Ayahs 55:1–2رحمان کے انعامات کے بیان میں یہ پہلا پیرگراف ہے اور اس اعلان عام کی یہ پہلی خبر ہے اور پہلی نعمت :
علم القرآن (اس نے قرآن کی تعلیم دی) اور قرآن کی تعلیم کی شکل میں اللہ نے اپنے بندوں پر عظیم رحمت فرمائی۔ قرآن جو نوایس فطرت کا ترجمان ہے۔ یہ اہل زمین کے لئے آسمان کا منہاج ہے اور یہ منہاج اہالیان زمین کو ناموں فطرت سے ملاتا ہے اور یہ ان کے عقائد ، ان کے تصورات ، ان کے پیمانوں ، ان کی قدروں ، ان کے اداروں ، ان کے حالات کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ انہی بنیادوں پر جن پر یہ پوری کائنات قائم ہے ، یہ دستور ان کی سہولتیں اطمینان اور ناموس فطرت کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔
قرآن انسانوں کے حواس اور ان کے شعور کو اس پوری کائنات کے لئے کھولتا ہے کہ دیکھو کیا ہی خوبصورت ہے یہ کائنات اور قرآن ان کو اس کا مشاہدہ یوں کراتا ہے کہ گویا انسانیت نے کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ وہ دیکھتے رہے تھے لیکن یہ ایک نیا مطالعہ ہے۔ انہوں نے خود اپنی ذات کا بھی از سر نو مطالعہ کیا۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کائنات کو پڑھنا شروع کیا بلکہ قرآن نے اس پورے کائناتی ماحول کو ایک زندگی عطا کردی اور یہ ماحول انسان کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوگیا ہے۔ اب انسان اس کائنات کے مظاہر کا دوست بن گیا۔ ساتھی بن گیا اور وہ ہمقدم ہوکر چل رہے ہیں اور اس زمین پر انسان کا یہ سفر نہایت خوشگواری سے چلنے لگا۔
اس قرآن نے انسان کے ذہن نشین کرایا کہ انسانو ! تم اس کائنات میں اللہ کے خلفاء ہو۔ رحمان کے خلفاء ہو۔ اللہ کے نزدیک تم بہت مکرم ہو۔ تمہیں اللہ نے یہ قرآن ایک عظیم امانت دی ہے۔ وہ امانت کہ زمین و آسمانوں اور پہاڑوں نے اس کے اٹھانے سے معذرت کرلی تھی۔ قرآن تمہیں جو اعلیٰ انسانیت عطا کرتا ہے اس کی قدروقیمت کو سمجھو اور یہ فہم وادراک صرف قرآن کے ، ذریعہ ممکن ہے۔ ایمان کی راہ سے ممکن ہے۔ ایمان ہی تمہاری روح میں یہ جذبہ ، یہ ہدایت پھونک سکتا ہے اور صرف قرآن کے ذریعے سے تم اللہ کی عظیم نعمت حاصل کرسکتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اسے وجود بخشنے کی نعمتوں سے بھی پہلے تعلیم کا ذکر کیا کیونکہ علم قرآن کے ذریعہ ہی انسان انسان بن سکتا ہے۔
Ayahs 55:3–4خلق الانسان (55: 3) علمہ البیان (55:4) (انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا) ہم یہاں انسان کی تخلیق کی نعمت پر کلام نہیں کرتے۔ جلد ہی سورة میں یہ بیان آئے گا۔ یہاں اصل مقصود تعلیم بیان ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بات کرتا ہے۔ مافی الضمیر کی تعبیر کرتا ہے۔ بیان کرتا ہے ایک دوسرے کی بات سمجھتا ہے اور پھر انسان باہم تعاون کرتے ہیں۔ یہ کام چونکہ ہر وقت ہمارے درمیان ہوتا رہتا ہے اس لئے اللہ کی اس نعمت عظمیٰ کو ہم نے بھلا دیا ہے ورنہ ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ ایک عجوبہ ہے۔ قرآن ایسی کئی نعمتوں کی یاد دہانی کراتا ہے ہمیں جگاتا ہے۔
انسان کیا چیز ہے ؟ اس کی اصلیت کیا ہے ؟ اسے یہ بیان کس طرح سکھا دیا جاتا ہے ؟ انسان کی حیثیت تو یہ ہے کہ یہ ایک خلیہ ہے جو باپ کے مادہ منویہ میں ہوتا ہے۔ یہ رحم مادر میں ایک نہایت ہی سادہ شکل میں زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ، کمزور ہوتا ہے۔ یہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ یہ صرف آلات کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے ، نہ یہ نظر آتا ہے اور نہ یہ اظہار کرسکتا ہے۔
یہ خلیہ جلد ہی جنین کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس جنین میں خلیوں کی تعداد پھر کئی ملین ہوجاتی ہے۔ ہڈی کے خلیے ، نرم ہڈیوں کے خلیے ، عضلات کے خلیے ، اعصاب کے خلیے اور جلد کے خلیے۔ پھر اعضا بنتے ہیں اور ان اعضاء کے حیران کن کام اور صلاحیتیں سننا ، دیکھنا ، چکھنا ، سونگھنا اور چھونا اور پھر شعور اور الہام۔ یہ سب خلیے اور یہ سب خواص اس ایک خلیے سے بن گئے جو ایک سادہ خلیہ تھا ، نہایت چھوٹا جو نہ نظر آتا تھا اور نہ اظہار کرسکتا تھا۔
یہ کیسے ہوا ؟ کہ اسے آیا ؟ یہ رحمان سے آیا ہے ، یہ رحمان کی مصنوعات میں سے ایک ہے۔
ذرا غور کیجئے کہ اس مخلوق کو اللہ نے کس طرح بین سکھایا۔
واللہ ............ ولافئدة (61 : 87) (اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان دیئے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے اس لئے کہ تم شکر گزار ہو)
حقیقت یہ ہے کہ بات کرنے کے اعضا ہی وہ عجوبہ ہیں جن کے عجائبات ختم نہیں ہوسکتے۔ زبان ، ہونٹ ، چہرے ، دانت ، ہوا کی نالی ، حنجرہ اور پھپھٹرے سب اس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تمام اعضاء آواز نکالنے میں شریک ہوتے ہیں اور اعضا کا یہ فعل بیان کی بنیاد بنتا ہے۔ اس پیچیدہ عمل میں یہ اعضاء ایک میکان کی پہلو دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ان اعضاء کا رابطہ دماغ ، قوت سماعت اور پورے اعصابی نظام سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد عقل سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور عقل کیا چیز ہے ، اس کے بارے میں ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ اس کا نام ” عقل “ ہے۔ اس کی ماہیت اور حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے بلکہ یہ عقل کس طرح کام کرتی ہے ہم اس کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔
ایک بات کرنے والا جب ایک لفظ بولتا ہے تو کس طرح بولتا ہے ؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے کئی مراحل ، کئی درجے اور کئی آلات ہیں اور بعض چیزیں ابھی تک معلوم نہیں۔
