Ayahs 42:37–43بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو ایمان و توکل کی صفت سے متصف ہونے کے ساتھ پرہیز کرتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے اور جب ان کو غصہ آئے تو وہ درگذر کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی فرمانبرداری کی اور نماز کی پابندی کی اور ان کے معاملات آپس میں مشورہ سے طے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں، اور جب ان پر ظلم و زیادتی وہ صرف بالہ ہی لیتے ہیں، نہ کہ جذبہ انتقام میں حد سے بڑھ جائیں، اور ظاہر ہے کہ برائی کا بدلہ ویسا ہی برائی کا معاملہ کرلینا ہے جیسا کہ کہا گیا، لیکن اگر کوئی شخص معاف کردے اور باہمی معاملہ درست کرلے۔ بجائے انتقام لینے کے تو بیشک اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے بیشک اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، اور جو شخص بدلہ لے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد نہ کوئی زیادتی کرے بدلہ لیتے ہیں تو بیشک ایسے لوگوں پر کسی قسم کا مؤاخذہ نہیں، بیشک مؤاخذہ ان لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی اور تکبر کرتے ہیں تو یقیناً ایسے لوگوں کے لیے بڑا ہی درد ناک عذاب ہے، اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو بیشک یہ کام بڑی ہی پختگی اور ہمت کے کاموں میں سے ہے، تو جو لوگ ان اوصاف کے ساتھ متصف ہوں گے خدا کے یہاں ان کا بہت بلند مقام ہوگا ،
ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل ایمان کے جو اوصاف حمیدہ بیان فرمائے ان میں عقائد، فرائض، عبادات، معاملات ومعاشرت اور محاسن اخلاق کی تمام عظمتوں اور خوبیوں کو جمع فرمادیا، اور ان اوصاف کے ضمن میں یہ بات ظاہر فرمادی گئی کہ ایمان اور کمالات ایمان ہی دراصل وہ خوبیاں ہیں جن کی بدولت آخرت کی سعادت و فلاح کے ساتھ معاشرتی فلاح اور بلندیاں بھی انسان کو حاصل ہوسکتی ہیں، ظالم سے ظلم کا بدلہ لینا درست ہے لیکن زیادتی اور تعدہی کسی طرح جائز نہیں اور اگر صبر وعفو سے کام لے تو بہت ہی بہتر ہے، جیسے کہ آنحضرت ﷺ کے اسوۂ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ فتح مکہ کے بعد تمام سرداران قریش کو جو ہمیشہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ کو ستانے میں پیش پیش رہے، مسلمانوں سے مقابلہ کے لیے میدان کا رزار میں آتے رہے عام معافی کا اعلان فرما دیا اور جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے ظالم بھائیوں کو باوجود قدرت انتقام کے یہ کہہ کر معاف کرتے رہے، (آیت ) ” لا تثریب علیکم الیوم “۔ آج کے دن تم پر کوئی ملامت ومؤاخذہ نہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ بھی ان سب کو اعلان عفو و درگذر سے نوازتے رہے۔
حافظ ابن کثیر (رح) نے فضیل بن عیاض (رح) کے ایک خادم عبدالصمد بن یزید (رح) سے نقل کیا کہ میں نے فضیل بن عیاض (رح) سے سنا وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تمہارے پاس کوئی شخص کسی کی شکایت لے کر آئے تو تم یہ کہہ دیا کرو اے میرے بھائی اس کو معاف کردو، اگر وہ یہ کہے کہ میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ میں اس کو معاف کروں تو پھر اس کو یہ کہو کہ اگر بدلہ ہی لینا ہے تو اس طرح لو جیسے اللہ نے اس کو اجازت دی ،
ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص ابوبکر صدیق ؓ کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ اور ان کی شان میں توہین کررہا تھا، آنحضرت ﷺ وہیں تشریف فرما تھے اور یہ باتیں سن کر تعجب فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے، جب وہ شخص بہت ہی زیادتی کرنے لگا اور حد سے بڑھا تو ابوبکر ؓ نے اس کی کسی بات کا جواب دیا اس پر آنحضرت ﷺ کو ناگواری ہوئی اور مجلس سے اٹھ کر تشریف لے جانے لگے، ابوبکر ؓ فورا ہی دوڑے اور آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ وہ شخص مجھ کو گالیاں دے رہا تھا اور آپ ﷺ بیٹھے رہے، لیکن جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ﷺ ناگواری سے اٹھ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اے ابوبکر ؓ جب تک تم خاموش رہے تو ایک فرشتہ تمہارے ساتھ تھا جو تمہاری بات کا جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم اس پر غضبناک ہوئے تو فرشتہ اٹھ کر چلا گیا، اور تمہارے درمیان شیطان آگیا، اور ظاہر ہے کہ میں ایسا نہیں تھا کہ شیطان کے ساتھ کسی مجلس میں بیٹھا رہوں اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ؓ تین چیزیں برحق ہیں ایک یہ کہ جس کسی پر بھی ظلم کیا جائے گا پھر اس سے چشم پوشی اور درگذر کرے محض اللہ کے لیے تو اللہ اس کو عزت وسربلندی عطا فرمائے گا، اور اسکی مدد فرمائے گا، اور جو شخص بھی عطا و بخشش کا دروازہ کھولے گا تو اس پر اللہ کی طرف سے برکت وفراخی کا دروازہ کھلے گا اور جو شخص سوال اور بھیک مانگنے کا دروازہ کھولے گا تو اس کے واسطے اللہ کی طرف سے قلت وتنگی ہی کا دروازہ کھلے گا۔
حلم و درگذر اور صبر وعفو انسانی کمالات میں عظیم ترین کمال ہے :
