Ayahs 54:40–42ولقد یسرنا ............ من مد کر (45: 0 4) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ کڑیاں اب جزیرہ عرب کے باہر سے بھی ایک منظر پیش کرکے ختم ہوتی ہیں۔ ایک مختصر اشارہ فرعون کے انجام کی طرف۔
Ayah 54:43فرعون کے قصے کا آغاز و انجام اس قدر احتصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس ڈرانے والے آتے ہیں۔ وہ نشانیاں پیش کرتے ہیں۔ وہ ان تمام نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح ایک حقیقی اقتدار رکھنے والا پکڑتا ہے۔ عزت اور اقتدار کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو نہایت ہی سختی سے پکڑا گیا اور اشارہ اسی طرف ہے کہ فرعون بڑی عزت ، قوت اور اقتدار اعلیٰ کی باتیں کرتا تھا جبکہ یہ سب امور اللہ کو حاصل ہیں۔ اللہ کے سامنے اس کی باطل عزت نہ رہی ، اس کا جھوٹا اقتدار اعلیٰ گر گیا اور حقیقی مقتدر اعلیٰ نے اسے خوب پکڑا اور بڑی شدت اور عبرت اموزی سے پکڑا جس طرح انہوں نے مصر میں سختی ، ظلم اور قہاری وجباری سے غریبوں پر ظلم شروع کررکھا تھا۔ اسی طرح اللہ نے ان کو بھی نابود کردیا۔ اب اس آخری منظر پر پردہ گرتا ہے۔ یہ فرعون جبار کا منظر اور اس کی ایک جھلک ہے۔
انسانی تاریخ میں منکرین کے عذاب کے مناظر میں سے یہ آخری منظر تھا۔ تمام منکرین کی یاد قارئین کے ذہنوں میں تازہ ہے اور سننے والوں اور دیکھنے والوں کا احساس ابھی ان نقوش سے منقش ہے کہ اہل مکہ کو خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ تم بھی اسی طرح نیست ونابود ہوسکتے ہو اگر تم باز نہ آئے بلکہ تمہاری جو حرکتیں ہیں ان کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم پر اس سے بھی بھیانک عذاب آئے :۔
اکفارکم ................ مستطر (3 5) 45: 3 4 تا 55)
” کیا تمہارے کفار کچھ ان لوگوں سے بہتر ہیں ؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے ؟ یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں ، اقنا بچاؤ کرلیں گے ؟ عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے ، اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا “۔
ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔
یہ دنیا اور آخرت دونوں کے عذابوں سے ڈراوا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے نکل بھاگنے کا کوئی راستہ اور سوراخ نہیں ہے اور نہ بھاگنے یا بچ جانے کی کوئی امید ہوسکتی ہے۔ نہ حساب و کتاب میں کوئی چابکدستی دکھائی جاسکتی ہے اور اس طرح سزا سے بچا جاسکتا ہے۔
تم نے دیکھ لیا امم سابقہ کے جھٹلانے والوں پر کیا گزری۔ آخر تمہارے پاس کیا گارنٹی ہے کہ تم اسی انجام سے دوچار نہ ہوگے۔
اکفار ............ اولئکم (45: 3 4) ” تمہارے کفار کچھ ان لوگوں سے بہتر ہیں “ امم سابقہ کے جو کفار اسی طرح نیست ونابود ہوئے تم ان سے کس پہلو میں اچھے ہو۔
ام لکم ............ الدبر (45: 3 4) ” یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے ’“ اور جس پر یہ منزل صحیفے گواہ ہیں کہ تم کفر اور تکذیب کے انجام سے بری الذمہ ہوجاؤ گے۔ نہ یہ بات ہے اور نہ وہ ہے۔ نہ تم ان سے اچھے ہو اور نہ ان صحیفوں میں تمہاری برات لکھی ہوئی ہے۔ بس یہی صورت ہے کہ تم بھی اسی انجام سے دو چار ہوجاؤ جس سے وہ دو چار ہوئے جس طرح اللہ نے مقدر فرمایا ہے۔
اب یہ خطاب عام کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔
Ayah 54:44ام یقولون ............ منتصر (45:44) ” یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں اور اپنا بچاؤ کرلیں گے “ جب وہ دیکھتے تھے کہ کفار مکہ ایک بڑی جمعیت ہیں تو ان کے حوصلے بڑھ جاتے تھے اور اپنی قوت پر غرور میں مبتلا ہوکر کہتے تھے کہ ہم ہی غالب رہیں گے اور نہ ہم پر کوئی غالب ہوسکتا ہے اور نہ ہمیں کوئی قوت شکست دے سکتی ہے۔
Ayah 54:45سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ لہٰذا ان کی جمعیت انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کی قوت ان کے لئے مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ یہ اعلان چونکہ اللہ قہار وجبار کا تھا اس لئے ایسا ہی ہوا اور ایسا ہی ہونا تھا۔
مسلم اور بخاری نے ابن عباس کی روایت نقل کی فرمایا کہ حضور اکرم بدر کے دن آپ کے لئے بنائے ہوئے ایک چبوترے میں تھے اور دعا کررہے تھے ، اے اللہ میں تجھ کو تیرے وعدے اور کہد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری بندگی اس زمین پر نہ ہوگی “ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑا اور کہا یارسول اللہ آپ کے لئے یہی کافی ہے آپ نے رب تعالیٰ کے سامنے بہت زاری کرلی ہے۔ آپ نکلے اور زرہ میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ کہہ رہے تھے۔
