Ayahs 42:20–23ترغیب دار آخرت وتنبیہ از طلب دنیا وخسارۂ مجرمین وظالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ ...... الی ....... ان اللہ غفور شکور “۔
(ربط) گذشتہ مضمون حق تعالیٰ شانہ کی شان رزاقی اور لطیفی پر ختم فرمایا گیا جس سے بتانا مقصود تھا کہ دنیوی رزق کی تفسیم اللہ رب العرت کے محض رزاق ہونے پر ہے رزق کی کمی اور زیادتی اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہونے پر مبنی نہیں ہے، اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی سعادت اسی میں مضمر ہے کہ وہ طالب آخرت بنے، اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصودس مجھے، طلب دنیا انسانی زندگی کا مقصد نہیں، اس لیے جو شخص اپنی فکر طلب آخرت بنالے گا خدا کی مدد توفیق اور رحمت شامل ہوگی اور اسکی کوشش کو قبول فرمایا جائے گا، اور اس میں برکت دی جائے گی، لیکن اس کے برعکس اگر اس کا مقصود زندگی دنیا ہی کمانا ہے تو ہم اس کو اگرچہ دنیا دے تو دیں گے مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا، تو ارشاد فرمایا جو شخص ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا تو ہم اضافہ کرتے ہیں اس کے واسطے اس کی کھیتی میں کہ طالب کے اعمال قبول کیے جاتے ہیں اور اس کے ثمرات اجروثواب اور انعام کے اس پر مرتب ہوتے ہیں اور اس پر اضافہ اور برکت سے نوازا جاتا ہے، اعمال حسنہ اور عبادات میں بھی ترقی ہوتی رہتی ہے اور اجر وثواب میں بھی زیادتی ہوتی رہتی ہے جس طرح ایک تخم اور دانہ زمین میں بودئیے جانے کے بعد اس کا سلسلہ نشوونما ہوتا ہے تاآنکہ وہ بلندی کے آخری مقام تک پہنچ جائے، اسی طرح اعمال آخرت کی کھیتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت ) ” من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “۔ یعنی جو شخص ایک نیکی کا کام کرے اس کے واسطے اس سے دس گنا زائدثواب ہے، لیکن جو شخص دنیا کی کھیتی کا طالب ہو تو ہم دیدیتے ہیں اس کو دنیا میں سے اور پھر آخرت میں اس کے واسطے کوئی حصہ نہیں، بہر کیف اللہ کا مشروع کیا ہوا، یہ دین حق ہے جس کی بنیادی تعلیم اور ہدایت اخلاص ہے، ہر عمل صرف اللہ ہی کے لیے اور آخرت ہی کے واسطے ہونا چاہئے، صرف ایسا ہی عمل قابل قبول ہے، اور مثمر بھی ہے، اخلاص عمل عقیدۂ توحید کے بغیر ممکن نہیں،
جو لوگ توحید خداوندی کے قائل نہیں اور انہوں نے شرک جیسے ناپاک اعتقاد سے اپنے قلب کو آلودہ کر رکھا ہے وہ بتائیں کہ کیا ان کے واسطے کچھ شرکاء ہیں کہ جو انہوں نے خدا کے ساتھ تجویز کر رکھے ہیں تو کیا ان شرکاء نے ان کے واسطے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ ظاہر ہے کہ نہ خدا کے ساتھ کوئی شریک ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ خدا کے سوا دوسرے معبود انکے لیے کوئی دین تجویز کرلیں جو یقیناً خدا کی اجازت سے نہیں ہوسکتا، اس وجہ سے ایسے مشرکین کے من گھڑت خیالات اور رسول کو یہ کہنا کہ یہ اللہ کا دین ہے محض مہمل اور بےمعنی بات ہے، یہ بات بلاشبہ ایسی تھی کہ فورا ہی اللہ کے عذاب سے ان مجرمین اور گستاخوں کو تباہ کردیا جاتا مگر یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل اور مہلت ہے اور اگر اللہ کا یہ قول فیصل طے شدہ نہ ہوتا کہ ایسے مجرموں کو دنیا میں مہلت دی جائے گی اور آخرت میں عذاب شدید میں مبتلا ہونا پڑے گا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا، اور ان کا کام تمام ہوجاتا اور بیشک ظالموں کو دیکھے گا کہ کانپ رہے ہوں گے ان اعمال سے جو انہوں نے کئے اور وہ عذاب ان پر ضرور مسلط ہو کر رہے گا، جس سے وہ کسی بھی صورت سے نہ بچ سکیں گے، یہ تو منکرین وکافرین کا ہوگا، اور اس کے برعکس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے ان کے واسطے ہر وہ چیز ہوگی جو وہ چاہیں گے اپنے پروردگار کے پاس یہی ہے بہت بڑی فضیلت اور انعام اکرام یہی ہے ہو جس کی بشارت دے رہا ہے، اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور نیکی کے کام کیے، مجر میں کو تنبیہ اور عذاب آخرت سے ڈرانا اور ان کے بالمقابل مومنین ومطیعین کو ثواب آخرت اور نعماء جنت کی بشارت سنانا انتہائی اخلاص اور ہمدردی ہے اگر اس کے باوجودبھی ایسے لوگ جن کی عقلیں بھی بیمار اور قلوب گندہ ہیں وہ اللہ کے پیغمبر کے اخلاص و ہمدردی پر یقین نہیں رکھتے تو اے پیغمبر آپ ﷺ کہہ دیجئے، اے لوگو ! میں تم سے اس مشفقانہ نصیحت اور ہمدردانہ وعظ اور تبلیغ و دعوت پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ہوں، اور اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر صرف اس محبت کا جو قرابت داری میں ہوتی ہے کہ تم میرے ساتھ اس قرابت نسبتی کا جو مجھے قریش کے ہر قبیلہ اور شاخ کے ساتھ حاصل ہے لحاظ کرکے کم ازکم ایذا تو نہ پہنچاؤ اور اس حق قرابت کے باعث میری طرف رخ کرو اور توجہ سے میری بات سنو، اگر تم میری مدد نہیں کرتے تو کم ازکم ایذا تو نہ پہنچاؤ، اور جب کہ میں تم سے کسی مالی صلہ اور معاوضہ کا طالب بھی نہیں تو یہ میرا انتہائی اخلاص ہے اور تعلق قرابت اس کا باعث ہونا چاہئے کہ میری بات پر غور کرو، اور اس کو قبول کرو، حق نبوت نہیں مانتے تو حق کا لحاظ کرلو، جو عقل اور فطرت کا تقاضا ہے، اور میں تم کو پھر یہی بات ہمدردی اور نصیحت کے طور پر کہتا ہوں جو شخص بھی کوئی نیکی کا کام کرے گا، اللہ رب العزت کا یہ پیغام ہے کہ ہم اس کے واسطے اس کی نیکی میں اجر وثواب کا اضافہ کرتے ہیں، بیشک اللہ تو بہت ہی درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے کہ اگر اعمال میں کسی طرح کی تقصیر وکوتاہی واقع ہوجائے تو درگذر فرماتا ہے، اور جو کچھ بندہ نیکی کرتا ہے اس کو وہ سراہتا ہے وہ قدردان ہے اہل ایمان وعمل صالح کو انعامات واجور سے محروم نہیں رکھتا ،
