54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 54:1–2

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے

اللہ تبارک وتعالی آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی یعنی قیامت قریب آگئی ہے اس کی آمد کا وقت ہوگ ای بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جارہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں اللہ ان کی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہین۔ حضرت محمد جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے تو آپ نے اللہ کے حکم سے چاند کی طرف اشارہ کردیا چناچہ اللہ کے حکم سے دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکرا جبل ابی قبیس پر اور دوسرا ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا مشرکین اور دیگر لوگ اس عظیم معجزے کا مشاہدہ کررہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پزیر ہوا جس میں مخلوق کی ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کرسکتی ہے چناچہ انہوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہد کیا جو اس سے قبل انہوں نے کبھی نہیں دیکھا بلکہ انہوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے انبیا ومرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہرہوا ہو وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہوگئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔ انہوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے محمد نے ہم پر جادو کردیا مگر اس کی علامت یہ تھی کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر تمہارے پاس آیا ہے اگر حضرت محمد تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کرسکتے جس نے تمہاری طرح چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا مشاہدہ نہیں کیا چناچہ انہوں نے اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر آئے تھے انہوں نے بھی شق قمر کی وقوع کے بارے میں خبر دی اس پر انہوں نے کہا (سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ) یہ اہک ہمیشہ کا جادو ہے محمد نے ہم پر بھی جادو کردیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انہی لوگوں میں رواج پاسکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بےوقوف، ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکتے ہوئے ہیں یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں اس لیے فرمایا (وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا) اور اگر وہ مشرک کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں یہاں ضمیر کو شق قمر کی طرف نہیں لوٹایا اور یوں نہیں کہا کہ وان یروھا اور اگر وہ اسے دیکھتے ہیں بلکہ کہا (وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا) پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے اس لیے فرمایا (وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ ) اور انہوں نے اسے جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فان لم یستجیبوا لک فاعلم انما یتبعون اھواھم۔ القصص 50) پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجئے کہ وہ صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور حضرت محمد کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انہیں براہین وبینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے

(وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ) اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت ومنتہی تک نہیں پہنچا عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلیں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 54:4

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے

اللہ تبارک وتعالی نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد نہ اتباع ہدایت (وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ) اور یقینا ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں یعنی سابقہ اور موجود خبریں اور معجزات ظاہرہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر وتوبیخ کرتا ہے۔
Ayah 54:5

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

(حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ) یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔ (فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ) پھ رمحض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لایومنون ولو جاءتھم کل اٰیۃ حتی یروالعذاب الالیم۔ یونس 96۔ 97) وہ ایمان نہیں لائیں گے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آجائے حتی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
Ayah 54:6

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو تم بھی ان کی پروا نہ کرو جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا

اللہ تبارک وتعالی رسول سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں ان کے اندر گردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہاتو فرمایا۔ (فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ) چناچہ اے نبی آپ بھی ان سے اعراض کریں۔ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجئے یہ دن وہ ہوگا جب (یدع الداع) پکارنے والا پکارے گا۔ یعنی حضرت اسرافیل (الی شئی نکر) یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف طبیعت جس کا انکار کرے گی۔ تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر دردناک منظر نہیں دیکھا ہوگا پس اسرافیل صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت کے میدان میں کھڑے ہوں گے۔
Ayah 54:7

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

(خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ ) ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ یعنی اس دہشت اور گھبراہٹ کے باعث جو ان کے دلون میں پہنچ کر ان کو عاجز اور کمزور کردے گی اور اس بنا پر ان کی نگاہیں پست ہوجائیں گی۔ ( َخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ) وہ قبروں سے یوں نکلیں گے جیسے کہ وہ۔ اپنی کثرت اور بےترتیب ہونے کی وجہ سے منتشر ٹڈی دل ہوں۔ یعنی وہ زمین میں پھیلے ہوئے اور بہت زیادہ ہوں گے۔
Ayah 54:8

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے ؟ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے

(مُّهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ ۭ ) درآنحالیکہ وہ بلانے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے یعنی پکارنے والے کی پکار کا جلدی سے جواب دیتے ہوئے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ پکارنے والا انہیں پکارے گا اور قیامت کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے گا وہ اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور جلدی سے تعمیل کریں گے۔ ( يَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ ) یعنی وہ کفر جن کے سامنے ان کا عذاب موجود ہوگا کہیں گے ( ھٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ) یہ بڑا سخت دن ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (علی الکافرین غیر یسیر۔ المدثر 10) کافروں پر وہ دن آسان نہ ہوگا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دن مومنوں پر بہت آسان ہوگا۔
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندوں کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی

جب اللہ تبارک وتعالی نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنہوں نے اس کے رسول کو جھٹلایا نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے اور نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انہیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤں سے ڈرایا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا کہ اللہ نے کیسے ان کو ہلاک کردیا اور ان پر عذاب نازل کیا چناچہ قوم نوح کا ذکر کیا حضرت نوح نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انہوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے (ولاتذرن ودا ولاسواعا۔۔۔۔ تا۔۔۔ ونسرا۔ نوح 23) ۔ تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو سوا کو اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔ حضرت نوح انہیں شب روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد سرکشی اور اپنے نبی میں جرح قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا بنابریں یہاں فرمایا (فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ) چناچہ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا یہ تو دیوانہ ہے۔ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آبا و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے اسی پر عقل دلالت کرتی ہے اور حضرت نوح جو چیز پیش کررہے ہیں وہ جہالت او گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہوسکتی ہے انہوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلا اور شرعا ثابت شدہ تھے کیونکہ حضرت نوح جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اور روشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائ کرتا تھا اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا (وازدجر) یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر وتوبیخ کی اور برا بھلا کہا کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی آپ کی قوم نے اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں تمام انبیا ومرسلین کے دشمنوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ کیا۔
Ayahs 54:10–12

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الہا) میں (انکے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلا لے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دئیے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین میں چشمے جاری کر دئیے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا

تب اس موقع پر حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ) بیشک میں کمزور ہوں۔ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوح کی قوم میں بہت تھوڑے سے اور چند لوگ ایمان لائے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ (فانتصر) اے اللہ میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت میں حضرت نوح نے دعامانگی (رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ نوح 26) ۔ اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمالی اور حضرت نوح کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا فرمایا (فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَاۗءِ بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ 11۝ڮ) چناچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔ ( وَّفَجَّــرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا) اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے بس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتی کہ تنور سے بھی چشمہ پانی کا پھوٹ پڑا جہاں عادتا چشمے کا ہونا تو کجا پانی بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے (فالتقی الماء علی امر) تو آسمان اور زمین کا پانی مل گیا ایک ایسے امر پر جو اللہ کی طرف سے بیشک طے تھا یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدور کررکھا تھا۔
Ayah 54:13

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا

(وَحَمَلْنٰهُ عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ) یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر (اس طوفان سے) نجات دی جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
Ayah 54:14

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے

(تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا ۚ ) یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ پانی پر چل رہی تھی جن کو حضرت نوح نے اپنے ساتھ اس میں سوار کیا تھا یہ اللہ کی نگرای ڈوبنے سے اس کی حفاظت اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کارساز ہے۔ (جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ ) یعنی ہم نے نوح کو غرق عام سے بچایا اس جزا کے طور پر آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلا دیا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا نہ آپ کا راستہ روک سکا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا (قیل ینوح اھبط بسلم منا۔۔۔ تا۔۔۔ الیم۔ ھود 48) ۔ کہا گیا اے نوح اتر تو ہماری طرف سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اور ان قوموں پر نازل کی گئی ہیں جو آپ کے ساتھ ہیں اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم دنیا میں کچھ فائدہ دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا ان کے کفر اور عنادی کی جزا کے طور پر یہ معنی اس شخص کی قرات پر مبنی ہے جس نے کفر کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

(وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح کے قصے کو ایک نشانی کے چھوڑا جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ (ترکنھا) کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت نوح کو دی تھی پھر اسی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں کو باقی رکھا تاکہ یہ اللہ کی اپنی مخلوقت پر رحمت اور عنایت اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ (فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) ۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر وذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والا ہے، بیشک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
Ayah 54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

(فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ) پس اے مخاطب تو نے اللہ تعالیٰ کے دردناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی۔
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

(وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے اور اس کے معانی کو علم وفہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا معنی کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے اللہ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کردیتا ہے۔ الذکر۔ حلال و حرام کے احکام، امر وانواہی، جزا اور سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعیہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے بنابریں قرآن کریم کا علم حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل علم ہے قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے بندہ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے اور اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کیا کوئی طالب علم ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا (فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔
Ayahs 54:18–20

