54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

قیامت قریب آگئی چاند پھٹ گیا، منکرین کی جاہلانہ بات اور ان کی تردید ان آیات میں انشقاق قمر یعنی چاند کے پھٹنے کا اور اہل مکہ کے عناد اور انکار کا تذکرہ فرمایا ہے رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یہ بتایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو بہت سے معجزات ظاہر ہوئے ان میں وہ معجزات بھی تھے جنہیں اہل مکہ نے خود طلب کیا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ انہیں کوئی نشانی یعنی معجزہ دکھادیں لہٰذا آپ نے انہیں چاند کا پھٹنا دکھادیا۔ (صحیح بخاری صفحہ 22: ج 2) دوسری روایت میں یوں ہے جو حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ پر اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے نیچے آگیا آپ نے فرمایا کہ حاضر ہوجاؤ۔ (صحیح بخاری صفحہ 21: ج 2) سنن ترمذی (فی تفسیر سورة القمر) میں ہے کہ مکہ معظمہ میں چاند کے پھٹنے کا واقعہ پیش آیا جس پر سورة قمر کی شروع کی دو آیتیں نازل ہوئیں۔ تفسیر معالم التنزیل (صفحہ 258: ج 4) میں ہے کہ اس وقت تو قریش مکہ نے یہ کہہ دیا کہ ہم پر جادو کردیا ہے پھر جب باہر سے آنے والے مسافروں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ہم نے چاند کے دو ٹکڑے دیکھے اس پر آیت کریمہ ﴿اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ 001 ﴾ نازل ہوگئی، سنن ترمذی میں ہے کہ جب مسافروں سے تصدیق ہوگئی تو ان میں سے بعض مشرکین نے کہا کہ اگر ہم پر جادو کردیا ہے تو سارے لوگوں پر تو جادو نہیں کردیا۔ بہرحال چاند پھٹا حاضرین نے دیکھا مسافروں کو بھی پھٹا ہوا نظر آیا اور جو چیز انسانوں کے خیال میں نہ ہونے والی تھی وہ وجود میں آگئی اس سے قیامت کا وقوع سمجھ میں آجانا چاہیے۔
Ayahs 54:2–5

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور یہ لوگ اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہو جانیوالا ہے

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کا اتباع کیا اور ہر بات قرار پانیوالی ہے،

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور بلاشبہ ان کے پاس ایسی خبریں آئی ہیں جن میں باز آنے کیلئے عبرت ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

یعنی اعلیٰ درجے کی حکمت ہے، سوڈرانے والی چیزیں ان کو کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہیں۔