سیھزم الجمع ویوکون الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “
ابن ابو حاتم کی روایت میں مکرمہ سے نقل ہے۔ انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کون سا جتھا یعنی کونسا جتھا شکست کھائے گا۔ عمر کہتے ہیں جب بدر کا دن آیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ زرہ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہی آیت پڑھ رہے ہیں۔ ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ “ تو اس وقت میری سمجھ میں بات آئی کہ اس سے کونسی جمعیت مراد ہے۔ یہ تو تھی دنیا کی ہزیمت لیکن یہ آخری ہزیمت نہ تھی اور نہ ہی یہ شدید اور تلخ عذاب ہے چناچہ اس دنیاوی شکست کے بعد اب آخری شکست کی طرف بات پھرجاتی ہے۔
Ayah 54:46بل الساعة موعدھم ............ وامر (45: 6 4) ” بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ “ اس عذاب سے جو انہوں نے دیکھا ہے یا اس زمین کی زندگی میں دیکھیں گے یا ان تمام عذابوں سے زیادہ تلخ جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں مثلاً طوفانا نوح ، باد صرصر ، سخت آواز اور پتھروں کی بارش والی ہوا اور فرعون کی زبردست غرقابی۔
اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس طرح سخت شدید اور تلخ ہوگا اور تفصیلات قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں بتائی جاتی ہے :۔
Ayahs 54:47–48ان المجرمین ............ مس سقر (45: 8 4) ” یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ (یاگمراہی اور آگ میں ہیں) جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ “ یعنی وہ گمراہی میں ہیں جہاں عقل اور روح کی سزا ہوتی ہے اور جہنم میں ہیں جہاں جسم اور جلد کو سزا ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ کہتے تھے اور ان جیسے سب لوگوں نے بھی کہا ہے۔
ابشرامنا ................ وسعر (45:4 2) ” کیا ہم میں سے ایک اکیلے شخص کی ہم تابعداری شروع کردیں۔ اگر ایسا کریں تو گویا ہم بہک گئے اور کئی آگوں میں پڑگئے۔ “ اب ان کو معلوم ہوگا کہ گمراہی اس اتباع میں ہے یا انکار میں ہے اور آگ اتباع رسول میں ہے یا مخالفت رسول میں ہے۔
نہایت ہی سختی ، حقارت سے منہ کے بل آگ میں گرادیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ دنیا میں وہ استکبار اور غرور کے ساتھ کام کرتے تھے اور قوت کے بل بوتے پر فیصلے کرتے تھے۔ اب یہاں جسمانی عذاب کے ساتھ ساتھ ان کو روحانی اور نفسیاتی عذاب بھی دیا جائے گا۔ یوں سرزنش کرکے۔
ذوقوا مس سقر (45: 8 4) ” چکھو جہنم کی آگ کی لپٹ “
اس خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سایہ میں اب روئے سخن تمام لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے۔ حضور نبی ﷺ کی قوم کی طرف تاکہ ان کے دلوں میں اللہ کی حکمت وتدبیر اور اللہ کی تقدیر اور فیصلوں کی حقیقت بیٹھ جائے۔
یہ دنیا ہو یا آخرت ہو ، اس دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا عذاب ہو ، اس سے قبل کی رسالتیں اور تنبیہات ہوں یا قرآن اور نبی آخرالزمان ہوں ، یہ پوری کائنات یا اس کا انتظام وانصرام ہو یا یہ چھوٹی چیز ہو یا بڑی چیز ہو ، یہ سب کی سب ایک اندازے اور ایک سکیم کے مطابق اللہ کی حکمت کے مطابق پیدا کئے گئے ہیں۔ کوئی چیز بھی بےمقصد ، اتفاقاً ، عبث اور بےسوچے سمجھے پیدا نہیں کی گئی۔
Ayah 54:49انا کل ........ بقدر (45: 9 4) ” ہم نے ہر چیز تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔ “ ہر چیز ، چھوٹی ہو یا بڑی ہو ، بولنے والی ہو یا خاموش ، متحرک ہو یا ساکن ، گزری چیز حاضر ، معلوم چیز یا مجہول ، اللہ نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کیا ہے۔
یہ تقدیر اس کی حقیقت طے کرتی ہے۔ اس کی صفت طے کرتی ہے۔ اس کی مقدار طے کرتی ہے۔ اس کا زمانہ طے کرتی ہے۔ اس کا مکان طے کرتی ہے۔ اس کے ماحول کے ساتھ اس کے روابط طے کرتی ہے۔ اس کائنات میں اس کے اثرات طے کرتی ہے۔
یہ قرآنی آیت چند مختصر الفاظ پر مشتمل ہے لیکن یہ آیت ایک عظیم اور محیرالعقول حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ اس آیت کا مفہوم میں یہ پوری کائنات شامل ہے۔ اس حقیقت کو انسان کا دل تب ہی پاکستا ہے جب وہ اس پوری کائنات کو ذہن میں رکھے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہمقدم ہو۔ اس سے حقائق اخذ کرے اور یہ محسوس کرے کہ یہ کائنات باہم تناسب اور نہایت ہی دقت کے ساتھ باہم مربوط مخلوق ہے۔ اس کی ہر چیز ایک مقدار کے مطابق پیدا کی گئی ہے۔ تب اس حقیقت کا ایک سایہ اور ایک خاکہ ذہن میں بیٹھ جائے گا۔ صرف ایک چیز کو ذہن میں رکھنے سے یہ تصور نہیں آسکتا۔