الاالمودۃ فی القربی کی تفسیر :
آنحضرت ﷺ کا کفار مکہ کو یہ خطاب بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا تھا (آیت) یا قوم لم تؤذوننی وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم “۔ یعنی اے میری قوم تم مجھے کیوں ستاتے ہو، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف بھیجا ہوا تو اس طرح آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا اے میری قوم میں تم سے اس دعوت وتبلیغ اور پیغام نصیحت پر کوئی معاوضہ تو نہیں چاہتا البتہ صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم سے جو قرابت و رشتہ داری ہے، اس کے باعث میری طرف کچھ رخ کرو، اور میری بات سنو، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ، اگر ایمان نہیں لاتے تو میرے حال پر مجھ کو چھوڑ دو تاکہ میں خدا کا یہ پیغام دوسروں تک پہنچا دوں۔
قرابت کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم میری اطاعت کرتے، اگر اطاعت نہیں کی تو ایذاء رسانی سے تو باز آجاؤ، آخر میں تمہارا عزیز و قریب ہوں کوئی دشمن تو نہیں، اس لیے میری بات سنو، اور اس پر توجہ کرو ،
قوت نیکی نہ داری بدمکن۔ بروجود خود ستم بیحد مکن :
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں (آیت) ” الا المودۃ فی القربی “۔ کے یہی معنی منقول ہیں۔
قریش مکہ کی طرف سے جب ایذاؤں اور رکاوٹوں کی یہ نوبت آگئی کہ آپ ﷺ ظاہر اسباب میں پیغام خداوندی لوگوں تک پہنچانے پر قادر نہ رہے تو آپ ﷺ اسی کیفیت کو اس طرح فرمایا کرتے، منعونی ان ابلغ کلام ربی۔ مجھے تو قریش کے لوگوں نے اس بات سے مجبور کر رکھا ہے کہ میں اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، تو اس صورت حال میں اس آیت کا نزول ہوا جس میں آپ ﷺ نے حق قرابت کا احساس دلاتے ہوئے یہی چاہا کہ کلام رب اور پیغام خدا وندی پہنچانے میں تم میری دشمنی سے باز آجاؤ، ابن جریر طبری (رح) حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بغوی (رح) امام رازی (رح) اور حافظ جلال الدین سیوطی (رح) غرض جملہ اکابرائمہ مفسرین اور امت کے تمام محدثین بالعموم یہی مطلب بیان کرتے ہیں، عامر شعبی ضحاک علی بن ابی طلحہ عوفی اور یوسف بن مہران (رح) نے عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی معنی بیان کیے ہیں، ایمہ مفسرین میں سے مجاہد (رح) قتادہ (رح) اور عکرمہ (رح) نے اسی کو اختیار کیا، (تفسیرابن کثیر جلدی 4) سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا، میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ کو فرمایا۔
(آیت ) ” لا اسئلکم علیہ اجرا الا ان لا تؤذونی نفسی المودۃ فی القربی لقرابتی منکم وتحفظوا القرابۃ التی بینی وبینکم “۔ یعنی میں تم سے کسی قسم کا کوئی معاوضہ نہیں چاہتا بجز اس کے کہ تم مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ، میری اس قرابت کی وجہ سے جو تم سے ہے اور تم اس قرابت کا لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے، (تفسیر ابن کثیر جلدرابع)
امام بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ (ایک زمانہ تھا کہ) لوگ کثرت سے اس آیت کے بارے میں ہم سے دریافت کرتے اور حجت بازی کرتے، ہم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی خدمت میں لکھ کر بھیجا کہ یہ صورت حال ہے آپ آیت کی مراد بیان فرمائیں تو ابن عباس ؓ نے اس کی مراد میں یہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا نسب قریش کی تمام شاخوں سے ملتا تھا کوئی شاخ ایسی نہ تھی کہ جس سے رسول اللہ ﷺ کا نسب نہ ملتا ہو، آپ ﷺ کی دعوت وتبلیغ پر جو قریش مکہ نے انکار کیا آپ کو جھٹلایا عداوت اور ستانے پر تل گئے تو اس پر آپ نے فرمایا اے لوگو ! میں تم سے کچھ نہیں طلب کرتا بجز (سودۃ فی القر بی) اس لیے تم میری قرابت کا لحاظ کرو، اور مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ اور قدرت دو کہ میں اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، (تفسیر روح المعانی جلد 25)
الغرض اس تفسیر سے یہ ظاہر ہوگیا کہ (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ میں استثناء استثنا متصل نہیں بلکہ استثناء منقطع ہے، استثناء متصل ہونے کی صورت میں تو مراد میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت ومعاوضہ نہیں مانگتا بجز اس معاوضہ محبت و قرابت کے یعنی تبلیغ رسالت کے معاوضہ سے مجھ کو بس یہ معاوضہ محبت قرابت مطلوب ہے مگر اس کے برعکس روایات مذکورہ کی بناپریہ استثناء منقطع ہوگا جہاں مستثنی مستثنی منہ کی جنس سے نہیں ہوتا، اس کی مثال ایسی ہے (آیت ) ” لایذوقون فیھابردا ولا شرابا الا حمیما وغساقا “۔ میں جس طرح استثناء (آیت ) ” بردا وشرابا “۔ سے۔” حمیما وغساقا “۔ کا کیا گیا کیونکہ یہ ماقبل کی جنس سے نہیں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ دوزخی نہیں چکھ سکیں گے کوئی ٹھنڈک اور نہ ہی کوئی پینے کی چیز مگر کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (زخموں کی) تو یہ استثناء منقطع ہے، اسی طرح (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ استثناء منقطع ہے اس لیے کہ ” مودت فی القربی “۔ جنس اجرت سے نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ (آیت ) ” مودت فی القربی “ تبلیغ رسالت کا کسی قسم کا معاوضہ ہے نہیں کہلایا جاسکتا۔