﴿وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ002﴾ منکرین کا یہ طریقہ ہے کہ جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں۔ حق کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے۔ جس کا اثر دیرپا نہیں ہے عنقریب ہی ختم ہوجائے گا۔ ﴿ وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ ﴾ (اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کا اتباع کیا) اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور ان کے نفسوں میں جو باطل نے جگہ پکڑ رکھی تھی اسی کو امام بنایا اور اسی کے پیچھے چلتے رہے اور انکار نبوت پر اصرار کرتے رہے۔ ﴿ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ003﴾ (اور ہر بات قرار پانے والی ہے) یعنی حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا متعین ہوجاتا ہے، اگر عناد یا کم فہمی کی وجہ سے اب نہیں سمجھے تو کچھ عرصہ بعد سمجھ میں آہی جائے گا کہ یہ سحر نہیں ہے۔ ﴿ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ003﴾ کی یہ ایک تفسیر ہے اور صاحب معالم التنزیل نے حضرت قتادہ سے اس کی تفسیریوں نقل کی ہے کہ خیراہل خیر کے ساتھ اور شر اہل شر کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، خیر اہل خیر کو لے کر جنت میں اور شراہل شر کو لے کر دوزخ میں ٹھہر جائے گا۔ اہل مکہ جو توحید اور رسالت کے منکر تھے ان کی مزید بدحالی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ﴿ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ﴾ (الایۃ) یعنی ان کے پاس پرانی امتوں کی ہلاکت اور بربادی کی خبریں آچکی ہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں ان خبروں میں عبرت ہے موعظت اور نصیحت ہے، یہ چیزیں غافل کو جھڑکنے والی اور چوکنا رکھنے والی ہیں جو سراپا حکمت کی باتیں ہیں اور زجرو توبیخ میں کامل ہیں لیکن یہ لوگ متاثر نہیں ہوتے، کفر و شرک سے باز نہیں آتے جو سنتے ہیں سب ان سنی کردیتے ہیں ڈرانے والی چیزیں انہیں کچھ نفع نہیں دیتی ہیں۔ كما قال تعالیٰ فی سورة یونس ﴿ وَ مَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ 00101﴾ اور آیت اور ڈرانے والی چیزیں ان لوگوں کو فائدہ نہیں دیتی ہیں جو ایمان لانے والے نہیں ہیں) ۔ معجزہ شق القمر کا واقعہ صحیح بخاری اور دیگر کتب حدیث میں صحیح اسانید کے ساتھ ماثور اور مروی ہے، دشمنان اسلام کو محض دشمنی کی وجہ سے اسلامی روایات کے جھٹلانے اور تردید کرنے کی عادت رہی ہے، انہوں نے معجزہ شق القمر کے واقع ہونے پر بھی اعتراض کردیا ان لوگوں کا کہنا ہے کہ چاند پورے عالم پر طلوع ہونے والی چیز ہے اگر ایسا ہوا ہوتا تو دنیا کی تاریخوں میں اس کا تذکرہ ہونا ضروری تھا۔ یہ ان لوگوں کی جہالت کی بات ہے۔ اول تو اس زمانہ میں کتابیں لکھنے والے ہی کہاں تھے۔ تصنیف اور تالیف کا دور نہیں تھا پھر اگر کسی نے کوئی چیز لکھی ہو تو قرنوں گزر جانے تک اس کا محفوظ رہنا ضروری نہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ پریس اور کمپیوٹر بلکہ کاغذ کی کثرت کا زمانہ بھی نہ تھا۔ اس سے بڑھ کر دوسری بات یہ ہے کہ چاند ہر وقت پورے عالم پر طلوع نہیں ہوتا کہیں دن رہتا ہے کہیں رات ہوتی ہے، چاند شق ہونے کے وقت جہاں کہیں دن تھا وہاں تو اس کے نظر آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ دیکھو عرب میں رات ہوتی ہے تو امریکہ میں دن ہوتا ہے اور امریکہ کا ظہور توشق القمر کے صدیوں کے بعد ہوا اسی طرح رات کے اوقات مختلف ہوتے ہیں کہیں اول رات ہوتی ہے کہیں درمیانی رات ہوتی ہے اور کہیں آخری شب ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ چاند مکہ معظمہ کے قریب منیٰ میں شق ہوا تھا یعنی وہاں کے لوگ دیکھ سکتے تھے لیکن بہت سے لوگ اپنے کاموں میں تھے بہت سے سو رہے تھے، بہت سے گھروں میں تھے، بہت سے دکانوں میں بیٹھے ہوئے تھے اور پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ دیکھو آج رات چاند پھٹے گا، ان حالات میں لوگوں کو باہر آنے او چاند پر نظر جمانے کی کوئی حاجت اور ضرورت نہ تھی، چاند پھٹا تھوڑی دیر میں دونوں ٹکڑے ایک جگہ ہوگئے جن لوگوں کو اس کا پھٹا ہوا دکھانا مقصود تھا ان لوگوں نے دیکھ لیا، اگر سارا عالم دیکھ لیتا یا کم از کم سارا عرب ہی دیکھ لیتا اور پھر تاریخ لکھنے والوں تک خبر پہنچ جاتی جس پر وہ یقین کرلیتے اور ان کی کتاب محفوظ رہ جاتی تو تاریخوں میں اس کا کوئی تذکرہ مل جاتا جنہوں نے پھٹا ہوا دیکھا تھا انہیں تو اس کا یقین نہیں آیا کہ چاند پھٹا ہے اس کو انہوں نے جادو بتایا اور مسافروں کے کہنے سے کسی نے مانا بھی تو اسے پی گیا، اگر تسلیم کرلیتے تو رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا پڑتا یہ انہیں گوارا نہ تھا، پھر کیوں وہ کتابیں لکھتے اور کیوں شہرت دیتے ؟ یہ ایک صاحب بصیرت کے سمجھنے کی بات ہے اگر کسی بھی تاریخ میں اس کا تذکرہ نہ ہو تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں پھر بھی معجزہ شق القمر کا تذکرہ تاریخ فرشتہ میں موجود ہے صاحب فیض الباری صفحہ 60: ج 4 میں فرماتے ہیں : (وقد شاھد ملک بھوپال من الھنداسمہ بھوج پال ذکرہ الفرشتة فی تاریخہ ) دیكھئے سورج تو چاند سے بہت بڑا ہے لیکن ہر وقت پورے عالم میں وہ طلوع نہیں ہوتا کہیں رات ہوتی ہے کہیں دن ہوتا ہے اس کے گرہن ہونے کی خبریں بھی چھپتی رہتی ہیں کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت فلاں ملک میں گرہن ہوگا بیک وقت پورے عالم میں گرہن نہیں ہوتا اور جہاں کہیں گرہن ہوتا ہے وہاں بھی ہزاروں آدمیوں کو خبر نہیں ہوتی کہ گرہن ہوا تھا پہلے سے اخبارات میں اطلاع دیدی جاتی ہے اس پر بھی سب کو علم نہیں ہوتا، اگر کسی سے پوچھو کہ تمہارے علاقہ میں کب گرہن ہوا اور کتنی بار ہوا تو پڑھے لکھے لوگ بھی نہیں بتاسکتے اور وہ کون سی تاریخ کی کتاب ہے جن میں تاریخ اور سورج گرہن ہونے کے واقعات لکھے ہوں، جب آفتاب کے گرہن کے بارے میں زمین پر بسنے والوں کا یہ حال ہے جو بار ہا ہوتا رہتا ہے تو چاند کا پھٹنا جو ایک ہی بار ہوا اور عرب میں ہوا اور عشاء کے وقت ہوا اور ذرا سی دیر کو ہوا اور اسی وقت پھٹ کر دونوں ٹکڑے مل گئے اور یہ دنیا کی تاریخوں میں نہیں آیا تو یہ کونسی ایسی بات ہے جو سمجھ سے بالاتر ہو۔ بعض لوگوں نے خواہ مخواہ دشمنوں سے مرعوب ہوکر معجزہ شق القمر کا انکار کیا ہے اور یوں کہتے ہیں کہ اس سے قیامت کے دن واقع ہونے والا شق القمر مراد ہے آیت کریمہ میں جو لفظ ﴿ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ ﴾ فرمایا ہے۔ یہ ماضی کا صیغہ ہے تاویل کرکے اس کو خواہ مخواہ مستقبل کے معنی میں لینا بےجا تاویل ہے اور اتباع ھویٰ ہے پھر اگر آیت قرآنیہ میں تاویل کرلی جائے تو احادیث شریفہ جو صحیح اسانید سے مروی ہیں ان میں تو تاویل کی کوئی گنجائش ہے ہی نہیں۔ جس ذات پاک جلّت قدرتہ کی مشیت اور ارادہ سے نفخ صورسبب شق القمر ہوسکتا ہے۔ اسی کی قدرت اور اذن سے قیامت سے پہلے بھی شق ہوسکتا ہے۔ اس میں کیا بعد ہے جو خواہ مخواہ تاویل کی جائے۔
Ayahs 54:6–8

