54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا

یہ ایک خوبصورت اور آنکھیں چندھیا دینے والا منظر ہے جس میں ایک عظیم کائناتی حادثہ دکھایا گیا ہے اور یہ اس سے بھی عظیم تر حادثہ کی تمہید ہے۔ اقتربت…………القمر (54: 1) ” قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند ٹکڑے ہوگیا “ امام بخاری نے روایت کی عبداللہ ابن عبدالوہاب سے انہوں نے بشر ابن مفضل سعید ابن ابوعروہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس ابن مالک سے وہ کہتے ہیں ” اہل مکہ نے رسول ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ تو آپ نے ان کو دکھایا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور دونوں کے درمیان حرا تھا۔ “ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے دوسری اسناد سے بھی قتادہ اور حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے حضرت جبیر بن مطعم کی روایت امام احمد نے محمد ابن کثیر سے کی ہے۔ انہوں نے سلیمان ابن کثیر سے انہوں نے حصین ابن عبدالرحمن سے ، انہوں نے محمد ابن جیرابن مطعم سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت جبیر بن مطعم سے۔ وہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر نظر آتا تھا اور دوسرا اس پہاڑ پر تو کفار نے کہا محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ اگر اس نے ہم پر جادو کیا ہے تو یہ دنیا کے سب انسانوں پر تو جادو نہیں کرسکتا۔ یہ روایت اس طریقے سے صرف امام احمد ہی نے کی ہے۔ امام بیہقی نے اپنی کتاب الدلائل میں بواسطہ محمد ابن کثیر ، اس کے بھائی سلیمان ابن کثیر سے ، اور انہوں نے حصین ابن عبدالرحمان سے روایت کی ہے اور ابن جریر اور بیہقی نے دوسرے طریقوں اور سندوں کے ساتھ حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے نقل کی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت امام بخاری نے روایت کی۔ یحییٰ ابن کثیر سے انہوں نے بکر سے ، انہوں نے جعفر سے ، انہوں نے عراک ابن مالک سے ، انہوں نے عبید اللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے وہ کہتے ہیں حضور اکرم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ “ امام بخاری نے اور امام مسلم نے ایک سابقہ سند کے ذریعہ بواسطہ عراک ابن عباس سے روایت کی اور امام ابن جریر نے ایک دوسری سند سے بواسطہ علی ابن ابو طلحہ ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی۔ یہ اس طرح ہوا کہ ہجرت سے قبل چاند پھٹ گیا یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھا کہ وہ دو ٹکڑے ہے۔ عوفی نے بھی حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ طبرانی نے ایک دوسری سند سے بواسطہ مکرمہ ، حضرت ابن عباس ؓ روایت کی۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ کے زمانے میں چاند تاریک ہوگیا تھا۔ “ تو اہل مکہ نے کہا…. محمد ﷺ نے چاند پر بھی جادو کردیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اقتربت…………مستمر (54: 2) حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت۔ حافظ ابوبکر بیہقی کہتے ہیں ابوعبداللہ الحافظ اور احمد ابن الحسن قاضی نے جروی سے روایت کی دونوں نے ، ابو العباس اصم سے ، انہوں نے عباس ابن محمد دوری سے ، انہوں نے وھب ابن جریرے انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے اعمش سے ، انہوں نے مجاہد سے ، اور انہوں نے عبداللہ ابن عمر ؓ سے ، اس آیت کی تفسیر میں۔ اقتربت…………القمر (54: 1) کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ کے زمانے میں ہوا تھا۔ یہ دو ٹکڑے ہوا تھا ایک پہاڑ سے پیچھے تھا اور ایک آگے تھا۔ “ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا۔ اللھم اشھد (اے اللہ…. گواہ رہنا) اس طرح اس روایت کو مسلم اور ترمذی نے شعبہ سے انہوں نے اعمش سے اور انہوں نے مجاہد سے نقل کیا ہے ۔ عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت امام احمد فرماتے ہیں۔ روایت کی سفیان ابن ابونحبیح نے ، مجاہد سے ، انہوں نے ابو معمر سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے وہ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ کفار نے اچھی طرح اسے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اشہدوا (گواہ رہو) امام بخاری اور امام مسلم نے سفیان ابن عینیہ سے یہی روایت کی ہے اور انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے ابو معمر عبداللہ ابن سخیرہ سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے ، امام بخاری کہتے ہیں کہ امام ابو داؤد طیالسی نے یہ روایت کی ، ابوعوانہ سے انہوں نے مغیرہ سے انہوں نے ابو الضحی سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ قریش نے کہا یہ ابن ابو کبثہ کا جادو ہے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا دیکھو جو لوگ سفر پر ہیں وہ آجائیں کیونکہ محمد ﷺ پوری دنیا کے لوگوں پر تو جادو نہیں کرسکتا چناچہ اس کے بعد جو سفر پر تھے وہ آئے اور انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ امام بیہقی نے دوسرے طریقوں سے بھی اسے روایت کیا ہے مسروق سے ، انہوں نے عبداللہ ابن مسعود سے ، مفہوم اسی سے ملتا جلتا ہے۔ یہ ہیں متواتر روایات مختلف اسناد اور طریق سے کہ یہ واقعہ ہوا اور مکہ میں اس کی جگہ بھی بتادی گئی۔ ماسوائے ایک روایت کے جس میں منبی کا ذکر ہے باقی روایات مکہ کے بارے میں ہیں۔ حضور کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا اور ہجرت سے قبل پیش آیا۔ اکثر روایات میں آتا ہے کہ یہ دو ٹکڑے ہوگیا اور یہ ایک روایت میں آتا ہے کہ یہ چاند گرہن ہوگیا تھا۔ بہرحال واقعہ جو بھی ہو روایات سے ثابت ہے اور روایات زمان ومکان کی تحدید بھی کرتی ہیں اور شق قمر کی ہیئت کا تعین بھی کرتی ہیں۔ یہ ایسا واقعہ تھا کہ قرآن کریم نے اسے بطور دلیل قیامت مشرکین کے سامنے پیش کیا۔ کوئی ایسی روایت مشرکین سے منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نفس واقعہ کا انکار کیا ہو۔ لہٰذا یہ واعقہ اسی طرح ہوا ہوگا اور اس قدر لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ ان کے لئے نفس واقعہ کو جھٹلانا ممکن نہ رہا ہوگا۔ اگرچہ بطور کبر اور غرور ہو۔ اگر ان کے لئے اس کی تکذیب کی کوئی بھی صورت ہوتی تو وہ ضرور کرتے۔ کفار سے جو روایات اور تبصرے منقول ہیں وہ یہ ہیں کہ محمد ﷺ نے جادو کردیا ہے لیکن خود ان میں سے دانشمند لوگوں نے کہا۔ ذرا تحقیق کرو اور مسافروں سے تحقیق کرنے کے بعد ان کو معلوم ہوگیا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے کیونکہ اگر اہل مکہ کو محمد ﷺ مسحور کرسکتے تو وہ پوری دنیا کو تو مسحور نہیں کرسکتے اور جب انہوں نے مسافروں سے پوچھا جو مکہ کے باہر سے آئے تھے تو انہوں نے بھی تصدیق کی۔ اب بات یہ رہ گئی کہ آیا مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں شق قمر کا معجزہ رونما ہوگیا۔ یہ روایت دراصل قرآن کی نص صریح سے متصادم ہے۔ مدلول یہ ہے کہ نبی ﷺ کو ویسے معجزات نہیں دیئے گئے جس طرح انبیائے سابق کو دیئے گئے تھے اور اس کا ایک متعین اور خاص سبب تھا۔ وما …………الاولون ” اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ ان سے پہلے کے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں “ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ حضور کو وہ معجزات نہیں دیئے گئے جن کا مطالبہ ہوا تھا۔ کفار نے جب بھی حضور ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کیا ہے تو جواب یہی دیا گیا کہ معجزات پیش کرنا آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ تو ایک بشر اور رسول ہیں اور ہر جگہ صرف قرآن کریم ہی کو آپ کے لئے معجزہ قرار دیا گیا اور اسی جیسی کوئی سورت یا کتاب لانے کا چیلنج دیا گیا۔ قل لئن……………. رسولا (39) (71 : 88 تا 39) ” کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار ہی پر جمے رہے اور انہوں نے کہا ” ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ نہ جاری کردے یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا قاغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کردے یا تو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا خدا اور فرشتوں کو رودررو ہمارے سامنے لے آئے یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے جڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔ “ اے نبی ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں “ لہٰذا یہ کہنا کہ شق قمر کا معجزہ کفار کے مطالبہ کے جواب میں آیا تھا ، قرآن مجید کی متعدد نصوص کے بھی خلاف ہے اور اس رجحان کے بھی خلاف ہے کہ اس دنیا میں آخری رسالت انسانیت کے سامنے صرف قرآن پیش کرے اور یہ کہ قرآن کا اعجاز ہی اس کا معجزہ ہو اور قرآن کے ذریعہ انسان کے دل و دماغ کو ان آیات ومعجزات کی طرف متوجہ کیا جائے جو انفس میں موجود ہیں جو آفاق میں بکثرت موجود ہیں اور جو انسانی تاریخ میں بکثرت ہیں اور سخت عبرت آموز بھی ہیں۔ باقی نبی ﷺ کے ہاتھ پر جو معجزات صادر ہوئے اور جن کی تصدیق صحیح روایات نے کی ہے تو وہ بطور اعزاز نبی ﷺ کو دیئے گئے بطور دلائل نبوت نہیں دیئے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ معجزہ شق قمر صادر ہوا۔ نص قرآنی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ روایات متواترہ میں اس کی تصدیق ہوئی اور جس جگہ اور جس زمانے میں صادر ہوا اس کا بھی تعین ہوگیا اور جس انداز میں ہوا اس کی تفصیلات بھی موجود ہیں لیکن جن روایات میں اس کی علت بیان کی گئی ہے اس کے بارے میں ہم خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ بس یہی کہتے ہیں کہ شق قمر دلالت کرتا ہے قرب قیامت پر اور اسی میں ہمارے لئے عبرت ہے کہ ہم چوکنے ہوجائیں۔ جاگیں اور اس کی تیاری کریں اس عظیم گھڑی کی۔ لہٰذا شق قمر ایک کائناتی معجزہ تھا اور قرآن نے انسانوں کو اس کی طرف متوجہ کیا ہے جس طرح قرآن مجید دوسرے تکوینی معجزات کی طرف متوجہ کرتا ہے اور جس طرح دوسرے معجزات کے مقابلے میں ان کا رویہ قابل تعجب ہے۔ اسی طرح اس معجزے سے بھی انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ خارق عادت معجزات ، انسانیت کے ابتدائی دور ہیں۔ بیشک انسانوں کو متاثر کرتے تھے جس دور میں انسانیت نے اس قدر علمی ترقی نہ کی تھی کہ وہ اس کائنات میں قائم اور بکھرے ہوئے معجزات کو سمجھ سکیں اور ان سے متاثر ہوں۔ گزرے ہوئے نبیوں کے ہاتھوں جن معجزات کا صدور ہوا اور انسانیت ان سے متاثر ہوئی تو یہ اس دور کی بات ہے جب انسانیت عقلی بلوغ کے درجے کہ نہ پہنچی تھی لیکن آج اس کائنات میں ایسے ایسے معجزات انسانیت کو معلوم ہوچکے ہیں جو ان معجزات سے بڑے معجزات ہیں۔ اگر چہان لوگوں کو وہ متاثر نہیں کرتے جو وہی ابلدائی احساسات رکھتے ہیں اور جو عقلی بلوغ کے درجے تک نہیں پہنچے۔ فرض کیجئے کہ چاند کا دو ٹکڑے ہونا معجزہ تھا تو چاند بذات خود بھی تو ایک معجزہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے اس حجم ، موجودہ وضع ، شکل ، طبیعت ، گردش کی منازل ، دورے ، اس کے آثار ، زمین کی زندگی پر اس کے اثرات اور فضا میں اس کا اس طرح تیرنا بغیر کسی سہارے کے کیا یہ ایک عظیم معجزہ نہیں ہے جو ہر وقت قائم اور دائم اور ہمارے مشاہدے میں ہے اور ہم اس کے بارے میں ہر وقت سوچ سکتے ہیں۔ اس سے اثر لیتے ہیں۔ کیا قدرت الٰہیہ پر اس سے بڑی اور کوئی دلیل چاہئے۔ کون ہے جو نفس چاند کے معجزے سے انکار کرسکتا ہے۔ ماسوائے اس شخص کے جو ہٹ دھرم اور ضدی ہو۔ قرآن نے تو انسان کو اس کائنات کے سامنے کھڑا کردیا اور یہ مشاہدہ کرایا کہ اس کائنات کے اندر عظیم معجزات ہر وقت قائم اور دائم ہیں۔ قرآن انسان کو ان معجزات کے ساتھ دائما جوڑنا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہ شق قمر کی طرح کوئی چیز ہزارہا سال میں ایک بار دکھا دی جائے اور اس کو بھی ایک ہی زمانے کے لوگ دیکھ لیں۔ قرآن کہتا ہے کہ دیکھو اس کائنات کو اگر دیدہ عبرت نگاہ رکھتے ہو۔ یہ پوری کائنات معجزات کا ایک منظر نامہ ہے۔ جو آنکھوں کے سامنے رہتا ہے غائب نہیں ہوتا اور یہ سب معجزے دیکھو اور دیکھتے چلے جاؤ۔ اس میں چھوٹے معجزات بھی ہیں اور بڑے بھی اور یہ معجزات شہادت دے رہے ہیں۔ ان کی شہادت سنو۔ یہ عجیب شہادت ہے اسے ریکارڈ کرو۔ یہ نہایت ہی خوبصورت شہادت ہے اس میں جمال بھی ہے اور کمال بھی ہے اور یہ تو انسان کو نہ صرف یہ کہ فیصلے پر پہنچاتی ہے بلکہ دہشت زدہ اور ششدر کردیتی ہے اور اس کے نتیجے میں بہت ہی پختہ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ نہایت گہرا اور سنجیدہ۔ اس سورت کے آغاز میں یہ اشارہ آتا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا ہے جس سے انسان پر گہرا اثر پڑتا ہے کیونکہ قیام قیامت اور چاند کا ٹکڑے ہونا بہت ہی بڑے واقعات ہیں۔ قرآن بتاتا ہے کہ تم نے یہ ایک عظیم حادثہ تو دیکھ ہی لیا ہے اسی طرح قیام قیامت بھی ہوگا۔ شق قمر کے بعد صرف قیامت کے بارے میں امام احمد نے روایت کی ہے حسین سے ، انہوں نے محمد ابن مطوف سے ، انہوں نے ابو حازم سے ، اور انہوں نے حضرت سہیل ابن سعد سے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ” میں اور قیامت اس طرح ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ “ آپ نے درمیان انگلی اور سبابہ کو جوڑ کر اشاہ کیا (متفق علیہ) باوجود اس حقیقت کہ قیامت کی گھڑی قریب آلگی ہے اور نہایت ہی اثر انگیز واقعہ بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور مختلف شکلوں میں انہوں نے اللہ کی نشانیاں بھی دیکھ لی ہیں لیکن ان لوگوں کے دلوں میں عناد کوٹ کوٹ بھرا ہوا تھا۔ وہ گمراہی کی راہ پر اصرار کررہے تھے۔ وہ ڈراوے سے متاثر ہوتے تھے اور نہ اس کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں سے متاثر ہوتے تھے جو نصیحت کے لئے کافی ہیں اور انسان کو جھٹلانے سے روک سکتی ہیں لیکن ان لوگوں نے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔

وان یروا ............ تغن النذر (54:2) ” مگر ان کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ انہوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ ہر معاملے کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں “ شق قمر کو بھی دیکھ کر انہوں نے اعراض کرلیا اور انہوں نے شق قمر کے بارے میں بھی وہی بات کہی جو قرآن کی آیات کے سارے میں کہتے تھے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ایک نشانی تو وہ کہتے ہیں جادو ہے اور مسلسل نشانیوں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلسل جادو ہے جس کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ یہ لوگ نشانات الٰہیہ پر غور کرنے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ وہ نشانیوں کی دلالت اور شہادت سے بھی منہ موڑتے ہیں۔ یہ انکار وہ محض خواہش نفس سے مجبور ہوکر کرتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ ان کے پاس کوئی حجت ہے یا اسلام کے حق میں حجت نہیں کہ انہوں نے اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات پر غور کرلیا ہے۔
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

انہوں نے (اس کو بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی۔ ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔

وکل امر مستقر (54: 3) ” ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے “ اس عظیم کائنات میں ہر چیز اپنے مقام پر رکھی ہوتی ہے اور وہ اپنی جگہ پر پختہ ہے۔ نہ ہلتی ہے اور نہ اس کے اندر اضطراب ہے۔ اس کائنات کا ہر معاملہ ثبات وقرار پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق اصول بھی بدلتے ہیں اور بادشاہوں کی ھنازک مزاجیوں کی طرح اصول اور قوانین بھی بدل جاتے ہیں۔ یوں بھی نہیں ہے کہ یہاں معاملات بخت واتفاق کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ ہر چیز اپنی جگہ اور اپنے زمان اور وقت پر رونما ہوتی ہے۔ انسان کو دیکھنا چاہئے کہ اس کے ماحول میں زمان ومکان میں ، واقعات وحادثات میں ایک ترتیب ہے اور یہ ترتیب اور اصول ہر چیز میں نظر آتا ہے۔ آسمانوں کی گردش میں ، زندگی کے طریقوں میں ، حیوانات اور نباتات کے بڑھنے میں ، تمام اشیاء اور مواد میں بلکہ خود ان کے جسم کے وظائف وفرائض میں ان کے اعضا کی کارکردگی میں ایک ترتیب ہے اور ان کو ان چیزوں پر کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔ یہ قیامت وقرار ان کو گھیرے ہوئے ہے اور ان کے گرد تمام اشیاء کو بھی اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف نظر آتا ہے ، صرف یہ انسان ہیں کہ یہ مضطرب ہیں اور اپنی خواہشات کے مطابق کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی ادھر۔
Ayah 54:4

