایت ہی بہترین چیز ہے اب ہم اسلام تو لانا چاہتے ہی، لیکن یہ سب کچھ ہم نے کیا ہے اور ان چیزوں کے باعث ہم ڈرتے ہیں تو کیا اسلام لانے پر ہماری نجات ہوجائے گی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں، ارشاد فرمایا (آیت ) ” قل یعبادی الذی اسرفوا “۔ کہہ دیجئے آپ میرے ان بندوں سے جنہوں نے کفر وشرک اور قتل وزنا جیسے کام کرکے اپنے اوپر زیادتی کی ہے کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہوؤ اور اس خیال سے کہ یہ گناہ کیسے معاف ہوں گے، ایمان لانے میں ہرگز تامل وتردد نہ کرو بیشک اللہ رب العزت اسلام لانے کی وجہ سے تمام گناہوں کی مغفرت فرما دے گا، اگرچہ وہ سابق زندگی کا گناہ کفر اور شرک ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اسلام لانے سے تو کفر ایمان وطاعت کی صورت میں تبدیل ہوگیا اور اس نے شرک کی گندگی سے پاکی حاصل کرکے توحید کو اختیاری کرلیا ہے، واقعی وہ بڑا ہی مغفرت کرنے والا مہربان پروردگار ہے، اس کی رحمت ومغفرت میں کمی نہیں، بس صرف شرط اتنی ہے کہ بندہ اس کی طرف رجوع کرلے، اس لیے اے انسانو ! خواہ اب تک تم نے کچھ ہی کرلیا ہو مگر اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب خداوندی آجائے پھر تو تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی، کیونکہ عذاب خداوندی کو ٹلانا اور اس کو دفع کرنا خدا کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ خدا کے ساتھ مقابلہ کرنے کی تمام کائنات کو بھی طاقت نہیں اگر دنیا کی طاقت ہوا کے جھونکے روکنے سے عاجز ہے تو مجرمین پر برستا ہوا عذاب وقہر کس کی مجال ہے کہ روک لے جب عذاب خداوندی کی یہ نوعیت ہے کہ کسی کی کوئی مدد نہ ہوسکے گی تو اے لوگو، تم کو چاہئے کہ تم ان بہترین احکام کی پروری کرو جو تمہاری طرف اتارے گئے تمہارے رب کی طرف سے قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب خداوندی آجائے، اور حال یہ کہ تم کو اس کا احساس بھی نہ ہو کہ ناگہاں ایسے وقت عذاب آجائے گا اور نہ ہی یہ احساس و گمان ہو اور ایسا شدید عذاب ہوگا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کو نہیں روک سکے گی لہذا تم کو چاہئے کہ ایسا وقت آنے سے پہلے احکام خداوندی کی پیروی کرنے لگو، کہیں ایسی نوبت نہ آجائے کوئی انسان یہ کہنے لگے ہائے حسرت وافسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کی کوتاہی اور غفلت تو کیا میں تو بیشک احکام خداوندی اور اس کے دین کا مذاق اڑانے والوں میں سے رہا یا اس سے پہلے ایمان لے آؤ کہ کوئی کہنے لگے کاش اگر اللہ مجھ کو ہدایت کرتا تو میں ایمان وتقوی والوں میں سے ہوجاتا لیکن یہ میرے اعمال اور احوال کی وجہ سے میری بدنصیبی تھی کہ میں اللہ کی توفیق وہدایت سے محروم رہا یا اس سے قبل اے لوگو ! ایمان لے آؤ کہ کوئی کہنے والا یہ کہنے لگے جس وقت کہ عذاب دیکھے اے کاش اگر میرے واسطے دنیا کی طرح کی طرف واپسی کا کوئی امکان ہوجائے تو پھر میں نیک بندوں میں ہوجاؤں، خبردار اے مخاطب منکر یہ باتیں ہرگز تجھے ذیب نہیں دیتیں نہ تو حق میں کوئی خفا اور شبہ تھا اور نہ تو احمق وغافل تھا کہ اس کے دور ہونے پر تو حق وہدایت قبول کرلیتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہاں بیشک تیرے پاس میری آیات احکام و دلائل کے ساتھ پہنچیں لیکن تو نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا، اللہ رب العزت کے سامنے اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ سرجھکانے سے، اور یہ نہیں کہ یہ حالت کسی وقت رہی ہو اور پھر عقل وہوش آگیا ہو بلکہ تو تو کفر ہی کرنے والوں میں رہا۔ ہدایت تو اس وقت ممکن تھی جب کہ قبول حق کا کوئی ارادہ کرتا جب کہ ایسے مجرموں نے یہ ہی طے کیا ہوا تھا کہ اسلام کی مخالفت اور اللہ کی بغاوت ہی کرنی ہے تو پھر ظاہر ہے ان حسرتوں اور آرزوؤں سے کچھ کام نہ بنے گا اور اے ہمارے پیغمبر آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہوئے ہیں،۔ 1 حاشیہ (” سیاہ ہوئے ہیں “۔ یہ ترجمہ مسودہ کا کیا گیا، جس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ چہرے جو دراصل خلقی طور پر ایسے سیاہ نہ تھے ان کو قیامت کے روز سیاہ کردیا جائے گا، جو زیادہ ڈراؤنے اور ہیبت ناک نظر آئیں گے بخلاف چہروں کی اس سیاہی کے جو پیدائشی طور پر دنیا میں بہت سے انسانوں کے ہوتی ہے جیسے سیاہ فام اقوام، تو ایسی سیاہی نہ عیب ہے اور نہ دیکھنے میں یہ چہرے ہیبت ناک اور ڈراؤنے نظر آتے ہیں جھوٹ خود ایک معنوی ظلمت ہے چہ جائیکہ اللہ کے بارے میں جھوٹ بولا جائے یا اس کی باتوں کو جھٹلایا جائے، تو ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کون سا درجہ ہوسکتا ہے معنوی ظلمت کا، اور قیامت کے روز اعمال واوصاف ظاہری حقائق کی صورت میں رونما ہوتے ہیں، اس وجہ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب اور اس پر جھوٹ باندھنے کا یہ وبال ہوگا کہ چہرے سیاہ ہوں گے، ) تو کیا ایسے نافرمانوں اور متکبروں کے واسطے جہنم میں ٹھکانا نہ ہوگا، جنہوں نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے احکام کا مذاق اڑایا اور اس کے فرمانبرداروں کی ذلت و اہانت کی، لیکن اس کے برعکس اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو کفر ونافرمانی سے بچتے تھے جہنم سے نجات دے گا، ان کی کامیابی کے ساتھ اس طرح کہ ان کو ذرہ برابر بھی نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے، کیونکہ جنت تو نام ہی ہے عالم راحت اور نشاط و فرحت کا جہاں نہ کوئی غم ہوگا اور نہ کوئی پریشانی، بیشک اللہ ہی خالق ہے ہر چیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے، اسی کے قبضہ میں ہیں آسمان و زمین کی کنجیاں اس لیے جس کے واسطے وہ چاہے دنیا میں ہدایت و رحمت کے اور آخرت میں نجات ومغفرت کے دروازے کھول دے اور جس کے واسطے چاہے بند کردے، اس کے کھولے ہوئے درکو کوئی بند نہیں کرسکتا اور جو دروازہ وہ بند کردے اس کو کوئی کھول نہیں سکتا، اور جو لوگ اس کے باوجود بھی نہ سمجھیں اور اللہ کی آیتوں اور اس کے احکام کا انکار کرتے ہیں وہ بڑے ہی خسارہ میں ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی آخرت کا خسارہ تو ظاہر ہے کہ عذاب جہنم میں مبتلا ہوں گے اور وہ عذاب دنیا کی کسی تکلیف کی طرح نہ ہوگا کہ کچھ عرصہ بعد ختم ہوجائے یا کسی ذریعہ سے انسان اس سے چھٹکارا حاصل کرلے بلکہ وہ تو دائمی ہوگا، جس سے نہ نجات ہوگی اور نہ اس میں کوئی خفت وکمی ہوگی اور دنیا میں ان مجرمین کا خسارہ ذلت اور طرح طرح کے مصائب کی صورت میں ظاہر ہے چناچہ غزوۂ بدر سے ہی اللہ کے نافرمانوں کی ذلت وناکامی کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ دنیا کے انسانوں کو رحمت و عافیت اور نجات ومغفرت کی قرآنی دعوت : یہ آیات مبارکہ قرآن کریم میں سب سے بڑھ کر رحمت ومغفرت خداوندی کی امید دلوں میں قائم کرنیوالی آیات ہیں ان آیات میں پروردگار عالم نے تمام دنیا کے گناہگاروں، نافرمانوں حتی کہ شرک وکفر میں مبتلا ہونے والوں کو دعوت دی ہے کہ وہ نافرمانی وبغاوت سے تائب ہو کر سچے دل سے اگر اللہ کی طرف رجوع کرلیں تو خدا کی عنایات اور رحمتیں ان کی جانب یقیناً مبذول ہوں گی۔ ان کو اپنی سابق زندگی کی نافرمانی اور بداعمالیوں سے یہ تصور نہ کرنا چاہئے کہ ان کی معافی کا کوئی امکان نہیں رہا، نہیں ان کو اللہ کی رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہونا چاہئے، جس حالت میں بھی خواہ کسی طرح کا عمل ہو جب بھی وہ اللہ کی طرف رجوع کریں گے رحمت خداوندی کا دروازہ کھلاپائیں گے ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کچھ لوگ مشرکین میں سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اپنی سابق زندگی میں قتل بھی کیے تھے، خوب قتل کیے تھے اور زنا بھی کیا تھا اور بہت کیا تھا تو آنحضرت ﷺ سے کہنے لگے، اے محمد ﷺ جو کچھ آپ ﷺ کہتے ہیں اور جس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بیشک نہایت ہی بہتر ہے لیکن ہمیں اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے کیے ہوئے اعمال کا کوئی کفارہ ہوسکتا ہے تو ہم اسلام لانے کو تیار ہیں تو اس پر آیات (آیت ) ” والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر “۔ اور یہ آیات (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا “۔ نازل ہوئیں۔ اور حق تعالیٰ نے نہایت واضح طور سے فرما دیا (آیت ) ” الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ “۔ کہ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرلیتا ہے اپنے بندوں کی، کہیں ارشاد فرمایا (آیت ) ” ومن یعمل سوٓء اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ کہ جو شخص بھی برا کام کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ سے معافی مانگے تو اللہ کو پائے گا کہ وہ بڑا ہی مغفرت کرنے والا مہربان ہے، کہیں منافقین کے حق میں خصوصیت سے فرمایا۔ (آیت ) ” ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجد لھم نصیرا الا الذین تابوا واصلحوا “۔ کہ منافقین جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے اور اے مخاطب تو ان کے واسطے کوئی مددگار نہیں پائے گا، لیکن جو لوگ تائب ہوجائیں اور اپنے عمل کی اصلاح کرلیں تو بیشک وہ اس عذاب سے نجات پانے والے ہوں گے اہل کتاب میں سے نصاری کے شرک اور کفر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا۔ (آیت ) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ “۔ ان کے اس شرک وکفر کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا (آیت ) ” افلا یتوبون الی اللہ ویستغفرونہ “۔ کہ یہ لوگ کیوں نہیں خدا کی طرف رجوع کرتے اور تائب ہوتے اور کیوں نہیں اس سے معافی مانگتے۔ الغرض ان آیات سے مجموعی طور پر یہ واضح ہوا کہ انسان کی بداعمالیاں ہوں یا کفر وشرک ہو یا نفاق کی گندگیوں میں مبتلا ہو، ان میں سے ہر ایک جس وقت بھی اپنے جرائم و گناہوں اور کفر وشرک یا نفاق سے تائب ہو کر مطیع وفرمانبردار بننا چاہے تو اس کو بارگاہ رحمت سے دھتکارا نہیں جائے گا، نزع روح سکرات موت نزول عذاب اور قیامت کے وقوع سے پہلے جب بھی وہ اللہ کی طرف رجوع کریگا تو (آیت ) ” یجد اللہ توابا رحیما “۔ اللہ کو بڑا ہی مہربان توبہ قبول کرنے والا پائے گا، حسن بصری (رح) (آیت ) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومن ات “۔ کی تفسیر میں فرمایا کرتے تھے دیکھو اس جود وکرم کی کیا انتہا ہے کہ جن لوگوں نے مومنین کو ستایا، اولیاء کو قتل کیا، انہیں کو رحمت ومغفرت کی طرف دعوت دی جارہی ہے گناہ کی زندگی سے تائب ہو کر تڑپ اور بیقراری کے ساتھ دررحمت کی طرف دوڑنے والے کو رحمت خداوندی کس طرح اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ؟ اس کا اندازہ اس حدیث سے ہوسکتا ہے جو ابوسعید خدری ؓ بیان فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ نے بنی اسرائیل میں سے کسی کو واقعہ بیان فرمایا کہ جو ننانوے آدمیوں کو قتل کرچکا تھا، بعد میں اس کو ان بداعمالیوں پر ندامت ہوئی اور اس نے کسی عابد وزاہد کا پتہ معلوم کرنا چاہا کہ جس کے ہاتھ پر جاکر تائب ہو اور اپنی زندگی درست کرلے، ایک راہب کا پتہ معلوم ہونے پر اس کے پاس پہنچا اور اس سے دریافت کیا کہ کیا میرے واسطے توبہ کا امکان ہے، اس نے جواب دیا نہیں۔ اس جواب پر غم وغصہ کی کیفیت میں اس راہب کو بھی قتل کرکے سو کا عدد پورا کردیا، لیکن بدستور وہی تڑپ برقرار رہی اور تلاش میں رہا کہ کسی کے ہاتھ پر بیعت کروں اور تائب ہوجاؤں کسی عالم سے پوچھا کہ کیا میرے واسطے توبہ کا امکان ہے اس نے جواب دیا کہ کون حائل ہوسکتا ہے، تیرے اور تیری توبہ کے درمیان، اور فلاں بستی میں ایک عالم وعابد ہے، تو اس کے پاس جا۔ اور اس بستی میں رہ کر خدا کی عبادت کرتا رہ، یہ شخص روانہ ہوا، سفر کے دوران موت کے آثار واقع ہوئے تو رحمت اور عذاب کے فرشتے آگئے اور باہم خصومت کرنے لگے عذاب کے فرشتے کہتے ہیں ہم اس کی روح قبض کریں گے اور رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ نہیں ہم اس کی روح قبض کرکے رحمت کے مقام میں لے جائیں گے حق تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ زمین ناپ لو جس جگہ سے قریب ہو اسی حکم میں اس کو شمار کرلو۔ ساتھ ہی اللہ نے اس طرف کی زمین کو جہاں یہ جارہا تھا حکم دیا کہ تو نزدیک ہوجا، پیمائش کرنے پر توبہ کی زمین قریب نکلی، اس پر رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی، اور ایک روایت میں یہ لفظ ہے کہ جس وقت وہ زمین پر گر رہا تھا اس نے اپنا سینہ اور رخ اسی طرف جھکا دیا جس طرح وہ جارہا تھا تو ایک بالشت کے بقدر ادھر زمین کم رہ گئی ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ کا حکم ہوا سرزمین معصیت کو کہ تو بعید ہوجا اور توبہ کی زمین کو حکم ہوا تو قریب ہوجا، اور اس طرح ملائکہ رحمت کو قبض روح کا حق عنایت کردیا گیا۔ گویا قانون الہی سے اس شخص کو نافرمانیوں اور معصیتوں سے تائب اور پاک شمار کرلیا گیا کیونکہ جس تڑپ اور جذبہ کے ساتھ یہ اپنی جگہ سے نکلا اور ارض معصیت کو نفرت سے چھوڑتے ہوئے ارض اطاعت کا رخ اختیار کرلیا تو درحقیقت یہ اس ارشاد خداوندی کا مصداق بن گیا (آیت ) ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ اور اللہ کے نزدیک اس کا شمار تائبین ومطیعین میں ہوگیا اور تائب انسان بفرمان نبوی اس معصوم بچہ کی طرح ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ انابت الی اللہ کا مفہوم : انابت اور رجوع الی اللہ کی حقیقت نافرمانی اور معصیت سے بیزار ومتنفر ہو کر اللہ رب العزت کی اطاعت و بندگی کی طرف رخ کرلینا ہے، اس طرح سے کہ گزشتہ کیے ہوئے اعمال پر ندامت وشرمساری ہو اور بار گاہ خداوندی سے عفو کا طالب ہوتے ہوئے یہ عہد کرے کہ آئندہ ان برائیوں سے پرہیزکروں گا۔ حدیث سید الاستغفار کے الفاظ یہ ہیں۔ اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عھدک ووعدک مااستطعت اعوذبک من شر ما صنعت ابوء لک بنعمتک علی وابواء بذنبی فاغفرلی فانہ لا یغفرالذنوب الا انت ان کلمات سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ توبہ و استغفار کی مجموعی حقیقت یہ ہے کہ بندہ حق تعالیٰ کی الوہیت اور ربوبیت وخالقیت کا اعتقاد کامل رکھتے ہوئے اپنی بندگی کا اقرار کرے، اور خدا سے کیے ہوئے عہد و پیمان کی تکمیل کا اپنی عملی حد استطاعت تک عزم رکھے، ساتھ ہی اپنی کی ہوئی برائیوں کا تصور ہو اور اس بات کا احساس ہو کہ خدا کے انعامات کس قدر ہیں اور ان انعامات کے بالمقابل میری تقصیرات کتنی ہیں، ظاہر ہے کہ اس احساس کا نتیجہ ندامت و شرمندگی کی صورت میں ظاہر ہوگا اور اس طرح کے اعتقاد وعزم اور احساس ندامت کے ساتھ معافی کی طلب اور اس بات کا عہد کہ آئندہ اس طرح کی معصیت کا مرتکب نہ ہوں گا۔ تو ان تمام احوال و کیفیات کا مجموعہ درحقیقت اللہ کی طرف انابت ورجوع ہے تو ایسے رجوع الی اللہ پر بشارت سنائی جارہی ہے رحمت ومغفرت کی اور اسی کے ساتھ مایوسی کا تصور قلب و دماغ سے نکال دینے کا بھی امر فرمایا جارہا ہے۔ رحمت خداوندی سے ماویوسی جرم عظیم ہے : دعوت رحمت اور بشارت مغفرت کے ساتھ یہ بھی فرمایا جارہا ہے۔ (آیت ) ” لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “۔ کہ اللہ کی رحمت سے اے لوگو ! ہرگز مایوس نہ ہو اور رحمت خدا وندی سے مایوسی کو کفر کے درجہ میں شمار کیا گیا جیسے ارشاد ہے (آیت ) ” ان لایایئس من روح اللہ الا القوم الکافرون “۔ دوسری جگہ (آیت ) ” قال ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضآلون “ (الحجر ) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ کی رحمت سے مایوس ہو تو درحقیقت ایسا شخص کتاب اللہ کا منکر ہے (ابن کثیر ج 4) عبداللہ بن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے۔ اعظم ترین آیت کتاب اللہ میں آیۃ الکرسی (آیت ) ” اللہ لاالہ الا ھو الحی القیوم “۔ ہے اور خیر وشر کے لیے جامع ترین آیت قرآن کریم میں (آیت ) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ ہے اور سب سے زیادہ مسرت و خوشی کی (آیت ) ” یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “۔ ہے اور تفویض واعتماد علی اللہ کے باب میں سب سے زیادہ مضبوط وقوی (آیت ) ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب “۔ ہے۔ مقاتل بن حیان (رح) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا قول نقل کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے۔ ہم لوگ اصحاب رسول اللہ ﷺ (آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں) یہ سمجھا کرتے اور کہا کرتے تھے، ہم جو بھی نیکیاں کرتے ہیں وہ یقیناً قبول ہوتی ہیں یہاں تک کہ (آیت ) ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول ولا تبطلوآ اعمالکم (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہم نے سوچا کہ یہ کون سی چیز ہوسکتی ہے جو اعمال کو باطل کردے تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کبائر و فواحش ہیں کہ ان کے ارتکاب سے انسان کی نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں تو اس پر ہم گھبرا گئے اور کہنے لگے یقیناً جو شخص بھی کسی گناہ کا ارتکاب کرلے وہ تباہ وبرباد ہوگا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے ان دونوں باتوں سے رجوع کیا، یعنی نہ ہم اس تخیل پر رہے کہ ہر نیکی ضرور قبول ہوگی اور نہ یہ عقیدہ رہا کہ گناہ کے ارتکاب کے بعد ہلاکت وتباہی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں بلکہ اس کے برعکس ہم نے سمجھا کہ گناہوں کے ارتکاب کے بعد توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ سے بندہ اللہ کی مغفرت، عنایات اور رحمتوں کا مستحق ہوجاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 4) انابت کا مفہوم رجوع ہے اور (آیت ) ” وانیبوٓا الی ربکم “۔ الخ کے معنی یہ ہیں۔ اے لوگو ! تم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو معصیتوں سے اعراض کرتے ہوئے۔ ان پر ندامت و شرمندگی کے ساتھ۔ اور بعض ائمہ مفسرین نے اس کا مفہوم یہ ذکر کیا ہے کہ تم نفس اور اس کے تقاضوں سے منقطع ہو کر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف اس کی عبادت و بندگی اور ذکر کے ساتھ رجوع کرو ، ” توبہ “۔ کے معنی بھی اہل لغت رجوع کے بیان کرتے ہیں اور انابتہ کے معنی بھی رجوع کے ہیں، جیسے کہ بیان کیا گیا، شیخ ابو القاسم قشیری (رح) نے ان دونوں میں لطیف فرق بیان کیا، فرمایا تائب اس کو کہیں گے جو خوف عقاب کی وجہ سے رجوع کرے یعنی سزا اور عقوبت سے ڈر کر معصیت سے تائب ہو اور طاعت کی طرف رجوع کرے، اور منیب اس رجوع کرنے والے کو کہیں گے جو حق تعالیٰ کے انعامات وکرم سے شرما کر معاصی سے باز آئے، (آیت) ” وانیبوا الی ربکم “۔ کے بعد (آیت ) ” واسلموا “۔ کا حکم حق تعالیٰ سبحانہ کے لیے اخلاص پر متوجہ وآمادہ کررہا ہے اور انابت کے بعد اخلاص کا حکم اس مقصد کے لیے ہے کہ بندہ یہ بات سمجھ لے کہ اس کی نجات و کامیابی اس کی انابت کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اس کے فضل وکرم سے ہے اور اسی کا فضل تھا کہ انابت کی توفیق حاصل ہوئی (تفسیر روح المعانی ج 24) الغرض آیت کا مقصد اور اس پیغام رحمت کی غرض یہ ہے کہ کسی شخص کو قبول حق اور رجوع الی اللہ کے لیے یہ بات مانع نہ ہونی چاہئے کہ اسن اپنی سابق زندگی میں عظیم گناہ کیے ہیں، نہ اس کو اس وجہ سے قبول حق سے رکنا چاہئے اور نہ ہی اس کو رحمت خداوندی سے مایوس ہونا چاہئے، اس لیے ان آیات سے یہ سمجھنا کہ اللہ کی نافرمانی اور معصیت میں کوئی مضائقہ نہیں، اور ان اعمال کے مواخذہ کی کوئی فکر نہ کرنی چاہئے۔ قطعا غلط ہے، عقل اور الفاظ کی دلالت ہر گزای سے مفہوم کی اجازت نہیں دیتی حاصل یہ کہ ان آیات سے انسان کو بےفکر ہو کر گناہوں پر جری نہ ہونا چاہئے، بلکہ غرض یہ ہے کہ مایوسی کا خیال دل سے نکال دینا چاہئے۔
Ayahs 39:64–70

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے نادانو ! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ خدا ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں ہو

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اسکے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالیشان ہے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور جس شخص نے جو عمل کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اسکو سب کی خبر ہے

اعلان برأت از شرک وتنبیہ ووعید بحبط اعمال و خسران انجام برنافرمانی رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی ...... الی ....... وھو اعلم بما یفعلون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت رحمت دی گئی اور یہ کہ دلائل حق واضح ہونے پر اگر کوئی شخص قبول حق سے محض اس وجہ سے اعراض کرتا ہے کہ اس کو اپنے سابق اعمال کا ڈر ہے اور یہ تصور ہے کہ اس کی نجات ممکن نہیں تو اس کا یہ خیال غلط ہے، اس کو چاہئے کہ مایوسی کا یہ تصور قلب و دماغ سے نکال دے، اب ان آیات میں اس امر کی ہدایت کی جارہی ہے کہ ہر حق پرست اور موحد انسان کو شرک سے برأت وبیزاری کا اعلان کردینا چاہئے، تاکہ کافروں کو اس کے بارے میں ایسی کوئی طمع باقی نہ رہے کہ شاید کسی ذریعہ سے یہ شخص راہ راست سے بھٹک سکتا ہے، اسی ضمن میں یہ بھی فرمادیا گیا، اللہ رب العالمین کی نافرمانی انسان کے لیے تمام اعمال خیر کو برباد کرتی ہے اور اس کا انجام خسارہ اور تباہی کے سوا کچھ نہیں، فرمایا۔ کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر ﷺ تو کیا غیر اللہ کی عبادت کرنے کی مجھ سے فرمائش کرتے ہو تم اے جاہلو، بعداس کے کہ حق واضح ہوچکا، اور توحید ثابت ہوگئی، اب بجائے اس کے کہ تم اس توحٰد کو قبول کرو، خود تمہاری یہ جرأت اور طمع کیسے ہوئی کہ تم مجھ سے غیر اللہ کی پرستش کے لیے کہنے لگے، اور حال یہ ہے کہ بیشک آپ ﷺ کی طرف وحی بھیجی جاچکی۔ اور ان انبیاء کی طرف جو آپ سے پہلے گذرے کہ اے مخاطب اگر تو شرک کرے گا تو یقیناً تیرا سارا عمل برباد ہوگا اور تو خسارہ میں پڑے گا، اے مخاطب شرک تو کیا بلکہ تو تو ہمیشہ اللہ ہی کی عبادت کرتا رہ اور ہمیشہ اللہ کے شکر گزار بندوں میں سے رہنا اور سب سے بڑا حق اللہ کا اس کی عظمت و توحید پر ایمان لانا ہے تو ظاہر ہے کہ شرک کے ارتکاب کے ساتھ اللہ کا شکر ادا ہوسکتا ہے، اور جو لوگ شرک کے مرتکب ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خدا کی عظمت اور قدرومنزلت کو پہچانتے ہیں نہیں چناچہ یہ وہی لوگ ہیں کہ انہوں نے خدا کی عظمت نہیں کی جیسے کہ خدا کی عظمت کا حق تھا اور حق عظمت ادا کرنا قبول توحید کے بغیر ممکن نہیں، حالانکہ اس کی شان یہ ہے کہ ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی، قیامت کے روز اور تمام آسمان لپٹے ہوئے ہوں گے، اس کے دائیں ہاتھ میں پس پاکی ہے اس پروردگار کی اور برتر ہے وہ ذات ان کے ہر شرک سے جو وہ کرتے ہیں اور قیامت کے روز جس میں حق تعالیٰ کی یہ شان عظمت ہوگی، صور میں پھونک ماری جائے گی تو مدہوش ہوکرگرپڑیں گے، تمام زمین و آسمان والے بجز اس کے کہ جس کو خدا چاہے کہ اس مدہوشی سے محفوظ رہے پھر اس صور میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو دفعتہ سب ہوش میں آنے کے بعد اپنی قبروں سے باہر نکل کر کھڑے دیکھتے ہوں گے حیرت وتعجب سے کہ یہ سب کچھ کیا ہوگیا اور کیسے ہوگیا، اور پھر حق تعالیٰ جب اپنی شان بےچون وچگوں کے ساتھ زمین کی طرف نزول وتجلی فرمائیں گے تو زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوجائے گی، اور یہ نور اللہ کی تجلی کا ہوگا جیسے کہ ارشاد ہے۔ (آیت ) ” وجآء ربک والملک صفا صفا “۔ اور ہر ایک کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور لایا جائے گا پیغمبروں کو اور گواہوں کو، انبیاء گواہی دیں گے کہ ہم نے اللہ کے احکام پہنچا دیئے تھے اور گواہ (جو کود ان کے ہاتھ پاؤں بھی ہوں گے علاوہ فرشتوں اور امت محمد یہ کے) ان کے اعمال کی گواہی دیتے ہوں گے اور اس طرح سب مکلفین کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا، حق وانآف کے ساتھ مجرمین ونافرمانوں کے واسطے سزا کا اور مطیعین وفرمانبرداروں کے لیے نجات و انعامات کا فیصلہ کردیا جائے گا اور یہی فیصلہ حق و انصاف کا فیصلہ ہوتا ہے اور پورا پورا دے دیا جائے گا، ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ جو اس نے کیا، نہ کسی کی نیکی ضائع ہوگی اور نہ کوئی ظلم کے بدلہ سے بچ سکے گا، اور وہ پروردگار تو سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے جو وہ کرتے تھے، اس لیے اس کے علم اور نظر سے کسی کا کوئی عمل اور کسی کی کوئی حالت پوشیدہ نہیں مگر اس کے باوجود نامہ اعمال مرتب ہوں گے جو ان کے سامنے ہوں گے، انبیاء (علیہم السلام) احکام خداوندی پہنچا دینے کی گواہی دے رہے ہوں گے، اعمال کے لکھنے والے فرشتے اور خود ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیتے ہوں گے کہ اس شخص نے یہ یہ کیا اس طرح عدل و انصاف سے فیصلہ کردیا جائے گا، جس کے بعد مجرمین جہنم کی طرف گھسیٹے جارہے ہوں گے اور مطیعین انعام واکرام اور اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل ہورہے ہوں گے اور فرشتے دروازوں پر استقبال کے لیے کھڑے ہوں گے اور تحیہ وسلام ہوتا ہوگا، (آیت ) ” سلام علیکم طبتم فادخلوھا خلدین، وما قدرواللہ حق قدرہ “۔ کی تفسیر میں عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ اس کے مصداق تمام کافر ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ کی عظمت کو پہچانا ہی نہیں۔ اگر وہ اس کی قدرومنزلت کو پہچان لیتے تو ضرور ایمان لے آتے یعنی مشرکین نے اس کی عظمت و جلال کو اس حد تک نہ سمجھا جہاں تک ایک بندہ کو سمجھنا اور ملحوظ رکھنا چاہئے تھا، یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کی شان رفیع کا سمجھنے والا ایک عاجز مخلوق حتی کہ پتھروں کو اس کا شریک بناتا۔ (آیت ) ” والارض جمیعا قبضتہ “۔ کی تفسیر میں حضرات مفسرین نے متعدد روایات بیان کی ہیں اور مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں لیکن اہل سنت والجماعت اور تمام ائمہ سلف اس قسم کی جملہ آیات کو متشابہات میں سے قرار دیتے ہیں اور آیات متشابہات میں سلف کا یہی موقف ہے کہ ظاہر پر برقرار رکھتے ہوئے ان پر ایمان لایا جائے اور کسی کیفیت کی تحقیق اور تعیین سے گریز کیا جائے، اس آیت کے شان نزول میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے جو حدیث امام بخاری (رح) نے اور دیگر ایمہ محدثین نے عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے جو حدیث امام بخاری (رح) نے اور دیگر ائمہ محدثین نے عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے تخریج کی ہے، وہ سلف کے اس مؤقف کے خلاف نہیں جس کا مضمون یہ ہے کہ ایک عالم علماء یہود میں سے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا اے محمد ﷺ ہم کتاب میں یہ پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل آسمانوں کو ایک انگلی پر اٹھالے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر ........ اور باقی تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر (اس طرح تمام کائنات کو اپنے دست قدرت میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا میں ہی ہوں بادشاہ اور مالک تمام کائنات کا) اور ایک روایت میں ہے اس طرح تمام کائنات کو پانچوں انگلیوں پر لیے ہوئے حرکت دے گا اور ایک روایت میں ہے کہ پھر آنحضرت ﷺ نے اس کی کیفیت بھی اپنے دست مبارک سے ظاہر فرمائی، الغرض جب اس یہودی عالم نے یہ کہا تو آنحضرت ﷺ ہنسے، حتی کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک بھی ظاہر ہوگئے، اس عالم کی بات پر تعجب کے طور پر یا بعض احادیث کے کلمات کی رو سے تصدیق کے طور پر، اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، (آیت ) ” وما قدروا اللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویات بیمینہ “۔ ان تمام روایات کا استیعاب حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں کردیا ہے۔ اہل علم مراجعت فرمائیں۔ نفخ صور کی تفصیل ‘: نفخ صور والی آیت مبارکہ سے ہی ظاہر ہے کہ ایک مرتبہ صورت پھونکنے پر آسمان اور زمین والے سب مدہوش ہو کر گریں گے اور دوبارہ نفخ صورپر سب انان میدان حشر میں رب العالمین کے سامنے کھڑے حیرت کے ساتھ اس منظر کو دیکھ رہے ہوں گے، پہلے نفخ کو نفخۃ الصعق کہا جاتا ہے جس پر آسمان و زمین کے احیاء پر موت کی مدہوشی طاری ہوگی، اس کے بعد پھر اسرافیل (علیہ السلام) کو جب دوبارہ نفخ صور کا حکم ہوگا تو تمام اموات حتی کہ وہ مردے جن کی ہڈیان اور گوشت پوست ریزہ ریزہ ہوچکے ہوں گے یا سمندروں میں غرق ہوچکے ہوں گے یا ہواؤں میں منتشر ہوچکے ہوں گے سب زندہ ہو کر قیامت کے یہ ہولناک مناظر دیکھنے لگیں گے، اسی چیز کو حق تعالیٰ شانہ نے اس آیۃ مبارکہ میں ارشاد فرمایا ہے (آیت ) ” ثم اذا دعا کم دعوۃ من الارض اذا انتم تخرجون “۔ (روم) اکثر ائمہ مفسرین کے نزدیک نفخ صور دو مرتبہ ہی ہے اور احادیث سے بھی ان ہی دو مرتبوں کی وضاحت وتعیین ہورہی ہے، بعض حضرات مفسرین جیسے حافظ ابن کثیر (رح) کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نفخۃ الصعق یعنی مدہوشی کا صور دوسرا ہوگا اور (آیت ) ” ثم نفخ فیہ اخری “۔ کو تیسرا نفخ کہا اور بعض نے یہ فرمایا ایک بار نفخ صور عالم کے فنا ہونے کا ہوگا اور دوسری بار زندہ ہونے کا اور یہ نفخۃ الصعق بعد حشر کے بیہوشی کا تیسری بار ہوگا اور چوتھی مرتبہ کے نفخ پر سب لوگ پروردگار کے رو برو حاضر کھڑے ہوں گے۔ نفخ صور پر مدہوشی سے مستثنی کون ہوں گے : (آیت ) ” الا من شآء اللہ “۔ سے ان افراد کا استثناء فرمایا گیا جو اس مدہوشی سے مستثنی اور محفوظ رہیں گے حدیث میں ہے، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا دوبارہ نفخ صور پر سب لوگ ہوش میں آئیں گے تو میں ہی وہ شخص ہوں گا جو سب سے پہلے افاقہ پانے والا ہوں گا اور دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش الہی کا پایہ پکڑے کھڑے ہوئے ہیں، میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آچکے یا آج کی مدہوشی کے بالعوض ان کی کوہ طور کی مدہوشی کو سمجھ لیا گیا جب کہ کوہ طور کی تجلی واقع ہونے سے مدہوش ہو کر گرپڑے تھے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ (صحیح بخاری) بعض مفسرین نے استثناء سے جبرئیل (علیہ السلام) میکائیل (علیہ السلام) اور ملک الموت (علیہ السلام) مراد لیے ہیں، بعض کے نزدیک اس سے مراد حاملین عرش الہی ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ انبیاء وشہداء ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، صور کے دونوں نفخوں کے درمیان چالیس کا فرق ہوگا، راوی بیان کرتے ہیں لوگوں نے دریافت کیا اے ابوہریرہ ؓ چالیس دن کا ؟ جواب دیا، میں نہیں جانتا، پھر لوگوں نے کہا، کیا چالیس مہینے کہنے لگے، میں نہیں کہہ سکتا، پوچھا گیا، تو کیا چالیس سال ؟ جواب دیا مجھے نہیں معلوم، اس کے بعد حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا کہ آپ نے فرمایا، پھر حق تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کی نشوونما ہوگی اور فرمایا انسان کے جسم میں سے کوئی چیز بھی ایسی باقی نہ رہے گی کہ وہ بوسیدہ اور پارہ پارہ نہ ہوچکی ہو مگر ” عجب الذنب “ ، یعنی پشت کی ہڈی جسے ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے پھر اسی سے (یا اس کے اجزاء سے خواہ وہ کسی بھی شکل میں متغیر ہوچکے ہوں) اس کے تمام بدن کی تخلیق اور ترکیب کی جائے گی (صحیح بخاری) اور اس طرح بعث جسمانی ہوگا۔ (آیت ) ” وجآی بالنبیین “۔ انبیاء کا لایا جانا وہی ہے جو سورة نساء میں گذر چکا ، (آیت ) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھؤلآء شھیدا “۔ کہ ہر امت کے پیغمبر کو لایا جائے گا اور ان انبیاء کی تبلیغ احکام الہی پر گواہی دینے کے لیے آنحضرت ﷺ کو لایا جائے گا، تو ایک گواہی یہ ہوگی، مزید ایک گواہی امت محمدیہ کی طرف سے ہوگی تو امت کے افراد بھی بطور گواہ لائے جائیں گے، جیسے کہ ارشاد ہے، (آیت ) ” لتکونوا شھدآء علی الناس “۔ تیسری قسم کی گواہی ہر انسان کے اعضاء وجوارح کی ہوگی جیسے کہ ارشاد ہے۔ (آیت ) ” الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنآ ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون “۔ چوتھی گواہی ملائکہ اور کراما کاتبین کی ہوگی، چناچہ فرمایا گیا (آیت ) ” وجآءت کل نفس معھا سآ ئق وشھید “۔
Ayahs 39:71–75

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور کافروں کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ کہیں گے کیوں نہیں لیکن کافروں کے حق میں عذاب کا حکم متحقق ہوچکا تھا

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اپنے وعدے کو ہم سے سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنادیا ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں تو (اچھے) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہیں (اور) اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

بیان انجام حقارت وتذلیل کفار ومجرمین وانعام واکرام اہل ایمان ومطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” وسیق الذین کفروا ........ الی ....... الحمد للہ رب العلمین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین و کفار کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ شرک ونافرمانی سے باز نہ آئیں گے، تو زندگی میں کیے ہوئے تمام اعمال حبط وبرباد ہوں گے اور انسان کو نہ قیامت سے بےفکر ہونا چاہئے اور نہ محاسبہ سے لاپرواہی برتنی چاہئے، قیامت بھی برحق ہے، محاسبۂ اعمال بھی۔ اعمال اس پروردگار پر پورشیدہ نہیں وہ اعمال کو دیکھتا اور جانتا ہے، اس نے ہر انسان کا نامہ اعمال بھی تیار کر رکھا ہے، اعمال پر گواہ بھی ہیں اس نوعیت سے مجرم کو اعمال کی سزا دی جائے گی اور جو مطیع وفرمانبردار ہیں ان کو ان کی نیکیوں پر انعاْم وجزا دی جائے گی تو اس طرح جزا وسزا کا اجمالی ذکر کرنے کے بعد اب آئندہ آیات میں اس کی تفصیل کی جارہی ہے، ہر گروہ کے ساتھ قیامت کے روز کیسا معاملہ ہوگا تو ارشاد فرمایا، اور اس قضاء حق اور فیصلہ عدل کے بعد ہانکا جائے گا کافروں کو جہنم کی طرف گروہ گروہ بنا کر اس طرح ان کو ذلت کے ساتھ ہنکا کرلے جایا جائے گا، جیسے جانوروں کو دھکیل کر کسی جگہ لے جایا جاتا ہو اور ظاہر ہے کہ یہ کفار جانے کے لیے تیار نہ ہوں گے تو زبردستی ان کو دھکیلا جاتا ہوگا، اور کافروں کے کفر وشرک کی بہت انواع ہیں تو اسی لحاظ سے ہر نوع کفر وشرک کے مرتکب کا ایک گروہ ہوگا، اس طرح گروہ درگروہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے یا یہ کہ رؤسا اور ان کے سرغنے آگے آگے ہوں گے اور متبعین وپیرو کار پیچھے پیچھے ،۔ 1 حاشیہ نمبر 1 (اسی کو حق تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ظاہر فرمایا (آیت) ” ثم لننزعن من کل شیعۃ ایھم اشد علی الرحمن عتیا “۔ یعنی کافروں کی ہر جماعت میں سے ہم ان لوگوں کو چھانٹ لیں گے جو کفر میں زیادہ شدید تھے تو بڑے بڑے کفار علیحدہ ہوں گے اور چھوٹے چھوٹے الگ ہوں گے۔ ) یہاں تک کہ جب یہ کفار دوزخ کے سامنے پہنچیں گے تو دوزخ کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تاکہ ایک دم جہنم کے شعلے اور لپٹیں انکو جھلسنا شروع کردیں، اور دروازے کھلتے ہی دائمی عذاب اور وہاں کے ہولناک مناظر نظروں کے سامنے آتے ہی حسرت وملال کی بےچینی پیدا کردیں گے اور ان سے دوزخ کے نگران فرشتے بطور ملامت کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہاری ہی جنس سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں سنایا کرتے تھے اور احکام خداوندی سکھایا کرتے تھے اور تم کو ڈرایا کرتے تھے تمہارے اس دن کے پیش آنے سے اے لوگو قیامت کا دن آنا ہے اس کی فکر کرلو، اللہ کی نافرمانی سے بچو ورنہ عذاب خداوندی کا سامنا کرنا پڑے گا اس وقت ذلت و لاچاری کے عالم میں کافر کہیں گے کیوں نہیں : بیشک ہمارے پاس اللہ کے رسول آئے اور انہوں نے عذاب الہی سے ڈرایا، بیشک اسباب ہدایت سب موجود تھے لیکن ہم نے نہ ان سے فائدہ اٹھایا اور نہ راہ راست پر آئے لہذا اب عذاب کا فیصلہ ثابت ہو کر رہا کافروں پر اور اب حسرت وندامت کے ساتھ سوائے اس اعتراف کے اور کوئی چارہ نہیں کہ بیشک ہم نے کفر کیا اور کافروں کے حق میں جس عذاب کا فیصلہ اور وعدہ تھا وہ اب ہمارے سامنے موجود ہے تو یہ ہماری نالائقی ہے اور ہم اس کے مستحق ہیں، اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا اچھا اب تو جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ اس طرح کہ ہمیشہ اس میں رہو گے، غرض یہ متکبرین۔ 1، (پہلی آیت میں ان دوزخیوں کو ” کافرین “ کہا گیا اور اس آیت میں ” متکبرین “ عذاب جہنم تو بیشک کفر ہی کی وجہ سے ہے، لیکن کفر کا اصل سبب اور علت تکبر ہے، جس کا حاصل یہ ہوا کہ ایک چیز عذاب کی ذلت ہے اور دوسری چیز یعنی تکبر وہ علۃ العلۃ ہے تو ان دو تعبیروں سے اشارہ کردیا گیا کہ جو لوگ کفر میں مبتلا ہیں دراصل ان کا یہ کفر ان کے تکبر کا نتیجہ ہے، نخوت اور تکبر ہی ہمیشہ کافروں کے کفر کا سبب بنا، انہوں نے اللہ کے پیغمبروں کے سامنے سرجھکانے سے تکبر کیا تو ایک موقعہ پر علت عذاب کو ذکر کردیا گیا اور دوسری آیت میں علت کی علت بیان کرکے یہ ظاہر کردیا گیا کہ ان کافروں کا یہ کفر ان کا تکبر کا انجام ہے، چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کر آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک کے کافروں کی یہی نخوت، کفر ونافرمانی کا سبب بنی رہی جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” انؤمن لک واتبعک الارذلون “۔ اور تکبر ہی تمام رذائل کا سرچشمہ ہے اس وجہ سے اس کی سزا میں کفار کو انتہائی ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس طرح ذلت و حقارت کیساتھ جہنم میں گھسیٹ کرلے جایا جائے گا جیسے جانور ہنکائے جارہے ہوں، اسی وجہ سے لفظ ” سیق “ استعمال کیا گیا جو سوق بمعنی ہنکانے سے مشتق ہے۔ 12) اور اللہ کے احکام سے سرکشی کرنے والوں کا بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے بخلاف رہیں گے، بخلاف اہل توحید میں سے گنہگاروں کے کہ اگر وہ اپنے گناہوں کے باعث بطور سزا جہنم میں گئے بھی تو سزا بھگتنے کے بعد ان کو عذاب جہنم سے آزاد کردیا جائے گا جہنم ان کا دائمی ٹھکانا اور حقیقی مثوی نہیں، اور اس کے برعکس جو لوگ اپنے خدا سے ڈرے اور اپنے رب پر ایمان لائے ان کو نہایت ہی عزت واکرام کے ساتھ چلایا جائے گا جنت کی جانب گروہ گروہ بنا کر اس طرح کہ متبعین کی جماعتیں مراتب تقوی کے لحاظ سے جدا جدا ہوں گی ہر جماعت کی ایک علیحدہ شان ہوگی وہ اس شان کے ساتھ جنت کی طرف لے گئے تھے تو ان فرمانبرداروں اور مومنین کے اللہ کے فرشتے ذلت و حقارت سے گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے گئے تھے تو ان فرمانبرداروں اور مومنین کے اللہ کے فرشتے ان کے ساتھ چلتے ہوں گے جس طرح بادشاہوں کے محافظ اور درباری خدام اپنے درمیان اپنے بادشاہ کو لے کر چلتے ہوں، اہل جہنم کا سوق حقارت وتوہین کے رنگ میں تھا جیسے چوروں ڈاکوؤں کو طوق وسلاسل کے ساتھ سپاہی لے جاتے ہوں لیکن اہل جنت کا جنت کی طرف سوق اعزاز واکرام کے ساتھ ایسا ہوگا جیسے بادشاہ کو اس کے مصاحبین لیے جاتے ہوں ،۔ 2، حاشیہ (ان کلمات سے یہ ظاہر کردیا گیا کہ لفط جنت کے لیے بطور صنعت مشاکلت کے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اہل جنت تو ظاہر ہے کہ بصد اکرام جنت میں لیجائے جائیں گے جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” اولئک فی جنت مکرمون “۔ ) فرشتے ان کو تقاضا کرکے جلدی جلدی لیے چلتے ہوں گے اور خدام پیچھے سے ان کے حواریوں کو ہنکاتے ہوں گے، غرض یہ سوق عزت و کرامت کا ہوگا جو بصد شوق و محبت ہوگا، یہاں تک کہ جب یہ اہل ایمان جنت تک پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے اور جیسے کہ معزز مہمانوں کی آمد سے قبل ان کے استقبال کیلیے دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں اور ان کو دیکھتے ہی جنت کے نگران ان سے کہیں گے (آیت) ” سلام علیکم طبتم “۔ سلامتی ہو تم پر اللہ کی عنایات ورحمتوں کے ساتھ اور خوش رہو تم، پس داخل ہوجاؤ اس جنت میں اس شان سے کہ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوگے، ہر جانب سے تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں گی نہ کبھی کوئی تعب ومشقت پیش آئے گی اور نہ کسی قسم کا رنج وغم واقع ہوگا۔ اہل جہنم کو تو خازنین جہنم داخل ہونے سے پہلے ملامت اور سرزنش کریں گے لیکن اہل جنت کے لیے خازنین جنت تحیہ وسلام اور پیغام بشارت اور ان کی ثناء و توصیف اور اعزاز واکرام کے ساتھ استقبال کرتے ہوں گے اور آئندہ کے لئے بھی سکون وچین کا مژدہ سنا کر مطمئن کریں گے، جس پر اہل جنت خوش ہوں گے اور فرط مسرت اور جذبہ تشکر سے یہ کہیں گے ” الحمد للہ “۔ شکر ہے اس خدا کا جس نے پورا کردکھایا جو وعدہ اس نے ہم سے کیا تھا ہمارے ایمان لانے پر جو وعدہ تھا جنت کا وہ وعدہ محض اپنے فضل سے پورا کردکھایا جو وعدہ اس نے ہم سے کیا تھا ہمارے ایمان لانے پر جو وعدہ تھا جنت کا وہ وعدہ محض اپنے فضل سے پورا کردیا اول تو وعدہ ہی محض اس کا فضل تھا پھر اس مہربانی پر مزید یہ کہ ہم کو اس نے ایمان کی توفیق دی پھر یہ انعام کہ ہم کو اس پر قائم رکھا، پھر اور کرم بالائے کرم یہ کہ اس کو قبول فرمایا اور خوشنودی ذریعہ بنایا لہذا یہ سب کچھ اس کا فضل ہی فضل ہے اس پر جس قدر بھی اس کا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے اور ہم کو اس سرزمین کا وارث بنادیا کہ ہم عالم جنت میں جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنا لیں۔ کوئی روک ٹوک نہیں حالانکہ دنیا میں تو کوئی ایک بالشت زمین کا ٹکڑا بھی جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنا لیں، کوئی روک ٹوک نہیں حالانکہ دنیا میں تو کوئی ایک بالشت زمین کا ٹکڑا بھی جہاں چاہے نہیں حاصل کرسکتا تھا، پھر یہاں ہر شوق اور خواہش پوری ہورہی ہے ہر طلب پوری کی جارہی ہے جیسے کہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون “۔ تو آخراس بڑھ کر انعام واکرام کا کیا درجہ ہوسکتا ہے، پس کیا ہی اچھا ہے اجر وثواب نیک عمل کرنے والوں کا۔ الغرض جب اہل جنت اللہ کے فضل سے جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخیوں کو جہنم میں گھسیٹ کر ڈال دیا جائے گا تو اللہ کے برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجائیں گے اور اے دیکھنے والے تو روز دیکھے گا فرشتوں کو اس طرح کہ گھیرے ہوئے ہوں گے ہر جانب سے عرش الہی کو پاکی بیان کررہے ہوں گے اپنے رب کی حمد وثناء کرتے ہوئے کہ پروردگار عالم کی تسبیح وتحمید میں غرق ہوں گے اور عرش الہی کعبۃ اللہ کی طرح ملائکہ کا مطاف بنا ہوا ہوگا اور عرش خداوندی کے طواف کے دوران ملائکہ کا ورد ہوگا۔ ” سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم “۔ اور تمام خلائق کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اللہ رب العزت کی اس شان عظمت وکبریائی اور عدل و انصاف کو دیکھ کر ہر زبان اور ہر سمت سے یہی صدا جاری ہوگی۔” الحمد للہ رب العالمین “۔ یعنی ہر طرف سے فرشتوں اور اہل جنت کی زبان جوش و خروش کے ساتھ اللہ کی حمد و ستائش میں مصروف ہوگی اور کہا جاتا ہوگا۔ ساری خوبیاں اس خدا کو زیبا ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ فرشتوں کا عرش الہی کے گرد گھیرابنائے تسبیح وتحمید میں مصروف ہونا اس وقت ہوگا جب حق تعالیٰ کا نزول اجلال ہوگا بندوں کے حساب کے لیے اس وقت کی عظمت وہیبت کا یہ اثر ہوگا، فرشتے بھی عرش الہی کا گھیرا دیئے یا طواف کرنے کی حالت میں حمد وثناء میں مصروف ہوں گے۔ ان آیات میں عجیب ربط وتناسب ہے جس سے مزید شان اعجاز کلام خداوندی کی ظاہری ہورہی ہے (آیت) ” قل افغیر اللہ تامرونی ٓ ’“۔ سے کلام کا آغاز فرمایا گیا تھا، اثبات توحید اور نفی شرک موضوع خطاب تھا، اس سے کلام کی ابتداء کرتے ہوئے معاد اور آخرت کا ذکر شروع کردیا گیا اس میں جنت و جہنم اور اہل جنت و جہنم کا ان کے احوال کا ان کے جنت و جہنم میں داخل ہونے کی کیفیات کا بیان فرمایا دیا گیا اور ان تمام تفصیلات کو اخیر میں حق تعالیٰ کی الوہیت و ربوبیت کے بیان پر ختم فرمایا، یہ کہتے ہوئے (آیت) ” الحمد للہ رب العالمین “۔ (آیت) ” اور ثنا الارض “۔ میں جنت کی سرزمین کو لفظ ارض سے مجازا اس لحاظ سے تعبیر کیا گیا کہ وہ جگہ اسی طرح چلنے پھرنے اور ٹھکانا بنانے کی ہوگی جیسے عالم دنیا میں زمین ہوتی ہے۔ دوزخ وجنت کے دروازے اور ان میں داخل ہونیوالوں کو کیفیات : (آیت) ” حتی اذا جآء و ھا فتحت ابوابھا “۔ اہل جہنم کے جہنم کے سامنے پہنچنے کی کیفیت میں یہ فرمایا گیا، یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے سامنے پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے، (آیت) ” اذا جآء و ھا “۔ شرط پر فتحت کا جملہ جزائیہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے پہنچتے ہی فورا دروازے کھولے جائیں گے تاکہ جلد سے جلد ان کفار ومجرمین کو دارالعقوبت میں پہنچا دیا جائے اور ایک لمحہ کی بھی مہلت نہ مل سکے نیز مجرمین کے ساتھ یہی طریقہ برتا جاتا ہے کہ جیل خانہ بند ہوتا ہے جوں ہی مجرم لایا گیا جیل کے نگران فورا دروازہ کھول کر مجرم کو اندر دھکیل دیتے ہیں، اسکے بالمقابل اہل جنت کا جنت میں جانا اعزاز واکرام کے ساتھ ہوگا اور اعزاز واکرام کا مقتضی یہ ہے کہ معزز مہمانوں کے استقبال کے لیے دروازے پہلے کھلے رہیں اس لیے وہاں (آیت) ” وفتحت ابوابھا “ کی تعبیر اختیار کی گئی جس کا ترجمہ یہ کیا گیا اور دروازے کھلے ہوں گے جیسا کہ ایک موقعہ پر دخول جنت کے ذکر میں (آیت) ” مفتحۃ لھم الابواب “۔ فرمایا گیا۔ (آیت) ” زمرا “ یعنی گروہ گروہ اور جماعتیں جماعتیں اہل جنت کے گروہ وہی جماعتیں ہوں گی جن پر خدا کا انعام ہے اور وہ انبیاء وصدیقین وشہداء اور صالحین کے گروہ ہیں جو یکے بعد دیگرے جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” اولٓئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصالحین وحسن اولٓئک رفیقا (نساء) جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا گروہ اگرچہ جملہ انبیاء کا ہوگا لیکن وہ ذات جو سب سے پہلے جنت میں جائے گی وہ حضور اکرم ﷺ ہوں گے جیسے کہ ارشاد ہے۔ انا اول من یقرع باب الجنۃ (صحیح مسلم) کہ میں ہی سب سے پہلا وہ شخص ہوں گے جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے، انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز میں جنت کے دروازہ پر پہنچوں گا دستک دینے پر خازن جنت جنت وریافت کرے گا، کون ؟ میں جواب دوں گا میں ہوں محمد ﷺ خازن جنت کہے گا، مجھے آپ ﷺ ہی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی کے واسطے جنت کا دروازہ نہ کھولوں، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جو گروہ جنت میں داخل ہوگا ان کے چہرے سے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، ان کے بعد وہ گروہ ہوگا جو زیادہ سے زیادہ روشن ستاروں کے مانند ہوں گے پھر اسی ترتیب کے ساتھ یکے بعد دیگرے داخل ہونے والے گروہوں کے حسن و جمال کا حال ہوگا۔ جنت کے دروازے اعمال کی مناسبت سے متعین ہوں گے : جنت کے دروازوں کا عدد احادیث میں آٹھ ثابت ہوا ہے چناچہ صحیح مسلم کی روایت ہے ان فی الجنۃ ثمانیۃ ابواب باب منھا یسمی باب الریان لایدخلہ الا الصائمون اور باب فضل وضو میں ہے فتحت لہ ابواب الجنۃ الثمانیۃ یدخل من ایھاشاء۔ جنت کے دروازوں میں کوئی باب الصلوۃ ہوگا، کوئی دروازہ باب الصدقہ ہوگا، کوئی باب الصیام جس کو باب الریان فرمایا گیا، کوئی کوئی باب الحج ہوگا، علی ہذا القیاس، ان دروازوں میں ہر ایک دروازہ سے داخل ہونے والے وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں اس عبارت اور عمل سے خاص شغف رکھنے والے ہوں گے مثلاجن پر نماز کا رنگ غالب ہوگا وہ باب الصلوۃ سے اور جن پر صدقہ و خیرات کا رنگ غالب ہوگا وہ باب الصدقہ سے داخل ہوں گے اور جن پر جہاد کا رنگ غالب تھا وہ باب الجہاد سے اور اسی لحاظ سے ان کو پکارا جائے گا، ایک مجلس میں آنحضرت ﷺ جب یہ بیان فرما رہے تھے تو صدیق اکبر ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ اس بات کی کسی کو ضرورت تو نہیں ہے کہ اس کو تمام دروازوں سے پکارا جائے اور بلایا جائے (کیونکہ ایک آدمی ایک ہی دروازے سے داخل ہوتا ہے) لیکن پھر بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی ہوگا ایسا جس کو سب دروازوں سے پکارا جائے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا، ہاں ! ایسا بھی کوئی شخص ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص اے ابوبکر ؓ تم ہی ہوگئے (صحیح بخاری ومسلم ) (آیت) ” وقیل الحمد للہ رب العالمین “۔ الحمد للہ رب العالمین کی صدا جوش و خروش کے ساتھ لگانے والے کون ہوں گے ؟ بالعموم حضرات مفسرین کا خیال ہے کہ مومنین اور اللہ کے فرشتے ہوں گے حافظ ابن کثیر (رح) اپنی تفسیر میں بیان کرتے ہیں یہ کہنے والی کائنات کی ہر شے ہوگی کہ ہر موجود شے اس فیصلہ کے عدل و انصاف کو دیکھ کر اللہ کی پاکی اور حمد وثناء میں مصروف ہوجائے گی (تفسیر ابن کثیر ج 4) عالم کائنات کی جب ہر چیز اللہ کی حمد وثناء کرتی ہے جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم “۔ یہی وجہ ہے صیغہ مجہول (آیت ) ” وقیل “۔ استعمال کیا گیا تاکہ عموم قائل پر دلالت کرے، اس سے ظاہر ہوا کہ ہر مخلوق حمد خداوندی کے ساتھ ناطق ہوگی اور اس کی پاکی کی گواہی دینے والی ہوگی۔ قتادہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق اپنی حمد سے فرمائی جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” الحمد للہ الذی خلق السموت والارض “۔ تو مناسب ہوا کہ تمام مخلوقات کا انجام اور فیصلہ اور ان کے امور کی انتہا بھی حمد خداوندی پر ہو، اس بناء پر اس عدل و انصاف کے آخری فیصلہ کو اسی عنوان کے ساتھ ذکر فرمایا گیا (آیت) ” وقضی بینھم بالحق قیل الحمد للہ رب العالمین “۔ ابتداء خلق بھی حمد سے تھی تو تمام امور کا انجام وانتہا بھی حمد خداوندی پر کی گئی۔ الحمد للہ آج مورخہ 22 ذی الحجۃ الحرام 1400 ؁ھ یوم شنبہ بعد العشاء سورة زمر کی تفسیر ختم ہوئی ‘۔ وللہ الحمد اولاواخرا۔