پہلے یہ شعور سامنے آتا ہے کہ اس مقصد کے لئے یہ لفظ بولنا چاہئے۔ یہ شعور عقل ، قوت مدرکہ یا روح سے حسی آلات کی طرف آتا ہے۔ یہ کس طرح آتا ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ دماغ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اعصاب کے ذریعے یہ حکم دیتا ہے مذکورہ بالا آلات کو کہ اس لفظ کا تلفظ کیا جائے۔ یہ لفظ بذات خود کیا چیز ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو اللہ نے ہر انسان کو سکھائی اور اس کے معنی سکھائے۔ اب یہاں پھیپھڑے ہوا کی ایک مقدار ایک نالی کے ذریعہ ہوائی نالی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ پھر یہ ہوا گلے کی طرف آتی ہے۔ یہاں تاروں کا وہ نظام ہے جو آواز پیدا کرتا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے بنائے ہوئے صوتی آلات کے تاروں سے بہت ہی مختلف اور پیچیدہ ہے۔ نہ اس نظام کے ساتھ انسان کے بنائے ہوئے آلات مشابہت کرسکتے ہیں جو آواز پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حنجرہ میں آواز پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد جس طرح عقل چاہتی ہے اس آواز کی تشکیل ہوتی ہے۔ اونچی آواز ، نرم آواز ، دھیمی آواز ، تیز آواز ، موٹی آواز ، سخت آواز ، نرم آواز ، پتلی آواز ، غرض قسم قسم کی آواز بھی۔ پھر حنجرہ کے ساتھ زبان ، ہونٹ ، جبڑے اور دانت کام کرتے ہیں۔ مختلف اطراف کے دباؤ کے نتیجے میں پھر حروف بنتے ہیں اور جہاں سے وہ نکلتے ہیں وہ ان کا مخرج ہوتا ہے۔ زبان کے اندر یہ کمال ہے کہ وہ ہر حرف کو زبان کے ایک حصے سے نکالتی ہے جس کا خاص اثر ہوتا ہے۔ زبان دباؤ کو اس حصے پر مرکوز کردیتی ہے۔ اسی طرح حروف کی آواز میں ایک خاص ترنم پیدا ہوتا ہے۔
یہ تمام آلات صرف ایک لفظ کی ادائیگی کا انتظام کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر عبارت موضوع ، افکار ، احساسات ، سابقہ اور نئے ، غرض یہ نظام ، ” نظام بیان “ بذات خود ایک معجزہ ہے۔ یہ بیان انسانی جسم کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ رحمان کی صفت ہے اور رحمان کا فضل ہے۔
Ayah 55:5اب اس کائنات کی نمائش گاہ میں دست قدرت کے بنائے ہوئے دو اور عجوبے۔
الشمس والقمر بحسبان (55:5) (سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں) شمس وقمر کی بناوٹ ان کی حرکت اور ہم آہنگی کو دیکھ کر انسان حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عظیم نظام ہے اور منظم کی عظمت پر دال ہے اور اس نظام کے اندر گہرے حقائق پوشیدہ ہیں اور اس سے نکلنے والے نتائج دور رس ہیں۔
سورج اجرام فلکی میں سے کوئی بہت بڑا کرہ نہیں ہے۔ اس فضا نے کائنات کے اندر جس کے حدود کا تعین انسان نہیں کرسکا ، کئی ملین ستارے ہیں جن میں سے بہت سے سورج سے بڑے ہیں اور زیادہ حرارت والے ہیں۔ زیادہ تیز روشنی والے ہیں۔ بعض تو بیس گناہ بڑے اور زیادہ گرم ہیں اور جن کی روشنی سورج کی روشنی سے پچاس گنا تیز ہے۔
شعری یمانی سورج سے بیس گناہ بھاری اور اس کی روشنی سورج کی روشنی سے پچاس گنا زیادہ ہے۔ سماک رائح سورج کے حجم سے اسی گنا بڑا حجم رکھتا ہے اور اس کی روشنی آٹھ ہزار گنا زیادہ تیز ہے۔ سہیل کا حجم سورج سے دو ہزار پانچ صد مرتبہ بڑا ہے۔ اسی طرح اور ستارے اور سیارے۔
لیکن ہمارے لئے سورج ہی زیادہ اہم ہے یعنی ہم زمین کے باشندوں کے لئے کیونکہ یہ زمین اور اس کی یہ حالت اور انسان کی زندگی سورج کی حرارت کی مرہون منت ہے اور اس میں سورج کی جاذبیت کو بھی بڑا دخل ہے۔
اس طرح چاند جو اس زمین کا ایک چھوٹا سا سیارچہ ہے لیکن اسے بھی اس زمین کی زندگی میں اہمیت حاصل ہے۔ سمندروں کے اندر مددجزر اسی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
سورج کا حجم ، اس کا درجہ حرارت ، ہم سے اس کا بعد ، اس کا اپنے مدار میں چکر لگانا ، اس طرح چاند کا حجم ، اس کی ہم سے دوری اور اپنے مدار میں گردش یہ سب امور نہایت ہی باریک حساب اور پیمانوں سے بنائے ہوئے ہیں اور زمین کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بمقابلہ دوسرے ستاروں اور سیاروں کے۔ شمس وقمر کے بعض حسابات ہم یہاں درج کرتے ہیں کہ زمین کے حوالے سے ان کے ان حسابات میں ذرا بھی فرق آئے تو دوررس نتائج نکلیں۔
سورج زمین سے 5 لاکھ 29 میل دور ہے۔ اگر یہ اس سے قریب تر ہوتا تو زمین جل جاتی اور تمام پانی بخارات میں بدل جاتا اور بخارات فضا میں بلند ہوجاتے اور اگر یہ ذرا اور دور ہوتا تو تمام چیزیں منجمد ہوجائیں۔ ہم تک سورج کی جو حرارت پہنچتی ہے ، وہ اس کی حرارت کے دو ملین حصوں میں سے ایک حصہ پہنچتی ہے اور ہماری موجودہ زندگی کے لئے یہی معمولی حرارت کافی ہے۔ اگر شعری اپنی موجودہ ضخامت اور حرارت کے ساتھ سورج کی جگہ ہوتا تو پورا کرہ ارض جل کر راکھ ہوجاتا اور پانی بخارات بن کر فضا آسمانی میں بکھر جاتا۔
اسی طرح چاند کا حجم اور ہم سے بعد ایک حساب سے رکھا گیا ہے۔ اگر یہ اس سے ذرا بھی بڑا ہوتا تو سمندر کے اندر اس قدر طوفان آتے کہ زمین بار بار ڈوبتی رہتی۔ اسی طرح اگر یہ ہم سے قریب ہوجاتا یعنی جہاں ہے تو بھی زمین پر طوفان مچا دیتا لیکن جہاں اللہ نے اسے رکھ چھوڑا ہے اس سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتا۔
سورج اور چاند کی جاذبیت زمین کے لئے ایک مقدار کے ساتھ متعین ہے اور ان کی رفتار کو بھی ایک نہایت ہی مضبوط حساب سے رکھا گیا ہے اور ہمارا یہ پورا کہکشاں اور مجموعہ شمسی بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ ایک ہی سمت میں چل رہا ہے اور اس راہ میں وہ کسی دوسرے ستارے سے نہیں ٹکرایا اور اس رفتار کے کئی ملین سال ہوگئے ہیں اور فضائے کائنات ختم نہیں ہوئی۔
اس وسیع فضائے آسمانی کے اندر کوئی ستارہ اپنے مدار سے ایک بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا اور ان کے درمیان جو توازن اور ہم آہنگی رکھی گئی ہے ، اپنے حجم کے لحاظ سے یا حرکت کے لحاظ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ سچ فرمایا ذات باری نے :
الشمس والقمر بحسبان (55:5) (تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں) سابقہ اشارہ یہ تھا کہ اس کائنات کی تخلیق وتشکیل میں ایک مضبوط حساب رکھا ہوا ہے اور یہ اشارہ اسی طرف ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی ذات کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ کہ یہ باری تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق چلتی ہے اور اس کی مطیع فرمان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات پوری طرح اللہ کی مطیع فرمان ہے جس طرح بندہ اور غلام مطیع ہوتا ہے اور اس کے لئے خالق نے جو ضوابط رکھے ہیں ، ان کو تسلیم کرتی ہے۔ ستارے اور درخت اس بندگی اور اطاعت کا نمونہ ہیں۔ بعض نے ستارے کا یہ مفہوم لیا ہے کہ اس سے وہ ستارہ مراد ہے جو آسمان میں ہے جبکہ بعض نے شجر سے مراد وہ گھاس لی ہے جو نال پر کھڑی نہ ہو۔ مراد جو بھی ہو ، بہرحال آیت کا مفہوم وہی ہے کہ تمام چیزوں کی اطاعت اور بندگی کا رخ اللہ کی طرف ہے۔
