54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 54:1–5

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت1 نزدیک آئی اور شق ہوگیا چاند۔

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور (کافر) اگر کوئی معجزہ (ہمارے محبوب سے) دیکھتے ہیں (جیسے شق القمر) تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قوی جادو ہے ۔

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے (نبی اور معجزات کو ) جھٹلایا اور پانی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام نے اپنے وقت پر قرار پکڑا ہے ۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور بیشک ان (کافروں) کے پاس (پچھلی امتوں کی) وہ خبریں آئیں جن میں (کافی) نصیحت ہے ۔

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

انتہا کو پہنچی ہوئی حکمت ، پس (ان کافروں کو) ڈر سنانے والی باتوں نے کچھ فائدہ نہیں دیا۔

معجزہ شق القمر۔ (ف 1) شان نزول : تفسیر زاہدی میں یوں مذکور ہے کہ ایک شب میں ایک یہودی اور ابوجہل نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا کہ ہم کو کوئی معجزہ دکھایے ، آپ نے فرمایا کہ کیا چاہتے ہو، تب یہودی نے ابوجہل سے کہا کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور سحر آسمان میں اثر نہیں کرتا، تو ان سے یہ کہا کہ ہمارے لیے چاند کے دوٹکڑے کریں، ابوجہل نے آپ سے یوں ہی کہا، آپ نے اپنی انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا، چاند اسی وقت دوٹکڑے ہوگیا پھر ابوجہل نے کہا کہ آپ اس کو حکم فرماویں کہ یہ دونوں مل جاویں، آپ نے اس طرف اشارہ کیا جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا، یہودی تو یہ دیکھتے ہی ایمان لایا اور ابوجہل نے کہا میری آنکھوں پر بھی جادو کردیا کہ مجھ کو چاند کے دوٹکڑے معلوم ہوئے اور مسافروں کی جماعت سے جو باہر سے آتے جاتے تھے پوچھتا تھا تاکہ معلوم کرے کہ انہوں نے بھی یہ حال دیکھا ہے یا نہیں۔ جب اس نے آنے جانے والوں سے پوچھا سب نے یہی جواب دیا کہ ہم نے فلانی رات کو چاند کے دوٹکڑے ہوئے دیکھا، باوجودیکہ یہ معجزہ اس نے دیکھا تب بھی یہی کہا کہ اس کا جادو بہت بڑا اوقوی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ سورة بھیجی، اور فرمایا ایسی ہٹ دھرمی کرنے والوں کو کیا ہدایت نصیب ہوسکتی ہے بلکہ اور اگر کوئی نشانی دیکھ بھی لیں تو کہتے ہوئے ٹال کر چل دیں کہ یہ بڑازبردست جادو ہے۔ اب آگے فرمایا کہ رسولوں کے جھٹلانے والی پچھلی امتوں کے عذاب میں گرفتار ہوجانے کا حال جو جگہ جگہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے اسمیں بھولے بھٹکے کے راہ پر لانے اور سرکش کے باز آنے کے لیے بڑی حکمت سے کام لیا گیا ہے لیکن علم الٰہی کے موافق ازلی کمبختی جن کے سرپرسوار ہے ، ڈرسنانے والوں کی ڈر کی باتوں کا ان کے دل پر اثر نہیں ہوتا ہے اس لیے انہوں نے حق وہدایت یعنی نبی اور معجزات کو جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے وسوسوں کا اتباع کیا، بت پرستی کی۔ جیسی باتیں یہ لوگ کررہے ہیں ان باتوں کی قدر ان لوگوں کو اس وقت معلوم ہوگی جب ان کو آگ میں جھونک دیاجائے گا اور انہیں ذلت دینے کے لیے اللہ کے فرشتے ان سے گھڑی گھڑی پوچھیں گے کہ جن چیزوں سے تم لوگ دنیا میں نہیں دڑتے تھے بلکہ ان کے ڈرنے کو جادو کی سی وہمی باتیں بتلاتے تھے اب ذرا خوب آنکھیں کھول کر دیکھ لو کہ اس آگ میں، ان سانپ بچھوؤں میں کچھ اثر ہے۔ یا جادو کی سی وہمی خیالی چیزیں ہیں ، ابوداؤد ونسائی اور ترمذی میں ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل نے دوزخ کے عذاب کی سختیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ یا اللہ جب دنیا میں بنی آدم تیرے رسولوں کی معرفت اس عذاب کا حال سن لیں گے تو وہ اس سے بچنے کی ایسی کوشش کریں گے کہ شاید دوزخ خالی رہے اور ان میں سے ایک شخص بھی اس میں نہ جائے ، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس عذاب سے نجات دے اور برے کاموں سے بچائے (آمین) ۔
Ayahs 54:6–8

