Ayah 54:1(54:1) اقتربت : ماضی واحد مؤنث غائب اقتراب (افتعال) مصدر وہ قریب آلگی۔ وہ نزدیک ہوگئی۔
الساعۃ : گھڑی ، وقت، رات یا دن کا کوئی سا وقت۔ اہل عرب اس کا استعمال وقت ہی کے معنی میں کرتے ہیں چاہے ذرا سی دیر کے لئے ہی ہو۔ قرآن مجید میں الساعۃ کا لفظ جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے اس سے القیامۃ ہی مراد ہے۔
انشق : ماضی واحد مذکر غائب انشقاق (انفعال) مصدر۔ وہ پھٹ گیا۔ وہ شق ہوگیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ اذا السماء انشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔
Ayah 54:2(54:2) وان یروا ایۃ یعرضوا۔ واؤ حالیہ ہے اس کے بعد لکن جالہم مقدر ہے ! کلام یوں ہوگی ! ولکن حالہم ان یروا ایۃ یعرضوا۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں۔
مطلب یہ کہ قیامت کی گھڑی آلگی اور چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ (قریب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے) اور انہوں نے ایسا ہوتے دیکھ بھی لیا۔ لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا ان کی حالت تو یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے بھی ہیں تو (اپنی ہٹ دھرمی کے باعث جو کہ ان کی سرشت میں ہے) منہ موڑ لیتے ہیں۔
ان شرطیہ ہے یروا مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع مذکر غائب) یعرضوا مضارع مجزوم جمع مذکر غائب (بوجہ جواب شرط) اعراض (افعال) مصدر۔
ویقولوا سحر مستمر : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے یقولوا مضارع جمع مذکر غائب : سحر مستمر۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یقولوا کا مقولہ ہے ھذا (مبتدا محذوف) کی خبر ہے۔
مستمر اسم فاعل واحد مذکر۔ استمرار (استفعال) مصدر سے۔ اس کے متعدد معانی لئے جاسکتے ہیں :۔
(1) یہ مرۃ سے ماخوذ ہے جس کا معنی قوت ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان کا جادو بڑا زور والا ہے۔ زمین پر ہی نہیں آسمانی چیزوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
(2) یہ بمعنی ذاھب ہے جب کوئی خبر آئے اور گزر جائے تو اہل عرب کہتے ہیں مر الشی واستمر چیز آئی اور کئی۔ یعنی بےبنیاد۔ بےحقیقت اور آنی جانی۔
(3) یہ استمرار سے ہے بمعنی مستقل، پیہم۔
(4) بعض کے نزدیک مستمر کا لفظ مرارت (تلخی) سے مشتق ہے۔ یعنی تلخ جادو۔ بدمزہ جادو۔
Ayah 54:3(54:3) کذبوا واتبعوا اھواء ہم : ان لوگوں نے جھٹلایا اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔
کذبوا : اتبعوا۔ بالفاظ ماضی ذکر کرنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کافروں کی پرانی عادت ہے (کہ وحی کو چھوڑ کر اتباع شہوات کرتے ہیں) ۔ کذبوا : ای کذبوا النبی ﷺ ۔ یعنی انہوں نے معجزہ دیکھ کر بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی۔
واتبعوا اھواء ھمجملہ معطوف اھواء ہممضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اتبعوا کا۔ احوی جمع ھوی کی خواہشات، خیالات
کل امر مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدائ۔
مستقر : اسم فاعل واحد مذکر، استقرار (استفعال) مصدر۔ قرار پکڑنے والا۔ ٹھیرنے والا۔ کل امر کی خبر، ہر معاملہ قرار پکڑنے والا۔ یعنی یہ سلسلہ متناہی نہیں آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر ٹھہر جائے گا۔ قرار پکڑے گا۔
انسان کے اعمال بد اس کو آخر کار جہنم میں لے جائیں گے اور اعمال حسنہ اپنے کرنے والوں کو بہشت میں لے جائیں گے۔
ای وکل من الخیرا والشر مستقر باہلہ فی الجنۃ او فی النار۔ (ایسر التفاسیر)
تفہیم القرآن میں یوں لکھا ہے :۔ یہ سلسلہ بےنہایت نہیں چل سکتا کہ محمد ﷺ تمہیں حق کی طرف بلاتے رہیں اور تم ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے باطل پر جمے رہو اور ان کا حق پر ہونا اور تمہارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہ ہو۔ تمام معاملات آخر کار ایک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ اسی طرح تمہاری حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کشمکش کا بھی لامحالہ ایک انجام ہے جس پر یہ پہنچ کر رہے گی ایک وقت لازماً ایسا آنا ہے کہ جب علی الاعلان یہ ثابت ہوجائے گا کہ وہ حق پر تھے اور تم سراسر باطل کی پیروی کر رہے تھے۔
اسی طرح حق پرست اپنی حق پرستی کا اور باطل پرست اپنی باطل پرستی کا نتیجہ بھی ایک دن ضرور دیکھ لیں گے۔
Ayah 54:4(54:4) ولقد : واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ اور قد ماضی سے قبل آنے پر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے جارہم : ای الیٰ اہل مکۃ۔ اہل مکہ کے پاس پہنچ چکی ہیں۔
