54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 54:1–3

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہوجانے والا ہے

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کا اتباع کیا اور ہر بات قرار پانے والی ہے

1:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قمر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن الضریس وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن مرودیہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اقتربت '' کے پڑھنے والے کو رات میں مبیضہ پکارا جاتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے کے چہرے کو سفید کردے گی۔ جس دن چہرے سفید ہوں گے (بیہقی (رح) نے کہا یہ حدیث منکر ہے ) ۔ 5:۔ الدیلمی (رح) نے عائشہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جس شخص نے (سورۃ) '' الم تنزیل '' '' یسین '''' اقتربت الساعۃ انشق القمر '' ہر دو راتوں میں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس طرح اٹھائیں گے کہ اس کا چہرۃ چودھویں رات کے چاند کی طرح (روشن) ہوگا۔ 6:۔ ابن الضریس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی فردہ رحمہم اللہ سے مرفوعا روایت کیا کہ جس شخص نے (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' ہر دوراتوں میں پڑھی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس طرح اٹھائیں گے کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح (روشن) ہوگا۔ 7:۔ ابن الضریس (رح) نے عن لیث عن معن اور ھمدان (رح) سے روایت کیا کہ اور انہوں نے نبی کریم ﷺ تک مرفوع بیان کیا کہ جس شخص نے (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' ایک رات چھوڑ کر دوسری رات میں پڑھی یہاں تک کہ وہ مرگیا تو اللہ تعالیٰ اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کی طرح چمک رہا ہوگا۔ 8:۔ احمد نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اس میں (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' پڑھی ایک آدمی نے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کھڑا ہوا اور چلا گیا معاذ نے اس کے لئے سخت بات کہی وہ آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور ان کی طرف عذر پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں کھجوروں کے باغ میں کام کرتا ہوں اور مجھے پانی کے بارے میں خوف تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے (معاذ) سے فرمایا کہ سورة (آیت ) ' ' والشمس وضحھا '' اور جیسی دوسری سورتیں نماز میں پڑھی جائیں۔ 9:۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید (رح) ومسل وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ولترمذی وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے کوئی معجزہ اور نشانی کے بارے میں سوال کیا تو مکہ مکرمہ میں چاند دو ٹکڑوں میں بٹ گیا تو یہ (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' (سے لیکر) '' سحرمستمر '' تک نازل ہوئی یعنی یہ ختم کردینے والا جادو ہے۔ 10:۔ البخاری ومسلم وابن جریر (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ان کو کوئی معجزہ یا کوئی نشانی دکھائیں (پھر وہ ایمان لائیں گے) تو آپ نے ان لوگوں کو چاند دو ٹکڑے کرکے دکھا دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان کے درمیان حراء پہاڑ کو دیکھا۔ شق قمر کا معجزہ : 11:۔ عبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں مجاہد کے طریق سے ابو معمر سے اور انہوں نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے چاند کو دو ٹکڑوں میں پھٹا ہوا دیکھا مکہ میں نبی کریم ﷺ کے مکہ سے نکلنے سے پہلے ایک ٹکڑا ابوقیس (پہاڑ) پر تھا اور ایک ٹکڑا سویدا (مقام) پر تھا مشرکین مکہ نے کہا کہ چاند پر جادو چل گیا تو یہ (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' نازل ہوئی مجاہد (رح) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جیسے تم نے چاند کو پھٹا ہوا دیکھا تو بیشک وہ ذات جس نے تم کو خبر دی کہ (آیت ) '' اقتربت الساعۃ '' (کہ قیامت قریب آگئی) وہ حق ہے۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری (رح) ومسلم والترمذی وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) وابو معمر کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا اور ایک ٹکڑا اس کے نیچے کی جانب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم گواہ ہوجاؤ۔ 