حضرت شاہ والی اللہ قدس اللہ سرۂ فرماتے ہیں کہ ان آیات میں حق تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ اور مہاجرین اولین کے اوصاف واحوال کو صراحۃ اور حضرات خلفاء راشدین ؓ کی خصوصیات کو اشارۃ ذکر فرمادیا ہے، ابتداء میں مہاجرین اولین کے وصف ایمان اور توکل کو بیان فرمایا کہ نہایت ہی عسرت تنگی میں ہجرت کی اور محض اسلام کی خاطر اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت کی وجہ سے اپنا وطن گھر بار چھوڑا اپنے عزیز و اقرباء حتی کے اہل و عیال، تجارت، مال و دولت اور جائیداد سب کچھ اللہ کے لیے چھوڑا شدائد کا مقابلہ کرتے رہے اس وصف کے بعد (آیت ) ” الذین یجتنبون “ ، میں وصف عفت وعدل کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ تہذیب نفس، قوت بہیمیہ (شہویہ) اور قوت سبعیہ (قہر وغضب) کو عقل کے تابع کیے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، اس آیت کے عموم میں انصار اور ان کے اتباع بھی شامل ہیں، اور (آیت ) ” والذین استجابوا لربھم “۔ خصوصیت کے ساتھ صدیق اکبر ؓ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں وہ سب سے مقدم اور سب کے پیشوا ثابت ہوئے اجابت حق تسلیم وانقیاد اور اقامت صلوۃ آپ کا معروف اور نمایاں وصف تھا اور اقامت صلوۃ کا یہ نمایاں وصف اس امر کا باعث بنا کر آپ ﷺ نے مرض والوفات میں انہی کو اپنی جگہ امامت کے لیے مامور فرمایا اگرچہ حضرت عائشہ ؓ بار بار اس کو ٹلاتی رہیں، لیکن آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے ” مروا ابابکر لیصل بالناس “۔ یعنی کہو ابوبکر ؓ کو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،
اور لفظ (آیت ) ” امرھم شوری بینھم “۔ میں حضرت عمر فاروق ؓ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ آپ ؓ کا معروف وصف شوری تھا آپ ؓ اپنے زمانہ خلافت میں کوئی امر بدون فقہاء صحابہ ؓ کے مشورہ کے نافذ نہیں کیا کرتے تھے اسی وجہ سے ملت اسلامیہ کا عظیم ترین سرمایہ وہ ذخیرہ اجماعیات ہے یعنی وہ امور ہیں جن پر فاروق اعظم ؓ کے زمانہ میں اجماع ہوچکا تھا، (آیت ) ” واعلموا انما غنتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی۔
ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ فاروق اعظم ؓ کے اجماعیات اللہ کے نزدیک صحیح اور پسندیدہ بلکہ قابل مدح وتحسین ہیں اور یہ ایسا وصف ہے جس کو حق تعالیٰ نے بطور مدح ذکر فرمایا، اور (آیت ) ” مما رزقنھم ینفقون “۔ میں حضرت عثمان ؓ کی طرف اشارہ ہے یہی ان کا امتیازی وصف تھا اور اسی انفاق فی سبیل اللہ کے باعث بشارت عظیم سے فائز ہوئے۔
اور (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی “۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر منطبق ہے، کیونکہ آپ ؓ نے اپنے عہدخلافت میں باغیوں سے بغاوت پر جہاد و قتال کیا اور آیت ” سیءۃ سیءۃ مثلھا “۔ سے انتقام کی اجازت دی گئی، مگر عفو اور اصلاح وچشم پوشی اور درگزر کو افضل اور بہتر فرمایا گیا عجب نہیں کہ اس لفظ (آیت ) ” واصلح “۔ سے حضرت حسن ؓ کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ انہوں نے امیر معاویہ ؓ کے ساتھ صلح فرمائی، اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حسن ؓ کے متعلق ارشاد فرمایا تھا، ان ابنی ھذا سید ویصلح اللہ بہ بین فئتین عظیمتین “۔ یعنی یہ میرا فرزند سردار ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا اور چونکہ لفظ (آیت ) ” واصلح “۔ مسلمانوں کے درمیان اتفاق واقع ہونے اور باہمی نزاع وتفرقہ اٹھ جانے پر دلالت کرتا ہے اس لیے اس میں ایک لطیف اشارہ حضرت معاویہ ؓ کی امارت و حکومت کی طرف بھی ہے کیونکہ (آیت ) ” واصلح “۔ کا مقام مدح میں ذکر کرنا اس کی دلیل ہے کہ وہ صلح عند اللہ صحیح اور معتبر ہوگی تو اس طرح اس مصالحت کے نص قرآنی کے اشارہ سے حق ہونا معلوم ہوا ہے، اور (آیت ) ” انما السبیل علی الذین یظلمون “۔ سے اشارہ امراء بنی امیہ کی جانب ہے جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ میری امت کی ہلاکت چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہوگی، اور اخیر میں (آیت ) ” ولمن صبر وغفران ذلک لمن عزم الامور “۔ سے ایسے ثابت قدم علماء ربانین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے امراء و سلاطین کے جور وظلم پر صبر کیا، اور اس اندیشہ سے کہ امت انتشار وافتراق کا شکار نہ ہوجائے، مسلمانوں کو امیر وقت کے مقابلہ میں تلوار اٹھانے سے منع کیا اور باوجود کراہت کے اطاعت قبول کی، اور اس گروہ کے سرخیل اور امام علی بن الحسین ؓ تھے وعن آباۂ الکرام (حضرات قارئین تفصیل کے لیے ازالۃ الخفاء از ص 592 کی مراجعت فرمائیں )
Ayahs 42:44–50قباحت حال و محرومی وذلت کفار وروز قیامت وبیان کمزوری فطرت انسان :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ولی من بعدہ ....... الی ...... انہ علیم قدیر “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں اہل ایمان وتقوی اور ان کے اوصاف خاصہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں گمراہوں اور مجرموں کی بدنصیبی ذلت و محرومی کا بیان ہے، ساتھ ہی انسان کی اس فطری کمزوری کا بھی بیان ہے جو اکثر مراحل میں اس کو افعال رذیلہ اور خصائص ذمیمہ کا مرتکب بناتی ہے ہے ارشاد ہے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تو پھر اس کے بعد اس کے واسطے کوئی چارہ ساز نہیں کہ اس کو ہدایت دیدے، اور اے مخاطب تو دیکھے گا قیامت کے روز ظالموں کو جبکہ وہ عذاب خداوندی دیکھتے ہوں گے کہتے ہوں گے کیا ہے ہمارے واسطے دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی سبیل تاکہ اب ہم ایمان لاکر ایمان صالح کرلیں، جیسا کہ دوسرے موقع پر ان کی اس تمنا کو ذکر فرمایا گیا (آیت ) ” فارجعنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل “۔ اور اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ ان کو دیکھیں گے کہ ان کو جہنم پر پیش کیا جارہا ہوگا اس حال میں کہ ذلت کی وجہ سے وہ سرنگوں اور دیکھتے ہوں گے چھپی چھپی نگاہ سے جیسے مجرم ذلت وشرمساری سے اپنے اوپر واقع ہونے والی سزا خوف وذلت کی کیفیت سے دیکھتا ہو، اور اس کو جرأت بھی نہ ہو کہ کوئی چیز نگاہ اٹھاکردیکھ لے اور اس وقت ایمان والے کہتے ہوں گے اپنی نجات و کامیابی پر شکر کرتے ہوئے اور خوشی کے جذبہ سے بیشک پورا پورا خسارہ اٹھانے والے لوگ وہی ہیں جنہوں نے ہلاکت وخسارہ میں ڈالا اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں متعلقین کو قیامت کے روز بیشک ظالم لوگ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہیں اور ایسے ظالموں کے واسطے کوئی مددگار بھی نہ ہوں گے، جو ان کی مدد کرسکیں خدا کو چھوڑ کر اور حقیقت یہی ہے کہ جس کو خدا گمراہ کردے اس کے واسطے کوئی راستہ ہی نہیں ہے قبول حق اور ہدایت کا اس صورت حال کا تقاضا یہی ہے کہ اے انسانو ! قبول کرلو اپنے رب کی اطاعتو فرمانبرداری اس سے قبل کہ وہ دن عذاب خداوندی کا آجائے جس کا کوئی لوٹانے والا نہ ہوگا، درآنحالیکہ اس دن تمہارے واسطے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی اور نہ تمہارے لیے کوئی روک ٹوک ہی کرنے والا ہوگا کہ اللہ رب العزت سے یہی پوچھ لے کہ ان کا یہ حال کیوں ہورہا ہے، یہ حقائق ایسے ہیں کہ ان کو سن کر کسی بھی شخص کو اعراض نہ کرنا چاہئے لیکن پھر بھی اگر یہ لوگ اعراض کریں اور ایمان نہ لائیں تو آپ ﷺ اس کی وجہ سے غم اور ملال نہ کریں، اس لیے کہ ہم نے آپ ﷺ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے جس کے باعث آپ ﷺ سے باز پرس کی جائے، آپ ﷺ کے ذمہ تو صرف پیغام خداوندی پہنچا دینا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ اس اعراض کا سبب تعلق مع اللہ کا ضعف ہے جو ان کی اس حالت سے معلوم ہوتا ہے، جو اکثر انسانوں میں پائی جاتی ہے کہ جب ہم اس قسم کے کسی انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہونے لگتا ہے اور اتراتا ہے اور اگر ایسے لوگوں کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے ان اعمال کی وجہ سے جو وہ اپنے ہاتھوں سے پہلے کرچکے ہیں تو پھر ایسا آدمی ناشکری کرنے لگتا ہے، اور وہ نہ اللہ کے انعام کو سمجھتا ہے، اور نہ اپنے کئے ہوئے گناہوں سے تائب ہوتا ہے اور نہ عملی طور پر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، غرض اپنی اس فطری کمزوری اور خرابی کے باعث اس طرح کی ہلاکت میں اپنے آپ کو ڈالتا ہے اور ایسے انسان کی یہ حالت بتاتی ہے کہ اس کو حق تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں وہ محض اپنی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے لگا ہوا ہے، لہذا ایسے بدنصیبوں کو کہاں سے توفیق ہوسکتی ہے اور وہ کیسے ہدایت قبول کرسکتے ہیں اس لیے اے پیغمبر ﷺ آپ ﷺ اس غم میں اپنے کو ہلاک نہ کریں، اور زائد فکر و پریشانی میں نہ پڑیں، اللہ رب العزت کا ئنات کا مالک اور خالق ہے اسی کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے جس طرح انواع و اقسام مخلوقات میں پیدا کیں ان میں تفاوت مراتب رکھا خیر وشر کی تقسیم کی، اسی طرح رب العزت نے انسانوں میں عقائد و اعمال کے لحاظ سے بھی تقسیم فرما دی کوئی راہ راست پر ہے، اور خیر کے کاموں میں لگا ہوا ہے اور کوئی گمراہی پر ہے اور فواحش ومعاصی میں مبتلا ہے، بیشک اللہ ہی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی جو چاہے پیدا کرے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے۔ 1۔
حاشیہ (بغوی (رح) نے اس کی تفسیر میں بیان کیا ہے جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کہ ان کی صرف بیٹیاں تھیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہ ان کے صرف بیٹے تھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں بیٹیوں کا ثبوت نہیں ملتا، اور آنحضرت ﷺ کی اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں جمع کی گئیں، اگرچہ آپ ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کے صاحبزادوں میں سے کوئی زندہ نہیں رہے، کیونکہ ممکن تھا کہ کسی صاحبزادے کی موجودگی کیوجہ سے آپ ﷺ کے بعد لوگ ان کو آپ ﷺ کے قائم مقام پیغمبر کہنے لگتے، اور اللہ کے پیغمبروں میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وہ پیغمبر گذرے کہ جن کی کوئی اولاد ہی نہ تھی، 12۔ )
اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے، یا جن کے واسطے چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں کو جمع کردیتا ہے اور جس کو چاہے بےاولاد کردیتا ہے بیشک وہ بڑا ہی جاننے والابڑی ہی قدرت والا ہے تو بالکل اسی طرح ہر انسان میں جیسے افعال وخصائل چاہے وہ پیدا فرما دیتا ہے اور جس طرح کسی کو عقیم وبے اولاد بنانا اسی کی قدرت ہے اسی طرح کسی انسان سے ہر طرح کی خیر اور نفع کی توقع ختم ہوجانا یہ بھی اللہ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
Ayahs 42:51–53اثبات رسالت نبی کریم ﷺ وتحقیق اقسام وحی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ ...... الی ........ تصیرالامور “۔
(ربط) اس سورت کا آغاز وحی کے مضمون سے تھا درمیان میں دلائل نبوت و توحید بعث ونشر قیامت جزاء وسزا اور مجرمین ومطیعین کے احوال کا بیان فرمایا گیا اب سورت کا اختتام پھر مضمون وحی سے فرمایا جارہا ہے تاکہ سورت کے مضمون کا آغاز اور اس کی انتہاباہم مربوط ہوجائے اور ربط کی یہ خصوصیت اکثر سورتوں کے مضامین میں پائی جاتی ہے، اور بلغاء کے نزدیک کلام اللہ کی یہ بھی ایک معجزہ شان ہے، ان آیات میں مسئلہ نبوت کی تحقیق اور وحی کے اقسام کی تفصیل بیان کرکے مخالفین اور بالخصوص یہود کے ایک شبہ کا جواب دینا بھی ہے، یہود کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان سے بلاواسطہ اس طرح ہمکلام ہوتے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر اللہ ہمکلام ہوا تھا۔