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

ان لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے

ولقد ............ مزدجر (54:4) ” ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے۔ “ ان کے پاس اس کائنات کی آیات کے بارے میں قرآن نے کافی خبریں پھیر پھیر کر بیان کی ہیں۔ ان کے پاس اہم سابقہ کے مکذبین کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان کے پاس مناظر قیامت کی شکل میں آخرت کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان سب امور میں عبرت آموزی ، رکاوٹ ، خطرے کی علامات موجود ہیں اور ان کے اندر ایسی حکیمانہ باتیں بھی ہیں جو سیدھی دل میں اترنے والی ہیں اور اچھی ہدایات ہیں لیکن جو دل اندھے ہوچکے ہیں وہ آیات کو نہیں دیکھ پاتے اور ان خبروں سے فائدہ نہیں اٹھائے نہ خبروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ ڈراوے سے وہ ڈرتے ہیں۔
Ayah 54:5

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں۔

حکمة ........ النذر (54:5) ” اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں۔ “ ایمان ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ سے قلب انسانی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان کی روگردانی اور کفر پر اصرار کی اس قدر تصویر کشی کرنے کے بعد اور یہ بتا دینے کے بعد کہ یہ خبروں سے بھی مستفید نہیں ہوتے ان کے لئے ڈراوے میں بھی فائدہ نہیں۔ رسول ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ بھی ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ دن جلدی ہی آنے والا ہے شق قمر اس دن کی علامت تھی ، یہ دن بہت قریب ہے۔
Ayahs 54:6–8

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو جس روز پکارنے والا سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور ہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔

فتول ............ عسر (54: 8) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “ یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔ یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ صاف نظر آنے والا اور حرکت سے بھر پو رجس کی حرکات اور انداز بھی متوازن ہیں۔ لوگ گروہ در گروہ قبروں سے نکل رہے ہیں یوں جس طرح ٹڈی دل بکھر جاتا ہے۔ یہ منظر ٹڈی دل کی نسبت سے اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ یہ گروہ ڈر کے مارے سہمے ہوئے ہے۔ ذلت اور خوف کے مارے نظریں نیچی نیچی ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہیں کہ کیا آفت آگئی ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ سخت بےاطمینانی ہے ، انتہائی برے انجام سے دوچار ہونے کے لئے جانے والے بس یہی کہہ سکے۔ ھذا ........ عسر (54: 8) ” یہ تو بڑا کٹھن دن ہے “ اور یہ اس شخص کا قول ہے نہایت کربناک اور تھکے ہوئے شخص کی بات ہے جو گویا سولی پر چڑھنے کے لئے بوجھل قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہے وہ دن جو آیا ہی چاہتا ہے لیکن یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ڈراوے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ حق کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے پیغمبر آپ بھی ان سے منہ موڑ لیں اور چھوڑیں انہیں ان کے انجام کے لئے جو نہایت ہی خوفناک ہے۔ سورت کا آغاز اس قدر خوفناک انداز اور زور دار لہجے میں کرنے کے بعد اور قیامت کا ایک خوفناک منظر پیش کرنے کے بعد اب انسانی تاریخ کے کچھ مناظر دیئے جاتے ہیں۔ جن لوگوں پر اس طرح کی قیامت ٹوٹی جو اوپر کے منظر میں دکھائی گئی۔ یہ اقوام بھی ایسا ہی رویہ اختیار کئے ہوئے تھیں جس طرح اہل مکہ نے اختیار کررکھا ہے۔ آغاز قوم نوح (علیہ السلام) سے
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم جھٹلاچ کی ہے۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور وہ بری طرح جھڑکا گیا۔

کذبت ............ نوح (54: 9) ” ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا “ انہوں نے آیات الٰہی کو بھی جھٹلایا اور رسالت کو بھی۔ فکذبوا عبدنا (54: 9) ” انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا “ یعنی نوح کو۔ وقالو مجنون (54: 9) ” اور کہا یہ دیوانہ ہے “ جس طرح قریش نے نبی ﷺ کو کہا کہ مجنوں ہے اور انہوں نے حضرت نوح کو دھمکی دی کہ ہم تمہیں رجم کردیں گے اور مزاح کرکے اذیت دی اور انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ہم پر تنقید کرنے سے باز آجاؤ اور آپ کو سخت دھمکیاں اور جھڑکیاں دیں۔ وازدجر (54: 9) ” اور بری طرح جھڑکا گیا “ حالانکہ مناسب یہ تھا کہ وہ خود باز آتے اور ان کی اطاعت کرتے۔ اس نوبت تک پہنچ کر حضرت نوح رب تعالیٰ کی طرف دست بدعا ہوتے ہیں کیونکہ اللہ ہی نے ان کو اس مہم پر بھیجا تاکہ آپ اللہ کو وہ رپورٹ دے دیں کہ قوم نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے اور یہ کہ میں نے اس قدر جدوجہد کی ہے اور اب میری قوت نے جواب دے دیا ہے۔ حضرت نے اس وقت اللہ کو پکارا جب نہ کوئی حیلہ رہا اور نہ طاقت رہی۔ انہوں نے تمام حربے آزمائے۔
Ayah 54:10

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا اب تو ان سے انتقام لے۔

فدعا ربہ انی ملغوب فانتصر (54:10) ” آخر کار اس نے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں اب تو ان سے انتقام لے “ میری طاقت ختم ہوگئی۔ میں نے اپنی پوری جدوجہد کردی۔ قوتیں جواب دے گئیں اور یہ تیرا کام ہے اور انکار اور کفر مجھ پر غالب آگیا۔ لہٰذا تو ہی مدد کر۔ اے اللہ اب تو ہی ان سے انتقام لے۔ اپنی دعوت کا بدلہ لے۔ سچائی کا ساتھ دے۔ اپنے نظام کی مدد تو ہی کر حکم تیرا ہے جدوجہد تیرے لئے ہے میرا کردار اب ختم ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ کہنا تھا اور رسول خدا کی طرف سے معاملہ رب تعالیٰ کے سپرد کرنا تھا جو جبار وقہار ہے کہ دست قدرت نے اپنا کام شروع کردیا اور اس زمین کو ان سے صاف کردیا گیا۔ عذاب الٰہی کا چکریوں چلنا شروع ہوا کہ تمام طیبعی قوتوں نے اپنا کام شروع کردیا۔
Ayah 54:11