13:۔ احمد وعبد بن حمید وابن جریر (رح) والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور ابونعیم (رح) نے دلائل میں الاسود کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے پہاڑ پر چاند کو دیکھا کہ وہ پھٹ چکا تھا تو میں نے پہاڑ کو چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیانی فاصلہ میں دیکھا۔ 14:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) والبیہقی (رح) کلاھما فی الدلائل مسروق کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا قریش نے کہا کہ یہ ابن ابی کثیر (یعنی محمد ﷺ کا جادو ہے۔ پھر انہوں نے کہا انتظار کرو جو تمہارے قافلے سفر سے آرہے ہیں کیونکہ محمد ﷺ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ وہ سارے لوگوں پر جادو کریں پس قافلے آگئے تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ مسافروں نے کہا ہاں ہم نے (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کو) دیکھا ہے تو اللہ تعالیٰ یہ (آیت) نازل فرمائی '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' (قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا) ۔ 15:۔ البخاری ومسلم وابن مردویہ (رح) نے اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا۔ 16:۔ ابن مردویہ (رح) و ابونعیم نے دلائل میں علقمہ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم منی میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چھپ گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم گواہ ہوجاؤ۔ 17:۔ مسلم والترمذی وابن جریر (رح) وابن المنذروابن مردویہ (رح) والحاکم والبیہقی (رح) فی ابونعیم نے دلائل میں صحابہ کے طریق سے ابن عمر ؓ سے (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوا کہ (چاند) دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا ایک ٹکڑا پہاڑ سے آگے اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے ہوگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم گواہ ہوجاؤ۔ 18:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) والترمذی وابن جریر (رح) والحاکم و ابونعیم والبیہقی (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے (آیت ) '' وانشق القمر '' کے بارے میں روایت کیا کہ چاند پھٹ گیا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مکہ میں تھے یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور دوسرا اس پہاڑ پر تھا لوگوں نے کہا محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ ایک آدمی نے کہا اگر تم پر جادو ہوگیا تو وہ سارے لوگوں پر جادو کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ 19:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہ چاند کا پھٹنا ہجرت سے پہلے گزر چکا تھا یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے دونوں ٹکڑوں کو دیکھا۔ 20:۔ الطبرانی وابن مردویہ نے عکرمہ (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چاند کو گرہن ہوا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مشرکین مکہ نے کہا کہ چاند پر جادو کردیا گیا تو یہ (آیت) نازل ہوئی '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' سے لیکر '' مستمر '' تک۔ 21:۔ ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں عطا اور ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مشرکین جمع ہوئے ان میں ولید بن مغیرہ ابوجہل بن ہشام عاص بن وائل عاص بن ہشام اسود بن اخوث، اسود بن عبد المطلب زفعہ بن اسود نصربن حرث تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے چاند کو دو ٹکڑوں میں پھاڑ دیجئے۔ آدھا بوقیس (پہاڑ) پر ہو اور آدھا قیقعان پر ہو، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اگر میں ایسا کردوں تو تم ایمان لاؤ گے۔ کہنے لگے ہاں اور وہ چودھویں کی رات تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ ان لوگوں نے جو سوال کیا ہے اس کو پورا کردیجئے۔ شام کو چاند اسی شکل میں بن گیا کہ آدھا حصہ ابوقیس پر تھا اور آدھا حصہ وقعیقعان پر تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے آواز دی اے ابوسلمہ بن عبدالاسد اور ارقم بن ابی الارقم گواہ ہوجاؤ۔ 22:۔ ابونعیم نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مکہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ کوئی نشانی ہے کہ ہم اس کے ساتھ پہچان لیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں جبرائیل نیچے اترے اور فرمایا اے محمد ﷺ فرمادیجئے اے اہل مکہ اگر آج کی رات تم باہر نکلو گے تو ایسی نشانی دیکھ لوگے اور رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کے کہنے کے مطابق ان کو اطلاع کردی وہ لوگ چودھویں کی رات کو باہر نکلے تو چاند دو حصوں میں پھٹ گیا آدھا صفا پر اور آدھا مروہ پر تھا اور انہوں نے دیکھ لیا پھر انہوں نے اپنی آنکھوں کو جھکا لیا اور ان کو خوب مل کر صاف کیا پھر انہوں نے دوبارہ نظراٹھائی اور چاند کو دیکھا پھر انہوں نے اپنی آنکھوں کو خوب ملا پھر چاند کو دیکھا اور کہنے لگے اے محمد ﷺ نہیں ہے یہ مگر ایک جادو سخت ختم کردینے والا تو اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر ''۔ 23:۔ ابونعیم (رح) نے ضحاک (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں کے علماء رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم کو کوئی نشانی اور معجزہ دکھائیں یہاں تک کہ ہم ایمان لے آئیں ؟ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ عطا فرمائیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چاند دکھایا کہ پھٹ کردو چاند بن گیا۔ ان میں سے ایک صفا پر اور دوسرا مروہ پر تھا عصر سے لے کر رات تک کہ وقت کی مقدار وہ اس کی طرف دیکھتے رہے پھر چاند غائب ہوگیا تو کہنے لگے (آیت ) '' ھذا سحرمستمر '' یہ تو بڑا زبردست جادو ہے۔ 24:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وعبد اللہ بن احمد (رح) نے زوائد الزھد میں وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم نے ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو حذیفہ بن یمان ؓ نے مدائن میں خطبہ دیا۔ اللہ کی حمد اور اس کی تعریف بیان کی۔ پھر فرمایا (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' خبردار سنو کہ قیامت قریب آچکی، خبردار کہ چاند پھٹ گیا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں خبردار بلاشبہ دنیا نے جدائی کی اطلاع دی ہے خبردار آج کا دن چھپنے والا ہے اور کل کا دن تیزی سے آرہا ہے۔ 25:۔ ابن المنذر (رح) نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت اس طرح پڑھی (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' (قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا) شق القمر معجزہ تھا جادو نہیں : 26:۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ چاند شق ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت ہجرت سے پہلے مکہ میں قیام پذیر تھے۔ مشرکین نے دیکھ کر کہا یہ جادوگر ہے اس نے جادوگروں پر جادوں کردیا پس تم اس کو چھوڑ دو جیسے مشرکوں نے اس وقت کہا جب چاند گرہن ہوا تو وہ انہوں نے اپنے لکڑی کے پیالوں کے ساتھ مارا تو اس سے ان کے علماء پیلے زرد ہوگئے۔ اور انہوں نے کہا یہ جادوکا کھیل ہے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر '' (اور اگر وہ کسی نشانی کو دیکھتے ہیں تو اس سے اعرض کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہوا جاتا ہے۔ 27:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآن مجید میں فرمایا ہے جو گزر گئیں (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' اور چاند رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھا (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' (عنقریب ان کی یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے گی) اور (آیت ) '' اذا فتحنا علیہم بابا ذا عذاب شدید '' (المؤمنین آیت 77) اور ہم نے ان پر عذاب کا دروازہ کھول دیا) 28:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اقتربت الساعۃ وانشق القمر '' یعنی ان لوگوں نے چاند کو پھٹا ہوا دیکھا اور کہنے لگے یہ جادو ہے سخت ختم کردینے والا۔ 29:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکل امر مستقر '' (اور یہ بات قرار پانے والی ہے) یعنی قیامت کے دن۔ 30:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکل امر مستقر '' یعنی ہر کام اس کے اہل و عیال کے ساتھ انجام ہے۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکل امر مستقر '' سے مراد ہے کہ ہر کام کے لئے ایک انجام ہے نیکی اور خیر کا عمل کرنے والوں کے لئے اچھا انجام ہے اور برائی کا عمل کرنے والوں کے لئے انجام بھی برا ہے۔
Ayahs 54:4–6