غرض یہ کائنات ایک ایسی مخلوق ہے جس کی ایک روح اور اسی روح کی شکلیں اور مظاہر اور درجے مختلف ہوتے ہیں۔ کسی چیز میں کیسی روح ہے اور کسی میں کسی دوسری نوعیت کی روح در حقیقت روح کائنات ایک ہی ہے۔
قلب بشری نے روح کائنات کا ادراک بہت پہلے کرلیا تھا اور یہ کہ یہ پوری کائنات اپنی اس روح کے اعتبار سے خالق کی طرف متوجہ ہے۔ ہر شخص کو بذریعہ الہام لدنی اس حقیقت کا ادراک کرایا گیا تھا لیکن جب انسان نے اس روح کو اپنے حواص سے معلوم کرنے کیسعی کی تو اس حقیقت ، اس الہامی حقیقت کو غبار آلود کردیا گیا اور یہ انسانی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ جب بھی اس حقیقت کو عقل کے پائے چوبیں سے معلوم کرنے کی سعی کی گئی یہ بھاگ گئی۔
حال ہی میں انسان نے کائنات کی تخلیق میں علامات وحدت کا ایک حصہ تلاش کرلیا ہے لیکن موجودہ مادیت زدہ انسانیت روح کائنات تک نہیں پہنچ سکی جو ایک زندہ روح ہے اور اس تک روحانی انداز ہی میں پہنچنا چاہئے اور پہنچا جاسکتا ہے۔
سائنس دان اپنے کام کا آغاز اس سے کرتے ہیں کہ ذرہ تخلیق کی پہلی اکائی ہے اور وہ صرف شعاع یا نور سے مرکب ہے اور یہ کہ حرکت اصول کائنات ہے اور کائنات کے تمام اجسام اور افراد کے درمیان مابہ الاشتراک حرکت ہے۔
سوال بلکہ سوالات یہ ہیں کہ یہ کائنات حرکت کرکے جا کہاں رہی ہے۔ یہ تو کائنات کی صفت ہوئی اور خاصیت ہوئی۔ قرآن کریم یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ کائنات اپنے خالق کی طرف رخ کئے ہوئے ہے اور یہی حقیقی حرکت ہے۔ ظاہری حرکت دراصل روح کائنات کی حرکت کی ایک تعبیر ہے اور قرآن کریم اس روح کائنات کی حرکت کی تعبیر ایسے الفاظ میں کرتا ہے۔
Ayah 55:6والنجم والشجر یسجدن (55: 6) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔
تسبیح لہ ................ تسبیحھم (71 :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔
الم تر ............ وتسبیحہ (4 2 : 1 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ )
جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ پوری کائنات سجدہ ریز ہے اور اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہے تو انسانی قلب کو حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بہت بڑا زاد راہ ملتا ہے۔ وہ اپنے ماحول کو زندہ سمجھتا ہے ۔ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر اللہ کی طرف فرار اختیار کرتا ہے۔ یہ سوچ روح کائنات سے یہ ہم نشینی انسان کو اس کائنات کا دوست بنادیتی ہے۔
یہ نہایت ہی دوررس اشارہ ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔
Ayah 55:7والسمائ ........................ المیزان (55: 9)
(آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔
آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ ذرا اوپر کو دیکھو ، تمہارے اوپر ایک ہولناک فضا ہے۔ بہت بلند بہت دور ، بلا حدود وقیود ، اس فضا کے اندر ہزار ہا ملین عظیم الجثہ اجرام فلکی تیر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آپس میں نہیں ملتے۔ ان کا کوئی مجموعہ دوسر مجموعات سے متصادم نہیں ہوتا۔ ان مجموعات کی تعداد میں ایک ایک مجموعے کی تعداد بعض اوقات ایک ہزار ملین تاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کو جس مجموعے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس میں ہمارے سورج جیسے اجرام بھی ہیں اور اس سے ہزار ہا گنا بڑے بھی ہیں۔ فقط ہمارے سورج کا قطر 21۔ املین کلومیٹر ہے اور یہ سب ستارے اور یہ سب کا مجموعے اس کائنات کے اندر نہایت ہی خوفناک تیزی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں لیکن یہ سب اس عظیم اور محیرالعقول وسیع فضائے کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح زمین کی فضا میں ذرات تیرر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے دور دور چلتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ (اور اگر ہوجائے تو ؟ )
اللہ نے اس آسمان کو جس طرح بلند کیا ہے اور ہولناک حد تک وسیع کیا ہے اور اس کے لئے ایک فطری میزان تجویز کیا ہے اسی طرح تمعہارے لئے بھی ایک میزان حق تجویز کیا ہے۔ یہ ثابت ، مضبوط اور جماہوا ہے اور یہ میزان قدروں کی پیمائش اور وزن کے لئے ہے۔ افراد کی قدر ، واقعات کی قدر ، اشیاء کی قدر تاکہ ہر کسی کا وزن اور قدر متعین ہوجائے اور ان میں خلل واقع نہ ہو اور لوگ جہالت ، عناد اور خواہشات کے مطابق اچھے برے کا فیصلہ نہ کرتے پھریں۔ اس میزان کو فطرت کے اندر بھی رکھا ہوا ہے اور دعوت اسلامی کے اندر بھی رکھا ہوا ہے جسے تمام رسول لے کر آئے ہیں اور آخر میں یہ قرآن کی شکل میں آیا ہے۔
Ayahs 55:8–9اللہ نے میزان قائم کردیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ :
الا تطغوا فی المیزان (55: 8) ” تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، کمی بیشی نہ کرو اور واقیموا ............ المیزان ” اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو “ میزان حق حقدار کو دینے اور انصاف کرنے کے لئے قائم ہوتا ہے لہٰذا نہ حد سے آگے جاؤ نہ پیچھے رہو۔
اس طرح زمین کے اندر موجود حق اور میزان اور انسانوں کی زندگی کے اندر موجود حقوق میں حق بحق دار رسید کے مطابق اسلامی نظام اور کائنات کے نظام کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ یوں آسمانوں سے نزول وحی اور آسمانوں کی رفعت اور بلندی دونوں کے درمیان اللہ کا میزان کام کرتا ہے اور یوں یہ دونوں مفہوم انسانی احساس پر سایہ فگن ہوتے ہیں۔
Ayahs 55:10–12والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح ہمیں یہاں قرار سے رکھا گیا ہے اس کے معنی کو ہم نے سمجھا ہی نہیں ورنہ ہم اللہ کی قدرت اور عظمت کا کچھ تصور کرتے۔ ہاں کبھی کبھی جب آتش فشانی ہوتی ہے یا کوئی شدید زلزلہ آتا ہے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین کانپتی ہے۔ تب ہمیں قدرے اضطراب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے مطیع ہونے کا مفہوم کیا ہے۔