امام قرطبی (رح) نے اس کا سبب نزول اسی اعتراض کو بیان کیا ہے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے براہ راست کلام کیوں نہیں کرتے۔ اور کیوں نہیں بالمشافہ اللہ کو دیکھتے ہو، اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح براہ راست کلام کریں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اللہ کو دیکھیں، جب تک آپ ایسا نہیں کریں گے ہم آپ کی بات پر یقین نہیں کریں گے، آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے تو خدا کو نہیں دیکھا (یہ تم غلط کہتے ہو اور اسی طرح انہوں نے اللہ سے براہ راست بلاواسطہ تو کلام نہیں کیا بلکہ از پس پردہ کلام ہوا تھا) اور یہ آیات نازل ہوئیں، (آیت ) ” وما کان لبشر “۔ الخ، (قرطبی ص 53 ج 16) تو ان آیات میں اقسام وحی کی تحقیق کرتے ہوئے، یہود کی اس بات کا بھی رد کیا جارہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا کو دیکھا اور بلاواسطہ کلام کیا تھا تو ارشاد فرمایا جارہا ہے، (آیت ) ” وماکان لبشر “۔ اور کسی بھی آدمی کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، کہ دنیا میں خدا تعالیٰ اس سے بلاواسطہ یا بالمشافہ اس کے روبرو اس سے کلام کرے، مگر یا تو اشارہ سے کہ باطنی طور سے بحالت بیداری بطریق الہام اس کے دل میں کسی چیز کا القاء کردے یا بحالت خواب اسکوخواب میں کوئی چیز دکھلادے یا بتلا دے خواہ یہ القاء الفاظ کے ساتھ ہو یا صرف معنی کے ساتھ دے فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو جو کسی آدمی کی شکل میں ظاہر ہو کر پھر وہ اللہ کی وحی پہنچا دے اس کے حکم سے وہ چاہے غرض یہی تین صورتیں ہیں، جو خداوند عالم کی اپنے سے ہمکلامی کی ہوسکتی ہیں، ان تین صورتوں کے علاوہ اور کوئی شکل نہیں کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کسی بشر کے ساتھ اس شکل میں میں کلام کرے، بیشک اللہ تعالیٰ نہایت ہی بلند مرتبہ والا بڑا ہی حکیم ہے اور جس طرح ہم نے اور پیغمبروں کی طرف وحی بھیجی ہے اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح ہدایت یعنی قرآن کو بذریعہ وحی بھیجا وہ قرآن کریم جو قلوب کے واسطے روح ہے کہ جیسے بدن کی حیات بغیر روح کے ممکن نہیں اسی طرح دلوں کی حیات وزندگی قرآن کریم جو قلوب کے واسطے روح ہے کہ جیسے بدن کی حیات بغیر روح کے ممکن نہیں اسی طرح دلوں کی حیات وزندگی قرآن کریم ہے، اور یہ قرآن آپ ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل ہے اس لیے کہ آپ ﷺ تو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے امی ہونے کی وجہ سے جانتے نہ تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے جس کی طرف اب آپ ﷺ دنیا کو دعوت دے رہے ہیں لیکن ہم نے بنایا ہے اس قرآن کو نور ہدایت جو آپ ﷺ پر بذریعہ وحی نازل کیا گیا، جس کے ذریعہ ہم راستہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، جو تمام عالم کے واسطے نور ہدایت اور نور مبین ہے کہ اس میں ذرہ برابر بھی شبہ کیا جاسکتا ہے، جیسے کہ آفتاب عالم تاب کی روشنی میں کوئی بینا آدمی ذرہ برابر شبہ نہیں کرسکتا، ظاہر ہے کہ ایسے نور مبین کا منکر نابینا ہی ہوسکتا ہے، بیشک اے پیغمبر آپ ﷺ اس نور ہدایت کے ذریعہ مخلوق خدا کو سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، جو ایسے خدا کا راستہ ہے جس کے واسطے ہر وہ چیز ہے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے، وہ سب کا خالق ومالک ہے آگاہ ہوجاؤ خدا ہی کی طرف سے ہے، اہل ایمان وہدایت اور نیکوں کو وہی جزا دے گا اور جو لوگ راہ حق اور ہدایت سے برگشتہ ہوں گے ان کو سزا دے گا، اس لیے ضروری ہے کہ ہادی برحق کی اطاعت کرو، اور ان کے احکام کی پیروی کرو، اسی میں نجات و کامیابی ہے ،
وحی کا مفہوم :
امام راغب (رح) نے مفردات میں لفظ وحی کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا ’۔ اشارۃ سریعۃ فی خفیۃ “۔ یعنی پوشیدہ اور مخفی طور سے ایک سریع اشارہ اور رمز، لفظ خفیۃ سے تو یہ ظاہر کیا کہ وحی الہی کا تعلق ظاہری حواس کے ادراک اور احساس سے نہیں یہ باطنی مدرکات اور شعور سے تعلق رکھنے والا امر ہے، اور لفظ سریعۃ کی دلالت یہ بتا رہی ہے کہ وہ ایک آن کی آن میں عرش الہی سے قلب پیغمبر پر وارد ہوجاتی ہے اور فی خفیۃ کا ہی یہ نیتجہ تھا کہ مجلس میں حضرات صحابہ موجود ہوتے اور نزول وحی ہوجاتا اس طرح کہ کسی کو کوئی خبر بھی نہ لگتی، اکثر ایسا کہی ہوتا تھا، اگرچہ بعض اوقات اللہ کا فرشتہ نظروں کے سامنے محسوس ہوتا اور وہ کوئی کلام کرتا تو دوسرے بھی اس کو سنتے جیسے کہ حدیث ایمان میں آنحضرت ﷺ کی مجلس میں جبرئیل امین (علیہ السلام) کا نووارد شخص کی شکل میں آنا اور ان کے سوالات کا قصہ مذکور ہے۔
لفظ وحی اگرچہ اپنے مشتقات کے استعمال اور اصل وضع کے لحاظ سے عموم رکھتا ہے اور غیرانبیاء کے واسطے بھی استعمال کیا گیا، مثلا (آیت ) ” واوحینآالی ام موسیٰ ان ارضعیہ “۔ بلکہ انسانوں کے سوا کے لئے بھی استعمال ہوا، مثلا (آیت ) ” واوحی ربک الی النحل “۔ حتی کہ شیاطین کے بارے میں بھی فرمایا گیا (آیت ) ” ان الشیاطین لیوحون الی اولیآءھم “۔ اور (آیت ) ” یوحی بعضھم الی بعض “۔ لیکن اصطلاح شریعت کی رو سے وحی انبیاء کے ساتھ مختص ہے، وحی صرف اسی کلام یا پیغام اور امر خداوندی کا نام ہوگا جو بارگاہ خداوندی سے اس پیغمبر کو دیا جائے، اس لحاظ سے وحی کا مفہوم الہام اور القاء ربانی وغیبی سے ممتاز وجدا ہوگا۔