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور بلاشبہ ان کے پاس ایسی خبریں آئیں ہیں جن میں باز آنے کے لئے عبرت ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

یعنی اعلی درجے کی حکمت ہے سو ڈرانے والی چیزیں ان کو کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہیں

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

سو آپ ان سے اعراض کیجئے جس دن بلانے والا ایسی چیزوں کی طرف بلائے گا جو ناگوار ہوگی

قرآن کریم عبرت و نصیحت کی کتاب ہے : 1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' (اور ان لوگوں کے پاس خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ ان میں کافی عبرت ہے) یعنی یہ قرآن عبرت ہے پھر فرمایا یہ قرآن منتہی ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور یہ (آیت ) '' ولقد جآء ھم من الانبآء مافیہ مزدجر '' تلاوت فرمائی (پھر) فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں حلال کو حلال قرار دیا اور حرام کو حرام قرار دیا اور تم کو اس میں بتادیا گیا جو تم کرتے ہو (یعنی جو تم عمل کرتے ہو) اور جس کی تم دعوت دیتے ہو اس نے تمہارے دین میں کوئی التباس نہیں چھوڑا یہی عزت اور کرامت ہے کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم کو عزت دی اور یہ ایک نعمت ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تم پر نعمت کو پورا کردیا۔
Ayah 54:7

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی قبروں سے نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈیاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں

قولہ تعالیٰ : (آیت) '' خشعا ابصارھم '' 3:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) '' خشعا ابصارھم '' الف کے ساتھ۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) '' خشعا ابصارھم '' خاء کے رفع کے ساتھ۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' خشعا ابصارھم '' (ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی) یعنی ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی (واللہ اعلم ) ۔ 6:۔ ابن جریر (رح) وابن المنـذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مھطعین الداع '' (بلانے والے کی آواز پر دوڑ رہے ہوں گے میں (آیت ) '' مھطعین '' سے مراد ہے ناظرین یعنی (بلانے والے کو) دیکھ رہے ہوں گے۔ 7:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' مھطعین '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے فرمانبرداری اور عاجزی کرنے والے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے تبع کا قول نہیں سنا : تعبدنی نمربن سعید وقدری ونربن سعدلی مدین ومھطع : ترجمہ : نمربن سعد نے مجھے غلام بنالیا ہے حالانکہ نمر بن سعدیہ جانتا ہے کہ میرے بھی غلام اور مطیع ہیں۔
Ayah 54:8

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

بلانے والے کی طرف دوڑتے ہوئے جارہے ہوں کافر لوگ کہیں گے کہ یہ بڑا سخت دن ہے

8:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' مھطعین الداع '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ارادہ کرتے ہوئے جارہے ہوں گے بلانے والے کی طرف۔ 9:۔ عبدبن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مھطعین الداع '' سے مراد ہے کہ وہ بلانے والے کی طرف چلتے ہوئے جائیں گے۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے تمیم بن حدلم (رح) سے (آیت ) '' مھطعین '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' الاھطاع '' سے مراد ہے '' التجیع '' یعنی ڈر کی وجہ سے تیزی سے چلتے بلانے والے کی طرف جائیں گے۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ اس سے مراد ہے تیز چلتے ہوئے۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مھطعین الداع '' سے مراد ہے اپنے کانوں کو آواز کی طرف لگاتے ہوئے۔
Ayahs 54:9–16

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا سو انہوں نے ہمارے بندہ کو جھٹلایا اور کہنے لگے کہ یہ دیوانہ ہے اور اسے جھڑک دیا گیا

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

سو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ بیشک میں مغلوب ہوں میری مدد فرمائیے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

سو ہم نے آسمان کے دروازے خوب زیادہ برسنے والے پانی سے کھول دیئے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں چشمے جاری کردیئے پھر پانی اس کام کے لئے مل گیا جس کا فیصلہ کیا گیا تھا

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ اس شخص کا بدلہ لینے کے لئے کیا گیا جس کی ناقدری کی گئی

