54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہوگیا،1۔

1۔ معجزہ شق القمر رسول اللہ ﷺ کے مشہور معجزات میں سے ہے۔ حضور ﷺ کا قیام مکہ میں تھا اور ہجرت کو ابھی 5 سال کا زمانہ باقی تھا کہ ایک مرتبہ غالبا بتقریب حج جب منی میں اجتماع تھا تو مشرکین مکہ نے آپ ﷺ سے معجزہ کی فرمائش کی۔ آپ ﷺ نے باذن الہی چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کیا اور وہ لوگوں کو دو ٹکڑوں میں پھٹا ہوا نظر آیا۔ یہاں اس معجزہ روشن کا ذکر ہے۔ جو لوگ اپنے خدا کو عاجز اور محدود الاختیار اور ناقص القوی سمجھتے ہیں یا اپنی نافہمی سے سرے سے امکان معجزہ وخرق عادت ہی کے قائل نہیں، ان سے تو گفتگو دوسرے رخ سے کی جائے گی (اور جا بجا ان سے یہی خطاب ان حاشیوں میں آچکا ہے) البتہ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے حکمت لامحدود اور قدرت نامتناہی کے لحاظ سے جو واقعہ اور جس طرح جب چاہے دنیا میں واقع کرسکتا ہے اور کرتا رہتا بھی ہے، ان سے عرض ہے کہ ایسے سارے واقعات کا ثبوت صرف تاریخی ہی ہوسکتا ہے۔ اور اسی کا نام دلیل نقلی ہے۔ (جو کوئی حقیر چیز نہیں بلکہ دلیل عقلی ہی کے مساوی الوزن اور ہم مرتبہ ہے) اور اس واقعہ خاص کے ثبوت میں شہادتیں بڑی کثرت سے اور بڑی وزن کی موجود ہیں۔ چناچہ :۔ قدکان ھذا فی زمان ﷺ کما وردذالک فی الاحادیث المتواترۃ بالاساندی الصحیحۃ وھذا امر متفق علیہ بین العلماء ان انشقاق القمر قد وقع فی زمان النبی ﷺ وانہ کان احدی المعجزات الباھرات (ابن کثیر) یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے زمان مبارک میں پیش آیا جیسا کہ متعدد احادیث میں اسناد صحیح کے ساتھ آچکا ہے اور اس مسئلہ میں پر سارے اہل علم کا اتفاق ہے کہ شق قمر رسول اللہ ﷺ کے زمان مبارک میں واقع ہوا ہے اور اس کا شمار آپ کے مشہور معجزات میں ہے۔ یہاں تک کہ بہتوں نے اس کا تواتر کا بھی دعوی کیا ہے :۔ وذلک علی عھد رسول اللہ ﷺ قبل الھجرۃ بنحوخمس سنین ..... والاحادیث الصحیۃ فی الانشقاق کثیرۃ واختلف فی تواترۃ فقیل ھو غیر متواتر وفی شرح المواقف الشریف انہ متواتر وھو الذی اختارہ العلامۃ ابن السبکی قال فی شرحہ لمختصر ابن الحاجب الصحیح عندی ان انشقاق القمر متواتر منصوص علیہ فی القران مروی فی الصحیحین وغیرھما من طرق شتی بحیث لایجتری فی تواترہ (روح) ۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ہجرت سے 5 سال قبل پیش آیا تھا اور شق کے بارے میں صحیح حدیثیں کثرت سے آئی ہیں۔ اور اس خبر کے متواتر ہونے میں اختلاف ہے۔ چناچہ یہ قول بھی ہے کہ یہ خبر غیر متواتر ہے اور شریف کی شرح مواقف میں ہے کہ یہ خبر متواتر ہے اور یہی مسلک کا بھی ہے جنہوں نے المختصر لابن حاجب کی شرح میں لکھا ہے کہ شق قمر کی خبر متواتر ہے، جس پر خود قرآن کی نص اور صحیحین وغیرہ کی نص متعدد طریقوں پر اس طرح گواہ ہیں کہ اب اس کے تواتر میں کلام نہیں کیا جاسکتا۔ قد تواتر الخبر بہ عن الصحابۃ ولم ینکربہ منھم احد (جصاص) ۔ ” حضرات صحابہ سے یہ نقل متواتر ہو کر پہنچی ہے اور اس کا انکار کسی صحابی نے بھی نہیں کیا “۔ احادیث میں یہ خبر ایک نہیں، دس دس صحابیوں سے روایت ہوئی ہے۔ جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت انس بن مالک وغیرہم شامل ہیں۔ روی انشقاق القمر عشرۃ من الصحابۃ منھم عبداللہ بن مسعود و ابن عمر وانس وابن عباس وحذیفہ وجبیر بن مطعم فی اخرین کرھت ذکر اسانیدھا للاطالۃ (جصاص) آیت کا یہ مطلب تو کھلا ہوا، الفاظ قرآنی سے ظاہر ہور ہا ہے کہ نہایت قریب آ لگی ہے اور اس کے آثار و علامات قرب میں سے یہ واقعہ شق القمر واقع ہوگیا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعہ شق قمر خود ایک دلیل وقوع قیامت پر اور اس کی ایک نظیر ہے۔ جس طرح آج یہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا، اسی طرح اس روز کائنات کی ہر چیز پارہ پارہ ہو کر رہے گی۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور یہ اگر کوئی نشان دیکھ لیتے ہیں، تو (اسے) ٹال جاتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں (یہ) جادو ہے جو ابھی ختم ہوجائے گا،2۔

