Ayahs 50:30–45شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب امراض خبیثہ میں مبتلا ہے تو دلائل وحجج اس کے واسطے بیکار ہیں اور اگر قلب تو بیمار نہیں لیکن توجہ اور رغبت قبول حق اور ہدایت کی نہیں تو بھی کوئی نفع حاصل نہ ہوگا یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ راہ حق میں انسان کو بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آیا کرتی ہیں اس لیے صبرواستقامت چاہئے اور صبر وعزم ذکر خداوندی اور تسبیح وتحمید پر موقوف ہے کیونکہ یہ روح کی غذا ہے اسی سے روح کو قوت و توانائی حاصل ہوتی ہے ان مضامین کو حشر اور قبور سے نکل کر حساب و کتاب کے لئے حاضری کے مضمون پر ختم فرمایا ارشاد ہے جس روز کہ ہم کہیں گے جہنم سے کیا تو بھر چکی وہ اپنی شدت اور وسعت اور پھیلاؤ اور غیظ وغضب کی حالت میں جواب دیگی اور کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟ جس سے مجھے بھرا جائے گا اور مجرموں کو ان کے کفر ونافرمانی کی سزا دی جائے گی اور اس وقت جب کہ کافروں کے سامنے قہر خداوندی کا یہ ہیبت ناک منظر ہوگا قریب کردی جائے گی جنت تقوی والوں کے لیے جو دور نہ ہوگی جو نہایت ہی نزدیک پوری زیب وزینت کے ساتھ اہل ایماان کے سامنے ہوگی اس وقت کہا جارہا ہوگا یہ ہے جس کا وعدہ ہوا تھا اے ایمان والو ! ہر اس شخص کیلئے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اسکے احکام واوامر کی حفاظت کرنے والا ہو بیشک جس نے خشیت اور تقوی اختیار کیا حالت غیب میں یعنی بغیر خدا اور قیامت کو دیکھے ہوئے پروردگار رحمن سے اور لے کر آیا ایک صاف ستھرا دل رجوع کرنے والا اس پر ایسا ہی انعام وکرم ہوگا اس قسم کے جملہ اہل ایمان وتقوی سے کہا جائے گا داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ یہی دن ہمیشہ رہنے کا ہے عافیت و سلامت کا اعلان خداوند عالم کی طرف سے بھی ہورہا ہوگا اور فرشتے بھی یہی بشارت سنا رہے ہوں گے ان اہل ایمان کے واسطے جنت میں جو کچھ چاہیں گے وہ ہوگا اور ہر خواہش پوری ہوگی بلکہ ہمارے پاس تو ان کے لیے اس سے بھی زائد ہے کہ اہل جنت کی طلب اور خواہش ختم ہوجائے گی اور ان کے تصور میں بھی وہ انعامات نہ آسکیں گے جو انکی خواہش اور طلب سے بڑھ کردیئے جائیں گے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اعلان ہوگا رضاء خداوندی کا فرمایا جائے گا۔ رضائی لااسخط علیکم بعدی ابدا۔ اور مزید اس پر دیدار خداوندی سے بھی۔ نوازے جائیں گے ظاہر ہے یہ سب کچھ انعام واکرام اہل ایمان وتقوی پر ہوگا لیکن اس کے بالمقابل کافروں ونافرمانوں کے واسطے تو ذلت ورسوائی اور عذاب کے سوا کچھ نہیں اور آخرت کا عذاب تو کوئی کیا ٹلا سکے گا دنیا میں بھی جب خدا کا قہر و عذاب کسی مجرم قوم پر مسلط ہوتا ہے تو اسکو کوئی روک نہیں سکتا چناچہ اور کتنی ہی جماعتیں ہم ہلاک کرچکے ان کفار مکہ سے پہلے جو ان سے زیادہ طاقت اور گرفت والے تھے جنہوں نے بڑے بڑے شہر چھان مارے تھے جیسے قوم عاد وثمود اور اہل مدین لیکن جب ان پر عذاب خداوندی آیا تو کیا کوئی ہوا ان میں بچ کر نکل جانے والا نہ کوئی بھاگ سکا نہ کسی کو کوئی ٹھکانا اور پناہ مل سکی بیشک اس میں سوچنے اور عبرت حاصل