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے اس واقعہ کو عبرت بناکر چھوڑ دیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقالوا مجنون وازدجر '' اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کی دھمکی دی گئی) یعنی اسے دیوانہ اور مجنوں ہونے کی تہمت لگائی گئی۔ 2:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازدجر '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کی دھمکی دی ہو۔ 3:۔ البخاری فی الادب وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے حضرت علی ؓ سے مجرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آسمان کا ابھرا ہوا حصہ ہے اور اسی سے آسمان کے دروازے کثرت سے برسنے والے پانی کے ساتھ کھولے جاتے ہیں پھر یہ (آیت) پڑھی '' ففتحنا ابواب السمآء '' 4:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ففتحنا ابواب السمآء بماء منھمر '' (سو ہم نے کثرت سے برسنے والے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دیئے یعنی اس دن سے پہلے آسمان نے کثرت سے بارش نہیں برسائی اور نہ اس کے بعد مگر بادلوں سے اور اس دن آسمان کے دروازے پانی کے ساتھ بغیر بادلوں کے کھول دیئے گئے تو دونوں پانی آپس میں مل گئے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فالتقی المآء '' (پھر آسمان و زمین کا پانی مل گیا یعنی آسمان اور زمین کا پانی (آیت ) '' علی امر قدقدر '' (اس کے پورا ہونے کے لئے جو علم الہی میں تجویز ہوچکا تھا) یعنی غذائیں جسموں سے پہلے ہیں اور تقدیر آزمائش اور مصیبت سے پہلے ہے۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' قد قدر '' سے مراد ہے (یعنی وہ کام جو علم الہی میں تجویز ہوچکے ہیں، وہ اس طرح لگا تار آئیں گے جیسے ایک صاع کے بعد دوسرا صاع (یکے بعد دیگرے آتا ہے ) ۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وحملنہ علی ذات الواح ودسر '' ( اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ایک تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا) یعنی (آیت ) '' الواح '' سے مراد ہے کشتی کی تختے اور (آیت ) '' دسر '' سے مراد ہے وہ میخیں اور کھلے ہیں جن کے ساتھ کشتی کو باندھا جاتا ہے۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الواح '' سے مراد ہے دروازے کے تختے اور (آیت ) '' دسر '' سے مراد ہے دروازے کے اوپر کی لکڑی۔ 9:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وحملنہ علی ذات الواح '' یعنی کشتی کے تختے (آیت ) '' ودسر '' سے مراد ہے کہ کیل اور میخیں فرمایا '' دسس مسافر '' یعنی اسے کیلوں کے ساتھ درست کیا گیا۔ 10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ودسر '' سے مراد ہیں کیلیں (آیت ) '' دسر '' سے مراد کشتی کے کیل اور میخیں۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بیان کیا گیا کہ جن کے ساتھ اس کو مضبوط کیا گیا۔ 12:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے اس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ودسر '' کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا (آیت ) '' دسر '' سے مراد وہ چیزیں ہیں کی جن کے ساتھ کشتی کی حفاظت کی جاتی ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : سفینۃ نؤتی قد احکم صنعھا مشخنۃ الالواح منسوجۃ الدسر ترجمہ : کشتی پر ہم لائے جارہے ہیں اس کی بناوٹ انتہائی پختہ اور مضبوط ہے اس کے پھٹے موٹے ہیں اور کیلیں اور میخوں کے ساتھ اسے خوب مضبوط کردیا گیا۔ 13:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ودسر '' کشتی کے سامنے کا حصہ۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' دسر '' سے مراد ہے کشتی کا وہ سینہ (یعنی سامنے والا حصہ) جس کے ساتھ موج آکر ٹکراتی ہے۔ 15:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ 16:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' جزآء لمن کان کفر '' (یہ بدلہ ہے جس نے کفر کیا) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بدلہ ہے اس کا جس کا انکار کیا گیا تھا۔ 17:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وبن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد ترکنھا ایۃ فھل '' (اور ہم نے اس واقعہ کو عزت کے لئے رہنے دیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی کشتی کو جودی پہاڑ پر باقی رکھا یہاں تک کہ اس امت کے پہلے لوگوں نے اس کو پالیا۔ 18:۔ ابن ابی ایاس وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد ترکنھا ایۃ فھل من مد کر '' (اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے یعنی ہم نے قرآن مجید کے پڑھنے کو آسان کردیا ہے۔
Ayahs 54:17–18

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور البتہ یہ یقینی بات ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