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

سو آپ ان سے اعراض کیجئے جس دن بلانے والا ایسی چیز کی طرف بلائے گا جو ناگوار ہوگی،

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

انکی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، قبروں سے نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈیاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں،

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

بلانے والے کی طرف دوڑتے ہوئے جا رہے ہوں گے، کافر لوگ کہیں گے کہ یہ بڑا سخت دن ہے۔

قیامت کے دن کی پریشانی، قبروں سے ٹڈی دل کی طرح نکل کر میدان حشر کی طرف جلدی جلدی روانہ ہونا ان آیات میں اول تو رسول اللہ تعالیٰ ﷺ کو بطور تسلی حکم فرمایا کہ آپ ان سے اعراض کریں یعنی ان کے انکار اور تکذیب سے دلگیر نہ ہوں (حق قبول نہ کرنے کا انجام خود ان کے سامنے آجائے گا) پھر فرمایا کہ جس دن بلانے والا بلائے گا یعنی فرشتہ صور پھونکے گا اس دن قیامت کا ظہور سامنے آجائے گا جو آنکھوں دیکھا ہوگا اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کے خبر دینے سے اس وقت نہیں مانتے لیکن جب واقع ہوگا تو ماننا ہی پڑے گا فرشتے کا صور پھونکنا قبروں سے نکلنے کے لیے ہوگا۔ (یہ دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے سے متعلق ہے) جب صور کی آواز سنیں گے تو زندہ ہو کر قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور بڑی تیزی کے ساتھ میدان حشر کی طرف روانہ ہوجائیں گے اور چونکہ کروڑوں افراد ہوں گے اس لیے زمین پر اس طرح پھیلے ہوئے ہوں گے جیسے ٹڈیوں کا دل نکلتا ہے اور جہاں تک نظر ڈالو پھیلا ہوا نظر آتا ہے، نظریں جھکی ہوئی ہوں گی۔ کافر لوگ کہیں گے کہ یہ تو بڑا سخت دن ہے، سورة معارج میں فرمایا ﴿يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَۙ0043 خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ1ؕ ذٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ (رح) 0044﴾ (جس دن قبروں سے جلدی جلدی نکل کر دوڑیں گے، گویا کہ وہ کسی پرستش گاہ کی طرف دوڑے جا رہے ہیں، ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا) ۔
Ayahs 54:9–14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا، سو انہوں نے ہمارے بندہ کو جھٹلایا اور کہنے لگے کہ یہ دیوانہ ہے، اور اسے جھڑک دیا گیا،

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

سو اس نے اپنے رب سے دعا کی بیشک میں مغلوب ہوں میری مدد فرمائیے،

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

سو ہم نے آسمان کے دروازے خوب زیادہ برسنے والے پانی سے کھول دیئے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں چشمے جاری کردیئے پھر پانی اس کام کیلئے مل گیا جس کا فیصلہ کردیا گیا تھا،

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ اس شخص کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جس کی ناقدری کی گئی،

سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی تکذیب، قوم کا عنادوانکار، پھر قوم کی ہلاکت اور تعذیب اہل مکہ کا انکار اور عناد بڑھتا جا رہا تھا انہیں گزشتہ اقوام کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب کے واقعات بتائے گئے۔ یہاں سیّدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عادو ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعات ذکر فرمائے ہیں اولاً سیّدنا نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ اہل مکہ سے پہلے ہمارے بندہ نوح (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان کی قوم نے انہیں دیوانہ بتایا اور ان کی بےادبی کرتے رہے قوم نے انہیں جھڑکا اور بےادبی کے ساتھ مقابلہ کیا (جس کی تفصیل سورة اعراف، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہے اور سورة نوح میں بھی آرہی ہے) ۔ (انشاء اللہ تعالیٰ ) حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے درمیان ساڑھے نو سو سال رہے انہیں توحید کی دعوت دی۔ حق پیش کیا بارہا سمجھایا۔ لیکن انہوں نے نہ مانا بلکہ الٹا انہیں کو گمراہی میں بتانے لگے۔ کمافی سورة الاعراف ﴿ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 0060﴾ ان لوگوں نے ضد پکڑ لی عناد پر اتر آئے اور کہنے لگے ﴿ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 0070﴾ کہ تم جو کچھ دھمکیاں دے رہے ہو عذاب کی باتیں کر رہے ہو اگر سچے ہو تو عذاب کو لے آؤ، ابھی سامنے کرکے دکھاؤ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کی حرکتوں سے بہت عاجز آچکے تھے بہت کم لوگ ان پر ایمان لائے سورة ہود میں ہے ﴿ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ0040﴾ ان لوگوں نے تو عذاب مانگا ہی تھا حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی ان کے لیے بددعا کردی۔ سورة المومنون میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ ﴿ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ 0026﴾ اور یہاں سورة قمر میں ہے کہ فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ 0010﴾ (سو انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوں سو میری مدد فرمائیے) اور سورة نوح میں ہے کہ انہوں نے دعا میں عرض کیا ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا 0026﴾ (اے میرے رب کافروں میں سے کسی کو بھی زمین پر چلتا پھرتا مت چھوڑ) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی انھیں حکم دیا کہ کشتی بناؤ اس کشتی کو یہاں سورة القمر میں ﴿ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ0013﴾ سے تعبیر فرمایا ہے یعنی تختوں سے بنی ہوئی چیز جس میں میخیں یعنی کیلیں لگی ہوئی تھیں۔ جب یہ کشتی تیار ہوگئی تو ارشاد فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو اور دیگر اہل ایمان کو اس میں سوار کرلو، جب یہ حضرات سوار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے پانی کا طوفان بھیج دیا آسمان سے بھی پانی برسا اور خوب برسا اور زمین سے بھی چشمے جاری ہوئے دونوں پانی آپس میں مل گئے اور جو فیصلہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قضاو قدر میں لکھا ہوا تھا اسی کے مطابق ان لوگوں کی ہلاکت و بربادی ہوگئی، کشتی پانی میں بہتی رہی اللہ تعالیٰ نے اپنی نگرانی میں اسکو جاری رکھا اور جو لوگ ان میں سوار تھے ان کی حفاظت فرمائی اور کافروں کو ڈبو دیا، چونکہ ان لوگوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بہت ستایا تھا اور ان کی ناقدری کی تھی اس لیے فرمایا ﴿ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ 0014﴾ (ان لوگوں کی غرقابی اس شخص کا بدلہ لینے کے لیے تھی جس کی ناقدری کی گئی) ۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے اس واقعہ کو عبرت بناکر چھوڑ دیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنیوالا،