جدید سائنس نے اس حقیقت کے بعض نہایت ہی معمولی شعبوں کا احاطہ کیا ہے۔ یہ علم جدید سائنس نے اپنے محدود وسائل کے مطابق فراہم کیا ہے۔ سائنس نے معلوم کرلیا ہے کہ ستاروں کے درمیان فاصلے ایک متعین مقدار کے مطابق ہیں۔ سیارے اور ان کے حجم اور تاروں اور سیاروں کے گروپ یعنی کہکشاں اور ان کی ایک دوسرے کے ساتھ کشش ، یہ مقداریں اور فاصلے اس قدر متعین ہوگئے ہیں کہ سائنس دانوں نے ایسے ستاروں کے فاصلے بھی متعین کردیئے ہیں جن کو انہوں نے دیکھا نہیں ہے کیونکہ کشش اور ہم آہنگی کا تقاضا یہ تھا کہ ان ستاروں کو اس قدر دور ہونا چاہئے کیونکہ جس نظام کو جس تدبیر وتقدیر کے ساتھ انہوں نے دیکھا ہے ، اس نظام کے مطابق ان کا فاصلہ اس قدر دور ہونا چاہئے۔ اس کے بعد جب انہوں نے تیز دور بینوں سے مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے تقدیر کے مطابق یعنی اندازہ کے مطابق جو فاصلے طے کئے تھے وہ درست نکلے۔ غرض ان اجرام فلکی کو اس عظیم فضا میں ایسے متعین فاصلوں سے رکھنا جن کے اندر کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہورہا ہے اور کوئی اضطراب نہیں۔ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقررہ قدر یا مقدار یا تقدیر کے ساتھ بنایا ہے۔
یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں ، اس کے اندر پائے جانے والے رزق اور تقدیر کا علم تو اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کی موجودہ حالت اور ہیئت اور نسبت کے اندر اگر ذرا بھی تبدیلی کی جائے تو اس زمین پر جس قدر متنوع زندگی پائی جاتی ہے اس کے اندر زبردست خلل واقع ہوجانے یا سرے سے زندگی ہی ختم ہوجائے۔ اس زمین کا حجم اور اس کا ڈھیر اور اس کی سورج سے دوری اور اس کا حجم اس کا درجہ حرارت اور اپنے محور پر زمین کا جھکاؤ، اس کی گردش محوری کی رفتار ، چاند کا زمین سے فاصلہ ، چاند کا حجم اور اس کا مواد اور زمین کی تقسیم پانی اور خشکی میں اور اس کی نسبت غرض یہ اور اسی قسم کی دوسری ہزاروں نستیں ایسی ہیں جن کو دست قدرت نے برابر مقدر کیا ہے۔ ان میں اگر ذرا بھی تبدیلی ہوجائے تو تمام موجودہ نظام بدل جائے اور زمین پر سے زندگی فوراً ختم ہوجائے اور وہ ضوابط جو زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں ان کے درمیان توازن کا ادراک اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ زندہ اشیاء اور ان کے ماحول کے درمیان توازن اور تمام اشیاء کا ایک دوسرے کے ساتھ توازن اس حد تک پہنچا ہوا ہے اور انسانوں کو معلوم ہوگیا جس طرح اس آیت کے اندر پائی جانے والی حقیقت کی طرف اشارات اچھی طرح ملتے ہیں۔ چناچہ عوامل حیات اور بقائے حیات کے عوامل اور موت اور فنا کے عوامل کے درمیان نسبت بھی معاشرے میں متعین ہے اور جب کوئی زندہ مخلوق اپنے حدود سے تجاوز کرجاتی ہے تو زندگی کو کنٹرول کرنے والے قدرتی ضوابط خود اسے چیک کرتے ہیں تاکہ جس قدر زندہ مخلوق ہو ، اس کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔
یہاں اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ بعض زندہ اشیاء کا بعض دوسری زندہ اشیاء کے ساتھ بھی تعلق اور توازن ہے جبکہ زمین کے اندر موجود توازن کی طرف ہم اس سے قبل اشارہ کرچکے ہیں۔ (سورت فرقان)
وہ پرندے جو چھوٹے پرندوں کا شکار کرکے غذا حاصل کرتے ہیں ، وہ قلیل التعداد ہیں۔ اس لئے کہ یہ بہت کم انڈے دیتے ہیں۔ پھر بہت کم بچے دیتے ہیں اور پھر یہ محدود اور متعین علاقوں میں زندہ رہتے ہیں اور دوسرے پرندوں کے مقابلے میں ان کی عمر طویل ہوتی ہے۔ اگر طویل عمر کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی زیادہ ہوتے اور یہ ہر علاقے میں زندہ رہ سکتے تو وہ دنیا سے تمام چھوٹے پرندوں کو ختم کردیتے اور چھوٹے پرندوں کی نسلیں ختم ہوجاتیں یا ان کی تعداد اس قدر قلیل ہوجاتی کہ جس مقصد کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا تھا یعنی لوگوں کا شکار اور کھانا اور دوسرے بیشمار مقاصد جو زمین پر وہ سرانجام دیتے ہیں ، کسی نے کیا خوب کہا ہے :
بغاث الطیر اکثرھا فراخا
وام الصفر مقلاة نزور
(بغاث آبی پرندہ ، کے بچے بہت ہوتے ہیں لیکن شاہین کی ماں بہت کم اور تھوڑے بچے دیتی ہے۔ ) یہ بھی اللہ کی حکمت اور تقدیر ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا تاکہ قدرتی نظام بگڑ نہ جائے تاکہ پرندوں کی پیدائش اور ان کی بقا اور گوشت خور پرندوں کے ذریعہ ان کے فنا میں توازن پیدا ہو۔