الانبائ۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ بنا کی جمع ہے جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو۔ اسے نبا کہتے ہیں۔ جس خبر میں یہ باتیں موجود نہ ہوں اس کو بنأ نہیں بولتے کیونکہ کوئی خبر اس وقت تک نبا کہلانے کی مستحق نہیں جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو تواتر سے ثابت ہو۔ یا جس کو اللہ اور رسول نے بیان کیا ہو۔
یہاں الاانباء سے مراد وہ خبریں ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوئیں۔ الانباء سے قبل من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے اور بیانیہ بھی۔
ولقد جاء ھم من الانبای : ای ولقد جاء فی القران الی اہل مکۃ اخبار القرون الخالیۃ او اخبار الاخرۃ۔ تحقیق قرآن میں اہل مکہ کے پاس سابقہ امتوں کی خبریں کہ کس طرح ان کے کفر و شرک کے اصرار پر ان پر تباہی اور بربادی نازل کردی گئی اور آخرت کے متعلق خبریں کہ اہل کفر و شرک کس کس عذاب الیم میں دھرے جائیں گے ۔ پہنچ چکی ہیں۔
ما فیہ مزدجر : ما موصولہ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے (ایسی خبریں) کہ جب میں ۔۔
مزدجع : مصدر میمی یا اسم ظرف مکان ہے ازدجار مصدر۔ (باب افتعال) زجر مادہ۔ جھڑکی یا جھڑکنے کا اور روکنے کا مقام۔ یہ لفظ اصل میں مزتجر تھا تاء کو دال سے بدل دیا گیا۔ ازدجر کا معنی ہے طردہ صائحا بہ۔ بلند آواز سے کسی کو کسی کام سے روکنا۔ باز رکھنا۔ جھڑکنا۔ یعنی یہ واقعات انہیں سختی سے منع کر ہے تھے کہ تم گمراہی کی یہ روش چھوڑ دو ۔
باب افتعال سے ازدجار لازم بھی ہے یعنی رک جانا اور باز رہنا۔ اور متعدی بھی بمعنی روک دینا۔ باز رکھنا۔ لیکن باب انفعال سے انزجار لازم آتا ہے بمعنی رک جانا۔ ٹھہر جانا۔ مافیہ مزدجر۔ جن میں کافی عبرت ہے۔ کافی تنبیہ ہے۔
آیت کا مطلب : ان لوگوں (اہل مکہ) کے پاس (گزشتہ اقوام کی یا آخرت میں ان کے ساتھ سلوک کی) خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں (قرآن مجید کے ذریعہ) جن میں کافی (اور زوردار) تنبیہ موجود ہے۔
Ayah 54:5(54:5) حکمۃ : یہ آیت سابقہ میں جو ما ہے (جو فعل جاء کا فاعل ہے) اس کا بدل ہے۔
بالغۃ : صفت ہے حکمۃ کی، پہنچی ہوئی۔ پہنچنے والی۔ بلوغ (باب نصر) سے مصدر۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے (ایمان بالغۃ (68:39) تاکید میں انتہاء کو پہنچی ہوئی قسمیں۔ حکمۃ بالغۃ۔ حکمت اور دانائی میں انتہاء کو پہنچی ہوئی بات، سراسر دانائی۔
فما تغن النذر : ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ انکار بھی تغن مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اغناء (افعال) مصدر سے۔ کام آنا۔ کفایت کرنا۔ تغن اصل میں تغنی تھا۔ عامل کے سبب سے ی حذف ہوگئی ہے (لغات القرآن) اصلہ تغنی لم تکتب لیاء بعد النون اتباعا لرسم المصاحف (تفسیر حقانی) اصل میں تغنی تھا رسم مصحف کے اتباع میں نون کے بعد ی نہیں لکھی جاتی۔
نذر مصدر (باب نصر) ڈرانا۔ بمعنی انذار (باب افعال۔ یا نذر جمع ہے نذیر بمعنی منذر کی۔ ڈرانے والے۔ یعنی پیغمبران علیہم الاسلام ۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کا یا ڈرانے کا ان کو کیا فائدہ ہوا۔ یعنی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
Ayah 54:6(54:6) فتول عنہم :سببیہ ہے اور عدم اغناء اس کا سبب۔ پس ، تول امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، تولی (تفعل) مصدر ۔ تو پھر آ۔ تو ہٹ آ۔ تو منہ پھیرلے۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔
اگر تولیٰ کا تعدیہ بلاواسطہ ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی سے دوستی رکھنا ۔ مثلاً ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔
یا والیو حاکم ہونا۔ مثلا : فہل عسیتم ان تولیتم (47:22) پھر تم سے یہ تو قع ہے کہ اگر تم والی ہو۔
یا کسی کام کو اٹھانا ۔ مثلا : والذی تولی کبرہ منھم (24:11) اور جس نے اٹھایا اس بڑی بات کو۔
اور اگر عن کے ساتھ متعدی ہو۔ خواہ عن لفظوں میں موجود ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیرنے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی آتے ہیں۔ جس طرح کہ یہاں آیت ہذا میں استعمال ہوا ہے ۔ پھر منہ پھیرنے کی بھی دو صورتیں ہیں :۔
(1) وہاں سے ٹل جانا۔ (2) توجہ نہ کرنا۔
عنہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب اہل مکہ کے لئے ہے۔
پس آپ ان سے منہ موڑ لیں۔ ان سے گفتگو نہ کریں۔ ان کی طرف توجہ نہ کریں۔
صاحب تفسیر حقانی (رح) رقمطراز ہیں :۔ اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ جنگ کے موقعہ پر آپ ان سے جنگ نہ کریں۔ اور سزار کے موقعہ پر ان کو سزا نہ دیں َ پھر اس کو آیت السیف سے (آیٹ جہاد سے) منسوخ قرار دینا زائد بات ہے۔
فائدہ : یہاں تک پچھلا کلام تمام ہوگیا۔ اور اسی لئے قرار کے نزدیک وقف لازم ہے۔
یوم : فعل محذوف کا مفعول فیہ ہے ای اذکر یوم اذا ۔۔ یاد کرو اس دن کو کہ جب ۔۔
