54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

پاس آ لگی قیامت اور پھٹ گیا چاند12

12 ہجرت سے پیشتر نبی کریم ﷺ " منیٰ " میں تشریف فرما تھے کفار کا مجمع تھا، انہوں نے آپ ﷺ سے کوئی نشانی طلب کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا آسمان کی طرف دیکھو۔ ناگاہ چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ان میں سے مغرب کی طرف اور دوسرا مشرق کی طرف چلا گیا۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر وہ دیکھیں کوئی نشانی تو ٹلا جائیں اور کہیں یہ جادو ہے پہلے سے چلا آتا13

13 یعنی اس طرح کے جادو مدعیان نبوت نے پہلے بھی کیے ہیں، پھر جس طرح وہ جاتے رہے یہ بھی جاتا رہے گا۔
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور جھٹلایا اور چلے اپنی خوشی پر اور ہر کام ٹھہرا رکھا ہے وقت پر1

1 یعنی ان کا عذاب بھی اپنے وقت پر آئے گا۔ اور اللہ کے علم میں ان کی گمراہی اور ہلاکت ٹھہر چکی ہے وہ کسی صورت سے ٹلنے والی نہیں۔
Ayah 54:4

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور پہنچ چکے ہیں ان کے پاس احوال جن میں ڈانٹ ہوسکتی ہے2

2 یعنی قرآن کے ذریعہ سے ہر قسم کے احوال اور تباہ شدہ قوموں کے واقعات معلوم کرائے جا چکے ہیں جن میں اگر غور کریں تو خداوند قہار کی طرف سے بڑی ڈانٹ ہے۔
Ayahs 54:5–6

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

پوری عقل کی بات ہے پھر ان میں کام نہیں کرتے ڈر سنانے والے

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

سو تو ہٹ آ ان کی طرف سے3 جس دن پکارے پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف4

3 یعنی قرآن کریم پوری حکمت اور عقل کی باتوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی ذرا نیک نیتی سے توجہ کرے تو دل میں اترتی چلی جائیں مگر افسوس اتنے سامان ہدایت کی موجودگی میں اس پر کچھ اثر نہیں۔ کوئی نصیحت و فہمائش وہاں کام نہیں دیتی۔ کتنا ہی سمجھاؤ پتھر پر جونک نہیں لگتی۔ لہذا ایسے سنگدل بدبختوں کو آپ ﷺ بھی منہ نہ لگائیے۔ آپ فرض تبلیغ و دعوت باحسن اسلوب ادا کرچکے۔ اب زیادہ تعاقب کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کو ان کے ٹھکانے کی طرف چلنے دیں۔ 4 یعنی میدان حشر کی طرف حساب دینے کو۔
Ayah 54:7

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

آنکھیں جھکائے5 نکل پڑے قبروں سے جیسے ٹڈی پھیلی ہوئی

5 یعنی اس وقت خوف وہیبت کے مارے ذلت و ندامت کے ساتھ آنکھیں جھکائے ہوں گے۔
Ayah 54:8

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

دوڑتے جائیں اس پکارنے والے کے پاس6 کہتے جائیں منکر یہ دن مشکل آیا7

6 یعنی تمام اگلے پچھلے قبروں سے نکل کر ٹڈی دَل کی طرح پھیل پڑیں گے۔ اور خداوند قدوس کی عدالت میں حاضری دینے کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوں گے۔ 7 یعنی اس دن کے ہولناک احوال وشدائد اور اپنے جرائم کا تصور کر کے کہیں گے کہ یہ دن بڑا سخت آیا ہے دیکھئے آج کیا گزرے گی آگے بتلاتے ہیں کہ قیامت اور آخرت کا عذاب تو اپنے وقت پر آئے گا بہت سے مکذبین کیلئے اسے پہلے دنیا ہی میں ایک سخت دن آچکا ہے۔
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

جھٹلا چکی ہے ان سے پہلے نوح کی قوم پھر جھوٹا کہا ہمارے بندہ کو اور بولے دیوانہ ہے اور جھڑک لیا اس کو8

8 کہنے لگے اے نوح ! اگر تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو تم کو سنگسار کردیا جائے گا۔ گویا دھمکیوں ہی میں اس کی بات رلادی۔ اور بعض نے " وازدجر " کے معنی یوں کیے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے آسیب زدہ۔ جن اس کی عقل لے اڑے ہیں۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 54:10

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

پھر پکارا اپنے رب کو کہ میں عاجز ہوگیا ہوں تو بدلہ لے9

9 یعنی سینکڑوں برس سمجھانے پر بھی جب کوئی نہ پسیجا تو بددعا کی، اور کہا اے پروردگا ! میں ان سے عاجز آچکا ہوں۔ ہدایت و فہمائش کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ اب آپ اپنے دین اور پیغمبر کا بدلہ لیجیے اور زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑیے۔
Ayahs 54:11–12

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پھر ہم نے کھول دئیے دہانے آسمان کے پانی ٹوٹ کر برسنے والے سے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور بہا دئیے زمین سے چشمے پھر مل گیا سب پانی ایک کام پر جو ٹھہر چکا تھا10