حقیقت نبوت اور وحی :
حق تعالیٰ نے انسان میں دو قوتیں ودیعت رکھی ہیں، ایک قوت ملکیہ وروحانیہ اور دوسری قوت جسمانیہ وبہیمیہ جس طرح اطباء وحکماء کو قوت بہیمیہ کے امراض کے علاج اور اس کی تربیت کے لیے پیدا فرمایا گیا اسی طرح حضرات انبیاء (علیہم السلام) قوت روحانیہ کے علاج وتربیت کے لیے مبعوث فرمائے گئے، انبیاء (علیہم السلام) جو صورت جسمانیہ اور اپنے مادہ کے لحاظ سے اگرچہ بشر ہوتے ہیں لیکن اس بشریت کے باوجود ان کی بشری قوت، قوت ملکیہ کے تابع اور اس کی محکوم ہوتی ہے جیسے کہ حدیث میں ہے، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر انسان کے ساتھ شیطان لگا ہوا ہے اور اس کو معصیت کی طرف بلاتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے، لیکن جو قرین مجھ پر مسلط کیا گیا ہے وہ میرا مطیع ومنقاد اور تابع ہے فلا ”۔ یأمرنی الابخیر “۔ کہ وہ مجھ کو خیر کے سوا اور کسی چیز کا حکم نہیں کرتا، یہ حضرات کسی وقت بشریت سے منسلخ ہو کر ملاء اعلی میں پہنچ جاتے ہیں اور اس حالت میں ملاعلی سے جو کچھ علوم وہدایت ان پر القاء فرمائی جاتی ہیں اسی کو وحی کہا جاتا ہے، اور اس انسلاخی حالت کے ختم ہوجانے کے بعد وہ علوم وہدایات ان پر القاء فرمائی جاتی ہیں اسی کو وحی کہا جاتا ہے اور اس انسلاخی حالت کے ختم ہوجانے کے بعد وہ علوم وہدایات لے کر بندگان خدا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اس میں کبھی یہ صورت ہوتی ہے کہ وحی کے وقت گھنٹہ کی سی گونج سنائی دیتی ہے اور کبھی فرشتہ کی صورت نظر آتی ہے جو اس کی اصلی صورت ہو اور کبھی کسی بشر کی شکل میں متشکل ہو کر وہ سامنے آتا ہے اور وہ فرشتہ اللہ کا کلام پہنچا دیتا ہے اور یہ اخذ وحی نہایت ہی سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اسی چیز کو ملحوظ رکھتے ہوئے امام راغب (رح) نے اشارۃ سریعۃ کی قید ذکر کی، اور یہی وجہ صعوبت کے پیش آنے کی ہوتی تھی جیسے کہ ارشاد ہے (آیت ) ” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “۔ حتی کہ سردیوں کے زمانہ میں بھی آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ ٹپکتا ہے۔
کیونکہ عالم خواب باطنی قوی اور مدرکات سے متعلق ہے تو اس لحاظ سے وحی کے ذریعہ جو علم وادراک ہے وہ ایک گونہ خواب کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، محض باطنی ادراکات کے ذریعہ کسی چیز کے سننے اور جاننے کے اعتبار سے، ورنہ ظاہر ہے کہ خواب ایک ظنی چیز ہے، اور وحی الہی امر قطعی ہے، یہی سبب ہے کہ وحی کی ابتداء خوابوں سے ہوئی، جیسے کہ آفتاب کے طلوع سے قبل آسمان پر صبح کی سپیدی طلوع آفتاب کی تمہید ہوتی ہے تو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور وحی سے قبل چھ ماہ تک سچے خوابوں کا سلسلہ آفتاب رسالت سے قبل تمہید نبوت تھی،۔
انبیاء (علیہم السلام) چونکہ معصوم ہوتے ہیں اس بنا پر ان کا خواب بھی وحی کی طرف قطعی اور امر خداوندی ہوتا ہے جیسے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے کہ خواب میں بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا تو کہا (آیت ) ” انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری “۔ اس کے جواب میں اسمعیل (علیہ السلام) کا یہ فرمانا (آیت ) ” یا بت افعل ما تؤمر “۔ کہ اے باپ کر گذریئے وہ بات جس کا آپ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا، یہ نہیں کہا کہ کر گذرئیے وہ چیز جو آپ (علیہ السلام) نے خواب دیکھی۔
بہرحال کیف عالم روحانیت اور ملاء اعلی کے امور کا القاء اللہ کی طرف سے وحی کی حقیقت ہے یعنی جو چیز انسان نہ آنکھ سے دیکھ سکتا ہو اور نہ کان سے سن سکتا ہو، اور نہ عقل سے اس کا ادراک کرسکتا ہو اس کا علم بذریعہ وحی الہی ہوتا ہے۔
غرض وحی الہی اور نبوت ایک موہبہ اور عطیہ خدا وندی ہے کوئی کسبی واکتسابی یا فطری صلاحیت یا آثار و کیفیات کا نام نہیں جیسے کہ فلاسفہ اور ملحدین کا گمان ہے، فلاسفہ وحی کی حقیقت میں یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک فطری ملکہ ہے، یعنی انسانی فطرت کی ایک اعلی حالت کا نام ہے اور نبی کے قوائے طبیعہ کا ایک عمل ہے تفصیل کے لیے علم الکلام حضرت والد محترم مولانا ادریس کاندھلوی قدس اللہ سرۂ ملاحظہ فرمائیں۔
اقسام وحی کی تحقیق و تفصیل :
ان آیات میں وحی خداوندی کے اقسام کی تفصیل وتحقیق فرمائی گئی کہ اللہ کی وحی کسی بشر یعنی اس کے پیغمبر پر صرف ان تین شکلوں ہی میں منحصر ہے اللہ کا کلام پیغمبر سے (1) یا بہ شکل وحی یعنی اشارہ خفیہ کی صورت میں ہوگا، (2) یا از پس پردہ ہوگا۔ (3) یا کسی قاصد کے ذریعہ ہوگا کہ وہ آکر اللہ کا پیغام اور کلام پہنچا دے، ان ہی تین صورتوں کو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ (آیت ) ” الا وحیا “۔ کی شکل تو وہ ہوگی کہ اندر ہی اندر بغیر کسی ظاہری توسط اور واسطہ کے اللہ کلام نازل ہوجائے، جس کو (آیت ) ” نزل بہ الروح الامین علی قبلک “۔ میں بیان فرمایا گیا کہ ظاہری طور پر نہ آنکھ کسی متکلم کو دیکھتی ہو اور نہ ظاہری کان کوئی آواز سنتے ہوں اور قلب پر اللہ کی وحی اور کلام نازل ہوجائے کہ حواس ظاہرہ کے دخل کے بغیر ہی قلب اپنے کانوں سے کلام الہی سن لے، عارفین کہتے ہیں حواس اصل میں تو اندر ہیں، جب عالم ظاہر سے تجرد ہوتا ہے تو حواس باطنہ اپنا عمل شروع کرتے ہیں، جیسے عالم خواب میں مدرکات اپنا عمل اس وقت شروع کرتے ہیں جب انسان پر نوم (نیند) طاری ہوجائے اور حواس عالم ظاہر کے احساس وادراک سے معطل اور غافل ہوجاتے ہیں، اسی حقیقت کو قرآن کریم کی یہ آیت ظاہر کررہی ہے (آیت ) ” فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور “۔ دوسری صورت کا حاصل یہ ہے کہ قوت سامعہ کا تو دخل اور توسط ہو مگر قوت باصرہ اور آنکھوں کا درمیان میں دخل وتوسط نہ ہو وہ از پس پردہ نزول وحی کی صورت ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر اللہ کا کلام سنا، آنکھوں سے نہ کوئی متکلم نظر آرہا تھا اور نہ خداوند قدوس کا دیدار تھا، تیسری شکل کا حاصل یہ ہے کہ کسی قاصد اور فرشتہ کے ذریعہ وحی الہی آئے، اور خدا کا پیغمبر اس فرشتہ اور قاصد کو آنکھوں سے دیکھتا بھی ہو اور کانوں سے اس کے کلام کو سنتا ہو، جیسے کہ بسا اوقات جبرئیل امین (علیہ السلام) حضرت دحیۃ الکلبی ؓ کی شکل میں اترتے اور اللہ کی وحی پہنچا دیتے، آنحضرت ﷺ سے حضرت عائشہ ؓ حارث بن ہشام کے سوال کے جواب میں جو چیز ذکر فرما رہی ہیں وہ وحی کی ان تین شکلوں میں سے دو کو مشتمل ہے جس میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ۔ احیانا یاتینی مثل صلصلۃ الجرس وھو اشدہ علی واحیانا یتمثل لی الملک بشرا فیکلمنی فاعی مایقول۔ یعنی بسا اوقات وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے گھنٹہ یا ٹالی کی جھنکار اور گونج کی طرح اور یہ مجھ پر زائد شدید ہوتی ہے، اور بسا اوقات میرے سامنے فرشتہ بشر کی شکل میں متشکل ہو کر رونما ہوتا ہے اور وہ مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کرلیتا ہوں جو کچھ وہ کہتا ہے تو مثل صلصلۃ الجرس کی شکل (آیت ) ” الا وحیا “۔ کی ہوتی تھی، اور یتمثل لی الملک بشرا “۔ کی صورت وہ ہوتی تھی جس کو قرآن کریم نے (آیت ) ” اویرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشآء “۔ میں بیان فرمایا، یہی دو صورتیں غالب تھیں اور (آیت ) ” من ورآء حجاب “۔ نادر اور قلیل تھی اس وجہ سے حدیث عائشہ ؓ میں اس کو صراحۃ نہیں فرمایا گیا اور (آیت ) ” الا وحیا “۔ کی صورت شدید اس وجہ سے ہوتی تھی کہ اس میں آپ ﷺ کو اپنی صفت بشریت سے منسلخ ہو کر ملکیت کی طرف صعود کرنا پڑتا تھا بخلاف اس صورت کے کہ فرشتہ ہی بصورت بشر نزول کرکے پیغام خداوندی پہنچا دے تو اس میں اپنے قوی میں تصرف کی مشقت نہیں ہوتی تھی، اس وجہ سے یہ دوسری صورت سہل ہوتی تھی بہ نسبت پہلی صورت کے یہ صورتیں تو وحی الہی کی وہ تھیں کہ ملاء اعلی سے عالم دنیا کی طرف پیغمبر پر اللہ کا کلام اتارا جائے گویا یہ نزول وحی کا درجہ ہوا، ایک درجہ ایحاء کا یہ ہوا کہ موحی الیہ کو اوپر بلایا جائے، جیسے کہ معراج میں نبی کریم ﷺ کو ساتوں آسمانوں کی بلندیوں کے بعد سدرۃ المنتہی اور بیت المعمور تک اور پھر وہاں سے مزید بلندیوں تک پہنچایا گیا کہ قاب قوسین کی صورت ہوگئی اور اس کے بعد پھر آپ ﷺ کو وحی کی گئی، جیسے کہ فرمایا گیا (آیت ) ” فکان قاب قوسین اوادنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی “۔ یعنی جانبین سے مکالمہ ہوا اگرچہ رؤیت میں اختلاف ہے لیکن برتقدیر ثبوت یہ کہا جاسکتا ہے کہ دیدار اور کلام جدا جدا ہوگا، رؤیت مع الکلام کا جمع ہونا اس آیت کی رو سے بظاہر مشکل ہے کیونکہ بیان کردہ تین شکلوں کو انفصال کے عنوان سے بیان فرمایا گیا ہے کہ کلام خداوندی ان صورتوں میں سے کسی ایک ہی صورت میں ہوسکتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کلام من وراء حجاب یعنی از پس پر ودہ تو ہوسکتا ہے لیکن یہ کہ عیانا اور بالمشافہ دیدار خداوندی کے ساتھ کلام بھی جمع ہوجائے ؟ تو یہ نہیں ہوگا۔
الہام اور اس کی صورتیں :
الہام بھی ملاء غیب سے علوم وہدایات کے القاء کا نام ہے جو انبیاء کے سوا دیگر اللہ کے برگزیدہ بندوں کے قلب پر ہو، امام غزالی (رح) فرماتے ہیں۔
الہام : جو علم کہ قلب میں بغیر کسی اکتساب اور استدلال کے حق تعالیٰ شانہ یا ملأ اعلی کی جانب سے القاء ہو اس کو الہام کہتے ہیں۔
قال تعالیٰ : (آیت ) ” فالھمھا فجورھا وتقوھا “۔ پھر اللہ نے اس کو فجور اور تقوی کا الہام فرمایا :
شیخ عبدالوہاب شعرانی (رح) فرماتے ہیں کہ تقوی کا الہام اس لیے فرمایا کہ نفس اس پر عمل کرے اور فجور کا الہام اس لیے فرمایا تاکہ اس سے پرہیز کرے۔
حصین بن مندر خزاعی ؓ جب مشرف باسلام ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے انکو یہ تعلیم فرمائی : اللہم الھمنی رشدی واعذنی من شرنفسی : اے اللہ مجھ کو رشد وہدایت کا الہام فرما اور شر نفس سے مجھ کو پناہ دے۔
(1) وقال تعالیٰ : (آیت ) ” واحینا الی ام موسیٰ ان ارضعیہ (سورۂ قصص)
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کیا کہ ان کو دودھ پلاؤ۔
(2) (آیت ) ” واذا اوحیت الی الحوارین ان امنوا بی وبرسولی “۔
حواریین کو یہ الہام کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ۔
(3) (آیت ) ” قلنا یذا القرنین اما ان تعذب واما ان تتخذ فیھم حسنا (سورۂ کہف)
اور ذوالقرنین کو یہ الہام کیا کہ خواہ ان کو عذاب دو یا ان کے ساتھ احسان کرو (سورۂ کہف)
الہام کی مختلف صورتیں ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ من جانب اللہ براہ راست قلب پر القاء ہوتا ہے اس کو علم لدنی کہتے ہیں، کما قال تعالیٰ شانہ۔ (آیت ) ” وعلمناہ من لدنا علما “۔ چناچہ حجۃ الاسلام امام غزالی قدس اللہ سرۂ فرماتے ہیں۔
والعلم اللدنی وھو الذی لا واسطۃ فی حصولہ بین النفس وبین الباری وانما ھو کا لضوء من سراج الغیب یقع علی قلب صاف فارغ لطیف (کذا فی الرسالۃ اللدنیہ ص 28) علم لدنی وہ ہے کہ جس کے حصول میں نفس اور حق تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، علم لدنی بمنزلہ روشنی کے ہے کہ سراج غیب سے قلب صاف و شفاف پر واق ہوتی ہے۔