کافروں کی غرقابی کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0015﴾ (اور بلاشبہ ہم نے اس واقعہ کو عبرت بنا کر چھوڑ دیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا) ۔
Ayah 54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا،

﴿فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ 0016﴾ (سو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا) مطلب یہ ہے کہ امم سابقہ کے واقعات محض حکایت کے لیے نہیں ہیں ان سے عبرت حاصل کرنا لازم ہے پرانی امتوں کی جو ہلاکت ہوئی وہ یوں ہی ذرا بہت تھوری سی تکلیف نہیں تھی وہ تو بہت بڑا عذاب تھا پڑھنے اور سننے والے سوچیں اور غور کریں اس بھیانک عذاب کی سختی اور ہولناکی کو ذہن میں لائیں اور ساتھ ہی یہ بھی غور کریں کہ اگر ہم برابر انکار کرتے رہیں اور اللہ کے رسول اور اس کتاب کے جھٹلانے پر کمر باندھے رہیں تو ہمارا بھی ایسا ہی انجام ہوسکتا ہے۔
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور البتہ یہ یقینی بات ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے آسان کردیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کو آسان فرما دینا : ﴿ وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0017﴾ یہ آیت کریمہ سورة القمر میں چار جگہ ہے پہلی بار حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد فرمائی ہے نیز قوم عاد اور قوم ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے ذکر کے بعد بھی مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ذکر کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی شخص نصیحت حاصل کرنے والا ہے، اس میں قرآن کریم کی تسہیل اور تیسیر کا بھی ذکر ہے اور دعوت فکر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو سہل کردیا تو بندوں پر لازم ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کریں، ذکر و فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ﴿ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0017﴾ (سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے) ھذہ الکلمة اصلھا مذتکر من الافتعال ابدلت التاء والذال کلتا ھما ثم ادغم بعضھا فی بعض کما فی سورة یوسف (علیہ السلام) وادکر بعد امةٍ ۔ لفظ للذِّكْرِ میں نصیحت حاصل کرنا عبرت لینا سب کچھ داخل ہے اور معالم التنزیل میں حضرت سعید بن جبیر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے حفظ اور قرات مراد ہے (قرآن کا پڑھنا اور حفظ کرنا بھی آسان ہے اور اس کے معانی اور مضامین اور احکام کا سمجھنا بھی سہل ہے) ، رہے وجوہ استنباط تو ان کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا، اور قرآن میں یہ ہے بھی نہیں کہ سارے قرآن کو من کل الوجوہ ہر شخص کے لیے آسان کردیا ہے بہت سے وہ لوگ جو آیت شریفہ کو سامنے رکھ کر قرآن کریم کا مطلب اپنے پاس سے تجویز کرتے ہیں اور سلف صالحین کے خلاف تفسیر کرتے ہیں جبکہ عربی لغات اور قواعد عربیہ کو بھی نہیں جانتے ہیں ایسے لوگ شدید گمراہی میں ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسہیل اور تیسیر ہے کہ اس نے پورے قرآن کو مومن بندں کے سینوں میں بالفاظہ و حروفہ محفوظ فرما دیا، اگر بالفرض خدانخواستہ سارے مصاحف ختم ہوجائیں تو قرآن مجید پھر بھی محفوظ رہے گا ایک نو عمر حافظ بچہ کھڑے ہو کر پورا قرآن مجید لکھوا سکتا ہے، اہل کتاب نے لکھے ہوئے صحیفوں پر بھروسہ کیا اس لیے اپنی کتاب ضائع کردی، اب ان کے پاس ترجمے ہی ترجمے ہیں، کتابیں نہیں ہیں جن سے ترجموں کا میلان کیا جاسکے۔ قرآن کا اعجاز اور لوگوں کا تغافل قرآن مجید کا ایک یہ معجزہ ہے جو سب کے سامنے ہے کہ اسے عورتیں، بوڑھے بچے، جوان سب ہی حفظ کرلیتے ہیں۔ اتنی بڑی کتاب کوئی بھی شخص اپنی زبان کی لفظ بہ لفظ اور حرف بہ حرف یاد نہیں کرسکتا۔ دنیا اور دنیا کی محبت نے ایسے لوگوں کو قرآن سے اور اس کے حفظ کرنے سے اس کی تجوید اور قرات سے محروم کردیا جو خود بھی آخرت سے بےفکر ہیں اور بچوں کو بھی طالب دنیا بنا کر ان کا ناس کھوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ عموماً مسلمانوں میں نسلی مسلمان رہ گئے۔ یعنی ان کے باپ دادا مسلمان تھے یہ بھی ان کے گھروں میں پیدا ہوگئے، اسلام کو اس کے تقاضوں کے ساتھ نہ پڑھا نہ سمجھا، جیسے خود ہیں ویسے ہی اولاد کو بنانا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اصلی مسلمان ہیں وہ لوگ قرآن کو سینہ سے لگاتے ہیں، حفظ کرتے ہیں، تجوید سے پڑھتے ہیں، بچوں کو بھی حفظ کرواتے ہیں اس کے معانی بتاتے ہیں، عالم بناتے ہیں، علماء کی صحبتوں میں لے جاتے ہیں۔ مسلمانو ! اپنے بچوں کو حفظ میں لگاؤ یہ بہت آسان کام ہے۔ جاہلوں نے مشہور کردیا ہے کہ قرآن حفظ کرنا لوہے کے چنے چبانے کے برابر ہے، یہ بالکل جاہلانہ بات ہے۔ قرآن حافظہ سے یاد نہیں ہوتا معجزہ ہونے کی وجہ سے یاد ہوتا ہے۔ بہت سے جاہل کہتے ہیں کہ طوطے کی طرح رٹانے سے کیا فائدہ ؟ یہ لوگ روپے پیسے کو فائدہ سمجھتے ہیں ہر حرف پر دس نیکیاں ملنا اور آخرت میں ماں باپ کو تاج پہنایا جانا اور قرآن پڑھنے والے کا اپنے گھر کے لوگوں کی سفارش کرکے دوزخ سے بچوا دینا فائدہ میں شمار ہی نہیں کرتے کہتے ہیں کہ حفظ کرکے ملا بنے گا تو کہاں سے کھائے گا، میں کہتا ہوں کہ حفظ کرلینے کے بعد تجارت اور ملازمت سے کون روکتا ہے، ملا بننا تو بہت بڑی سعادت ہے جسے اپنے لیے یہ سعادت مطلوب نہیں وہ اپنے بچے کو تو حفظ قرآن سے محروم نہ کرے جب حفظ کرلے تو اسے دنیا کے کسی بھی حلال مشغلے میں لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم کی برکات : ہم نے تجربہ کیا ہے کہ دنیا کے کام کاج کرتے ہوئے اور سکول، کالج میں پڑھتے ہوئے بہت سے بچوں نے قرآن شریف حفظ کرلیا۔ بہت لوگوں نے سفید بال ہونے کے بعد حفظ کرنا شروع کیا اللہ جل شانہ، نے ان کو بھی کامیابی عطا کی، جو بچہ حفظ کرلیتا ہے اس کی قوت حافظہ اور سمجھ میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ آئندہ جو تعلیم بھی حاصل کرے ہمیشہ اپنے ساتھیوں سے آگے رہتا ہے، قرآن کی برکت سے انسان دنیا و آخرت میں ترقی کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ لوگوں نے قرآن کو سمجھا ہی نہیں کوئی قرآن کی طرف بڑھے تو قرآن کی برکات کا پتہ چلے۔ قرآن کو بھول جانے کا وبال : جس طرح قرآن کو یاد کرنا ضروری ہے اسی طرح اس کا یاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کو یاد رکھنے کا دھیان رکھو (یعنی نماز میں اور خارج نماز اس کی تلاوت کرتے رہو) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو اونٹ رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں جس طرح وہ اپنی رسیوں میں بھاگنے کی کوشش میں رہتے ہیں قرآن ان سے بڑھ کر تیزی کے ساتھ نکل کر چلا جانے والا ہے۔ “ (رواہ البخاری و مسلم، مشکوۃ المصابیح صفحہ 190) بات یہ ہے کہ قرآن جس طرح جلدی یاد ہوجاتا ہے اور محبت کرنے والوں کے دل میں سما جاتا ہے اسی طرح وہ یاد رکھنے کا دھیان نہ کرنے والوں کے سینوں سے چلا جاتا ہے کیونکہ وہ غیرت مند ہے جس شخص کو اس کی حاجت نہیں ہے جب وہ یاد رکھنے کی کوشش نہ کرے تو قرآن کیوں اس کے پاس رہے، جبکہ وہ بےنیاز ہے۔ قرآن پڑھ کر بھول جانے والے کے لیے سخت وعید ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ : ” جو شخص قرآن پڑھتا ہے، پھر بھول جاتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ جذامی ہوگا “ (یعنی اس کے اعضاء اور دانت گرے ہوئے ہوں گے) ۔ (رواہ ابوداود والدارمی، مشکوٰۃ المصابیح ص 191) ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھ پر میری امت کے ثواب کے کام پیش کیے گئے تو میں نے ثواب کے کاموں میں یہ بھی دیکھا کہ مسجد میں کوئی تکلیف دینے والی چیز پڑی ہو اور کوئی شخص اسے نکال دے اور مجھ پر میری امت کے گناہ بھی پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑھ کر گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو کوئی سورت یا آیت عطا کی گئی ہو پھر وہ اس کو بھول جائے۔ “ (رواہ الترمذی و ابوداؤد، مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 69) بچوں کو قرآن کی تعلیم پر لگانے والے دنیا کے چند دن چہک مہک نہیں دیکھتے بلکہ اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے آخرت کی کامیابی اور وہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کے لیے فکر مند ہوتے ہیں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا 0019﴾
Ayahs 54:18–22

