54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsسراج البیان

Ayahs 54:1–7

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

وہ گھڑی (قیامت) نزدیک آلگی اور چاند پھٹ گیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ کوئی نشانی دیکھیں تو منہ پھیر لیں اور کہیں کہ جادو ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں پر چلے اور ہر کام ایک وقت پر ٹھہرا ہوا ہے

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کے پاس خبروں میں سے اس قدر آچکا ہے جس میں کافی تنبیہ ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور یہ قرآن پوری عقل کی بات ہے ۔ پر (افسوس کہ) ڈر سنانے والوں کا ڈرانا کچھ فائدہ نہیں دیتا

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

سو تو ان سے منہ پھیر لے جس دن بلانے والا آن دیکھی شئے (حساب) کی طرف بلائیگا

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

نیچی نظریں کئے ہوئے قبروں سے نکلیں گے ۔ گویا وہ پر گندہ ٹڈیاں ہیں

سورة القمر اس سورت کا آغاز ایک عظیم الشان خراق عادت کے طور پر ہوتا ہے ۔ بات یہ تھی ۔ کہ کفار مکہ ایک طرف تو قیامت کے تخیل کا مضحکہ اڑاتے تھے اور دوسری طرف کسی حیران کن معجزہ کے طالب تھے ۔ جو ان کی نظروں میں خیر کی پیدا کردے اور ان کے حواس معطل کر کیرکھ دے ۔ جس کو وہ دیکھیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہ کرسکیں ۔ چناچہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ کہ ایک بھرے مجمع میں حضور ﷺ سے مطالبہ ہوا ۔ کہ یہ چاند جو نظر آرہا ہے ۔ اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں ۔ حضور ﷺ نے سنا ۔ انگلی سے اشارہ کیا ۔ تو چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ لوگوں میں ہل چل مچ گئی ۔ کچھ حیرت تھی کچھ نہ ماننے کی قید اس لئے اس عظیم الشان معجزہ کو دیکھ کر بھی وہ یہی کہہ سکے ۔ کہ یہ جادو ہے ۔ نظر بندی ہے ۔ اور سحر ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ ایک طرف تو وہ اس خرتی وحتیام کو دیکھیں اور اپنے مشاہدہ سے سارے فلسفہ یونان کو جھٹلا دیں ۔ اور دوسری طرف قیامت کے امکانات ان پر زیادہ روشن ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے ۔ کہ جس طرح یہ کرہ نور آن کی آن میں دو ٹکڑوں میں منقسم ہوگیا اور پھر جڑ گیا ۔ اسی طرح قیامت آئے گی اور یہ یوم بفضلہ بچھر جانے کے بعد پھر سدھر جائیگی ۔ یہی وجہ ہے ۔ وانشق القمر سے پہلے اقترب الساعۃ کو بیان فرمایا اور اس معجزہ کو قیامت کی نشانی قرار دیا ہے ۔ مگر بعض لوگوں نے اس باریک نکتہ کونہ سمجھا ۔ اور یہ کہا ۔ کہ قرب قیامت کا ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ یہ واقعہ قیامت کو ہوگا ۔ اس وقت چاند پھٹے گا اور اور ستارے گرینگے ۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ اس واقعہ کو قرآن نے آیت اور بہت بڑی نشانی قرار دیا ہے ۔ اور وہ لوگ جو اس کو نہیں مانتے ان کے متعلق کہا ہے ۔ کہ یہ لوگ خواہش کی پیروی میں مبتلا ہیں ۔ اگر اس کا تعلق قیامت سے ہوتا ۔ تو پھر نہ اس کو نشانی قرار دینے کی ضرورت تھی نہ سحر اور جادو کہنے کی ۔ اور نہ تکذیب کا کوئی موقع تھا ۔ اور نہ خواہشات کی پیروی کا ۔ کیونکہ جب چاند کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ۔ اور بساط ہی الٹ دیجائیگی اس وقت لوگوں زندہ رہنے اور غدر ومقدرت کرنے کا وقت ہی کہاں ملے گا وہ تو ایک گھڑی میں سارا کھیل ہی ختم ہوجائیگا ۔ ان حالات میں آنکھیں کھلیں گی ۔ اور سرکش اور متمروانعان دیکھے گا ۔ کہ جس چیز میں بھی جھٹلاتا تھا وہ میرے سامنے آج موجود ہے ۔ آیات کے انداز بیان سے ہی مفہوم اور ہترشیح ہے ۔ کہ یہ کوئی اہم واقعہ ہے ۔ جو گزر چکا ہے ۔ جو اس قابل تھا کہ یہ لوگ اس سے عبرت حاصل کرتے ۔ مگر انہوں نے اپنی روایتی بدبختی کی وجہ سے نہیں مانا ۔ صحیح اور واضح تر احادیث میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں ۔ رہے وہ اعتراضات جو عقل و حکمت کے نام سے پیش کئے جاتے ہیں ۔ تو اس کا صرف ایک جملہ میں یہ جواب ہے کہ اگر خدا پر ایمان ہے تو پھر کوئی چیز بھی ناممکن نہیں ۔
Ayah 54:8

