54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 54:9–42

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندوں کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الہا) میں (انکے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلا لے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دئیے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین میں چشمے جاری کر دئیے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو (اس طرح) اکھیڑے ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خودپسند ہے

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(اے صالح ! ) ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو آگاہ کردو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کردی گئی ہے ہر (باری والے کو اپنی) باری پر آنا چاہیے

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلا یا تو اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

(دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر (عذاب کے لئے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے انکو پچھلی رات ہی سے بچا لیا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنے فضل سے شکر کرنے والے کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور ان سے ان کے مہمانوں کو لینا چاہا تو ہم نے انکی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے پاس بھی ڈر سنانے والے آئے

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت وتبلیغ سے اعراض وبے رخی بلکہ مقابلہ کرتے رہے یہاں تک کہ پھر جھوٹا کہا ہمارے بندہ نوح کو اور کہنے لگے کہ یہ مجنون ہیں اور انکو جھڑکا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کرڈالیں گے۔ حاشیہ (بعض روایات میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب اپنی قوم کو نصیحت فرماتے تو قوم کے بدبخت ان کو ڈانٹتے کچھ بدنصیب گالیاں دیتے اور بعض شقی ان کے گلے میں پھندا ڈال کر گھسیٹتے (تفسیر ابن کثیر ) جس پر انتہائی آزودگی اور مایوسی کے عالم میں نوح نے اپنے رب کو پکارا اے پروردگار میں تو عاجز وبے بس ہوچکا ہوں بس اب تو ہی بدلہ دے ظاہر ہے کہ صدیاں جب نصیحت میں یقیناً انسان مایوس ہی ہوجاتا ہے ادھر وحی خداوندی نے بھی کچھ اس کا اظہار کردیا تھا کہ اے نوح (علیہ السلام) تمہاری قوم میں سے جن کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے بس اور کوئی ایمان نہیں لائے گا، اس عالم میں یقیناً پیغمبر خدا کی دعا ضرور جلداز جلد قبول ہوتی ہے اور خدا کی مدد مجر میں کی ہلاکت وسرکوبی کی صورت میں ظاہرہوتی ہے تو حق تعالیٰ فرماتے ہیں تو ہم نے کھول دیئے آسمان کے دروازے ٹوٹ کر مسلسل برسنے والے پانی کے ساتھ جو طوفان کی طرف آسمان سے برس رہا تھا اور پھاڑ دیا ہم نے زمین کو چشموں کی صورت میں جس کے بعد سب پانی مل گیا اوپر سے بادلوں کا برسنے والا اور نیچے سے زمین کے چشموں سے ابلنے والا تو آسمان و زمین کا پانی باہم مل کر سطح زمین اور خلاء میں سمندر کی شکل بن گیا اس فیصلہ کے مطابق جو طے کردیا گیا اور اٹھالیا ہم نے نوح کو اس طوفان سے بچانے کیلئے ایک کشتی پر جو تختوں اور کیلوں والی تھی جس کو نوح (علیہ السلام) نے بامر خداوندی پہلے ہی تیار کرلیا تھا جو چل رہی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت ونگرانی میں یہ سب کچھ بدلہ لینے کے لئے کیا گیا اس کے واسطے جس کی قدر نہ پہچانی گئی اور نعمت ہدایت اور وعظ و ارشاد کی ناقدری کرتے ہوئے اس کو ٹھکرایا گیا اور ہم نے اس واقعہ کو ہمیشہ کے واسطے چھوڑ دیا ہے عبرت ونشانی بنا کر تاکہ اللہ کے پیغمبروں کی نافرمانی اور انکار کرنے والے اس سے عبرت حاصل کرسکیں تو ہے کیا کوئی شخص غور وفکر کرکے نصیحت حاصل کرنے والا اور بیشک ہم نے آسان کریدا ہے قرآن نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے تو کیا ہے کوئی شخص عبرت حاصل کرنے والا، یقیناً یہ ایسے واقعات ہیں ہر صاحب عقل کو ان میں غور وفکر کرنا چاہئے اور ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے تو کیا قریش مکہ میں سے ہیں کچھ لوگ ایسی صلاحیت وسعادت والے کہ سوچیں اور اللہ کی نافرمانی اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب سے باز آئیں۔ (واقعہ کی تفصیلات پہلے گزر چکی ) قصہ قوم عاد : جھٹلایا تھا قوم عاد نے بھی اللہ کے رسول کو تو پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا کہ اس نافرمان قوم کی ہلاکت وتباہی کی عبرت ناک تاریخ قیامت تک نمونہ عبرت بنادی گئی بیشک ہم نے ان پر بھیجی ایک تیز وتند آندھی جو اکھاڑپھینکنے والی تھی، ایک نحوست کے دن میں جو اپنی نحوست کے دن میں جو اپنی نحوست اور آثار کے لحاظ سے ان پر ہمیشہ قائم رہنے والا ہوگیا یہ ایسا نحوست کا دن تھا کہ اس دن شروع ہونے والی آندھی مسلسل ساتھ راتیں اور آٹھ دن تک طوفانی تھپڑوں کی شکل میں چلتی رہی اور اس تباہی و بربادی کی نحوست اس قوم پر قیامت تک کے واسطے مستمر دودائم ہوگئی وہ ہوا لوگوں کو اکھاڑ کر پھینک رہی تھی اس طرح کہ گویا وہ جڑیں ہیں کھجور کی جو اکھڑی پڑی ہیں کیونکہ وہ لوگ نہایت تنومند و توانا تھے زمین پر پچھڑے ہوئے ایسے معلوم ہوتے تھے کہ کھجور کے درخت ہیں جن کو اکھاڑ کر زمین پر پھنک دیا گیا ہے تو پھر بتاؤ اے لوگو ! کیسا رہا میرا عذاب اور میرا ڈرنا اور کھڑکھڑانا اور بیشک آسان کردیا ہے ہم نے قرآن کو عبرت ونصیحت حاصل کرنے کے لئے تو ہے کیا کوئی شخص قریش مکہ اور منکرین وکذبین میں سے سوچنے والا کہ غور وفکر کرکے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ اگر میں نے بھی اللہ کے پیغمبر کو جھٹلایا اور ان پر ایمان نہ لایا تو میرا بھی ایسا ہی انجام ہوسکتا ہے۔ قصہ قوم ثمود : جھٹلایا تھا قوم ثمود نے بھی عذاب خداوندی سے ڈرانے والے رسولوں کو یا ان نصیحتوں اور تنبیہات کو جو اللہ کی نافرمانی سے باز رکھنے کے لئے کی گئیں گو کہ ان کے رسول ایک ہی رسول حضرت صالح (علیہ السلام) تھے لیکن ایک رسول کا انکار درحقیقت خدا کے تمام رسولوں کا انکار اور جھٹلانا ہے پھر کہنے لگے جب اور کوئی بات یا دلیل انکار وتردید کی نہ مل سکی کیا ہم اپنے ہی میں سے ہم جیسے ایک بشر (آدمی) کی پیروی کریں ایسی صورت میں تو ہم بہت ہی بڑی غلطی اور حماقت میں پڑنے والے ہوں گے کیا انہی مارنے والا ہے تو دعوی کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اسکی وحی مجھ پر اترتی ہے بھلا اس میں کون سی خوبی اور خوصیت ہے کہ ہمارے میں سے اسی کو وحی اور نصیحت کے نازل کرنے کے واسطے منتخب کیا گیا ظاہر ہے کہ یہ احمقانہ باتیں ہیں یہ لوگ عقریب خود جان لیں گے کہ کون جھوٹابڑائی خور ہے یہ خود جھوٹے ہیں اور اپنے تکبر وعناد کی وجہ سے خدا کے پیغمبر پر ایمان لانے کو آمادہ نہیں ہورہے ہیں ہم بھیجتے ہیں ایک اونٹنی ان کے آزمانے کے واسطے جس کا خود ان لوگوں نے بطور نشانی مطالبہ کیا تھا سو انتظار کرو ان کا جو انجام بھی انکا مقدر ہے وہ نظروں کے سامنے آجائے گا اور تحمل کرتے رہو انکی بےہودگیوں پر اور انکو یہ بتا دو کہ پانی کی نوبت انکے درمیان تقسیم کی ہوئی ہے ہر نبوت پر حاضری ہوگی اسی کی جس کی نبوت ہے ایک دن حضرت صالح (علیہ السلام) کی ناقہ پانی پر جائے اور دوسرے دن اور جانور پانی پینے جائیں ان پر ان بدبختوں کو گرانی ہوئی کہ یہ ایک دن ناقہ صالح کے پانی کے لیے کیوں مخصوص ہے حسد اور عداوت سے مغلوب ہوگئے پھر آپکارا انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو جس پر اس نے تلوار کا ایک ہاتھ چلایا اور کاٹ ڈالا اونٹنی کے کونچوں کو۔ 