یدع : مضارع واحد مذکر غائب دعا (باب نصر) مصدر۔ پکارتا ہے یا پکارے گا۔ یدع مادہ دعوا (ناقص وادی) سے مشتق ہے۔ اصل میں یدعوا تھا۔ واؤ پر ضمہ دشوار تھا۔ اس کو گرا دیا گیا۔ یدع رہ گیا۔
الداع : اسم فاعل واحد مذکر ۔ بحالت رفع وجر۔ دعاء (باب نصر) مصدر پکارنے والا۔ بلانے والا۔ دعا کرنے والا۔ داع اصل میں داعو تھا۔ واؤ بعد کسرہ کے طرف میں واقع ہوکر داعی ہوا۔ اب ی پر ضمہ دشوار تھا۔ اس کو گرا دیا۔ اب ی اور تنوین دو ساکن اکھٹے ہوگئے۔ ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ داع ہوگیا۔ الداع میں الف لام معرفہ کا ہے۔ یہاں الداع سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں جو صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہوکر قیامت کے دن پکاریں گے۔
شیء نکر : موصوف و صفت۔ اتنی بری چیز کہ اس کی مثل معلوم نہ ہو۔ انتہائی مکروہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسے جاننا بھی گوارہ نہ کریں۔ مراد یہاں قیامت کا دن ہے یا میدان قیامت۔ ای ساحۃ موقف القیامۃ۔ میدان محشر۔
Ayah 54:7(54:7) خشعا : عاجزی کرنے والے۔ خشوع کرنے والے۔ خاشع کی جمع جو خشوع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ یہ یخرجون میں ضمیر ہم کا حال ہے۔ اس لئے منصوب ہے۔
یخرجون : مضارع جمع مذکر غائب خروج (باب نصر) مصدر سے۔ سب نکل کھڑے ہوں گے۔ سب نکل آئیں گے۔
اجداث : جمع ہے جدث کی۔ بمعنی قبریں۔
کانھم : کان حرف مشابہ بفعل ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم ۔ گویا وہ سب۔
جراد منتشر موصوف وصفت جراد ٹڈیاں۔ اسم جنس۔ جرادۃ اس کا واحد ہے بمعنی ٹڈی ۔ منتشر پراگندہ ۔ بکھیرنے والا۔ بکھرنے والا۔ انتشار (افتعال) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر۔ بکھڑی ہوئی ٹڈیاں۔ گویا کہ وہ ٹڈیوں کے دل ہیں جو بکھر رہے ہیں۔
سورة القارعہ میں ارشاد ہے :۔ یوم یکون الناس کالفراش المبثوث (101:4) جس دن لوگ پروانوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے۔ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کے صور پھونکنے پر مردوہ کا زندہ ہوکر بعجلت قبروں سے باہر نکل آنے اور موج در موج اور قطار در قطار اس جم غفیر کا میدان محشر کی طرف لبرعت دوڑ پڑنے کو فراش المبثوث اور جراد امنتشر سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Ayah 54:8(54:8) مھطعین اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ مھطع واحد۔ اھطاع (افعال) مصدر ۔ سر جھکائے تیزی سے دوڑنے والے۔ مھطع عاجزی اور ذلت کی وجہ سے نظر نہ اٹھانے والا۔ بلانے والے کی طرف خاموشی سے چلا جانے والا۔
مھطعینبوجہ عمل یخرجونسے حال ہونے کے منصوب ہے۔ ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے : ونفخ فی الصور فاذاہم من الاجداث الی ربھم ینسلون (36:51) اور جس وقت صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
فائدہ : یقول الکفرون : الایۃ قبروں سے زندہ ہوکر میدان محشر میں آنے کا حکم سب کے لئے ہوگا۔ لیکن کفار اپنے گناہوں کی وجہ سے سخت عذاب میں ہوں گے ۔ اور جب وہ داعی محشر کی پکار پر دوڑ رہے ہوں گے تو ماحول کی سختی سے عاجز ہوکر پکاریں گے : ھذا یوم عسر یہ تو بڑا ہی سخت دن ہے۔
یوم عسر موصوف و صفت۔ عسر صفت مشبہ کا صیغہ ہے (باب ضرب، نصر) مصدر۔ دشوار، سخت، مشکل۔
آیت نمبر 9 سے چل کر (ولقد جاء ہم من الانباء آیت 4 متذکرہ الصدر) کی تفصیل میں اقوال سابقہ کی پانچ ایسی اقوام کا حال بیان ہوا ہے جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک اور برباد ہوگئیں ان میں سے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور فرعونیوں کی بربادی کا ذکر ہے۔
Ayah 54:9(54:9) کذبت ماضی واحد مؤنث غائب۔ قبلہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع اہل مکہ ہیں۔ جن کا اوپر ذکر معجزہ شق القمر دیکھ کر ایمان لانے سے انکار کرنے کے سلسلہ میں ہوا ہے۔
عبدنا : مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا بندہ۔ مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔
وازدجر : واؤ عاطفہ، ازدجر ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ ازدجار (افتعال) مصدر سے۔ جس کے معنی چھڑکنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے کے ہیں۔ وہ جھڑ کا گیا۔ اس کی ڈانٹ ڈپٹ کی گئی۔ بعض نے ازدجر کے معنی آسیب زدہ کے کئے ہیں۔
وازدجر کا عطف مجنون پر ہے یعنی کافروں نے یہ بھی کہا کہ نوح جنات کی جھپٹ میں آگیا ہے اور کسی جن نے مخبوط الحواس بنادیا ہے۔ یا اس کا عطف قالوا پر ہے یعنی نوح (علیہ السلام) کو قوم والوں نے دیوانہ کہا اور طرح طرح کی تکلیفیں دیں۔ اور جھڑکیاں بھی دیں