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

بلانے کی طرف دوڑیں گے ۔ کافر کہیں گے یہ مشکل (ف 1) دن آیا

ناگوار دعوت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ ان بدبختان ازلی کے پاس سابقہ اقوام وملل کے حالات بیخ چکے ہیں ۔ اور انہیں معلوم ہے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ کا غصہ بھڑکتا ہے ۔ اور ان کو ایک غیر مانوس اور ناگوار چیز کی طرف پکاریگا ۔ اس وقت آنکھیں کھلیں گی ۔ اور مارے شرم کے جھک جائینگی ۔ اور اوپر کو نہیں اٹھیں گی ۔ اور سارا کبروغرور خاک میں مل جائیگا ۔ وہ قبروں سے مدی دل کی طرح نکلیں گے ۔ اور اس بلانے والے کی جانب دوڑیں گے ۔ اس وقت ان منکرین کو اس دن کی سختی کا احساس ہوگا ۔ اس دن یہ کہیں گے ۔ کہ آج کی کلفتیں اور شدائد ناقابل برداشت ہیں ۔ مگر اس احساس سے کیا فائدہ ؟ جب کہ دنیا میں عمر عزیز کے بہترین لمحات کو انہوں نے نافرمانی اور سرکشی میں صرف کیا ۔ جب کہ روح کی بالیدگی کو انہوں نے اپنے اعمال بد کی وجہ سے سخت نقصان پہنچایا ۔ جبکہ اللہ سے دوری اور بعد کو انہوں نے پسند کیا ۔ محض خواہشات نفس کی پیروی کی ۔ اور عقل و دانش کی باتوں کو ٹھکرایا ۔ ضرورت تو اس بات کی تھی ۔ کہ یہ لوگ اپنے معصوم بچپن کو اللہ کی خدمت میں صرف کرتے ۔ اور جوانی میں ولولوں اور حوصلوں کے ساتھ اس کے دین کی اشاعت پر کمر بستہ ہوجائے ۔ اور پھر بڑھاپے میں اپنے تجربات کی روشنی نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہوتے ۔ مگر انہوں نے بچپن کو کھیل کود میں گنوادیا ۔ جوانی میں ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کیا ۔ اور بڑھاپے میں ان گناہوں کی یاد تازہ کرتے رہے اور زیادہ ہٹ دھرمی کے ساتھ حق وصداقت کی مخالفت کی ۔ ان حالات میں زندگی کی اس منزل میں ان کے لئے تسکین اور تسلی کا کیا سامان مہیا ہوسکتا ہے ۔ حل لغات :۔ سحر شتمر ۔ دائمی جادو ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ لوگ حضور ﷺ کی زندگی کے ایک ایک لمحہ کو اپنے لئے حیران کن سمجھتے تھے ۔ ھوۃ نبو ۔ وائٹ ۔ جر سے مشتق ہے ۔ نکر ۔ ناگواری ۔ اوجری ۔ والطعین ۔ دورتے ہوئے اور لپکتے ہوئے ۔
Ayahs 54:9–10