انسانوں کا تو یہ فریضہ ہے اور ان کے لئے یہ بات شایان شان ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذرایاد رکھیں۔ یہ زمین جس کے اوپروہ چلتے دوڑتے ہیں ، اگر اس کی طرف قدرے توجہ کریں تو ان کی نظر آئے کہ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اس ہولناک اور محیر العقول وسیع تر فضا میں تیر رہا ہے۔ یہ اس مطلق بےقید ، بےحد فضا میں ہے۔ یہ ذرہ خود اپنے گرد بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے اور سورج کے گرد یہ ساٹھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے جبکہ یہ زمین یہ سورج اور اپنے مجموعہ ستار گان جو کئی ملین میں بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ کسی سمت میں جارہے ہیں جس کا ہمیں علم نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ برج جیار کی طرف جارہے ہیں۔
ہاں اگر انسان اس بات پر غور کریں کہ وہ ایک چھوٹے سے ذرے پر سوار ہیں اور یہ ذرہ اس فضا میں اس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور یہ اس فضا میں لٹک رہا ہے اور کوئی ستون اور سہارا نہیں ہے صرف دست قدرت نے اسے یوں رکھا ہوا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کا خوف اپنے دلوں کے اندر پائیں۔ کانپتے رہیں اور تھرتھراتے رہیں اور صرف اس ذات کی طرف متوجہ ہوں جس نے اسے ایسا رکھا ہوا ہے اور اس نہایت تیز رفتار گھوڑے پر یہ یوں چل پھر رہے ہیں۔
اللہ نے تو اس خوف کے لئے اس میں اسباب حیات مہیا کردیئے ہیں۔ یہ اس میں کھاتے پیتے ہیں جبکہ یہ انہیں لئے ہوئے اپنے گرد بھی دوڑرہی ہے اور سورج کے گرد بھی دوڑ رہی ہے اور نظام شمسی کے مجموعے کے ساتھ بھی دوڑ رہی ہے اور پھر اسی زمین کے اندر اللہ نے ہمارا رزق ، میوے اور فواکہ پیدا کر رکھے ہیں اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے پھل غلافوں میں بند ہوتے ہیں۔
کم اس تھیلے کو کہتے ہیں جن کے اندر سے کھجور کا پھل باہر آتا ہے کسی قدر خوبصورت ہوتا ہے وہ اور پھر دوسرے خوشے دار فصل اور دانے جن کے اوپر بھوسہ ہوتا ہے اور اسے ہٹا کر دانے نکال کر انسانوں کے لئے اور بھوسہ مویشیوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں ریحان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ بعض نباتات خوشبودار ہوتے ہیں اور یہ زمین کے اندر مختلف قسم کے نباتات ہوتے ہیں جو خوشبودار ہوتے ہیں اور ان خوشبودار نباتات میں سے کچھ انسانوں کی خوراک ہیں اور کچھ حیوانوں کی خوراک اور بعض محض خوشبوئیں ہیں جو انسانوں کے لئے متاع حیات ہیں۔
اللہ کے ان انعامات کے ذکر کے بعد یعنی تعلیم القرآن ، تعلیم البیان ، شمس وقمر کا منظم دوران ، آسمان کی بلندیاں اور آسمانوں کا میزان اور اہل زمین کا میزان اور زمین کا لوگوں کے لئے برقرار رکھنا اور اس کے اندر کے میوہ جات ، پھل اور خوشبوئیں ظاہر و باطن کے لحاظ سے خوبصورت ، ان انعامات و احسانات کو گنوا کر جن وانس دونوں مکلف مخلوقوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔
Ayah 55:13فبای ............ تکذبن (55: 31) (پس اے جن وانس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) یہ سوال شہادت قائم کرنے کے لئے ہے۔ ورنہ کوئی جن اور انسان فی الواقع اللہ کی نعمتوں کی تکذیب نہیں کرسکتا۔
جن وانس پر اللہ نے اپنے احسانات اور انعامات اس کائنات کے حوالے سے تو گنوادیئے ، اب خود اپنی ذات کے حوالے سے کچھ حقائق۔ ذرا اپنی ذات ہی پر غور کرو :
Ayahs 55:14–15خلق ............ کالفخار (55:4 1) وخلق ............ نار (55:5 1) فبای ........ تکذبن (55: 61) ” انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ “
پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ، اصول نعمت میں سے ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کو ان پیمانوں میں سے کسی پیمانے کے ساتھ نہیں ناپا جاسکتا جو انسان کے ادراک میں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں کی دسترس میں جو پیمانے ہیں یا جن کا ادراک ان کی عقلوں نے کرلیا ہے وہ ایسے پیمانے ہیں جو ایک موجود اور دوسرے موجود کے درمیان فرق کرنے کے پیمانے ہیں۔ رہی یہ بات کے موجود اور غیر موجود کے درمیان کیا فرق ہے اور کس قدر فاصلے ہیں۔ ان کو انسان نہیں جان سکتا۔ یہی حال جنوں کا بھی ہے۔ ان کے پیمانے بھی مخلوقات کے پیمانے ہیں۔
جب اللہ انسانوں اور جنوں کو یاد دلاتا ہے کہ میں تمہیں عدم سے وجود میں لایا ہوں تو یہ ایک ایسی نعمت ہے جو حد ادراک سے ماورا ہے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی اور جنوں کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی۔ انسان کو اللہ نے۔
صلصال (55:4 1) سے بنایا ، صلصال (55:4 1) اس مٹی کو کہتے ہیں جو سوکھ جائے اور جب اس پر ضرب لگائی جائے تو اس سے آواز صلصلہ نکلے۔ ہوسکتا ہے کہ جس وقت انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی پیدائش کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ انسان کے مادہ تخلیق اور مٹی کے مادہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
” جدید سائنس نے تو یہ بات ثابت کردی ہے کہ جسم انسانی کے اندر وہی مواد ہے جو مٹی کے اندر ہے۔ انسان کاربن ، آکسیجن ، ہائیڈروجن ، فاسفورس ، گندھک ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، سوڈیم کلورائیڈ ، میکگنیشیم ، آئرن ، مینگنیز ، تانبے ، لیڈ ، فلورین ، کو بالٹ ، زنک ، سلیکان اور ایلومینم سے مرکب ہے اور یہی وہ عناصر ہیں جن سے زمین بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ایک انسان اور انسان کے اندر ان کی نسبت مختلف ہوتی ہے اور انسان اور مٹی کے اندر بھی نسبت کا اختلاف ہے۔ البتہ عناصرو اصناف ایک ہی ہیں۔ “ (” اللہ اور سائنس “ صفحہ 081)
لیکن سائنس نے جو بات کی ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ آیت کی تفسیر بھی وہی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن کی مراد یہی ہو جو سانس نے ثابت کیا ہے یا وہ ہو جو سائنس دانوں کو بھی معلوم نہ ہو اور کچھ اور ہو۔ یا اس سے دوسرے معنوں میں انسان کو خالی مخلوق کہا گیا ہو اور طین اور صلحال کے کچھ اور ہی معانی مراد ہوں۔