Ayah 54:10(54:10) فدعا ربہ : یعنی جب سینکڑوں برس سمجھانے پر کوئی بھی ایمان نہ لایا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آگئی کہ جس کے نصیب میں ایمان لانا تھا وہ لے آئے اب آئندہ کوئی بھی ایمان نہ لائے گا۔ تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے درخواست کی کہ میں ان کی حرکتوں سے آچکا ہوں اب تو ہی میری مدد کر۔
فانتصر :سببیہ ہے۔ پس اس لئے۔ انتصر امر واحد مذکر حاضر۔ انتصار (افتعال) مصدر سے ، تو مدد کر ، تو میری مدد کر۔ تو بدلہ لے۔
Ayah 54:11(54:11) ففتحنا :عاطفہ سببیہ ہے۔ پس ہم نے کھول دئیے۔
بماء منھمر موصوف و صفت، منھمر اسم فاعل واحد مذکر۔ انھمار (انفعال) مصدر۔ خوب برسنے والا۔ موسلا دھار برسنے والا۔ پانی کے ریلے کی طرح برسنے والا۔ پھر ہم نے (ان پر) پانی کے ریلوں سے آسمان کے دروازے کھول دئیے۔
Ayah 54:12(54:12) وفجرنا الارض عیونا : واؤ عاطفہ فجرنا ماضی جمع متکلم۔ تفجیر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی پھاڑنا۔ عیونا : تمیز۔ عیون عین کی جمع بمعنی چشمے۔ اور ہم نے زمین کو ازروئے چشموں کے جاری کردیا۔ یعنی ہم نے زمین کو چشمے ہی چشمے بنادیا۔
مطلب یہ کہ زمین سے اتنے چشمے پیدا کر دئیے کہ پوری زمین چشمہ ہوگئی۔
فالتقی المائ : التقی ماضی واحد مذکر غائب التقاء (افتعال) مصدر وہ مل گیا۔ وہ مقابل ہوا۔ اس کی مڈبھیڑ ہوئی۔
الماء سے مراد ماء السماء وماء الارض ہے آسمان کا پانی اور زمین کا پانی الماء کا اطلاق ایک پانی پر بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ پر بھی۔ یہاں دوسرا معنی معاد ہے۔ یعنی پھر دونوں پانی مل گئے۔
علی امر قد قدر : علی حال : امر بمعنی کام، معاملہ، حالت، حکم، امر کا لفظ تمام اقوال وفعال کے لئے عام ہے چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے الیہ یرجع الامرکلہ (11:123) اسی کی طرف رجوع ہے سب کام کا۔ یہاں مراد اپنے عمومی معنی میں مستعمل ہے۔
قد قدر : قد ماضی سے قبل تحقیق کا معنی دیتا ہے۔ قدر ماضی مجہول واحد مذکع غائب۔ قدر (باب ضرب، نصر) مقرر کردیا گیا۔ ازل میں مقرر کردیا گیا۔ مقدر کردیا گیا۔
علی امر قدقدر۔ یعنی اس امر کے مطابق جو اللہ نے ازل میں مقدر کردیا تھا۔ قدر رزق کی تنگی کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے جیسے ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتہ اللہ۔ (65:7) اور جس کے رزق میں تنگی ہو تو جتنا اس کو خدا نے دیا ہے۔ اس کے موافق خرچ کرے۔
Ayah 54:13(54:13) حملتہ : ماضی جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر کا مرجع حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ حمل (باب ضرب) مصدر۔ لادنا۔ چڑھانا۔ ہم نے اس کو چڑھا لیا۔ ہم نے اس کو سوار کرلیا۔
علی ذات الواح ودسر : الواح جمع لوح کی۔ بمعنی تختی۔ مضاف الیہ ، ذات مضاف۔ ذات الواح تختوں والی۔ تختوں سے بنائی ہوئی۔ دسر : دسار کی جمع، میخیں۔ اور میخوں سے بنی ہوئی ۔ یعنی ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک تختوں اور میخوں سے بنی ہوئی (کشتی) پر سوار کردیا۔
Ayah 54:14(54:14) تجری : مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی تیز گزرنا۔ پانی کی طرح بہنا۔ اس کا فاعل کشتی ہے (ذات الواح) ۔ یعنی جو چلتی ہے۔ یہ بہتی ہے۔ جو جاری ہے۔
باعیننا : ای بحفظنا۔ ہماری نظروں کے سامنے، ہماری حفاظت میں ۔ ضمیر تجری سے حال ہے۔
جزاء لمن کان کفر : ای فعلنا ذلک جزاء لنوح لانہ نعمۃ کفروھا فان کل نبی نعمۃ من اللہ (بیضاوی) ہم نے یہ اس شخص کا بدلہ لینے کے لئے کیا جو ایک نعمت تھا جس نعمت کی بےقدری کی گئی ۔ کیونکہ ہر نبی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہوتا ہے۔ (حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کے لئے اللہ کی نعمت تھے لیکن اس نعمت کا قوم کی طرف سے کفران کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو طوفان میں غرق کردیا اور نوح (علیہ السلام) کو کشتی میں سوار کر کے بچا لیا۔
جزاء (باب ضرب) مصدر ہے۔ جزا دینا۔ بدلہ دینا۔ خبر کے بدلے خیر اور شر کے بدلے میں شر ” جزائ “ کہلاتا ہے۔ یہاں جزاء بطور مفعول لہ مستعمل ہے لہٰذا منصوب آیا ہے۔
Ayah 54:15(54:15) ولقد ترکناھا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع سفینہ ہے۔ یعنی اس سفینہ کو ہم نے عبرت دلانے کے لئے باقی رکھا۔ چناچہ جزیرہ میں یا جودی پر وہ کشتی مدت دراز تک موجود ہی رہی یہاں تک کہ اس وقت کے دور اول کے بعض لوگوں نے بھی اس کو دیکھا تھا۔ (تفسیر مظہری) ۔ یا یہ جنس سفینہ کے لئے ہے۔ یا واقعہ کے لئے ہے یعنی قوم نوح کو بطور عبرت غرق کردینا اور نوح اور ان کے مومن ساتھیوں کو بچا لینے کا واقعہ۔
ایۃ۔ نشانی، حکم خداوندی، پیغام الٰہی۔ دلیل، معجزہ، آیت اصل معنی کے لحاظ سے ظاہری نشانی کو کہتے ہیں۔ اسی اعتبار سے قرآن مجید کی آیت کو آیت کہتے ہیں کہ وہ گویا کلام کے ختم ہوجانے کی نشانی ہے۔ علامت ہے بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے۔