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

جھٹلایا قوم عاد نے سو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا،

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر سخت ہوا بھیج دی ایسے دن میں جو نحوست والا تھا، دیر تک رہنے والا تھا

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ ہوا لوگوں کو اکھاڑ کر پھینک رہی تھی گویا کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں،

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

سوکیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا،

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کیلئے آسان کردیا، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔

قوم عاد کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب ان آیات میں قوم عاد کی تکذیب اور تعذیب کا ذکر ہے انکی طرف اللہ تعالیٰ شانہ، نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی توحید کی دعوت دی، یہ لوگ بری طرح پیش آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے خیال میں تو تم کم عقل ہو بیوقوف ہو ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ جو تم نے عذاب عذاب کی رٹ لگا رکھی ہے یہ دھمکی ہم پر کچھ اثر انداز نہیں ہوسکتی اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو چلو عذاب کو بلالو، بالآخر ان پر اللہ تعالیٰ شانہ، نے ہوا کا عذاب بھیج دیا بہت سخت تیز ہوا آئی جو ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہی یہ دن ان کے لیے نامبارک اور منحوس تھے۔ ہوا چلتی رہی اور یہ لوگ مرتے رہے تیز ہوا نے انہیں اٹھا اٹھا کر پھینک دیا یہ لوگ بڑی جسامت والے تھے قد آور تھے اپنی قوت اور طاقت پر انہیں بڑا گھمنڈ تھا ان کے سامنے جب دین و ایمان کی بات آئی تو کہنے لگے ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ (ہم سے بڑھ کر قوت کے اعتبار سے کون زیادہ سخت ہوگا) اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی تو ساری شیخی دھری رہ گئی ہوا نے انہیں اپنی جگہوں سے ایسا اٹھا اٹھا کر پھینکا کہ ان میں کوئی جان ہی نہ تھی۔ یہاں سورة القمر میں فرمایا ﴿ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ 0020﴾ (گویا کہ وہ کھجور کے درختوں کے تنے تھے جو اکھڑ اکھڑ کر زمین پر گرپڑے) اور سورة الحاقہ میں فرمایا ہے ﴿فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى1ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ007﴾ (سو اے مخاطب تو اس قوم کو مذکورہ ایام میں پچھاڑے ہوئے دیکھتا ہے گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں جو اندر سے خالی ہیں) ۔ ﴿فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ 0021﴾ (سو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا) ﴿ وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (رح) 0022﴾ اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا سو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا) ۔
Ayahs 54:23–27

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

قوم ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا،

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

سو انہوں نے کہا کیا ہم ایسے انسان کا اتباع کریں جو ہمیں میں سے ایک شخص ہے، بیشک اس صورت میں تو ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں جا پڑیں گے ،

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب کے درمیان سے اسی پر وحی نازل کی گئی ؟ بلکہ بات یہ ہے کہ یہ بڑا جھوٹا شیخی باز ہے،

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

عنقریب کل کو جان لیں گے کہ کون ہے برا جھوٹا شیخی باز،

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

بیشک ہم اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں ان کی آزمائش کیلئے، سو آپ ان کو دیکھتے رہے اور صبر کیجیے

قوم ثمود کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب ان آیات میں قوم ثمود کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا انہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی خیر کا راستہ دکھایا لیکن ان پر تکبر سوار ہوگیا اور کہنے لگے تم بھی تو انسان ہو اور ہم بھی انسان ہیں پھر ہو بھی تم ہمیں میں سے تم میں کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے تم نبی بنائے گئے ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کا اتباع کریں تو یہ بڑی گمراہی کی بات ہے ہم کوئی دیوانے تو نہیں ہیں جو اتنی بات بھی نہ سمجھیں ہم اپنے ہی جیسے آدمی کا اتباع کریں یہ دیوانگی نہیں ہے تو کیا ہے ؟ بس جی ہماری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ اس شخص کو رسالت نہیں ملی اپنی بڑائی بگھارنے کے لیے اور بڑا بننے کے لیے اس نے یہ بات نکالی ہے کہ میں رسول ہوں نبی ہوں تاکہ قوم اس کو بڑا ماننے لگے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا ﴿سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 0026﴾ انہیں عنقریب کل کو پتہ چل جائے گا کہ کون ہے بہت جھوٹا شیخی بگھارنے والا، یعنی خود بڑے جھوٹے ہیں اور شیخی خورے ہیں اسی لیے اللہ کے نبی کو نہیں مانتے۔ اپنے جھوٹ کا اور شیخی بگھارنے کا انجام عنقریب دیکھ لیں گے۔ ان لوگوں نے معجزہ کے طور پر حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ پہاڑ سے ایک اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو ہم تمہاری نبوت کے اقراری ہوجائیں گے، اللہ جل شانہ، نے ایک بڑی اونٹنی ظاہر فرمادی سب نے دیکھ لیا کہ اونٹنی پہاڑ سے برآمد ہوئی۔ چونکہ اللہ کی اونٹنی تھی جو بطور معجزہ ظاہر کی گئی تھی اس لیے خوب زیادہ کھاتی پیتی تھی۔ سورة الاعراف میں فرمایا ﴿هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ0073﴾ (یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے بڑی نشانی ہے۔ سو اسے تم چھوڑے رکھو۔ اللہ کی زمین میں کھاتی رہے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا) ۔ ان لوگوں کا ایک کنواں تھا جس سے پانی بھرتے اور اپنے مویشیوں کو پلاتے تھے اللہ کی اس اونٹنی کو بھی پانی پینے کی ضرورت تھی حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتادیا ﴿لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ00155﴾ (اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور ایک دن تمہارے پینے کے لیے باری مقرر ہے) اس مضمون کو یہاں سورة قمر میں یوں بیان فرمایا ﴿اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْٞ0027﴾ (کہ ہم اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں ان لوگوں کی آزمائش کے لیے (اے صالح) ان کو دیکھتے رہئے اور صبر کیجئے) ۔
Ayahs 54:28–32