الفاظ آیت کی دلالت اسی مراد کو متعین کررہی ہے تمام اہل سنت حضرات اور ائمہ مفسرین نے اسی کو اختیار کیا، جیسا کہ بیان کیا گیا، نیز آیت میں لفظ (آیت ) ” فی القربی “۔ بھی اسی معنی کی تائید کررہا ہے، جس کا لفظی ترجمہ یہی ہے کہ مگر وہ محبت جو قرابت داری میں ہو یوں نہیں فرمایا گیا، (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “۔ اگر یہ عنوان ہوتا تو احتمال ہوسکتا تھا کہ اس کی یہ تاویل کی جاسکے، اہل قرابت کی محبت کا اگرچہ اس تقدیر پر یہ معنی بھی لفظی دلالت سے بعید ہوتے تو (آیت ) ” فی القربی “۔ کے عنوان نے اس احتمال بعید کو بھی ختم کرڈالا، اور وہی مراد متعین ہوگئی جو روایات مذکورہ کے حوالہ سے ذکر کی گئی، حضرت شاہ ولی اللہ الدھلوی قدس اللہ سرہ اپنے ترجمہ قرآن فتح الرحمن میں لکھتے ہیں ،
” بگونمی طلبم از شمابر تبلیغ قرآن ہیچ مزدے لیکن باید کہ پیش گیرید دوستی درمیان خویشاونداں “۔ اور پھر اس پر حاشیہ میں یہ فرماتے ہیں یعنی بامن صلہ رحمی کنید ایذا نہ رسانید کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کرو اور ایذاء نہ پہنچاؤ، اور حضرت شاہ عبدالقادررحمۃ اللہ علیہ اپنے ترجمہ قرآن میں لکھتے ہیں ” تو کہہ میں مانگتا نہیں اس پر کچھ نیگ (صلہ) مگر دوستی چاہئے ناتے ہیں “۔ اور حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں یعنی قرآن پہنچانے پر نیگ نہیں مانگتا مگر قرابت کی دوستی “۔ یعنی میں تمہارا بھائی ہوں ذات کا مجھ سے بدہی نہ کرو۔ اسی طرح حضرت شاہ رفیع الدین صاحب (رح) بھی اپنے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کچھ بدلہ مگر دوستی بیچ قرابت کے۔ ا
حاشیہ ‘(من افاضات حضرت الوالد المحترم مولانا الشیخ محمد ادریس کاندھلوی (رح) واسعۃ حسب ما ضبطت ھذہ الکمات حین ما کنت اسمع منہ تفسیر ھذہ الآیۃ المبارکہ اعلی اللہ تعالیٰ درجاتہ فی العلیین واسبغ علیہ من نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ آمین یا رب العلمین “۔
فرقہ شیعہ کی اختراع کردہ تفسیر :
فرقہ شیعہ اس آیت کی یہ مشہور ومعروف اور جملہ ائمہ مفسرین کی اختیار کردہ تفسیر کو جو الفاظ کی دلالت سے پوری پوری مطابقت رکھتی ہے، چھوڑ کر جدا گانہ تفسیر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ سے رسول ﷺ کے قرابت والوں سے محبت کرنا مراد ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ تم لوگوں سے یہ کہہ دو کہ تم سے اپنی تعلیم و دعوت اور تبلیغ پر کوئی اجرت ومعاوضہ نہیں مانگتا البتہ صرف یہ مانگتا ہوں کہ میری قرابت والوں سے محبت کرو اور میری قربت والے صرف چار ہیں، فاطمہ، ؓ ، علی ؓ حسن ؓ ، حسین ؓ ، یہ عجیب فلسفہ ہے کہ قرابت کے تمام رشتوں کو خارج قرار دے دیا جائے حتی کی آپ ﷺ کی تین دیگر صاحبزادیاں بھی آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ اور ان کی اولاد بھی قرابت داروں کی فہرست سے خارج ہوں، بہرکیف شیعہ فرقہ کی تفسیر رو سے اجرت رسالت قرابت داروں کی اور ان میں سے بھی صرف چار کی محبت ہے، پھر یہ کہ قرات داروں کی محبت بھی محض محبت کے معنی کے لحاظ سے نہیں بلکہ یہ کہ میرے بعد ان کو اور ان کی اولاد کو خلیفہ اور بادشاہ بناؤ، جس کا حاصل دنیا یہ سمجھ سکتی ہے کہ آپ یہ فرمانا چاہتے ہیں میری محنت وجانفشانی سے جو غلبہ واقتدار حاصل ہو یعنی یہ حکومت اس طرح مجھ کو مل جائے وہ نسل میری اولاد ہی میں رہے نسل میری اولاد ہی میں رہے باہر جانے نہ پائے، اہل حق کے قول اور شیعہ فرقہ کی تفسیر میں فرق ظاہر ہے۔
(1) پہلے قول کے لحاظ سے القربی کا مفہوم قرابت ہے، جو لغت وضع کے مطابق ہے اور دوسرے قول کی رد سے قربی کے معنی قرابت داروں کے ہوئے، حالانکہ اس معنی کے واسطے اہل عرب لفظ (آیت ) ” القرباء “۔ جو جمع قریب ہے استعمال کرتے ہیں، جیسے کریم کی جمع ” کر ما “۔ لفظ القربی تو اپنی وضع عربیہ کی رو سے یہ مفہوم نہیں ادا کرتا۔
(2) اس کے علاوہ اصل قابل غور یہ امر ہے کہ آیت مبارکہ کا یہ مطلب تجویز کرنا سراسر شان نبوت اور منصب رسالت کے خلاف ہے بلکہ مقام نبوت کے تقدس و عظمت پر ایک بہتان عظیم ہے، یہ شیوہ تو اہل دنیا اور خود غرض قسم کے لوگوں کا ہوتا ہے کہ کوئی کام کریں تو یہ چاہیں کہ اس کا فائدہ ان کی اولاد کو پہنچے، حالانکہ اس قسم کے ادہام وشکوک سے تو انبیاء (علیہم السلام) کی ذات پاک کو پاک رکھنے کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کا کوئی ترکہ نہیں ہوتا، اور ان کی اولادو رثہ ان کے مال کے وارث نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد حتی کہ آزاد کردہ غلاموں پر صدقات حرام کردئیے گئے، بہرکیف اگر یہ بات تصور کی جائے جو شیعہ کہتے ہیں تو لامحالہ پر ایک قسم کا معاوضہ ہوگا، خدمات نبوت کے انجام دینے پر جو قرآن کریم اور انبیاء (علیہم السلام) کے طرز کے سراسر منافی ہوگا، بار بار قرآن کریم نے انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت وتبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” لآاسئلکم علیہ اجرا “۔ کہ میں اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا، اور خود آنحضرت ﷺ کے اس اعلان کے صریح خلاف ہوگا جو قرآن کریم نے متعدد جگہوں پر ذکر فرمایا۔ مثلا :
(1) قل لآ اسئلکم علیہ اجرا ان ھو الا ذکری للعلمین “۔ (سورۂ انعام )
(2) وماتسئلھم علیہ من اجر ان ھو الا ذکرللعلمین “۔ (سورۂ یوسف )
(3) ام تسئلھم خرجا فخراج ربک خیروھو خیرالرازقین (ال مومن ون )