حضرت بایزید بسطامی (رح) منکرین علم لدنی سے یہ فرمایا کرتے تھے۔
قد اخذتم علمکم میتا عن میت ونحن اخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت (کذا فی الیواقیت والجواھر ص 91 ج 2)
تم نے (خطاب بہ علماء ظاہر) علم میتا عن میت حاصل کیا ہے اور ہم نے علم، حی لا یموت سے لیا ہے۔
اور کبھی ملا اعلی اور ملک الہام کے توسط سے کوئی چیز قلب میں القاء کی جاتی ہے، اس کو القاء فی القلب اور نفث فی الروع کہتے ہیں، ملک الہام قلب میں القاء کرتا ہے مگر نظر نہیں آتا۔
کما قال النبی ﷺ ان روح القدس نفث فی روعی لن تموت نفس تستکمل رزقھا (الحدیث)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا روح القدس یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے قلب میں یہ ڈالا ہے کہ کوئی نفس اس وقت تک ہرگز نہ مرے گا جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ لے لے، وقال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اذیوحی ربک الی المآئکۃ انی معکم فتبتوا الذین امنوا (سورۂ انفال )
جب کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کی طرف وحی بھیجتے تھے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو تم مسلمانوں کے دلوں کو ثابت اور قائم رکھو۔
اور آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد واعظ اللہ فی قلب کل مومن، جیسا کہ امام احمد بن حنبل (رح) اور امام ترمذی (رح) نے نواس بن سمعان ؓ سے روایت کیا کہ اس واعظ اللہ سے یہی الہام الہی بواسطہ الملائک مرا د ہے جیسا کہ حافظ ابن قیم (رح) نے مدارج السالکین میں ذکر کیا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ متمثل بشکل بشر ہو کر شفاہا اور عیانا مخاطبت اور کلام کرتا ہے، کما قال تعالیٰ ،
(آیت ) ” واذقالت المآئکۃ یا مریم ان اللہ اصطفک وطھرک واصطفک علی نسآء العلمین “۔
اور جس وقت کہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم اللہ نے تجھ کو پسند کیا ہے اور تجھ کو پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں پر تجھ کو فضیلت دی۔
وقال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اذ قالت المآئکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیھا فی الدنیا والاخرۃ “۔
جب کہا فرشتوں نے کہ اے مریم اللہ تجھ کو بشارت دیتا ہے اپنے ایک خاص کلمہ کی جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہوگا جو دنیا وآخرت میں صاحب وجاہت ہوگا ،
وقال اللہ : (آیت ) ” واذکر فی الکتب مریم اذا انتبذت من اھلھا مکانا شرقیا فاتخذت من دونھم حجابا فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا سویا قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلاما زکیا “۔ (سورۂ مریم )
اور ذکر کرو کتاب میں مریم کا جبکہ وہ شرقی مکان میں اپنے لوگوں سے علیحدہ ہوئیں پس ایک پردہ بنایا، پس بھیجا ہم نے ان کے پاس ایک فرشتہ جو آدمی کی شکل میں ان کے سامنے ظاہر ہوا، حضرت مریم (علیہ السلام) بولیں کہ اللہ کی پناہ تجھ سے اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے کہا کہ جزایں نیست کہ میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اس لیے آیا ہوں کہ تجھ کو لڑکا دے جاؤں۔
وقد کانت الملئکۃ تخاطب عمران بن حصین ؓ بالسلام فلما اکتوی ترک خطابہ فلما ترک ال کی عاد الیہ خطاب ملکی ،
فرشتے حضرت عمران بن حصین ؓ کو سلام کیا کرتے تھے مگر جب وہ داغ لگوانے لگے تو فرشتوں نے سلام چھوڑ دیا پس جب انہوں نے داغ لینا چھوڑ دیا تو فرشتے پھر مخاطبت اور سلام کرنے لگے۔
وقال ابو عمر کان ای عمران بن حصین من فضلاء الصحابۃ وفقھآءھم یقول عنہ اھل البصرۃ انہ کان یری الحفظۃ وکانت تکلمہ حتی اکتوی (کذا فی الاصابہ ص 26 ج 3)
ابوعمر بن عبد البر فرماتے ہیں کہ عمران بن حصین ؓ بڑے جلیل القدر تھے اور فقہاء صحابہ میں سے تھے اہل بصرہ خود حضرت عمران ؓ سے ناقل ہیں کہ وہ کراما کاتبین کو دیکھا کرتے تھے، اور ان سے باتیں کرتے تھے یہاں تک کہ داغ لیا۔
حجۃ الاسلام امام غزالی قدس اللہ سرۂ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ قلب کے (2) دروازے ہیں، ایک عالم ملکوت اور ملاء اعلی کی طرف سے ہے، اور دوسرا عالم شہادت کی طرف۔
ظاہری علوم اور معارف ظاہری باب یعنی حواس خمسہ ظاہرہ سے قلب میں داخل ہوتے ہیں، اور عالم ملکوت اور ملاء اعلیٰ کے علوم باطنی دروازہ سے قلب میں آتے ہیں۔
وروی (مدارج السالکین ص 25 ج 1) الحسن عن رسول اللہ ﷺ علمان فعلم باطن فی القلب فذلک ھو العلم النافع وسئل بعض العلماء عن العلم الباطن فقال ھو سر من اسرارا اللہ تعالیٰ یقذفہ اللہ تعالیٰ فی قلوب احباۂ لم یطلع علیہ ملکا ولا بشرا وقد قال ﷺ ان من امتی محدثین ومعلمین ومکلمین وان عمر منھم وقوأ ابن عباس ؓ وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث والمحدث ھو الملھم والملھم ھو الذی انکشف لہ فی باطن قبلہ من جہۃ الداخل لامن جھۃ المحسوسات الخارجۃ، وکان ابویزید وغیرہ یقول لیس العالم الذی یحفظ من کتاب فاذا نسی ما حفظہ صارجاھلا انما العالم الذی یا خذ علمہ من ربہ ای وقت شآء بلاحفظ ولا درس وھذا ھو العلم الریانی والیہ الاشارۃ بقولہ تعالیٰ وعلمناہ من لدنا علما، مع ان کل علم من لدنہ ولکن بعضھا بوسائط تعلیم الخلق فلا یسمی ذلک علما لدنیا بل اللدنی الذی ینفتح فی سر القلب من غیر سبب مالوف من خارج آھ۔
