53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 53:33–41

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

تو کیا تم نے2 ایسے شخص کو دیکھا ؟ جو (دین حق سے) پھر گیا۔

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور (اللہ کی راہ میں) بہت کم خرچ کیا اور سخت دل ہوگیا۔

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس علم غیب ہے جو دیکھ رہا ہے ۔

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو اس کی خبر نہ پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے ۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کی کہ جو احکام پورے بجا لایا۔

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

(اور وہ یہ ہے) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کے (گناہ کا) بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ آدمی کو وہی ملے گا جو کچھ کہ اس نے عمل کیا۔

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی ۔

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کی کوشش کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس جھوتی قراردا جس کو مال دینا ٹھہرا تھا اس کو تھوڑا سادیا اور باقی سے منع کردیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس قرارداد کے رو سے بھی اس نے اپنے آپ کو عذاب سے پورواسبکدوش نہیں کیا اس کے بعد اس بہکانے والے شخص کے حق میں فرمایا کہ کیا اس کو علم غیب ہے کہ ایک شخص کا عذاب دوسرا شخص اپنے ذمہ لے لیوے تو یہ ذمہ داری صحیح ہوجاتی ہے ۔ کیا اس کو ان باتوں کی خبر قرآن میں نہیں ملی جو موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں میں اتری تھی وہ ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت باوفا تھے جنہوں نے خدا کے عہد پورے کیے احکام بندوں کو صاف صاف پہنچائے ، اور اپنی جان ومال کو راہ خدا میں وقف کردیا خواب میں جو ان کو حکم ہوا یعنی بیٹے کا ذبح کرنا وہ پورا کیا، اور اپنا آگ میں ڈالاجانا اور اس کے علاوہ اور مامورات بھی تھے ، غرض فطرت اسلام پر قائم تھے انکے صحف میں یہ بات اتری تھی کہ قیامت کے دن ایک شخص کے گناہوں کا بوجھ دوسرانہ اٹھائے گا وہ شخص اپنا کیا خود بھگتے گا اور اپنے کیے کا پورابدلہ پائے گا یہ نہ ہوگا کہ کسی کی نیکیاں یابدیاں زبردستی دوسرے کو دیدی جائیں یعنی جو کرنی سوبھرنی، بغیر ایمان لائے اور بےعمل کیے وہاں کچھ نہ ملے گا پس دنیا میں غافل نہ رہنا چاہیے وہاں غیروں کی اچھائیاں ہرگز نہ مل جائیں گی۔ ایصال ثواب کابیان۔ ہاں خود اگر کوئی اپنے کسی عمل صالح کا ثواب دوسرے کو پہنچاوے گا صدقہ دے ، نیاز فاتحہ دلائے اس کے نام پر خیرات کرے جس قسم کی بھی ہو تو برابر اس کا ثواب بسبب ہبہ کے دوسرے کو پہنچے گا حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں کی وفات ہوگئی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں کیا نافع ہوگا، فرمایا، ہاں۔ مسائل اور بکثرت احادیث سے ثابت ہیں کہ میت کو صدقات و طاعات سے جو ثواب پہنچایاجاتا ہے پہنچتا ہے اور اس پر علماء امت کا اجماع ہے، اور اسی لیے مسلمانوں میں معمول ہے کہ وہ اپنے اموات کو فاتحہ وغیرہ میں طاعات وصدقات سے ثواب پہنچاتے ہیں یہ عمل احادیث کے بالکل مطابق ہے اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی کیا گیا ہے کہ یہاں انسان سے کافر مراد ہے معنی یہ ہیں کہ کافر کو کوئی بھلائی نہ ملے گی بجز اس کے جو اس نے کی ہو، کہ دنیا ہی میں وسعت رزق یا تندرستی وغیرہ سے اس کا بدلہ دے دیاجائے گا۔ تاکہ آخرت میں اسکا کچھ حصہ باقی نہ رہے اور ایک معنی آیت کے مفسرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ آدمی بمقتضائے عدل وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جو چاہے عطا فرمائے اور ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے کہ مومن کے لیے دوسرا مومن جو نیکی کرتا ہے وہ نیکی خود اس مومن کی شمار کی جاتی ہے جس کے لیے کی گئی ۔ کیونکہ اس کا کرنے والا مثل نائب ووکیل کے اس کا قائم مقام ہوتا ہے ، آگے فرمایا کہ ہر آدمی کے کام جو دنیا میں اس نے کیے ہوں گے وہ عنقریب میزان عمل میں تول کر دیکھے جائیں گے پھر ہر شخص کو پوری سزاجزا ملے گی اچھوں کو اچھی بروں کو بری۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور1 یہ کہ بیشک تمہارے پروردگار کی طرف انتہا ہے ۔