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

“ تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے

ففتحنا ............ امر قدقدر (54:12) ” تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لئے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ “ یہ ایک عظیم کائناتی حرکت ہے جو بہت ہی بھرپور ہے لیکن اس عظیم کائناتی عمل اور حرکت کی تصویر چند الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔ الفاظ بڑی خوبصورت سے چنے گئے ہیں اور اس پو رہے عمل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب عمل قدرت الٰہیہ کا ہے۔ ففتحنا ابواب السماء (54: 11) ” موسلادھار بارش سے “ یعنی ایسی بارش جس میں پانی بہت برس رہا ہو۔ اسی قوت اور اسی حرکت سے۔
Ayah 54:12

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لئے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا

وفجرنا الارض عیونا (54:12) ” اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ “ زمین کو پھاڑنے اور چشموں کے پھوٹنے کا منظر یوں نظر آتا ہے کہ گوہر جگہ سے فوارے چھوٹ گئے۔ ہر طرف چشمے ہی چشمے نظر آنے لگے۔ اب زور زور سے آسمانوں سے گرنے والا پانی ، اور زمین سے ابلنے والا پانی آپس میں مل گئے۔ فالتقی ............ قدقدر (54:12) ” اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا “ یعنی دونوں کا کام یہ تھا کہ طے شدہ کام کو پورا کرلیا جائے۔ دونوں پانی دست قدرت کے تحت کام کررہے تھے۔ اس پانی نے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ زمین کو ڈھانپ لیا گیا اور زمین پر انسانوں کی شکل میں جو گندگی تھی اسے صاف کردیا گیا۔ اللہ کے پیغمبر تو اس تطہیر سے مایوس ہوگیا تھا۔ اس کے خیال میں یہ لوگ لاعلاج ہوگئے تھے لیکن اللہ کا مشفقانہ دست قدرت پہنچ گیا۔ رسول کی دعا قبول ہوئی۔ پوری کائنات حرکت میں آگئی اور رسول اور اس کے ساتھیوں کو نجات مل گئی۔
Ayah 54:13

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کر دیا

وحملنہ ............ کفر ” اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کردیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی۔ “ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی کشتی تھی۔ یہ تختوں اور میخوں والی تھی۔ کشتی کی صفات بیان کی گئی ہیں اور موصوف کا نام نہیں لیا گیا۔ اس کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے پھر یہ کہا گیا کہ یہ کشتی اللہ کی نگرانی میں چلتی ہے۔ اس پر اللہ کی نظر ہے۔
Ayah 54:14

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

جزاء لمن کان کفر ” اس شخص کے بدلہ کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی “ اس کی دعوت کا انکار کیا گیا بلکہ الصا اس کو جھڑکیاں دی گئی۔ ان لوگوں نے نبی پر مظالم ڈھائے۔ یہ اس کی سزا ہے۔ انہوں نے نبی کے ساتھ مذاق کیا۔ اللہ نے اسے یہ اعزاز دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جس شخص کو اللہ کی راہ میں بےبس کردیا جائے اس کی حمایت میں اللہ کی قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور جو شخص اپنا کام پورا کرکے اور اپنی پوری قوت لگا کر جب معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہے تو پھر اللہ کس طرح بدلہ لیتا ہے۔ اس کائنات کی پوری قوتیں اس کی نصرت میں اٹھ جاتی ہیں اور ان قوتوں کی پشت پر اللہ اپنی قدرت اور جبروت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اس ہولناک انتقام کے منظر کے اختتام پر اور اس فیصلہ کن انجام پر ان لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ ذرا ان واقعات سے عبرت لو ، یہ اس لئے کہ شاید وہ متاثر ہوکر دعوت حق کو قبول کرلیں۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا ؟

ولقد ترکنھا ............ مد کر (54:15) ” اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا “ یہ واقعہ اپنے تمام حالات کے ساتھ ہم نے تاریخ کے ریکارڈ پر باقی رکھا تاکہ آنے والوں کے لئے ایک نشانی ہو۔ فھل من مد کر (54:15) ” پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا) جو نصیحت قبول کرے۔ دلوں کو جگانے کے لئے ایک سوال کہ کیا تھا عذاب اور کیا انجام ہوا ڈرائے جانے والوں کا۔
Ayah 54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔

فکیف ............ ونذر (54:16) ” دیکھ لو کیا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ بہرحال ایسا ہی ہوا جس طرح قرآن نے تصویر کشی کی ہے۔ یہ ایک سخت تباہ کن عذاب تھا جس نے تمام مجرموں کو نیست ونابود کرکے رکھ دیا اور ڈرانے والے کا ڈراوا سچا ہوگیا یہ ہے قرآن کا انداز بیان نہایت سہل ، قابل فہم ، پڑھنے والے کے لئے خوب جازبیت کا حامل تاکہ ہر کوئی پڑھے اور تدبر کرے۔ سادہ سچائی کی جاذبیت کا حامل ، فطرت کے مطابق اور ہر طبیعت کے لئے پرجوش ، جس کے عجائبات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ اسے بار بار پڑھئے ہر بار نیا نظر آئے گا۔ جب بھی کوئی اس پر تدبر کرے اسے ایک نیا مفہوم اور نیا نکتہ ملے گا۔ جس قدر اس کے ساتھ کوئی نفس انسانی صحبت اختیار کرے اس کی محبت میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