2 (جیسا کہ ہر سحر ایک عارضی چمک دمک کے بعد فنا ہوجاتا ہے۔ ) ذکر مشرکین مکہ اور ان کی شدت ضد وعناد کا ہورہا ہے کہ یہ لوگ صریح سے بھی صریح واضح سے بھی واضح نشان غیبی دیکھ کی اس کی طرف اصلا التفات نہیں کرتے بلکہ اسے سحر پر محمول کر کے اس کی طرف سے بےپروا ہوجاتے ہیں اور یہی کہنے لگتے ہیں کہ بس جیسے اور جادو کے کرشمے وقتی اور چند روزہ ہوتے ہیں، یہ جادو بھی ایک مدت کے اندر ختم ہوجائے گا۔ مستمر۔ مٹ جانے والا، عارضی، فانی، اے ذاھب قالہ مجاھد وقتادۃ وغیرھما اے باطل مضمل لا دوام لہ (ابن کثیر)
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر بات کو قرار آجاتا ہے،3۔

3۔ عینی بعد چندے ہر امر کی اصلی حالت معین ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس دین سے متعلق بھی نظر آجائے گا کہ آیا یہ کوئی سحر یا ڈھکوسلا ہے اور یا کوئی باقی رہ جانے والی حقیقت۔ واتبعوا اھوآء ھم۔ اس سے اس جانب اشارہ ہوگیا کہ تکذیب واعراض بھی محض ہو ائے نفس سے تھا اس کی تہ میں کوئی عقلی اشتباہ نہ تھا۔
Ayah 54:4

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے پاس خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ جن میں کافی عبرت ہے،4۔

4۔ (اور ان سے پورا اور واضح نتیجہ عقوبت عاجل سے متعلق نکل سکتا ہے) من الانبآء۔ عینی پرانی نافرمان قوموں کے زیر عذاب آنے اور ہلاک و برباد ہونے کے متعلق خبریں۔
Ayahs 54:5–6

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اعلی درجہ کی دانش مندی ہے، مگر ڈرانے والی چیزیں انہیں کچھ فائدہ نہیں دیتیں ،

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجئے،5۔ جس روز ایک بلانے والا (فرشتہ) انہیں ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا،