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور آپ انہیں بتادیں کہ بیشک پانی تقسیم ہے ان کے درمیان ہر ایک اپنے پلانے کی باری پر حاضر ہوا کرے،

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا سو اس نے حملہ کردیا اور کاٹ ڈالا،

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

سو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا،

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر ایک چیخ بھیج دی سو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ لگانے والے کا چورا ہو،

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ بات حق ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کیلئے آسان کردیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔

﴿وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ 1ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ0028 ﴾ (اور انہیں بتا دیجئے کہ بیشک پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوا کرے) ۔ یہ لوگ اس اونٹنی سے تنگ آگئے اس کا اپنے نمبر پر پانی پیناناگوار ہوا لہٰذا آپس میں مشورہ کیا کہ اس کو قتل کردیا جائے ان میں سے ایک آدمی قتل کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ لوگوں نے اسے پکارا اس نے ہاتھ میں تلوار لی اور اونٹنی کو مار ڈالا پہلے سے ان کو بتادیا گیا تھا کہ اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ لگاؤ تو تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا، جب اسے قتل کردیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بتادیا۔ ﴿تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ﴾ (اپنے گھروں میں تم تین دن بسر کرلو (اس کے بعد عذاب آجائے گا) ﴿ذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ 0065﴾ (یہ وعدہ سچا ہے جھوٹا نہیں) پورا ہو کر رہے گا۔ چناچہ تین دن بعد عذاب آیا اور تمام کافر ہلاک کردیئے گئے اور مومنین عذاب سے محفوظ رہے۔ ارشاد فرمایا ﴿اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ 0031﴾ (بلاشبہ ہم نے ان پر ایک چیخ بھیج دی سو وہ سب اس طرح ہلاک ہو کر رہ گئے جیسے کھیتی کی حفاظت کے لیے باڑ لگانے والے کی باڑ کا چورا چورا ہوجاتا ہے) یعنی ان کی جانیں تو گئیں جسم بھی باقی نہ رہے، چورا چورا ہو کر رہ گئے۔ یہ بات تقریباً وہی ہے جیسے اصحاب فیل کے بارے میں ﴿ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ (رح) 005﴾ فرمایا ہے۔ انہیں ایسا بنا دیا جیسے کھایا ہوا بھوسہ ہو) ۔ سورة ہود اور سورة قمر میں فرمایا ہے کہ ان کے ہلاک کرنے کے لیے ایک چیخ بھیجی گئی اور سورة الاعراف میں فرمایا ﴿ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ ﴾ کہ انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا، چونکہ دونوں ہی طرح کا عذاب آیا تھا اس لیے کہیں چیخ کا تذکرہ فرمایا اور کہیں زلزلہ کا، عذاب کا تذکرہ فرمانے کے بعد یہاں بھی ﴿ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ 0016﴾ فرمایا (سوکیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا) اور آخر میں آیت کریمہ ﴿ وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 0032﴾ کا اعادہ فرما دیا۔
Ayahs 54:33–37

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا،

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر پتھر لانے والی تیز ہوا بھیج دی، سوائے لوط کے گھر والوں کے، ہم نے انہیں آخری رات میں اپنے فضل سے نجات دے دی

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اس شخص کو جو شکر ادا کرے

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے ان کو ہماری گرفت سے ڈرایا تھا سو انہوں نے ڈرانے کی چیزوں میں جھگڑے بازی کی،

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور بیشک بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے لوط کے مہمانوں کو برے ارادہ سے لینا چاہا۔ سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں، سو چکھ لو میرا عذاب اور میرے ڈرانے کا نتیجہ،