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

پس تم1 ان سے منہ پھیر لو جس دن بلانے والا (فرشتہ یعنی اسرائیل) ایک ناگوار چیز (یعنی حساب) کی طرف بلائے گا۔

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

(مارے خوف کے) نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں۔

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

بلانے والے (یعنی اسرافیل) کی طرف دوڑتے ہوئے کافر کہیں گے : یہ دن بڑا سخت ہے ۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دل پر معجزہ اور نصیحت کا کچھ اثر نہ ہو تو ان کو راہ پر لانے کی زیادہ کوشش نہ کی جائے ، بلکہ ایسے لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دو ۔ دوسرے صور کی آواز سے جب یہ لوگ قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف کھنیچے چلے آئیں گے اس وقت ان کا کیا سب انکی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اس دن یہ کافر یہ حالت دیکھ کر کہیں گے افسوس، یہ دن تو بڑی آفت ومصیبت کا بڑاکٹھن اور سخت دشوار ہے۔
Ayahs 54:9–36

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے2 نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جھٹلایا پس ہمارے بندے (نوح) کو جھٹلایا اور کہنے لگے : وہ مجنوں ہے، اور اس سے سخت کلامی کی ۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

تو اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں تو میرا بدلہ لے ۔

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

تو ہم نے آسمان کے دروازے زور کے بہتے پانی کے ساتھ کھول دیئے۔

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کیے پس (آسمان اور زمین کے) دونوں پانی مل گئے ۔

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اس کام کے پورا ہونے کے لیے جو مقصد تھا اور ہم نے نوح کو تختوں والی اور کیلوں والی کشتی پر سوار کیا۔

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو کہ ہماری نگاہ کے روبرو بہتی تھی، یہ اس (شخص) کے بدلہ میں جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس واقعہ کو نشانی چھوڑا، پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پس (دیکھو) میرا عذاب اور میری دھمکیاں کسیی تھیں۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ۔

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کو) جھٹلایا، پھر میرا عذاب اور میری دھمکیاں کیسی تھیں۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں جس کی نحوست نہایت سخت تھی۔

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

لوگوں کو اسی طرح اکھاڑ پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

پس (دیکھو) میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی تھیں۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلایا۔

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور بولے : کیا ہم اپنی قوم میں سے ایک آدمی کی تابعداری کریں بیشک ہم جب تو ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں۔

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے (منتخب ہوکر) اسی پر وحی نازل ہوئی ہے بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے ۔

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : عنقریب کل جان لیں گے (جبکہ عذاب میں مبتلا ہوں گے) کہ کون جھوٹا خود پسند تھا۔

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

بیشک ہم ان کی جانچ کے لیے اونٹنی بھیجنے والے ہیں (تو اے صالح) تم ان کے (حالات کے) منتظر رہو اور (ان کی ایذا پر) صبر کرو۔

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور انہیں خبر دے دو کہ (کنوئیں کا) پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم کیا ہوا ہے ہر ایک اپنی باری سے پانی پر آیا کرے۔

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

پھر ثمود نے اپنے ساتھی کو بلایا تو اس نے (تیز تلوار) لے کر اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

پس (دیکھو) میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی تھیں۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آواز کا عذاب بھیجا، پس وہ ایسے ہوگئے جیسا گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے، تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ؟

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

قوم لوط نے ڈرانے والوں (رسولوں) کو جھٹلایا۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

پس ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی (اور سب کو ہلاک کردیا) سوائے لوط کے گھرو الوں (یعنی لوط اور ان کی دونوں صاحبزادیوں کے) کہ ان کو ہم نے اپنے احسان سے وقت سحر بچا لیا۔

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

اسی طرح ہم اس شخص کو صلہ دیتے ہیں جو (ہماری) شکر گزاری کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور بیشک (عذاب آنے سے پہلے) لوط نے ان کو ہمارے عذاب سے ڈرایا مگر انہوں نے ڈرانے والی باتوں میں جھگڑا پیدا کیا۔