کرنے کی جگہ ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے اندر قلب سلیم ہے یا وہ توجہ سے اللہ کی باتوں کو سنے درآں حالیکہ وہ غور وفکر کرنے والا ہو تو بلاشبہ ان عبرتناک واقعات سے اس کے سینہ میں سمجھنے والا دل قبول حق کے واسطے تیار ہوجائے گا جنت و جہنم کے ان احوال اور وسعتوں پر کسی کو کوئی تعجب وحیرت کی قطعا ضرورت نہیں ہم تو ہر چیز پر قادر ہیں اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جملہ مخلوقات کو چھ دن کے اندر بنا دیا اور ہم کو کوئی تکان نہ ہوا اور چھ دن کی مدت بھی محض ان مخلوقات کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے لگائی ورنہ تو اللہ ایک آن اور لمحہ میں ہی ساری کائنات پیدا کرنے پر قادر ہے تو جب ہم ان تمام عظیم مخلوقات کو ابتداء پیدا کرچکے تو ہمارے واسطے دوبارہ لوگوں کو زندہ کرکے اٹھانا اور جنت جیسی مخلوقات کا بنانا کیا مشکل ہوسکتا تو اگر ان حقائق کے باوجود بھی کفار ومشرکین نہ مانیں اور انکار ہی کرتے رہیں اور آپ ﷺ کی باتوں کا تمسخر و مذاق کریں تو پس آپ صبر کیجئے ان باتوں پر جو یہ منکرین کہتے ہیں اور پاکی بیان کرتے رہئے اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ حصوں میں بھی خدا کی پاکی بیان کرتے رہئے اور سجدہ کرنے کے بعد بھی جب بھی فرض نماز ادا کریں اور اس میں سجدوں سے فارغ ہوں تو ان سجدوں کے بعد خدا کی تسبیح و پاکی کرتے رہئے اور اس طرح ہمہ اوقات یاد خداوندی میں لگے رہئے اور کان لگائے رکھ اس دن پر کہ پکارنے والا پکارے قریب ہی جگہ سے یہ وہ دن ہوگا کہ لوگ سنیں گے ایک چیخ ٹھیک ٹھیک بس یہی دن نکل پڑنے کا ہوگا مردوں کا اپنی قروں سے یا جس جگہ بھی اور جس حالت میں انسان کے بدن اور اسکے اجراء ہوں گے سب کو خدا تعالیٰ جمع کرے گا بیشک ہم ہی زندگی دیتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف سب کو لوٹنا ہے یہ وہ دن ہوگا کہ زمین شق ہوجائے گی ان سے اور زمین کے پھٹ جانے سے اس سے مردے نکل کر میدان حشر میں جمع ہورہے ہوں گے نہایت ہی تیزی سے دوڑتے ہوئے یہ اکٹھا کرنا ہم پر نہایت ہی آسان ہے۔ 1
حاشیہ (ظاہر ہے کہ جب ایک انسان عاجز خدا کے عطاکردہ اسباب اور مادی وسائل سے فضا میں منتشر آوازوں اور صورتوں کو جمع کرسکتا ہے تو اس قادر مطلق اور خالق کائنات کے لیے انسانوں کا قیامت کے روز جمع کرنا کیا مشکل ہوسکتا ہے (تفصیل پہلے گذر چکی ہے) (آیت) ” یوم یناد المناد “ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ ندا کرنے والے فرشتہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں جو بامر خداوندی نفخ صور کے ساتھ یہ آواز دیں گے، ایتھا العظام البالیۃ والشعور المتفرقۃ والاوصال المتمزقۃ ان اللہ یامرکن ان تجتمعن۔ کہ اے بوسیدہ ہڈیو ! اور پراگندہ بالو ! اور ریزہ ریزہ شدہ ہڈیوں کے جوڑو ! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم سب یکجا جمع ہوجاؤ۔
چناچہ یہ ندا ہر مخلوق کو ایسی سنائی دی گی گویا کہ اس قریب ہی سے اس کو پکارا جارہا ہے اور انسانی بدن کے اجزاء منتشرہ جمع ہوجائیں گے یہ روایت جمہور متکلمین کے اس قول کی تائید کرتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا حشر جسمانی قیامت کے روز نئے اجسام کو بنانا نہیں بلکہ اجسام قدیمہ دنیویہ ہی کو از سر نو زندہ کرنا ہے اور ارواح کو ان سے وابستہ کرنا ہے واللہ اعلم بالصواب (تفسیر احکام القرآن للقرطبی و تفسیر مظہری )