سیّدنا لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا، اور قوم کا کفر پر اصررا کرنا، معاصی پرجما رہنا اور آخر میں ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ہلاکت کا ذکر ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے وطن سے ہجرت کرکے آئے تھے دونوں نے ملک شام میں قیام فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) چند بستیوں کی طرف معبوث ہوئے ان میں بڑی بستی کا نام سدوم تھا ان بستیوں کے رہنے والے برے لوگ تھے۔ برے اخلاق اور برے اعمال میں مشغول رہتے تھے مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا توحید کی دعوت دی برے افعال سے روکا لیکن ان لوگوں نے ایک نہ سنی اور اپنی بدمستی میں مشغول رہے، بالآخر ان پر عذاب آہی گیا۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے جو فرشتے بھیجے وہ اولاً حضرت ابراہیم ﷺ کے پاس آئے اور ان سے کہا ﴿ اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ ﴾ (کہ ہم اس بستی کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس میں تو لوط (علیہ السلام) ہیں پوری بستی کیسے ہلاک ہوگی ؟ فرشتوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس میں کون کون ہے، ہم لوط کو اور اس کے گھر والوں کو بچا لیں گے ہاں ان کی بیوی ہلاک ہوجائے گی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فرشتوں نے بیٹا پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی پھر وہاں سے چل کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے چونکہ یہ فرشتے انسانی صورت میں تھے اور خوبصورت شکل میں آئے تھے اس لیے ان کو دیکھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) رنجیدہ ہوئے اور انہیں خیال آیا کہ یہ میرے مہمان ہیں۔ خوبصورت ہیں اندیشہ ہے کہ گاؤں والے ان کے ساتھ بری حرکت کا ارادہ نہ کرلیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا وہ لوگ جلدی جلدی دوڑتے ہوئے آئے اور اپنا مطلب پورا کرنا چاہا جسے ﴿ وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو۔ یہ میری بیٹیاں ہیں یعنی امت کی لڑکیاں جو گھروں میں موجود ہیں ان سے کام چلاؤ یعنی نکاح کرو۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا اور یہ بھی بتایا کہ اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ، ورنہ سخت عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے لیکن وہ لوگ نہ مانے، حضرت لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے رہے اور عذاب آنے میں بھی شک اور تردد کرتے رہے جب انہوں نے بات نہ مانی تو اولاً یہ عذاب آیا کہ ان کی آنکھوں کو مطموس کردیا گیا یعنی ان کے چہرے بالکل سپاٹ ہوگئے آنکھیں بالکل ہی نہ رہیں۔ اللہ پاک کی طرف سے اعلان ہوگیا ﴿فَذُوْقُوْا عَذَابِيْ وَ نُذُرِ 0039﴾ (سو تم میرا عذاب اور میرے ڈرانے کا نتیجہ چکھ لو) ۔ جب ہلاکت والا عذاب آنے کا وقت قریب ہوا تو فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ اپنی بیوی کے علاوہ رات کے ایک حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جایئے اور برابر چلتے جائیے تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے صبح کے وقت ان لوگوں پر عذاب نازل ہوجائے گا۔ جب صبح ہوئی تو اللہ کا حکم آگیا جو فرشتے عذاب کے لیے بھیجے گئے تھے انہوں نے ان بستیوں کا تختہ اٹھاکر پلٹ دیا نیچے کی زمین اوپر اور اوپر کی زمین نیچے ہوگئی وہ سب لوگ اس میں دب کر مرگئے اور اللہ تعالیٰ نے اوپر سے پتھر بھی برسادیئے جو کنکھر کے پتھر تھے وہ لگاتار برس رہے تھے۔ ان پتھروں پر نشان بھی لگے ہوئے تھے، بعض علمائے تفسیر نے فرمایا ہے ہر پتھر جس شخص پر پڑتا تھا اس پر اس کا نام لکھا ہوا تھا اس کو سورة ہود میں مسوّمۃ یعنی نشان زدہ فرمایا ہے۔ (کماذ کرہ فی معالم التنزیل وفیہ اقوال اخر) ۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اس علاقہ میں موجود تھے ان پر زمین الٹنے کا عذاب آیا اور جو لوگ ادھر ادھر نکلے ہوئے تھے ان پر پتھر برسائے گئے اور پتھروں کی بارش سے ہلاک ہوگئے۔ حضرت مجاہد تابعی ؓ سے کسی نے پوچھا کیا قوم لوط میں سے کوئی رہ گیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا کوئی باقی نہ رہا تھا ہاں ایک شخص زندہ بچ گیا تھا جو مکہ معظمہ میں تجارت کے لیے گیا ہوا تھا وہ چالیس دن کے بعد حرم سے نکلا تو اس کو بھی پتھر لگ گیا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا۔ سورة ھود میں ان لوگوں کی زمین کا تختہ الٹنے کا اور پتھروں کی بارش کا ذکر ہے اور یہاں سورة القمر میں ﴿اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا ﴾ فرمایا ہے علامہ قرطبی نے اولاً ابوعبیدہ سے نقل کیا کہ اس سے پتھر مراد ہیں پھر صحاح سے نقل کیا ہے کہ : الحاصب الریح الشدیدہ التی تطیر الحصبا کہ حاصب اس ہوا کو کہا جاتا ہے جو کنکریاں اڑاتی ہوئی چلے اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں پر جو پتھر برسائے گئے تھے۔ ان پتھروں کو تیز ہوا لے کر آئی تھی۔
Ayahs 54:38–40

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور یہ بات یقینی ہے کہ صبح سویرے ان پر ایسا عذاب آگیا جو برقرار رہنے والا تھا،

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

سوچکھ لو میرا عذاب اور میرے ڈرانے کا نتیجہ

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔

پھر جو فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ0038﴾ عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ کا ترجمہ عذاب دائمی بھی کیا گیا ہے مستقر کا ترجمہ ہے ٹھہرنے والا، کافر کا عذاب موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے پھر اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا اس سے مستقر کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ فائدہ : حضرت لوط (علیہ السلام) کے اہل کو نجات دینے کے تذکرہ کے بعد ﴿كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ شَكَرَ 0035﴾ فرمایا اس میں یہ مستقل قانون بتادیا کہ مومن شکر گزار بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ شانہ، کی خاص مہربانی ہوتی ہے مومن بندوں کو چاہئے کہ وہ عبادت گزار بھی رہیں اور شکر گزار بھی پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مظاہر دیکھیں۔