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح نے جھٹلایا پھر ہمارے بندہ کو جھوٹا کہا ۔ اور دیونہ بتایا ۔ اور اسے دھمکی دی گئی

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

سو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں عاجز ہوں تو ہی ان سے بدلہ لے

حضرت نوح کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ کہ ان کے ساتھ کیا سلوک روارکھا گیا ۔ انہوں نے جب اللہ کے پیغام کو قوم کے سامنے پیش کیا ۔ تو قوم نے کہا ۔ اور اللہ کے اس پاکباز بندے کے متعلق کس نوع کے خیالات کا اظہار کیا ۔
Ayahs 54:11–16

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پھر ہم نے موسلادھار پانی کے ساتھ آسمان کے (ف 1) دروازے کھول دیئے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین سے چشمے جاری کردیئے ۔ پھر پانی ایک کام پر ہو مقدر ہوا تھا مل گیا

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی ، اس شخص کا انتقام لیا گیا تھا ۔ جس کا انکار کیا گیا تھا

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے عقوبت کو ایک نشان رہنے دیا پس کیا کوئی نصیحت پکڑ نے والا ہے

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پس میرا عذاب اور میر ڈرانا کیسا ہوا ؟

ف 1: اور پھر بالآخر کس طرح اللہ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا ۔ پانی برسا زمین سے چشمے پھوٹ گئے ۔ اور دیکھتے دیکھتے سطح سمند سے بدل گئی ، نوح ایک مختصر جماعت کے ساتھ کشتی میں سوارہوا ۔ اور قوم چادر آب کا کفن پن کر سو گئی ۔ یہ کتنا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے ۔ مگر ظالم انسان نہ سمجھا ۔ اور پھر سرکش ہوگیا ۔
Ayahs 54:17–30

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے کے لئے قرآن کو آسان کردیا ہے ۔ پس کوئی نصیحت (ف 2) پکڑنے والا ہے

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

علو نے جھٹلایا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک منحوس دن جس کی نحوست کس طرح نہ ٹلی سنانے کی آندھی بھیجی

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ آدمیوں کو اس طرح اکھاڑتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

تو میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے کے لئے قرآن کو آسان کردیا ہے سو کوئی نصیحت پکڑنے والا ہے

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

پھر کہا کیا ہم ایک آدمی کے جو ہمیں سے ہے تابع ہوجائیں ؟ اس صورت میں تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں ہوئے

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہمارے درمیان میں صرف اسی پر ذکر اترا ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ وہ جھوٹا بڑائی مارنے والا ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

ان کو عنقریب (مرے ہی) معلوم ہوجائیگا کہ جھوٹا شیخی باز کون تھا

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجتے ہیں ۔ پس تو انہیں دیکھنا رہ اور صبر کر

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور انہیں خبر دے کہ پانی ان میں بٹا ہوا ہے ۔ ہر کوئی باری پر پہنچے گا

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے رفیق کو پکارا ۔ پھر اس نے ہاتھ چلایا اور کونچیں کاٹیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟

قرآن آسان ہے 2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس کو سمجھنے کے لئے چند فنون سے کافی واقفیت شرط ہے ۔ جو اس ضمن میں ممدومعاون ہوسکے ۔ حل لغات :۔ عیونا ۔ جمع عین ۔ بمعنے چشمے یا عیننا ۔ یہ انداز تعبیر ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ہماری ہدایات کے مطابق یا ہماری نگرانی میں نحس ۔ نامبارک ۔ بدبخت ۔
Ayahs 54:31–36

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے ۔ جیسے کانٹوں کی روندی ہوئی باڑ

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے کے لئے قرآن کو آسان کردیا ہے ۔ سو کوئی نصیحت پکڑنے والا ہے ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