5۔ یعنی آپ ایسے لوگوں کے متعلق جن کا یہ حال ہوچکا ہے اور جو اس درجہ مسخ ہوچکے ہیں، کچھ زیادہ فکروتردد میں نہ پڑیے۔ فما تغن النذر۔ یہ بیان ہو رہا ہے ان لوگوں کے غایت جمود وشدت تصلب کا کہ یہ انذاری نشانات سے کچھ بھی عبرت وہدایت حاصل نہیں کرتے۔ حکمۃ بالغۃ۔ یہ قرآن اعلی حکمتوں اور دانشمندیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں جو سامان عبرت پرانے قصص سے رکھ دیا گیا ہے وہ نہایت پر حکمت۔
Ayahs 54:7–8

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، قبروں سے (اس طرح) نکل رہے ہوں گے، جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے دوڑے چلے آرہے ہوں گے ،

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

بلانے والے کی طرف، کافر لوگ کہتے ہوں گے کہ یہ دن بڑا سخت ہے،6۔

6۔ (اور واقع میں وہ وقت کافروں کے لیے انتہائی ہوگا بھی) بیان روز حشر کی ہولناکیوں اور دہشت انگیزیوں کا ہورہا ہے۔ خشعا ابصارھم۔ منکروں کی آنکھیں اس روز تو کچھ ندامت سے اور کچھ ہیبت سے اور پھر کچھ احساس ذلت سے بہر حال زمین کی طرف لگی ہوں گی۔ کانھم جراد منتشر۔ انسانوں کے اس انبوہ عظیم کی قریب ترین مثال جو اس دنیا میں دی جاسکتی ہے وہ ٹڈی دل ہی کی ہے۔ ٹڈی دل جب کبھی اپنی پوری قوت کے ساتھ ظہور پذیرہوتا ہے تو ساری فضائے آسمانی پر میلوں بلکہ منزلوں تک ٹڈیوں کے دل بادل تہ بہ تہ چھا جاتے ہیں اور دن کی روشنی ماند ہو کر تاریکی پھیل جاتی ہے۔ مبصرین کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ مشرقی افریقہ میں جب ٹڈی دل پوری قوت کے ساتھ آیا ہے تو عرض میں تین میل اور طول میں ساٹھ میل تک تھا اور ٹڈیوں کی تعداد کا تخمینہ اس وقت سو کھرب یا ایک نیل (000، 00، 00، 00، 00، 100) کا کیا گیا۔ اور بیض دل اس سے بھی بڑے بڑے مشاہدہ میں آچکے ہیں !
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان لوگوں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم والے تکذیب کرچکے ہیں، سو انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی اور کہا کہ یہ مجنون ہیں، اور (نوح کو) دھمکی بھی دی گئی،7۔

7۔ (سنگساری وغیرہ۔ آزار رسانی کی) سنگساری کی دھمکی کی تصریح تو سورة الشعراء میں آبھی چکی ہے۔ لئن لم تنتہ ینوح لتکونن من المرجومین۔ عبدنا سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ عبد کا لفظ جب اس کی اضافت حق تعالیٰ کی جانب ہو، قرب یا مرتبہ خصوصی کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ اور عبدنا یا عبداللہ کا استعمال محاورہ قرآنی میں ہمیشہ لطف و رحمت ہی کے مخصوص موقعوں پر ہوا ہے۔
Ayah 54:10

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

اس پر انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں درماندہ ہوں سو تو بدلہ لے لے،8۔

8۔ (کہ میں عاجز و ناتواں ان لوگوں سے مقابلہ نہیں کرسکتا) ، اللہ اللہ ! کیا شان بےنیازی ہے۔ پیمبر عین داعی حق بنا کر بھیجے جاتے ہیں اور جا کر باغیوں، منکروں کے ہاتھوں اتنی ایذائیں اٹھاتے ہیں کہ ہر طرح اپنی مغلوبیت اسور بےبسی محسوس کر کے آخر کار دعاء اور دعائے انتقام پر مجبور ہوجاتے ہیں ! سچ کہا ہے کسی عارف نے م ما پروریم دشمن ومامی کشیم دوست کس رارسد نہ چون وچرا درقضائے ما۔
Ayahs 54:11–12

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

سو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے بکثرت برسنے والے پانی سے،

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین میں چشمے پھوڑ دیئے سو پورا پانی مل گیا اس کام کے لئے جو تجویز ہوچکا تھا،9۔

9۔ اور وہ امر مقدر یا تجویز شدہ کیا تھا ؟ منکروں، سرکش منکروں کی غرقابی ، (آیت) ” ففتحنا ........ منھمر “۔ یعنی اوپر آسمان سے بھی بارش ہوئی۔ (آیت) ” وفجرنا الارض عیونا “۔ یعنی ادھر زمین کے بھی ہوتے ابل پڑے۔ (آیت) ” فالتقی ..... قدر “۔ غرض یہ کہ اوپر کے پانی اور نیچے کے پانی دونوں نے مل ملا کر خدائی منصوبہ کی تکمیل کردی۔ قصہ طوفان نوح پر مفصل حاشیے سورة ہود (پ 12) میں گزرچکے۔
Ayahs 54:13–14

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو سوار کردیا تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری نگرانی میں رواں تھی،10۔ (یہ سب) انتقام میں اس شخص کے تھا جس کا انکار کیا گیا تھا،11۔

10۔ اور اس اس لئے ہر قسم کے گزندوآفت سے معجزانہ طور پر محفوظ تھی) (آیت) ” حملنہ “۔ کشتی میں حضرت نوح کے ساتھ ساتھ ان کے متبعین مومنین بھی سوار تھے۔ (آیت) ’ ذات الواح ودسر “۔ آہنی آلات سے چرے ہوئے چوبیں تختے اور لوہے کی بنی ہوئی ڈھلی ہوئی کیلیں اور باقاعدہ کشتی سازی یہ سب شہادتیں ہیں اس امر کی کہ قوم نوح ایک اچھی مہذب ومتمدن قوم تھی ، 11۔ (اور جس کے لائے ہوئے پیام کو جھٹلایا گیا تھا) اس پیام کا جزء اعظم توحید تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلالت اس امر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولین کی طرف سے بھی انتقام لے لیا کرتا ہے۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس واقعہ کو نشان (عبرت) کے طور پر رہنے دیا، سو ہے کوئی نصحیت حاصل کرنے والا،12۔

12۔ (عبرت وموعظت کے ان کھلے ہوئے مضامین کو سن کر) (آیت) ” ولقد ترکنھا ایۃ “۔ یہ نشان عبرت محفوظ کردیا گیا لوگوں کے حافظہ میں، تاریخ کے اوراق میں۔
Ayah 54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

سو (دیکھو) میرا عذاب اور میری تنبییں کیسی ہیں ؟ ،13۔

13۔ یعنی میرا وعدۂ عذاب کیسا پورا ہو کر اور نفس عذاب کیسا واقع ہو کر رہا۔
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ ،14۔

14۔ (عبرت وموعظت کے ان کھلے ہوئے مضامین کو سن کر) (آیت) ” ولقد یسرنا القران للذکر۔ یسرنا “۔ سے اشارہ اس حقیقت کی جانب ہوگیا کہ یہ محض توفیق و احسان الہی ہے جس نے قرآن کو آسان کردیا ہے، ورنہ یہ چیز انسانی فہم و دماغ کے بس کی نہ تھی۔ (آیت) ” یسرنا القران للذکر۔ للذکر “۔ کی قید نے اسے صاف کردیا کہ قرآن مجید آسان تو بیشک ہے، لیکن صرف عبرت وتذکیر، ترغیب وترہیب کے اعتبار سے۔ استنباط مسائل بجائے خود ایک مستقل ودقیق فن ہے ؛ ملکہ خصوصی ومہارت تحقیقی کا محتاج۔
Ayahs 54:18–19

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے بھی تکذیب کی، سو (دیکھو) میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی رہیں ؟ ،