فھل من مدکر۔ ہل سوالیہ ترغیبی ہے یعنی استفہام سے طلب خیر مقصود نہیں ہے بلکہ عبرت اندوزی پر آمادہ کرنا۔ اور نصیحت پذیری کی ترغیب دینا مقصود ہے۔ مدکر۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر ادکار (افتعال) مصدر سے اور ذکر مادہ سے مشتق ہے۔ اصل میں اذکار تھا۔ افتعال کے فاء کلمہ میں جب ذال واقع ہو تو تاء کو دال میں بدل دیتے ہیں پس اذکار سے اذدکار بنا۔ اور اسم فاعل کی صورت مذدکر ہوگئی۔ ت کو دال سے بدل لینے کے علاوہ دو صورتیں یہ بھی جائز ہیں :۔
(1) دال کو ذال سے بدل کر ادغام ہو۔ اس صورت میں مصدر اذکار اور اسم فاعل مذکر ہوگا۔ مذکر نصیحت حاصل کرنے والا۔ عبرت پکڑنے والا۔
Ayah 54:16(54:16) نذر۔ اصل میں نذری تھا۔ نذر اور انذار دونوں مصدر ہیں اور ہم معنی ہیں۔ جیسے انفاق ونفقۃ اور یقین وایقان۔
نذری۔ میرا ڈرانا۔ استفہام عذاب کی عظمت اور اس کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔
Ayah 54:17(54:17) یسرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ تیسیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے آسان کردیا ۔
للذکر : جار ومجرور۔ پندو نصیحت کے لئے ذکر۔ ذکر یذکر (باب نصر) کا مصدر ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 15 ۔ متذکرہ الصدر
Ayah 54:18(54:18) کذبت عاد : ای کذبت عاد ھودا علیہ السلام۔ عاد نے بھی اپنے (پیغمبر) ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 16 متذکرہ الصدر۔
Ayah 54:19(54:19) ریحا صرصرا۔ موصوف وصفت مل کر ارسلنا کا مفعول۔ صرصرا ہوائے تند۔ سخت ٹھر۔ سناٹے کی ٹھنڈی ہوا۔
فی یوم نحس مستمر۔ فی حرف جر یوم (مجرور) مضاف۔ نحس مستمر موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔
نحس سخت منحوس ۔ مستمت اسم فاعل واحد مذکر استمرار (استفعال) مصدر مسلسل نحوست والا۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ دن اتنی مدت تک قائم رہا جب تک کہ ان کو ہلاک نہیں کردیا گیا۔ یا مستمر کا مطلب ہے انتہائی تلخ، بدمزہ۔
Ayah 54:20(54:20) تنزع مضارع واحد مؤنث غائب، نزع (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی ہیں کسی چیز اپنی جگہ سے اکھاڑنے اور کھینچ لینے کے ۔ یعنی وہ (لوگوں کو) جڑوں سے اکھاڑ پھینکی ہے (بعض نے آندھی کے زور سے ہوا میں اڑجانا مراد لیا ہے۔
امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔ انا ارسلنا ۔۔ تنزع الناس (آیت 19:20) ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھاڑ ڈالتی تھی۔ میں تنزع الناس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہوا اپنی تیزی کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانے سے نکال باہر پھینکتی تھی۔
درسی جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء (3:26) اور تو جس کو بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے۔ تنزع الناس وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑے ڈالتی تھی۔
کانھم : گویا وہ سب : نیز ملاحظہ ہو 54:7 متذکرۃ الصدر۔
اعجاز نخل منقعر : اعجاز مضاف نخل منقعر موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ اعجاز جڑیں۔ تنے۔ عجز کی جمع جس کے معنی جسم کے پچھلے حصے کے آتے ہیں۔ درختوں کا چونکہ پچھلا حصہ جڑ ہی ہے اس اعتبار سے اعجاز نخل کے معنی درختوں کی جڑوں کے ہیں۔ منقعر اسم فاعل واحد مذکر۔ انعقار (انفعال) مصدر سے، ق ع ر مادہ۔ درخت کا جڑ سے اکھڑ جانا۔ منقعر جڑ سے اکھڑا ہوا۔ قعر : تہہ، پیندا، گڑھا۔ فارسی کا شعر ہے :۔
درمیان قعر دریا بندم کردہ بعد می گوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش
بعید القعرگہری سوچ والا آدمی۔ اعجاز نخل منقعر : مڈھ سے اکھڑے ہوئے درختوں کی جڑیں۔
Ayah 54:21(54:21) فکیف کان عذابی ونذر۔ پس دیکھ لو کیسا (دردناک) تھا میرا عذاب اور کیسی (صحیح) تھی میری تنبیہ۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 12 متذکرہ الصدر۔
Ayah 54:22(54:22) ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرہ الصدر۔
Ayah 54:23(54:23) کذبت ثمود بالنذر۔ ثمود ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد چہارم۔ قوم ثمود نے بھی ڈرانے والوں (پیغمبران الٰہی) کو جھٹلایا۔
Ayah 54:24(54:24) فقالوا : پس انہوں نے کہا۔
ابشرا منا واحدا نتبعہ۔ ا استفہامیہ ہے۔ بشرا۔ بشر، انسان، آدمی منصوب بوجہ فعل مضمر۔ جو اس کی وضاحت کرتا ہے (ای نتبعہ) منا جار مجرور مل کر بشرا کی صفت ہے، واحدا اس کی صفت ثانی ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے : انتبع بشرا منا واحدا۔