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ لوگوں کو (اس طرح) اکھیڑے ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں

عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود کو مبعوث فرمایا جو انہیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انہوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا پس اللہ نے ان پر (ریحا صرصرا) سخت طوفای ہوا بھیجئ (فی یوم نحس) منحوس دن میں۔ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ (مستمر) جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انہیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔ (تنزع الناس) وہ اپنی شدت کی وجہ سے لوگوں کو بیخ کنی کررہی تھی انہیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پے دے مارتی تھی اور یوں انہیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہوگئی تھی (ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ) گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھی جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنہیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں جب مخلوق اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہوجاتی ہے۔
Ayah 54:21

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا

(فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ) پھر میرا عذاب اور میرا ڈر اوا کیسا تھا ؟ اللہ کی قسم دردناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حضت باقی نہ رہنے دی۔
Ayah 54:22

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

) وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) اور یقینا ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انہیں اس امر کی طرف بلایا جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔
Ayahs 54:23–24

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے

(كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ) ثمود نے جھٹلایا۔ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالح نے انکو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا انہوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا (ابشرامنا واحدا نتبعہ) بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں ؟ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کرسکتے ہیں جو فرشتہ نہیں جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے۔ (انااذا) یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی (اِنَّآ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ) تو تب ہم گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انہوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے انکار کردیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انہیں شجر وحجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
Ayahs 54:25–26

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خودپسند ہے

(ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا) کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے یعنی اللہ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے ؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہیے ؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں اسی کی بنیاد پر انبیا ومرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے اللہ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انہوں نے امتوں سے کہا تھا۔ (قالت لھم رسلھم ان نحن۔۔ تا۔۔۔ عبادہ۔ ابراہیم 11) ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختص اس کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسان کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا تو جھٹلانے والوں پر فورا عذاب نازل ہوجاتا۔ قوم ثمود سے اپنے نبی کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالح کو جھٹلانا تھا اس لیے انہوں نے آپ پر ظالمانہ حکم لگای اچنانچہ انہوں نے کہا ( بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ) بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے اللہ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بےوقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں۔ جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ انکو سزا دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لی اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی اور اس کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ (فتنۃ الھم) یعنی اللہ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔
Ayah 54:27

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

(اے صالح ! ) ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو

(فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ ) پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہی یا کفر پر ڈٹے رہتے ہیں۔
Ayah 54:28

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو آگاہ کردو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کردی گئی ہے ہر (باری والے کو اپنی) باری پر آنا چاہیے

(وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ ) یعنی ان کو آگاہ کردیجئے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہوگا یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا ایک دن اونٹنی پانی پیے گی اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے (كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ) ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوگا۔ یعنی اس رز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہوگی اور جس کی باری نہ ہوگی اس کے لی پانی پر آنے کی ممانعت ہوگی۔
Ayah 54:29

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلا یا تو اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں

(فنادوا صاحبھم) پھر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو بلایا۔ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ فَتَعَاطٰى) تو قوم ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی۔ چناچہ اس نے اس کو قتل کرڈلا۔
Ayahs 54:30–32

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

(دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر (عذاب کے لئے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے ؟

(فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ (۔ پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈر کیسا تھا یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ نے ایک سخت چنھگاڑ کے اور زلزلہ بھیجا جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کرڈالا اور اللہ نے حضرت صالح اور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
Ayahs 54:33–37

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے انکو پچھلی رات ہی سے بچا لیا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنے فضل سے شکر کرنے والے کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور ان سے ان کے مہمانوں کو لینا چاہا تو ہم نے انکی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

(كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢ بِالنُّذُرِ ) جب حضرت لوط نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلایا اور انہیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تو انہوں نے حضرت لوط کی تکذیب کی پس انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے حتی کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانووں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط کی قوم نے سنا توجلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کا برا کرے وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا انہوں نے ان کو اندھا کرڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ کی گرفت اور سزا دے ڈرایا۔ (فتماروا باالنذر) تو انہوں نے ڈرواے میں شک کیا۔
Ayahs 54:38–40

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

تو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

(وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ) اور یقینا صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انہیں ہلاک کردیا اللہ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کرکے نچلے کو الٹ کر اوپر کردیا اور اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے جو تیرے رب کے ہاں حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے اللہ نے حضرت لوط اور ان کے گھروالوں خوان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی معصومیت سے نجات دی۔