(4) قل مآ اسئلکم علیہ من اجر الا من شآء ان یخذ الی ربہ سبیلا (فرقان )
(5) قل ما سالتکم من اجر فھو لکم ان اجری الا علی اللہ وھو علی کل شیء شھید (سورۂ سبا)
(6) قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من التکلفین ان ھو الا ذکر للعلمین (سورۂ )
(7) ام تسئلھم اجر فھم من مغرم مثقلون (سورۂ طور)
تو ان تمام آیات کے ہوتے ہوئے ایسا کوئی مطلب اختراع کرنا جس سے منصب رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرنے پر اجرت ونفع کا طلب کرنا لازم آتا ہو، کیونکر صحیح ہوسکتا ہے، اگر بالفرض ایسا کوئی مضمون تصور کیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ آنحضرت ﷺ کا درجہ دوسرے انبیاء سے گھٹ جائے، کیونکہ کسی اور پیغمبر نے تو اداء رسالت پر اس چیز کا مطالبہ نہیں کیا کہ اس کی اولاد اور قرابت داروں سے اس قسم کے منافع اور فوائد پہنچانے کا معاملہ کیا جائے ،
(3) ۔ پھر یہ کہ قرآن نے انبیاء (علیہم السلام) کے واجب الابتاع ہونے کی دلیل بھی بیان کی ہے کہ وہ طالب اجرت نہیں ہوتے جیسا کہ سورة یسین (آیت ) ” اتبعوا من لایسئلکم اجرا وھم مھتدون “۔ یعنی ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ ہدایت پر ہیں تو آیت (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “۔ کا یہ مطلب تجویز کرنا جس سے آنحضرت ﷺ کا طالب اجرت ہونا لازم آتا ہے، یہ آپ ﷺ کے لازم الاتباع ہونے کو ساقط کردے گا۔ العیاذ باللہ۔
(4) پھر یہ کہ سورة شوری بالاتفاق مکی سورت ہے، اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علی ؓ سے مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد ہوا، اور حضرت حسن بن علی ؓ غزوۂ بدر کے بعد 3 ھ میں پیدا ہوئے اور حضرت حسین ؓ 4 ھ میں پیدا ہوئے اور جب یہ سورت مکی ہے تو لامحالہ یہ آیت حسن ؓ و حسین ؓ کی پیدائش سے کئی سال قبل نازل ہوچکی تھی، تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ اس آیت کی تفسیر ایسی قرابت سے فرمائیں جس کا اس وقت کہیں وجود ہی نہیں، بالخصوص اس صورت میں کہ القربی معرف باللام ہے اور معرفہ وہاں لایا جاتا ہے، جہاں مخاطبین کو معلوم اور ان کے نزدیک معروف ہو اور جو پیدا بھی نہیں وہ مخاطبین کو معروف ومعلوم کیسے ہوسکتا ہے، زائد سے زائد یہ ممکن ہے کہ آیت سے حضرت فاطمہ ؓ وحضرت علی ؓ کی محبت کا وجوب ثابت کیا جائے تو اس سے اہل سنت کب منکر ہیں، اہل سنت کے نزدیک تو اہل بیت کی محبت جزو ایمان ہے البتہ وجوب محبت سے دوسروں کے ساتھ ساتھ حضرت فاطمہ ؓ کا بھی امام ہونا لازم آے گا، پھر یہ بھی ضروری ہوگا کہ نصوص قرآن و حدیث میں جن لوگوں کے ساتھ محبت کا حکم دیا گیا مثلا علماء وصلحاء تو ان کی بھی امامت ضروری ہو، اور ان کو بھی امام معصوم کے درجہ میں قرار دیا جائے اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب فہم اس امر کا جواز تصور نہیں کرسکتا ،
(5) نیز یہ کہ حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا ہے (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ تو اگر کسی تاویل کے ذریعے القربی سے (آیت ) ” ذوی القربی “۔ یعنی قرابت والے مراد لیے جائیں تو پھر کلام خداوندی میں للقربی یعنی قرابت داروں کے واسطے، نہ کہ (آیت ) ” فی القربی “۔ جیسے کہ آیت مبارکہ میں ہے، اور قرآن کریم میں جہاں بھی کہیں قرابت داروں کا ذکر ہے وہاں لفظ (آیت ) ” ذوی القربی “۔ کا لایا گیا، چناچہ ارشاد ہے ، (آیت ) ” واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی “۔ اور آیت ”۔ ما افآء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی “۔ اور اسی طرح (آیت ) ” فات القربی حقہ “۔ اور (آیت ) ” اتی المال علی حبہ ذوی القربی “۔ اغرض جہاں بھی کہیں قرآن کریم کو قرابت داروں کا ذکر مقصود تھا وہاں لفظ ذوی القربی آیا ہے نہ کہ فی القربی، تو یہ بات واضح ہے کہ (آیت ) ” فی القربی “۔ کا مفہوم وہی ہے جو اہل حق نے بیان کیا، اور تمام ائمہ مفسرین سلف اور حضرات صحابہ ؓ سے نقل کیا گیا، وہ تفسیر جمہور مفسرین کے نزدیک معتبر ہے۔ البتہ (آیت ) ” فی القربی “۔ کی ایک اور تفسیر حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ نے بروایت قتادہ ؓ حسن بصریرحمۃ اللہ علیہ سے یہ نقل کی ہے، المودۃ فی القربی، اے الاان تو ادواللہ تعالیٰ ”۔ وان تقربوا “۔ الیہ بطاعتہ “۔ یعنی میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بجز اس کے کہ تم اللہ سے محبت کا معاملہ کرو، اور اس کا تقرب حاصل کرو، طاعت و بندگی کے ذریعہ سے گویا یہ تشریح و تفسیر ہے، (آیت ) ” بالتی تقربکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحا “۔ کی مراد یہ کہ بس تم سے میں صرف اسی چیز کا طالب ہوں جو تم کو اللہ سے قریب کردے، اور وہ اس پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت و بندگی ہے۔
ذوی القربی کی محبت اہل سنت کے نزدیک ایمان کی بنیاد ہے :
اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ آل بیت رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کی اساس اور روح ہے، حضرت علی ؓ بن ابی طالب حضرت سیدہ ؓ ، حضرت حسن ؓ ، حضرت حسین ؓ ، اور جملہ اہل بیت کی محبت فرض و لازم ہے، اور اہل بیت میں آپ ﷺ کے عم محترم حضرت عباس ؓ بن عبد المطلب اور آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دیگر اقارب نبوی جو مشرف باسلام ہوئے سب داخل ہیں، ہر شخص کی محبت و عظمت اس کے مرتبے کے بقدر لازم ہے تو سوال طلب امر یہ ہے کہ اگر اس آیت کے باعث شیعوں کے نزدیک محبت کے لیے اطاعت لازم ہے تو بلاتخصیص تمام اقارب رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہونی چاہئے، اور حضرت فاطمہ ؓ کے علاوہ دیگر تین صاحبزادیاں حضرت زینب ؓ ، حضرت رقیہ ؓ ، اور حضرت ام کلثوم ؓ کی اطاعت بھی فرض ہونی چاہئے، اور ان کے اصول سے حضرت فاطمہ ؓ کو امام بھی ہونا چاہئے اور جب فاطمہ ؓ کی امامت ضروری ہوئی تو دیگر صاحبزادیوں کی بھی امامت کا درجہ فرض ہونا چاہئے، اور ظاہر ہے کہ وہ اس کے قائل نہیں، بہرحال یہ آیت اگر اہل بیت کی محبت کو لازم کرتی ہے تو اہل سنت خود اس کے قائل ہیں لہذا اہل تشیع کو اہل سنت پر اعتراض کا کوئی حق نہیں اگر پھر بھی اعتراض کریں تو یہ اعتراض کا کوئی حق نہ ہوگا بلکہ بہتان ہوگا اور اگر محبت سے اطاعت کے لزوم کا دعوی کرتے ہیں تو ہم ان سے یہ پوچھیں گے کہ پھر جملہ اہل بیت کی اطاعت کی فرضیت کے کیوں قائل نہیں، اور اس کا جواب دو کہ بعض اہل بیت کی محبت کو فرض کہتے ہو، اور بعض کی محبت سے گریز بلکہ نفرت کرتے ہو، اور اس جواب دو کہ حضرت علی ؓ تو ایک صاحبزادی سے شرف زوجیت کے باعث امام معصوم اور خلیفہ بلافصل ہوئے لیکن حضرت عثمان ذوالنورین ؓ دو صاحبزادیوں سے شرف زوجیت رکھنے کے باوجود نہ امام ہوئے نہ معصوم اور نہ مستحق محبت ہوئے بلکہ ان کا بغض ونفرت تشیع کی حقیقت اور روح با ؟ ظاہر ہے کہ اس کا کوئی جواب قیامت تک نہیں دیا جاسکتا، اور اس وجہ تفریق پر بجا طور پر یہ مطالبہ کیا جاسکتا ہے، (آیت) ” فاتوا برھانکم ان کنتم صدقین “۔ اہل بیت کے بارے میں وہ تمام احادیث ملاحظہ فرمائی جائیں جو محدثین نے باب فضائل اہل بیت میں بیان فرمائیں۔
Ayahs 42:24–27مذمت افتراء علی اللہ و محرومی بدنصیباں از قبول حق و کامیابی مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افتری ...... الی ....... خبیر بصیر “۔
ّ (ربط) ’ گذشتہ آیات میں طالبین دنیا اور طالبین آخرت کا ذکر تھا اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) دعوت حق سے آخرت کا فکر پیدا کرنے کے لیے کیسی محنت کرتے ہیں، اور اخلاص وہمدردی کے جذبہ سے ان کی غرض اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ اللہ کے بندے حق اور ہدایت قبول کرکے نجاتوسعادت حاصل کرلیں، اب ان آیات میں ایسے معاندین و متکبرین کا ذکر ہے جو اپنے عناد وتکبر میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ قبول حق تو درکنار وہ اللہ رب العزت پر افتراء بہتان پردازی سے بھی باز نہیں آتے، تو ان کے رد کے ساتھ یہ بیان کیا جارہا ہے، اللہ رب العزت پر افتراء و بہتان پر دازی سے بھی باز نہیں آتے، تو ان کے رد کے ساتھ یہ بیان کیا جارہا ہے، اللہ رب العزت یہی چاہتا ہے کہ حق اور باطل میں دنیا کے سامنے امتیاز کردیا جائے، اور دلائل حق کے ذریعہ باطل کو مٹا دیا جائے، اسی مقصد کے لیے بعثت انبیاء (علیہم السلام) ہے اور اسی غرض کے لیے کتابیں اور صحیفے نازل کیے گئے اور ان سب کی تکمیل رسول اکرم ﷺ کی بعثت کے ذریعے کی گئی ،
ارشاد فرمایا گیا۔ یہ لوگ تو حق وصداقت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو تسلیم کیا کرتے بلکہ یہ لوگ تو آپ ﷺ کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھا ہے کہ نبوت اور وحی الہی کا دعوی کررہے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے علوم ومعارف خرق عادت کے طور پر معجزانہ انداز سے ظاہر اور جارہی ہیں، اور بطورخرق عادت معجزانہ شان سے ایسے علوم ومعارف کا کسی زبان سے جاری ہونا یہ خود دلیل ہے کہ وہ اللہ کی وحی اور اس کی طرف سے عطا کردہ علوم ہیں اور یہ بھی بات ثابت ہے کہ بارگاہ خداوندی سے علوم ومعارف کی عطا صرف صاد ق و برگزیدہ ہی کو ہوسکتی ہے، جھوٹے اور افتراء پردازپر باطنی علوم اور حکمتوں کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، تو اگر اللہ چاہے تو آپ ﷺ کے قلب پر مہر کردے اور بند لگادے جس کے بعد ایسے شخص کی زبان سے علم و حکمت کی کوئی بات ہی جاری نہ ہو مگر پھر بھی وحی الہی اور علوم ومعارف کا یہ سلسلہ جاری رہنا آپ ﷺ کی حقانیت کی دلیل ہے، اور اللہ تعالیٰ اسی طرح باطل کو مٹایا کرتا ہے اور حق کو ثابت ومضبوط کیا کرتا ہے اپنے کلمات و احکام سے جو دلائل شرعیہ سے بھی اور دلائل تکوینیہ ومعجزات سے اس طرح ثابت کیے جاتے ہیں کہ کسی بھی منکر کو اس کے قبول کرنے میں کوئی تامل نہ رہے، بیشک وہ پروردگار دلوں کی باتیں اور احوال بھی خوب جاننے والا ہے، اس لیے کہ اللہ رب العزت سے کسی کے نہ اقوال وافعال مخفی ہیں اور نہ ہی عقائد وہ سب پر مطلع ہے اور اس پر سزا دینے کی بڑی قدرت رکھتا ہے۔
اور وہ پروردگار جس طرح معاندین و مخالفین کے ہر عمل اور عقید ۂ خیال کو جانتا ہے اسی طرح وہ مطیعین ومنیبین کو بھی جانتا ہے، چناچہ وہ تو بہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور درگذر کرتا ہے ان کی برائیوں اور خطاؤں سے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم کرتے ہو کہ کونسا قول وعمل اخلاص کے ساتھ اور کون سی بات محض زبان سے اور بےاخلاص ہے، لہذا اس پر ویسے ہی ثمرات مرتب ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ان لوگوں کی عبادت کو جو ایمان لائے اور نیکی کے کام کیے اور ان کو اپنے فضل سے اور ثواب زائد بھی عطا کرتا ہے، جو ان کے عمل کے معیار اور درجہ سے بڑھ کر ہوتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے واسطے بڑا ہی سخت عذاب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر اس موجودہ صورت حال میں روزہی کو پھیلا دیتا، اور کوئی کسی کا حاجت مندنہ رہتا تو لوگ بغاوت و فساد برپا کردیتے زمین میں کیونکہ ایسی صورت میں نہ کوئی تابع رہتا ہے اور نہ کوئی متبوع، بلکہ ہر ایک آمر مطلق بن جاتا جسکا نتیجہ ظاہر ہے کہ فساد کی صورت میں ظاہر ہوتا، اب اللہ نے اپنی تکوینی حکمت سے ایک دوسرے کا محتاج بنادیا حتی کہ بادشاہ اور امراء خدمت گذاروں کے محتاج ہوگئے، فقراء اور غرباء جو اگرچہ اپنی کمائی میں امراء کے محتاج ہیں، لیکن اس کے بالمقابل امراء بھی ان کے محتاج بنادیئے گئے کہ ان کی خدمت واعانت کے بغیر ان کی زندگی نہیں گذر سکتی، لیکن وہ اتارتا ہے رزق ایک اندازہ کے ساتھ جتنا بھی چاہے اپنی حکمت کے لحاظ سے اس حکمت کے پیش نظر اللہ نے رزق میں مخلوق کے درمیان تفاوت درجات رکھا، جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد ہے ”۔ ان اللہ تعالے قسم بینکم اخلاقکم کما قسم بینکم ارزاقکم “۔ کہ اللہ نے تمہارے درمیان اخلاق کی بھی اسی طرح تقسیم کردی ہے جیسے کہ تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کیے، بیشک وہ پروردگار اپنے بندوں کے احوال پر خوب مطلع ہے، اور خوب ان کو دیکھنے والا ہے ،
(آیت) ” فان یشا اللہ یختم علی قلبک “۔ کا عنوان فرض محال کے درجہ میں ہے جیسے (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک “۔ میں بفرض محال ہی یہ بات آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے بیان کی گئی مقصود محض ایک قانوں الہی اور ایسی بات پر ہلاکت وتباہی کا مرتب ہونے والا نتیجہ بیان کرنا ہوتا ہے، یعنی بفرض محال اگر آپ بھی اللہ پر جھوٹ وبہتان باندھتے تو اللہ رب العزت آپ کے دل پر مہر کردیتا، اور اس کے بعد پھر فرشتہ یہ کلام معجز لے کر آپ ﷺ پر نہ اترتا، اور سلسلہ وحی بند کردیا جاتا، یہ بات بالکل وہی ہے جو اس آیت مبارکہ میں فرمائی گئی تھی، (آیت) ” ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک ثم لا تجد لک بہ علینا وکیلا الا رحمۃ من ربک “ (بنی اسرائیل) مگر اس لیے کہ درحقیقت یہ جو کچھ آپ ﷺ فرما رہے ہیں حق اور وحی الہی ہے اور بدباطنوں کا اس کے بارے میں یہ کہنا محض بہتان ہے اس لیے یہ سلسلہ منقطع نہیں کیا جاتا بلکہ وحی الہی کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا کر دنیا کے سامنے ظاہر کر دے گا، اور حق کی حقانیت ثابت اور پختہ ہوجائے گی، حق کو ثابت کرنے والے ظاہر ہے کہ وہ دلائل وبراہین ہیں، جو دلائل آفاق اور دلائل انفس کی نوعیت سے دنیا کو دکھا دئیے گئے، جس کو قرآن کریم نے ارشاد فرمادیا ہے۔ (آیت) ” سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق “۔ شیخ الاسلام حضرت علامہ شیبر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں کہ آیت ہذا کی تفسیر میں بہت اقوال ہیں اور اس تفسیر کی رو سے (آیت) ” ویمحوا اللہ الباطل “۔ جملہ مستانفہ ہوا، یعنی اس کا ماقبل جملہ۔ (آیت) ” یختم علی قبلک “۔ کے مضمون پر عطف نہیں بلکہ ایک مستقل مضمون ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے آئندہ اس کی حکمت تکوینیہ سے جو بات پیش آنے والی ہے اس کا بیان ہے کہ اللہ رب العزت باطل کو مٹا دے گا اور حق کو ثابت کرے گا، بعض مفسرین کی رائے میں اس کا عطف یختم کے اوپر ہے، لیکن اس اعراب کی تقدیر میں قدرے تکلف ہے۔ (آیت) ” ھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ میں کبائر سے تائب ہونے والوں کی توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے، اور (آیت) ” ویعفوا عن السیئات “۔ میں صغائر سے درگذر کا بیان ہے یا یہ کہہ دیجیے کہ ایک جز یعنی قبول تو بہ کے وعدہ میں مستقل کے گناہوں کی معافی کا بیان فرمایا گیا کہ بندے جب تائب ہوں گے خدا ان کے گناہوں کے مغفرت فرما دے گا، اور دوسرے جز (آیت) ” یعفواعن السیات “۔ میں ماضی کے گناہوں کے متعلق فرمایا کہ خدا تعالیٰ تو شان رحیمی کے باعث درگذر فرماتارہتا ہے۔ لیکن وعدۂ عفو اور معاملہ درگذر سے کسی کو دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے اور اس کی گرفت ومؤاخذہ سے بےفکر نہ ہونا چاہئے، کیونکہ وہ بندوں کے تمام احوال سے باخبر بھی ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں تو آئندہ کی عملی زندگی میں مؤاخذہ کی فکر کو قائم کرنے کے لیے فرمادیا، (آیت) ” ویعلم ما تفعلون “۔ ویزیدھم من فضلہ “۔ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت بندوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور دعا وطلب سے بڑھ کر ان کو عطا فرماتا ہے اور بروایت شقیق بن مسلم (رح) عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت کا اپنے فضل سے ایمان اور تائبین کو زائد عطا فرمانا، شفاعت کا حق ہے ان مذنبین کے لیے جو اپنے گناہوں کے باعث عذاب کے مستحق ہیں۔ (آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ “۔ میں حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کے واسطے تقسیم رزق میں معیار اپنی حکمت ومشیت کو بیان فرمایا کہ وہ اپنی حکمت سے جس کو جتنا چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے، جس میں یہ صورت ہوتی ہے کہ کسی کو زائد عطا فرماتا ہے، اور غنی کرتا ہے کہ اس کا غنا بھی حکمت کے مطابق ہوتا ہے، اور جس پر رزق کی تنگی فرماتا ہے اس پر فقر بھی حکمت خداوندی ہی سے ہوتا ہے، اور یہ بھی اسکی حکمت ہے کہ ایک زمانہ ایک شخص پر تنگی کا گذرتا ہے تو پھر اس کو فراخی اور غنا عطا کردیا جاتا ہے، کبھی اس کا عکس ہوتا ہے کہ ایک زمانہ فراخی ووسعت کا گذرا، پھر اس کو فقیر وتنگدست کردیا گیا ،