10 یعنی پانی اس قدر ٹوٹ کر برسا، گویا آسمان کے دہانے کھل گئے اور نیچے سے زمین کے پردے پھٹ پڑے۔ اتنا پانی ابلا گویا ساری زمین چشموں کا مجموعہ بن کر رہ گئی۔ پھر اوپر اور نیچے کا یہ سب پانی مل کر اس کام کے لیے اکٹھا ہوگیا۔ جو پہلے سے اللہ کے ہاں ٹھہر چکا۔ یعنی قوم نوح کی ہلاکت اور غرقابی۔
Ayahs 54:13–14

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو سوار کردیا ایک تختوں اور کیلوں والی پر

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

بہتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے11 بدلہ لینے کو اس کی طرف سے جس کی قدر نہ جانی تھی12

11 یعنی اس ہولناک طوفان کے وقت نوح کی کشتی ہماری حفاظت اور نگرانی میں نہایت امن چین سے چلی جا رہی تھی۔ 12 یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےقدری کی اور اللہ کی باتوں کا انکار کیا، یہ اس کی سزا ملی۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور اس کو ہم نے رہنے دیا نشانی کے لیے، پھر کوئی ہے سوچنے والاف 13

13 یعنی سوچنے والوں کے لیے اس واقعہ میں عبرت کی نشانیاں ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ آج کشتی کا وجود دنیا میں اس کشتی کے قصہ کو یاد دلانے والا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا نشان ہے۔ اور بعض نے کہا کہ بعینہ وہ ہی کشتی نوح کے بعد مدت تک رہی۔ " جودی " پہاڑ پر نظر آتی تھی۔ اس امت کے لوگوں نے بھی دیکھی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پھر کیسا تھا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا14

14 یعنی دیکھ لیا۔ میرا عذاب کیسا ہولناک اور میرا ڈرانا کس قدر سچا ہے۔
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والاف 15

15 یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا بالکل آسان ہے کیونکہ جو مضامین ترغیب و ترہیب اور انداز وتبشیر سے متعلق ہیں وہ بالکل صاف، سہل اور موثر ہیں۔ پر کوئی سوچنے سمجھنے کا ارادہ کرے تو سمجھے۔ (تنبیہ) آیت کا یہ مطلب نہیں قرآن محض ایک سطحی کتاب ہے جس کے اندر کوئی دقائق و غوامض نہیں۔ اس علیم وخبیر کے کلام کی نسبت ایسا گمان کیونکر کیا جاسکتا ہے۔ کیا یہ فرض کرلیا جائے کہ جب اللہ بندوں سے کلام کرتا ہے تو معاذ اللہ اپنے غیر متناہی علوم سے کو را ہوجاتا ہے ؟ یقینا اس کے کلام میں وہ گہرے حقائق اور باریکیاں ہوں گی جن کا کسی دوسرے کلام میں تلاش کرنا بیکار ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے " لا تنقضی عَجَآئِبَہ،" (قرآن کے عجائب و اسرار کبھی ختم ہونے والے نہیں) علمائے امت اور حکمائے ملت نے اس کتاب کے دقائق و اسرار کا پتہ لگانے اور ہزارہا احکام مستنبط کرنے میں عمریں صرف کردیں، تب بھی اس کی آخری تہ تک نہیں پہنچ سکے۔
Ayahs 54:18–19

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

جھٹلایا عاد نے پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے بھیجی ان پر ہوا تند ایک نحوست کے دن جو چلے گئی1

1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی نحوست نہ اٹھی جب تک تمام نہ ہوچکے۔ اور یہ نحوست کا دن ان ہی کے حق میں تھا، یہ نہیں کہ ہمیشہ کو وہ دن منحوس سمجھ لیے جائیں جیسا کہ جاہلوں میں مشہور ہے۔ اور اگر وہ دن عذاب آنے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے منحوس بن گیا ہے۔ تو مبارک دن کون سا رہے گا۔ قرآن کریم میں تصریح ہے کہ وہ عذاب سات رات اور آٹھ دن برابر رہا۔ بتلائیے اب ہفتہ کے دنوں میں کون سا دن نحوست سے خالی رہے گا۔
Ayah 54:20

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

اکھاڑ مارا لوگوں کو گویا وہ جڑیں ہیں کھجور کی اکھڑی پڑی2

2 " قوم عاد " کے لوگ بڑے تنو مند اور قد آور تھے، لیکن ہوا کا جھکڑ ان کو اٹھا کر اس طرح زمین پر پٹکتا تھا جیسے کھجور کا تنہ جڑ سے اکھاڑ کر زمین پر پھینک دیا جائے۔
Ayahs 54:21–23

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

جھٹلایا ثمود نے ڈر سنانے والوں کو3

3 یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اور ایک نبی کا جھٹلانا سب کا جھٹلانا ہے۔ کیونکہ اصول دین میں سب ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 54:24

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگے کیا ایک آدمی ہم میں کا اکیلا ہم اس کے کہے پر چلیں گے تو ہم غلطی میں پڑے اور سودا میں4