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک تند ہوا مسلط کی ایک دائمی نحوست کے دن،15۔

15۔ (ایسی مستقل وپائدار نحوست ان کے حق میں لے کر، کہ پھر وہ عذاب الہی ان سے زندگی بھر کبھی نہ ٹلا۔ بلکہ بعد موت بھی انہیں عذاب آخرت کے حوالہ کرے گا) (آیت) ” یوم “۔ مراد مطلق زمانہ سے ہے کوئی ایک متعین و محدود مدت مراد نہیں۔
Ayah 54:20

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

لوگوں کو (اس طرح) اکھاڑ پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں،16۔

16۔ اس طوفانی آندھی نے اس مضبوط وتنومند، توانا اور لحیم وشحیم قوم کو یوں اٹھا اٹھا کر پٹخا جیسے کسی تیز وتند آندھی کے اثر سے بڑے بڑے کھجوروں کے جمے جمائے ہوئے تنے دور دور جاکر گرتے ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ اس قرآنی تشبیہ میں علاوہ ان لوگوں کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے قومی جسموں اور طویل قامتوں کی طرف بھی نکلتا ہے۔ قوم عاد کی ہلاکت و بربادی کا ذکر کئی بار آچکا ہے۔ حاشیے بار بار گزر چکے۔
Ayahs 54:21–22

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سو (دیکھو) میرا عذاب اور میری تنبی ہیں کیسی رہیں ؟

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور قرآن کو ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ ،17۔

17۔ بڑا ہی بدنصیب ہے وہ جو قرآن مجید کے پر عبرت وسبق آموز قصوں سے گزرے اور محض گزرتا چلا جائے، ان سے انجام بینی کے سبق نہ حاصل کرے۔
Ayahs 54:23–24

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے بھی تنبیہ کرنے والوں کی تکذیب کی ،

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور بولے کہ کیا ہم اپنے ہی ہم جنس ایک انسان کی پیروی کریں اور وہ بھی اکیلا پھر تو ہم نرے بیوقوف اور مجنون ٹھہرے،18۔

18۔ یعنی یہ کوئی دیوی دیوتا ہوتا، کوئی خدائی اوتار ہوتا، جب تو خیر ایک بات بھی تھی، لیکن جب یہ کچھ بھی نہیں، اپنے ہی ہم جنس، اپنے ہی جیسے ایک انسان کے پیچھے لگ جانا، اس کی راہ پر چل پڑنا، اور پھر وہ انسان بھی کیسا، نہ اس کے ساتھ کوئی کروفرنہ کوئی جاہ و شکوہ، یہ بھی بھلا عقل کی کوئی بات ہے ؟ ساری دنیا ہمیں کیسا الو بنائے گی ! (آیت) ” ابشرا منا “۔ پیغمبر کی یہ بشریت ہی سب سے بڑی رکاوٹ، مشرکوں اور شرک پیشہ لوگوں کے قبول حق کی راہ میں رہی ہے۔
Ayah 54:25

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ بلکہ یہ بڑا جھوٹا ہے، شیخی باز ہے،19۔

19۔ (جو شیخی کے مارے باتیں ایسی بڑائی کی کرتا ہے کہ اسے سرداری مل جائے) اللہ اللہ ! یہ پیغمبر کا درجہ ہے۔ منکروں، مسخ شدہ ذہینت والے منکروں کی نظر میں !۔۔ شیطان کے تسلط کے بعد کوئی حد ہی انسان کی سخافت فکر کی نہیں رہ جاتی !۔
Ayah 54:26

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

انہیں عنقریب کل ہی معلوم ہوا جاتا ہے کہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز کون تھا،20۔