آیت مبارکہ میں رزق کی وسعت کا یہ ذکر تمام بندوں کے حق میں ہے ورنہ بعض پر تو رزق کی وسعت متحقق ہے، اور لوشرطیہ کا عنوان دلالت کرتا ہے کہ یہ بسط رزق متحقق نہیں ہوا تو مراد یہ ہوئی کہ اگر اللہ تعالیٰ سب پر رزق کی وسعت کردیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بغاوت وسرکشی کرنے لگتی، اور دنیا میں کوئی صالح اور مطیع نہ رہتا، اور اگر اس کے بالمقابل سب بندون کو فقیر و محتاج بنا دیتا تو سب کے سب اپنے ضعف وعجز کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے اس وجہ سے تقسیم رزق میں بندوں کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔ احادیث میں ہے کہ جب حق تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی ذریت کو نکالا تو آدم (علیہ السلام) نے ان میں دیکھا کہ کچھ غنی ہیں اور کچھ فقیر تو عرض کیا لولا سویت بین عبادک کہ اے پروردگار تو نے اپنے بندوں کے درمیان مساوات وبرابری (رزق میں) کیوں نہ کردی جواب دیا گیا ” احببت ان اشکر “۔ یعنی میں نے یہ چاہا کہ میرا شکر ادا کیا جایا کرے اور یہ بات اسی پر موقوف ہے کہ تفاوت مراتب ہو، علامہ طیبی (رح) کی رائے یہ ہے کہ عباد سے کل بندے مراد نہیں بلکہ اللہ کے وہ خاص بندے ہیں جن کو اللہ نے اپنی ولایت وقرب کی کرامت سے نوازنا تھا کہ اللہ نے ان رزق کو نہیں پھیلایا اگر ان پر رزق پھیلادیا تو وہ بغاوت وسرکشی کا رنگ اختیار کرلیتے اور یہ بات اللہ رب العزت کی سنت ہے کہ وہ اپنے اولیاء مقربین کو غنا و تونگری کی بجائے فقروتنگدستی میں ڈالدیتا ہے چناچہ ایک حدیث کا مضمون ہے۔ اذا احب اللہ عبدا حماہ الدنیا کمایظل احدکم ویحمی سقیمہ المآء “۔ کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو اس کو دنیا اور دنیا کی لذتوں سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے اس بیمار کو پانی سے بچاتا ہو جس کو پانی نقصان دیتا ہو، علامہ آلوسی (رح) نے اس تفسیر کو پسند نہیں فرمایا، الفاظ کی دلالت سے پہلے بیان کردہ معنی بہتر ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ اور اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ اگر تمام بندوں پر رزق پھیلا دیتا تو لوگ زمین میں بغاوت وسرکشی کرنے لگتے بعض حضرات کو یہ اشکال گذرا کہ جس طرح غناوتونگری کے سبب سے بغاوت کا احتمال تھا تو اسی طرح فقر بھی تو بغاوت ونافرمانی کا ذریعہ ہوسکتا ہے ہی کیوں بغاوت کا ذکر فرمایا گیا، تو زمخشری (رح) نے اس کا جواب دیا کہ فقر کے ساتھ بغاوت وسرکشی کم ہوتی ہے اور اکثر مادۂ بغاوت، تونگری اور غنا سے پیدا ہوتا ہے، تو اس وجہ سے بغاوت کو بسط رزق کے ساتھ مخصوص فرما دیا گیا۔ واللہ اعلم۔
(تفسیر روح المعانی ج 25)
Ayahs 42:28–36پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو دور کرنا ہے جو کفار ومجرمین کی بغاوت ونافرمانی سے پیدا رہا تھا، اسی طرح اہل ایمان کو بھی تسلی مقصود تھی کہ ایک طبقہ کی مخالفت سے نہ پریشان ہوں اور نہ ہی مایوس ہوں، کیونکہ اللہ رب العزت کی شان رحیمی کا یہ عالم ہے کہ مایوسی کی حالت میں بارشیں برساکر مردہ زمین کو زندہ اور بنجر علاقہ کو شاداب بنا دیتا ہے، اور اس کی قدرت کاملہ کی جو نشانیاں دنیا کے سامنے ظاہر ہیں، ان کو دیکھ کر یقین کرلینا چاہئے، تو فرمایا اور وہی خدا ہے ایسا مہربان وکریم کہ بارش برساتا ہے بعد اس کے کہ لوگ ناامید ہوچکے ہوں۔ 1
حاشیہ : (ابن کثیر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک شخص نے عمرفاروق ؓ سے عرض کیا کہ اے امیر ال مومنین قحطہ ہورہا ہے اور بارش نہیں برستی تو اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ 12)
اور بکھیرتا ہے اپنی رحمت سارے عالم پر جس سے ہر قسم کے پھول میوے اور غلے اور نباتات پیدا ہوتے ہیں جو تمام انسانوں اور حیوانوں کی غذا اور منفعت کا سامان ہے اور وہی کا رساز لائق حمدوستائش ہے، اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے اور ہر اس جاندار چیز کا پیدا کرنا ہے جس کو ان کے درمیان متحرک بنایا، اور پھیلایا اور جس طرح اللہ ہر قسم کے پھول میوے اور غلے اور نباتات پیدا ہوتے ہیں جو تمام انسانوں اور حیوانوں کی غذا اور منفعت کا سامان ہے اور وہی کارساز لائق حمد و ستائش ہے، اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے اور ہر اس جاندار چیز کا پیدا کرنا ہے جس کو ان کے درمیان متحرک بنایا، اور پھیلایا اور جس طرح اللہ نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا اور اپنی قدرت کے ذریعے ایک ہی امر یعنی امر تکوین سے سارے عالم میں بکھیر دیا وہی خدا وند عالم ان سب کو جمع کرنے پر بھی بڑا ہی قادر ہے جب بھی وہ چاہے اور وہ پروردگار جس طرح خالق منعم قادر ولی کارساز ہے اور ہر حالت میں قابل حمد وثنا ہے، بندوں سے عفو و درگزر شان رحیمی اور کریمی کے باعث فرماتا ہے اسی طرح وہ منتقم اور صاحب جلال بھی ہے اور بندوں کے واسطے انتقام کا سلسلہ جاری فرمایا اس بنا پر ہر ایک کو یہی اعتقاد رکھنا چاہئے کہ وہی ہر چیز کا خالق وپیدا کرنے والا ہے خواہ کوئی چیز خیر ہو یا شر راحت ہو یا تکلیف اور جو کچھ اے لوگو ! تم کو مصیبت پہنچی ہے وہ ان ہی اعمال کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھ انجام دیتے ہیں، اور یہ مصیبت جو بطور مکافات عمل واقع ہوتی ہے یہ نہیں کہ ہر برائی کا بدلہ ہو بلکہ وہ پروردگار تو درگذر فرمالیتا ہے بہت سی باتوں سے اور دنیاوی مصائب بہت ہی کم اعمال کا بدلہ ہوتے ہیں اور جب پروردگار عالم بندوں کے اعمال پر مؤاخذہ فرمائے تو تم ہرگز نہیں عاجز کرسکتے ہو اس کو زمین میں رہتے ہوئے زمین ہی میں انسان کے