Ayahs 54:43–55تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے اور اب ان قریش مکہ کو مخاطب بناتے ہوئے کیا تمہارے میں سے کفار ومنکر کچھ بہتر ہیں ان لوگوں سے کہ اس بناء پر عذاب سے بچے رہیں گے یا تمہارے واسطے کوئی پروانہ براءت ہے صحیفوں میں لکھا ہوا یا نازل کیا ہو ظاہر ہے کہ ایسی کوئی چیز نہیں تو پھر کیا یہ کہتے ہیں ہم ایک ایسی مضبوط جمیعت ہیں جو بدلہ لینے والے ہوں ہر اس طاقت سے جو ہم پر کسی طرح کی کوئی گرفت کرے نہیں نہیں ہرگز ایسا ممکن نہیں بلکہ عنقریب یہ سارا مجمع اور کافروں کا لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کا بھاگیں گے اور اس وقت انکو اپنی طاقت اور جمعیت کی حقیقت نظر آجائے گی چناچہ بدر واحزاب میں یہ پیشن گوئی پوری ہوئی یہ عذاب وذلت ہی تو ہے جو ان کے واسطے مقدر ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ قیامت ان سے وعدہ کا وقت ہے جو طے ہوچکا ہے اور بلاشبہ قیامت تو بہت بڑی آفت اور بڑی ہی تلخ چیز ہے اس کے عذاب وشدت کا تو کوئی گھونٹ بھی انسنان سے نہیں پیا جاسکے گا بیشک مجرمین ومنکرین بڑی ہی گمراہی اور حماقت میں پڑے ہوئے ہیں جس دن کو گھسیٹے جائیں گے آگ میں اپنے چہروں کے بل اور کہا جاتا ہوگا چکھ لو جہنم کی آگ کا مزا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ ہم کس قدر گمراہی میں مبتلا تھے اور کیسی حماقت اور دیوانہ پن ہم نے دنیا کی زندگی میں اختیار کیا بیشک کائنات میں وہی ہے جس کو ہم نے پہلے سے مقرر کردہ انداز کے مطابق پیدا کیا ہے۔
حاشیہ (حضرات متکلمین اور ائمہ اہلسنت اس آیت سے مسئلہ تقدیر کے ثبوت پر استدلال کرتے ہیں کہ ہر امر اللہ کی تقدیر سے ہے اور ہر چیز کا علم اللہ کو اس کے وجود سے قبل سے تابعین (رح) کے دور میں کچھ لوگ تقدیر خداوندی کا جب انکار کرنے لگے تو حضرات صحابہ ؓ اس آیت اور اس قسم کی دیگر آیات سے فرقہ قدریہ اور منکرین قدر کا رد کیا کرتے تھے عطاء بن ابی رباح (رح) سے منقول ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس پہنچا جبکہ وہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے اور کپڑے نیچے کی طرف سے بھیگے ہوئے تھے میں نے عرض کی اے ابن عباس ؓ مسئلہ تقدیر میں لوگ کچھ حجت بازی اور قیل وقال کرنے لگے ہیں فرمایا خدا کی قسم یہ آیت ”۔ ذوقوا مس سقر انا کل شیء خلقناہ بقدر “۔ سوائے ان لوگوں کے اور کسی کے بارے میں نہیں نازل ہوئی اور اسکے بعد فرمایا اولئک شرار الخلق “۔ یہ اللہ کی مخلوق ہیں بدترین مخلوق ہے۔
اور عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں کہ جو کہتے ہیں تقدیر الہی کوئی چیز نہیں اور قضاء و قدر کا انکار کرتے ہیں۔
مسئلہ تقدیر دین اسلام کے عقائد قطعیہ میں سے ایک بنیادی عقیدہ ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے اس میں تردد یا انکار گمراہی وکفر ہے اور بحث و مباحثہ اللہ اور اسکے رسول کی ناراضگی کو دعوت دینا ناراضگی کو دعوت دنیا ہے ایک دفعہ کچھ لوگ اس مسئلہ میں بحث کررہے تھے تو آنحضرت ﷺ ان پر سخت ناراض ہوئے اور انکو تنبیہ فرمائی، اصل مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی۔ 12)
ہدایت ہو یا گمراہی، سعادت ہو یا شقاوت نیکی ہو یا بدی غربت ہو یا امیری تندرستی ہو یابیماری ہر چیز اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور تقدیر کے مطابق بنائی اسی میں دنیا کی عمر اور اس کے فناء کا وقت بھی ہے جو قیامت کی صورت میں ظاہر ہوگا اور ہمارا کام تو بس ایک دم کی بات ہے جیسے نگاہ کا جھپکنا اور آخر قریش مکہ کے پاس تم سے زیادہ سازوسامان اور قوت واقتدار تھا تو ہے کیا کوئی شخص تم میں سے عبرت حاصل کرنے والا اور ان لوگوں کو کبھی بھی اس چیز سے غافل نہ ہونا چاہئے کہ جو بھی کچھ انہوں نے کیا وہ صحیفوں میں لکھا ہوا محفوظ ہے اور چھوٹی اور بڑی چیز لکھی جاچکی ہے تو ایمان وکفر اور نیکی وبدی ہر چیز اور ہر عمل لکھ لیا گیا اور یہی خدا کا قانون ہے جس کے مطابق روز آخرت میں مجرمین کو سزا بھگتنی پڑے گی لیکن انکے بالمقابل بیشک اللہ سے ڈرنے والے ایمان والے باغوں اور نہروں میں ہوں گے کہ انکے رہنے کے واسطے باغ ومحل ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ بڑی ہی سچائی کے ٹھکانے میں عزت واکرام کے ساتھ بیٹھنے والے ہوں گے اپنے اس بادشاہ کے نزدیک جو ہر چیز پر بڑی ہی قدرت اور قابو رکھنے والا ہے۔
اور ظاہر ہے کہ اس عزت وشرف کا یہ مقام شہنشاہ رب العالمین کے نزدیک ملنا یہ اس سچائی کا بدلہ ہے جو اہل ایمان نے اپنے صدق قلب سے ایمان قبول کرکے پھر سچائی کے ساتھ اپنے وعدوں پر قائم رہنے کی صورت میں اختیار کی اور یقیناً یہ مجلس عزوشرف کی وہ سچی مجلس ہے جس سے بڑھ کر کوئی صداقت کی منزل ومحفل نہیں ہوسکتی اور ایسے معزز مکان ومجلس کے ساتھ خالق کونین کا قرب مزید و برتری کا باعث ہوگا،۔
میرے استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) نے اس آیت پر فائدہ تحریر فرماتے ہوئے جو کلمات دعائیہ فرمائے اسی دعا پر میں اس سورت کی تفسیر ختم کررہا ہوں اللہم انک ملیک مقتدر ما تشاء من امر یکون فاسعدنی فی الدارین وکن لی ولا تکن علی واتنی فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار امین برحمتک یا ارحم الراحمن تم بحمد اللہ تفسیر سورة القمر۔