54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت کی گھڑی قریب آچکی اور چاند شق ہوگیا۔

آیت 1 { اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔ } ”قیامت کی گھڑی قریب آچکی اور چاند شق ہوگیا۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سب سے قطعی اور یقینی نشانی حضور ﷺ کی بعثت ہے۔ اس حوالے سے حضور ﷺ کا فرمان ہے : بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَـیْنِ 1 ”مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح جڑا ہوا بھیجا گیا ہے“۔ اس لحاظ سے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ کا مفہوم یہ ہے کہ اب جبکہ آخری رسول ﷺ بھی دنیا میں آ چکے ہیں تو سمجھ لو کہ قیامت کا وقت بہت قریب آ لگا ہے۔ سورة السجدۃ کی آیت 5 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن ہمارے ہزار برس کے برابر ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حضور ﷺ کے وصال کو ابھی صرف ڈیڑھ دن ہی ہوا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق حضور ﷺ کی بعثت کے بعد اب قیامت بالکل سامنے ہے۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام اپنے منہ کے ساتھ صور لگائے بالکل تیار کھڑے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارے کی دیر ہے۔ جونہی اشارہ ہوگا وہ صور میں پھونک مار دیں گے۔ قربِ قیامت کے اس مفہوم کو سورة المعارج میں یوں بیان کیا گیا ہے : { اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا۔ وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو قیامت کو بہت دور سمجھ رہے ہیں ‘ جبکہ ہم اسے بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔“ آیت میں چاند کے پھٹنے کا ذکر ایک خرق عادت واقعہ کے طور پر ہوا ہے۔ روایات کے مطابق اس وقت حضور ﷺ منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ چاند کی چودھویں رات تھی۔ آپ ﷺ کے ارد گرد ہر طرح کے لوگ تھے۔ کسی نے کہا کہ آپ ﷺ کی طرف سے کوئی نشانی ہونی چاہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : چاند کی طرف دیکھو۔ لوگوں کو متوجہ کر کے آپ ﷺ نے انگلی کا اشارہ کیا اور چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا اور پھر اگلے ہی لمحے دونوں ٹکڑے قریب آکر دوبارہ جڑ گئے۔ آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا : دیکھو اور گواہ رہو ! کفار نے کہا کہ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا تھا ‘ اس لیے ہماری آنکھوں نے دھوکہ کھایا۔ بعد میں باہر سے آنے والے لوگوں نے بھی اس کی شہادت دی۔ میرے نزدیک یہ معجزہ نہیں تھا بلکہ ایک ”خرقِ عادت“ واقعہ تھا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کی جا چکی ہے کہ ہر رسول کو ایک معجزہ دیا گیا جو باقاعدہ دعوے کے ساتھ دکھایا گیا۔ اس لحاظ سے حضور ﷺ کا معجزہ قرآن ہے۔ البتہ خرق عادت واقعات حضور ﷺ سے بیشمار نقل ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے اگر اولیاء اللہ سے کرامات کا ظہور ہوتا ہے تو حضور ﷺ کی کرامات تو ہزار گنا بڑی ہوں گی۔ اس واقعہ پر بہت سے اعتراضات بھی ہوئے ہیں۔ اس بنیاد پر بھی کہ اس سے متعلق دنیا میں کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ اسی لیے سرسید احمد خان مرحوم اور ان کے مکتبہ فکر کے لوگوں نے آیت کے متعلقہ الفاظ کی مختلف تاویلات کی ہیں۔ بہرحال جہاں تک تاریخی ثبوت نہ ہونے کا تعلق ہے اس بارے میں یہ حقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ یہ واقعہ رونما ہونے کے وقت آدھی دنیا میں تو دن کی روشنی ہوگی۔ لیکن جن علاقوں میں چاند دیکھا جاسکتا تھا ان علاقوں کے لوگ بھی تو ظاہر ہے اس وقت ٹکٹکی باندھے چاند کو نہیں دیکھ رہے تھے کہ ان میں سے اکثر اس واقعے کے عینی شاہد بن جاتے۔ پھر یہ منظر بھی صرف لمحے بھر کا تھا اور اس دوران چاند کی روشنی میں بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا کہ لوگ چونک کر دیکھتے۔ البتہ ایک تاریخی روایت کے مطابق برصغیر میں مالابار کے ساحلی علاقے کے ایک ہندو راجہ نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ بعد میں جب عرب تاجروں کے ذریعے اس تک اسلام کی دعوت اور قرآنی تعلیمات پہنچیں تو اس نے نہ صرف ایک چشم دید گواہ کے طور پر اس واقعہ کی تصدیق کی بلکہ وہ ایمان بھی لے آیا۔ واللہ اعلم !
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر وہ دیکھیں گے کوئی نشانی تب بھی وہ اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔

آیت 2 { وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ} ”اور اگر وہ دیکھیں گے کوئی نشانی تب بھی وہ اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔“
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کی

آیت 3 { وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کی“ { وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ۔ } ”اور اللہ کا ہر امر ایک وقت ِمعین کے لیے قرار پا چکا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی منصوبہ بندی میں ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ کوئی کام اللہ کے طے شدہ وقت سے نہ تو پہلے انجام پاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے موخر ہوسکتا ہے۔ انسان کا کام ہے کہ وہ کوشش کرتا رہے اور نتائج اللہ پر چھوڑ دے۔ جیسے یہ طے شدہ امر ہے کہ اللہ کے دین کا غلبہ دنیا میں ہو کر رہے گا ‘ مگر اللہ کی مشیت میں اس کے لیے کون سا وقت مقرر ہے ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چناچہ ہمیں چاہیے کہ ہم اقامت دین کی جدوجہد کو فرضِ عین اور اپنی اخروی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اس میں اپنا تن من دھن لگانے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہیں۔ سیرت ِنبوی ﷺ سے اس جدوجہد کے منہج کو سمجھیں ‘ اس کے آداب سیکھیں ‘ اس کی شرائط معلوم کریں اور پورے خلوص نیت کے ساتھ اس کے لیے محنت کریں۔ اس محنت اور جدوجہد کے دوران ہمیں نتائج کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں تو یہ محنت اللہ کی رضا کے لیے کرنی ہے۔ اگر ہماری اس محنت کے نتائج ہماری زندگیوں میں ظاہر نہیں ہوتے تو کوئی پروا نہیں ‘ ہم دین کو غالب کرنے کے مکلف نہیں ‘ ہم تو صرف اس کے لیے جدوجہد کرنے کے مکلف ہیں۔ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اللہ کے ذمے ہے۔ اگر ہم نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خلوص نیت سے اس راستے میں محنت کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہم ضرور سرخرو ہوں گے۔ اس فلسفے کو اچھی طرح سے نہ سمجھنے کی وجہ سے اقامت دین کی جدوجہد میں لوگ غلطیاں کرتے ہیں۔ جب ان کی جدوجہد کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے تو وہ عجلت اور بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے الٹے سیدھے طریقے اپناتے ہیں۔ ایسی ہی غلطیوں سے تحریکیں غلط راستوں پر چل پڑتی ہیں اور اس وجہ سے دین الٹا بدنام ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایک بہت اہم نکتہ یہ بھی لائق توجہ ہے کہ اقامت ِ دین کی جدوجہد کے دوران غور و فکر کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے۔ حضور ﷺ کے بعد اب نہ تو کوئی شخصیت معصوم عن الخطا ہے اور نہ ہی کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست راہنمائی مل سکتی ہے۔ ظاہر ہے اب یہ کام اجتہاد اور غور و فکر سے ہی چلنا ہے اور اجتہاد میں غلطی کا ہر وقت امکان رہتا ہے۔ چناچہ انفرادی و اجتماعی سطح پر انسانوں سے غلطیاں سرزد ہونے کے امکان کے پیش نظر فیصلوں پر نظر ثانی کی گنجائش بھی رکھنی چاہیے اور اس کے لیے ذہنی طور پر ہر وقت تیار بھی رہنا چاہیے۔
Ayah 54:4

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہہ ہے۔

آیت 4 { وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنَ الْاَنْبَـآئِ مَا فِیْہِ مُزْدَجَرٌ۔ } ”اور ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہہ ہے۔“ گزشتہ اقوام کے اپنے پیغمبروں کو جھٹلانے اور پھر اس کے نتیجے میں عذاب الٰہی کے ذریعے تباہ ہوجانے کی خبریں انباء الرسل ان لوگوں کو تفصیل سے بتائی جا چکی ہیں۔ ان خبروں میں مشرکین مکہ کے لیے یقینا کافی تنبیہہ و تہدید اور سامانِ عبرت موجود ہے۔
Ayah 54:5

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

کامل دانائی (کی باتیں) لیکن ان خبردار کرنے والوں سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا۔