ولقد ............ مد کر (45:17 ) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ یہ ہے وہ سبق جو ہر پیراگراف کے آخر میں دہرایا جاتا ہے۔ ہر مصور منظر کے بعد ، ہر منظر کے بعد قرآن انسان دل کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور اسے نصیحت قبول کرنے ، دانش حاصل کرنے ، تدبر کرنے کے لئے کہتا ہے۔ ہر تاریخی انجام بد کے بعد جس سے مکذبین دو چار ہوئے۔
Ayah 54:18

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبہیات۔

کذبت ............ مد کر (54:18 تا 22) ” عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ ؟ یہ دوسرا پیراگراف ہے اور اقوام سابقہ پر عذاب آنے کا دوسرا منظر ہے۔ قوم نوح کے بعد ہلاکت کا یہ بڑا واقعہ تھا۔ سب سے پہلے قوم نوح ہلاک ہوئی اور اس کے بعد قوم عاد۔ پہلے یہ بتایا جاتا ہے عاد نے بھی تکذیب کی لیکن آیت ختم ہونے سے پہلے ہی ایک خوفناک سوال کردیا جاتا ہے۔ فکیف ........ ونذر (45: 81) ” میرا عذاب کیسا تھا اور تنبیہات کیسی تھیں “ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان کا انجام یوں ہوا ، ہولناک اور خوفناک۔
Ayahs 54:19–20

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔

انا ارسلنا ............ منقعر (45: 02) ” ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے۔ “ ریحاصرصرا (45: 91) کے معنی ہیں سخت سرد ہوا۔ الفاظ کا ترنم ہی نوعیت بتارہا ہے۔ نحس یعنی منحوس اور اس سے بڑی نحوست کس قوم کو کیا نصیب ہوگی جو عاد کو نصیب ہوئی۔ یوں منظر تھا کہ جس طرح سخت ہوا سے کھجور کے تنے جڑوں سے اکھڑ کر زمین پر آجاتے ہیں اور درخت بری طرح گرا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ میدانوں میں پڑے ہوئے تھے۔ منظر نہایت خوفناک ہے۔ ہوا سخت ہے اور یہ ہوا جو عادیوں پر بھیجی گئی تھی یہ اللہ کے لشکروں میں ایک لشکر تھا۔ اس کائنات کی قوتوں میں سے ایک قوت۔ اللہ کی تخلیق کردہ قوت ، اللہ کے قانون قدرت کے عین مطابق چلنے والی قوت ، ایسی قوت جسے اللہ جس پر چاہے مسلط کردے۔ یہ قوت صحراؤں میں چل رہی ہے اور یہ جب عاد کی بستیوں تک پہنچتی ہے تو ان کا وہ حال بنادیتی ہے جو اوپر لکھا گیا۔
Ayahs 54:21–22

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ ؟

فکیف کان عذابی ونذر (45: 12) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ صلائے عام ہے۔
Ayah 54:23

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا

قبیلہ ثمود جزیرہ عرب میں عاد کے بعد نمودار ہوا۔ یہ بھی عاد کی طرح قوت اور شوکت میں بےمثال تھا۔ ہاں عادی جنوب میں تھے اور ثمود شمال میں تھے۔ ثمود نے بھی رسول کی تکذیب اسی طرح کی جس طرح عاد نے کی تھی حالانکہ ثمود کو عاد کے انجام کا اچھی طرح علم تھا کیونکہ وہ جزیرہ عرب کے جنوب میں تھے۔ فقالوا ............ الاشر (45: 62) ” اور کہنے لگے ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اس کے پیچھے چلیں ؟ اس کا اتباع ہم قبول کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔ “ یہ وہی شبہ ہے جو پوری تاریخ میں تمام مکذبین کے دلوں میں خلجان پیدا کرتا رہا ہے۔ ء القی ............ بیننا (45:5 2) ” کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا “ یہ ان کی کھوکھلی اور بےحقیقت کبریائی تھی اور جس شخص کے اندر اس قسم کا کبر ہو وہ کبھی حقیقت کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ وہ بات کو نہیں دیکھتا۔ اس کو دیکھتا ہے کہ کہنے والا کون ہے۔ ابشرامنا واحد انتبعہ (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اب اس کے پیچھے چلیں ؟ “ آخر اس میں کیا قباحت ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے ایک اکیلے شخص کو چن لے۔ اللہ تو خوب جانتا ہے کہ رسالت کی امانت کہاں رکھے اور پھر اس کے اوپر ذکر نازل کرے۔ اس کو ہدایات دے اور نصیحت کی باتیں اس پر نازل کرے ، اللہ خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں میں سے اس امانت کی استعداد اس نے کس کو دی ہے۔ پھر ذکر نازل کرنے والا بھی اللہ۔ یہ سوال ایک بےحقیقت سوال ہے اور واہی تباہی ہے جو نہایت گمراہ لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگ جو کسی دعوت کے بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ اس میں صدق وسچائی کس قدر ہے۔ وہ دعوت دینے والے کو دیکھتے ہیں کہ دو بستیوں میں سے یہ کتنا بڑا آدمی ہے۔ اگر کسی چھوٹے آدمی کی بات مانی گئی تو وہ چھوٹا بڑا بن جائے گا اور یہ چھوٹے رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ یہ کہتے ہیں۔
Ayah 54:24

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور کہنے لگے۔ ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ، کیا اب ہم اس کے پیچھے چلیں ؟ اس کا اتباع ہم قبول کرلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں

ابشر ........ وسحر (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے اس کے پیچھے چلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے یا ہم جہنم رسید ہوگئے۔ “ اگر ہم سے یہ منکر فعل واقع ہوگیا۔ جب عقل ماری جاتی ہے تو انسان ہدایت کو ضلالت سمجھتا اور سمجھتا ہے کہ وہ گویا بہت زیادہ تعداد والی جہنموں میں داخل ہوگا۔ (سعر جمع سعیر ہے) حالانکہ دعوت قبول کرکے وہ ایمان کے سایہ میں آجاتا لیکن سمجھتا ہے کہ اگر ایمان لایا تو جہنموں میں داخل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جس رسول کو اللہ نے ان کی رہنمائی کے لئے بھیجا تھا اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹا اور لالچی ہے۔
Ayah 54:25