(ف 1) مسند بزاز اور طبرانی میں معاذ بن جبل کی صحیح حدیث ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر ایک انسان کو ضرور قیامت کے دن ان باتوں کے جواب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہوناپڑے گا کہ عمر اور جوانی کس کام میں صرف کی ، عمل کیا کیا کیے ، روپیہ پیسہ کیونکر کمایا اور کہاں خرچ کیا یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 53:43

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور2 یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا۔

خوشی غمی ، زندگی موت کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ (ف 2) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوشی اور غمی کے سبب ایسے پیدا کیے ہیں جس سے اس کی بہت بڑی قدرت ظاہر ہوتی ہے ، اور انسان کو ان سے اللہ تعالیٰ کے پہچاننے کا بڑا موقع ملتا ہے، مثلا بڑے سے بڑے امیر شخص کو عزیزوں کے مرنے یا کسی سخت مرض وغیرہ کے سبب سے کبھی ایسا رنج وغم پیش آجاتا ہے کہ ہر گھری اسے رونے سے کام رہتا ہے اس کا مال اس کے یار مددگار اس کے ہنسی خوشی رہنے کی کوئی صورت نہیں نکال سکتے اور کبھی آدمی کو ایسی ہنسی خوشی سے رہنے کا ایسا سامان گیب سے پیدا ہوجاتا ہے کہ جو بیان سے باہر ہے پس وہی شادی وغم کا مالک ہے بہت لوگوں کو ہنسایا، عیش دیا، بہت کو رولایا، مصیبت ڈالی مسلمانوں کو جنت میں سامان کرامت و سرور دے کر خوش کیا کافروں کو دوزخ میں انواع عذاب میں مبتلا کردیا۔
Ayah 53:44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور3 یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے ۔

(ف 3) ہر شخص کی عمر پوری ہوجانے کے بعد اس کامرن اور اس میں انسان کالاچار ہونا، یہ تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے پھر جس کی قدرت میں یہ ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مرنے کے بعد نیک وبد کے حساب وکتاب کے لیے انسان کو پھر دوبارہ پیدا کرے جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ خدا کو جھٹلاتے ہیں قیامت کے دن جس کا خمیازہ بھگتیں گے۔
Ayahs 53:45–46

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور1 یہ کہ اس نے دو جوڑے پیدا کیے نطفہ سے نر اور مادہ ۔

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

جبکہ (رحم میں) ڈالا جائے ۔

(ف 1) ایک قطرہ منی عورت کے رحم میں جا کر کبھی اس سے لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی یہ بھی اللہ کی قدرت ہے جس میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ورنہ جو لوگ لڑکی کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھتے ہیں وہ لڑکی کے نہ پیدا ہونے کا ضرور کوئی علاج کرتے۔
Ayah 53:47

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور2 یہ کہ دوسری بار زندہ کرنا (حسب وعدہ ) اس کے ذمہ ہے ۔

(ف 2) مطلب یہ ہے کہ جیسے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے سب کو بسایا ویسا ہی ان سب کو دوسری زندگانی میں بھی ضرور لے جائے گا، یعنی مرے بعد اٹھائیگا یا یہ کہ جب اس نے اپنے کلام میں انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے تو اس پر اس وعدہ کا پورا کرنا لازم ہے۔
Ayah 53:48

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور3 یہ کہ اس نے غنی کیا اور (اس نے ہی وہ ) مال دیا (جو جمع کیا جاتا ہے ) ۔

(ف 3) دنیا میں امیروغریب بھی اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہیں کہ کسی کے پاس حد سے زیادہ دولت ہے اور کوئی غریبانہ مال گزر کے قابل رکھتا ہے پس جس کو چاہا امیر کیا جسے چاہا غریب۔
Ayah 53:49

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ وہی4 ستارہ شعری کا پروردگار ہے ۔

(ف 4) شعری ایک بہت بڑاستارہ ہے جس کی عرب کے بعض قبیلے اسلام سے پہلے پوجا کرتے تھے اس ستارے کی چال اور ستاروں سے الگ ہے اور ستاروں کی چال آسمان کی چوڑائی میں ہے اور یہ ستارا آسمان کی لمبائی کو طے کرتا ہے اور اس نادر بات کو اس ستارے میں دیکھ کر ایک شخص ابوکبشہ نے عرب میں اس ستارے کی پرستش کارواج پھیلایا، جو قبیلے شعری کی پوجا کرتے تھے ، ان کو اس آیت میں یہ تنبیہ فرمائی کہ سب کا رب اللہ ہے اس ستارے کا رب بھی اللہ ہی ہے لہذا اسی کی عبادت کرو۔
Ayahs 53:50–54