آیت 5 { حِکْمَۃٌم بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔ } ”کامل دانائی کی باتیں ‘ لیکن ان خبردار کرنے والوں سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا۔“
Ayah 54:6

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے صرفِ نظر کر لیجیے۔

آیت 6 { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ 7 } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صرفِ نظر کر لیجیے۔“ { یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْئٍ نُّـکُرٍ۔ } ”جس دن ایک پکارنے والا پکارے گا ایک بہت ناگوار چیز کی طرف۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ ابتدائی مکی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں حضور ﷺ کو ملتے جلتے الفاظ میں یہ ہدایت بار بار دی گئی ہے کہ آپ ﷺ صبر کریں ‘ آپ ﷺ درگزر سے کام لیں ‘ انہیں نظر انداز کردیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 54:7

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

(اس وقت) ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوں گی۔ یہ اپنی قبروں سے ایسے نکل کر آئیں گے جیسے ٹڈی ّدَل پھیلا ہوا ہو۔

آیت 7 { خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ } ”اس وقت ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوں گی۔“ { یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّـہُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۔ } ”یہ اپنی قبروں سے ایسے نکل کر آئیں گے جیسے ٹڈی ّدَل پھیلا ہوا ہو۔“ ظاہر ہے ہزاروں سال سے انسان اس زمین میں دفن ہو رہے ہیں اور قیامت تک ان کی تعدادکتنی ہوجائے گی ‘ ہم اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ چناچہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری فوت ہونے والے انسان تک سب کے سب زمین سے نکل کر ایک ہی سمت دوڑے چلے جا رہے ہوں گے تو وہ ٹڈی دل کی طرح نظر آئیں گے۔
Ayah 54:8

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

دوڑتے ہوئے آئیں گے پکارنے والے کی طرف۔ کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا سخت دن ہے۔

آیت 8 { مُّہْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ } ”دوڑتے ہوئے آئیں گے پکارنے والے کی طرف۔“ { یَـقُوْلُ الْـکٰفِرُوْنَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۔ } ”کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا سخت دن ہے۔“ ہر شخص کو اپنی قبر سے اٹھتے ہی اندازہ ہوجائے گا کہ اس کے ساتھ کیسا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ جیسا کہ سورة القیامہ میں فرمایا گیا : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } کہ ہر انسان اپنے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ ”من آنم کہ من دانم !“ چناچہ کفار و مشرکین اپنی قبروں سے نکلتے ہی روزحشر کی سختیوں کے بارے میں چیخ و پکار شروع کردیں گے۔
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

جھٹلایا تھا ان سے پہلے نوح کی قوم نے تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ تو مجنون ہے اور اسے جھڑک دیا گیا۔

آیت 9 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ } ”جھٹلایا تھا ان سے پہلے نوح کی قوم نے“ اب یہاں سے اس سورت میں انباء الرسل کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة النجم اور سورة القمر کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سورة النجم میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کے ذریعے تذکیر کا انداز تھا ‘ جبکہ اس سورت میں ”تذکیر بایام اللہ“ اور انباء الرسل کا تذکرہ ہے۔ بالکل یہی تقسیم اور یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران بھی دیکھ چکے ہیں۔ سورة الانعام میں آلاء اللہ کے ذریعے تذکیر کی گئی ہے ‘ جبکہ سورة الاعراف میں انباء الرسل کا انداز ہے۔ اسی طرح یہ دونوں سورتیں بھی مل کر تذکیر و انذار کے دونوں پہلوئوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ { فَـکَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ۔ } ”تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ تو مجنون ہے اور اسے جھڑک دیا گیا۔“ اس بدبخت قوم نے ہمارے جلیل القدر رسول علیہ السلام کو نہ صرف جھٹلا دیا بلکہ اس کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھا۔
Ayah 54:10

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو اس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں اب تو ُ ان سے انتقام لے۔

آیت 10 { فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔ } ”تو اس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں ‘ اب تو ُ ان سے انتقام لے۔“ رسولوں علیہ السلام کی مدد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے قانون کا ذکر سورة الصّٰفٰت میں اس طرح آیا ہے : { وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ۔ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۔ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔ } ”اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں ‘ کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔ اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“
Ayah 54:11

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

تو ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے اس پانی کے ساتھ جو مسلسل چھاجوں برستا رہا۔

