53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے تارے کی جب کہ وہ غروب ہوا۔

اس پیراگراف میں ہم نہایت ہی بلند روشن اور پھڑپھڑانے والے افق پر ہیں جہاں حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک نے چند خوبصورت اور نورانی لمحات عالم بالا کے ساتھ گزارے۔ ایک نہایت ہی نرم ، دھیمی موجوں پر مشتمل اور ترکیب پانے والے ترنم ہیں۔ ہم ان پر کیف لمحات کے رنگ ڈھنگ اور اشارات سنتے ہیں۔ الفاظ ان کی موسیقیت اور ماحول سب ہی پر کیف ہیں۔ یہ واردات قلب محمد ﷺ کے وہ وہ لمحات ہیں جن میں آپ کی نظروں کے سامنے سے تمام حجابات ہٹا دیئے گئے ہیں اور آپ عالم بالا سے ہدایات اور وحی لے رہے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔ آپ کا قلب حفظ کررہا ہے۔ یہ لمحات کیسے تھے اس کا صحیح احساس تو صیقل شدہ قلب محمد ہی کو ہوگا لیکن اللہ کا کرم کہ اس نے ہم بندوں کے لئے اس واردات کو الفاظ میں بیان کردیا۔ نہایت ہی موثر انداز میں ایسی موسیقی کے ساتھ جو پانی کی طرح بہتی ہے جس میں تلمیحات کے رنگ ڈھنگ اور ماحول اور اشارات کو ہماری طرف منتقل کیا گیا ہے۔ یہ اس صیقل شدہ دل کا سفر تھا اور عالم بالا کی وسعتوں میں تھا۔ ایک ایک قدم کی تصویر ہماری نظروں میں آرہی ہے۔ ایک ایک منظر ، ایک ایک قدم اور اس انداز میں کہ گویا ہم ابھی دیکھ رہے ہیں۔ آغاز ایک قسم سے ہوتا ہے۔ والنجم اذا ھوی (35 : 7) ” قسم ہے تارے کی جب غروب ہو “ ستارہ غروب ہوتا ہے زمین کے قریب ہو کر اس کی قسم ہے اور جس بات پر قسم ہے وہ یہ ہے کہ حضرت جبرائیل یوں تھے۔ وھو بالافق ........ ما اوحی (35 : 01) ” جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ فاصلے پر رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اس نے پہنچائی “ تو ستارے کی حرکت اور حضرت جبرائیل کی حرکت کے درمیان نہایت ہم آہنگی اور یکرنگی ہے۔ یوں اس منظر میں ماحول ، حرکت اور موزونیت ابتدا ہی سے چلتی ہیں۔ والنجم اذاھوی (35 : 1) ” قسم ہے ستارے کی جب غروب ہوا “ کی تفسیر میں مختلف تفسیریں نقل کی گئی ہیں۔ زیادہ فریب الفہم یہ تفسیر ہے کہ اس سے شعریٰ ستارہ مراد ہے کیونکہ بعض عرب اسے پوجتے تھے اور بعد میں اس سورة میں اس کا ذکر بھی آیا ہے۔ وانہ ھو ........ الشعری (35 : 94) ” اور وہی شعری کا رب ہے “ پرانے لوگ شعری ستارے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یہ مشہور ہے کہ پرانے مصری یہ کہتے تھے کہ جب شعری اعلی افلاک کو عبور کرے تو نیل میں پانی کا طوفان آجاتا تھا۔ اس لئے وہ شعری کو دیکھتے رہتے تھے اور اس کی حرکت کو نوٹ کرتے تھے۔ ایرانیوں اور عربوں دونوں کی روایات میں اس کے بیشمار افسانے مشہور ہیں۔ لہٰذا یہاں ستارے سے مراد یہی شعری ہے اور یہاں قسم اور مقسم علیہ کے درمیان ہم رنگی بھی مقصود ہے جو اس ستارے کے غروب سے ظاہر ہے۔ پھر یہاں یہ اشارہ بھی دینا مقصود ہے کہ ستارہ اگر بہت بڑا ہی کیوں نہ ہو ، وہ غروب اور غائب ہونے والا ہے۔ معبود تو وہ ہونا چاہئے جسے زوال و غروب نہ ہو۔ یہ تو تھی قسم جس بات پر قسم اٹھالی گئی ہے وہ یہ ہے۔
Ayahs 53:2–4

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔

ما ضل ........ یوحیٰ (35 : 4) ” تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل ہوجاتی ہے۔ “ تمہارا ساتھی صحیح راہ پر ہے وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ کسی ٹیڑھی راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ وہ مخلص ہے ، مطلب پرست نہیں ہے۔ وہ حق کی تبلیغ کررہا ہے نہ وہم پرست ہے نہ افترا پرداز ہے اور نہ بدعتی ہے اور نہ وہ تمہیں جو تبلیغ کررہا ہے اس میں اس کے ہوائے نفس کا کوئی دخل ہے۔ وہ وہی کچھ کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے اور وہ صادق وامین ہے۔ اس لئے وہ سچ کی تبلیغ کرتا ہے۔ اس وحی کے حاملین معلوم ہیں اس کا طریقہ کار متعین ہے اور اس کو لانے والوں کو حضور نے خود دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے۔ یہ محض کوئی موہوم بات نہیں ہے نہ آپ کو کسی غیبی قوت قوت نے دھوکہ دے دیا ہے۔
Ayahs 53:5–10

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے۔

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

جبکہ وہ بالائی افق پر تھا۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچاتی جو وحی بھی اسے پہنچائی تھی۔

علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61) ” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “ یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر ہے اور اس راہ ورسم کے تمام منازل اور مقامات واضح ہیں۔ اعلیٰ افق پر وہ سیدھے سیدھے کھڑے تھے۔ حضور اکرم نے انہیں دیکھا۔ یہ آغاز وحی کا منظر ہے۔ جب حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں دیکھا جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بہت ہی عظیم خلقت والے ہیں۔ جب حضور کو نظر آئے تہو پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ حضور کے قریب آتے گئے۔ وہ بہت قریب آگئے۔ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب۔ تو اس قریب کی حالت میں انہوں نے حضور کی طرف وحی فرمائی جو کچھ انہوں نے وحی کرنا تھا۔ کردیا ” جو کچھ وحی کرنا تھا “ یہ اجمال دراصل وحی کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کا ظہور تو دور افق اعلیٰ پر ہوا لیکن وحی کی تلقین انہوں نے نہایت ہی قریب آکر کی اس لئے اس کی تلقی اور اخذ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ بہت ہی یقینی حالت ہے۔ اس دیکھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا غلط فہمی کا کوئی احتمال تھا اور نہ شک اور بحث کی گنجائش ہے۔
Ayahs 53:11–15