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور 5 یہ کہ اسی نے پہلی عاد (یعنی قوم ہود) کو ہلاک کیا۔

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود (یعنی صالح کی قوم) کو (ان کے کفر کی وجہ سے) ہلاک کیا۔ پس کسی کو باقی نہ چھوڑا۔

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا۔ بیشک وہ (ان سے بھی) زیادہ ظالم اور سرکش تھے۔

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور اس نے الٹنے والی (یعنی قوم لوط کی) بستی کو نیچے گرا دیا۔

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر بستیوں پر (عذاب) چھایا جو کچھ چھایا (یعنی نشان والے پتھر برسے)

(ف 5) چند پچھلی قوموں کے عذاب میں پکڑے جانے اور ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر مشرکین کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی اور اللہ کے رسول کی مخالفت سے باز نہ آئیں تو ان ہی قوموں کا سا انجام ان کا ہوگا، ان قوموں کے قصے تفصیل سے اوپر گزچ کے ہیں۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

پس اے انسان1 تو اپنے پروردگار کی کس کس نعمت میں شک کرے گا۔

(ف 1) اے انسان تو خدا کی کس کس نعمت میں جھگڑا کرنا ہے۔
Ayahs 53:56–62

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ نبی اگلے ڈرانے والوں2 کی طرح ایک ڈر سنانے والے ہیں۔

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

(ان کا کہا مانو کیونکہ) نزدیک آنے والی (قیامت) قریب آپہنچی۔

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اللہ کے سوا اس کا کوئی ظاہر کرنے والا نہیں۔

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

پس کیا (ایسے خوف کی باتیں سن کر) تم اس کلام الہی سے تعجب کرتے ہو۔

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور (اس کے وعدہ وعید سن کر) ہنستے ہو اور (خوف عذاب سے) روتے نہیں۔

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم کھیل میں مست ہو۔

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

پس (اسی میں بہتری ہے کہ ) تم اللہ کو سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو۔

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح اول ڈر سنانے والے انبیاء بھیجے گئے ہیں حضرت ہود، صالح، نوح، ابراہیم، موسی، عیسیٰ ، انہیں میں سے ایک یہ بھی یعنی محمد ﷺ کوئی نئی بات نہیں ۔ پھر نبی آخرالزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے ۔ اس کے بعد حشر کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے ، اس لیے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے ، جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اسی طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیاجائے گا قیامت کی سختیاں جب سرپرآجائیں گی تو سوا اللہ تعالیٰ کے ان کو کوئی ٹال نہ سکے گا، مشرک کے لیے خدا کا وعدہ ہے کہ اس دن اس کی کوئی سختی نہ ٹالی جائے گی، منکر قیامت یہ کہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اس کا جواب دیتا ہے کہ اس کو اللہ کے سوا کوئی ظاہری نہیں کرسکتا کہ وہ کب تک ہوگی، قیامت کا دن اللہ تعالیٰ نے اس مصلحت سے مخفی رکھا ہے کہ اگر اس کا وقت بتادیاجاتا تو اس وقت دور دراز سمجھ کر لوگ غافل ہوجاتے ہیں۔ اب جو ابہام ہے تو ایماندار کو خوف لگارہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے پہلے جو کچھ کرنا ہے کہ کرلینا چاہیے پھر مہلت کہاں ، آگے فرمایا کہ کیا یہ قیامت کے دن سے تعجب کرتے ہیں کہ بھلایہ عالم جو ہزاروں برسوں سے ہے فنا ہوجائے گا اور برآں مزید یہ کہ ہنستے اور روتے نہیں ، حالانکہ برعکس ہونا چاہیے۔ جب اتنی بڑی مصیبت سرپرسوار ہے تو اس کو تصور کرکے رونا چاہیے بالکل غفلت میں گرفتار ہو، لہو ولعب میں مبتلا ہو جہاں چند دنوں رہنا ہے وہاں کے لیے ان تدابیر جائز وناجائز میں گرفتار ہیں کہ دوسرے جہان کا ہوش نہیں کہ کہیں جانا بھی ہے اور عمر ہے کہ اپنی منازل کو بڑی تیزی کے ساتھ طے کررہی ہے پس توبہ کرو ایمان لاؤ توحید کو مانو خدا کے لیے سجدہ کرو نماز پر ھو کہ اس میں سجدہ بھی ہے ورسجدہ بندے کا خدا سے نیاز مندی کا پورا اظہار ہے اور سجدہ نماز ہی موقوف نہیں بلکہ ہر طرح سے عبادت کروتسبیح وتہلیل و استغفار ذکر ومراقبہ خیرات وصدقات سب کو شامل ہے۔