4 یعنی کوئی آسمان کا فرشتہ نہیں، بلکہ ہم ہی جیسا ایک آدمی اور وہ بھی اکیلا جس کے ساتھ کوئی قوت اور جتھا نہیں، چاہتا ہے کہ ہمیں دبا لے اور سب کو اپنا تابع بنالے۔ یہ کبھی نہ ہوگا۔ اگر ہم اس پھندے میں پھنس جائیں تو ہماری بڑی غلطی اور حماقت بلکہ جنون ہوگا۔ وہ تو ہم کو ڈراتا ہے کہ مجھے نہ مانو گے تو آگ میں گرو گے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ہم اس کے تابع ہوجائیں تو گویا خود اپنے کو آگ میں گرا رہے ہیں۔
Ayah 54:25

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا اتری اسی پر نصیحت ہم سب میں سے کوئی نہیں یہ جھوٹا ہے بڑائی مارتا ہے5

5 یعنی پیغمبری کے لیے بس یہی رہ گیا تھا ؟ سب جھوٹ ہے۔ خواہ مخواہ بڑائی مارتا ہے کہ خدا نے مجھے اپنا رسول بنادیا۔ اور ساری قوم کو میری اطاعت کا حکم دیا ہے۔
Ayah 54:26

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

اب جان لیں گے کل کو کون ہے جھوٹا بڑائی مارنے والاف 6

6 یعنی بہت جلد معلوم ہوا چاہتا ہے کہ دونوں فریق میں جھوٹا اور بڑائی مارنے والا کون ہے۔
Ayah 54:27

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

ہم بھیجتے ہیں اونٹنی ان کے جانچنے کے واسطے7 سو انتظار کر ان کا اور سہتارہ8

7 یعنی ان کی فرمائش کے موافق ہم پتھر سے اونٹنی نکال کر بھیجتے ہیں۔ اس کے ذریعہ سے جانچا جائے گا کہ کون اللہ و رسول کی بات مانتا ہے اور کون نفس کی خواہش پر چلتا ہے۔ 8 یعنی دیکھتا رہ، کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
Ayah 54:28

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور سنا دے ان کو کہ پانی کا بانٹا ہے ان میں ہر باری پر پہنچنا چاہیے9

9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " وہ اونٹنی جس پانی پر جاتی سب جانور بھاگتے، تو اللہ نے باری ٹھہرا دی۔ ایک دن وہ جائے، اور ایک دن سب جانور۔ "
Ayah 54:29

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

پھر پکارا انہوں نے اپنے رفیق کو پھر ہاتھ چلایا اور کاٹ ڈالا10

10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ایک بدکار عورت تھی اس کے مویشی بہت تھے اپنے ایک آشنا کو اکسادیا۔ اس نے اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔
Ayahs 54:30–31

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے بھیجی ان پر ایک چنگھاڑ پھر رہ گئے جیسے روندی ہوئی باڑ کانٹوں کی11

11 فرشتے نے ایک چیخ ماری، کلیجے پھٹ گئے۔ اور سب چورا ہو کر رہ گئے۔ جیسے کھیت کے گرد کانٹوں کی باڑ لگا دیتے ہیں۔ اور چند روز کے بعد پائمال ہو کر اس کا چورا ہوجاتا ہے۔
Ayahs 54:32–33

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

جھٹلایا لوط کی قوم نے ڈر سنانے والوں کو12

12 یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایک نبی کی تکذیب سب انبیاء کی تکذیب ہے۔
Ayahs 54:34–35

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

ہم نے بھیجی ان پر آندھی پتھر برسانے والی سوائے لوط کے گھر کے، ان کو ہم نے بچا دیا پچھلی رات سے،

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

فضل سے اپنی طرف کے ہم یوں بدلہ دیتے ہیں اس کو جو حق مانے1

1 یعنی وہ پچھلی رات میں اپنے گھر والوں کو لے کر صاف نکل گئے۔ ان کو ہم نے عذاب کی ذرا بھی آنچ نہ لگنے دی۔ اور یہ ہی ہماری عادت ہے۔ حق شناس اور شکر گزار بندوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
Ayah 54:36

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور وہ ڈرا چکا تھا ان کو ہماری پکڑ سے پھر لگے مکرانے ڈرانے کو2

2 یعنی اس کی باتوں میں واہی تباہی شبہ اور جھگڑے کھڑے کر کے جھٹلانے لگے۔
Ayah 54:37

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور اس سے لینے لگے اس کے مہمانوں کو پس ہم نے مٹا دیں ان کی آنکھیں اب چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا3

3 یعنی فرشتے جو حسین لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ ان کو آدمی سمجھ کر اپنی خوئے بد کی وجہ سے قبضانا چاہا۔ ہم نے ان کو اندھا کردیا کہ ادھر ادھر دھکے کھاتے پھرتے تھے۔ کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اور کہا لو ! پہلے اس عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayahs 54:38–39

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور پڑا ان پر صبح کو سویرے عذاب جو ٹھہر چکا تھا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

اب چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا4

4 یعنی اندھا کرنے کے بعد ان کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ اور اوپر سے پتھر برسائے گئے۔ اس چھوٹے عذاب کے بعد یہ بڑا عذاب تھا۔