52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 52:41

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اس کی بنا پر لکھ رہے ہوں ؟

ام عندھم ........ یکتبون (25 : 14) ” کیا ان کے پاس غیب کے حقائق ہیں کہ اس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہیں “ ان کو معلوم ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم نہیں ہے اور نہ وہ غیب کے علم سے لکھ رہے ہیں نہ ان کو اس پر قدرت ہے کہ غیب میں وہ کوئی فیصلے لکھیں۔ یہ اللہ ہی ہے جو غیب کی کتابوں میں بندوں کی تقدیر لکھتا ہے۔ جو ذات غیب جانتی ہے وہی تدبیر امور کرسکتی ہے۔ تقدیروں کے فیصلے کرسکتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ غیب نہیں جانتے اور غیب کے ذخائر میں وہ کچھ بھی ثبت نہیں کرسکتے۔ اس لئے وہ آپ کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ نہ یہ لوگ آپ کے مستقبل میں تصرف کرسکتے ہیں نہ کوئی سازش کرسکتے ہیں۔
Ayah 52:42

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ اگر یہ بات ہے تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی۔

ام یریدون ........ المکیدون (25 : 24) ” کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں اگر یہ بات ہے تو کفر والوں پر ان کی چال الٹی پڑے گی یعنی اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کی تدبیر ان کو گھیر لے گی اور اللہ کی تدبیریں ان پر پڑیں گی کیونکہ اللہ بہت سی بہترین تدبیریں کرنے والا ہے۔
Ayah 52:43

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں ؟ اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں۔

ام لھم الہ غیر اللہ (25 : 34) ” کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں “ جو ان کو بچانے والا ہے اور اللہ کے عذاب سے وہ ان کو بچا لے گا۔ سبحن اللہ عما یشرکون (25 : 34) ” اللہ پاک ہے ، اس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں “ اللہ کے بارے میں وہ جو تصورات رکھتے ہیں وہ باطل ہیں۔ رد شرک پر اب یہ حملہ اختتام پذیر ہوتا ہے جو ایک منظم حملہ تھا اور جس کا ہر قدم دوسرے قدم پر منظم تھا جس کے ہر فقرے کا بہت بڑا اثر ہوا۔ اس حملے میں ان تمام شبہات تمام دلائل اور تمام خیالات کو رد کردیا گیا اور وہ بےبس کرکے رکھ دیئے گئے اور یہ بات ثابت کردی گئی کہ یہ لوگ حقیقت کا انکار کرنے والے ہیں ۔ عناد کرنے والے ہیں۔ واضح حق میں شک کرنے والے ہیں اور دور دراز کے شبہات کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ لوگ ہٹ دھرمی کررہے ہیں۔
Ayah 52:44

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آرہے ہیں۔ “

وان یروا ........ مرکوم (25 : 44) ” یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے دیکھ لیں تو کہیں گے کہ یہ بادل ہیں جو امنڈے چلے آرہے ہیں “ مطلب یہ ہے کہ اگر ان پر عذاب بھیجا جائے اور یہ اسے دیکھ لیں کہ وہ ایک آسمان کے ٹکڑے کی شکل میں آرہا ہے اور ان پر گرنے ہی والا ہے اور اس سے وہ ہلاک ہونے والے ہیں تو پھر بھی یہ کہیں گے کہ سحاب مرکوم (کہ یہ بادل ہے جو امنڈتا چلا آرہا ہے) اور اس میں پانی ہے جو ان کے لئے سبب حیات ہوگا۔ یہ بطور ہٹ دھرمی ایسا کہیں گے۔ یہ کسی صورت میں بھی حق کو تسلیم کرنے والے نہیں ہیں۔ اگرچہ ان کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہو۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں اس میں اشارہ قوم عاد کے واقعہ کی طرف ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ طوفان بادو باراں آرہا ہے تو کہا۔ عارض ممطرنا (یہ بادل ہے جو بارش برسائے گا) اور وہاں ان کو یہ جواب دیا گیا تھا۔ بل ھو ........ ربھا ” بلکہ یہ تو وہ چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ایک ہوا جس کے اندر درد ناک عذاب ہے یہ اللہ کے حکم سے ہر چیز کو نیست ونابود کرنے والی ہے۔ “ ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کی اس تصویر کشی کے بعد اگرچہ ان کے سروں پر لٹکتی ہوئی تلوار کی طرح عذاب بھی آجائے ، روئے سخن اب نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ ان کے معاملے سے ہاتھ جھاڑ کر اس انجام سے دو چار ہونے کے لئے چھوڑ دیں جس کا ذکر اس سورة کے آغاز میں آیا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے ایک سے ایک سخت عذاب ان کے انتظار میں ہے اور اللہ کے احکام کا انتظار کریں جو زبردست ہے اور جو آپ کا نگہبان ہے اور ہر وقت آپ پر نظر رکھتا ہے اور اللہ کی تعریف کے ساتھ اس کی حمد کرو۔ صبح کے وقت جب اٹھو اور رات کے وقت جب اٹھو اور اس وقت جب ستارے غائب ہوجائیں۔
Ayahs 52:45–47

