Ayah 53:1(ف 1) النجم کی تفسیر میں مفسرین کے بہت قول ہیں۔ بعض نے ثریامراد لیا ہے اگرچہ ثریا کئی تارے ہیں لیکن نجم کا اطلاق ان پر عرب کی عادت ہے بعض نے نجم سے جنس نجوم مراد لی ہے بعض نے وہ نباتات ہے جو شاق نہیں رکھتے زمین پر پھیلتے ہیں ، بعض نے نجم سے قرآن مراد لیا ہے لیکن نجم سے مراد ذات گرامی ہادی برحق سیدا نبی اء محمد کی ہے۔ (خازن) ۔
Ayahs 53:2–3(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ نبی ان ہی اہل مکہ میں پلے بڑے ہوئے اور نبوت سے پہلے اہل مکہ آپ پر دیوانگی یا جھوٹ کا کوئی الزام نہیں لگاتے تھے اسی واسطے فرمایا یہ کہ اللہ کے رسول جو تم لوگوں کے ہمیشہ کے رفیق ہیں اور تم کو ان کا ہر طرح کا حال خوب معلوم ہے نہ وہ دیوانے ہیں ہمیشہ اپنے رب کی توحید و عبادت میں رہے آپ کے دامن عصمت پر کبھی کسی امر مکروہ کی گردنہ آئی، اور نہ اپنی ذاتی غرض سے انہوں نے خود یہ قرآن بنایا ہے بلکہ آسمانی وحی کے ذریعہ سے اللہ کا جوحکم ان کو پہنچا ہے وہی تم کو وہ سنادیتے ہیں۔
Ayahs 53:4–5(ف 3) بعض مفسر اس طرف گئے ہیں کہ بری قوت والے صاحب حسن سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت سے شیطان ڈرتا ہے چناچہ سورت انفال میں گزرچکا ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت پہلے تو شیطان سراقہ بن مالک کی صورت میں مشرکین کے لشکر میں موجود رہا، جب لشکر اسلام کی مدد کو فرشتے آئے اور شیطان نے جبرائیل (علیہ السلام) کو پہچانا تو بھاگ گیا، قوم لوط کے قصہ میں حضرت جبرائیل کی قوت کا ذکر گزرچکا ہے انہوں نے قوم لوط کے لاکھوں آدمیوں کے رہنے کی چار بستیاں اپنے ایک پر اٹھا کر آسمان تک ان کو بلند کیا اور پھر ان کو الٹ دیا، حسن بصری نے فرمایا کہ شدید القوی ذومرۃ، سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اس نے اپنی ذات کو اس وصف کے ساتھ ذکر فرمایا معنی یہ ہیں کہ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بےواسطہ تعلیم فرمائی۔ (تفسیر روح البیان) ۔
Ayah 53:6(ف 1) عام مفسرین نے فاستوی کا فاعل بھی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اور یہ معنی لیے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اپنی صورت پر قائم ہوئے اور اس کا سبب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں انکی اصلی صورت میں ملاحظہ فرمانے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی تو حضرت جبرائیل جانب مشرق میں حضور کے سامنے نمودار ہوئے اور انکے وجود سے مشرق سے مغرب تک بھرگیا یہ بھی کہا گیا کہ نبی ﷺ کے سوا کسی انسان نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں نہیں دیکھا، امام فخرالدین فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل کو دیکھنا تو صحیح ہے اور حدیث سے ثابت ہے ۔ لیکن یہ حدیث میں نہیں ہے کہ اس آیت میں حضرت جبرائیل کو دیکھنا مراد ہے بلکہ ظاہر تفسیر میں یہ ہے کہ مراد فاستوی سے نبی ﷺ کا مکان علی اور منزلت رفیعہ میں استوی فرمانا ہے ۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ نبی نے افق اعلی یعنی آسمانوں کے اوپر استوی فرمایا اور حضرت جبرائیل سدرۃ المنتہی پر رک گئے آگے نہ بڑھ سکے انہوں نے کہا کہ اگر میں ذرا بھی آگے بڑھوں تو تجلیات جلال مجھے جلاڈالیں ، اور نبی ﷺ آگے بڑھ گئے اور مستوائے عرش سے بھی گزرگئے یہی قول حسن کا ہے۔
Ayah 53:7(ف 2) یہاں بھی عام مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ یہ حال جبرائیل امین کا ہے لیکن امام رازی فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال نبی ﷺ کا ہے کہ آپ افق اعلی یعنی فوق سموات تھے جس طرح کہنے والا کہتا ہے کہ میں نے چھت پر چاند دیکھا یا پہاڑ پرچاند دیکھا اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ چاند چھت پر یا پہاڑ پر تھا بلکہ یہی معنی ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا چھت یا پہاڑ پر تھا، اسی طرح یہاں یہ معنی ہیں کہ نبی ﷺ فوق سموات پر پہنچے تو تجلی ربانی اپ کی طرف متوجہ ہوئی۔