20۔ (آیت) ” غدا ‘۔ مراد ” مرتے ہی “ ہے۔ دنیوی عذاب کی آمد بھی مراد ہوسکتی ہے۔ مقصود بہرصورت متوقع عذاب کی تاکید وتیقن ہے۔ عند نزول العذاب بھم اویوم القیامۃ (مدارک) (آیت) ” الکذاب “۔ جھوٹے اور سخت جھوٹے یہ لوگ ثابت ہوں گے بلحاظ انکار توحیدورسالت کے۔ (آیت) ” الاشر “۔ شیخی باز یہ لوگ ثابت ہوں گے اس لحاظ سے کہ انہیں نبی کے اتباع میں عار آتا تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اصلاح سے مایوس ہوجانے کے بعد اہل طریق بھی اسی طرز پر معاندین کو جواب دیتے ہیں۔
Ayahs 54:27–28

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

ہم اونٹنی کو ظاہر کرنے والے ہیں ان کی آزمائش کے لئے سو انہیں دیکھتے بھالتے رہنا اور صبر سے بیٹھے رہنا،

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے،21۔

21۔ یعنی اونٹنی اپنی باری پر پانی پینے آئے اور لوگوں کے جانور اپنی باری پر۔ (آیت) ” انا مرسلوالناقۃ “۔ یعنی ہم اونٹنی کا ظہور بطور معجزہ کے کرینگے۔ حضرت صالح اور قوم ثمود کا ذکر اوپر کئی بار آچکا۔ اور حاشیے بھی بار بار گرچکے۔
Ayahs 54:29–31

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

پھر انہوں نے رفیق کو بلایا، سو اس نے (اس پر) وار کیا اور (اس کو) ہلاک کر ڈالا ،

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

سو دیکھو میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی رہیں ؟

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک ہی نعرہ مسلط کیا سو وہ ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑ لگانے والے کا چورا،22۔

22۔ یعنی جیسے مواشی وغیرہ سے حفاظت کے لئے کھیت کے گرد کانٹوں کی باڑلگا دیتے ہیں اور چند روز بعد وہ سب چورا چورا ہوجاتی ہے، بس اسی طرح پر وہ پر قوت وپر عظمت قوم ہلاک وبرباد ہو کر رہی۔ تشبیہ خا ص عربوں کے مذاق کی ہے جسے وہ خوب اچھی طرح سمجھ سکتے تھے۔
Ayahs 54:32–35

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے ڈرانے والوں کی تکذیب کی ،

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

ہم نے ان پر پتھر برسائے، بجز خاندان لوط کے کہ انہیں صبح تڑکے بچا لیا ،

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اپنی طرف سے فضل کرکے،23۔ جو شکر کرتا ہے اسے ہم صلہ ہی ایسا دیا کرتے ہیں،24۔

23۔ یعنی انہیں بستی سے باہر نکال کر عذاب سے محفوظ کردیا۔ (آیت) ” الا ال لوط “۔ عذاب سے محفوظ صرف خاندان لوط رکھا گیا، لیکن نہ اس لئے کہ وہ لوگ نبی کے خاندان سے تھے بلکہ اس لئے کہ وہی لوگ تو ایمان لائے اور نبی کی تصدیق کرنے والے تھے ورنہ اگر محض اس خاندان سے ہونا محفوظیت کیلئے کافی ہوتا تو خود زوجہ حضرت لوط کیوں مبتلائے عذاب ہوتیں۔ (آیت) ” بالنذر “۔ نذر۔ نذیر کی جمع اور مراد پیغمبر کی توجیہ، محض حضرت لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کی بنا پر ہوسکتی ہے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے پیغمبروں کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ 24۔ یعنی اپنے قہر و عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” من شکر “۔ شکر ادا کرنے سے یہاں مراد ایمان لانے سے ہے۔
Ayah 54:36

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تھا، سو انہوں نے (اس) ڈرانے میں جھگڑے نکالے،25۔

25۔ (جیسا کہ ہر شریر و سرکش قوم نکالتی ہی رہتی ہے۔ (آیت) ” فتماروا بالنذر “۔ یعنی کسی طرح آپ ﷺ کی تنبیہات پر یقین نہ کیا اور ان میں برابر حجتیں ہی نکالتے رہے۔