قوم لوط نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی ۔ مگر لوط کے گھر والے کہ ان کو سحر کے وقت نجات دی

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

یہ نجات ہماری طرف سے مہربانی تھی ۔ ہم اس کو جو شکر یوں جزا دیتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور بولا نہیں ہماری پکڑ سے ڈرا چکا تھا ۔ پس جھگڑے ساتھ ڈرانیوالونکے

نبوت کا تصور 1: حضرت صالح کی قوم ثمود کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ جب اللہ کے یہ پاکباز بندے ان میں آئے اور انہوں نے اللہ کی توحید کو بیان کیا ۔ اور تزکیہ نفس کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ تو ان لوگوں کی رگ کبروغرور پھڑک اٹھی ۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنوں میں سے ایک آدمی کو پیغمبرمان لیں ۔ اور یہ تسلیم کرلیں ۔ کہ ایک شخص جو بالکل ہماری کھاتا پیتا اور اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ وہ نبی ہے ۔ گویا ان کے نزدیک نبوت کا تصور یہ تھا کہ وہ فوق البشر خوصیات اپنے اندر رکھتا ہو ۔ اور جو کچھ ہو ۔ کم از کم انسان نہ ہو ان کو اصل میں دکھ اس بات کا ہوتا تھا ۔ کہ آخر اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب حضرت صالح بنی پر کیوں پڑی ۔ جبکہ قوم میں اور بھی معززین موجود تھے ۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے ۔ کہ ان کے نزدیک حضرت صالح سرے سے شرافت و عظمت کے ان معیاروں پر پورے نہیں اترتے تھے ۔ جن کو وہ عزت ووجاہت کے لئے ضروری قرار دیتے تھے ۔ وہ دیکھتے تھے ۔ کہ ہمارے پاس مال و دولت کے خزائن ہیں ۔ اور صالح ان سے محروم ہے ۔ ہم کو زندگی کی تمام آسائشیں حاصل ہویں ۔ اور صالح کو میسر نہیں ۔ ہم اپنی قوم میں رسوم کے پابند ہیں ۔ اور یہ اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس صورت حالات میں یہ بات ان کے لئے ناقابل فہم تھی ۔ کہ ان کو نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے کیوں منتخب کرلیا گیا ۔ وہ نہیں جانتے تھے ۔ کہ نبوت اللہ کا دین ہے اس کی بخشش وموہیت ہے وہ جس کو چاہے ۔ اس خدمت کے لئے چن لے ۔ اور جس سے خوش ہو ۔ اس کو نوازدے ۔ وہ نبوت کے لئے خدمات اور مال و دولت کی فراوانی کو نہیں دیکھتا ۔ وہ تو یہ دیکھتا ہے ۔ کہ کون زیادہ کامیابی کے ساتھ اس بارگراں کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتا ہے ۔ اور کس کے دماغ میں حق وصداقت کی تابش ہے ۔ اور کون دل اس ولائت عزیز کو حفاظت اور دیانت کے ساتھ سنبھال سکے گا ۔ اس کا معیار یہ نہیں ہے کہ قوم میں کون وجیہہ اور معزز ہے ۔ بلکہ اس کی نظر استعداد اور صلاحیت پر ہوتی ہے ۔ بہرکیف ان لوگوں نے حضرت صالح کی تکذیب کی ۔ کہ معاذ اللہ کہ یہ جھوٹا اور ہرگز نبوت کا استحقاق نہیں رکھتا ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ دیکھ لیں گے کون جھوٹ بولتا اور ارتراتا ہے ۔ ہم آزمائش کے لئے ایک اونٹنی صالح کو مرحمت ٹھہراتے ہیں ۔ باقی صفحہ اگر ان لوگوں نے اس کو تکلیف نہ دی ۔ اور پانی سے سیر ہونے دیا ۔ تو بہتر ورنہ ان پر عذاب آئے گا ۔ آپ منتظر رہیں ۔ چناچہ ان کے ایک رفیق نے ازراہ سرکشی اس کو ذبح کرڈالا ۔ تو عذاب نے ان کو آلیا ۔ اور ان کو ان کے غرور وکبر سمیت نابود کرڈالا ۔
Ayahs 54:37–39