ہم خوب جانتے ہیں وہ باتیں جو کہہ رہے ہیں آپ ﷺ کی مخالفت اور دشمنی میں اور آپ ﷺ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں کہ کسی کو ہدایت پر زبردستی لے آئیں یا اسکی بےہودہ باتوں سے اسکو روک دیں سو آپ تو نصیحت کرتے رہئے قرآن کے ذریعہ ہر اس شخص کو جو میری۔ 2
حاشیہ (حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ قتادہ (رح) جب یہ تلاوت کرتے تو فرمایا کرتے اللہم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجوا وعدک، یا باؤ یا رحیم، کہ اے اللہ توہ میں ان لوگوں میں سے بنا دے جو تیری وعید اور دھمکی سے ڈرتے ہوں اور تیرے وعدہ کی امیدلگائے ہوئے ہوں، اے کریم مہربان آمین برحمتک یا ارحم الراحمین ؛ )
دھمکی سے ڈرتا ہو اس طرح کی تذکیر ونصیحت اور یاد دہانی سے ہر وہ شخص جس کے دل میں ادنے درجے کا بھی خوف خدا ہے وہ کفر وعناد سے باز آجائے گا اور امید ہے کہ ہدایت اور حق قبول کرلے نصیحت وفہمائش بہرکیف نفع سے خالی نہیں اور انجام خدا کے حوالہ کردیجئے بندہ کے لیے ہر معاملہ میں تفویض الی اللہ ہی چاہئے اسی میں کامیابی اور اللہ کی مدد اور رضا و خوشنودی ہے ،
(آیت) ” لیس علیک ھدھم ولکن اللہ یھدی من یشآء “۔
ھل من مزید کی تفسیر :
ھل من مزید : کی تفسیر میں امام بخاری (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم کا ایندھن جہنم میں ڈالا جارہا ہوگا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو بھر گئی ؟ تو جواب دے گی نہیں، ہے کچھ اور ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم (بےچوں وچگوں) اس پر رکھ دے گا تو کہے گی قط قط، بس بس۔
امام احمد بن حنبل (رح) نے بھی اسی مضمون کو قدرے تفصیل کے ساتھ بروایت انس ؓ بیان کیا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جنت میں کشادگی ہی باقی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے جنت کی اس زائد جگہ کو پر فرمائے گا۔
امام مسلم (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت نقل کی بیان فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت و جہنم کا باہم مناظرہ اور حجت بازی ہوگی جہنم کہے گی کہ دیکھو میرے میں کس قدر بڑے بڑے مغرور و سرکش اور جبارلوگ ہیں مثلا فرعون، ہامان وشداد وغیرہ وغیرہ اس وجہ سے میری حیثیت بہت اونچی ہے کیونکہ اونچے طبقے کہ لوگ میرے اندر ہیں، جنت بولے گی ٹھیک ہے مجھے کیا ہوا اگر مجھ میں ضعفاء و مساکین اور درویش قسم کے لوگ ہیں اس پر ارشاد خدا وندی ہوگا جنت کیلئے اے جنت تو میری رحمت ہے تیرے ذریعہ سے میں بندوں میں سے جس پر چاہتا ہوں رحم کرتا ہوں اور اسے جہنم تو تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعہ میں جس کو عذاب دینا چاہتا ہوں عذاب دیتا ہوں اور تم میں سے ہر ایک کو پر کیا جانا میرے ذمہ ہے۔