حسن بصری (رح) رسول اللہ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ علم دو ہیں ایک ظاہری اور ایک باطنی اور آخرت میں علم باطن ہی نفع دیتا ہے، بعض علماء سے علم باطن کے متعلق دریافت کیا گیا تو یہ فرمایا کہ وہ ایک سر الہی ہے جس کو حق تعالیٰ اپنے محبوبین کے دلوں میں ڈالتے ہیں اور اس پر کسی فرشتہ اور بشر کو بھی مطلع نہیں فرماتے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں سے محدث اور معلم اور مکلم ہوں گے، اور عمر ؓ ان میں سے ہیں اور ابن عباس ؓ کی قراءت میں ہے (آیت ) ” وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث “۔ اور محدث وہ ملہم من اللہ ہے کہ جس کے باطن قلب میں ان حواس ظاہرہ کے علاوہ علوم ومعارف کے لیے کوئی راستہ کھل گیا ہو، بایزید (رح) یہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ شخص عالم نہیں جو کسی کتاب کو یاد کرلے اس لیے کہ اگر وہ اس کو بھول جائے تو جاہل رہ جائیگا، عالم حقیقۃ وہ ہے کہ جو اپنے رب سے جس وقت چاہتا ہے علم حاصل کرتا ہو بغیر حفظ اور تدریس کے اور یہی علم ربانی ہے اور (آیت ) ” علمناہ من لدنا علما “۔ میں اسی طرف اشارہ ہے، اگرچہ ہر علم اللہ ہی کے پاس سے ہے مگر بعض علم تعلیم خلق کے واسطہ سے حاصل ہوتا ہے اس کو علم لدنی نہیں کہتے، علم لدنی وہ ہے کہ جو بغیر کسی خارجی سبب کے خود بخود قلب میں من جانب اللہ آتا ہو۔
حجۃ الاسلام قدس سرہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ حوض میں پانی لانے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ نہر وغیرہ سے پانی لایا جاوے، دوم یہ کہ اسی حوض کو کھود کر اور اس کو آلات سے صاف کرکے اسی میں کوئی چشمہ جاری کردیا جائے اور یہ پانی بہ نسبت نہر کے پانی کے نہایت صاف اور شیریں اور لذیذ ہوگا اسی طرح قلب بھی بمنزلہ حوض کے ہے تو کبھی علم اس میں حواس کی نہر سے لایا جاتا ہے، اور کبھی بذریعہ خلوت وعزلت، مجاہدہ و ریاضت قلب کو کھود کر صاف کردیا جاتا ہے، اس وقت خود اندرون قلب ہی سے علم کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں اور تحصیل علوم اور صلاح وتقوی اور ریاضت صادقہ اور مجاہدۂ کبیرہ اور مراقبہ صحیحہ اور تفکر پر موقوف ہے۔
کما قال النبی ﷺ من عمل بما علم اور ثہ اللہ العلم بمالم یعلم وقال ﷺ من خلص اللہ اربعین صباحا اظھرا للہ تعالیٰ ببنا بیع الحکمۃ من قلبہ علی لسانہ وقال النبی ﷺ تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ ستین سنۃ۔ فالمتفکر اذا سلک سبیل الصواب یصیر من ذوی الالباب وتنفتح روزنۃ من عالم الغیب فی قلبہ فیصیر عالما کاملا عاقلا ملھما مؤیدا “۔ (رسالہ لدنیہ ص 37)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو علم پر عمل کرے اللہ تعالیٰ اس کو ان چیزوں کا علم عطا فرماتے ہیں جن کو وہ نہیں جانتا اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو چالیس روز اخلاص کے ساتھ عبادت کرلے اللہ تعالیٰ علم و حکمت کے چشمے اس کے قلب سے اس کی زبان پر جاری فرمادیتے ہیں، اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ایک گھڑی تفکر اور مراقبہ ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے، پس متفکر جب صحیح راستہ پر چلے تو وہ عنداللہ اولی الالباب میں سے ہوجاتا ہے، اور عالم غیب سے ایک روزن اس کے قلب میں کھل جاتا ہے اس وقت یہ شخص پورا عالم اور عاقل اور ملہم اور مؤید من اللہ ہوتا ہے۔
الہام انبیاء اور الہام اولیاء میں فرق :
حافظ تو ربشتی (رح) فرماتے ہیں کہ الہام انبیاء اور الہام اولیاء میں فرق ظاہر ہے انبیاء کا الہام قطعی ہوتا ہے جس طرح انبیاء کرام معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں اسی طرح ان کا الہام بھی معصوم عن الخطاء ہوتا ہے بخلاف الہام اولیاء کے کہ وہ ظنی ہوتا ہے اور خطا سے معصوم نہیں ہوتا اور یہ فرق ایسا ہی ہے جیسا کہ انبیاء اور اولیاء کے رؤیاء صالح میں، انبیاء کا رؤیاء صالح وحی ہوتا ہے، اولیاء کا نہیں۔
امام ربانی (رح) اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں : والہام کہ اولیاء راہست مقتبس از انوار نبوت است واز برکات وفیوض متابعت انبیاء است علیہم الصلوۃ والتسلیمات (مکتوب 23 جلد ص 41)
اور اولیاء کا الہام انوار نبوت سے ماخوذ ہوتا ہے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہی کی متابعت کی فیض اور برکت سے ہوتا ہے، فافہم واستقم “۔
یعنی جس طرح مومنین کا ایمان اور ان کی دیگر صفات مثلا زہد وورع، قناعت و توکل، رضا و تسلیم وغیرہ وغیرہ انبیاء کرام ہی کے ایمان اور زہد وورع سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔
اسی طرح الہام مومنین کو الہام انبیاء سے کوئی نسبت نہیں ہوئی، الہام مومنین تو الہام انبیاء کا ایک ادنی ساپرتو اور عکس ہوتا ہے، یہ کہاں اس کے ہمسر ہوسکتا ہے۔ این الثری من الثریا۔
نیز الہام اولیاء فقط کسی بشارت یا تفہیم پر مشتمل ہوتا ہے، اور الہام انبیاء میں امر ونہی اور احکام الہیہ جو بندوں کے متعلق ہوں اور ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انبیاء پر اپنے الہام کی تبلیغ واجب ہے اور اولیاء پر نہیں بلکہ اس کا اخفاء اولیٰ ہے، جب تک کوئی ضرورت شرعیتہ ودینیہ داعی نہ ہو،
وحی والہام کی تحقیق و تفصیل میں حضرت والد محترم (بحوالہ علم الکلام، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی (رح)
کا یہ کلام نہایت جامع اور اسرار و حکمت پر مشتمل تھا جو ہدیہ ناظرین کیا گیا، بحمد للہ قدتم تفسیر سورة الشوری یوم السبت 19 من شھر جمادی الثانیۃ 1401 ھ۔ والحمد علی ذلک حمد اکثیرا اللہم وفقنی لاتمام ھذا التفسیر المبارک ویسرہ لی بفضلک یا ارحم الراحمین۔