Ayah 53:8(ف 3) اس کے معنی میں بھی مفسرین کے کئی قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نبی ﷺ سے قریب ہونامراد ہے کہ وہ اپنی صورت اصلی دکھادینے کے بعد نبی کے قرب میں حاضر ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ نبی حضرت حق کے قرب سے مشرف ہوئے۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا اور یہی صحیح تر ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان) ۔
(ف 4) اس میں بھی چند قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ نزدیک ہونے سے حضور کا عروج وصول مراد ہے اور اترآنے سے نزول ورجوع تو حاصل معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں باریاب ہوئے پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہوکر خلق کی طرف متوجہ ہوئے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ رب العزت اپنے لطف ورحمت کے ساتھ اپنے محبوب سے قریب ہوا اور اس قرب میں زیادتی فرمائی۔ تیسراقول یہ ہے کہ نبی ﷺ نے مقرب درگاہ ربوبیت ہوکرسجدہ طاعت ادا کیا (روح البیان) بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ قریب ہواجبار رب العزت کے (خازن) ۔
Ayah 53:9(ف 1) بعض مفسروں نے آیت کی تفسیریوں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے ایسا نزدیک ہوا کہ فقط دوگزیا اس سے بھی کم کا فرق رہ گیا یہ تفسیر انس بن مالک کی اس حدیث کی بنا پر ہے جو صحیح بخاری ومسلم میں شریک بن عبداللہ کی روایت سے ہے۔ بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل آسمان کے مشرقی کنارہ سے اتر آئے اور زمین پر اتر کر نبی صلی اللہ لعیہ وسلم کے ایسے نزدیک ہوگئے کہ فقط دوگز یا اس سے بھی کم کا فرق رہ گیا۔
Ayah 53:10(ف 2) اکثر علماء مفسرین کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ خاص محمد کو وحی فرمائی (جمل) حضرت جعفر صادق ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی یہ وحی بےواسطہ تھی کہ اللہ کے اور اس کے محبوب کے درمیان کوئی واسطہ نہ تھا اور یہ خدا اور رسول کے درمیان کے اسرار ہیں جن پر ان کے سوا کسی کو اطلاع نہیں بقلی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس رزا کو تمام خلق سے مخفی رکھا اور نہ بیان فرمایا کہ اپنے محبوب کو کیا وحی فرمائی اور محب ومحبوب کے درمیان ایسے راز ہوتے ہیں جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا (روح البیان) ۔ علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ شب میں جو آپ کو وحی فرمائی گئی وہ کئی قسم کے علوم تھے۔ ایک تو علم شرائع و احکام جن کی سب کو تبلیغ کی جاتی ہے ۔ دوسرے معارف الٰہیہ جو خواص کو بتائے جاتے ہیں۔ تیسرے حقائق ونتائج علوم ذوقیہ جو صرف اخص الخواص کو تلقین کیے جاتے ہیں ﷺ اور ایک قسم وہ اسرار جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خاص ہیں کوئی ان کا تحمل نہیں کرسکتا (روح البیان) ۔
Ayah 53:11آنحضرت ﷺ کے دومرتبہ دیکھنے کا ذکر۔
(ف 3) یہاں فرمایا کہ نبی ﷺ کے قلب مبارک نے اسکی تصدیق کی جو چشم مبارک نے دیکھا معنی یہ ہیں کہ آنکھ سے دیکھا دل سے پہچانا اور اس روئیت ومعرفت میں شک وتردد نے راہ نہ پائی اب یہ بات کہ کیا دیکھا بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا لیکن مذہب صحیح یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب تبارک وتعالی کو دیکھا، اور یہ دیکھنا کس طرح تھا چشم سر سے ، یا چشم دل سے، اس میں مفسرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ نبی ﷺ نے رب العزت کو اپنے قلب مبارک سے دو بار دیکھا، (رواہ مسلم) ۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اپنے رب العزت کو حقیقت چشم مبارک سے دیکھا، یہ قول حضرت انس بن مالک اور عکرمہ کا ہے اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام، اور نبی ﷺ کو اپنے دیدار سے امتیاز بخشا۔ کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور حسن عکرمہ کا ہے اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نبی ﷺ کو اپنے دیدار سے امتیاز بخشتا، کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دوبارہ کلام فرمایا اور نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا دومرتبہ دیکھا۔ (ترمذی) ۔