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی نوشتہ آگیا ہے کہ یہ لوگ جو چاہیں گے سو کریں گے اور اللہ ان سے کچھ مواخذہ نہ کرے گا۔ ان کو اپنے جتھے کا یہ گھمنڈ ہے کہ ان کے جتھے کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرکے عذاب الٰہی کو ٹال دیں گے پھر فرمایا کہ تھوڑے دنوں میں ان کا یہ جتھا شکست کھاکر بھاگ جائے گا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں منکروں کے جتھے کی شکست کھانے ، اور بھاگنے کا مطلب اچھی طرح میری سمجھ میں آیا، فرعون اور اس کی قوم کے غرق ہوکر ہلاک ہوجنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہوئی اور یہ سورت قصص میں گزرچکا ہے کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد عام عذاب سے پھر کوئی قوم ہلاک نہیں ہوئی۔ اس لیے پہلے صاحب شریعت رسول حضرت نوح کی قوم سے اس طرح کی قوموں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو عام عذاب سے ہلاک ہوئی ہے اور فرعون اور اس کی قوم پر یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ان آیتوں میں مشرکین کی تنبیہ مقصود ہے اس سبب سے کہ اس طرح کی قوموں کا سلسلہ وار ذکر فرمایا لیکن اختصار کی نظر سے اہل مدین کے ذکر کو یہاں محذوف فرمادیا۔ یہ جو فرمایا کہ حضرت نوح کی قوم نے ان سے سخت کلامی کی اس کی تفسیر سورة شعراء میں گزرچکی ہے کہ ان کی قوم نے ان کو پتھروں سے کچل ڈالنے کی دھمکی دے کر سخت کلامی کی تھی۔ ولقدانذرھم بطشتا فتماربالنذر۔ کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہرچند عذاب الٰہی سے ڈرایا، مگر ان کی قوم نے ان کی نصیحت نہ سنی اور اس نصیحت کو جھٹلاتے رہے۔
Ayahs 54:37–40

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور1 انہوں نے اسے اس کے مہمانوں کو بدی کے ارادے سے لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دیں (یعنی اندھے ہوگئے) پھر ہم نے کہا کہ میرا عذاب چکھو اور میری ڈرانے والی باتوں کا نتیجہ دیکھو۔

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور بیشک صبح سویرے ان پر ٹھہرانے والا عذاب آیا (جو آخرت تک رہے گا)

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

پس (ہم نے کہا کہ ) میرا عذاب چکھو اور ڈرانے والی باتوں کا نتیجہ دیکھو۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ؟

(ف 1) اغلام کا انجام۔ سورة اعراف سور، سورة ہود ، سورة شعرائ، سورة نمل، سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزرچکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑوانے کے لیے مدتوں حضرت لوط نے ان لوگوں کو سمجھایا مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورت میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جوذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نوعمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کرآئے، حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے خوف زدہ ہوکر ان مہمانوں کی خبر ان لوگوں سے چھپایا، مگر حضرت لوط کی بیوی نے قوم کے لوگوں کو ان مہمانوں کی خبر دی ، وہ لوگ حضرت لوط کے گھر پر چڑھ آئے حضرت لوط نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا، ان لوگوں نے دروازہ تو رکرگھر کے اندر گھسنے کا ارادہ کیا، اس وقت حضرت جبرائیل نے ایک پر مار کر جتنے وہ لوگ آئے تھے سب کو اندھا کردیا، یہ رات کا وقت تھا، یہ لوگ حضرت لوط کو یہ دھمکی دے کر چلے گئے کہ صبح کو تم سے ہم سمجھ لیں گے، آخرصبح کو وقت مقررہ آتے ہی وہ تمام بستی حضرت جبرائیل نے الٹ دی، اور پھر پتھروں کامینہ برسایا اور سب ہلاک ہوگئے اب ان کی بستی کی جگہ ایک بودارپانی کا چشمہ ہے۔ فذوقو عذابی ونذر۔ کو گھڑی گھڑی تاکید کے لیے فرمایا تاکہ مشرکین اس بات کو خوب سمجھ لیویں کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور ان کی نصیحت کے نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہے اور یہ قرآن نصیحت والوں کے لیے آسان کردیا، یعنی حفظ و کتابت ، وقرات وعمل ووعظ کے لیے قرآن کو سہل کردیا، آیا کوئی ہے کہ نصیحت قبول کرے اور قوم لوط کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کرے۔