مکھی کئی ملین انڈے دیتی ہے لیکن اس کی عمر صرف دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر یہ کئی سال تک زندہ ہوتی اور انڈے اسی نسبت سے دیتی تو مکھیاں تھوڑے ہی عرصہ میں سطح زمین کو ڈھانپ لیتیں اور کئی زندہ جانور بلکہ انسان بھی مرحوم ہوجاتے یا ان کی زندگی سطح ارض پر مشکل ہوجاتی لیکن قدرت کا نظام توازن کام کررہا ہے اور یہ توازن اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کسی چیز کی نسل زیادہ ہے تو عمر کم رکھی گئی ہے اور اگر نسل کم ہے تو عمر زیادہ دی گئی ہے اور یہ چیز ہم حیات کے تفصیلی مکالمے میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وہ حیوانات جو مائیکرو سکوپ سے نظر آتے ہیں ، تمام زندہ چیزوں سے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں اور پھیلاؤ میں بڑی کثرت سے پھیلتے ہیں اور بہت زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں لیکن یہ زندگی کو قائم رکھنے میں بہت کمزور اور عمر کے لحاظ سے بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ ملین اور بلین کے حساب سے تو سردی سے مرجاتے ہیں۔ گرمی سے مرجاتے ہیں ، سورج کی شعاعوں سے مرجاتے ہیں ، جراثیم کش ادویات وغیرہ سے اور دوسرے اسباب وذرائع سے اور یہ چیزیں انسانوں اور حیوانوں کی ایک محدود تعداد کو نقصان دے سکتی ہیں۔ اگر یہ چیزیں طاقتور ہوتیں یا زیادہ عمر پاتیں تو زندہ چیزوں اور انسانوں کے لئے خطرہ بن جاتیں۔
اللہ نے ہر زندہ چیز کو اپنے دشمنوں سے بچاؤ کے لئے ہتھیار دیئے ہیں اور یہ ہتھیار حسب ضرورت ہر چیز کے لئے الگ ہے۔ مثلاً کسی کو تعداد میں کثرت کا اسلحہ دیا گیا ہے ، کسی کو گرفت کی قوت دی گئی ہے اور کسی کو کیا کسی کو کیا۔
چھوٹے سانپوں کو زہر دیا گیا ہے یا بڑی سرعت سے بھاگنے کا ہتھیار۔ ناگوں کو بڑے بڑے عضلاتی ہتھیار دیئے گئے۔ اس لئے ان میں زہر شاذونادرہی ہوتا ہے اور کبریلا اپنے آپ کو بچانے سے عاجز ہوتا ہے۔ اس لئے ایک ایسا مادہ دیا گیا ہے جو داغ دیتا ہے اور بدبودار ہوتا ہے ، جو بھی اسے چھوتا ہے اس پر وہ یہ مواد بکھیر دیتا ہے۔ اس طرح وہ دشمنوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔
وہ انڈہ جس میں مادہ منی کا جرثومہ داخل ہوجاتا ہے ، رحم مادر کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ یہ رحم مادر کو کھانا شروع کردیتا ہے اور اپنے ارد گرد رحم مادر میں ایک گڑھا بنا دیتا ہے جو خون سے بھر جاتا ہے اور یہ اس میں زندہ رہتا ہے اور خون کو چوستا رہتا ہے اور وہ نالی جو رحم مادر سے بچے کی ناف سے ملتی ہے ، وضع حمل تک خون دیتی رہتی ہے اور یہ اس مقصد کے لئے پیدا کی جاتی ہے۔ یہ نالی نہ لمبی ہوتی ہے اور نہ چھوٹی ہوتی ہے اور اس مقدار میں اس کی لمبائی مقدر ہے کہ مقصد کو اچھی طرح پورا کرتی ہے۔
حمل کے آخری دنوں میں پستانوں کے اندر ایک مواد بننا شروع ہوتا ہے اور وضع حمل کے بعد زردی مائل مواد (دودھ) نکلتا ہے۔ اللہ کی صنعت کی کاریگریوں کو دیکھو کہ اس کے اندر وہ مواد ہوتا ہے جو بچے کو متعدی امراض سے بچاتا ہے اور بچے کی پیدائش کے دوسرے دن دودھ نکلنا شروع ہوتا ہے اور قدرت کا انتظام دیکھئے کہ دودھ میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا ہے۔ ایک سال کے بعد یہ ڈیڑھ لیٹر تک پہنچ جاتا ہے حالانکہ ابتدائی دنوں میں اس کی مقدار کم ہوتی ہے۔ صرف یہ اعجاز نہیں ہے کہ بچے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دودھ بھی بڑھتا ہے بلکہ دودھ کی ترکیب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ آغاز میں یہ محض پانی اور شکر ہوتا ہے اور اس کے بعد اس میں دوسرے ضروری مادے زیادہ ہوتے جاتے ہیں اور پھر اس میں تیل بھی آتا ہے بلکہ ہر دن کا دودھ دوسرے دن سے مختلف ہوتا ہے اور یہ بچے کی ضروریات نشوونما کے مطابق۔
