54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 54:1–22

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت نزدیک آپہنچی اور چان شق ہوگیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر یہ کوئی نشان (معجزہ) دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر بات کا وقت مقرر ہے

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور بیشک ان کو (سابقین کے) ایسے حالات پہنچ چکے ہیں کہ ان میں عبرت ہے (اور) اعلیٰ درجہ کی دانشمندی

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

پھر ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو آپ ان کی کچھ پرواہ نہ کیجئے۔ جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوشگوار چیز کی طرف بلائے گا

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو اپنی آنکھیں نیچی کیے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

بلانے والے کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہوں گے۔ کافر کہتے ہیں ہوں گے کہ یہ دن بڑا سخت ہے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) نے تکذیب کی پھر ہمارے بندہ خاص (نوح علیہ السلام) کو جھٹلایا اور کہا یہ دیوانہ ہے اور انہیں دھمکی دی

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں کمزور ہوں سو آپ (ان سے) انتقام لیں

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پس ہم نے کثرت سے برسنے والے پانی سے آسمان کے دھانے کھول دیئے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین سے چشمے جاری کردیئے تو پانی ایک کام کے لئے جو تجویز ہوچکا تھا جمع ہوگیا

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے ان (نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں) کو اس (کشتی) پر جو تختوں اور میخوں سے بنی تھی سوار کردیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری نگرانی میں رواں تھی یہ سب اس شخص کا انتقام لینے کے لئے کیا گیا جس کو کافر مانتے نہ تھے

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس (واقعہ) کو عبرت بنا دیا تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی جو نصیحت حاصل کرے ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

بیشک ہم ن یان پر ایک تیز ہوا بھیجی ایک دوامی نحوست کے دن میں

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

لوگوں کو اس طرح اکھاڑ اکھاڑ پھینکتی تھی گویا کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرنا کیسا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے

آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قیامت قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ واقعہ شق القمر۔ روایات قریب پہنچ چکی ہے اور خود آپ ﷺ کی بعثت اس کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ، نیز دوسری بڑی نشانی جو آپ ﷺ نے بتائی وہ چاند کا پھٹ جانا اور شق ہونا ہے سو وہ بھی واقع ہوگیا۔ روایات میں ہے کہ آپ سے اہل مکہ نے یہود مدینہ کے کہنے پر ایسے معجزے کی طلب کی جو آسمان پر اپنااثر ظاہر کرے کہ یہود کے مطابق جادو کا اثر آسمان پر ممکن نہیں تھا چناچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاندنی رات ہے آپ چاند کو دوٹکڑوں میں کرکے دکھادیجئے اس گھڑی آپ منی میں تشریف فرما تھے اور چاند کوہ حراپرچمک رہا تھا آپ نے انگلی مبارک سے اشارہ فرمایا تو وہ دو ٹکڑے ہوکرحرا کے دونوں طرف ایک ایک ٹکڑا نظرآنے لگا جبکہ کوہ حرا درمیان میں سراٹھائے کھڑا تھا آپ نے سب سے فرمایا دیکھو جب سب کی تسلی ہوچکی تو چاند پھر آپس میں مل گیا اس پر انہوں نے کہایہ خیر ہماری نظر پہ جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے اس کی تصدیق لوگوں سے کی جانی چاہیے جو باہر اور دور دراز مکہ سے آتے ہیں اس کا انتظار کریں گے جو بھی باہر سے آیا اس نے بھی تصدیق کی حتی کہ ہندوستان کی تاریخوں سے ملتا ہے کہ مالا بار کے مہاراجہ نے بھی دیکھا اور اپنے روزنامچے میں نوٹ کروایا پھر جب اسلام کی خبر پہنچی تو مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس پر جس قدراعتراض کیے گئے وہ سب محض عقلی ہیں اور معجزہ تو ہوتاہی عقل کی رسائی سے بالاتر اور خرق عادت ہے نیز عہد حاضرہ کی تحقیق میں چاند کی جو تصاویر آئی ہیں ان میں بھی پھٹ کر جڑنے سے درمیان میں خط بناوہ واضح ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔ اس کے بعد بھی جو نہ مانیں تو یہ بدبخت ایسے ہی ہیں کہ جب کوئی معجزہ دیکھیں کہہ دیتے ہیں کہ یہ جادو کا کام ہے اور ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے نیز ان کا انکار کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کے غلام ہیں اور ان کی پیروی میں لگے ہیں لیکن کب تک ہر کام ایک وقت پر واضح ہوجاتا ہے آخر ایک روز حق و باطل واضح ہو کر رہے گا انہیں پچھلی قوموں کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے تھا ، جس سے واقعی ڈر لگتا ہے اگر کچھ بھی عقل سے کام لیتے تو ان کے لیے یہی نصیحت کافی تھی مگر ان بدبختوں پر کوئی اثر نہیں تو آپ ﷺ بھی ان کی پرواہ مت کیجئے کہ آپ کے بلانے پہ نہیں آرہے اور پھر جب بلانے والا میدان محشر کی طرف بلائے گا اور ایک مشکل مقام کی طرف پکارے گا تو مارے خوف کے آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے ٹڈی دل کی طرح نکل پڑیں گے اور پکارنے والے کی طرف بھاگے ہوئے آئیں گے کسی کو انکار کی مجال نہ ہوگی بلکہ خود کافر بھی اس وقت تو قیامت کا یقین کرلیں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ بہت مشکل گھڑی آگئی ہے۔ ان لوگوں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا اور ہمارے محبوب ومقبول بندے کی نہ صرف یہ تکزیب کی الٹا انہیں ڈرایا دھمکایا بھی اگر آپ تبلیغ سے باز نہ آئے تو آپ کو سنگسار کردیں گے اور ایذائیں دیتے تھے اور ان کی تعلیمات کو پاگل پن اور انہیں مجنون کہتے تھے آخر انہوں نے بددعا کی کہ اے اللہ میں عاجز آچکا ہوں اب تو ہی ان سے نبٹ۔ چناچہ ہم نے آسمانوں سے بھی پانی یوں برسایا جیسے اس کے دروا کردیے ہوں اور زمین سے بھی پانی جاری کردیا اور یوں دونوں پانی مل کر عظیم طوفان بن گیا اور ان کی ہلاکت کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگیا جو علم الٰہی میں پہلے سے طے شدہ موجود تھا مگر نبی کی برکات اور نور ایمان کام آیا اور ایسے طوفان میں بھی ہم نے اپنے نبی اور اس کے متبعین کو ایک ایسی کشتی پر سلامت رکھا جو محض چند تختے تھے جو کیلوں وغیرہ سے جوڑ دیے گئے جس طوفان میں بڑے بڑے جہاز تھپیڑے نہ سہہ سکے اور ایک جہان غرق ہوگیا مگر وہ چند تختے ہماری مدد سے اور ہماری زیرنگرانی تیرتے رہے اور سلامتی کا سبب بن گئے جبکہ کفار نے غرق ہو کر اپنے کیے کا پھل پالیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کو دوسروں کے لیے باعث نصیحت بنادیا اور بات تاریخ کا حصہ بن گئی اگر کسی کو غوروفکر کی سعادت نصیب ہوتویہ بہت بڑا درس عبرت ہے کہ اللہ کا عذاب کتنا سخت ہے اور عذاب کی وعیدیں کیسے پوری ہوتی ہیں سو ہم نے قرآن نازل فرما کرمعلم قرآن کی زبان پاک سے اسے بہت ہی آسان بنادیا کہ بہت بڑے فاضل سے لے کر عام آدمی تک اور ہر بچہ بوڑھا اپنی اپنی استعداد کے مطابق اسے نصیحت حاصل کرسکتا ہے اور اطاعت الٰہی کے عظیم مقصد تک پہنچ سکتا ہے نیز دنیا کی واحد کتاب کو چھوٹے چھوٹے بچے بھی حرف بہ حرف حفظ کرسکتے ہیں دونوں طرح کی آسانیاں میسر کردی ہیں قوم عاد نے کفر اختیار کیا تو ان کا جو حال ہواوہ بھی درست عبرت ہے کہ ہمارے عذاب کتنے سخت اور وعید کیسے پوری ہوتی ہے کہ بہت ہی طاقتور قوم تھی مگر ان پر ہوا کو طوفان بنادیا وہاں پانی جو حیات کا سبب تھا موت کا ذریعہ بنایہاں ہوا جو حیات کا دوسرا بڑا سبب بلکہ پانی سے بھی پہلے ضروری ہے وہ موت کا سبب بن گئی اور ان کے حق میں وہ دن ہمیشہ ک لیے منحوس بنا گیا کہ ہوا نے انہیں اکھاڑ بچھاڑ کر تباہ کردیا۔ اور برزخ کے عذابوں میں پہنچ گئے۔ پھرحشر اور پھر دوزخ یعنی اس روز کے بعد نحوست نے انہیں کبھی نہ چھوڑا اور یوں لگتا ہے جیسے کھجوروں کے تنے کسی نے اکھاڑ کر پھینک دیے ہوں بڑے بڑے کڑیل جوانوں کی لاشیں عبرت انگیز منظر پیش کرتی تھیں اور زبان حال سے بتارہی تھیں کہ اللہ کا عذاب کیسا ہوتا ہے اور اس کی وعید کس طرح پوری ہوتی ہے یہ ہمارا بہت ہی بڑا احسان ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے بہت آسان کردیا ہے اگر کوئی فکر کرنے والا اور نصیحت کا طالب ہو تو۔
Ayahs 54:23–40

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی ڈرانے والوں (یعنی پیغمبروں) کی تکذیب کی

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

پھر کہا کہ کیا ہم ایک آدمی کو جو ہم ہی میں سے ایک ہے ، کی پیروی کریں تو یقینا ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اس پر ہی وحی نازل ہوئی ہے بلکہ یہ جھوٹا ، خود پسند ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