ہم نے جس چیز کا بڑی شدت سے انتباہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی آیت کو ان مفہومات تک محدود نہیں کرنا چاہئے جو جدید سائنس نے دریافت کئے ہیں کیونکہ انسانی انکشافات صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں اور تغیر اور تبدل قبول کرتے ہیں۔ جوں جوں انسان کے وسائل علم بڑھتے ہیں انسانی نظریات میں تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے۔ بعض مخلص لوگ قرآنی آیات کو بہت جلد سائنسی مفہومات کے مطابق بنانے کی سعی کرتے ہیں ، خواہ یہ مفاہیم تجرباتی ہوں یا فرضی ہوں اور ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ قرآن کا اعجاز ثابت کیا جائے۔ اس لئے کہ قرآن سائنس کے خلاف ہو یا موافق ہو وہ اپنی جگہ معجزہ ہے۔ قرآن کے نصوص کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے اور اس کو کسی ایک وقت کے انکشافات تک محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ انکشافات ہر وقت اپنے اندر غلطی کا احتمال رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات سرے سے نظریات باطل ہوجاتے ہیں۔ جدید سائنسی معلومات سے ہم صرف اس قدر استفادہ کرسکتے ہیں کہ ہم ان کے ذریعہ آیات کے مفہوم ومدلول کو اپنے تصور میں وسیع کردیتے ہیں بشرطیکہ وہ ان مفہومات کی طرف اشارہ کررہی ہوں جن کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے لیکن کبھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ قرآن کا مفہوم وہی ہے جس تک ہمارے انکشافات پہنچ گئے ہیں۔ جواز اس قدر ضرور ہے کہ ہم کہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے۔
رہی یہ بات کہ جنوں کو آگ کی لپٹ سے تخلیق کیا گیا ہے تو یہ مسئلہ انسانوں کے حدود علم سے باہر ہے۔ جنوں کے صرف وجود کی اطلاع قرآن نے دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ مارج کے معنی آگ کے شعلوں کی وہ لپٹ ہے جو زبان کی طرح ہوتی ہے اور یہ ہوا سے بنتی ہے اور جن اسی زمین پر انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں جن اور ان کی نسل کس طرح رہتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ یقینی بات یہی ہے کہ ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن اور شریعت پر عمل کریں جیسا کہ اس سے قبل ہم نے۔
واذا ............ القران (اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تیری طرف جنوں کے کچھ افراد کو پھیر دیا اور وہ قرآن سننے لگے) کی تفسیر میں کہا ہے اور جنوں اور انسانوں دونوں کو اس آیت میں خطاب کیا گیا ہے کہ اللہ کی کن کن انعامات کی تم تکذیب کروگے۔ دونوں کی اللہ نے تخلیق کی اور تخلیق کرنا اور وجود بخشنا وہ نعمت ہے جس پر تمام نعمتوں کا دارومدار ہے۔ چناچہ اس پورے پیراگراف پر یہ شہادت قائم کی جاتی ہے۔
Ayah 55:16فبای ........ لکذبن (55: 61) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کی تکذیب کرو گے) ان شہادتوں کے قلم بند ہوجانے کے بعد اب تکذیب کا کونسا مقام ہے !
Ayah 55:17یہ اشارہ انسان کو اللہ کے شعور کے فیض میں غرق کردیتا ہے جس طرف بھی کوئی توجہ کرے جس طرف بھی التفات کرے اور جس قدر بھی ہمارا مشاہدہ اس کائنات میں دور تک جاتا ہے جہاں بھی نام جائیں وہاں مشرق ہیں اور مغرب ہیں۔ اللہ کی ربوبیت ہے۔ اس کی مشیت ہے اور اس کا اقتدار اعلیٰ ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ تیرا نور ہے۔ تیری ہدایت ہے۔
مشرکین اور مغربین یعنی ” مشرق اور مغرب “ ان سے مراد سورج کے طلوع اور غرورب ہونے کے مقامات بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ شمس وقمر کی حیثیت انعام الٰہی پہلے آچکی ہے اور اس سے مراد سورج کے مختلف مقامات طلوع اور غروب بھی ہوسکتے ہیں یعنی جو گرمیوں اور سردیوں میں چلتے رہتے ہیں۔
یہ اشارہ قلب ونظر پر جس طرح سایہ فگن ہے وہ قابل التفات ہے۔ مشرق ومغرب کی طرف متوجہ ہونا ، ان مظاہر طلوع اور غروب سے اللہ کی شان پانا ، یہ سوچنا کہ دست قدرت ان افلاک کو کس طرح گھما رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نور ربی ان آفاق میں جگہ جگہ موجود ہے۔ مشرق ومغرب کے اس تدبر اور تامل کے بعد قلب ونظر جو سبق ، جو عبرت لے کر لوٹیں گے جو شعور لے کر آئیں گے اس کے فیوض سے ہمارے جسم وروح بھر جائیں گے۔
مشرقین کی ربوبیت اور مغربین کی ربوبیت ، اللہ کے احسانات میں سے ایک اہم احسان ہے۔ مشرقین اور مغربین اللہ کی نشانیاں بھی ہیں اور نعمتیں بھی ہیں کیونکہ طلوع و غروب ہی سے زمین پر انسانوں اور جنوں کی زندگی ممکن ہے۔ اگر طلوع و غروب نہ ہوں اور یہ نظام خلل پذیر ہوجائے تو انسان اور جنات کا زندہ رہنا محال ہوجائے۔ اس لئے کہا گیا ۔
Ayah 55:18فبای ............ تکذبن (55: 81) (تم اپنے رب کے کن کن عجائبات قدرت کو جھٹلاؤ گے)
بالائی کائنات کی وسعتوں سے اب زمین اور اس کے اندر کی انعامات اور احسانات کی طرف ، زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے خشکی اور تری کو ایک اندازے کے مطابق بنایا ہے اور خشکی اور تری میں اللہ نے انسان کے لئے بہت کچھ پیدا کیا ہے ۔ ایک مقدار کے مطابق۔
Ayahs 55:19–21مرج البحرین ............ کالاعلام (4 2) فبای الاء ربکما تکذبن (55:5 2)
” دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ بہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں ، پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
یہاں جن دو دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ میٹھا سمندر اور کھارا سمندر ہیں۔ کھارے دریا سے مراد سمندر اور بڑے اور گہرے پانی ہیں اور میٹھے سے مراد چھوٹے دریا ہے۔ یہ باہم ملتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے حدود مقررہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہر ایک اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔
زمین کے اس کرہ پر پانیوں کی یہ تقسیم اتفاقاً نہیں ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے گہرے اور باریک اندازے سے ایسی رکھی ہے۔ کڑوا پانی سطح زمین کے 4 3 حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ صرف 4 1 خشکی ہے اور یہ خطے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ اس قدر وسیع نمکین پانی سطح زمین کے لئے بہت ہی ضروری ہے تاکہ وہ زمین کو صاف رکھے اور زندگی کے نشوونما کے لئے وہ قابل رہے۔
” زمین سے مسلسل گیسیں نکل رہی ہیں۔ زمانوں سے نکل رہی ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے ملوث نہیں ہوتی۔ نیز ہوا کے اندر پانے جانے والی وہ نسبت بھی نہیں بدلتی جو انسان کے وجود کے لئے ضروری ہے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن پانی کا وہ عظیم ذخیرہ ہے یعنی سمندر “ (1)