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔

بل ھو کذاب اشر (45:5 2) ” بلکہ وہ جھوٹ اور لالچی ہے “ کذاب جھوٹا ، اشر شدید لالچی اور اس تبلیغ سے وہ اقتدار اور مرتبہ چاہتا ہے۔ ہر داعی پر ہمیشہ یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے بہانے مفادات کے حصول کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور یہ ان اندھوں کا موقف ہوتا ہے جو نیک لوگوں کے جذبات اور ان کے قلبی محرکات سے واقف نہیں ہوتے۔ بات ابھی تک حکایتی اور قصے کے انداز سے چلتی ہے کہ اچانک معاملہ خطاب کا آجاتا ہے۔ اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا واقعات ابھی جاری ہیں۔ اس لئے بتایا جاتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے اور ان کا مستقبل میں ہونے والے واقعات کی دھمکی دی جاتی ہے۔
Ayah 54:26

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

(ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا) کل ہی انہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔

سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی کون ہے۔ “ یہ قصص کے بیان کا ایک قرآنی طریقہ ہے۔ یہ انداز قصے میں جان ڈال دیتا ہے کہ بجائے محض قصہ پارینہ کے تخیل کے زور سے اس قصے کو ایک منظر نامے کی شکل میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ قصہ نہیں رہتا بلکہ حال اور مستقبل کے واقعات بن جاتا ہے۔ سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی وہ جان لیں گے کہ جھوٹا اور لالچی کون ہے “ کل یہ حقیقت کھل جائے گی اور یہ چھوٹ نہیں سکیں گے اور یہ مصیبت بتادے گی کہ کون جھوٹا ہے اور جھوٹوں کی سزا کیا ہے۔
Ayahs 54:27–28

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

ہم اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

ان کو جتادے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “

انا مرسلوا ............ محتضر (45: 82) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ ناقہ لازماً مخصوص ناقہ تھی۔ تقسیم یوں تھی کہ ایک دن کا پورا پانی ناقہ کے لئے تھا اور دوسرے دن کا ان کے لئے۔ ناقہ اپنے دن آئے گی اور یہ لوگ اپنے دن آئیں گے۔ وہ اپنے دن پئے گی اور یہ لوگ اپنے دن پانی لیں گے۔ اب سیاق کلام پھر حکایتی اور قصے کا انداز لے لیتا ہے اور اس کے بعد یہ واقعات یوں آتے ہیں۔
Ayah 54:29

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

آخر کار ان لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔

فنادواصاحبھم ........ فعقر (45: 92) ” آخر کار انہوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ “ اور یہ شخص ان مفسدین میں سے ایک تھا جو اس شہر میں فساد کی جڑ تھے۔ سورت نحل میں ان کے بارے میں آیا ہے۔ وکان ........ یصلحون (72 : 8 4) ” اور شہر میں نوجھتے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے تھے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔ “ اور سورت شمس میں کہا گیا۔ اذانبعث اشقھا (19 : 21) ” جب ان میں ایک بدبخت اٹھا “ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص نے شراب پی لی تاکہ وہ اس کام کو بےباکی سے کرسکے اور اس ناقہ کو قتل کردے جو اللہ نے بطور نشانی بھیجی تھی اور رسول اللہ نے ان کو ڈرا دیا تھا اور متنبہ کردیا تھا کہ اگر تم نے اسے گزند پہنچایا تو تم پر عذاب الٰہی آجائے گا۔ اس طرح فتعاطی کے معنی بیڑا اٹھانے کی بجائے شراب پینے کے ہوں گے۔ فنادوا ............ فعقر (45: 92) ” انہوں نے اپنے آدمی کو بلایا اس نے یہ ذمہ لے لیا یا شراب پی کر اسے قتل کردیا۔ “ یہ امتحان ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہوگیا۔
Ayah 54:30

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔

فکیف ........ ونذر (45: 03) ” پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ یہ سوال تعجب انگیز اور خوف پیدا کرنے کے لئے ہے اور یہ عذاب کے ذکر سے بھی پہلے کیا جاتا ہے۔
Ayah 54:31

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکہ چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھسن ہوکر رہ گئے۔

انا ارسلنا ............ المختظر (45: 13) ” ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکہ چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے “ قرآن کریم نے اس چیخ اور دھماکے کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ اگرچہ دوسری جگہ سورت فصلت میں تفصیل آتی ہے کہ۔ فقل ............ وثمود (1 4: 31) ” تو کہہ دو کہ میں تمہیں اسی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا “ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صاعقہ صیحہ کی صفت ہو یعنی کڑاکے دار آواز۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ اور صاعقہ ایک ہی حقیقت کے لئے استعمال ہوں یعنی اچانک ٹوٹ پڑنے والا عذاب اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ صاعقہ کی آواز ہو یا صاعقہ آواز کا اثر ہو۔ آواز دی کس طرح اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ بہرحال ان پر ایک کڑاکے دار اور دھماکہ خیز آعواز آئی اور ان کو ختم کرکے رکھ دیا۔ یہ اس ترح ہوگئے کھشیم المحنظر (وہ باڑ والے کی روندی ہوئی باڑ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے) المحنظر وہ شخص جو خطیرہ یا باڑہ بناتا ہے اور یہ باڑہ وہ خشک کانٹے دار لکڑیوں سے بناتا ہے یہ لوگ اس طرح ہوگئے جس طرح خشک بوسیدہ لکڑیاں جو ٹوٹ پھوٹ کر بھس بن گئی ہوں تشبیہ یوں ہے کہ باڑے والا اپنے مویشیوں کے لئے لکڑیوں اور درختوں کی شاخیں جمع کرتا ہے کہ شاخیں مویشی کھاتے ہیں اور خشک ہوجاتی ہیں اور ان کو مویشی روندتے ہیں تو وہ بھوسے کی طرح پس جاتی ہیں تو یہ قوم اس طرح ہوگئی جس طرح باڑے والے کی جھاڑیاں کھائی ہوئی اور روندی ہوئی۔ صرف ایک ہی ربانی چیخ سے۔ یہ سخت درد ناک وخوفناک منظر ہے اور یہ ان لوگوں کے جواب میں ہے جو مفسد تھے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے چناچہ ان متکبرین کو پیس ڈالا گیا۔ اس درد ناک وخوفناک منظر کے بعد لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کی آیات سے نصیحت حاصل کریں اور تدبر کریں اور اس مقصد کے لئے قرآن بہترین گائیڈ ہے۔
Ayah 54:32