جھٹلایاقوم عاد نے سو کیا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرنا

قرآن کو لوگوں کی زبان پر آسان بنادیا : 19:۔ ابن ابی حاتم والبیہقی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد یسرنا القران للذکر '' یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو آدمیوں کی زبان پر آسان نہ بنایا ہوتا تو مخلوق میں سے کسی کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کے کلام کے ساتھ بات کرسکے۔ 20:۔ دیلمی نے انس ؓ سے مرفوعا اسی طرح روایت کیا ہے۔ 21:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن سیریں (رح) سے روایت کیا کہ ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا اور وہ کہتا تھا کہ سورة خفیفہ (یعنی ہلکی سورت) تو آپ نے فرمایا سورة خفیفہ نہ کہو لیکن یہ کہو وہ سورت جس کو آسان بنادیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' ولقد یسرنا القران للذکر '' 22:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فھل من مدکر '' یعنی کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ 23:۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فھل من مدکر '' سے مراد ہے کیا ہے کوئی رکنے والا گناہوں سے۔ 24:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فھل من مدکر '' سے مراد ہے کیا ہے کوئی خیر کا طالب جس پر اس کی مدد کی جائے۔ 25:۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن المنذر نے مطرالوراق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد یسرنا القران للذکر '' (ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے) یعنی کیا کوئی ہے علم کو طلب کرنے والا کہ اس پر اس کی مدد کی جائے۔ 26:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن جریر (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس یوں پڑھا (آیت ) '' فھل من مدکر '' یعنی ذال کے ساتھ تو آپ نے فرمایا (آیت ) '' فھل من مدکر '' دال کے ساتھ (پڑھو)
Ayah 54:19

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر سخت ہوا بھیج دی ایسے دن میں جو نحوست والا تھا دیر تک رہنے والا تھا

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' اناارسلنا ریحا صرصر ا '' (ہم نے ان پر تیز ہوا بھیج دی) یعنی سخت ٹھنڈی ہوا (آیت) '' فی یوم نحس '' (نحوست والے دن میں) یعنی سخت دن۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' صرصر ا '' سے مراد ہے سخت ہوا (یعنی تندوتیز ہوا) 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' ریحا صرصر ا '' سے مراد ہے ٹھنڈی ہوا (آیت ) '' فی یوم نحس '' (نحوست والے دن) یعنی ایسے دن جو قوم کے لئے منحوس تھا اور اس کی نحوست اور شر برقرار رہا۔ 4:۔ الطستی حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قوم (آیت ) '' فی یوم نحس '' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ النحس سے مراد ہے مصیبت اور شدت پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں : کیا تو نے زہیر بن ابی سلمہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : سوای علیہ ای یوم اتیتہ اساعۃ نحس تتقی ام بأسعد ترجمہ : برابر ہے اس کے لئے ہر دن اس کے پاس آجاؤ کیا نحوست بلاء کی ساعت کا خوف کیا جاتا ہے، یا سعادت مندی کی ساعت کا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے زربن حبیش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی یوم نحس مستمر '' سے مراد ہے بد ھ کا دن۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ کو جبرا ئیل (علیہ السلام) نے فرمایا فیصلہ کیجئے قسم کو گواہ کے ساتھ پورا کرو اور فرمایا بدھ کا دن ہی (آیت ) '' فی یوم نحس مستمر '' ہے۔ (یعنی منحوس دن برقرار رہنے والا) 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس یہ پیغام لے کر نازل ہوئے قسم گواہ کے ساتھ ہے اور پچھنے لگانا ٹھیک ہے اور بدھ کا دن ہی منحوس دن ہے برقرار رہنے والا (کہ جس کی نحوست برقرار رہے گی) 8:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے یوم نحس سے مراد بدھ کا دن ہے۔ برے اعمال نحوست کے سبب میں : 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دنوں کے بارے میں اور بدھ کے دن کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا بدھ کا دن منحوس دن ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کس طرح سے ہے ؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور عاد اور ثمود کو ہلاک کیا۔ 10:۔ وکیع فی الغروابن مردویہ (رح) والخطیب نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہینے میں آخری بدھ کا دن منحوس ہوتا ہے کہ اس کی نحوست برقرار رہتی ہے۔
Ayahs 54:20–23

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ ہوا لوگوں کو اکھاڑکر پھینک رہی تھی کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو کیسا میرا عذاب اور میرا ڈرانا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