نتبعہ۔ مضارع جمع متکلم اتباع (افتعال) مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول ۔ ہم اس کی پیروی کریں ، ہم اس کا اتباع کریں
ترجمہ یوں ہوگا :۔ کیا ایک ایسا انسان جو ہم میں سے ہے (اور) اکیلا ہے۔ ہم اس کی پیروی کریں۔ استفہام انکاری ہے وجوہ انکاریہ ہیں :۔
(1) بشر ہونا۔ یعنی انسان ہونا ان کے نزدیک اتباع کے مناسب نہ تھا۔ (بشرا کو نکرہ مزید تحقیر کے لئے لایا گیا ہے)
(2) پھر بشر کا ہم میں سے ہی ہونا۔ جس کے پاس ہم پر فوقیت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
(3) اس کا اکیلا ہونا اور اس کے ساتھ جماعت کثیرہ کا نہ ہونا۔ ان کے نزدیک یہ بھی اس کی کسر شان کا باعث تھا۔
انا اذا لفی ضلل وسعر : ای ان نتبعہ انا اذا لفی ضلل وسعر اگر ہم نے اس کا اتباع کرلیا۔ تب تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑجائیں گے۔ ضلل۔ گمراہی۔ بھٹکنا۔ راہ سے دور جا پڑنا۔ کھوجانا۔
سعر۔ حق سے دوری (وہب) جنون (فرائ) عرب ناقۃ مسعورۃ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو بےمہار خود بخود سرگرداں ادھر ادھر چکر کاٹ رہی ہو۔ قتادہ نے کہا کہ سعر کا معنی ہے دکھ ، دشواری۔ عذاب۔ سعر مفرد بھی ہوسکتا ہے اور سعیر کی جمع بھی۔ اصل میں سعر کے معنی آگ بھڑکانے کے ہیں۔ جب انسان کے دماغ میں گرمی اٹھتی ہے تو وہ پاگل ہوجاتا ہے۔ سحر کا استعمال سودا۔ اور جنون کے معنوں میں اسی اعتبار سے ہے۔
Ayah 54:25(54:25) ء القی : ء استفہامیہ انکاریہ ہے ، القی القاء سے مصدر (باب افعال) ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ ڈالا گیا۔ نازل کیا گیا۔ القی علیہ القول کسی کو کوئی قول املاء کرنا۔
الذکر۔ وحی۔
ترجمہ آیت :۔ کیا ہم سب میں سے وحی صرف اسی پر ہی اتاری گئی (یعنی یہ نہیں ہوسکتا)
بل : حرف اضراب ہے یہاں ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصدیق کے لئے آیا ہے یعنی یہ صحیح کہ ہم میں سے وحی صرف اسی پر نازل ہوئی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص کذاب اور شیخی خور ہے۔
کذاب اشر : کذاب کذب (باب ضرب) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بڑا جھوٹا۔ اشر اشر (باب سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بڑائی مارنے والا۔ بہت اترانے والا۔
Ayah 54:26(54:26) سیعلمون : س مستقبل قریب کے لئے ہے۔ وہ عنقریب کل ہی جان لیں گے۔ کل سے مراد۔ مرنے کے فوراً بعد یا عذاب آتے ہی۔ غداء کل مراد قیامت کا دن یا عذاب کا دن۔
Ayahs 54:27–28(54:27) انا مرسلوا الناقۃ۔ مضاف مضاف الیہ ، اونٹنی برآمد کرنے والے۔ اونٹنی بھیجنے والے۔ مرسلوا اصل میں مرسلون تھا۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اضافت کی وجہ سے ن ساقط کردیا گیا ہے۔ الناقۃ۔ اونٹنی۔
فتنۃ : مفعول لہ بہ امتحانا : بطور امتحان ۔ بطور آزمائش۔
لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب ثمود کی طرف راجع ہے۔
فارتقبھم : ارتقب ، فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر سے بمعنی انتظار کرنا ۔ راہ دیکھنا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ پس تو ان (کے انجام) کا انتظار کر۔
واصطبر : واؤ عاطفہ۔ اصطبر فعل امر واحد مذکر حاضر تو صبر کر۔ اصطبار (افتعال) یہ اصل میں اصتبار تھا۔ ت کو ط سے بدل دیا گیا۔
فائدہ : قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اگر پتھر کی چٹان کے اندر سے ایک دس ماہ کی گابھن سرخ رنگ کی اونٹنی برآمد کردو تو ہم تمہاری پیروی کرلیں گے۔ خداوند تعالیٰ نے ان کے مطالبہ کے مطابق ویسی ہی اونٹنی برآمد کردی۔ لیکن ان کے امتحان کی خاطر چند شرائط عائد کردیں۔ کہ اونٹنی اللہ کی زمین پر کھلی جہاں چاہے پھرتی رہے گی۔ کوئی آدمی اس کی مزاحمت نہیں کرے گا۔
اور یہ کہ جہاں سے قوم ثمود کے افراد اور ان کے مویشی وغیرہ پانی پیتے تھے وہاں پانی کی وارہ بندی کردی گئی۔ کہ ایک دن اونٹنی وہاں پانی پیا کرے گی اور ایک دن قوم ثمود اور ان کے مویشی وغیرہ۔ کوئی ایک دوسرے کی باری میں گڈمڈ نہیں کرے گا۔ ان شرائط کے خلاف اقدام کرنے پر قوم پر سخت عذاب نازل کیا جائے گا۔
کچھ مدت تک یہ صورت حال جاری رہی اور قوم کے کسی شخص کو خلاف ورزی کی ہمت نہیں ہوئی ۔ آخرکار اپنی قوم کے ایک من چلے سردار قزار بن سالف کو انہوں نے انگیخت دی جس پر شیخی میں آکر اس نے تنبیہات الٰہی کو پس پشت ڈال کر اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا : کہ تمہارے لئے تین دن کی مہلت ہے اس کے بعد تم مورد عذاب ہوگے۔ چناچہ وعدہ کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ایک خوفناک چنگھاڑ نے آلیا۔ اور وہ روندی ہوئی باڑ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے۔