انسان کی نشوونما میں بیشمار مشینیں کام کرتی ہیں۔ انسان کے فرائض ، اس کے طریقہ عمل میں بہت سے عوامل لگے ہوئے ہیں جو اس کی زندگی کو بچانے اور صحت کے محافظ اور یہ فیکٹریاں جو انسانی جسم کے اندر لگی ہوئی ہیں ، ان کے بارے میں عجیب اور حیران کن معلمات حاصل ہوچکی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دست قدرت نے کس قدر باریک نظام وضع کیا ہے اور اس کی تدبیریں ہورہی ہیں اور جن سے صاف صاف نظر آرہا ہے کہ اللہ کا نظام کام کررہا ہے۔ ہر فرد ، ہر عضو کے لئے یہ عوامل کام کرتے ہیں بلکہ ہر خلیے کے لئے کام ہورہا ہے اور اللہ کی نظر سے کوئی چیز غائب نہیں ہے۔ ہم یہاں انسانی جسم کی ساخت اور اس کے پیچیدہ نظام کی تفصیلات تو نہیں دے سکتے لیکن بطور نمونہ ہم صرف ایک نظام کی طرف مختصراً اشارہ کرتے ہیں۔ یہ سخت غدودوں کا نظام ہے ” یہ جسم کے اندر چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں ہیں جو جسم کو ضروری کیمیاوی مواد فراہم کرتی ہیں۔ ان کی قوت یہ ہے کہ اس کے ایک ہزار بلین اجزاء میں سے ایک جزو بھی اس قدر مواد پیدا کرتا ہے جو جسم انسان کے لئے بہت اہم ہوتا ہے اور اس کا نظام اس طرح بنایا گیا کہ ایک غدود کا مواد دوسرے غدود کے مواد کے لئے لازمی جزو ہوتا ہے اور ان کے بارے میں آج تک جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا نظام نہایت ہی پیچیدہ ہے اور اگر ان میں کسی ایک غدود میں خلل واقع ہوجائے تو انسانی جسم میں عمومی تباہی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ خلل ایک مختصر وقت کے لئے ہو۔
رہے حیوانات تو ان کی انواع اور اقسام کے اعتبار سے ان کے دفاعی نظام اور ہتھیار مختلف ہیں اور ان کو حسب ضرورت قوت دی گئی ہے۔
چیتوں ، شیروں ، درندوں اور دوسرے پھاڑ کھانے والے جانوروں کو ایسے منہ دیئے گئے ہیں جو شکار کو پکڑ سکتے ہیں۔ تمام ایسے جانور جن کا گزارہ دوسرے جانوروں کے شکار پر ہے ان کو اس مقصد کے لئے ناخن ، تیزدانت اور مضبوط جبڑے دیئے گئے ہیں اور حملہ کرنے میں چونکہ وہ اعصاب اور عضلات سے کام لیتے ہیں ، لہٰذا ان کے پاؤں کے عضلات بہت سخت ہوتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں کے ناخن بہت سخت اور مضبوط ہوتے ہیں اور ان کے معدے کے اندر اس قسم کے تیزابی لعاب ہوتے ہیں جو گوشت اور ہڈیوں کو مختصر وقت میں ہضم کرکے رکھ دیتے ہیں۔
اسی طرح چرندوں اور پالتو جانوروں کے نظام ہاضمہ کو اس کی خوراک کے مطابق بنایا گیا ہے مثلاً وہ حیوانات جو چرکر گزارہ کرتے ہیں ان کا نظام ہضم بالکل مختلف ہے۔ ان کے منہ نسبتاً کھلے ہیں اور یہ جانور قوی اور مضبوط ناخن نہیں رکھتے۔ اسی طرح ان کے پھاڑ کھانے والے قوی دانت بھی نہیں۔ اس کے مقابلے میں ان کے دانت ایسے ہیں جو گھاس کو کاٹنے والے اور پیسنے والے ہیں۔ یہ گھاس اور نباتات کو بڑی سرعت سے کھاتے ہیں اور جلد ہی اسے نگل لیتے ہیں۔ یوں وہ انسان کے لئے وہ خدمات سرانجام دیتے ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ دست قدرت نے ایک عجیب نظام ہضم دیا ہے جو گھاس کھاتے ہیں وہ بوجھ میں جمع ہوتا ہے۔ جب اس حیوان کا یومیہ کام ختم ہوتا ہے اور یہ آرام کرتا ہے تو اس کا تمام کھانا ایک خالی جگہ چلا جاتا ہے جسے ” ٹوپی “ کہا جاتا ہے۔ یہاں سے یہ دوبارہ منہ میں جاتا ہے۔ اب اسے دوبارہ خوب چبایا اور پیسا جاتا اور یہ تیسرے درجے میں جاتا ہے جسے امر تلافیف کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد چوتھے درجے میں جسے رنفجہ کہا جاتا ہے۔ یہ طویل نظام ہضم صرف حیوان کے لئے بنایا گیا ہے کیونکہ جس قدر چرنے والے اور جگالی والے حیوانات ہیں ان کا شکار کیا جاتا ہے لہٰذا ان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ جلدی سے خوراک سٹور کرلیں اور پھر آرام سے جاکر ہضم کرلیں۔ جدید علوم نے اس بات کو دریافت کیا ہے جگالی کا عمل ان حیوانات کی زندگی کے لئے ضروری ہے کیونکہ وہ گھاس جو جلدی ہضم نہیں ہوتی اس لئے کہ نباتات کے تمام خلیوں پر سلیلوز کا پردہ ہوتا ہے اور ان کو ہضم کرنے کے لئے بہت ہی طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر جگالی کا نظام نہ ہو اور ان کے معدے میں ایک خاص سٹور نہ ہو تو ان کو چراگاہ میں طویل وقت گزارنا پڑے۔ ممکن ہے کہ ان کو پورا دن گھاس کے ہضم کرنے میں لگ جائے اور پھر بھی وہ خوراک پوری نہ کرسکتا اور پورا دن خوراک کھانے اور چبانے ہی میں لگا رہتا۔ جلدی سے گھاس کھاتا اور پھر اس کا سٹور کرلیتا اور پھر جگالی کرتا ہے جبکہ سٹور میں وہ کافی نرم ہوچکا ہوتا ہے تو اس طرح حیوانات کے کئی مقاصد پورے ہوجاتے ہیں۔ وہ اچھا کام بھی کرسکتے ہیں اور ان کی غذا بھی پوری طرح ہضم ہوجاتی ہے۔ یہ ہیں باری تعالیٰ کی تدابیر۔
وہ پرندے جو گوشت کھاتے ہیں مثلاً الو ، شکرہ ان کی چونچ کمان کی طرح ہوتی ہے اور تیز ہوتی ہے اور گوشت نوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ آبی جانور مثلاً بطخ اور مرغابی کو چوڑی چونچ دی گئی ہے تاکہ وہ پانی اور کیچڑ میں اپنی خوراک تلاش کریں اور ان کی چونچ میں ایسے چھوٹے چھوٹے ابھار ہوتے ہیں جو دانت کی طرح ہوتے ہیں اور کیڑوں وغیرہ کے کاٹنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایسے مرغیاں اور کبوتر اور باقی پرندے تو وہ زمین میں دانے اٹھا کر کھاتے ہیں اس لئے ان کو چھوٹی چونچ اور باریک سر دیئے گئے ہیں۔ وہ چھوٹے سے چھوٹا دانہ بھی اٹھا لیتے ہیں جبکہ بگلے کی چونچ طویل ہوتی ہے اور اس کے نیچے ایک تھیلا ہوتا ہے جو جراب کی طرح ہوتا ہے۔ یہ شکاری کے جال کا کام کرتا ہے کیونکہ اس کی خوراک ہی مچھلی ہوتی ہے۔