پاس مادی وسائل ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے سے آفات ومصائب کو ٹالنے کی کوشش کیا کرتا ہے تو جب اس عالم اسباب میں بھی وہ عذاب خداوندی اور اس کی گرفت کو نہیں ٹلا سکتا تو آسمانوں کی بلائیں یا عالم آخرت کے مصائب اور سزاؤں کو کہاں ٹال سکے گا اور نہیں ہے تمہارے واسطے خدا کی سوا کوئی حامی و مددگار اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے جہاز وکشتیاں ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں نمایاں اور بلند نظر آتی ہیں ظاہر ہے ان کا سمندر کی سطح پر چلنا خدا کی قدرت کی نشانیوں میں عظیم تر نشانی ہے، اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ سب جہازوکشتیاں ٹھہرجانے والی ہوجائیں سمندر کی سطح پر، تو یہ سب کچھ اس کی قدرت ہے کہ ہوا چلاتا ہے، اور جہاز وکشتیاں پانی کی سطح پر چلتی ہیں، بیشک اس میں قدرت کی نشانیاں ہیں، ہر صبر اور شکر کرنے والے مومن کے لیے جہاں وہ پروردگار ہواؤں کے ذریعہ جہازوں اور کشتیوں کو رواں دواں رکھتا ہے اور اس طرح مخلوق کے منافع اس سے وابستہ ہیں تو یہ اس کی عنایت و رحمت کو رواں دواں رکھتا ہے اور اس طرح مخلوق کے منافع اس سے وابستہ ہیں تو یہ اس کی عنایت و رحمت ہے، خواہ وہ ان ہواؤں کے ذریعہ مخلوق پر انعام وکرم فرمائے یا اگر وہ چاہے تو ان ہی ہواؤں کو تیز وتند بنا کر ان کے ذریعہ ان جہازوں کو ہلاک وتباہ کرے ان اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کیے ہیں، اور وہ تو بہت سے لوگوں سے درگذر فرماتا ہے اور وہ پروردگار جس طرح لوگوں کی بداعمالیاں اور برائیاں جانتا ہے اس طرح وہ ان بدمزاج اور کج رو لوگوں کو بھی جانتا ہے جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں، حال یہ ہے کہ ان کے واسطے کوئی بچاؤ نہیں، نہ دنیا میں کوئی خدا کے مؤاخذہ سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں، یہ مجرم وباغی دنیا کی دولت اور مادی وسائل سے دھوکہ میں مبتلا ہیں، اور ان کی یہ سب کچھ نخوت وبغاوت دنیاوی زندگی ہی پر غرور کی وجہ سے ہے، سوائے لوگو ! سن لو جو کچھ بھی تم کو دنیا کی چیزوں میں سے دیا گیا سو وہ محض چند روزہ زندگی کا سامان ہے، عارضی نفع اٹھانے کے لیے انسان کی زندگی فانی ہے، اور سارا عالم بھی اسی طرح فانی ہے اس لیے ہر ایک کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہی یہ سارا سازوسامان بھی ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اجر وثواب اور نعمتیں اللہ کے یہاں میں وہی بہتر ہیں اور پائیدار ان لوگوں کے واسطے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں اس لیے عقل کا تقاضا ہے کہ دنیا کی فکر اور طلب کو چھوڑ کر آخرت کی فکر اور طلب میں لگ جانا چاہئے اور دنیاوی مال و دولت سے مغرور ہو کر خدا کے ساتھ بغاوت کا طرز نہ اختیار کرنا چاہئے، (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ “۔ کی تفسیر میں حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) تحریر فرماتے ہیں یعنی جیسی نعمتیں ایک خاص اندازہ اور خاص اوقات واحوال کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے ماتحت ہوتا ہے مثلا بندوں کو جو کوئی سختی اور مصیبت پیش آئے اس کا سبب قریب یا بعید بندوں ہی کے بعض اعمال وافعال ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح جیسے ایک آدمی غذا وغیرہ میں احتیاط نہ کرنے سے خود بیمار پڑجاتا ہے، بلکہ بعض اوقات ہلاک ہوجاتا ہے یا بعض مرتبہ والدہ کی بدپرہیزی بچہ کو مبتلائے مصیبت کردیتی ہے یا کبھی کبھی ایک محلہ والے یا شہروالوں کی بےتدبیری اور حماقت سے پورے محلہ اور شہرکو نقصان اٹھانا پڑتا ہے، یہی حال روحانی اور باطنی بدپرہیزی اور بےتدبیری کا سمجھ لو، گو یا دنیا کی ہر مصیبت بندوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لیے تنبیہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے، اور یہ اس پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بندوں کے بہت سے گناہوں سے درگذر کرتی ہے، اگر ہر جرم پر گرفت ہوتی تو زمین پر کوئی متنفس بھی باقی نہ رہتا، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خطاب عاقل وبالغ لوگوں کو ہے گنہگار ہوں یا نیک، مگر نبی اس میں داخل نہیں (اور چھوٹے بچے بھی شامل نہیں) ان کے واسطے اور کچھ ہوگا اور سختی دنیا کی بھی آگئی اور قبر اور آخرت کی بھی۔
غرض مصائب کے نزول کا راز اور اس کی حکمت بتا دی گئی اور یہ بھی الفاظ کی دلالت سے ظاہر ہوگیا، مصائب کا عموم ہے خواہ دنیاوی ہوں یا قبر وآخرت کی،
ایک حدیث میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی بندے کے گناہ زائد ہوجائیں اور اس کے پاس کوئی چیز ان گناہوں کے کفارہ کے واسطے نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی غم اور فکر میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے، بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج 4)
ضحاک (رح) سے منقول ہے، فرمایا ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اگر کوئی شخص قرآن کریم پڑھ کر بھول جائے تو بجز اس کے کوئی وجہ نہیں کہ اس کے کسی گناہ ہی کی بدولت اس نعمت سے محرومی واقع ہوئی ہے، اور پھر یہ آیت تلاوت کی اور افسردگی کے لہجہ میں فرمایا، اور کون سی مصیبت اس سے بڑھ کر ہوسکتی ہے کہ قرآن کریم بھلا دیا جائے۔ اللہم احفظنا منہ وارزقنا تلاوتہ اناء اللیل و اطراف النھار واجعلہ لنا حجۃ یا رب العلمین۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین