Ayah 52:1یہ مختصر آیات اور زمزمہ خیز مسجع آیات اور ان آیات کے آخری الفاظ کی صوتی ہم آہنگی ، پوری سورة میں جاری ہے۔ پہلی آیت میں ایک لفظ بھر دو الفاظ ، پھر آہستہ آہستہ الفاظ کی تعداد کا بڑھتے چلے جانا ، یہاں تک کہ پیراگراف کے آخر میں الفاظ کی تعداد 21 کلمات تک پہنچ جاتی ہے اور الفاظ بدستور پر شوکت اور زور دار رہتے ہیں۔
والطور (قسم ہے طور کی) طور ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں درخت ہوں۔ واضح قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہی کوہ طور ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں مشہور ہے اور جس پہاڑ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ اس لئے کہ یہاں فضا مقدس مقامات کی ہے اور ان کی اللہ تعالیٰ قسم اٹھاتا ہے اور یہ قسم بھی ایک عظیم امر پر ہے۔
Ayahs 52:2–3وکتب مسطور (25 : 2) فی رق منشور (25 : 3) ” ایسی کتاب کی قسم جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے “۔ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ کی کتاب ہے جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اس تفسیر کے مطابق طور کے ساتھ مناسبت پوری ہوجاتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ مراد لوح محفوظ ہے۔ اسی لئے کہ اس کے بعد الیت المعمور کی قسم ہے اور السقف المرفوع کی قسم ہے اور یہ مفہوم بھی ممکن ہے۔
Ayah 52:4والبیت العمور (آباد گھر کی قسم) اس سے مراد کعبة اللہ بھی ہوسکتا ہے واضح یہ ہے کہ مراد وہ بیت المعمور ہے جو فرشتوں کی عبادت کی جگہ ہے کیونکہ صحیح احادیث میں اور حدیث اسرا میں آتا ہے ” اس کے بعد مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہوتا۔ “ یعنی یہ فرشتے وہاں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اسی کا اسی طرح طواف کرتے ہیں جس طرح اہل زمین ، زمین کے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔
Ayah 52:5والسقف المرفوع (25 : 5) ” اور قسم ہے اونچی چھت کی “ اس سے مراد آسمان ہے۔ سفیاں ثوری کی یہی رائے ہے اور ابوالاحوص نے سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہی رائے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ؓ نے یہ آیت پڑھی۔
وجعلنا ........ معرضون ” اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔ “
Ayah 52:6والبحر المسحور (25 : 6) ” اور قسم ہے موجزن سمندر کی “ یعنی بھرے ہوئے سمندر کی۔ سمندر کا ذکر آسمان کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہ بہت وسیع ہے۔ بھرا ہوا ہے اور طویل و عریض ہے۔ یہ ایک ایسی نشانی ہے جس میں خوبصورتی بھی ہے اور اس میں عظمت اور خوف بھی ہے اور یہ مذکورہ بالا دوسری نشانیوں کے ساتھ زیادہ نصیحت آموز ہے۔ للمسحور کا معنی وہ جس میں آگ لگی ہوئی ہو۔ دوسری سورة میں کہا گیا۔
واذا البحار سجرت ” جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا “ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یعنی۔
والبحر المسجور (25 : 6) سے مراد آگ کا کوئی سمندر ہو جیسا کہ۔
البیت المعمور سے مراد ایک غیبی عبادت گاہ ہے۔ ان عظیم چیزوں کی قسم اٹھا کر جس عظیم حقیقت کا اظہارہورہا ہے اور جس کے لئے اب ذہن تیار ہوگیا ہے وہ ہے۔
Ayahs 52:7–8ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے۔ “
یہ عذاب یقینا ہونے والا ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان دونوں آیات کا اثر اور ان کا سجع دونوں فیصلہ کن ہیں۔ الفاظ کے ترنم سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ واقع ہونے والا ہے اور اس میں کوئی دوسری بات ممکن نہیں ہے اور اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ جب یہ اثر انسان کے پردہ احساس پر پڑتا ہے اور براہ راست پڑتا ہے تو یہ دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حالت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے اپنے باپ سے انہوں نے موسیٰ ابن داؤد سے ، انہوں نے صالح مری سے ، انہوں نے جعفر ابن زید عبدی سے وہ کہتے ہیں حضرت عمر ایک رات مدینہ میں گشت کے لئے نکلے ، وہ مسلمانوں کے گھروں میں سے ایک گھر کے پاس سے گزرے ، دیکھا تو ایک شخص نماز میں کھڑا ہے۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور اس کی تلاوت سننے لگے۔ اس شخص نے سورة طور پڑھنا شروع کی۔ جب یہاں تک پہنچا۔ ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ حق ہے حضرت عمر ؓ اپنے گدھے سے اتر گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے۔ پھر وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گئے۔ پورا ایک ماہ لیٹ گئے۔ لوگ ان کی عیادت کرتے لیکن معلوم نہ تھا کہ آپ کو کیا بیماری لاحق ہے۔
حضرت عمر ؓ نے تو یہ سورة اس سے پہلے بھی سنی تھی اور بار بار سنی تھی۔ انہوں نے خودبھی اسے پڑھا تھا۔ نماز میں پڑھایا تھا۔ رسول اللہ ہمیشہ مغرب کی نماز میں اسے پڑھا کرتے تھے اور حضرت عمر ؓ اسی بات کو جانتے تھے اور اس طرح آپ بھی مغرب میں اس سورة کو پڑھتے۔ اسوہ رسول پر عمل کرتے ہوئے لیکن اس دن ان پر اس کا بہت اثر ہوگیا کیونکہ ان کا دل اس تاثر کے لئے کھلا تھا۔ ان کے احساسات اس دن اثرات قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے ان معانی نے ان کے دل میں نفوذ کرلیا اور ان پر اس طرح اثر انداز ہوئے جس طرح اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ آیات اپنے پورے وزن ، پوری شدت اور پوری حقیقت کے ساتھ براہ راست ان کے دل میں اتریں۔ بعض اوقات دلوں پر ایسے اثرات پڑا کرتے ہیں۔ یہ دراصل وقت کی بات ہوتی ہے۔ ایک خاص وقت میں یہ اثرات دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور یہ اس وقت اترتے ہیں جب وہ براہ راست دلوں کو مس کرلیں۔ ان لمحات میں دل ان آیات کو اپنے اصل سرچشمے سے لے لیتے ہیں جس طرح قلب رسول پر ان کا الہامی اثر تھا اس طرح سننے والے کے دل پر اثر ہوجاتا ہے۔ قلب رسول پر تو ہر بار یہ ہوتا تھا اور اللہ نے قلب رسول کو یہ صلاحیت دی تھی بعض اوقات دوسرے لوگوں پر بھی یہ معجزانہ اثر ہوجاتا ہے جس طرح حضرت عمر ؓ پر ہوگیا۔
Ayahs 52:9–10اب اس عظیم اور خوفناک حقیقت کے بعد ایک خوفناک منظر :
یوم تمور السماہ مورا (25 : 9) وتسیر الجبال سیرا (25 : 01) ” وہ اس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگا رہا ہوگا اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے “ یہ آسمان جو ٹھہرا ہوا ہے اور نہایت پختگی سے تعمیر شدہ ہے۔ یہ اچانک اضطراب میں مبتلا ہوگا اور اس طرح الٹ پلٹ ہوگا جس طرح سمندر میں امواج اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ یہ امواج ادھر سے ادھر جاتی ہیں اور ان کے اندر کوئی قرار نہیں ہوتا اور پھر اس زمین پر پائے جانے والے پہاڑ جو اونچے اور پختہ جمے ہوئے ہیں یہ اس طرح ہلکے ہوجائیں گے کہ وہ اڑنے لگیں گے اور ان سے ثبات وقرار ختم ہوجائے گا۔ یہ منظر ایک ہوشربا اور پریشاں کن منظر ہے اور یہ ایک ایسے ہولناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس میں آسمان اور پہاڑ بھی ہل جائیں تو اس قدر خوفناک منظر میں اور ہولناک صورتحال میں یہ ضعیف انسان کیا ٹھہر سکے گا۔
غرض اس قسم کے خوفناک اور ہولناک حالات میں مکذبین کو ایک ایسی بات بتائی جاتی ہے جو ان کو بہت زیادہ خائف کردینے والی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کی جانب سے ان کو بددعا دی جاتی ہے اور اللہ کی بددعا تو گویا فیصلہ ہوتا ہے تباہی کا۔ جس بات کی بددعا دی گئی گویا وہ واقع ہوگئی۔ اللہ کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اس فیصلے سے اور یہ ہوگئی عملاً
Ayahs 52:11–12فویل یومئذ للمکذبین (25 : 11) الذین ھم فی خوض یلعبون (25 : 21) ” تباہی ہے اس روز مکذبین کے لئے جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں “ یہ تباہی اس دن آئے گی جس دن آسمان ڈگمگائے گا اور پہاڑ اڑ رہے ہوں گے۔ یہ خوفناک منظر اور یہ خوفناک بربادی۔ یہ ان جھٹلانے والوں کا حصہ ہے جو لگے ہوئے تھے اپنی حجت بازیوں میں۔
سب سے پہلے تو یہ صفت منطبق ہوتی ہے مشرکین مکہ کے افکار پر اور ان کے تصورات اور معتقدات پر جو نہایت سطحی اور بچگانہ تھے اور ان کی پوری اس زندگی پر یہ صفت منطبق ہے جو ان تصورات اور معتقدات کی اساس پر قائم تھی۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس پر تبصرہ کیا ہے کہ یہ ایک کھیل ہے جس میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ یہ اس کھیل میں اس طرح مصروف ہیں جس طرح حوض میں لوگ نہانے کے لئے اترتے ہیں اور اچھلتے کودتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ پانی میں تیر کر کسی ہدف کی طرف بڑھیں یا کنارے پر لگ جائیں۔ ان کا مقصد صرف حوض میں اچھلنا کودنا ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم اس لفظ کا اطلاق قرانی نظریات کے علاوہ تمام نظریات پر کرتا ہے اور قرآنی طریقہ زندگی کے علاوہ تمام دوسرے اسلوب ہائے زندگی پر کرتا ہے کہ یہ کھیل تماشا ہے اور یہ ایک بڑی حقیقت ہے جو قرآن کریم نے واضح کی ہے اور اسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو قرآنی نظریات کے علاوہ تمام نظریات کا گہرا جائزہ لے اور وہ یہ جائزہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظریہ کائنات کی روشنی میں لے۔ کسی بھی گہرے جائزے سے معلوم ہوگا کہ تمام لوگوں کے نظریات اور معتقدات افسانے ہیں بلکہ بڑے بڑے فلسفے انسانی تاریخ کے وہ بڑے فلسفیانہ تصورات جن پر انسان ناز کرتے ہیں ، وہ بھی بچوں کا کھیل معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تصور حیات اور عقائد میں جو حقائق نہایت ہی سادگی ، قوت ، صفائی اور سنجیدگی سے بیان کئے گئے اور خصوصاً وہ باتیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ سب فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور وہ فطرت کے ساتھ بغیر کسی مشکل سے ملتی جلتی ہیں کیونکہ قرآن کا مطالعہ فطرت نہایت حقیقت پسندانہ ہے۔ اس سے کائنات کے عجوبے کی بھی خوبصورت تفسیر ہوتی ہے اور اس تفسیر کے مطابق اس کے خالق کائنات کے ساتھ تعلق کی بھی تشریح ہوتی ہے اور یہ سب تصورات اور تشریحات حقیقت پسندانہ بھی ہیں۔
جب میں فلاسفہ کے خیالات پڑھتا ، بڑے بڑے فلاسفہ کے خیالات دیکھتا ہوں کہ اس کائنات کے عجوبے کے حل میں وہ تھک کر چور چور ہوگئے اور وہ اس کی صحیح تفسیر نہ کرسکے نہ ہی کائنات کے مختلف حقائق کو باہم مربوط کرسکے۔ ان کے خیالات اس طرح معلوم ہوتے ہیں جس طرح ایک بچہ ریاضی کا کوئی مشکل مسئلہ حل کرنے کی سعی کرے۔ یہ اس لئے کہ میرے سامنے اس مسئلے کا قرآنی حل موجود تھا جو واضح ، صاف ، سہل فطری اور دلپذیر تھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہ تھی نہ پیچیدگی تھی اور نہ تعقید۔ قرآن نے اس کائنات کی جو تشریح کی ہے وہ اس طرح ہے جس طرح ایک شخص اپنی بنائی ہوئی مشینری کی تشریح کرتا ہے۔ رہے فلاسفہ تو وہ اس کائنات میں سے چند جزوی حقائق لے کر ان کو کل پر منطبق کرتے ہیں اس لئے وہ بری طرح فیل ہوجاتے ہیں اور ان کے تصورات تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
جب ہم ان فلاسفہ کے تصورات کا مقابلہ قرآن سے کرتے ہیں تو یہ عبث کھیل ، خلط بحث کا بھونڈا نمونہ پیش کرتے ہیں اس لئے کہ قرآنی نظریات مکمل پختہ اور مطابق فطرت اور مطابق حقیقت ہوتے ہیں اور قرآن کے مقابلے میں ان کے خیالات ناپختہ ، محال اور متناقض ثابت ہوجاتے ہیں۔ جب انسان عظیم فلاسفہ کے نظریات پڑھتا ہے تو انسان کے تصورات میں تمام مسائل میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ کمراہانہ تصورات سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ دراصل یہ تصورات مسئلہ کائنات کے حل کے لئے انسانی کوششیں ہیں اور اس کے بعد جب انسان قرآنی آیات پر غور کرتا ہے جو اس موضوع پر ہوتی ہیں تو اس کے ذہن میں آہستہ آہستہ روشنی داخل ہوتی ہے۔ اس کا قرار وثبات اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنی جگہ پر درست رکھی ہوئی ہے۔ ہر بات اپنی جگہ پر ہے۔ ہر حقیقت اپنی جگہ بیٹھی ہوئی ہے اور کسی چیز میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ انسان فی الفور محسوس کرلیتا ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔ اسے آرام اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ اس کا دل آرام اور قرار پکڑتا ہے۔ عقل مطمئن ہوجاتی ہے۔ ہر قسم کی الجھنیں دور ہوجاتی ہیں۔ تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک واضح حقیقت تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔
عقائد کے بعد جب لوگ ان عقائد پر اپنی عملی زندگی استوار کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کھیل کود میں مصروف ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی ترجیحات اسلامی ترجیحات کے مطابق بچگانہ کھیل نظر آتی ہیں۔ اسلام انسان کو جس قدر بلند ترجیحات دیتا ہے اس کے مقابلے میں یہ دوسرے فلسفے جو ترجیحات متعین کرتے ہیں وہ نہایت حقیر معمولی اور بچگانہ معلوم ہوتی ہیں۔ اسلام جب ان لوگوں کی مشغولیات کو دیکھتا ہے پھر یہ دیکھتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی گفتگو کو سنتا ہے جو ان کی نظروں میں ایسی ہوتی ہے جیسا کہ وہ کسی بڑے کائناتی مسئلہ پر بحث کررہے ہیں ، اسلام اس قسم کے لوگوں پر جب نظر ڈالتا ہے تو یہ لوگ اپنے بچوں کے پارک میں کھیلتے ہوئے بچے نظر آتے ہیں جو گڈیوں اور کھلونوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں جن کو وہ حقیقی اشیاء سمجھتے ہیں اور ان کھلونوں کے ساتھ وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا وہ حقیقی اشخاص ہیں۔
اسلام جس طرح اس پوری کائنات کے بارے میں ایک ارفع اور برتر تصور دیتا ہے اس طرح وہ اس کائنات میں انسان کو اعلیٰ اور برتر ترجیحات بھی دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو بتاتا ہے کہ ان کے اور اس کائنات کے وجود کی علت اور سبب کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ وہ یہ سوالات اس طرح قدرتی طور پر حل کرتا ہے کہ ان کے جواب کو ہر شخص سمجھ سکے کیونکہ یہ سوالات ہر شخص کے ذہن میں اٹھتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ؟ کیوں آیا ہے اور اس نے کہا جانا ہے ؟
اسلام نے ان سوالات کا جو جواب دیا ہے اس جواب سے خود اس کا وجود اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس وسیع کائنات کے وجوذو کا صحیح تصور ذہن میں آتا ہے کیونکہ انسان دوسری مخلوقات سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ ان ہی مخلوقات میں سے وہ ایک مخلوق ہے جہاں سے دوسری مخلوقات آتی ہیں۔ وہاں سے وہ بھی آیا ہے۔ ان سب چیزوں کے وجود کا سبب ایک ہے۔ جہاں وہ دوسری مخلوقات جائے گی یہ بھی جائے گا لہٰذا اسلام کا جواب ایک مکمل جواب ہے اور یہ کائنات اور انسان دونوں باہم مربوط ہیں اور تمام مخلوق پھر خالق سے مربوط ہے۔
اس کائنات کی قرآنی تشریح کا عکس پھر انسانی ترجیحات پر پڑتا ہے اور یہ ترجیحات اس تصور کی سطح تک بلند ہوجاتی ہیں۔ یوں ایک مسلم کے شعور میں دوسرے لوگوں کی ترجیحات بہت ہی حقیر نظر آتی ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق اپنے اعلیٰ فرائض میں مشغول ہوتا ہے اور یہاں اپنے مقصد وجود کے مطابق کام کرتا ہے۔ ان اعلیٰ تصورات اور اعلیٰ ترجیحات کی روشنی میں ایک مسلم کو دوسرے لوگ بچوں کے کھیل میں مصروف نظر آتے ہیں۔
ایک مسلم کی زندگی ایک عظیم زندگی ہے۔ اس لئے کہ اس کے مقاصد اونچے ہیں اور یہ مسلم اس عظیم کائنات کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ اس عظیم کائنات کے وجود میں موثر ہے۔ یہ حقیقت اس حقیقت سے زیادہ عزیز ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی کو عبث اور بےمقصد کاموں میں ضائع کرے جس طرح دوسرے لوگ ضائع کرتے ہیں۔ مسلم کی ترجیحات کے مقابلے میں اکثر لوگوں کی ترجیحات ومصروفیات عبث نظر آتی ہیں۔ محض مقاصد زندگی کی بلندی کی وجہ سے اور اس کائنات کے تصور کی بلندی کی وجہ سے جو لوگ اس کائنات کے بارے میں ایسا تصور رکھتے ہیں جس طرح بچے کھیل رہے ہوتے ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے۔
Ayah 52:13یوم یدعون الی نار جھنم دعا (25 : 31) ” جس دن انہیں دھکے مار مار کر جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔ “ یہ بھی ایک نہایت ہی پر آشوب منظر ہے۔ الدع کے معنی ہوتے ہیں پیچھے کی طرف دھکیلنا۔ یہ ایک ایسی حرکت ہے جو ان لوگوں کے حالات کے عین مطابق ہے جو تصور کائنات کے بارے میں طفلانہ تصورات رکھتے ہیں جو سنجیدہ نہیں ہوتے اور جو اپنے ارد گرد میں چلنے والے معاملات پر غور نہیں کرتے۔ یوں ان کو چلایا جائے گا جہنم کی طرف مگر پیٹھ پر بھی دھکے مارمار کر۔
اس طرح دھکیل دھکیل کر جب ان کو جہنم کے کنارے پہنچا دیا جائے گا تو کہا جائے گا۔
Ayah 52:14ھذا النار ........ تکذبون (25 : 41) ” یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلاتے تھے۔ “
یہ لوگ ابھی اسی حالت میں ہوں گے ادھر سے دھکے ادھر آگ ، مجبور ومقہور تو ان کو بطور سرزنش اور گو شمالی یہ کہا جائے گا۔ اشارہ ہوگا ان کے ماضی کی طرف۔
Ayah 52:15افسحر ........ تبصرون (25 : 51) ” یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے “ یہ لوگ دنیا میں قرآن کے بارے میں کہتے تھے یہ جادو ہے۔ طنزاً کہا جاتا ہے کہ یہ آگ بھی محض جادو ہے یا حقیقت ہے اور ایک خوفناک حقیقت ہے یا صورت یہ ہے کہ تم اس آگ کو اسی طرح نہیں دیکھ رہے جس طرح تم قرآن کو نہ دیکھتے تھے۔
جب یہ مزاحیہ سرزنش اور گوشمالی ختم ہوتی ہے تو جلدی انہیں سنجیدگی سے مایوس کردیا جاتا ہے۔
Ayah 52:16اصلوھا ........ تعملون (25 : 61) ” جاؤ، اب جھلسو ، اس کے اندر تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ، تمہارے لئے یہ یکساں ہے تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے۔ “
اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے کہ خواہ کوئی صبر کرے یا نہ کرے عذاب جاری رہے گا۔ کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے۔ اگر صبر کرے تو درد وہی اگر نہ کرے تو درد وہی۔ جہنم میں رہنا اپنا مقدر ہے خواہ چیخے یا چپ ہوجائے۔ یہ اس لئے کہ یہاں تو جزاء وسزا اعمال پر ہے جو کچھ ہوچکا اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ ان الفاظ پر یہ منظر اب ختم ہوتا ہے اور یہاں یہ پہلا حصہ بھی ختم ہوتا ہے۔
اس سورة کا دوسرا حصہ بھی فکر انگیز ہے لیکن اس میں نرمی ، خوشحالی اور عیس و عشرت ہے خصوصاً پہلے منظر کے بعد جس میں سخت عذاب کا ذکر تھا۔
Ayahs 52:17–18یہ منظر نعمتوں کے قریب ہے جو روز اول سے ان لوگوں کے شعور میں رچی بسی تھیں جن سے مخاطب ہے۔ لہٰذا یہ لوگوں کے لئے ان کے پاکیزہ اور حسی الذائد کے اعتبار سے بہت ہی پرکشش ہے اور یہ مناظر اس سخت اور ہولناک عذاب کے عین مقابل ہیں اور متضاد ہیں جو اوپر خشک اور طفلانہ دلوں کے بارے میں پیش کئے گئے تھے۔
ان المتقین ........ الجحیم (25 : 81) ” متقی لوگ وہاں باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لطف لے رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے گا اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ “ اس جہنم سے بچا لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے مناظر ابھی ابھی پیش کئے گئے اور یہاں تو اس بچاؤ کے ساتھ نعمتیں بھی ہیں۔ جنات نعیم بھی ساتھ ہیں یہاں وہ اللہ کی نعمتوں سے لذت حاصل کریں گے۔
Ayah 52:19ان نعمتوں اور لذتوں کے ساتھ ساتھ پھر استقبال اور تکریم بھی۔
کلواواشربوا ........ تعملون (25 : 91) ” کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کررہے تھے “ یہ کہ عالم بالا سے ان کو پکاراجائے گا بذات خود ایک بلند مرتبہ واعزازیہ کہا جائے گا کہ تم اس کے مستحق ہو۔
Ayah 52:20متکئین ........ مصفوفة (25 : 02) ” وہ اکٹھے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے “ یہ تختے آمنے سامنے بچھے ہوں گے۔ بڑی اچھی ترتیب کے ساتھ اور اس میں دوسری لذتوں کے علاوہ اپنے بھائیوں سے وہ ملیں گے۔
وزوجنھم بحور عین (25 : 02) ” اور خوبصورت آنکھوں والی حوریں ان کو بیاہ دیں گے “ اور یہ وہ اعلیٰ ترین نعمت ہے جس کا کوئی انسان تصور کرسکتا ہے۔
اب ان کا یہ اعزاز ایک قدم اور آگے جاتا ہے۔ ان کی مومن اولاد بھی ان کے ساتھ جمع کردی جاتی ہے اور وہ بھی ان نعمتوں میں شریک ہوتے ہیں اور یہ ان پر عنایات مزید ہیں۔ اگرچہ اولاد کے اعمال معیار کے اعتبار سے ان متقین سے کم ہی ہوں لیکن اگر اولاد مومن ہے تو اسے آباء سے ملادیا جائے گا اور آباء کے درجات میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ ہر شخص وہاں اپنے اپنے اعمال کا ذمہ دار اور حقدار ہوگا۔ یہ اصول اپنی جگہ رہے گا لیکن یہ اللہ کا فضل ہوگا۔
Ayahs 52:21–22والذین ........ رھین (25 : 12) ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔ “
یہ منظر جاری ہے۔ جنت کی نعمتوں کا بیان ہورہا ہے۔ یہ نعمتیں قسم قسم کی ہیں ، پھل آرہے ہیں ، قسم قسم کے گوشت چلے آرہے ہیں جو بھی وہ چاہیں وہ وہاں ایک دوسرے سے جام شراب لے رہے ہوگے۔ یہ شراب دنیا کی شراب نہ ہوگی جس کے استعمال کے بعد لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں یا فحش حرکات کرتے ہیں بلکہ یہ مصفی اور پاک شراب ہوگی۔
Ayah 52:23لا لغو فیھا ولا تاثیم (25 : 32) ” جس میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ بدکرداری “ وہ یہ جام شراب ایک دوسرے سے چھین رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کو پکڑا رہے ہوں گے تاکہ زیادہ محبت ولذت حاصل ہو اور جب یہ اس قسم کی لذتوں کے اندر ہوں گے تو ان پر خوبصورت چاند جیسے مکھڑے والے لڑکے پھر رہے ہوں گے۔ پاک اور صاف اور تروتازہ۔
Ayah 52:24کانھم لؤ لؤ مکنون (25 : 42) ” ایسے خوبصورت جیسے چھپائے ہوئے موتی “ جن کی وجہ اس مجلس کا لطف روحانی اور جسمانی اعتبار سے دو چند ہوجائے گا۔ اس منظر اور مجلس کی تکمیل کے لئے ان کی باہم گفتگو بھی پیش کی جاتی ہے ۔ ان کے ماضی پر ان کا مذاکرہ بھی دیا جاتا ہے اور وہ جس مقام تک پہنچ چکے ہیں اس کے اسباب بھی گنوائیں گے کہ کس وجہ سے وہ اس امن ، رضامندی ، امن و محبت اور وسیع سامان زندگی تک پہنچے ہیں۔ یوں وہ اپنے دلوں میں وہاں بھی اپنی اس حالت کے اسباب گنوا رہے ہوں گے اور اس منظر میں اہل دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کا یہ راستہ ہے۔
Ayahs 52:25–27واقبل ........ الرحیم (82) (25 : 52 تا 82) ” یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ یہ پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے۔ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ “
راز یہ ہے کہ انہوں نے اس دن سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کی ملاقات سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سامنے حساب و کتاب کا انہیں ڈر تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال میں تھے لیکن ڈرتے تھے۔ بظاہر وہ اس دنیا کے جھوٹے امن و عافیت میں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیا۔ اس جہاں میں لہو ولعب کا مشغلہ جاری تھا مگر وہ اس میں شریک نہ ہوئے۔
اللہ نے ان پر احسان کیا اور ان کو سخت گرم ہوا کے عذاب سے بچایا۔ اس ہوا کو السموم اس لئے کہا گیا کہ یہ سم اور زہر کی طرح جسم میں حرارت داخل کرتی تھی جو نیش زن تھی اور اس عذاب سے اللہ نے ان کو محض اپنے فضل وکرم سے بچایا کیونکہ اللہ نے جان لیا کہ یہ لوگ ڈرنے والے ، محتاط اور خضوع وخشوع والے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ یہ ان کی صفات میں اور وہ جانتے ہیں کہ عمل کے ذریعے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر اس کے ساتھ اللہ کا فضل وکرم نہ ہو کیونکہ عمل تو صرف یہ شہادت ہے کہ صاحب عمل نے جدوجہد کی اور اللہ کے ہاں جو انعامات ہیں ان کی خواہش کی۔ یہ بات اللہ کے فضل کی اہلیت ہے اور اللہ سے ڈرنے اور خائف ہونے کے ساتھ وہ اپنی مشکلات میں اللہ ہی کو پکارتے تھے۔
Ayah 52:28انا کنا من قبل ندعوہ (25 : 82) ” ہم پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے اور اللہ کی ان صفات کو جانتے تھے کہ وہ البر اور العظیم ہے۔
انہ ھو البر الرحیم (25 : 82) ” وہ واقعی بڑا محسن اور رحیم ہے “ یہ ہے راز ان لوگوں کے جنت تک پہنچنے کا یہ مباحثہ کرتے ہیں یہ کامیاب لوگ دارالنعیم میں فی الواقع مکرم لوگ ہیں۔
اس سورة کے پہلے پیراگراف میں ہم نے اچھی طرح جان لیا کہ عذاب الٰہی کیا ہوگا اور دوسرے پیراگراف میں ہم نے اللہ کی انعامات کے بارے میں جان لیا۔ یوں حقائق معلوم کرنے کے لئے ہمارا احساس خوب تیز ہوگیا چناچہ سیاق کلام نہایت تیزی سے ، مختصر جملوں اور زور دار الفاظ میں نفس انسان کے پردہ احساس کے سامنے حقائق پیش کرنا شروع کرتا ہے۔ نفس کے اندر جو وسوسے آتے ہیں ان کا تعاقب کیا جاتا ہے اور یہ حقائق سوالات کے ذریعے ذہن انسانی پر اتارے جاتے ہیں جن کا انداز سر زنش کا ہے۔ چیلنج کا ہے اور بہت زور دار ہے۔ ان سوالات اور چیلنجوں کے سامنے انسان نہیں ٹھہر سکتا ہے۔
Ayah 52:29نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے آپ یاددہانی کئے جائیں اور ان لوگوں کی بدسو کی سے متاثر نہ ہوں اور ان لوگوں کی جانب سے جو اتہامات لگائے جارہے ہیں ان کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ کبھی یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ” کاہن “ ہیں۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ آپ مجنون ہیں اور یوں وہ در پر وہ ایسے الزامات لگاتے تھے جو ان کے درمیان مشہور تھے کہ کاہن اور مجنون دراصل شیاطین سے ہدایات لیتے ہیں اور شیاطین بعض لوگوں کو خبط میں مبتلا کرکے مجنون کردیتے ہیں۔ گویا ان دونوں صفات کی پشت پر ان کے نزدیک شیطان کام کرتا تھا اور یہ لوگ اسی وجہ سے حضور اکرم پر یہ الزامات عائد کرتے تھے۔ پھر وہ نبی ﷺ پر ساحر اور جادو گر ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ یہ وہ اس لئے لگاتے تھے کہ وہ قرآن کریم کے فصیح وبلیغ انداز کے سامنے ششدر رہ گئے تھے۔ یہ قرآن اس قدر معجزہ تھا کہ اس قسم کا کلام کبھی انہوں نے دیکھا نہ سنا تھا۔ اپنی جگہ یہ اپنے آپ کو قادر الکلام سمجھتے تھے۔ اپنی دینی بیماری کی وجہ سے یہ لوگ چونکہ اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم نہ کریں گے۔ اس لئے وہ اس کلام کے بارے میں کوئی نہ کوئی تاویل کرنے پر مجبور تھے۔ کبھی کہتے ہیں حضور کو یہ کلام جن سکھاتے ہیں۔ حضور کاہن ہیں جو جنوں سے یہ کلام لیتے ہیں۔ یا جادوگر ہیں جو جنوں سے جادو سیکھتے ہیں یا شاعر ہیں اور خیالات جن ان پر القاء کرتے ہیں یا آپ مجنون ہیں اور شیطان نے آپ کو چھو لیا ہے اور یہ باتیں آپ سے کراتا ہے جو عجیب ہیں۔
یہ باتیں نہایت ہی جھوٹی بری اور شرمسار کنندہ اور پریشان کن ہیں لیکن اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ذرا بھی ان کی پرواہ نہ کریں۔ آپ پرتو فضل وکرم ہے۔ آپ نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔
فما ........ مجنون (25 : 92) ” اپنے رب کے فضل سے آپ نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون “ اس کے بعد ان کے اس قول پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ حضور اکرم پر شاعر ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔
Ayah 52:30ام یقولون ........ المنون (25 : 03) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کررہے ہیں “ انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو یوں تسلی دیتے تھے یعنی اس تحریک کے مقابلے میں صبر کرو اور اپنے دین پر ثابت قدم رہو۔ اپنے وقت پر یہ شخص مر جائے گا۔ یوں ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ ایک دوسرے کو کہتے کہ صبر کرو کہ یہ مرجائے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ ان کو ذرا دھمکی آمیز انداز میں کہہ دیں اچھا۔
Ayah 52:31قل تربصوا ........ المتربصین (25 : 13) ” ان سے کہو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “ اور تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا کہ اچھا انجام کس کا ہونے والا ہے اور کس کو فتح و کامرانی ہوتی ہے۔
قریش کے اکابر کو کہا جاتا تھا کہ یہ ذوی الاحلام ہیں اشارہ اس طرف تھا کہ یہ بہت عقلمند ہیں اور معاملات بڑی دانشمندی سے چلاتے ہیں۔ قرآن مجید ان کے ساتھ ان کی اس دانشمندی پر سنجیدہ مزح کرتا ہے کہ ان کا طرز عمل تو عقل و دانش کے سرابر منافی ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ حضرت محمد کے بارے میں ان کی رائے اور وحی و رسالت کا انکار کیا ان کی وہ دانشمندی ہے بلکہ یہ سرکش ہیں اور ان کی عقل جس بات کو تسلیم کرتی ہے یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے ہیں۔
Ayah 52:32ام تامرھم ........ طاغون (25 : 23) ” کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یادراصل یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں “ پہلے سوال میں مزاح ہے اور دوسرے سوال میں ایک ذلیل حرکت کا الزام ہے اور ان لوگوں کا جو موقف ہے اس پر ان میں سے کوئی ایک بات چسپاں ہے۔
رسول اللہ کے بارے میں ان کی زبانیں اس قدر دراز تھیں کہ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ یہ کلام اپنی جانب سے بناتے ہیں۔ اس پر بھی ایک سوال کیا جاتا ہے جو ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے ہیں تو یہ ان کو نہیں کہنا چاہئے۔
Ayah 52:33ام یقولون تقولہ (25 : 33) ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ خود گھڑ لیا ہے “ اور اس کے بعد جلد ہی اصل حقیقت بتادی جاتی ہے۔
بل لا یومنون (25 : 33) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے “ ان کے دلوں کو شعور ایمان حاصل نہیں ہے۔ یہی بےشعوری ہے جو ان کے منہ سے یہ بات کہلواتی ہے اور یہ قول یہ لوگ تب ہی کہتے ہیں کہ ایمان کی نعمت سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اگر یہ قرآن کی حقیقت کا ادراک کرلیتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ یہ انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں ہے اور اس کے حامل صادق وامین ہیں۔
Ayah 52:34فلیاتوا ........ صدقین (25 : 43) ” اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا کلام بنالائیں “ قرآن کریم میں اس چیلنج کو بار بار دہرایا گیا ہے اور منکر اس کو قبول کرنے سے عاجز رہے ہیں بلکہ نہایت بےبس رہے ہیں اور اسی طرح قیامت تک لوگ اس سے عاجز رہیں گے۔ قرآن کریم میں ایک راز ہے جو شخص بھی اس کی آیات کو پہلی بار پڑھتا ہے وہ ان کے اندر ہر خصوصیت پاتا ہے۔ چاہے اس کو اس کے اعجاز کی وجوہات معلم ہوں یا نہ ہوں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ قرآن کی عبارت میں ایک خاص قوت ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معانی اور تعبیرات کے علاوہ بھی قرآن کریم میں ایک خاص چیز ہے ۔ قرآن مجید کو سنتے ہی اس کی یہ خصوصیت ذہن پر اثر کرتی ہے۔ بعض لوگ اسے واضح طور پر پاتے ہیں اور بعض اسے ذرا اجمال اور غموض کے ساتھ لیکن ہر شخص محسوس کرتا ہے۔ قرآن کی یہ خصوصیت کیا ہے اور اس کا سرچشمہ کیا ہے ؟ اس کا تعین کرنا مشکل ہے۔ یا یہ اثر قرآن کے معانی کا ہے یا قرآن مجید کی صورتوں ومناظر کا ہے یا یہ اثر کلامی ہے کہ انہی لغات سے بنائے ہوئے دوسرے کلاموں اور قرآن میں یہ فرق ہے یا یہ سب امور مجتمع طور پر اعجاز فراہم کرتے ہیں یا یہ کوئی ایسی چیز ہے جو ان سے بھی ماوراء ہے۔
یہ ایک راز ہے جو ہر قرآنی آیت میں پوشیدہ ہے جو بھی قرآنی آیات پڑھتا ہے وہ یہ راز محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد ہر کوئی اپنے ظن کے مطابق اس کے اسرار و رموز تلاش کرتا ہے اور یہ تدبر اور غور وفکر سے معلوم ہوتے ہیں اور پورے قرآن میں موجود ہیں۔
مثلاً یہ اعجاز اس کامل اور صحیح تصور کے اعتبار سے بھی ہے جو قرآن عقل وخرد کو دیتا ہے۔ وجود انسانی کی حقیقت کا تصور اس کائنات میں وجود کا تصور اور اس حقیقت ” اولی “ کا تصور جس سے تمام حقائق پھوٹتے ہیں یعنی اللہ کا تصور۔
پھر اس کے طریقے اور اسلوب میں بھی اعجاز ہے جس کے مطابق قرآن مجید انسان کے تصورات کی تعمیر کرتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو فطری انداز سے خطاب کرتا ہے اور اس کا انداز تخاطب بھی مخصوص ہے۔ تمام زبانوں کے انسانی اسالیب کلام میں یہ انداز نہیں ہے۔ قرآن کریم انسانی دل اور عقل وخرد کو ہر پہلو سے پھیرتا ہے۔ اس کے اندر صالح افکار ہر جانب سے داخل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ انسان کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتا ہے جس طرح ایک پوری طرح خبردار ذات کسی کے ساتھ کرتی ہے۔
قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے ان ہدایات کے اندر ایک زبردست جامعیت ہے۔ توازن ہے اور مکمل ہم آہنگی ہے اور یہ پورا کلام ایک ہی سطح اور ایک ہی معیار کا ہے۔ انسانی کلاموں میں یہ بات ہرگز نہیں پائی جاتی۔ انسانی کلام ایک حال پر نہیں ہوتے ایک سطح پر نہیں ٹھہرتے اور ہر پہلو سے معیار کو قائم نہیں رکھ سکتے اور توازن قائم کرنا تو ان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی معاملے میں کوئی زیادتی نہ ہو کوئی نقص نہ ہو۔ کوئی افراد وتفریط نہ ہو اور مکمل ہم آہنگی ہو اور کلام میں کسی جگہ تعارض یا تضاد نہ ہو نہ اصول میں نہ فروع میں۔
یہ ظاہری امور جن کا ادراک کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خفیہ معجزانہ اثر جس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا اس بات کے دلائل ہیں کہ یہ معجزانہ کلام ہے اور یہ چیزیں مل کر قرآن کو صفت اعجاز دیتی ہیں۔ قرآن کی صفت اعجاز وہ چیز ہے جس میں کوئی شخص اب کلام نہیں کرسکتا جس کے حواس بحال ہوں جو محترم ہو جو حقیقت پسند ہو اور جو قرآن کا مطالعہ قوت ، گہرائی اور وضاحت سے کرتا ہو اور قرآن مجید کا مطالعہ قلب سلیم کے ساتھ کرتا ہو۔
فلیاتوا ........ صدقین (25 : 43) ” اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اس شان کا ایک کلام بنا لائیں۔ “ دوسرا سوال خود ان کے وجود کی حقیقت کے بارے میں ہے۔ خود ان کے اپنے وجود کی حقیقت تو ایک حقیقت ہے جس سے وہ انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ہیں اور قرآن کے بغیر بھی اگر وہ عقلمند ہیں تو وہ اس کی کوئی تفسیر کریں گے۔ قرآن تو یہ کہتا ہے کہ ایک خالق ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی تعبیر ہم اللہ سے کرتے ہیں۔ وہ بذاتہ موجود ہے اور یہ انسان مخلوق ہیں۔
Ayah 52:35ام خلقوا ........ الخلقون (25 : 53) ” کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں “ ان کا وجود کسی چیز کے بغیر اسی طرح ہونا فطرت کی منطق کے خلاف ہے اور اس نکتے پر کسی قلیل یا کثیر جدل وجدال کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات کہ یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں تو اس کا کوئی قائل نہ تھا نہ وہ لوگ اس کے قائل تھے اگر یہ دونوں باتیں فطری استدلال کے خلاف ہیں تو پھر تیسری صورت وہی رہ جاتی ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے کہ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں اور اس تخلیق میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا ربوبیت ، عبادت اور اطاعت میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ نہایت سادہ اور فطری حقیقت ہے۔
ان کے تصور کو ذرا آسمانوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کیا اس وسیع کائنات کی انہوں نے تخلیق کی ہے۔ یہ کائنات خود بھی اپنی خالق نہیں ہے جس طرح یہ اپنے نفوس کے خود خالق نہیں۔