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

نظر نے جو کچھ دیکھا ، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے ؟

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور ایک مرتبہ پھر اس نے اس کو اترتے دیکھا

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرة المنتہیٰ کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔

ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔ پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔ ولقد ........ الکبری (81) (35 : 31 تا 81) ” اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے۔ اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ چھارہا تھا نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “ یہ واقعہ واضح روایات کے مطابق شب معراج میں پیش آیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے قریب آئے اور وہ اس ہیئت اور خلقت میں تھے جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس وقت یہ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ بیری کا درخت۔ المنتہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ جہاں کوئی حد آکر ختم ہوتی ہے اور وہیں جنت الماوی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تک شب معراج کو آپ کی سواری گئی۔ جہاں جاکر حضور اکرم اور جبرائیل (علیہ السلام) کی رفاقت ختم ہوئی۔ جہاں جبرائیل جاکر رک گئے اور حضرت محمد ﷺ اس سے بھی آگے گئے۔ اس مقام تک جو عرش ربی کے زیادہ قریب تھا۔ بہرحال یہ سب باتیں وہ ہیں جن کا تعلق عالم بالا اور عالم غیب سے ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے یا اللہ کے بندے المصطفیٰ کو معلوم ہے۔ بس اسی قدر ہمیں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نہ ہو تو یہ اس سلسلے میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ اس موضوع پر انسان وہی کچھ معلوم کرسکتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ سے ملے۔ جو ملائکہ کا بھی خالق ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور دونوں کے خصائص کو وہ خوب جانتا ہے۔ البتہ یہاں اللہ تعالیٰ سدرة المنتہیٰ کے کچھ حالات بتادیئے ہیں تاکہ بات یقینی ہوجائے۔ اس سفر کو یقینی اور تاکیدی بنانے کے لئے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ کہ چھارہا تھا

اذ یغشی ........ یغشیٰ (35 : 61) ” اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھارہا تھا “ اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اور نہ تعین کیا گیا ہے کہ وہ کیا چھا رہا تھا۔ وہ اس قدر عظیم اور ہولناک چیز تھی کہ اس کا بیان مشکل ہے اور اس کا تعین کرنا مشکل۔ غرض وہ ایک عظیم حقیقت تھی۔
Ayahs 53:17–18

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ “

اور یہ مشاہدایت بھی حق اور یقینی ہے۔ مازاغ ............35 : 71) ” نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوزہوئی “ یہ نہ تھا کہ نظر چکا چوند ہوگئی اور وہ اچھی طرح نہ دیکھ سکی۔ نہ یہ ہوا کہ نظر آگے بڑھ گئی اور ہدف کو دیکھ نہ سکی بلکہ یہ مشاہدات واضح ، صاف اور ایک حقیقت اور ٹھوس شکل میں تھے جن میں کوئی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور ان مشاہدات میں صرف یہ باتیں نہ تھیں جو بتائی گئی ہیں بلکہ آپ کو اپنے رب کی بہت عظیم عظیم دوسری نشانیاں بھی بتائی گئیں اور اس کائنات کی حقیقت آپ کو بالکل کھول کر براہ راست دکھائی گئی۔ لہٰذا حضور ﷺ کے وحی وصول کرنے کا معاملہ ایک مشاہدہ ہے۔ حقیقی طور پر آپ نے عالم بالا کو دیکھا ہے۔ آپ یقین محکم سے یہ بات فرماتے ہیں۔ براہ راست آپ کا عالم بالا سے رابطہ ہے۔ یہ علم اور معرفت نہایت ٹھوس اور یقینی ہے۔ آپ نے حسی طور پر یہ رابطے قائم کئے ہیں۔ یہ سفر بھی حسی اور حقیقی ہے اور یہ تفصیلات جو دی جارہی ہیں یہ حقیقی ہیں تمثیلات نہیں ہیں اور تمہارے صاحب کی دعوت ایسے یقینی مشاہدات پر مبنی ہے اور تم جو انکار کررہے ہو تو ان باتوں کا کررہے ہو جو آپ کی دیکھی ہوئی ہیں اور نزول وحی میں شک کررہے ہو اور تمہارے صاحب کے بارے میں تم اچھی طرح جانتے ہو ، اسے صادق وامین مانتے ہو وہ تم میں کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں۔ تمہارا رب قسم اٹھا کر اس کی تصدیق اور توثیق کرتا ہے اور یہ تفصیلات دیتا ہے کہ اس وحی کی کیفیت کیا رہی اور یہ پیغام کس کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے اور کہاں جبرائیل اور محمد ﷺ کی ملاقات ہوئی اور سدرہ پر جو کچھ تھا تو وہ تھا ہی ............ غرض یہ تو یقینی امر ہے جس کی طرف محمد ﷺ بلا رہے ہیں۔ اب ذرا تم غور کرو کہ تمہارے تخیلات اور مفتریات اور الٰہ کیسے لوگ ہیں اور ان کی افسانوی حقیقت کیا ہے تم جو لات ، منات اور عزیٰ کی عبادت کرتے ہو ان کی الوہیت کا ثبوت کیا ہے۔ تم جو دعویٰ کرتے ہو کہ لات منات اور عزی ملائکہ ہیں تو ان کو کس نے دیکھا ہے ؟ کیا ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کیا ثبوت ہے کہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش چلے گی ؟ دلیل وحجت بھی تو لاؤ ؟ آخر تمہارے ان اوہام خرافات اور کہانیوں اور افسانوں کی کیا دلیل ہے۔ کوئی عقلی یا نقلی دلیل۔
Ayahs 53:19–20

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

اب ذرا بتاؤ تم نے کبھی اس لات اور اس عزی

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسری ایک دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا ہے ؟