ہد ہد اور ریوفرد ان کی چونچ تیز اور لمبی ہوتی اور یہ کیڑے مکوڑے کھانے اور تلاش کرنے کے لئے موزوں ہوتی ہے کیونکہ یہ چیزیں زمین کے نیچے ہوتی ہیں۔ سائنس نے معلوم کرلیا ہے کہ کس پرندے کی چونچ پر سرسری نظر ڈالنے ہی سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اس کی خوراک کیا ہے۔
یہ بیان اب طویل ہوتا جارہا ہے۔ ہم فی ظلال القرآن کے اختیار کردہ منہاج دائرہ سے نکل رہے ہیں۔ اگر ہم تمام انواع و اقسام کے جانوروں اور مویشیوں پر کلام کریں تو بات بہت طویل ہوجائے۔ صرف ایک چیز کو لے لیں ” امیبا “ جس کا ایک خلیہ ہوتا ہے ، ذرا ملاحظہ کیجئے کہ دست قدرت نے اس کی ضرورت کو کس طرح پورا کیا ہے اور اس کے لئے بھی ضروریات کا پورا پورا انتظام کردیا ہے۔” امیبا ایک نہایت ہی باریک جسم والا حیوان ہے۔ یہ حوضوں ، نالیوں اور پانی کی تہہ میں بیٹھے ہوئے پتھروں میں ہوتا ہے۔ یہ آنکھوں سے نہیں دیکھتا ہے۔ یہ ایک ڈھیلا ڈھالا جاندار ہے۔ حالات اور ضروریات کے مطابق یہ شکل بدل دیتا ہے۔ جب یہ حرکت کرتا ہے تو یہ اپنے جسم کے بعض اجزاء مطلوب مقام تک پہنچنے کے لئے آگے پہنچنے کے لئے آگے بڑھاتا ہے۔ یہ زائد اجزاء چھوٹے پاؤں کہلاتے ہیں۔ اگر اسے کوئی غذا ملے تو وہ ان چھوٹے ایک یا دو پاؤں سے پکڑ لیتا ہے۔ اس پر یہ ہضم کرنے والا ایک سیال پھینکتا ہے اور اس کے بعد حسب ضرورت کھا لیتا ہے۔ باقی کو دور پھینک دیتا ہے۔ یہ پانی سے آکسیجن لے کر پورے جسم کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ ایک ایسا حیوان جو سرے سے دیکھتا ہی نہیں ، وہ زندہ رہتا ہے ، حرکت کرتا ہے ، غذا حاصل کرتا ہے ، سانس لیتا ہے ، اپنے فضلات نکالتا ہے اور جب وہ جوان ہوتا ہے تو دو حصوں میں بٹ جاتا ہے اور اس سے دو مختلف قسم کے حیوان بن جاتے ہیں بالکل جدید “
نباتات میں بھی زندگی محیرالعقول ہے۔ انسان اور حیوان اور پرندے کے عجائبات سے وہ بھی کسی طرح کم نہیں ہیں اور دست قدرت کی کارستانی ان حیوانات کے مقابلے میں نباتات کے اندر کس طرح بھی کم نہیں ہے۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔
و خلق ............ تقدیرا ” اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت پورے پورے اندازہ سے پیدا کیا۔ “
یہ کہ اللہ نے ہر چیز کو ایک مقدر کے مطابق پیدا کیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی عظیم اصول ہے۔ یہ بہت ہی ہمہ گیر ہے مثلاً اس کائنات کی ہر حرکت اس کے واقعات ، حادثات خواہ چھوٹے ہوں یا بثے ، وہ اللہ کی تقدیر اور تدبیر کے مطابق چلتے ہیں۔ انسانی تاریخ کی ہر حرکت ، نفس انسانی کی ہر حرکت ، سانس لینا اور خارج کرنا ، مقدر ہے۔ ہر نفس کا وقت ، مقام اور ماحول مقرر ومقدر ہے اور اس کی زندگی اس کائنات کی حرکت کے ساتھ مربوط ہے اور اسی طرح حساب و کتاب کے اندر ہے جس طرح بڑے بڑے واقعات دائرہ حساب میں ہوتے ہیں۔
دور ایک صحرا میں ایک اکیلا درخت کھڑا ہے۔ یہ تقدیر نے کھڑا کیا ہے اور اس کی کوئی ضرورت ہوگی ۔ یہ درخت بھی کوئی فریضہ ، منصبی ادا کررہا ہوگا اور یہ بھی اس پوری کائنات کے نظام کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ چیونٹی جو زمین پر چل رہی ہے اور یہ ذرہ جو ہوا میں اڑ رہا ہے اور یہ خلیہ جو پانی میں تیر رہا ہے یہ بھی انہیں اجرام فلکی کی طرح مقدر ہے اور کسی کے حکم سے اڑ رہا ہے۔
اللہ کی تقدیر زمان میں بھی چلتی ہے ، مکان میں بھی چلتی ہے ، مقدار بھی مقدر ہے صورت بھی مقدر ہے اور تمام حالات اور تمام اصول مقدر ہیں۔