آیت 1 1 { فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْہَمِرٍ۔ } ”تو ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے اس پانی کے ساتھ جو مسلسل چھاجوں برستا رہا۔“
Ayah 54:12

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو پھاڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا تو وہ سارا پانی مل گیا ایک ایسے کام کے لیے جس کا فیصلہ ہوچکا تھا۔

آیت 12 { وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا } ”اور ہم نے زمین کو پھاڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا“ اس وقت اس علاقے کی صورت حال یوں تھی کہ آسمان سے مسلسل موسلادھار بارش ہو رہی تھی اور نیچے زمین سے جابجا چشمے اس طرح پھوٹ رہے تھے کہ زمین گویا چشموں میں تبدیل ہوگئی تھی۔ { فَالْـتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ۔ } ”تو وہ سارا پانی مل گیا ایک ایسے کام کے لیے جس کا فیصلہ ہوچکا تھا۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نافرمان قوم کو غرق کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق آسمان سے برسنے والے اور زمین سے پھوٹنے والے پانی نے مل کر ایک خوفناک سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔
Ayah 54:13

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے اسے سوار کردیا اس (کشتی) پر جو تختوں اور کیلوں سے بنی تھی۔

آیت 13 { وَحَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ۔ } ”اور ہم نے اسے سوار کردیا اس کشتی پر جو تختوں اور کیلوں سے بنی تھی۔“
Ayah 54:14

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے یہ بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

آیت 14 { تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا } ”جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے۔“ وہ کشتی ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی۔ { جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ۔ } ”یہ بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔“ یوں ہم نے اپنے بندے نوح علیہ السلام کی قدر افزائی فرمائی جس کی قوم نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اس کشتی کے ذریعے ہم نے اسے اور اس کے اہل ایمان ساتھیوں کو سیلاب سے محفوظ رکھا۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی کے طور پر تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

آیت 15 { وَلَقَدْ تَّرَکْنٰہَـآ اٰیَۃً فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی کے طور پر تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا !“ یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مشیت الٰہی سے محفوظ کرلی گئی اور کسی وقت ایک بہت بڑی نشانی کے طور پر دنیا کی نظروں کے سامنے آجائے گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح زیر زمین دفن شدہ شداد ّکی جنت ارضی کے بارے میں اب دنیا جان چکی ہے یا بحیرئہ مردار کی تہہ میں قوم لوط علیہ السلام کے شہروں کے کھنڈرات دریافت کرلیے گئے ہیں۔
Ayah 54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا

آیت 16 { فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا !“
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

آیت 17 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا !“ یہ اس سورت کی ترجیعی بار بار دہرائی جانے والی آیت ہے اور اس میں ایک چیلنج کا سا انداز پایاجاتا ہے۔ مضمون کی اہمیت کے پیش نظر پوری سورت میں اس آیت کو چار مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اعلان کو پڑھ لینے یا سن لینے کے بعد ایک بندے پر گویا اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ قرآن کو سمجھنے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے استطاعت بھر کوشش شروع کردے۔ خصوصی طور پر پڑھے لکھے خواتین و حضرات پر تو گویا فرض ہے کہ وہ عربی سیکھیں اور قرآن کے معانی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ باقی علوم حاصل کرسکتے ہیں تو قرآن کا علم باقاعدہ حاصل نہ کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس قدر اہم اور بنیادی فرض کے بارے میں لوگوں کو بتایا ہی نہیں جاتا۔ لیلۃ القدر میں نوافل پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ‘ مختلف اذکار و وظائف کے ثواب کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے ‘ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کے مطالب و مفاہیم کا سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ عربی سیکھنے کے حوالے سے ہمارے لیے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یہ ایک زندہ زبان ہے۔ دنیا کے ایک بہت بڑے علاقے میں بولی جاتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ آج کوئی بین الاقوامی فورم ایسا نہیں جہاں پر عربی ترجمہ پیش کرنے کا انتظام نہ ہو۔ ہم مسلمانوں کو اپنی الہامی کتاب کی زبان کو سیکھنے کے لیے یہودیوں اور ہندوئوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر یہ قومیں اپنی مردہ زبانوں عبرانی اور سنسکرت کو زندہ کرسکتی ہیں تو ہم اپنی زندہ زبان کو کیوں نہیں سیکھ سکتے ؟ بہرحال آج نوجوان نسل میں یہ احساس اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
Ayah 54:18

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

جھٹلایا تھا قوم عاد نے بھی تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟

آیت 18 { کَذَّبَتْ عَادٌ فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”جھٹلایا تھا قوم عاد نے بھی ‘ تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
Ayah 54:19

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر مسلط کردی ایک ُ تند و تیز ہوا ایک مسلسل نحوست کے دن میں۔

آیت 19 { اِنَّــآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا } ”ہم نے ان پر مسلط کردی ایک ُ تند و تیز ہوا“ { فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ۔ } ”ایک مسلسل نحوست کے دن میں۔“
Ayah 54:20

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو یوں اکھاڑ پھینکتی تھی جیسے وہ کھجور کے تنے ہوں اکھڑی ہوئی جڑوں والے

آیت 20 { تَنْزِعُ النَّاسَ لا کَاَنَّـہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ۔ } ”وہ لوگوں کو یوں اکھاڑ پھینکتی تھی جیسے وہ کھجور کے تنے ہوں اکھڑی ہوئی جڑوں والے۔“ طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو کھجور کے تنوں کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے کہ ہوا کے اس عذاب کی وجہ سے وہ مردہ حالت میں زمین پر ایسے پڑے تھے جیسے جڑوں سے اکھڑے ہوئے کھجوروں کے تنے پڑے ہوں۔
Ayah 54:21

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟

آیت 21 { فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
Ayah 54:22

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا

آیت 22 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا !“
Ayah 54:23

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو

آیت 23 { کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۔ } ”قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔“
Ayah 54:24

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں ؟ پھر تو یقیناہم پڑجائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔

آیت 24 { فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّــتَّبِعُہٗٓ لا } ”انہوں نے کہا : کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں ؟“ { اِنَّــآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”پھر تو یقیناہم پڑجائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔“ اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت اور پیروی کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے آپ کو خود ہی گمراہی میں اور آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ سُعُر جمع ہے سَعِیْر کی اور سَعِیْرکے معنی آگ کے ہیں۔ ایسی باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ گویا حضرت صالح علیہ السلام ہی کے الفاظ میں آپ علیہ السلام کو جواب دے رہے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام ان سے کہتے تھے کہ تم لوگ اگر میری بات نہیں مانو گے تو آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنو گے۔ جواب میں وہ کہتے تھے کہ تم ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو۔ اگر ہم تمہیں اپنا پیشوا مان کر تمہارے پیچھے چل پڑیں تو یہ گمراہی کا راستہ ہوگا اور ہمارے لیے اسی دنیا میں خود کو آگ میں جھونک دینے کے مترادف ہوگا۔
Ayah 54:25

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے ؟ بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔

آیت 25{ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ م بَیْنِنَا } ”کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے ؟“ اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے وحی کے لیے آخر اسی شخص کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس منصب کے لیے اس کی نظر ہمارے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں پڑی ؟ { بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ۔ } ”بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔“ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اور صرف اپنی بڑائی جتلانے اور شیخی بگھارنے کے لیے اس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔
Ayah 54:26

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے

آیت 26 { سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْکَذَّابُ الْاَشِرُ۔ } ”جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے !“
Ayah 54:27

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

ہم بھیجے دیتے ہیں اونٹنی کو ان کی آزمائش کے لیے تو آپ ؑ انتظار کیجیے ان کے بارے میں اور صبر کیجیے۔

آیت 27{ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّـہُمْ فَارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِرْ۔ } ”ہم بھیجے دیتے ہیں اونٹنی کو ان کی آزمائش کے لیے ‘ تو آپ علیہ السلام انتظار کیجیے ان کے بارے میں اور صبر کیجیے۔“ یہ خطاب حضرت صالح علیہ السلام سے ہے کہ ہم ان کے مطالبے کے مطابق اونٹنی بطور معجزہ ان کے سامنے لا رہے ہیں ‘ جو ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن جائے گی۔ لیکن ابھی چونکہ ان کی مہلت باقی ہے اس لیے آپ علیہ السلام صبر کے ساتھ ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔
Ayah 54:28

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور انہیں بتا دیجیے کہ اب پانی ان کے مابین تقسیم ہوگا ہر پینے کی باری پر حاضری ہوگی۔