لات ایک سفید پتھر تھا جس پر نقش ونگار تھے۔ طائف میں اس کے اوپر ایک مکان اور درگاہ بنی ہوئی تھی جو طائف میں تھی اور اس کے اوپر پجاری متعین تھے۔ اس درگاہ کے اردگرد ایک بڑی چار دیواری تھی اور اہل طائف اس کا بہت احترام کرتے تھے یعنی فخر کرتے تھے ماسوائے قریش کے کہ ان کے پاس کعبہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لات کا لفظ مونث ہے اللہ کا جو اس سے پاک ہے۔ اور عزی ایک درخت تھا جس کے اوپر بھی ایک عبادت گاہ بنی ہوئی تھی اور پردے تھے اور یہ نخلہ کے مقام پر تھی جو مکہ اور طائف کے درمیان تھی۔ اس کی تعظیم قریشی بھی کرتے تھے جس طرح احد کے دن ابوسفیان نے کہا۔ لنا العزی ولا عزی لکم ” ہمارا عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں “ تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ جواب دو ۔ اللہ مولنا ولا مولی لکم ” اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں ہے “ اور العزی عزیز کی مونث بتلائی جاتی ہے۔ مناة کا بت قدید کے قریب مشلل میں تھا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ خزاعہ ، اوس اور حزرج اس کی تعظیم کرتے تھے اور قدید یا مشلل سے مکہ کے لئے احرام باندھتے تھے۔ مناة کے احترام میں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت بت تھے جن کو عرب میں پوجا جاتا تھا مگر یہ تین بڑے آستانے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تینوں نام تین ملائکہ کے نام تھے جنہیں عرب اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور اسی وجہ سے یہ ان کی عبادت کرتے تھے اور جس طرح اصول ہے کہ چلتے چلتے یہ تینوں بذات خود معبود ہوگئے اور جمہور عوام نے اللہ کو بھلا کر ان بتوں کو بذات خود معبود مطلق سمجھ کر پوجنا شروع کردیا۔ کم ہی لوگ اس قسم کے تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کی عبادت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ان معبودوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی تعجب انگیز انداز میں کیا جس طرح کہ عبارت سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ افرءیتم ........ الاخری (35 : 02) ” اب ذرا بتاؤ تم نے کبھی اس لات اور اس عزی اور تیسری ایک دیوی مناة کی حقیقت پر غور کیا ہے ؟ “ تعجب لفظ افرءیتم (ذرا بتاؤ کیا تم نے سو چاہے ؟ ) سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہایت ہی مضحکہ خیز سمجھتا ہے لیکن اس تعجب کے اظہار کے بعد ان پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لئے بیٹے۔
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ؟

الکم ............ ضیزی (35 : 22) ” کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ہیں۔ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی “ اس سے یعنی ان بتوں کے تعجب خیز ذکر کے بعد یہ تنقید بتائی ہے کہ یہ تینوں بت دراصل فرشتوں کے ناموں کے رمز تھے جن کو وہ اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ ان کی حالت اپنے ہاں یہ تھی کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹیوں کی ولادت کو سخت مکروہ سمجھتے تھے لیکن اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرنے میں شرم محسوس نہ کرتے تھے حالانکہ وہ فرشتوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہ جانتے تھے اور نہ معلومات تھیں ان کو جن کی بنا پر وہ یوں کہتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ خود ان کے تصورات اور ان کے افسانوی عقائد کی رو سے ان پر تنقید فرماتا ہے بلکہ ان کا تمسخر اڑاتا ہے کہ کیا خوب کہی۔ الکم ............ الانثیٰ (35 : 12) ” کیا بیٹے تمہارے لئے اور بیٹیاں خدا کے لئے “ یہ تقسیم تو غیر منصفانہ ہے۔ اپنے حصہ تم نے کیا رکھا ہے اور اللہ کا حصہ کیا رکھا ہے۔
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی۔

تلک اذا قسمة ضیزی (35 : 22) ” یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے “ جبکہ حقیقت پسند نظر سے دیکھا جائے تو اس تصور کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ عقل و دانش کے زاویہ سے دیکھا جائے تو کوئی عقلی ونقلی دلیل اس پر نہیں ہے۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔

ان ھی الا اسمائ ........ ربھم الھدی (35 : 32) ” دراصل یہ کچھ نہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ “ یہ نام لات ، منات اور عزی وغیرہ کو معبود کہنا ، ان کو فرشتے کہنا ، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا یا فرشتوں کو عورتیں کہنا ، یہ سب الفاظ ہیں لیکن جن معانی کے لئے یہ لوگ ان کو بولتے ہیں وہ تو سرے سے ہیں ہی نہیں نہ اس قسم کے دعا دی پر کوئی حجت ہے۔ اللہ نے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لہٰذا ان دعا دی پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ حقیقت کا اپنی جگہ ایک وزن ہوتا ہے۔ حقیقت کی اپنی جگہ قوت ہوتی ہے۔ رہا باطل تو وہ ضعیف اور ہلکا ہوتا ہے ، کمزور ہوتا ہے اور اس کے اندر گرفت کی قوت نہیں ہوتی۔ اس آیت کے نصف میں ان کو ان کے اوہام و خرافات میں غرق چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان سے مکالمہ ختم کردیا جاتا ہے اور ان سے نظر پھیر دی جاتی ہے۔ یوں کہ وہ گویا مکالمہ کے اندر تھے ہی نہیں۔ اب وہ غائب کردیئے جاتے ہیں اور ان پر تبصرہ ہوتا ہے۔ ان یتبعون ........ الانفس (35 : 32) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض ظن و گمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ “ لہٰذا ان کے پاس نہ حجت ہے نہ علم ہے اور نہ یقین ہے۔ ان کے عقائد محض ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ ان کی خواہشات ان کی دلیل ہیں حالانکہ عقائد ونظریات میں ظن اور خواہش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس میں حقیقت یقین اور ہوا وہوس سے پاک اور غرض اور مطلب سے دور اور پاک رویہ درکار ہے جبکہ ان کے پاس محض ظن ، خواہش اور اغراض دنیاوی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ولقد ........ الھدی (35 : 32) ” حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے “ لہٰذا اب تو ان کے پاس یہ عذرات بھی نہیں رہے۔ معاملہ اگر خواہشات نفسانیہ تک پہنچ جائے اور خواہشات پر فیصلے ہونے لگیں تو انسان کی کوئی کل سیدھی نہیں رہ سکتی۔ پھر ہدایت کا اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں رہتا کیونکہ ہدایت کو رد کرنے کی وجہ یہ نہیں رہتی کہ ان کو معلوم نہ تھا بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ چاہتے یہ تھے۔ پہلے انہوں نے خواہش نفس کے تحت فیصلے کرلئے ہیں اب وجہ جواز تلاش کررہے ہیں جب نفس انسانی یہاں تک گر جائے تو پھر اس کے لئے ہدایت مفید ہی نہیں ہوتی۔ دلیل کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اللہ سخت ناپسندیدگی کے ساتھ سوال فرماتا ہے۔
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لئے وہی حق ہے ؟

ام للانسان ماتمنی (35 : 42) ” کیا انسان جو کچھ چان ہے اس کے لئے وہی حق ہے “ یوں کہ وہ جو چاہے حقیقت بن جائے۔ اس کی خواہشات واقعہ بن جائیں لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے۔ حق حق ہوتا ہے اور واقعہ واقعہ ہوتا ہے۔ کوئی جس قدر بھی چاہے اس کی چاہت سے واقعات اور حقائق نہیں بدل سکتے۔ انسان تباہی تمناؤں کے ہاتھ سے ہوتا ہے اور ہلاکت کے گڑھے میں پڑتا ہی خواہشات نفس سے ہے۔ اس لئے خواہشات اور تمنائیں حقیقت نفس الامری کو بدل نہیں سکتیں۔ دنیا اور آخرت کے حقائق میں تغیر وتبدل کوئی نہیں کرسکتا۔ یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جو حق ہے۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے۔