Ayah 54:29(54:29) فنادوا : ای فارسلنا الناقۃ وکانوا علی ھذہ الوتیرۃ من القسمۃ فملوا ذلک وعزموا علی عقر الناقۃ فنادوا لعقرھا۔ پس ہم نے اونٹنی کو بھیجا اور وہ پانی کی تقسیم کے اسی طریقہ پر چلتے رہے پھر وہ اکتا گئے۔ اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا عزم کرلیا۔ پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹتے کے لئے پکارا۔ نادوا ماضی جمع مذکر غائب نداء (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے پکارا۔
صاحبہم : مضاف مضاف الیہ ۔ اپنے ایک رفیق کو۔ اپنے ایک ساتھ کو ۔
فتعاطی :تعقیب کا ہے۔ تعاطی۔ ماضی واحد مذکر غائب تعاطی (تفاعل) مصدر سے۔ اس نے ہاتھ بڑھایا۔ اس نے دست درازی کی۔ اس نے پکڑا۔ اس نے ہاتھ چلایا۔ (لغات القرآن)
(کام کو) کرنے لگنا۔ اس میں مشغول ہونا۔ (فیروز اللغات) پس وہ کام کو کرنے لگ پڑا۔
فعقر :ترتیب کا۔ عقر۔ اس نے کونچیں کاٹ دیں۔ یعنی اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔
اور دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ فعقروھا : انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ (11:65): (26:157): (91:14) کیونکہ قدار بن سلف کا فعل قوم کی رضا مندی یا ان کے تعاون ہی سے تھا۔ اس لئے تمام قوم ذمہ دار ٹھہرائی گئی۔
Ayah 54:30(54:30) ملاحظہ ہو آیت 16 متذکرہ الصدر۔
Ayah 54:31(54:31) فکانوا میںسببیہ ہے۔ پس وہ ہوگئے۔
کھشیم المحتظر : ک تشبیہ کے لئے ہے ھشیم صفت مشبہ، مضاف مجرور بمعنی اسم مفعول ۔ ھشم (باب ضرب) مصدر سے : بمعنی توڑنا۔ ٹکڑے ٹکڑے کرنا ھشیم ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا۔ ریزہ ریزہ کیا ہوا۔ سوکھے ہوئے جھانکڑ۔ چورا چورا کیا ہوا المحتظر مضاف الیہ۔ اسم فاعل واحد مذکر احتظار (افتعال) مصدر۔ اپنے لئے باڑ بنانیوالا۔ حظیرۃ لکڑیوں کا بنایا ہوا باڑہ۔
ترجمہ ہوگا :۔ تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ۔
الحظر (باب نصر) کسی چیز کو احاثہ یا باڑ میں جمع کرنا۔
Ayah 54:32(54:32) ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 54:33(54:33) کذبت بالنذر۔ پیغمبروں کی تکذیب کی۔ نذر جمع نذیر کی بمعنی ڈرانے والے۔ (یعنی پیغمبر) منذر کے معنی میں۔
Ayah 54:34(54:34) انا ارسلنا علیہم : ہم نے ان پر بھیجے۔ یعنی ہم نے ان پر برسائے۔
حاصبا : بادسنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ ، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ حاصب اس ہوا کو کہتے ہیں جو چھوٹے سنگریزوں کا اٹھا کرلے جاتی ہے اور برساتی ہے ۔ حصباء چھوٹے سنگریزوں کو کہتے ہیں۔ حاصب پتھر پھینکنے والے کو بھی کہتے ہیں ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے ان پر پتھر برسانے والے کو بھیجا۔
نجینھم : ماضی جمع متکلم۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم نے نجات دی۔ ہم نے بچا لیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع ال لوط ہے۔ بسحر۔ ب بمعنی فی۔ یعنی سحر کے وقت۔ اخیر شب میں۔
Ayah 54:35(54:35) نعمۃ اسم منصوب نکرہ۔ انعام و احسان۔ منصوب بوجہ علت کے ۔ اپنی طرف سے انعام و احسان کرنے کی وجہ سے۔ انعام و اکرام دینے کے لئے ۔ یعنی ہم نے متعلقین لوط (علیہ السلام) کو اخیر سب کے وقت بچا لیا۔ اپنی طرف سے انعام و اکرام و احسان کرکے۔
کذلک : کاف تشبیہ کا۔ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ مشار الیہ۔ آپ لوط کا پتھروں کے منہ سے بچا لیا جانا۔
نجری : مضارع جمع متکلم۔ جزاء (باب ضرب) مصدر۔ ہم بدلہ دیتے ہیں۔ ہم صلہ دیتے ہیں۔
من موصولہ بمعنی الذی جو (اللہ کی نعمت کا) شکر کرتا ہے۔
Ayah 54:36(54:36) ولقد : واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ قد ماضی سے قبل تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور ماضی قریب کے زمانہ کو ظاہر کرتا ہے۔
انذرھم بطشتنا : انذر ماضی واحد مذکر غائب انذار (افعال) مصدر بمعنی ڈرانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع قول لوط ہے۔ بطشتنا : مضاف مضاف الیہ۔ بطش (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی سختی سے پکڑنا اور اس سے قبل (عذاب آنے سے پہلے) وہ (حضرت لوط علیہ السلام) ان کو (قوم لوط کو) ہماری پکڑ سے ڈرا چکا تھا۔ پکڑ سے مراد عذاب ہے۔
فتماروا : ماضی جمع مذکر غائب۔ تماری (تفاعل) مصدر جس کے معنی شک کرنے اور باہم جھگڑنے کے ہیں۔ انہوں نے جھگڑا کیا۔ انہوں نے شک کیا۔
بالنذر۔ یہاں نذر بطور مصدر بمعنی ڈر اوا مستعمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھوٹا قرار دیا۔ اور عذاب کا جو خوف انہوں نے دلایا تھا اس میں شک کرنے لگے اور جھگڑنے لگے۔
Ayah 54:37(54:37) ولقد : ملاحظہ ہو آیت 22 متذکرہ الصدر۔