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور اسے پھسلا کر اس کے مہمان اڑانے چاہے تو ہم ان کی آنکھیں میٹ دیں پس میرے عذاب کا اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور صیح کو سویرے ہی ان کو ٹھہرے ہوئے عذاب نے آپکڑا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو

خوبصورت مہمان حضرت لوط نے سدومیوں کو سمجھایا ۔ کہ تمہاری یہ بدفعالیاں تمہارے حق میں اچھی نہیں ۔ یہ بربادی اور تباہی فاہش ہیں ۔ جب تم فطرت کے خلاف جنگ کروگے ۔ تو ابتداً فطرت تمہارے لئے سامان ہلاکت پیدا کردے گی ۔ اور تم سے سخت ترین انتقام لے گی ۔ تم اس فعل شنیع سے باز آجائے ۔ اور پاکبازی کی زندگی بسر کرو ۔ مگر سدومیوں کے دل مسخ ہوچکے تھے ۔ ان پر شیطان پورا قبضہ کرچکا تھا ۔ انہوں نے نہ صرف انکار کردیا ۔ بلکہ خیائت نفس کا بدترین مظاہر کیا ۔ چنانچہ انہوں نے جب سن پایا ۔ کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس نہایت خوبصورت مہمان آئے ہیں ۔ تو آتے ہی ان کے مکان کا محاصرہ کرلیا ۔ اور مطالبہ کیا کہ ان کو ہمارے سپرد کردیا جائے ۔ حضرت لوط نے بہتیرا سمجھایا کہ کم بختو ۔ یہ میرے مہمان ہیں ۔ ان کی توہین کرکے مجھے رسوا نہ کرو ۔ اللہ کے عذاب سے ڈرو ۔ اور پاکبازی اختیار کرو ۔ لیکن انہوں نے ایک نہ سنی ۔ اور برابر خواہشات بد کا اظہار کرتے رہے ۔ وہ ہجوم کرکے آئے ۔ اور آخر ان خوبصورت مہمانوں نے جو درحقیقت اللہ کے فرشتے تھے ۔ حضرت لوط کو تسلی دی ۔ اور سدومیوں کو بصارت سے محروم کردیا ۔ اور اس کے بعد ان کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ اس وقت ان سے کہا گیا ۔ کہ یہ میرا عذاب ہے ۔ اس سے تم کو ڈرایا جاتا تھا ۔ اب اس کو چارہ ناچار گوارا کرو ۔ حل لغات :۔ فعقر ۔ کو نچے کاٹ ڈالنا المختظر ۔ حطبرۃ سے ہے ۔ جس کے معنے باڑ کے ہیں ۔ یعنی باڑ لگانے والا حاصبا ۔ پتھروں کی بارش ۔ وہ سخت ہواخوفناک اور سنگریز سے اڑادے ۔ اور برف اور راہ لے برسانے والے ابر کو بھی خاصیب کہتے ہیں ۔
Ayah 54:40

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے کے لئے قرآن (ف 1) کو آسان کردیا ہے ۔ پھر کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے ؟

ف 1: تفسیر قرآن کا مژدہ جو ہر واقعہ کے بعد سنایا جاتا ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ قرآن یہ بتانا چاہتا ہے ۔ کہ سمجھانے کے لئے ہم انداز بیان میں کس درجہ تنوع ملحوظ رکھتے ہیں ۔ اور کیونکر حقائق کو مختلف اسالیب میں ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ اصل میں بطور ٹپ کے بند کے ہے ۔ غرض یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت مسلمان اس نکتہ کو سامنے رکھے ۔ کہ یہ کتاب عزیز اپنے انداز فکر وعمل کی کوئی دشواری نہیں رکھتی ۔ اس کو سمجھنا آسان ہے ۔ اور اس پر عمل پیرا ہونا آسان تھا