اس عظیم ذخیرہ آب پر جب سورج چمکتا ہے تو اس سے بخارات اٹھتے ہیں اور انہی بخارات سے بادل اور بارشیں بن کر خشکی پر میٹھے پانی کے دریا بہتے ہیں۔ سمندر ، حرارت شمسی اور اعلیٰ فضا کی سردی اور دوسرے فلکیاتی عوامل مل کر بارش بناتے ہیں اور ان سے میٹھا سمندر بنتا ہے۔
اس میٹھے پانی ہی پر انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی موقوف ہے۔ تمام دریا جاکر سمندروں میں گرتے ہیں اور زمین کا نمک بہا کر یہ سمندر میں لے جاتے ہیں لیکن یہ سمندر کے پانیوں کو خراب نہیں کرسکتے۔ جتنے بھی دریا ہیں ان کی سطح سمندر کی سطح سے بلند ہوتی ہے۔ اس لئے سمندر بھی ان دریاؤں پر کوئی دست درازی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ دریا سمندر ہی میں گرتے ہیں۔ ان دریاؤں کے چلنے کے جو راستے ہیں ان پر نمکین پانی دست درازی نہیں کرتا نہ نمکین پانی ان صاف پانیوں کو اپنے کام سے روک سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے لہٰذا دو سمندروں کا ذکر اور ان کے درمیان پردے کا ذکر کوئی قابل تعجب بات نہیں ہے۔” پس اے جن وانس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ “
اس کے بعد سمندروں میں موجود اللہ کے احسانات کا ذکر ، خصوصاً وہ چیزیں جو ان کی عملی زندگی کے قریب تھیں۔
Ayah 55:22یخرج ............ والمرجان (55: 22) (ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں)
موتی (لولو) دراصل حیوان ہے۔ ” سمندر کے اندر جو موتی ہیں وہ سمندروں کی عجیب ترین چیزوں میں سے ہیں۔ یہ حیوان سیپی میں ہوتا ہے اور یہ سیپی چونے کے مواد سے بنی ہوتی ہے اور یہ سمندروں کی گہری تہوں میں اترجاتی ہے۔ یہ سیپی اسے خطرات سے بچاتی ہے۔ یہ حیوان دوسرے زندہ حیوانوں سے اپنی ساخت اور طریقہ حیات کے لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے پاس ایک باریک جال ہوتا ہے جس طرح شکاری کا جال ہوتا ہے۔ یہ جال نہایت ہی عجیب انداز سے
(1) ” انسان اکیلا نہیں ہے “ از اے گریسی مورسون ، صدر سائنس اکیڈمی ، نیویارک
بنا ہوا ہوتا ہے۔ یہ دراصل ایک فلٹر کا کام کرتا ہے جو پانی ، ہوا اور غذا کو تو اندر جانے دیتا ہے لیکن ریت ، کنکریوں وغیرہ کو صاف کرتا جاتا ہے۔ اس جال کے نیچے اس حیوان کے منہ ہوتے ہیں۔ ہر منہ کے چار ہونٹ ہوتے ہیں۔ جب کبھی ریت کا کوئی ذرہ یا کوئی کنکر اس کے منہ میں داخل ہوجائے یا کوئی مضر حیوان اس سیپی میں داخل ہوجائے تو یہ حیوان فوراً اس پر ایک مادہ پھینکتا ہے جس سے یہ ریت کنکری یا حیوان ڈھانپ لیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ چیز ایک موتی بن جاتی ہے۔ ریت کا ذرہ یا کنکر کی مقدار جس قدر بڑی ہوگی اس قدر موتی بڑا ہوگا۔ (” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 01)
” مرجان (مونگا) بھی اللہ کی مخلوقات میں سے ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ سمندروں کے اندر تقریباً 5 ئ 3 میٹر کی گہرائی تک میں رہتا ہے۔ اس کا نچلا حصہ کسی پتھر یا لکڑی سے چسپاں ہوتا ہے اور اس کا منہ اس کے جسم کے بالائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس کے جسم کے ساتھ کچھ زائد حصے بھی ہوتے ہیں جن کو وہ اپنے شکار اور خوراک میں استعمال کرتا ہے۔ جب یہ زوائد کسی شکار کو پکڑتے ہیں (یہ شکار اکثر باریک حیوانات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کے مچھر) تو شکار فوراً شل ہوجاتا ہے اور یہ مرجان کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ یہ زوائد یعنی ہاتھ پاؤں سکڑتے ہیں اور اس شکار کو منہ کی طرف قریب کرتے ہیں اور یہاں سے یہ شکار مرجان کے منہ میں داخل ہوتا ہے۔ ایک باریک نالی کے ذریعے جس طرح انسان کی خوراک کی نالی کی طرح ہوتی ہے۔ “
” یہ حیوان نسل کشی کے ذریعے بڑھتا ہے۔ یہ انڈے دیتا ہے۔ ان انڈوں سے جنین پیدا ہوتے ہیں اور یہ جنین پر پتروں اور جھاڑیوں سے چپک کر مستقبل حیوان کے طور پر بڑھتے ہیں اور یہ گویا ایک مستقل حیوان بن جاتے ہیں۔ “
” خالق کائنات کی قدرتوں کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ مرجان کا حیوان ایک دوسرے طریقے سے بھی پھیلتا ہیں۔ یوں مرجان کا درخت بن جاتا ہے جس کی لمبی لمبی شاخیں ہوتی ہیں اور جوں جوں یہ شاخوں کی شکل اختیار کرتے ہیں یہ شاخیں باریک ہوجاتی ہیں۔ مرجان جب درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کی لمبائی 03 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ زندہ مرجانی جانور کئی رنگوں کے ہوتے ہیں۔ سمندر میں زرد ، نارنگی ، سرخ ، ازرق ، بھورے ، لونگ کے رنگ کے۔ “
” سرخ مرجان وہ گول اور مضبوط حصہ ہوتا ہے جو جانور کے مرجانے کے بعد رہتا ہے اور بڑی بڑی چٹانیں ان کی نوآبادیات ہوتی ہیں۔ “
” ان نو آبادیات میں سے مشہور ترین مرجانی پتھروں کا وہ سلسلہ ہے جو عظیم مرجانی پردے کے نام سے مشہور ہے جو شمالی مشرقی آسٹریلیاں میں واقع ہے اور اس چٹانی سلسلے کی لمبائی ایک ہزار تین سو پچاس میل ہے اور اس کی چوڑائی پچاس میل ہے اور یہ پردہ انہی باریک مرجانی جانوروں کا مرکب ہے۔ (2) ” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 01)
ان موتیوں اور مونگوں سے وہ زیورات بنائے جاتے ہیں جو نہایت شاندر اور قیمتی ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان رکھتا ہے کہ تم پر میرے یہ یہ احسانات ہیں اور ان کے ذکر کے بعد پھر یاد دہانی کا فقرہ دہرایا جاتا ہے۔
Ayah 55:23فبای ............ تکذبن (55: 32) (اے گروہ جن وانس ، تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)
Ayah 55:24اس کے بعد بات کشتی کی طرف آتی ہے جو سمندروں میں چلتی ہے۔ یہ کشتی بعض اوقات اتنی بڑی ہوتی ہے جیسے سمندر میں کوئی پہاڑ ہو۔
ولہ ............ کالاعلام (55:4 2) (اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کے طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں)
اور یہ اونچے اٹھے ہوئے جہاز اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونے ہیں کیونکہ سمندروں میں یہ اللہ کی قدرت سے چلتے ہیں۔ گہرے سمندروں اور امواج کے تھپیڑوں میں انہیں صرف اللہ ہی حفاظت دیتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی نگرانی اور نگہبانی ہے کہ یہ پانیوں کے اوپر تیرتے رہتے ہیں۔ یہ جہاز اس وقت بھی اور آج بھی اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے تھے اور ہیں۔ ان جہازوں نے لوگوں کی ضروریات نقل وحمل میں ، سفر میں ، سہولیات کی منتقلی میں اور تجارت اور کمائی میں اس قدر اہم کردار ادا کیا ہے کہ اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔
Ayah 55:25فبای ............ تکذبن (55:5 2) ع (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کی تکذیب کرو گے)
اب یہاں اس دکھائی دینے والی کائنات کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے او یہ بتایا جاتا ہے تمام فنا ہونے والی مخلوقات کے صفحات لپیٹ لئے جائیں گے۔ یہ تمام انسان اور ان کی شکلیں ختم کردی جائیں گی۔ صفحہ ہستی کو تمام زندہ مخلوق سے صاف کردیا جائے گا اور صرف اللہ ذوالجلال وذوالاکرام کی ذات رہ جائے گی۔
Ayahs 55:26–27کل من ........ والاکرام (72) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 82)
” ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
اس آیت کے سایہ میں انسان کی سانس رج جاتی ہے۔ آواز دھیمی ہوجاتی ہے اور انسان کے اعضا رک جاتے ہیں۔ پوری کائنات کی ہر زندہ چیز پر سایہ چھا جاتا ہے۔ ہر قسم کی حرکت بند ہوجاتی ہے۔ زمین و آسمان کی وسعتوں پر نور ربی چھا جاتا ہے۔ انسانی نفوس اور انسانی اعضاء پر جلال ربی کا انعکاس ہوجاتا ہے۔ زمان ومکان میں اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا اور پوری کائنات پر اللہ کا جلال ووقار چھا جاتا ہے۔
انسانی تعبیر اس صورت حال کے بیان سے عاجز ہے۔ قرآن نے جو کچھ کہہ دیا اس پر اضافہ ممکن نہیں ہے۔ یہ بات فضا پر ایسی خاموشی طاری کردیتی ہے جس میں خشوع اور ذات باری تعالیٰ کا خوف ہو ، اللہ کی جلالت کا سایہ ہو اور پوری فضا سہمی سہمی ہو۔ ایسی فضا جس پر فنا طاری ہو۔ موت کا سکوت ہو۔ کسی طرف کوئی حرکت نہ ہو۔ کوئی شور وشعب نہ ہو۔ حالانکہ ابھی ابھی یہ کائنات زندہ اور متحرک تھی۔ یہ آیت دائمی بقا کی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔ یہ دائمی بقا کی ایک تصویر انسان کو دیتی ہے حالانکہ انسان دائمی بقا کے تجربے سے واقف نہیں ہے لیکن اس آیت میں اسے نہایت ہی گہری بقا بتائی جاتی ہے۔ یعنی بقائے ذوالجلال والاکرام۔
Ayah 55:28بقاودوام اور فنا و سکون کی اس تصویر کشی کے بعد وہی تبصرہ۔
فبای ............ تکذبن (55: 82) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے “
یہ بھی ایک نعمت ہے بلکہ نعمتوں کے اساس ہے کیونکہ تمام نعمتوں کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ تمام مخلوقات اس سے اپنا وجود اور اسباب حیات پاتی ہیں اور یہ اسباب ، ناموس کائنات اور خصائص کائنات کی فراہم کردہ ہیں اور اس طرح انسانی زندگی کے مشن اور قدریں بھی اسی ذات باری کی وضع کردہ ہیں۔ وہ جی ہے اور باقی ہے اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ وہ محافظ ہے لہٰذا وجود اور نغمات زندگی سب کی سب اس سرچشمہ سے ماخوذ ہیں۔ اس دنیا کا نظام درست نہیں ہوسکتا جب فنائے دنیا اور بقائے ذوالجلال کی حقیقت کو تسلیم نہ کرلیا جائے۔
اللہ کے بقائے دوام اور مخلوق کے فنائے لازم کے تصور سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ تمام مخلوق اللہ کے در پر سوالی ہے اور وہ ذوالجلال دائم اور باقی کسی کا محتاد نہیں ہے۔ وہ صمد ہے۔
Ayah 55:29زمین اور آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ اس بقائے دوام کے سوالی ہیں کیونکہ سوال کی جگہ ہی وہ ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی درگاہ نہیں ہے اور اس کے سوا کسی سے کوئی سوال اس لئے عبث ہے کہ غیر خود محتاج ہے محتاج محتاج کی کیا مدد کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ہر آن کئی شان ہے۔ یہ وجود جو لاحدود ہے۔ سب کا سب اس کی مشیت ، اس کی تصویر اور اس کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ یہ تدبیر پوری کائنات میں رواں دواں ہے اور ہر فرد علیحدہ علیحدہ بھی اس تقدیر اور مشیت میں پرویا ہوا ہے۔ پھر انسانی فرد کے اندر اس کا ایک ایک رواں بھی اس تقدیر کے دائرہ میں مقدر ہے۔ ہر چیز کو اللہ تخلیق عطا کرتا ہے۔ اسے اس کا مقصد تخلیق دیتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے یا نہیں۔
یہ تقدیر ہر آنے والے پودے اور گرنے والے پتے کا پیچھا کرتی ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں دور کہیں کوئی دانہ پڑا ہے تو وہ بھی مقدر ہے۔ خشک ویا بس ، سمندر اور ان کی مچھلیاں ، کیڑے اور ان کے سوراخ ، حشرات اور ان کے ٹھکانے یہ تمام جانور ان کے مقامات رہائش غاروں میں ، گھونسلوں میں ، ہر انڈا اور ہر بچہ اور ہر پر اور ہر پر کا ایک ایک ریشہ اور ہر جسم کا ہر خلیہ مقدر ہے۔
اور صاحب تدبیر کسی ایک ہی کے اندر مصروف نہیں ہوتا اور نہ ایک کی تدبیر دوسرے سے غافل کرلیتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کا مدبر ہے اور ان ہی حالات میں زمین کے معاملات جس میں جن وانس بھی ہیں کہ ہر وقت اس کی تم پر نظر ہے اور یہ بھی بڑی نعمت ہے۔ تقدیر بھی ایک نعمت ہے۔
Ayah 55:30فبای ............ تکذبن (55: 23) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
فنا کے بعد بقا اور تمام مخلوقات کا واحد باقی کی طرف رخ کرنا ، تمام انسانوں کے معاملات کا اس کے نظام قضا وقدر کے اندر منضبط ہونے کے مسائل طے کرنے کے ساتھ ہی اس کائنات کی نعمتوں کا بیان ختم ہوتا ہے اور جن وانس کے سامنے اللہ کے انعامات و احسانات رکھنے اور گنوانے اور ثابت کرنے کے بعد اب ان کو ایک شدید دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ہولناک اور خوفناک دھمکی اور ڈراوا ہے۔ یہ خوفناک دھمکی بطور تمہید دی گئی ۔ اس کے بعد قیامت کے جو مناظر آرہے ہیں وہ بہت زیادہ ہولناک ہیں۔
Ayah 55:31سنفرغ ............ تنتصران (5 3) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 63 (55: 13 تا 63) ” اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ اے گروہ جن وانس اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لئے بڑا زور چاہئے۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ اے جن وانس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “
سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) (اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوجائیں گے) یہ کس قدر ہولناک دھمکی ہے ! کوئی انس اور جن اس کے مقابلے میں کیا ٹھہرے گا۔ اس دھمکی کے مقابلے میں تو پہاڑ اور چٹانیں بھی نہیں ٹھہر سکتیں۔ نہ ستارے اور افلاک ٹھہر سکتے ہیں !