1 حاشیہ (حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بدکار عورت تھی اس کے پاس مویشی بہت تھے اس نے اپنے ایک آشنا کو اکسایا وہ لپکا اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں 12۔ ) پھر بتاؤ اے مخاطبو ! کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا ہم نے بھیجی ان پر ایک چیخ۔ 2 حاشیہ (حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس کا ترجمہ چنگھاڑ فرمایا ہے جو ایسی ہولناک آواز کو کہا جاتا ہے جس سے کانوں کے پردے پھٹ جائیں اور دل شق ہوجائے 12) اور ہولناک آواز پھر وہ ہو کر رہ گئے روندی ہوئی کانٹوں کی باڑ کی مانند جو ہوا میں اڑ رہے ہیں اور بیشک آسان کردیا ہے ہم نے قرآن کو عبرت ونصیحت حاصل کرنے کے لیے تو ہے کیا کوئی غور وفکر کرنے والا۔ (تفصیلات گزرچکی ہیں ) قصہ قوم لوط (علیہ السلام) جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو اللہ کے رسول حضرت لوط (علیہ السلام) کو جنہوں نے خدا کی نافرمانی پر آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور جب کوئی اللہ کے ایک رسول کو جھٹلادے تو گویا اس نے اللہ کے تمام رسولوں کو جھٹلایا ان کی اس نافرمانی اور بدنصیبی پر بیشک ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی پتھر برسا نے والی جس نے ساری قوم پر علامت لگے ہوئے پتھروں کی بارش کی اور سب کو ہلاک کر ڈالا مگر لوط کے گھر کو اور انکے ان افراد خانہ کو جو اہل ایمان تھے، بچا لیا ہم نے انکو رات کے آخری حصہ میں جو سحر اور صبح صادق کے قریب ہوتا ہے محض۔ انعام و رحمت کرتے ہوئے اپنی طرف سے اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں ان لوگوں کو جو اللہ کے شکر گزار ہوں اور حق کو مانیں اور بیشک اللہ کے رسول ﷺ نے تو انکو ڈرایا تھا ہماری گرفت سے مگر وہ پھر حجت بازی کرنے لگے ڈرانے والوں سے اور انہوں نے بہت کچھ تدبیر کی ان کے مہمانوں کے لینے کے لئے جب کہ اللہ کے فرشتے مہمانوں کی صورت میں انکے پاس پہنچے قوم کو خبر ہوئی تو اپنے بےہودہ جذبات پورا کرنے کے واسطے ان پر مسلط ہونے کی کوشش کرنے لگے حضرت لوط (علیہ السلام) نے اگرچہ دروازہ بند کردیا تھا مگر پھر بھی یہ بدبخت دروازہ توڑنے لگے اور لوط (علیہ السلام) منع کرتے رہے جب کسی طرح باز نہ آئے تو جبرئیل (علیہ السلام) ظاہر ہوئے اور خدا کا عذاب ان پر مسلط ہوا جسکو ارشاد فرمایا پھر تو ہم نے ان کی آنکھیں پاٹ دیں اور چہروں سے ان کی آنکھوں کو مٹا کر گوشت کے ایک پارچہ کی طرح کر ڈالا اس طرح ان کے حق میں فیصلہ کردیا گیا، اچھا اب چکھو میرا عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ اور صبح ہی اول وقت ان پر ایک عذاب مسلط ہوا جو ان پر چمٹ جانے والا تھا جس سے کسی طرح بھی بچاؤ اور خلاصی کا امکان نہ تھا اور اس دوسرے عذاب پر (جو آسمان سے پتھروں کی بارش کی صورت میں تھا) بھی کہ دیا گیا پھر چکھ لو میرا عذاب اور میرا ڈرانا تو اس طرح یہ قوم ایک چھوٹے عذاب جو انکی آنکھوں کو مٹا دینے کی صورت میں تھا اور ہر ایک کے لئے انفرادا تھا اور اس کے بعد ایک عمومی اور اجتماعی بڑے عذاب یعنی پتھروں کی بارش سے تباہ کردی گئی اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو عبرت ونصیحت حاصل کرنے کے لیے تو ہے کیا کوئی شخص سوچنے والا کہ ان عبرتناک واقعات کو غور وفکر کی نظر سے دیکھ کر ایمان وہدایت اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اختیار کرلے تاکہ دین ودنیا کی فلاح وسعادت حاصل ہو۔ اور فرعون والوں کے پاس بھی ڈرانے والے پہنچے خداوند عالم کے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) اور ان کو عطا کئے ہوئے معجزات مگر جھٹلایا انہوں نے بھی ہماری تمام نشانیوں کو جس پر ہم نے انکو بھی پکڑا اپنی سخت گرفت میں اور ایسے عذاب میں کہ اس سے بچ کر نہ نکل سکے اور فرعون مع اپنے لشکر کے غرق کردیا گیا (تفصیلات گزر چکیں )