آیت 28 { وَنَــبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌم بَیْنَہُمْ ج کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۔ } ”اور انہیں بتا دیجیے کہ اب پانی ان کے مابین تقسیم ہوگا ‘ ہر پینے کی باری پر حاضری ہوگی۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر ایک چٹان سے حاملہ اونٹنی پیدا کردی اور اس کا نام ناقۃُ اللّٰہ اللہ کی اونٹنی ] الاعراف : 73 اور ہود : 64 [ رکھا۔ وہ اونٹنی جب چشمے پر پانی پینے کے لیے آتی تو اس کی ہیبت سے ان کے تمام مویشی بدک کر بھاگ جاتے تھے۔ بالآخر باہمی مشورے سے طے ہوا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن ان کے مال مویشی پانی پینے کے لیے آئیں گے۔ چناچہ جب وہ دوسرے دن چشمے پر آتی تو چشمے کا سارا پانی پی جاتی۔
Ayah 54:29

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

تو انہوں نے پکارا اپنے ایک ساتھی کو پس اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔

آیت 29 { فَنَادَوْا صَاحِبَہُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ۔ } ”تو انہوں نے پکارا اپنے ایک ساتھی کو ‘ پس اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔“ انہوں نے اس اونٹنی سے جان چھڑانے کے لیے اپنی قوم کے ایک ایسے شخص کو تیار کیا جو ان میں سب سے زیادہ سخت دل تھا۔ اس بدبخت نے ناقۃ اللہ پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔
Ayah 54:30

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟

آیت 30 { فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
Ayah 54:31

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح چورا ہو کر رہ گئے

آیت 31 { اِنَّــآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ۔ } ”ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح چورا ہو کر رہ گئے۔“ اگر جانوروں کا کوئی بڑا سا گلہ کسی کھیت کی باڑھ کو روندتا ہوا گزر جائے تو وہ باڑھ چورا چورا ہوجاتی ہے ‘ بالکل اسی طرح وہ نافرمان لوگ بھی چورا چورا ہو کر پڑے رہ گئے۔
Ayah 54:32

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے تو اس قرآن کو آسان کردیا ہے سمجھنے کے لیے تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟

آیت 32 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے تو اس قرآن کو آسان کردیا ہے سمجھنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“
Ayah 54:33

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط ؑ کی قوم نے بھی خبردار کرنے والوں کو جھٹلایا۔

آیت 33{ کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ۔ } ”لوط علیہ السلام کی قوم نے بھی خبردار کرنے والوں کو جھٹلایا۔“
Ayah 54:34

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

ہم نے ان پر بھیج دی ایک ایسی تیز آندھی جس میں پتھر تھے سوائے لوط کے گھر والوں کے۔ ان کو ہم نے نجات دے دی صبح کے وقت۔

آیت 34 { اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ۔ } ”ہم نے ان پر بھیج دی ایک ایسی تیز آندھی جس میں پتھر تھے ‘ سوائے لوط کے گھر والوں کے۔ ان کو ہم نے نجات دے دی صبح کے وقت۔“
Ayah 54:35

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

وہ نعمت تھی ہمارے پاس سے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے۔

آیت 35 { نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَاط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ۔ } ”وہ نعمت تھی ہمارے پاس سے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے۔“
Ayah 54:36

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط ؑ نے ان کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔

آیت 36 { وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ۔ } ”اور لوط علیہ السلام نے ان کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے ‘ لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔“ وہ ہماری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔
Ayah 54:37

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور انہوں نے اس سے اس کے مہمانوں کو لے جانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا تو مزا چکھو اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔

آیت 7 3{ وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ فَطَمَسْنَـآ اَعْیُنَہُمْ } ”اور انہوں نے اس سے اس کے مہمانوں کو لے جانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا“ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بدکردار لوگ ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے جو اصل میں فرشتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کردیا۔ بائبل میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ان میں سے ایک فرشتے نے ان لوگوں کی طرف اپنا ہاتھ پھیلایا تو وہ سب کے سب اندھے ہوگئے۔ { فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو مزا چکھو اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
Ayah 54:38

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور ان پر صبح ہی صبح آ دھمکا ایک عذاب جو کہ ٹھہر چکا تھا۔

آیت 38 { وَلَقَدْ صَبَّحَہُمْ بُـکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ۔ } ”اور ان پر صبح ہی صبح آ دھمکا ایک عذاب جو کہ ٹھہر چکا تھا۔“
Ayah 54:39

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔

آیت 39 { فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
Ayah 54:40

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن سمجھنے کو تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟

آیت 40 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن سمجھنے کو ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“ یہ آیت یہاں چوتھی اور آخری مرتبہ آئی ہے۔