اللہ کا نظام قضا وقدر کس طرح کام کرتا ہے مثلاً حضرت یعقوب ایک دوسری عورت سے نکاح کرتے ہیں اور ان سے یوسف اور بن یامین پیدا ہوتے ہیں۔ کسی نے اس کے بارے میں خیال کیا ہے کہ یہ بظاہر ایک شخصی فیصلہ تھا لیکن اس کے پیچھے دست قدرت کام کررہا تھا تاکہ برادران یوسف ان کے ساتھ حسد کریں ، ان کو اندھے کنویں میں ڈال دیں۔ وہاں سے ان کو قافلہ پکڑلے۔ مصر میں فروخت کردے ، مصر میں عزیزمصر کا گھر ہے۔ اس کی بیوی انہیں ورغلانے کی کوشش کرے۔ آپ بلند اور برتر ثابت ہوں۔ جیل میں بھیج دیئے جائیں۔ یہ کیوں ؟ تاکہ جیل میں شاہی ملازمین سے ملیں ان کے سامنے خواب کی تعبیر بیان کریں۔ یہ کیوں ؟ ابھی تک تو ان واقعات کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ سوال اٹھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ حضرت یوسف تو بےگنہ جیل میں عذاب جھیل رہے ہیں پھر یعقوب (علیہ السلام) کا کیا قصور ہے۔ وہ کیوں جل رہے ہیں ؟ وہ رنج والم سے کیوں بینائی کھو بیٹے ہیں اور یوسف (علیہ السلام) کو یہ تکالیف کیوں دی جارہی ہیں۔ جسمانی اور روحانی تکالیف ، پورے پچیس سال گزرنے کے بعد پہلا جواب آتا ہے کہ تقدیر اسے مصر کی حکومت کے لئے تیار کررہی تھی تاکہ مصر اور اس کے ملحقہ ممالک کو قحط سے بچایا جاسکے ، پھر کس لئے ؟ اس لئے کہ وہ اپنے والدین اور بھائیوں کو مصر بلا لائیں پھر اس لئے کہ ان کی نسل سے قوم بنی اسرائیل پروان چڑھے تاکہ فرعون ان پر مظالم ڈھائے اور ان کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا جائے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اس کرہ ارض پر وہ واقعات رونما ہوں۔ جو حضرت یوسف کے کنویں میں ڈالنے کے بعد رونما ہوئے۔ ان واقعات کے اثرات اس دنیا میں آج بھی موجود ہیں اور دنیا کے واقعات پراثرانداز ہورہے ہیں۔
پھر ایک دوسرا واقعہ یعقوب (علیہ السلام) کے دادا ابو الانبیاء حضرت ابراھیم (علیہ السلام) مصر جاتے ہیں۔ مصری عورت ہاجرہ سے نکاح کرتے ہیں۔ یہ بھی کوئی افنرادی مسئلہ نہ تھا۔ یہ اور اس سے قبل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں جو واقعات رونما ہوئے جن کے نتیجے میں انہوں نے وطن چھوڑا ، عراق سے کنعان وہاں سے مصر وہاں سے ہاجرہ کا لانا ، اسماعیل (علیہ السلام) کا پیدا ہونا ، ان کو بیت اللہ میں آباد کرنا تاکہ حضرت محمد ﷺ پیدا ہوں۔ ابراہیم کی نسل سے ، اس جزیرہ عرب میں جو اس ارض پر بہترین مکان ہے اور دعوت اسلامی کا مرکز ہے تاکہ اس کے نتیجے میں تاریخ انسانیت میں ایک عظیم حادثہ رونما ہو۔
یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے اور اس کا پچھلا سر دست قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ ہر حادثہ ہر واقعہ وہاں سے ہی نمودار ہوتا ہے۔ آغاز بھی وہاں سے ، انجام بھی وہاں ، ہر قدم ، ہر تغیر میں دست قدرت کا ہاتھ ہے۔.... یہ اللہ کی تقدیر کا نظام ہے ، یہ نافذ ہے ، جامع و شامل ہے ، باریک اور گہری۔
انسان اسی کے بالکل قریبی سرے کو دیکھ رہا ہے لیکن اسے اسباب کی دراز رسی کا دوسرا سرا نظر نہیں آتا اور بعض اوقات یہ رسی بہت دراز ہوجاتی ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں ، دور دراز تک ہم نکل جاتے ہیں ، ہمیں تقدیر وتدبیر کا سلسلہ نظر نہیں آتا۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ پروانے کا ناحق خون ہوگا
کس طرح ہوگا ؟ اس پر لوگ جلدی مچاتے ہیں ، شور کرتے ہیں نئی نئی تجاویز لاتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل اپنے آپ کو عذاب میں ڈال رہے ہیں۔ نظام قضا وقدر پر دست درازی کرتے ہیں۔
اللہ صاف صاف فرماتا ہے کہ اس نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کررکھا ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ نتائج اس پر چھوڑ دیں جو نتائج کا مالک ہے اور آرام سے کام کریں۔ وہ اللہ کے نظام ، قضاوقدر سے ہم آہنگ ہوکر چلیں۔ نہایت انس و محبت سے اپنے حصے کا کام کریں اور نہایت ثابت قدمی اور للہ پر بھروسے کے ساتھ قدر بڑھاتے چلے جائیں۔
جہاں تک اللہ کے انقلاب کا تعلق ہے تو وہ پلک جھپکتے ہی نمودار ہوسکتا ہے۔ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
Ayah 54:50وما امرنا ............ بالبصر (45: 0 5) ” ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکائے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ “ صرف ایک اشارہ اور ایک ہی کلمہ تمام کام مکمل کردیتا ہے۔ چھوٹا کام بھی اور بڑا انقلاب بھی۔ اللہ کے لئے تو کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہے۔ یہ انسانی تقدیرات ہیں جن میں بڑے اور چھوٹے کام ہیں۔ اللہ کے ہاں نہ زمان ہے نہ مکان ہے اور نہ پلک جھپکنا ہے۔ وہاں تو کن فیکون ہے۔ یہ انسانوں کو سمجھانے کے لئے بڑے اور چھوٹے اور مختصر وقت کی مثالیں دی گئی ہیں۔ زمان کیا ہے ، انسان کا ایک چھوٹا سا تصور جو وہ اس زمین کے گردش محوری اور سالانہ سے پیمائش کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں زمانے کا یہ تصور نہیں ہے۔ یہ تو بہت ہی محدود تصور ہے۔