اللہ جل جلالہ ، القوی القادر ، القہار والجبار ، بزرگ و برتر ، دھمکی دے رہا ہے کہ میں تم سے حساب و کتاب لینے والا ہوں اور یہ کس کو انسان اور جن جیسی ضعیف وناتواں مخلوق کو اور دھمکی نہایت ہی غضب اور انتقام کے انداز میں ہے۔
یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے۔ اس دھمکی کو اس طرح مزید خوفناک بنا دیا گیا ہے۔ صرف تصور ہی سے وجود نابود ہوجاتا ہے کیونکہ انسانی وجود تو اس ہی کلمہ سے پردہ عدم سے وجود میں آیا کن فیکون ہوگیا اور ہلاک و بربادی اور نیست ونابود کرنا تو پلک جھپکنے سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ اگر احساس ہو تو جن وانس کی حالت کیا ہوگی۔ جب ذوالجلال والاکرام ان کو یہ دھمکی دے رہا ہے غضب وانتقام کی دھمکی !
Ayah 55:32فبای ................ تکذبن (55: 23) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرو گے ؟ )
Ayah 55:33یمعشر ............ بسلطن (55: 33) (اے گروہ جن وانس ، اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ، نہیں بھاگ سکتے۔ اس لئے کہ اس کے لئے بڑا زور چاہئے) کس طرح تم نکل سکتے ہو ؟ کہاں سے تم بھاگ سکتے ہو ؟ اس کے لئے تو بڑی قوت چاہئے اور قوت اللہ کے پاس ہے اور پھر وہی سوال۔
Ayah 55:34فبای ................ تکذبن (55:4 3) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
آخر ان کے پاس کیا چیز رہ گئی ہے کہ وہ جھٹلائیں ! محض زبانی کلامی بات سے کیا بنتا ہے ؟
لیکن تباہ کن حملہ جاری ہے۔ مزید دھمکی آرہی ہے اور تباہی والا انجام ان کے سامنے ہے۔
Ayah 55:35یرسل ............ فلا تنتصران (55:5 3) ” تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکوں گے “ اگر تم نے نکلنے کی کوشش کی بھی تو تمہاری کوشش ناکام ہوگی۔
Ayah 55:36فبای ................ تکذبن (55: 63) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “ یہ خوف وہراس کا وہ منظر ہے جس کا تصور انسان کر ہی نہیں سکتا۔ ہر مخلوق کے لئے یہ ناقابل برداشت ہے۔ خوف وہراس کی ایسی چند ہی مثالیں ہیں جو صرف قرآن نے دی ہیں۔ یہ انسانی تصور سے بالا ہیں۔ اے برتر از خیال و قیاس و گمان ووہم۔
قرآن نے ایک جگہ کہا۔ فذرنی ............ النعمة (چھوڑدو مجھے اور ان کھاتے پیتے جھٹلانے والوں کو) دوسری جگہ ذرنی ............ وحیدا ” چھوڑ دو مجھے اور جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا “ اور یہ آیت۔
سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) اے جن وانس ، تم زمین کا بوجھ بن چکے ہو ، ذرا مجھے فارغ ہو لینے دو “ اس قسم کی خوفناک دھمکیاں انسانی تصور سے بالا ہیں۔
اب یہاں سورة کے آخر تک قیامت کے مناظر ہیں کہ قیامت سے پہلے اس کائناتی نظام میں کیا کیا انقلاب آجائے گا۔ پھر حساب و کتاب کس طرح ہوگا اور پھر جزاء وسزا کیسی ہوگی۔
ان مناظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس سورة کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہیں اور ان باتوں سے جو کائنات کے بارے میں اس سورة میں کہی گئی ہیں۔
Ayahs 55:37–38فاذا انشقت ............ حمیم ان فبای الاء ربکما تکذبن
وردة یعنی سرخ تیل کی طرح یعنی بہہ جائے گا۔ قیامت کے دن سے قبل کائنات میں ہونے والے تغیر کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ افلاک کے موجودہ نظام میں مکمل ابتری آجائے گی اور نظام سماوات پر تمام کرے موجودہ نظام کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور مثلاً ۔
اذرجت ............ منبسا (6) (6 5:4 تا 6) (زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبارہ جائیں گے) اور انہی آیات میں سے یہ بھی ہے۔
فاذابرق ................ والقمر (9) 5 7 : 7 تا 9) (پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے) اور انہی میں سے۔
اذالشمس .................... سئلت (8) (18 : 1 تا 8) ” جب سورج لپیٹ لیا جائے گا ، جب تارے بکھر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا “ اور اسی طرح۔
اذا السمائ ................ فجرت (3) (28 : 1 تا 3) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ “
اذا السمائ .................................... وحقت (5) (4 8 : 1 تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی) یہ اور دوسری سب آیات اس عظیم حادثے کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو اس کائنات میں واقع ہوگا اور اس کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے یہ اور اس آیت کی مراد بھی یہی ہے۔
فاذانشقت .................... کالدھان (55: 73) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 83) ” پھر جب آسمان پھٹے گا اور سرخ ہوگا اور تیل کس طرح بہہ نکلے گا تو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
Ayahs 55:39–40فیومئذ ................ ولاجان فبای الا ربکما تکذبن (0 4) (44: 93۔ 0 4)
” اسی روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی ، پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ “
قیامت کے مقامات میں سے یہ بھی ایک مقام ہوگا اور اس میں مختلف مقامات ہوں گے۔ بعض جگہ بندوں سے ان کے کام کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ بعض مقامات میں کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔ بعض جگہ مجرم اپنے بارے میں جھگڑ رہے ہوں گے اور اپنے کرتوتوں کی ذمہ داری شرکاء پر ڈالیں گے۔ بعض مقامات ایسے ہوں گے کہ وہاں بولنے کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ نہ جھگڑنے کی اجازت ہوگی۔ قیامت کا دن طویل ہوگا اور اس میں طرح طرح کے موقف ہوں گے۔
ایک موقف یہ ہوگا کہ اس میں کسی سے کچھ بات نہ پوچھی جائے گی جبکہ لوگوں کی صفات اور اعمال بالکل واضح ہوں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور طے ہوگا کہ جہنمی ہے اور بعض کے چہرے سفید ہوں گے اور طے ہوگا کہ گرین چینل والا ہے اور یہ صفات ان کے چہروں اور حالات سے عیاں ہوں گی۔ کیا اس وقف کا کوئی انکار کرسکتا ہے۔