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

پس اے نبی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس میں یہ مار گرائے جائیں گے جس دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی نہ کوئی ان کی مدد کو آئے گا

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور اس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لئے ایک عذاب ہے مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔ “

یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔ اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے اور دور کا عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے۔ اب روئے سخن نبی کریم ﷺ کی طرف ہے جن پر زیادتیاں کرنے والے زیادتی کرکے طرح طرح کی باتیں آپ کے خلاف بناتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ مشکلات دور ہونے والی ہیں۔ یہ مکذبین خود عذاب سے دو چار ہونے والے ہیں دعوت کا راستہ دشوار گزار ہے اور طویل ہے اور اس پر صبر ہی کرنا طریقہ دعوت ہے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ فیصلہ اسی نے کرنا ہوتا ہے۔
Ayah 52:48

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اے نبی اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو ، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو ،

واصبرالحکم ربک (25 : 84) ” آپ اپنے رب کے فیصلے تک صبر کریں “ لیکن صبر کے حکم کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک زبانی اعزاز بھی دیا جاتا ہے۔ اللہ کی عنایت کے لئے آپ مستحق قرار پاتے ہیں۔ آپ کو ایسی محبت دی جاتی ہے کہ اس دست محبت سے آپ کے تمام الم اور تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور یہ فرمایا جاتا ہے کہ مشکلات پر صبر اللہ کے نزدیک بہت ہی محبوب اور پسندیدہ امر ہے اور یہی اس اعزاز کا ذریعہ اور نسبت ہے۔ واصبر لحکم ربک فانک باعیننا (25 : 84) ” اے نبی اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو ، تم ہماری نگاہ میں ہو “ کیا ہی خوبصورت تعبیر ہے اور کیا ہی بہترین تصویر ہے اور کس قدر بڑا اعزاز ہے۔ یہ وہ مقام اعزاز ہے جس تک کوئی انسان نہیں پہنچ سکا۔ پورے قرآن میں اس مقام کو اس قدر خوبصورت انداز میں نہیں دکھایا گیا یہاں تک کہ دوسرے نبیوں کے لئے ایسی ہی ہدایات کے موقع پر بھی کوئی ایسی خوبصورت تعبیر نہیں ہے۔
Ayah 52:49

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اس وقت بھی۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا گیا : وانا ........ یوحیٰ ” اور میں نے آپ کو چن لیا ہے لہٰذا جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اسے سنو “ اور یہ بھی کہا گیا تھا۔ والقیت ........ عینی ” اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبت ڈال دی تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے ہو۔ “ اور دوسری جگہ کہا گیا۔ واصطنعتک لنفسی ” میں نے تجھے اپنے لئے بنایا ہے “ یہ سب تعبیرات بتائی ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ نہایت ہی بلند تھا لیکن اس کے مقابلے میں حضور اکرم کے لئے جو الفاظ استعمال ہوئے وہ یہ ہیں : فانک باعیننا (25 : 84) ” تم ہماری نگاہ میں ہو ” یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں خصوصی اعزاز نظر آتا ہے۔ خصوصی محبت نظر آتی ہے۔ اس میں ایسے رنگ ہیں جو نہایت ہی لطیف اور حسین ہیں۔ انسان ایسی تعبیرات پیش کرنے سے عاجز ہے۔ ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ہم ان رنگوں میں زندگی بسر کریں اور صرف اس طرف اشارہ کردیں۔ اس محبت کے ساتھ دائمی ربط کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ وسبح ........ النجوم (25 : 94) ” تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو ، رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اس وقت بھی۔ “ رات دن ، سونے سے اٹھتے وقت ، رات کے وقت اور صبح کو جب ستارے ڈوب جاتے ہیں۔ یہ وہ اوقات ہیں جن میں اس محبت کے تعلق سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اللہ کی تسبیح ایک زاد راہ ہے۔ محبت الٰہی ہے اور دلوں کی مناجات ہے پھر محبت کرنے والے دل سے ہو تو اس کے کیا کہنے ؟