ایک لفظ ۔ جو اس پوری کائنات کو جود میں لاتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو اس میں تغیرات پیدا کرتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو اس کو نابود کردے گا۔ ایک لفظ ہے جو ہر چیز کو وجود بخشتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو حیات کو پھیلاتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو موت دیتا ہے اور ایک لفظ ہوگا جو دوبارہ اٹھادے گا۔ ایک لفظ سے حشر ونشر برپا ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔ ایک لفظ ایک ارادہ ، کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی کسی زمان ومکان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس قدرت ہے تقدیر ہے اور ہر چیز اللہ کے لئے آسان ہے۔
اور یہی لفظ تھا جس کے ذریعہ ہم زمانوں کو ہلاک کرکے لپیٹ چکے ہیں ذرا تاریخ پر نگاہ ڈالو۔
Ayahs 54:51–53ولقد ................ مستطر (45: 3 5) ” اور تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور یہ چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ یہ ہیں مکذبین کی بربادیاں جن کی طرف اسی سورت میں اشارات موجود ہیں۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو نصیحت حاصل کرے اور عبرت پکڑے۔
ان کی ان بربادیوں پر ہی ان کا حساب و کتاب ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک آنے والا حساب ہے جس سے کوئی ذرہ برابر فعل بھی نہیں بچ سکتا۔
وکل ............ الزبر (45: 2 5) ” انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفتروں میں درج ہے۔ “ وہ دفتروں میں سطور کی شکل میں درج ہے یوم الحساب کے لئے تیار شدہ چٹھا ہے۔
وکل ................ مستطر (45: 3 5) ” ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ کوئی چیز اس میں سے بھول کر نہیں رہتی۔
اب روئے سخن متقین کی طرف پھرجاتا ہے۔ یہ صفحہ بالمقابل ہے مکذبین کا۔ نہایت ہی خوشحالی کی تصویر ہے۔ ان کی ، امن و اطمینان میں اور کیف و سرور میں اور عزت و عظمت میں۔
Ayahs 54:54–55ان المتقین ............ مقتدر (55) (45:45 ۔ 55) ” نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ “
مجرمین تو گمراہی اور آگ میں تھے۔ تو متقین چشموں اور نہروں میں ہیں۔ مجرموں کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا تو ہیں آمیز طریقے پر اور پھر سر زنش کے طور پر کہا جائے گا۔
ذوقو ............ سفر ” چکھو آگ کا مساس “ جبکہ مومنین جنات اور نہروں میں ہیں اور عزت کی جگہوں میں ذی اقتدار بادشاہ کے پاس ہیں۔ پورا تقابل ہے دونوں کے درمیان۔
الفاظ کا استعمال بھی دلچسپ ہے۔ جنات ونہر میں ایک تو مفہوم نہایت مکمل ہے کہ باغ اور نہریں جن سے نعمتیں اور آسانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ لفظ نہر لفظ سقر کے ساتھ ہم وزن ہونے کے ساتھ نہایت ہی نرم ادائیگی بھی رکھتا ہے یعنی نرم ، سل التلفظ لفظ سے اشارہ اس طرف مطلوب ہے کہ ان کو ہر قسم کی سہولیات میسر ہیں۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ معنی کے علاوہ تلفظ سے بھی مفہوم ظاہر ہوتا ہے جس طرح سقر سے سختی ظاہر ہوتی ہے۔
جسم اور زبان کی نعمتوں کے علاوہ وہاں قلب وروح کی غذا کا انتظام بھی ہوگا اور وہ ہوگا مقتدر اعلیٰ کا قرب۔
فی ............ مقتدر (45:55) ” سچی عزت کی جگہ بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ “ یہ مستقل اطمینان کی جگہ ہے ۔ نہایت ہی قابل عزت قرب ہے۔ وہ قرب کے اندر محبت محسوس کریں گے۔ مطمئن ہوں گے۔ یہ اس لئے کہ دنیا میں یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے ہر وقت اللہ کی مرضی کے منتظر تھے اور اللہ کا نظام یہ ہے کہ وہ کسی دل میں دو ڈر جمع نہیں کرتا کہ کوئی دنیا میں اللہ سے ڈرے اور پھر قیامت میں بھی اللہ سے ڈرے۔ جو یہاں ڈرے گا وہاں مطمئن اور مسرور ہوگا اور اس خوفناک اور ہولناک میدان میں امن و سکون محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اہل ایمان اعزازو تکریم بھی پائیں گے۔
یہاں یہ نغمہ نہایت دھیما نغمہ ختم ہوتا ہے۔ متقین یہاں پر امن سایہ میں ہیں اور یہ سورت جس کی تمام کڑیاں خوفناک دھماکے کی صورت میں تھیں ، پکڑ دھکڑ تھی ، اس کا یہ آخری منظر مومنین کے پرسکون حالات ومناظر پر ختم ہوتا ہے جس میں ان کا جسم اور قلب وروح سب کے سب پرسکون اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہ ہے اندازعلیم و حکیم کا۔ جو بات کی جاتی ہے وہ دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے کیونکہ اللہ لطیف وخبیر ہے اور اسی نے ہر چیز کو ایک اندازے سے بنایا ہے اور وہ ہر چیز کے ساتھ معاملہ کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