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ ؟

ولقد ............ مد کر (45: 23) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے۔ اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ “ اس پر پردہ گرتا ہے اور منظر پر روندا ہوا بھس پڑا ہے۔ آنکھوں کے لئے ایک منظر اور دل کے لئے ایک عبرت۔ یہ قرآن پکار پکار کر بلارہا ہے نصیحت لینے والوں اور فکر و تدبر کرنے والوں کو۔ اب جب دوبارہ پردہ اٹھتا ہے تو تاریخ کا وہ ورق الٹا جاتا ہے جو جزیرہ عرب کے قریب ہے ، قوم لوط کا منظر :
Ayah 54:33

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا

قوم لوط کا قصہ دوسرے مقامات پر مفصل مذکور ہے۔ یہاں اس قصے کی تفصیلات دینا مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ عبرت دلانا مقصود ہے کہ تکذیب کا نتیجہ کیا ہوا کرتا ہے۔ یہ کہ اللہ کا سخت عذاب آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز ہی تنبیہات الٰہیہ کی تکذب کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کذبت ............ بالنذر (45: 33) ” قوم لوط نے تنبیہات کو جھٹلایا “ اور اس کے بعد متصلا عذاب الٰہی کا ذکر ہوتا ہے۔
Ayahs 54:34–35

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا۔

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

یہ جزا دیتے ہیں ہم ہراس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے۔

انا ارسلنا ............ من شکر (45:5 3) ” اور ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال لیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ “ الحاصب وہ ہوا جو پتھروں کو اڑا کر پھینک دیتی ہو اور دوسری جگہ آیا ہے کہ ان پر مٹی کے پتھر پھینکے گئے تھے۔ لفظ حاصب کی آواز ہی ایسی ہے جس سے پتھر پھینکے جانے کی آواز آتی ہے۔ اس میں شدت اور سختی ہے جو اس وقت منظر اور فضا کے مناسب ہے۔ اس عذاب سے صرف لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ بچے۔ ماسوائے ان کی اہلیہ کے اور بچنے والے اس لئے بچے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اللہ شکر کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتا ہے۔ ان کو اللہ عذاب سے نجات دیتا ہے اور وہ خوفناک حادثات کے درمیان سے بھی بچ کر نکل آتے ہیں۔ قرآن نے یہاں تک اس قصے کے دو اطراف بیان کردیئے۔ ان کی طرف سے جھٹلانا اور اللہ کی طرف سے عذاب شدید ، یہ یہاں اصل مقصد تھا۔ اب قصے کے دونوں اطراف کے درمیان کی بعض ضروری تفصیلات۔ قرآن کریم کا یہ بھی ایک خاص انداز بیان ہے۔ اس انداز سے قرآن کریم بعض اشارات دیتا ہے اور تفصیلات یہ ہیں۔
Ayahs 54:36–38

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

لوط نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخر کار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا۔

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے انکو آن لیا۔

ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی کہ خود لوط (علیہ السلام) کے ہاں جب مہمان ، فرشتے آئے تو انہوں نے ان کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ خوش شکل لڑکے ہیں تو ان کے گندے جذبات جوش میں آگئے۔ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو گھیر لیا اور مقصد یہ تھا کہ اس کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کریں۔ انہوں نے سنجیدگی اور شرم وحیا کے جامے تار تار کردیئے اور انہوں نے اپنے نبی کی عزت کا بھی خیال نہ رکھا حالانکہ انہوں نے ان کو بار بار اس فعل بد کے انجام بد سے ڈرایا تھا۔ اس مقام پر اب دست قدرت مداخلت کرتی ہے۔ فرشتے اس عذاب کے برپا کرنے کے لئے حرکت میں آتے ہیں جس کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔ فطمسنا اعینھم (45: 73) ” ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں “ اور وہ اس طرح ہوگئے کہ نہ کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ انسانوں کو۔ اب نہ وہ لوط کو گھیر سکتے ہیں نہ مہمانوں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یہ کہ قوم لوط کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اس کا ذکر صرف یہاں آیا ہے۔ پوری وضاحت کے ساتھ دوسری جگہ یہ ہے۔ قالوا ............ الیک ” لوط ، ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں یہ لوگ تیری طرف نہیں پہنچ سکتے۔ “ یہاں پر تفصیل دے دی کہ وہ فرشتوں اور لوط (علیہ السلام) تک اس لئے نہ پہنچ سکتے تھے کہ ان کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اب تک تو بات بطور حکایت ہورہی تھی ، اچانک آنکھوں کے سامنے ایک منظر آتا ہے اور جن پر عذاب آیا ہے ان سے مخاطب ہورہا ہے۔ فذوقوا عذابی ونذر (45: 73) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ یہ ہے وہ عذاب جس سے تمہیں ڈرایا جارہا تھا اور یہ ہیں وہ تنبیہات جن میں تم شک کررہے تھے۔ ان کی آنکھیں شام کو موند دی گئیں اور صبح تک وہ یونہی رہے کیونکہ اللہ نے ان کے لئے عذاب صبح کے وقت مقرر کیا ہوا تھا۔ ولقد ............ مستقر (45: 83) ” صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا “ اور یہ وہی عذاب تھا جس کا جلد سے تذکرہ اوپر کردیا گیا۔ یہ وہ سخت ہوا تھی جس نے مٹی کے پتھروں کی بارش ان پر کردی تھی اور اس نے زمین کو اس گندگی اور فساد سے پاک کردیا۔ اب پھر انداز بیان میں فرق آتا ہے۔ منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا ابھی کا واقعہ ہے اور جن کو عذاب دیا گیا ان سے خطاب شروع ہے۔
Ayah 54:39

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “

فذوقوا ............ ونذر (45: 93) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ اور آخر میں وہی سبق۔