قوم ثمود نے ڈرانے کو جھٹلایا

1:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد اللہ بن احمد (رح) نے زوائد الزھد میں وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب ہوا چلی تو (قوم) عاد اس کی طرف کھڑی ہوئی اور ان کے بعض نے بعض کے ہاتھوں کو پکڑلیا اور اپنے قدموں کو زمین میں گاڑ لیا اور کہنے لگے کون ہمارے قدموں کو زمین سے ہٹائے گا اگر وہ سچ بولنے والا ہے (یعنی پیغمبر) اللہ تعالیٰ ان پر ہوا بھیج دی جو لوگوں کو اکھاڑ پھینک رہی تھی (اور وہ اس طرح ہوگئے) (آیت ) '' کانہم اعجاز نخل منقعر '' (گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہیں ) 12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر قوم عاد میں سے کوئی آدمی ہوا اور وہ پتھر کے دو کواڑ بنائے پھر اس امت کے پانچ سو افراد اس پر جمع ہوجائیں تو اس کو اٹھانے کی طاقت نہ رکھیں ایک آدمی اپنے قدموں کو زمین میں گاڑ دیتا تھا اور وہ اس میں داخل ہوجاتا تھا۔ 13:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانہم اعجاز نخل '' یعنی کھجور کی جڑیں ،'' منقعر '' یعنی کٹی ہوئی۔ 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانہم اعجاز نخل '' سے مراد ہے کھجور کے سیاہ تنے۔ 15:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانہم اعجاز نخل منقعر '' سے مراد ہے کہ ان کے سر نیچے گرگئے لکڑیوں کی طرح اور ان کی گردنیں کول کول ٹکڑے ہوگئیں اس لئے ان کو اکھڑی ہوئی کھجور کے تنوں کے مشابہت دی۔
Ayahs 54:24–30

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

سو انہوں نے کہا کیا ہم ایسے انسان کا اتباع کریں جو ہمیں میں سے ایک شخص ہے بیشک اس صورت میں تو ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں جاپڑیں گے

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب کے درمیان سے اسی پر وحی کی گئی ؟ بلکہ بات یہ ہے کہ یہ بڑا جھوٹا ہے یا شیخی باز ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

عنقریب کل کو جان لیں گے کہ کون ہے بڑا جھوٹا شیخی باز

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

بیشک ہم اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں ان کی آزمائش کے لئے سو آپ ان کو دیکھتے رہئے اور صبر کیجئے

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور آپ انہیں بتادیں کہ بیشک پانی تقسیم ہے ان کے درمیان ہر ایک اپنے پلانے کی باری پر حاضر ہوا کرے

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا سو اس نے حملہ کردیا اور کاٹ ڈالا

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

سو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا ؟

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' (ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے یعنی بدبختی ہیں۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' سے مراد ہے کہ پھر تو ہم مگر اپنی مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے۔ 3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وسعر ' ' یعنی گمراہی (آیت ) '' کل شرب محتضر '' (یہ ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا) یعنی وہ لوگ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی اور جب وہ آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لئے حاضر ہوں (آیت ) '' فتعاطی '' یعنی اس نے پکڑا ' (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' (جیسے بھوسہ کھایا ہوا) جیسے آدمی نے توڑ دیا سبز لاکھی گھڑے کو
Ayahs 54:31–32

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر ایک چیخ بھیج دی سو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ لگانے والے کا چورا ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ بات حق ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا

4:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتعاطی فعقر '' (اس نے اونٹنی پروار کیا اور اس کو ذبح کرڈالا یعنی '' احمیمر، ثمود، اونٹنی کو پکڑ لیا اور اس کو ذبح کرڈالا (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' یعنی جلی ہوئی راکھ کی طرح۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتعاطی فعقر '' سے مراد ہے '' تتاول '' یعنی اس نے پکڑ لیا۔ 6:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' مراد ہے کہ وہ جلی ہوئی ہڈیوں کی طرح ہوگئے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' سے مراد ہے کہ وہ اس گھاس کی طرح ہوگئے جو بکری کھاتی ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' سے مراد ہے کہ وہ اس خشک گھاس کی طرح ہوگئے جسے تو روکے رکھے، پھر ریوڑا سے کھالے اور وہ ختم ہوجائے۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' سے مراد ہے کہ وہ اس مٹی کی طرح ہوگئے جو دیوار سے گرجاتی ہے۔