راودوہ : ماضی جمع مذکر غائب مراودۃ (مفاعلۃ) مصدر، پھسلانا ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ انہوں نے اس کو پھسلایا۔ رود حروف مادہ ہیں۔ الرود کے اصل معنی نرمی کے ساتھ کسی چیز کی طلب میں بار بار آمدورفت کے ہیں۔ اسی معنی میں فعل راود وارتاد آتا ہے۔ اسی سے رائد ہے جس کے معنی ہیں وہ شخص جسے پانی اور چارہ کی تلاش کے لئے قافلہ سے آگے بھیجا جائے۔
اسی سے یعنی راد ہر ود سے الارادۃ ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں ۔ اور ارادہ اصل میں اس قوت کا نام ہے جس میں خواہش ، ضرورت، اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں۔ پھر اس سے مراد دل کا کسی چیز کی طرف کھچنے کے لئے بولا جاتا ہے جو کہ ارادہ کا مبدأ ہے اور کبھی صرف منتہی کے معنی مراد ہوتے ہیں یعنی محض فیصلہ کے لئے۔ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہو تو منتہیٰ کے معنی مراد ہوتے ہیں یعنی کسی کام کا فیصلہ۔ تزوج نفس کا معنی مراد نہیں ہوتا کیونکہ ذات باری تعالیٰ خواہشات نفسانی سے منزہ ومبرا ہے۔ لہٰذا اراد اللہ کذا کے معنی ہوں گے اللہ تعالیٰ نے فلاں کام کا فیصلہ کیا۔ چناچہ فرمایا :
قل من ذا الذی یعصمکم من اللہ ان ارادیکم سوء (33:17) کہہ دیجئے کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا فیصلہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے۔
اور کبھی ارادہ بمعنی امر کے آتا ہے۔ مثلاً :۔ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (2:185) اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے (یعنی آسان کاموں کا حکم دیتا ہے اور ایسے امور کا حکم نہیں دیتا کہ جس سے تم سختی میں مبتلا ہوجاؤ۔
المراودۃ (مفاعلۃ) یہ بھی رادیرود سے ہے اور اس کے معنی ارادوں میں باہم اختلاف اور کشیدگی کے ہیں۔ یعنی ایک کا رادہ کچھ ہو اور دوسرے کا کچھ ہو۔ روادت فلانا عن کذا : کے معنی کسی کو اس کے ارادہ سے پھسلانے کے ہیں پھسلانے کی کوشش کرنا کے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ ہی راودتنی عن نفسی (12:26) اس نے مجھے میرے ارادہ سے پھیرنا چاہا۔
نراود فتھا عن نفسہ (12:30) وہ اپنے غلام سے (ناجائز) مطلب حاصل کرنے کے درپے ہے یعنی اسے اس کے ارادہ سے پھسلانا چاہتی ہے۔
سنراود عنہ اباہ (12:61) ہم اس کے باپ کو اس سے پھیرنے کی کوشش کریں گے۔ یعنی اسے آمادہ کریں گے وہ برادر یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ (راغب اصفہانی، فی المفردات)
ولقد راودوہ عن ضیفۃ : اور انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اپنے مہمانوں کو برے مطلب کے لئے ان کے سپرد کرنے کے ارادہ سے پھسلانا چاہا۔ فطمسا اعینھم :تعلیل کا ہے۔ ثمسنا ماضی جمع متکلم۔ طمس (باب ضرب) مصدر۔ جس کے معنی مٹا دینا یا بےنور کردینا ہے۔
جب طمس کا استعمال نجم، قمر، بصر، کے ساتھ ہو تو بےنور اور روشنی زائل ہوجانے کے معنی ہوں گے۔ مثلاً قرآن مجید میں اور جگہ ہے : فاذا النجوم طمست (77:8) جب ستارے بےنور کر دئیے جائیں گے یعنی ان کی روشنی زائل کردی جائے گی۔
مٹانے یا بگاڑنے کے معنی میں ہے :۔ من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی ادبارھا (4:47) پیشتر اس کے کہ ہم ان کے چہروں کو بگاڑ دیں اور ان کو ان کی پیٹھوں کی طرف پھیر دیں۔
امام راغب اصفہانی (رح) نے آیت شریفہ ولو نشاء لطمسنا علی اعینھم (36:66) میں دونوں معنی جسمع کر دئیے ہیں۔ فرماتے ہیں :۔ یعنی ہم آنکھوں کی روشنی کو اور ان کی صورت و شکل کو مٹا دیں جس طرح سے نشان مٹایا جاتا ہے۔
آیت ہذا میں بےنور کردینے کے معنی ہوں گے۔ ان کے اس فعل کی وجہ سے ہم نے ان کو آنکھوں کو بےنور کردیا۔
اعینھم مضاف مضاف الیہ مل کر ثمسا کا مفعول۔ ان کی آنکھوں کو (بےنور کردیا) ۔
فذوقوا : ای قلنالہم ۔۔ (اور ہم نے ان سے کہا) لو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو۔ نذر بطور مستعمل ہے۔
Ayah 54:38(54:38) صبحہم : صبح ماضی۔ واحد مذکر غائب تصبیح (تفعیل) مصدر۔ بمعنی صبح سویرے کسی پر آن پڑنا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع قوم لوط (علیہ السلام) ہے جو مورد عتاب ہوئی تھی۔ صبح کا فاعل عذاب مستقر ہے۔
بکرۃ دن کا اول حصہ۔ یہ صبح سے مخصوص تر ہے۔ یعنی صبح سویرے اول النہار میں بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔
عذاب مستقر موصوف و صفت مل کر صبح کا فاعل۔ مستقر اسم فاعل واحد مذکر استقرار (استفعال) مصدر بمعنی قرار، یعنی قرار پکڑنے وال۔ ٹھہرنے والا۔ یعنی وہ عذاب جو مرنے کے بعد بھی قائم رہا۔ دینا میں عذاب سنگ باری۔ اس کے بعد عذاب قبر، پھر دوامی عذاب دوزخ۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ پس صبح سویرے اول النہار ایک لازوال عذاب نے انہیں آلیا۔
Ayah 54:39(54:39) ملاحظہ ہو آیت 37 متذکرہ المصدر۔ آیت کی تکرار حقیقت میں از سرنو
Ayah 54:40(54:40) ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرہ الصدر۔ تنبیہہ ہے نصیحت پذیری پر ۔ اور ترغیب ہے عبرت اندوزی کی۔