(آیت) ” فاصبر علی ما یقولون “۔ الخ، کی تعلیم سے یہ بات واضح کی جارہی ہے کہ منکرین ومکذبین کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ اور ذریعہ یہی ہے کہ انکی طرف سے پیش آمدہ اذیتوں پر صبر کیا جائے اور اپنامعاملہ خدا کے حوالہ کرتے ہوئے اس کی یاد اور تسبیح وتحمید میں مصروف ہوجانا چاہئے یہ تفویض اور انابت الی اللہ ہی دشمنوں پر غالب وکامیاب بنائے گی،
(آیت) ” وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب “۔ میں ان دواوقات کی تخصیص یا تو اس امر پر مبنی ہے کہ اسراء ومعراج سے قبل دو نمازیں فجر اور عصر فرض تھیں اور تہجد (قیام لیل) کو بھی آنحضرت ﷺ اور امت پر واجب کیا گیا تھا جو ایک سال تک رہا جس کے بعد قیام لیل کا وجوب امت کے حق میں منسوخ کردیا گیا اور جب معراج میں پنجگانہ نمازیں فرض ہوگئیں تو اکثر مفسرین کی رائے کے مطابق ہر ایک سے اس کا وجوب منسوخ کردیا گیا، گو کہ آنحضرت ﷺ اس پر پابندی ایسی ہی کرتے تھے جیسے کہ امر واجب کی کی جائے حتی کہ کسی رات اگر ضعف یا بیماری کے باعث قیام لیل نہ فرما سکے تو اس کی قضا کے طور پر طلوع شمس اور زوال کے درمیانی وقت میں بارہ (12) رکعت ادا فرما لیتے، (کما ورد فی الاحادیث الصحاح)
امام احمد بن حنبل (رح) حضرت جریر ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک روز ہم نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے (رات کا وقت تھا) آپ ﷺ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا (اے لوگو ! ) بیشک تم اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور پھر تم اپنے رب کا دیدار اسی طرح کرو گے جیسے اس وقت تم چودھویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو جس میں تمہیں کسی قسم کی وقت ورکاوٹ نہیں (اور فرمایا) اگر تم سے ہوسکے تو تم ہرگز عاجز نہ ہونا اس نماز سے جو قبل طلوع الشمس ہے اور اس نماز سے جو غروب سے پہلے ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب “۔
(آیت) ” وادبار السجود “۔ کی تفسیر میں مجاہد (رح) ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ یہ نمازوں کے بعد والی تسبیحات ہیں جیسا کہ اس حدیث مشہور میں وارد ہوا جس میں آپ ﷺ نے فقراء مہاجرین کو ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد للہ اور 33 مرتبہ اللہ اکبر۔ اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر “۔ پڑھنے کی ہدایت فرمائی تھی اس کی دوسری تفسیر جو بروایت عکرمہ ؓ اور شعبی ؓ منقول ہے ” دو رکعتیں بعد مغرب ہیں “۔
امام احمد بن حنبل (رح) حضرت علی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہر فرض کے بعد علاوہ فجر اور عصر دو رکعت ادا فرمایا کرتے تھے ،
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے یہاں رہا تاکہ حضور ﷺ کا معمول رات کی عبادت کا دیکھ سکوں تو آپ ﷺ جب فجر کی نماز کے لئے جانے لگے تو آپ نے دو رکعتیں ہلکی ادا کیں اور فرمایا اے ابن عباس ؓ رکعتین قبل الفجر ادبار النجوم، ورکعتین بعد المغرب ادبار السجود، یعنی ستاروں کے پیٹھ پھیرنے پر تسبیح کا حکم آیۃ (آیت) ” وادبار النجوم “۔ میں فجر سے پہلے کی دو سنتیں ہیں اور تسبیح کا حکم (آیت) ” ادبار السجود “۔ اس آیت ق میں وہ مغرب کے بعد والی دو سنتیں ہیں۔
تم بحمد اللہ تفسیر سورة ق :