Ayahs 53:12–18معجزہ معراج النبی ﷺ کے بارے قریش کا جھگڑا کرنا۔
(ف 1) مشرکین مکہ شب معراج کے واقعات کا انکار کرتے، اور اس میں جھگڑتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ بیت المقدس کی جن چیزوں کا حال تم لوگوں نے پوچھا، نبی ﷺ نے وہ سب حال تم سے صحیح بیان کردیا، جس کو تم لوگ جھٹلانہ سکے، پھر نبی ﷺ اللہ کی قدرت سے عادت کے خلاف جس طرح ایک دم میں بیت المقدس پہنچ گئے اور بیت المقدس کی سب چیزوں کو دیکھا اسی طرح اس رات میں آسمان کے اور عجائبات بھی انہوں نے دیکھے، ان کی دیکھی ہوئی چیزوں کو اوپری باتوں کے جھگڑے نکال کر جوتم لوگ جھٹلاتے ہو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بیت المقدس کی حالت نے تمہاری سب اوپری باتوں کی جڑاکھیڑ دی ہے اب تمہارا کیا منہ ہے کہ تم دیکھی ہوئی باتوں کے مقابلہ میں اوپری باتوں سے جھگڑا نکال سکو۔ اس آیت میں قریش کے قائل کرنے کا مختصر جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ بیت المقدس کی حالت کی تصدیق کے بعد اہل مکہ کو معراج کی باتوں کو جھٹلانے کا موقع باقی نہیں رہا تھا اس لیے معراج کی رات نبی نے سدرۃ المنتہی کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دوبارہ دیکھا، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے رب العزت کو اپنے قلب سے دومرتبہ دیکھا، اور انہیں سے یہ بھی مروی کہ حضور نے رب العزت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سدرۃ المنتہی ایک درخت ہے جس کی اصل جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور اس کی شاخیں ساتویں آسمان میں پھیلی ہیں اور بلندی میں وہ ساتویں آسمان سے بھی گذر گیا، ملائکہ اور ارواح شہداء ونبی مرسل اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ سوائے رسول اللہ کے یا یہ کہ کسی مخلوق کا علم خواہ نبی ہو، خواہ فرشتہ اور خواہ راسختین فی العلم ، اس سے آگے نہیں جاتا۔
اس سدرہ کے پاس جو جنت ہے وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے رہنے کی جگہ ہے اور شہیدفوں اور مقربین کی روحیں بھی اسمیں رہتی ہیں اس لیے اس جنت کا نام جنت الماوی ہے۔ اس وقت جبکہ نبی ﷺ وہاں پہنچے یہ حال تھا کہ سدرۃ المنتہی کو قدرت الٰہی کے عجیب عجیب کرشمے جن کی عظمت و رفعت کا بیان نہیں ہوسکتا ڈھانپ رہے تھے اور سدرہ ان انوار عجیبہ مخلوقات غریبہ سے چھپی ہوئی تھی وبقولہ پروانے اس پر غیر متناہی لدے ہوئے تھے جیسے شمع کے پاس ہزاروں پروانوں کا ڈھیر ہوتا ہے وہ سونے کی تھی اور بقولے مراد نورتجلیات الٰہی ہے رسول اللہ نے لاکھوں کرشمے دیکھے کروڑوں تماشوں کی سیر کی مگر سوائے مقصود اصلی کے یعنی دیدار ذات مقدسہ الٰہی اس مقام میں جہاں عقلیں حیرت زدہ ہیں آپ ثابت رہے ۔ اور جس نور کا دیدار مقصود تھ ا اس سے بہتر اندوز ہوئے دائیں بائیں کسی طرف ملتفت نہ ہوئے نہ مقصود کی دید سے آنکھ پھیری ، نہ حضرت موسیٰ کی طرح بےہوش ہوئے بلکہ اس مقام عظیم میں ثابت رہے بیشک بیشک رسول اللہ نے شب معراج عجائب ملک وملکوت کو ملاحظہ فرمایا اور آپ کا علم تمام معلومات غیبیہ ملکوتیہ پر محیط ہوگیا، جیسا کہ حدیث اختصام ملائکہ میں وارد ہوا ہے اور دوسری اور احادیث میں آیا ہے۔ (روح البیان)