Ayahs 52:36–37ام خلقوا ........ یوقنون (25 : 63) ” یا زمین و آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ یہ لوگ بھی اور ہر عقلمند شخص جو فطری انداز میں سوچتا ہو اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ زمین اور آسمانوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یا بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود انہوں نے یعنی کسی انسان نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر کسی کو دینا ہے اور ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن یہ حقیقت ان کے ادراک میں اس قدر واضح نہ تھی کہ وہ ان کے دلوں اور ان کی سوچ اور ان کے طرز عمل میں کوئی تغیر پیدا کرے اور وہ کوئی واضح عقیدہ اپنائیں۔
بل لا یقنون (25 : 63) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ اب تخلیق سے ذرا نیچے آکر ذرا کم درجے کا سوال کیا جاتا ہے چلو تم اپنے آپ کے اس کائنات کے خالق تو نہیں ہو تو کیا تم زمین کے خزانوں کے حوالدار ہو۔ کیا تم لوگوں کے معاملات کے اختیاری ہو۔ اللہ ہی ہے جو کسی کو تھوڑا ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ وہی مدبر اور متصرف ہے اور یہی تفسیر قابل عمل ہے اور دل لگتی ہے۔ اسی صورت حالات کی جو اس جہان میں چلتی ہے جب اللہ کے خزانوں کے مالک یہ نہیں اور زمین کے معاملات ان کے اختیار میں نہیں تو پھر اللہ کے سوا اور کون ہے ؟
اب ایک درجہ اور نیچے آکر ان سے بات کی جاتی ہے۔ کیا تم قرآن کو منجانب اللہ نہیں سمجھتے تو اللہ کے ہاں تمہاری رسائی کا کوئی ذریعہ ہے جس سے تمہیں معلوم ہوگیا کہ قرآن وہاں سے نہیں ہے۔
Ayah 52:38ام لھم ........ مبین (25 : 83) ” کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہخے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں ؟ ان میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل۔ “ حضرت محمد ﷺ کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی طرف وحی آتی ہے اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں۔ کیا ان کے پاس عالم بالا کی معلومات کا کوئی ذریعہ ہے ؟ کہ محمد ﷺ کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور سچائی اور ہے لہٰذا اس قسم کی سن گن رکھنے والا کوئی دلیل لے آئے۔ ایسی دلیل کہ وہ بذات خود اپنی قوت اپنے اندر رکھتی ہو جس کے نتیجے میں انسان تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اس میں اشارہ ہے ان دلائل کی طرف جو قرآن دیتا ہے کہ یہ دلائل دراصل سلطان مبین ہیں اور دل و دماغ کو فوراً قبضے میں لیتے ہیں۔ اور ان کے مقابلے میں یہ لوگ عناد اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔
اب اللہ کے بارے میں ان کے اس قول کو لیا جاتا ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ خطاب براہ راست مشرکین مکہ سے کیا جاتا ہے اور یہ ان کو زیادہ شرمندہ اور ذلیل کرنے کے لئے ہے۔
Ayah 52:39ام لہ ........ البنون (25 : 93) ” کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تم لوگوں کے لئے ہیں بیٹے “ ان کے خیال میں بیٹیاں بیٹوں سے کم درجے کی مخلوق تھیں۔ یہاں تک کہ جب کسی کو بتایا جاتا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو وہ غم پریشانی اور ناپسندیدگی کی وجہ سے سیاہ رو ہوجاتا تھا لیکن اپنے ان خیالات کے باوجود وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت میں شرم محسوس نہ کرتے تھے۔ یہاں اللہ خود ان کے رواج اور رسم کے مطابق ان پر اعتراض کرتا ہے تاکہ وہ ذرا اپنے اس دعویٰ پر شرم محسوس کریں حالانکہ ان کا یہ خیال بھی غلط اور قابل اصلاح تھا۔
نبی ﷺ ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اسے وہ ایک بڑا بوجھ محسوس کرتے تھے حالانکہ آپدعوت خالص فی سبیل اللہ دیتے تھے۔ کوئی اجر طلب نہ فرماتے تھے نہ ان پر کوئی ٹیکس لگانا چاہتے تھے۔ ان کو چاہئے تو یہ تھا کہ اس مفت تعلیم کی وجہ سے حضور کے ساتھ احسان کرتے اور اگر قبول نہ کرتے تھے تو بھی شریفانہ انداز میں اسے قبول نہ کرتے۔ لہٰذا ان کا رویہ بالکل بےجواز ہے۔
Ayah 52:40ام تسئلھم ........ مثقلون (25 : 04) ” کیا تم ان سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں “ یعنی یہ اس مالی بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے جو تم ان پر ڈال رہے ہو۔ تو اگر واقعہ یہ ہے کہ نہ تو اجرت طلب ہورہی ہے اور نہ تم پر کوئی بوجھ ڈالا جارہا ہے تو پھر تمہارا رویہ کس قدر قبیح اور ذلیلانہ ہے۔ تمہیں اپنے رویہ پر سوچ کر شرمندہ ہونا چاہئے ؟
اس کے بعد دوبارہ ان کے سامنے ان کے وجود اور اس کائنات میں ان کے حالات کو پیش کیا جاتا ہے کہ یہ بندے ہیں اور ان کے کچھ حدود ہیں۔ اس کائنات میں ان پر بہت ہی امور مخفی ہیں اور کچھ تھوڑے ہی امور ایسے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں امور سب راز ہیں اور ان کو اس کائنات کا مالک ہی جانتا ہے۔ عالم غیب کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ یہ اس کے اندر نہیں جاسکتے کیونکہ یہ بندے ہیں۔