فللہ الاخرة والاولی (35 : 52) ” دنیا وآخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے “ یہاں اللہ تعالیٰ نے دنیا سے آخرت کا ذکر پہلے کیا تاکہ لفظ اولی سورت کے انداز گفتگو اور قافیہ کے مطابق ترنم پیدا کردے جبکہ معنوی اعتبار سے بھی اہمیت آخرت کی ہے۔ قرآن کا انداز ہی ایسا ہے کہ مراعات لفظی کے نتیجے میں معنی میں فرق نہیں پڑتا کیونکہ کلام کا کمال و جمال تو اس میں ہے کہ وہ لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے مقتضی الحال کے مطابق ہو اور نہایت ہی برمحل اور موزوں ہو۔ جب آخرت اور دنیا کے تمام معاملات میں اختیار اللہ کا ہے تو مشرکین کے یہ جو خیالات ہیں کہ وہ فرشتوں کی بندگی اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو اللہ کے قریب کردیں یہ بالکل باطل ہیں۔ فرشتوں کو تو سفارش کا اختیار ہی نہیں ہے۔ قیامت میں شفارش کا اختیار صرف ان لوگوں کو ہوگا جن کو اللہ کی طرف سے اذن ہوگا۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی۔ جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لئے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے

وکم من ............ ویرضیٰ (35 : 62) ” آسمان میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔ “ لہٰذا ان کا دعویٰ بےبنیاد ہے اس سے پہلی آیت میں بھی ان کا بطلان ثابت کردیا گیا ہے اور عقائد کو ہر قسم کے شبہات اور ملاوٹ سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ دنیا وآخرت دونوں میں فیصلے کا اختیار اللہ کو ہے اور انسان کی تمنائیں اور خواہشات حق میں تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ سفارش کی اجازت اللہ کے اذن کے بغیر نہ ہوگی۔ لہٰذا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس پیراگراف کے آخر میں مشرکین کے اوہام کو آخری بار رد کیا جاتا ہے کہ فرشتوں کے بارے میں مشرکین کے خیالات کسی اصل پر قائم نہیں ہیں۔
Ayahs 53:27–28

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔

ان الذین ........ شیئا (35 : 82) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “ یہ آخری تبصرہ بھی بتاتا ہے کہ لات منات اور عزی کا تعلق اس افسانہ سے تھا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے متعلق انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہ ایک بےبنیاد افسانہ تھا۔ محض ظن وتخمین اور سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ علم ہی نہ تھا کہ وہ فرشتوں کی حقیقت کو سمجھیں۔ فرشتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا تو باطل محض تھا۔ وہم کے سوا اس پر کوئی دلیل ہی نہ تھی اور سچائی اوہام اور افسانے سے ثابت نہیں ہوتی۔ حق اور سچائی کو وہ چھوڑ چکے ہیں لہٰذا اس متاع کم گشتہ کی جگہ اور کوئی چیز لے ہی نہیں سکتی۔ جب اہل شرک کے عقائد کو یہاں تک لے لیا گیا کہ عقائد شرکیہ اس قدر بےاصل ہیں اور جو لوگ شرک کرتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں اور فرشتوں کو بیٹیاں کہتے ہیں ان کے عقائد ظن اور وہم پر مبنی ہیں تو اب نبی ﷺ کو کہا جاتا کہ آپ ان لوگوں کو نظر انداز کردیں۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کو اچھا جانتا ہے۔ وہ اہل ہدایت اور اہل ضلالت دونوں کو جزا اور سزا دے گا۔ اس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے اختیارات ہیں۔ دنیا آخرت کے امور ہیں۔ وہ سب کے ساتھ حساب عدل سے کرے گا۔ کسی پر ظلم نہ کرے گا اور جو لوگ گناہوں پر اصرار نہیں کرتے اللہ ان کو چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کرتا ہے۔ وہ نیتوں اور رازوں کو جانتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا خالق ہے اور اپنی مخلوق کو وہ دوسروں کے مقابلے میں اچھا جانتا ہے۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

پس اے نبی جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔

فاعرض ............ بمن التقی (23) ک (35 : 92 تا 23) ” پس اے نبی جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ ان لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے۔ یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے۔ تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں۔ الایہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔ وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے ۔ پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے “۔ اعراض اور روگردانی کرنے کا حکم ان لورگوں کے لئے دیا گیا ہے جو اللہ کی یاد سے اعراض و روگردانی کرتے ہیں۔ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور صرف حیات دنیا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ ان مشرکین کو چھوڑ دیں جن کے عقائد اور رویہ کا بیان اس سورة کے ابتدا میں ہوا اور جن کے اوہام و خرافات پر مبنی عقائد کا رد کیا گیا۔ رسول اللہ کے بعد یہ خطاب ہر مسلم داعی کو ہے جس کو اس قسم کے لوگوں سے واسطہ ہو جو اللہ کی یاد سے غافل ہوں جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لاتے ہوں اور جن کا نقطہ نظر محض سیکولر ہو۔ دنیا سے آگے وہ دیکھنے والے ہی نہ ہوں۔ آخرت کا حساب و کتاب ان کی نظروں میں نہ ہو اور وہ دیکھتے ہوں کہ بس ان کا مقصد وجود صرف اس دنیا کی زندگی ہے۔” بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نسبت “ اور وہ اس ۔۔۔۔ اپنی زندگی کو اسی انداز پر استوار کرتے ہوں وہ انسان کے شعور کو اس بات سے الگ کردیتے ہیں کہ ایک ایسا الہ بھی ہے جو لوگوں کے امور کا مدبر ہے اور یہ کہ وہ الہ اس دنیا کی مختصر زندگی کے بعد اعمال کا حساب و کتاب لے گا اور ہمارے دور میں مادیت اور الحاد کے پیروکار ایسے ہی لوگ ہیں۔ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایسے لوگوں میں دلچسپی نہیں لے سکتے جو آخرت سے غافل ہیں اور نہ ایسے لوگوں کے ہمقدم زندگی بسر کرسکتے ہیں جو آخرت کے منکر ہیں کیونکہ دونوں قسم کے لوگوں کے منبع زندگی اس قدر متضاد ہوتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے کیونکہ زندگی کے نکات میں سے وہ باہم کسی نکتے پر بھی متفق نہیں ہوسکتے۔ ان کی زندگی کی قدریں اور پیمانے ہی الگ ہوتے ہیں۔ اہداف مختلف ہوتے ہیں ، تصورات مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی نہیں کرسکتے۔ وہ اس زمین پر ایک جگہ کوئی سرگرمی نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کی زندگی کے پیمانے ، قدریں اور مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی دوڑ دھوپ کا منہاج مختلف ہوگا اور غرض وغایت جدا ہوگی۔ جب دونوں کے درمیان کوئی یکسانیت اور یکجہتی نہیں ہے تو ایک دوسرے میں دلچسپی کیا ہوگی ؟ اگر کوئی مومن ایی سے لوگوں میں دلچسپی لیتا ہے جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑتے ہیں اور سوائے حیات دنیا کے اور کچھ نہیں چاہتے تو وہ ایک سراسر ایک عبث کام کرتا ہے اور وہ بےمصرف اپنی قوت کو خرچ کررہا ہے۔ پھر اعراض اور روگردانی سے ایک اور غرض بھی ہے یہ کہ جو لوگ اللہ پر ایمان نہ لانے پر تلے ہوئے ہوں ان کو نظر انداز کرنا ، ان کو اہمیت نہ دینا بھی اپنی جگہ ایک مقصد ہے جو لوگ صرف دنیا کے بندے ہوں ان کو اس لئے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ وہ ہیں ہی اس قابل کہ ان کو نظر انداز کیا جائے۔ وہ حق سے دور ہیں۔ حق کے ادراک کے اہل نہیں۔ یہ پردوں کے پیچھے کھڑے ہیں ان کے اور حقیقت کے درمیان حجاب ہے۔ یہ اس دنیا کے دائرے اور حدود سے باہر نکل نہیں سکتے۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے۔ یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے

ذلک ........ العلم (35 : 03) ” ان کا مبلغ علم بس یہی ہے “ یہ پہنچ بہت ہی معمولی ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بہت بڑے پہنچ والے نظر آئیں۔ یہ کوتاہ دست ہیں۔ اگرچہ ان کے ہاتھ لمبے نظر آئیں وہ گمراہ ہیں اگرچہ تیزی سے فاصلے طے کررہے ہوں۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے دل کے احساس اور عقل کے لحاظ سے اس دنیا میں قید ہو وہ کو لہو کے بیل کی طرح اس میں چکر کاٹے گا ، آگے نہیں بڑھ سکے گا حالانکہ ان کی نظروں کے سامنے یہ عظیم کائنات پڑی ہے۔ اس کائنات نے اپنے آپ کو پیدا نہیں کیا اور اس دنیا کا خود بخود وجود میں آنا ایک ایسا نظریہ ہے جو بداہتہً غلط ہے پھر یہ دنیا عبث بھی پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کا کوئی خالق ہے اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ یہی دنیا ہے اور یہی زندگی ہے تو اس طرح یہ تخلیق عبث ثابت ہوتی ہے لہٰذا اس دنیا پر جس حیثیت سے بھی غور کیا جائے۔ ایمان لانا لازمی قرار پاتا ہے اور ایمان کا یہ حصہ بھی لازمی قرار پاتا ہے کہ آخرت میں حشر ونشر لازمی ہے ورنہ یہ عظیم اور محیرالعقول کائنات کا عبث پیدا ہونا لازم ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص ذکر الٰہی سے منہ موڑتا ہے اور صرف دنیا کے کاموں میں مشغول رہتا ہے اس کو نظر انداز کرنا ضروری ہے۔ یہ اعراض اس لئے ضروری ہے کہ اپنے اہتمام ، توجہ اور محنت کو بےمحل کاموں میں نہیں صرف کرنا چاہئے اور جن لوگوں کی دلچسپیاں صرف اس دنیا تک ہی محدود ہوں ان کی اہمت کو کم کرنے کے لئے بھی ان کی طرف سے منہ موڑنا ضروری ہے۔ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ایسے لوگوں سے منہ موڑ دو اس لئے ہمیں چاہئے کہ ایسے لوگوں کو نظر انداز کردیں کیونکہ اطاعت امر ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہودیوں کی طرح ہم کہیں۔ سمعنا وعصینا اللہ ہمیں اس رویہ سے بچائے۔ ان ربک ............ اھتدی (35 : 03) ” یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے۔ “ اللہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ اس لئے اللہ نے نبی اور ان کے ساتھیوں کے لئے یہ مناسب نہ سمجھا کہ وہ اپنے آپ کو گمراہ لوگوں کے ساتھ فضول مصروف رکھیں یا ان کے ہم محفل ہوں یا ان کے دوست بنیں نہ ان کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ جانتے بھی ہوں کہ یہ شخص گمراہ ہے اور اس کی سرگرمیاں صرف دنیا تک محدود ہیں۔ وہ حقیقت کا ادراک کرنے کی کوشش یا ارادہ نہیں کرتا اور جان بوجھ کر ایمان نہیں لاتا۔ آخرت پر ایمان نہیں لاتا اور اس کی تمام دلچسپیاں اس دنیا کی مختصر زندگی تک محدود ہیں۔ ایسے شخص پر محنت کریں۔ وہ علم جو ان کوتاہ بینوں اور گمراہوں کو حاصل ہوتا ہے وہ بظاہر عوام الناس کی نظروں میں بہت بڑا نظر آتا ہے وہ لوگ جن کا دل ، قوت مدرکہ اور احساس عامی ہوتا ہے اس لئے ان کو عملی زندگی میں وہ موثر نظر آتا ہے لیکن ان لوگوں کا یہ علم ان سے گمراہی کی صفت دور نہیں کرسکتا نہ ان سے صفت جہالت اور کوتاہ بینی کو دور کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات اور اس کے خالق کے درمیان رابطہ اور انسانی عمل اور اس کی جزا وسزا کے درمیان رابطہ دونوں ایسی حقیقتیں ہیں جو ہور علم کے لئے ضروری ہیں اور ان دونوں حقیقتوں سے خالی جو علم بھی ہوگا وہ سطحی ہوگا اور ورہ انسانی زندگی میں پوری طرح موثر نہ ہوگا نہ ہو اور اس کی وجہ سے ایک انسان اور انسان کے درمیان ادبی رابطہ قائم ہو۔ ورنہ تمام علوم صرف ٹیکنالوجی قرار پائیں گے۔ انسانیت کا تنزل شمار ہوں گے۔ علوم کا ٹیکنیکل پہلو جس قدر آگے بڑھتا ہے ان کا انسانی پہلو اس قدر گرتا ہے۔ انسان کا یہ شعور کہ اس کا ایک خالق ہے اور اس خالق نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کائنات کو بھی پیدا کیا ہے اور یہ انسان اور یہ کائنات ایک ہی انداز تخلیق رکھتے ہیں۔ انسان کے شعور حیات اور شعور ماحول کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ انسان کے وجود کی ایک قیمت ٹھہرتی ہے اور انسان کا مقصد وجود زیادہ جامع اور ارفع ہوجاتا ہے اور اس کا وجود اس کے محدود خاندان سے بلند ہوجاتا ہے۔ اس کا وجود اس کی قوم سے بڑا اور ارفع ہوجاتا ہے۔ اس کا وجود اس کے وطن سے زیادہ قیمتی ہوجاتا ہے۔ انسان طبقاتی کشمکش سے بالا ہوجاتا ہے اور اس قسم کی تمام تشکیلات اور اجتماعیتوں سے بالا ہوجاتا ہے۔ پھر انسان کا یہ شعور کہ اس کا خالق آخرت میں اس سے حساب لے گا اور اس کو جزا وسزا دے گا ، انسان کے جذبات ، انسان کے مقاصد ، انسان کے پیمانے اور قدریں بدل دیتا ہے۔ انسان کے تصورات کا انداز ہی بدل جاتا ہے۔ انسان کا انجام اس کے اخلاق کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے۔ یوں انسان کی قوت اور اس کی فعالیت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی ہلاکت یا اس کی نجات اس کی نیت اور عمل میں جواب دہی کے احساس پر موقوف ہوگا۔ یوں انسانی شخصیت کے اندر ” انسانیت “ قوی ہوگی کیونکہ انسان کے اندر یہ شعور ایک نگران کی طرح بیدار ہوتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ آخری حساب و کتاب ابھی باقی ہے۔ غرض اللہ پر ایمان لانا اور آخرت پر ایمان لانا ایک بہت ہی اہم اور بڑا مسئلہ ہے اور انسانی زندگی میں اس کی بنیادی اہمیت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انسان کے لئے یہ مسئلہ روٹی ، کپڑے اور مکان سے زیادہ اہم ہے۔ اگر یہ عقیدہ او شعور ہوگا تو یہ مخلوق ” انسان “ ہوگا اگر نہ ہوگا تو یہ محض جانور ہوگا۔ جب معیار بدل جائیں ، مقاصد بدل جائیں ، ہدف بدل جائے اور زندگی کے سب تصورات بدل جائیں تو پھر انسان اور انسان کے درمیان کوئی مابہ الاشتراک امر نہیں رہتا۔ باہم تعامل اور تعاون نہیں رہتا بلکہ باہم تعارف بھی نہیں رہتا اور لوگ ایک دوسرے کو سمجھ بھی نہیں سکتے ، چہ جائیکہ وہ باہمی انصاف کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مومن باللہ اور ایک خالص دنیا پرست ، مفاد پرست کے درمیان کوئی صحبت شرکت ، تعاون اور لین دین نہیں ہوسکتا۔ یہ تو ہے اصل اور حقیقت اس کے سوا اور جو بات بھی کوئی کرے گا وہ محض دکھاوا ہوگا اور امر الٰہی کے خلاف بات ہوگی۔ فاعرض ............ الدنیا (35 : 92) ” پس اے نبی جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں اسے اس کے حال پر چھوڑ دے۔ “
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے۔ لا کہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے

وللہ ............ بالحسنی (35 : 13) ” اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا “ یہ کہ اللہ زمین و آسمانوں کی تمام چیزوں کا مالک ہے۔ اس سے آخرت کے عقیدے میں قوت اور تاثیر پیدا ہوتی ہے کیونکہ جس نے آخرت پر حساب و کتاب کو مقدر کیا ہے وہی مالک ہے زمین اور آسمانوں کا۔ لہٰذا وہ جزا وسزا پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ کام صرف اسی کا ہے اور وہی ان کے اسباب کا بھی مالک ہے اور اس حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مکمل اور عادلانہ جزاء وسزا دے۔ لیجزی ............ بالحسنی (35 : 13) ” تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا “ اس کے بعد ان لوگوں کا تعین کردیا جاتا ہے جنہوں نے نیک عمل کئے اور جن کو جزائے حسن دی جانی ہے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں۔ الایہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔ وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے۔ پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے۔ “

الذین ............ اللمم (35 : 23) ” جو بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں اور یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ “ بڑے گناہوں سے مراد بڑی نافرمانیاں ، فواحش سے مراد بھی بڑے گناہ ہیں لیکن خصوصاً وہ جن کے اندر فحاشی ہو۔ ” اللمم “ کے بارے میں مفسرین کے احوال مختلف ہیں۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ استثنا منقطع ہے۔ (استثنا منقطع وہ ہے جہاں استثنا کردہ چیز اس مجموعے کی فرد نہ ہو جس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ ) کیونکہ لمم چھوٹے گناہوں کو کہا جاتا ہے یعنی چھوٹے چھوٹے اعمال ، امام احمد نے روایت کی ہے ، عبدالرزاق سے انہوں نے معمر سے انہوں نے ابن طاؤس سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے لمم کے ساتھ زیادہ مشابہت کرنے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں دیکھی جو حضرت ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ رسول اللہ فرماتے ہیں ” جب اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کا جرم لکھ دیا تو وہ اسے پائے گا یعنی اس کی سزا اسے لازماً ملے گی ، آنکھ کا زنا نظر ہے زبان کا زنا بات ہے اور نفس کی تمنا اور اشتہا ہوتی ہے اور انسان کے اندام نہانی اس کی تصدیق کرتے ہیں یا تکذیب “ (صحیحیں) ابن جریر نے روایت کی ہے ، محمد ابن عبدالاعلی سے انہوں نے ابن ثور سے انہوں نے معمر سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے الوالضحی سے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ” آنکھ کا زنا نظر ہے ہونٹوں کا زنا بوسہ لینا ہے ، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے ، پاؤ کا زنا چل کر جانا ہے اور انسانی اعضا اس کی تکذیب کرتے ہیں یا تصدیق۔ اگر اس کا فرج آگے بڑھا تو یہ زانی ہو اور نہ لمم کا مرتکب۔ یہی بات مسروق اور شعبی نے کہی ہے۔ عبدالرحمن ابن نافع کہتے ہیں (ان کو ابن لبابہ طائفی بھی کہتے ہیں) میں نے ابوہریرہ سے ” لمم “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا بوسہ دینا ، دیکھنا ، آنکھ سے اشارہ کرنا ، ہاتھ لگانا اور جب فریقین کے اعضائے نہانی باہم مل جائیں اور غسل واجب ہوجائے تو یہ زنا ہے۔ یہ تو ہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملتے چلتے اقوال لمم کے بارے میں لیکن کچھ دوسرے اقوال بھی ہیں۔ علی ابن طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے الااللمم یعنی ماسوائے اس کے جو گزر گیا یہی قول زید ابن اسلم کا ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ابن مثنی سے وہ محمد ابن جعفر سے وہ شعبہ سے وہ منصور سے وہ مجاہد سے انہوں نے الااللمم کا معنی یہ کہا کہ وہ شخص جو گناہوں کا ارتکاب کرے اور پھر چھوڑ دے۔ ابن جریر نے روایت کی ہے سلیمان ابن جبار سے انہوں نے ابو عاصم سے انہوں نے زکریا سے انہوں نے ابن اسحاق سے انہوں نے عمر ابن دینار سے انہوں نے عطا سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے۔ الذین ............ اللمم (35 : 23) ” وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں اور یہ کہ کچھ قصور ان سے سر زد ہوجائیں ” انہوں نے کہا اس سے مراد وہ شخص ہے جو فحاشی کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر توبہ کرلیتا ہے اور رسول اللہ نے فرمایا۔ ان تعغفرالھم تغفر جما وای عبدلک ما الما ” اے اللہ اگر آپ معاف کریں تو سب کچھ معاف کردیں اور آپ کا کون سا ایسا بندہ ہے جس نے کوئی قصور نہیں کیا “ اس طرح امام ترمذی نے روایت کی ہے احمد ابن عثمان بصری سے انہوں نے ابو عاصم النبیل سے اور اس کے بعد انہوں نے کہا یہ حدیث صحیح حسن اور غریب ہے اور صرف زکریا ابن اسحاق کے واسطہ سے ہم تک پہنچی ہے۔ بزاز نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث متصل صرف اس سند کے ساتھ ہے۔ ابن جریر نے روایت کی ، محمد ابن عبداللہ ابن بزیع سے انہوں نے یزید ابن ذریع سے انہوں نے یونس سے انہوں نے حسن سے انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے (میں سمجھتا ہوں اس نے اس روایت کو حضور تک پہنچایا) اس آیت کے بارے میں۔ الذین ............ اللمم (35 : 23) ” جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں اور یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے) یہاں مراد یہ ہے کہ وہ زنا کا مرتکب ہوجائے اور پھر توبہ کرے اور چھوڑ دے یا وہ چوریاں کرے اور پھر چھوڑ دے اور وہ شراب پیئے اور ترک کردے تو اسکے بعد کہا کہ یہ ہے المام اور ارتکاب۔ اس قسم کی روایت حسن سے بھی مروی ہے لیکن موقوف روایت ہے .... غرض یہ روایات کا دوسرا مجموعہ ہے او یہ لمم کا بالکل ایک دوسرا مفہوم بتاتا ہے۔ ہمارے خیال کے مطابق یہ آخری رائے اس کے بعد آنے والی آیت کے زیادہ مناسب ہے۔ ان ربک واسع المغفرة (35 : 23) ” بیشک تیرے رب کا دامن مغفرت بہت ہی وسیع ہے “ اللہ کے مغفرت کے دامن کی وسعت کے ذکر کے ساتھ مناسب یہی ہے کہ لمم سے مراد گناہ کبیرہ اور فواحش کا ارتکاب ہو۔ پھر توبہ ہوجائے اور استثنا متصل ہو اور محسنین ہی وہ لوگ ہوں جنہوں نے کبائر گناہوں کا ارتکاب کیا ہو یا فواحش کا ارتکاب کرلیا ہو اور اس کے بعد وہ جلدی سے توبہ کرکے تائب ہوگئے ہوں اور انہوں نے اصرار نہ کیا ہو جیسا دوسری جگہ آتا ہے۔ والذین ............ یعلمون (3 : 531) ” اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معا اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو اور وہ کبھی دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔ “ اور ان لوگوں کو قرآن کریم نے متقین کہا اور ان کے ساتھ مغفرت اور جنت کا وعدہ فرمایا جن کی وسعت زمین اور آسمانوں سے زیادہ ہے لہٰذا یہ مفہوم اللہ کی رحمت اور مغفرت کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اللہ وسیع المغفرت ہے۔ اور خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی منصفانہ جزا و سزا اللہ کے وسیع علم پر مبنی ہے۔ ھو اعلم ............ امھتکم (35 : 23) ” اور وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے۔ “ تمہارے تمام ظاہری اعمال کو جانتا ہے۔ یہ علم ہر ثابت حقیقت کے ساتھ وابستہ ہے جسے یہ لوگ نہیں جانتے اور اللہ ہی ہے جو اپنی مخلوق کے بارے میں جانتا ہے۔ اللہ اس وقت بھی جانتا تھا جب یہ نہ تھے اور وہ ان کو زمین سے پیدا کررہا تھا۔ پھر جب یہ ماؤں کے پیٹوں میں جنین تھے اور اس دنیا میں انہوں نے آنکھ ہی نہ کھولی تھی۔ اللہ ظاہری علم سے پہلے حقیقی علم بھی رکھتا تھا عملاً ان کے وجود میں آنے سے بھی پہلے۔ جس ذات کے علم کی نوعیت یہ ہو تو انسان اگر اس ذات کو اپنے بارے میں کوئی معلومات دیتا ہے تو یہ نہایت گستاخی ہے کیونکہ یہ گویا اللہ کو اپنی حقیقت دکھاتا ہے اور اللہ کے سامنے یہ ہوں اور یوں۔ فلا تزکوا ............ اتقی (35 : 23) ” پس اپنے نفسوں کی پاکی نہ بیان کرو وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے۔ “ اللہ کو اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ تم اللہ کو اپنے نفوس کے بارے میں اطلاع کرو یا اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا مول تول کرو ، اللہ کا علم کامل ہے اس کی جزا وسزا منصفانہ ہے۔ اللہ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اب آخری پیراگراف آتا ہے۔ یہ پیرا نہایت ہی نغمہ بیز ہے اور یہ پہلے پیراگراف کے مماثل ہے۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عناصر کو بیان کرتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسلامی نظریہ حیات اور دین حنیف کے لئے طے کئے تھے۔ اس میں انسانوں کا تعارف خالق تعالیٰ سے کرایا جاتا ہے او یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی میثت تمہاری زندگی میں فعال ہے۔ تخلیق کررہی ہے اور نہایت ہی موثر ہے اور اللہ کی مشیت کے آثار ایک ایک کرکے گنوائے جاتے ہیں اور نہایت ہی موثر انداز میں جو انسانی وجدان کے ساتھ پیوست ہوجاتے ہیں اور انسان اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ کانپ اٹھتا ہے۔ جب یہ پیرا آخر میں پہنچتا ہے تو پڑھنے والے کے احساسات پوری طرح متاثر ہوتے ہیں اور انسان پر کپکپ کی طاری ہوتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ سرشار ہوکر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
Ayahs 53:33–34

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

پھر اے نبی تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو راہ خدا سے پھر گیا