Ayahs 53:19–30(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون بیان کرسکتا ہے لیکن بجائے اس عقل دوڑانے کے انہوں نے یہ کیا کہ ملک شام اور مسجد بیت المقدس کی جو چیزیں ان لوگوں کی دیکھی ہوئی تھی اور اللہ کے رسول نے معراج کے سفر سے ان چیزوں کو مفصل آگاہ کیا جب بھی ان لوگوں نے نافہمی سے معراج کو سچا نہ جانا اور طرح طرح کے وہم و گمان کے شبہات اس میں نکالتے رہے آخر کو فرمایا کہ راہ پر آنے والوں اور گمراہ ہونے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے یہ لچھن ان لوگوں کے گمراہی کے ہیں اے محبوب ﷺ تم کو ان لوگوں کی باتوں کا ککچھ خیال نہ کرنا چاہیے یوں تو مکہ میں کچھ اوپر تین سوبت تھے جن کی پوجا ہوتی تھی لیکن جن تین بتوں کا نام ان آیتوں میں ہے یہ زیادہ مشہور تھے اس لیے ان کا ذکر فرمایا جس میں یہ تنبیہ ہے کہ اللہ کی قدرت کی تو سینکڑوں نشانیاں اللہ کے رسول نے آسمانوں پر معراج میں دیکھیں اور ہزاروں نشانیاں زمین پر سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں ان بتوں نے کیا پیدا کیا جو یہ بت پرست لوگ ان بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اول تو مشرکین مکہ قیامت کے قائل ہی نہ تھے لیکن قیامت کا قائم ہونا فرضی طور پر مان کر یہ کہتے تھے کہ اگر قیامت قائم ہوئی بھی تو جن بتوں کو ہم پوجتے ہیں یہ مورتیں ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کے عذاب سے چھڑالیں گی ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان تو انسان اللہ کے فرشتے جو ہر وقت اللہ کی جناب میں حاضررہتے ہیں وہ بھی مشرک کی سفارش کے لیے اللہ کی اجازت ممکن نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ صاف فرماچکا ہے کہ جو مشرک بغیر توبہ کے مرجائے گا اس کی بخشش نہ ہوگی۔
Ayah 53:31(ف 1) حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں ہر طرح کی حکومت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بےفائدہ کھیل تماشتے کے طور پر نہیں پیدا کیا ، بلکہ غور سے دیکھو تو زمین وآسمان کا یہ ساراکارخانہ پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں زندگی کا ایک دوسرا غیر فانی سلسلہ قائم کیا جائے جہاں بروں کو انکی برائی کا بدلہ ملے اور نیکوں کے ساتھ ان کی بھلائی کے صلہ میں بھلائی کی جائے آگے نیکوں کی شرح بیان کرتا ہے کہ نیک وہی ہے جو کبیرہ گناہ سے بچتے ہیں اس کی تفصیل میں مختلف حدیثیں اور مختلف علماء کے اقوال ہیں شرک کرنا کہ اس سے بڑھ کر کوئی کبیرہ گناہ نہیں، قتل ناحق ، چوری، زنا، ماں باپ کی نافرمانی، جھوٹی گواہی، دنیا ، جادو کرنا، جہاد سے بھاگ آنا، کسی کو زنا کی تہمت لگانا، غیبت کرنا فرائض وواجبات ترک کرنا وغیرہ وغیرہ کہ جن کی تفصیل بلحاظ تطویل مناسب نہ جان کر انہیں چند معدودہ بالاپر کفایت کی گئی، آگے فرمایا کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں سے بچتے رہیں گے اگر ان سے کچھ صغیرہ گناہ ہوجائیں تو اور نیک عملوں کے طفیل سے وہ صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہوجائیں گے اور اللہ بہت سے چھوٹے موٹے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور توبہ کو قبول کرتا ہے گناہ گار کو مایوس نہیں ہونے دیتا اگر ہر چھوٹی بڑی خطا پر پکڑنے لگے توبندہ کا ٹھکانا ناگہانی۔
Ayah 53:32(ف 1) یعنی اگر تقوی کی کچھ توفیق اللہ نہ دی تو شیخی نہ مارو، اور اپنے کو بہت بزرگ نہ بناؤ وہ سب کی بزرگی اور پاک بازی کو خوب جانتا ہے اور اس وقت سے جانتا ہے جب تم نے ہستی کے اس دائرہ میں قدم بھی نہ رکھا تھا آدمی کو چاہیے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے پھر بطن مادر کی تاریکیوں میں ناپاک خون سے پرورش پاتا رہا، اس کے بعد کتنی جسمانی اور روحانی کمزوریوں سے دو چار ہوا، آخر میں اگر اللہ نے اپنے فضل سے ایک بلند مقام پر پہنچادیا تو اس کو اس قدر بڑھ چڑھ کردعوی کرنے کا استحقاق نہیں ۔
مسئلہ : اس آیت میں ریا اور خود نمائی اور خود سرائی کی ممانعت فرمائی گئی جس کی ابتدا مٹی سے تھی اگر نعمت الٰہی کے اعتراف اور طاعت و عبادت پر مسرت اور اس کے ادائے شکر کے لیے نیکوں کا ذکر کیا جائے تو جائز ہے۔