عنقریب ان کو کل معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا (اور) خود پسند کون تھا

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(اے صالح (علیہ السلام) ! ) ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو آپ ان کو دیکھتے رہیں اور صبر کریں

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو بتادیں کہ ان میں پانی بانٹ دیا گیا ہے ہر ایک باری پر (باری والا) حاضر ہوگا

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے رفیق کو بلایا تو اس نے (اونٹنی پر) وار کیا پھر اس کی کونچیں کاٹ دیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ (لگانے والے کی باڑ) کا چورا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کریں ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں (پیغمبروں) کی تکذیب کی

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

(تو) ہم نے ان پر کنکروں بھری ہوا چلا دی سوائے لوط (علیہ السلام) کے ماننے والوں کے کہ ہم نے ان کو پچھلی رات ہی بچا لیا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنی طرف سے فضل کرکے ۔ جو شکر کرے ہم اس کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور یقینا انہوں (لوط علیہ السلام) نے ان کو ہماری پکڑ سے (پہلے) ڈرایا بھی تھا پھر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور بیشک انہوں نے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے اس کی آنکھیں مٹا دیں سو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور (پھر) صبح سویرے ان پر اٹل عذاب آپہنچا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

لو ! میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے سو ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے ؟

آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس فن کی بات ہورہی ہو اس فن کے ماہرین کا جس بات پر اتفاق ہوجائے اور پھر کہنے لگے بھلاہم سے وہ کس طرح بہتر ہے کہ ہمیں چھوڑ کر ان پر کتاب نازل ہوگئی ان کے خیال باطل میں اگر کتاب کو نازل ہونا ہی تھا تو خود ان پر ہوتی کہ وہ خود کو بہت عظیم خیال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اس جھوٹ کے سہارے ہمیں اپنے پیچھے لگا کر بڑا آدمی بناچاہتا ہے یاشیخی بگھارتا ہے تو انہیں کل ہی پتہ چل جائے گا کہ شیخی بگھارنے والایاخود بڑا سمجھنے کے زعم باطل میں کون مبتلا ہے ۔ ہم نے اپنی نبی کو خبر دی کہ ان کی آزمائش کے لیے ہم ایک سانڈنی بھیجتے ہیں جس کی تفصیل حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعات میں ہے تو آپ اس بات کا انتظار کیجئے اور صبر کیجئے دیکھیے کہ کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے ہاں انہیں بتادیجئے کہ پانی کی باری ہوگی ایک ہی کنواں یاچشمہ تھا جس سے ایک روز تمہارے مواشی اور ریوڑ پیا کریں گے اور ایک روز کا سارا پانی یہ اونٹنی پی لے گی ان سے یہ برداشت نہ ہوسکا اور منصوبہ بندی کرکے ایک آدمی مقرر کردیا جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اسے مار ڈالا۔ سو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسے پڑا اور وعید کس طرح پوری ہوئی کہ ان پر ایک ایسی سخت چنگھاڑ مسلط کردی جس سے دل پھٹ گئے اور جسم تک چورا چورا ہوگئے جیسے کسی کھیت کی پرانی کانٹوں کی باڑ ٹوٹی پھوٹی پڑی اور تباہ حال پڑی لہذا انہیں اس قرآن حکیم سے نصیحت حاصل نہ کی اور نصیحت کرنے والے نبی کی بات نہ مانی نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر پتھر برسانے والی آندھی آئی اور سوائے لوط (علیہ السلام) کے متبعین کے کوئی نہ بچا جبکہ انہیں بوقت سحر ان سے جدا کردیا گیا یہ آل لوط پر اللہ کا احسان تھا اور اللہ اپنے شکرگزار بندوں کو ایسے ہی صلہ دیتا ہے کہ انہیں عذاب وقہر سے بچالیتے ہیں حالانکہ لوط (علیہ السلام) نے تو سب کو خبردار کیا تھا اور ہمارے عذاب سے ڈرایا تھا مگر جب فرشتے لڑکوں کی صورت میں ان کے مہمان بنے تو یہ لوگ چڑھ دوڑے اور چھین لینے کو مرنے مارنے کی بات کرنے لگے تو ہم نے ان کی آنکھیں ہی مسخ کردیں اور انہیں معلوم ہونے لگایہ عذاب الٰہی ہے اور وعید ہے جس کی خبر لوط (علیہ السلام) نے دی تھی اور پھر علی الصبح وہ عذاب جو ان کی بداعمالی کے سبب ان کے لیے مقرر ہوچکا تھا ان پر آپڑا کہ اب میرے عذاب کا مزہ چکھو اور دیکھو عذاب کا وعدہ کیسے پورا ہوا اندھے ہوگئے پھر پتھر برسے اور پھر بستیاں ہی زمین میں الٹ دی گئیں اور ہم نے قرآن حکیم کو تونصیحت کے لیے آسان کردیا ہے اگر کوئی بھی نصیحت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو۔