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دے کر رک گیا۔

کون ہے یہ شخص۔ الذی ............ واکدی (35 : 43) ” جو راہ خدا سے پھر گیا اور تھوڑا سا دے کر رک گیا “ اور اللہ تعالیٰاس کی روش کو تعجب انگیز قرار دیتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک متعین شخص تھا جس نے اللہ کی راہ میں تھوڑا سا خرچ کیا اس کے بعد وہ خرچ کرنے سے رک گیا۔ اس لئے کہ وہ فقیر نہ ہوجائے۔ کشاف میں علامہ زمحشری نے اس کا تعین کیا ہے کہ یہ حضرت عثمان ابن عفان ؓ ہیں لیکن حضرت عثمان ؓ کا جو مقام و مرتبہ تھا اور انہوں نے تحریک اسلامی کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا ، بغیر کسی توقف اور بغیر کسی حساب کے وہ معلوم ہے اور ان کا جو عقیدہ تھا وہ بھی معلوم ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور کوئی دوسرا شخص ذمہ داری نہیں لے سکتا اور جس روایت کا علامہ زمخشری نے ذکر کیا ہے وہ اسلام کے اس بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ روایت یہ ہے کہ حضرت عثمان کار خیر میں خرچ کرتے تھے۔ عبداللہ ابن سعد ابن ابو سرح نے کہا جس طرح تم خرچ کررہے ہو اسی طرح تو تمہارے پاس کچھ نہ رہے گا۔ یہ حضرت عثمان کے رضاعی بھائی تھے۔ حضرت عثمان نے کہا کہ میں نے بہت گناہ کئے ہیں اور میں اللہ کی راہ میں خرچ کرکے معافی چاہتا ہوں تو عبداللہ نے کہا مجھے اپنی نافہ اس کے کجادے کے ساتھ دے دو اور میں تمہارے تمام گناہ اپنے سر لیتا ہوں چناچہ اس کو انہوں نے ناقہ دے دی اس سودے پر انہوں نے گہواہ بھی ٹھہرائے اور حضرت عثمان انفاق سے رک گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ روایت ظاہرا باطل ہے کیونکہ یہ قرآنی اصول کے خلاف ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایک متعین شخص ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے مراد ہو لوگوں کا ایک نمونہ جو اس قسم کے ہوتے ہیں مثلاً وہ لوگ جو اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں خرچ کریں اور پھر رک جائیں تو اللہ کے نزدیک ایسا شخص قابل تعجب ہے۔ ایسے شخص کی طرف اشارہ کرکے قرآن مجید صحیح تصورات کی توضیح کرتا ہے۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے ؟

اعندہ ............ یری (35 : 53) ” کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ “ غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا عالم غیب میں انسان کے لئے جو کچھ پوشیدہ ہے انسان اس سے مامون نہیں ہوسکتا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیک عمل کرتا رہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور پوری زندگی میں محتاط رہے اور اپنے اعمال کو تسلسل دے۔ یہ نہ ہو کہ کچھ تھوڑا سا انفاق کرے پھر چھوڑ دے اور غیب مجہول کے دفاع میں اس کو یہی ضمانت حاصل ہے کہ وہ احتیاط کرے اپنے عمل کو جاری رکھے اور مسلسل رکھے اور اللہ کی مغفرت کا امیدوار ہو اور دعا کرے کہ اس کے اعمال قبول ہوں۔
Ayahs 53:36–37

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کردیا ؟

ام لم ............ الذی وفی (35 : 73) ” کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ “ یہ سیدھا دین وہ ہے جو تمام پیغمبروں کے ہاں ایک ہی رہا ہے اور اس کے اصول اور بنیادیں ایک ہی رہی ہیں۔ تمام رسولوں کی کتابیں اور دعوتیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ زمانہ ومکان کا اختلاف ہے۔ یہی اصول صحف موسیٰ میں تھے۔ یہی ملت ابراہیمی کے اصول تھے۔ حضرت ابراہیم وہ تھے جنہوں نے بہت بڑی وفاداری کا ثبوت دیا۔ ہر چیز کو پوراپورا ادا کیا۔ مطلقا وفادار تھے۔ یہاں وفا کا ذکر اکدی کے مقابلے میں ہوا۔ اکدی انقطاع کو کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے وفی کا لفظ تشدید سے آیا ہے تاکہ قافیہ اور ترنم میں فرق نہ آئے۔ سوال یہ ہے کہ صحف ابراہیم میں کیا تھا ؟
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

الاتزرو ............ اخری (35 : 83) ” یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا نہ اپنے نفس کا بوجھ ہو ہاں ہلکا کیا جاسکے گا اور نہ دوسرے کا بوجھ لے کر اسے بری الذمہ کیا جاسکے گا۔ لہٰذا کوئی نہ کسی دوسرے کا بوجھ اٹھا سکتا ہے اور نہ دوسرے پر ڈال سکتا ہے۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے

وان ............ ما سعی (35 : 93) ” اور یہ کہ انسان کے لئے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اس نے سعی کی “ یعنی انسان کے حساب میں وہی لکھا جائے گا جو اس نے کیا۔ اس کے اعمال کے ساتھ دوسروں کے اعمال نہ لکھے جائیں گے نہ اس کے اعمال سے کمی کرکے کسی دوسرے کی کمی پوری کی جائے گی اور یہ دنیاوی زندگی فرصت عمل ہے تاکہ وہ عمل کرے اور جدوجہد کرے۔ جب مر گیا تو اس کی فرصت عمل ختم ہوجائے گی اور اس کے اعمال کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ ہاں صرف وہ اعمال رہ جائیں گے جن کے بارے میں حدیث میں نص دارد ہے۔ اذامات ............ ینتفع بہ ” جب انسان مرجائے تو اس کا عمل ختم ہوجات ہے ۔ ماسوائے تین شعبوں کے اس کا صالح بیٹا ہو اور وہ اس کے لئے اس کے بعد دعا کرتا ہو۔ یا اس نے کوئی صدقہ جاریہ کیا ہو یا اس نے کوئی علمی کام کیا ہو جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہوں “ (مسلم) یہ تینوں شعبے دراصل اس شخص کے اعمال جاریہ ہیں۔ اس حدیث سے امام شافعی اور آپ کے متبعین یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ قرات قرآن کا ثواب مردوں کو نہیں پہنچتا کیونکہ یہ قرات ان کے عمل اور کسب سے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں امت کو کوئی ہدایت نہیں فرمائی نہ اس کی تاکید فرمائی نہ کسی نص میں یا اشارے میں اس کی ہدایت فرمائی۔ صحابہ کرام میں سے بھی کسی صحابی سے یہ منقول نہیں ہے کہ انہوں نے قرآن پڑھ پڑھا کر ایصال ثواب کیا ہے۔ اگر ایسا ہوسکتا ہے تو وہ کس طرح اس سے پیچھے رہ سکتے تھے۔ پھر عبادات اور ایصال ثواب کے مسائل ایسے ہیں جن میں قرآن وسنت کے نصوص پر اکتفا کرنا چاہئے۔ ایسے معاملات میں رائے اور قیاس کی گنجائش نہیں ہے۔ رہی دعا و صدقہ تو اس پر اجماع ہے کہ اس کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔ (ابن کثیر)