54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

وہ گھڑی قریب آتی جا رہی [ ہے اور چاند پھٹتا جا رہا ہے

وہ گھڑی قریب آپہنچی اور چاند پھٹ گیا 1 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کے معمولات میں سے یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اکثر سورة (ق) اور سورة (القمر) کو پڑھا کرتے تھے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز میں بھی اور صحابہ کرام ؓ کے اجتماعات میں بھی ان دونوں کی اکثر تلاوت فرمایا کرتے کیونکہ ان دونوں سورتوں میں وعدے وعید ‘ ابتدائے آفرنیش اور دوبارہ زندگی کا جی اٹھنا اور دلائل توحید اور اثبات رسالت کا ذکر ہے۔ قیامت کے آنے کا ذکر پیچھے سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اور اس کی وضاحت سورة النحل 16 کی آیت 1 میں اور سورة الانبیاء کی آیت اول میں واضح طور پر گزر چکی ہے جیسا کہ آپ عروۃ الوثقیٰ ‘ جلد پنجم اور جلد ششم میں پڑھ چکے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور عصر کا وقت ہوگیا یا یہ کہ سورج غروب ہونے کا وقت قریب آگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی مقررہ مدت میں سے اب اس قدر وقت باقی ہے جتنا اس دن سے سورج غروب ہونے میں باقی ہے مطلب یہ ہے کہ بہت زمانہ گزر چکا اور اب جو باقی ہے گزرے ہوئے کے وقت سے بہت ہی کم ہے۔ بارہ گھنٹے کا متوسط دن بھی اگر آپ شمار کریں تو گویا ایک دن کا چوبیسواں حصہ کہہ لیں اور ظاہر ہے وہ آدھا گھنٹہ ہوگا۔ دنیا جو اربوں سال پرانی بڑھیا ہے اس کی عمر کا بیسواں پچیسواں حصہ بھی اگر اپ باقی سمجھیں تو اس کا بقیہ کتنا ہوگا ؟ واضح ہوجاتا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ اس لئے ارشاد فرمایا کہ گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں سے ہر ایک نبی و رسول کسی ایک بستی ‘ ایک گائوں ‘ ایک شہر ‘ ایک قوم یا ایک علاقہ خی لیی ہوتا تھا لیکن آپ ﷺ کو پوری دنیا کیلئے مبعوث فرمایا گیا گزشتہ قوموں ‘ بستیوں اور علاقہ کے لوگوں نے جب وقت کے نبی و رسول کی مخالفت کی تو ایک حد تک نبی و رسول اس کو برداشت کرتے رہتے اور جب ان کی قوم کی مہلت کا وقت پورا ہوجاتا تو ان کی قوموں ‘ بستیوں اور علاقوں کو عذاب کی لپیٹ میں دیا جاتا اور وقت کے نبی و رسول کے ساتھ اس کے حواریوں کو بچالیا جاتا لیکن جونہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے نبوت و رسالت کا سلسلہ رسول اللہ ﷺ پر لا کر ختم کردیا تو اب آپ ﷺ کے مخالفین و معاندین کے لئے سنت اللہ کے مطابق ایک نئے قاعدے کا اعلان کردیا کہ اب دنیا کے مختلف حصوں اور گوشوں میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کا سلسلہ قائم کیا جا رہا ہے اور مقصد ان عذابوں سے لوگوں کو وعظ و درس دینا ہے کہ وہ اپنے آپ کو درست کرلیں اگر وہ کرنا چاہیں اور اس کے بعد پوری دنیا کا نظام درہم برہم کردیا جائے گا جس طرح قبل ازیں قوموں ‘ بستیوں ‘ گائوں اور علاقوں کے نظام کو درہم برہم کی اجاتا رہا چونکہ گزشتہ نبیوں اور رسولوں کا علاقہ محدود تھا ‘ اس کا عذاب بھی محدود رہا اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا علاقہ پوری دنیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جب تک آپ ﷺ کی نبوت قائم ہے اس دنیا کا نظام اسی طرح قائم رہے اور آپ ﷺ کی نبوت جاری وساری رہے تاآنکہ آپ ﷺ ہی کی نبوت کے دور میں اس نظام کا خاتمہ کردیاجائے اس بات کی وضاحت زیر نظر آیت میں بھی کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آج آئی یا کل آئی بلکہ اس کی وضاحت آپ ﷺ نے عصر کے بعد کے وقت کا مقابلہ پورے دن کے وقت سے کر کے اس کے پیریڈ کا ایک طرح سے تعین فرما دیا اور مراد اس سے فقط یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت کے بعد کوئی نئی اور پرانی نبوت نہیں چلے گی بلکہ آپ ﷺ کی نبوت ہی کے دور میں دنیاوی زندگی کا دور بھی ختم ہوجائے گا۔ اس لئے کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ قرآن کریم میں یہ آیت آئے ہوئے چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر رہا ہی اور ابھی تک وہ وقت جو قریب آگیا کیوں نہیں آیا یا اس معاملہ میں شک کیا جائے کہ شاید وہ وقت آئے گا بھی یا نہیں ؟ اس لئے سمجھ لینا چاہئے کہ آپ ﷺ کی نبوت کے دوران بحمد الللہ بہت کچھ ہوا اور ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے اور اس اربوں ‘ کھربوں سال پرانی دنیا کے ختم ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے وہ اس کی عمر کی نسبت سے ہے نہ کہ ہماری انسانوں کی عمر کی نسبت سے اس بات کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کے باعث لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوتے رہے اور ہو رہے ہیں حالانکہ اس غلط فہمی کا کوئی امکان نہیں تھا بشرطیکہ تفہیم صحیح ہوجاتی۔ ہاں ! یہ ضروری ہے کہ اس کے خاتمہ کا وقت قریب آ رہا ہے اور یہ بھی کہ ہر وہ شخص جو اس دنیا میں آگیا اس کے ختم ہونے کا وقت بھی دن بدن قریب ہی آ رہا ہے اگرچہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ پیدا ہونے والا بڑا ہو رہا ہے لیکن حقیقت اس کی یہی ہے کہ ہر متنفس روز بروز ایک ایک سانس کی صورت میں کم ہوتا جا رہا ہے اور کتنے ہی انسان تھے جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ‘ ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ان کی قیامت یقینا آگئی کیونکہ ان میں سے ایک بھی نہیں جو دوبارہ اس دنیا میں لوٹ کر آئے اگرچہ پیٹ کے پجاری ان کو ہر جمعرات اور جمعہ کو لانے اور آنے کا اعلان کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں لیکن جانے والوں میں نہ کوئی آیا اور نہ ہی کبھی آئے گا نہ جمعرات کو اور نہ جمعہ کو۔ اس دوران جب آپ ﷺ وعظ فرما رہے تھے تو وعظ لمبا ہوگیا یا کسی دوسرے موقعہ پر جب کہ رات کا سماں شروع ہونے کو تھا یعنی چودہ پندرہ چاند کی ہوگی کہ اپ ﷺ نے بطور پیش گوئی چاند کے پھٹنے کا اعلان فرمایا اور لوگ اس انتظار میں چاند کی طرف دیک ہی رہے تھے چاند طلوع ہوا اور طلوع ہوتے ہی پھٹنا اور شق ہونا بھی شروع ہوگیا اور یہ ماجرا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یہ اس زمانہ کی بات ہے جب چاند کے پھٹنے اور اس طرح دوسرے سیاروں کے شق ہونے کا علم معرض وجودد میں نہیں آیا تھا۔ لاریب چاند گرہن اور سورج گرہن یعنی کسوف و خسوف ہوتا تھا لیکن ایک تو ایسی باتیں اکثر یاد ہی نہیں رہتیں اور دوسرا بطور پیش گوئی اس کا کبھی اعلان نہیں ہوا تھا بلکہ آپ ﷺ کے اعلان کرنے میں یہ بات مضمرتھی کہ اب آپ ﷺ کی نبوت کے دوران اس علم کا انکشاف بھی ہوگا اور باقاعدہ اس علم کو ترویج ہوگی اور اس لئے دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف اوقات کے لئے یہ صورت رونما ہوا کرے گی اور آج ہم اپنی آنکھوں سے یہ بات روزمرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اتنے بج کر اتنے منٹ پر فلاں فلاں ملک میں کسوف و خسوف دیکھا جائے گا اور وہ فی الواقع دیکھا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ کیسے ہے ؟ جہاں اس کی بیشمار توجیہات کی جاتی ہیں اور باتیں بنائی جاتی ہیں۔ وہاں اسلام اس کے لئے ایک اور صرف ایک اعلان جاری کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے یہ سب سیارے خواہ وہ سورج ہو یا چاند اور دوسرے ستارے سب ایک دوسرے کے ساتھ خاص بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اور اسی بندھن کے تحت یہ سارا نظام چل رہا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی اس نظام کا چلانے والا ہے جس نے اس کا اتنا مضبوط نظم قائم کیا ہے کہ اس میں ایک سیکنڈ میں بھی کبھی فرق نہیں آیا اور اس سے اندازہ کر کے لوگوں نے اصول قائم کر لئے ہیں۔ اور ہزاروں سال کے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس نظام کے قائم کرنے والا صرف اور صرف ایک خالق و ناظم ہے اور وہ اللہ رب کریم کی ذات ہے اور یہ بات بھی لازم و ضروری ہے کہ جس چیز کا شروع ہے اس کا آخر بھی ہے۔ اگر اس دنیا کا شروع ہم کو تسلیم ہے تو آخر سے انکار کرنا سراسر زیادتی ہے جو جہالت اور کم علمی کی دلیل ہے۔ اب قابل غور امر یہ ہے کہ آپ ﷺ کا اعلان کرنا اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے وقت پر چاند کا شق ہونا سوفیصد صحیح اور درست ہے لیکن اس کے متعلق مفسرین نے اور صحاح کے باہر کی روایات نے بہت کچھ مبالغہ سے کام لی ا ہے۔ کسی نے کہا کہ آپ ﷺ کے اشارہ سے چاند شق ہوگیا ‘ کسی نے کہا کہ وہ آپ ﷺ کی بغل کے نیچے سے گزر گیا اور کسی نے کہا کہ ایک ٹکڑا جنوب کو اور دوسرا شمال کو چلا گیا اور پھر آپس میں جڑ گیا اور جب ان مبالغہ کرنے والوں کی کسی نے تردید کی تو اس پر معجزات کے انکار کا الزام لگایا گیا اور اس کے طرح طرح سے نام رکھے گئے اور باتیں بنائی گئیں حالانکہ شاہ ولی اللہ (رح) کے بیان کے مطابق فی نفسہ اس کا معجزات سے کوئی تعلق نہیں ہے ہاں ! معجزہ اس لحاظ سے ٹھہرا جو آپ ﷺ نے اس کا اعلان کردیا اور آپ ﷺ کے اعلان کے مطابق وہی کچھ ہوا جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا اس لئے کہ جو کچھ آپ ﷺ نے فرمایا وہ وحی الٰہی تھی لیکن مخالفین و معاندین نے جب یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی تو دیکھ لینے کے بعد بھی اس کو جادو سے تعبیر کیا اور کہا تو یہی کہا کہ اب محمد ﷺ کا جادو آسمان تک کی چیزوں کو متاثر کرنے لگا ہے۔ اب ہم ان روایات کا مختصر ذکر کریں گے جن میں شق القمر کا ذکر آیا ہے تاکہ مبالغہ آرائوں کی مبالغہ آرائی کی وضاحت ہوجائے اور حقیقت قارئین کے سامنے ظاہر ہوجائے۔ (1) (عن ابن مسعود ؓ فقال انشق القمر علی عھد رسول اللہ ﷺ فرقتین فرقۃ فوق الحبل و فرقۃ دونہ فقال النبی ﷺ اشھدو) (بخاری کتاب التفسیر سورة القمر) ” ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں چاند شق ہوا دو حصوں میں نظر آتا تھا ایک حصہ پہاڑ کے اوپر نظر آتا تھا اور دوسرا حصلہ اس کے سوا تھا۔ اس وقت آپ ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ گواہ رہو۔ “ جس سے خود بکود اس کی وضاحت ہو رہی ہے کہ آپ ﷺ نے چاند کے شق ہونے کا اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبل از وقت بتایا تھا اور جب وہ شق ہوگیا تو آپ ﷺ نے لوگوں کو فرمایا کہ گواہ رہو کہ جو کچھ میں نے کہا وہ اللہ رب کریم کا کہا ہوا تھا اور میں نے اسی کے بتانے سے تم کو بتایا جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو کچھ میں تم سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں وہ اللہ رب کریم ہی کا پیغام ہے جو میں تم تک پہنچا رہا ہوں۔ اب اگر تم تسلیم کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی بات مانو گے اور اگر شک کرو گے تو اللہ رب کریم کی بات میں شک کرو گے۔ اس لئے یہ معاملہ تمہارا اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا ہے۔ (1) (عن عبداللہ قال انشق القمر و نحن مع النبی ﷺ فصار فرقتین فقال لنا اشھدوا ) (بخاری کتاب التفسیر سورة القمر) (2) (عن انس ؓ قال سال اھل مکتہ ان یریھم ایتہ فاراھم انشقاق القمر) (بخاری کتاب التفسیر ‘ تفسیر سورة القمر) ” انس ؓ اس وقت موجود تو نہ تھے جیسا کہ اہل علم کو معلوم ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اہل مکہ نے کوئی نشانی آپ ﷺ سے طلب کی تو آپ ﷺ نے انشاق القمر کی خبر دی جو سب نے اپنے وقت پر پوری ہوتے دیکھی۔ “ جیسا کہ اوپر اس کی وضاحت آ چکی ہے۔ (3) (عن انس ؓ قال انشق القمر فرقتین ) (بخاری کتاب التفسیر ‘ تفسیر سورة القمر) (4) (عن عبداللہ قال انشق القمر علی عھد رسول اللہ ﷺ بشقتین فقال رسول اللہ ﷺ اشھدوا ) (صحیح مسلم باب انشقاق القمر) (5) عن عبداللہ بن مسعود رصی اللہ عنہ قال بینما نحن مع رسول اللہ ﷺ بمنی اذا انفلق القمر فلقتین فکانت فلقۃ وراء الحبل و فلقۃ دونہ فقال لنا رسول اللہ ﷺ اشھدوا ) (صحیح مسلم باب انشقاق القمر) (6) (عن عبداللہ قال انق القمر علی عھد رسول اللہ ﷺ فلقتین فستر الجبل فلقۃ فوق الجبل فقال رسول اللہ ﷺ اللھم اشھد ) (صحیح مسلم باب انشقاق القمر) (7) (عن ابن عمر ؓ عنھما عن النبی ﷺ مثل ذلک عن شبۃ نحو حدیچہ غیر ان فی حدیث ابن عدی فقال اشھدوا واشھدوا) (صحیح مسلم باب انشقاق القمر) (8) (عن انس ؓ قال انشق القمر فرقتین و فی حدیث ابی دائود انشق القمر علی عھد رسول اللہ ﷺ (صحیح مسلم باب انشقاق القمر) (9) (عن ابن عباس ؓ عنھما قال ان القمر انشق علی زمان رسول اللہ ﷺ (صحیح مسلم باب انشقاق القمر) قابل غور بات پر غور کرنے ہی سے ساری مشکلات خود بخود حل ہوجاتی ہیں۔ لوگوں کی سنی سنائی باتوں کو اگر ذہن میں جما دیا جائے اور پھر جو اشارہ بھی ملے گا اس کو اس جمی ہوئی بات کے مطابق ہی سمجھا جائے گا کیونکہ جو تفہیم ایک بار ہوجاتی ہے خواہ وہ کس طرح ہوجائے پھر انسان اکثر و بیشتر غور و فکر کو بالکل ترک کردیتا ہے اور اس سنی ہوئی بات کو مزید پختہ کرنے کا اس کو موقع مل جاتا ہے لیکن فی نفسہ بات کیا ہے اس پر بہت کم غور کیا جاتا ہے۔ آپ کے غور کے لئے احادیث کے الفاظ کی نشاندہی ہم کر رہے ہیں تاکہ بات کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں شق القمر کا واقعہ ہوا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک بار چاند پھٹا۔ چاند پھٹا اور دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک حصہ نظر آتا تھا اور دوسرا نظر نہیں آتا تھا۔ ایک حصہ پہاڑ کے اس حصہ سے نظر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ گواہ رہو گواہ رہو۔ آپ ﷺ نے ہماری توجہ چاند کی طرف مبذول کرائی۔ جبکہ وہ پھٹ چکا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! گواہ رہو۔ ایک بار رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی چاند پھٹا اور آپ ﷺ نے ہماری توجہ اس کی طرف مبذول کرائی۔ اگر آپ مزید غور کرنا چاہیں تو آپ کی تفہیم کے لئے وہ الفاظ اور ان کے مشقات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرائی جاتی ہے کہ ۔ (انشق) کا اصل مادہ ش ق ق ہے اور اس مادہ کے الفاظ جو قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ان پر ایک بار آپ نظر کرلیں۔ (شققنا) (عبس : 26) (انشقت) (الرحمن : 37) (تنشق ) (مریم : 90) (تشق) (الفرقان : 25) (ق : 44) (یشقق) (القبرہ : 74) (اشق) (الرعد : 34) (تنشق) (القصص : 27) (بشق ) (النحل : 7) (الشقۃ) (التوبہ : 42) (شاقوا) (الانفال : 13) (محمد : 32) (الحشر : 4) (تشاقون) (النحل : 27) (یشاق ) (الحشر : 4) (یشاقق) (النساء : 115) (الانفال : 13) (شقاق) البقرہ : 137) (البقرہ : 176) (النساء : 35) (الحج : 53) (ص : 2) (فصلت : 52) (شقاقی) (ھود : 79) سا کے مترادف دوسرا لفظ جو احادیث میں آیا ہے وہ (انفلق) ہے۔ اور یہ مادہ بھی قرآن کریم میں بیان ہوا ہے جو فی الواقع (انشقاق) کے مرادف ہے۔ (انفلق) (الشرا : 63) (فالق) (الانعام 95 : 96) (انفلق ) (الناس : 1) اور اگر مشاہدہ کرنا ہو تو زندگی میں کتنی بار اس کا اجراء ہوتا رہتا ہے اور کبھی کسوف خسوف میں پورا چاند یا سورج متاثر ہوتا ہے اور کبھی ایک طرف سے اور کبھی درمیان سے اور دونوں اطراف سے نظر آتا رہتا ہے اور مختلف جگہوں پر مختلف طریقوں سے نظر آتا ہے اور مختلف جگہوں پر مختلف اوقات میں ایسا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کو یہ واقع مکہ میں پیش آیا اور آپ ﷺ نے بطور پیش گوئی اس کی پہلے لوگوں کو خبر دی اور آپ ﷺ کی خبر دینے کے مطابق ایسا ہوا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی توجہ اس لئے اس طرف مبذول کرائی اور اس کے بعد جب بھی ایسا سلسلہ ہوا خصوصاً مدینہ طیبہ میں تو آپ ﷺ نے صلوٰۃ کسوف و خسوف پڑھی اور صحابہ ؓ کو پڑھنے کا حکم دیا اور اس کی جماعت بھی کرائی اور اس نماز میں ایک رکوع اور دو سجدوں کی بجائے کئی کئی رکوع اور کئی کئی سجدے بھی کئے اور اگر کبھی زیادہ وقت کے لئے یہ سلسلہ جاری رہا تو آپ ﷺ نے دعائیں بھی مانگیں اور اس سے توحید الٰہی اور وقوع قیامت پر بھی استشہاد کیا۔ باب الکسوف اور باب الخسوف کتاب الصلوٰۃ سے نکال کر ملاحظہ کریں۔ ہمیں معلوم ہے کہ علمائے اسلام نے اس کی تشریح میں کیا کچھ کہا اور کس کی وادی میں وہ گھومے اور پھرے اور کہاں کہاں کے چکر کاٹے اور کیا کیا اس سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور صحابہ کرام ؓ کے ان بیانات کی جو اوپر ہم نے ذکر کئے ہیں کیا کیا تشریح فرمائی ہے لیکن ہم ان تشریحات پر مزید حاشیے نہیں چڑھانا چاہتے اور نہ ہی ان کو موضوع بحث بنانا چاہتے ہیں کیونکہ پہلے جو کچھ ہوا ہے وہ بھی ان حواشی ہی کے مرہون منت ہوا ہے۔ ہم نے جو سمجھا ہے وہ بیان کردیا ہے اور کسی صاحب پر ہم قدغن لگانے کے لئے تیار نہیں اگر آپ کی تفہیم کچھ اور کہتی ہے یا چاہتی ہے یا کسی دورسرے نظریہ کو آپ پسند کرتے ہیں تو جو آپ پسند کرتے ہیں مبارک ہو۔ ہاں ! ہم نے اپنا موقف بغیر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کے خوف کے بیان کردیا ہے۔ سیاروں کے پھٹنے اور معدوم ہونے یا ان کے حصص میں کمی بیشی کے حالات بیان کرنے کے لئے بھی ہم تیار نہیں کیونکہ یہ موضوع بحث نہیں ہے۔ ہاں ! آپ کی پیش گوئی میں ان علوم کا معرض وجود میں آنا ہم تسلیم کرتے ہیں جو اس وقت آ رہے ہیں اور آئندہ مزید آئیں گے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے محمد رسول اللہ ﷺ جیسے رسول کی امت میں ہم کو پیدا کیا اور ان ترقیوں کو دیکھ کر رب کریم کی قدرتوں پر ہمارا مزید ایمان پختہ ہوا۔ فالحمد للہ علی ذلک۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر یہ کوئی نشانی دیکھ لیتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے

وہ جب کوئی نشانی دیکھ لیتے ہیں تو اس کو جادو کہہ کر ٹال جاتے ہیں 2 ؎ گزشتہ آیت میں جس نشانی کا ذکر کیا گیا ہے وہ نشانی کیا ہے ؟ وہ شق قمر کی نشانی ہے جس کی پیش گوئی آپ ﷺ نے فرمائی تھی اور پیش گوئی کا تعلق اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ہوتا ہے کہ نبی و رسول کو جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف بیان کرنے کا حکم ملا وہ اس نے کہہ دیا۔ آپ ﷺ نے جن لوگوں کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی تو لوگوں نے باوجود اس کے کہ اس کو بروقت اسی طرح دیکھا جو آپ ﷺ نے فرمایا لیکن اس کی تصدیق کرنے کی توفیق نہ ہوئی بلکہ انہوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہا تو یہ کہا کہ (ھذا من سحر ابن ابی کبشۃ) یہ ابی کبشہ کے بیٹے کی نظر بندی کا اثر ہے۔ اس نے تمہاری آنکھوں پر جادو کردیا ہے یا یہ کہ اس کا جادو اب افلاک کے سیاروں پر بھی اثر اندا زہونے لگا ہے۔ (سحر مسمر) ایسا جادو جو مضبوط اور پکا ہوا۔ استمرار کے معنی ہیں ہمیشہ ایک ہی روش پر قائم رہنے والا اور بہت مضبوطی سے قائم رہنے والا۔ یعنی جو جادو کا سلسلہ اس نے مسلسل چلا رکھا ہے یہ بھی اس کا ایک حصہ ہے جو بہت ہی مہارت سے دکھایا گیا ہے۔ وہمی مفروضے گھرنے والے ہمیشہ اس طرح کی باتیں گھڑتے رہتے ہیں اور جس بات کا ایک بار رواج ہوجاتا ہے وہ ہر جگہ نہایت احتیاط سے تسلیم کی جاتی ہے اور لوگ کبھی اس کے کہنے سے باز نہیں آتے۔ بعض جان بوجھ کر اس طرح کے وہمی مفروضے گھڑتے اور بیان کرتے ہیں اور بعض چلتی بات کو روکنا گناہ سمجھتے ہیں اور جب سب لوگ ایک بات کہتے یا کرتے چلے آ رہے ہوتے ہیں تو ان چلتی باتوں کو وہ آگے چلاتے رہتے ہیں یہی بات ان کی تھی کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے ان کے رواجات کے خلاف اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کی اور ان کو بھی اسی پابندی کا درس دیا اور ان کے رواجات کے خلاف کہنا اور کرنا شروع کیا تو وہ جزبز ہوگئے اور انجام کار انہوں نے آپ ﷺ کو ان پیش گوئیوں کی بناء پر جو آپ ﷺ اللہ کے حکم سے بیان کرتے تھے اور جب وہ من و عن پوری ہوجاتی تھیں تو بجائے اس کے کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتے انہوں نے آپ ﷺ کو جادوگر کہنا شروع کردیا جیسا کہ زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں پر چلتے رہے (حالانکہ) ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے

انہوں نے آپ ﷺ کو جھٹلایا اور اپنی خواہشوں پر چلتے رہے 3 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کردی۔ فرمایا کہ حق کو یا یوں کہو کہ نبی کریم ﷺ کو اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو انہوں نے جھٹلایا اور حق کی یا پیگمبر اسلام ﷺ کی اتباع و پیروی کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کردی اور کرتے ہی چلے گئی اور پھر کیا یہ معاملہ ہمیشہ اسی طرح چلتے رہنا چاہئے تھا اور اس کا کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہونا چاہئے تھا ؟ کیوں نہیں جب کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ ہر عمل کی ساتھ اس کا نتیجہ وابستہ کردیا گیا ہے اور یہ بات حقیقت بھی ہے معلوم ہوگیا کہ جب تک انسان ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک نہ کر دے کوئی بات بھی اس کی ہدایت کے لئے کافی نہیں ہوسکتی اور لاریب یہ بھی صحیح اور درست ہے کہ ہدایت ایسی چیز نہیں جو بغیر کسی کی طلب کے اس پر بزور ٹھونس دی جائے ہمیشہ سے سنت اللہ یہی جاری وساری ہے کہ تلاش کرنے والا ہی پاتا ہے جو تلاش نہیں کرتا اس کو ہدایت کبھی نصیب نہیں ہوتی بلکہ صرف اسی کو بخشی جاتی ہے جو خود اس کا جو یا اور طالب ہوتا ہے کفار جب ایمان لانی کے لئے تیار ہی نہ تھے تو ان کو ایمان سے آخر کیوں سرفراز کیا جاتا ؟ وہ خود تو کسی قیمت پر بھی ایمان لانے کے لئے تیار نہ تھے اور عقل و فکر کا چراغ انہوں نے خود گل کردیا تھا اور ان کا مقولہ تھا کہ دین میں عقل کو دخل نہیں حالانکہ قرآن کریم نے بار بار تصریح کی ہے کہ میں تو محض عقل و فکر کرنے والوں ہی کے لئے آیا ہوں اور بہت بدبخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے دلوں پر قفل لگا رکھے ہیں اور عقل و فکر کی بات نہ خود کرنے کے لئے تامر ہیں اور نہ ہی سننے کے لئے اور پھر ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ بھی وہی نکلنا چاہئے تھا جو نکل آیا اور انجام کار وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
Ayah 54:4

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کے پاس وہ خبریں پہنچ چکی ہیں جن (خبروں) میں بڑی عبرت ہے

ان کے پاس خبریں پہنچ چکی ہیں کہ ان میں لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے 4 ؎ (مزدجر) مصدر میمی یا ظرف مکان از دجار مصدر باب افتعال زجر مادہ۔ بازگشت ‘ جھڑ کی یا جھڑکنی اور روکنے کا مقام۔ یہ لفظ اصل میں مزتجر تھا تا کو ” د “ سے بدل دیا گیا۔ ازدجار لازم بھی ہے۔ رک جانا اور باز رہنا اور متعدی بھی باز رکھنا اور روک دینا۔ انز جار باب انفعال لازم ہے رک جانا ‘ ٹھہر جانا۔ زجر کسی کو روکنا ‘ باز رکھنا اور جھڑکنا۔ مطلب یہ ہے کہ مخالفین و معاندین اگر درس عبرت حاصل کرنا چاہیں تو ان کے لئے گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکار پڑھ کر سنائے گئے تھے اور ان میں ان لووں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا بہت سامان موجود تھا اگر وہ عبرت حاصل کرنا چاہتے لیکن انہوں نے عبرت حاصل کرنے کی بجائے حقیقت کو جھٹلانا شروع کردیا اور پھر جھٹلاتے ہی چلے گئے اور گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کی کہانی سے انہوں نے درس عبرت کی کوشش ہی نہ کی۔
Ayah 54:5

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

بڑی حکمت (کی بات تھی) پھر بھی ان کو ڈرانا کچھ فائدہ نہیں دیتا

حکمت ان کو پہنچ گئی لیکن انہوں نے ڈرانے والوں سے کوئی فائدہ نہ پایا 5 ؎ گزشتہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کی داستانیں جو ہم نے ان کو بار بار سنائیں اور اشارات و استعارات ان کی طرف کئے وہ ایسی نصیحتیں کیں تھیں کہ اگر یہ لوگ چاہتے تو ان سے نصیحت حاصل کرسکتے تھے اور اپنی آخرت کو سنوار سکتے تھے خصوصاً جونہی نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد ہوئی اور آپ ﷺ نے اپنی بعثت کا اعلان کیا اور جو اخلاق و کردار سے سبق ان کو دیا ایسی نصیحتیں جو حکمت سے بھری ہوئی ہوں وہ تو ہدایت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہیں لیکن کوئی ہدایت کا طلب گار بھی تو ہو جو خودہدایت کو پسند نہ کرے اس کو ڈرانے والے کبھی کفایت نہیں کرتے۔ سنت اللہ یہی چلی آرہی ہے کہ جو یندہ یا بندہ ہوتا ہے جو خود تلاش نہیں کرتا کبھی ہدایت نہیں پاتا۔ غور کرو کہ خود پیگمبر اسلام ﷺ کے متعلق ارشاد الٰہی کیا ہے ؟ فرمایا (ووجدک ضالا فھدیٰ ) (93 : 7) ” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کو متلاشی پایا تو ہدایت دے دی “۔
Ayah 54:6

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

پس آپ ان سے اپنی توجہ ہٹا لیں (اس دن تک) جس دن ایک بلانے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا

غار حرا میں کیا تھا ؟ گوشہ تنہائی میں حق کی تلاش میں غور و فکر۔ آپ ﷺ ان سے اپنی توجہ ہٹالیں عنقریب ان کو ایک ناگوار چیز کی طرف بلایا جائے گا 6 ؎ (فتولیٰ عنھم) آپ ﷺ ان سے اپنی توجہ ہٹا لیں۔ اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ان تک پیغام ہی نہ پہنچائیں یا ان کو وعظ و تلقین نہ کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنا کام اپنے منہ دھیان کرتے جائیں اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ اگر وہ آپ ﷺ کی دعوت پر کان نہیں دھرتے تو آپ ﷺ ان کی زیادہ فکر نہ کریں کہ ہر انسان خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے جب آپ ﷺ اپنا کام اپنی طرف سے پورا کر رہے ہیں تو ان کے ہدایت یافتہ ہونے کی ذمہ داری ان ہی پر ہے نہ کہ آپ ﷺ پر۔ جب آپ ﷺ نے ان کو پیغام پہنچا دیا ‘ گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے تذکار پڑھ کر ان کو سنا دیئے پھر بھی اگر وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے تو یقینا وہ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے اور اپنی حماقتوں کا مزہ چکھ لیں گے اور جس دن ان کو پکارنے والا پکارے گا اور یہ لوگ دوبارہ زندہ ہو کر پکارنے والے کی پکار کی طرف دوڑیں گے اور اپنی آنکھوں کے سامنے اس دن کو پائیں گے جس کا وہ انکار کرتے رہے اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی لیکن کچھ حاصل نہ ہوگا بلکہ وہ کھلی کی کھلی ہی رہ جائیں گی۔ (شیء نکر) وہ چیز جو نا مرغوب ہو۔ انجان چیز جس کی پہچان کی طرف ان کو دعوت دی گئی تھی لیکن وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے بمعنی منکر (کشاف) مراد حساب کا دن ہے جس کی سختی اور ہول کی وجہ سے لوگ اس کو نامرغوب جانیں گے۔ (محلی) لیکن وہ آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوگی۔
Ayah 54:7

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ قبروں سے یوں نکل پڑیں گے گویا کہ وہ ٹڈیاں ہیں جو پھیل گئی ہیں

ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور وہ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے 7 ؎ (الاجداث) جدث کی جمع ہے اور جدث کے معنی قبر کے ہیں جہاں مرنے کے بعد آدمی پہنچ جاتا ہے خواہ اس کو گاڑا گیا ہے اور خواہ جلایا گیا ہے اور خواہ اس کو راکھ کر کے اڑا دیا گیا ہے اور خواہ وہ درندوں نے پھاڑ کھایا ہے یا اسی طرح جو انجام بھی اس کا ہوا ہے اسی کا دوبارہ زندہ ہو کر نکل انا ہی مراد ہے اور ہماری اکثریت چونکہ مردوں کو زمین میں دفن کرتی ہے اور اس گڑھے کو جس میں مردہ گاڑا جاتا ہے قبر اور حدث کا نام دیا جاتا ہے۔ (مھطعین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب مھط واحد اھطاع مصدر باب افعال سر جھکائے ہوئے تیزی کے ساتھ دورنے والے۔ عاجزی اور ذلت کے باعچ اور نظریں نہ اٹھانے والے۔ بلانے والے کی طرف خاموشی سے چلے جانے والے۔ ھطع اور ھطوع (مصدر باب فتح) دوڑتے ہوئے آنا۔ کسی چیز پر نظر جمائے رکھنا۔ ادھر ادھر نگاہ نہ اٹھانا اھطاع (افعال) سر جھکائے تیز دوڑنا۔ گردن لمبی کرنا وغیرہ۔ خشعاً خاشع کی جمع اسم فاعل کا صیغہ یعنی عاجزی کرنے والے ‘ خشوع کرنے والے ‘ سہمی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے والے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب پکارنے والا اور آواز دینے والا فرشتہ ان کو آواز دے گا تو بےساختہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں نیچی کر کے بھاگ کھڑے ہوں گے اور یہ جو کچھ ہوگا وہ ان کی مرضی و رضا سے نہیں ہوگا بلکہ چار و ناچار ہوگا ان کی مجال نہیں ہوگی کہ اس آواز کے آنے کے بعد وہ سستی برتیں بلکہ ان کے دل دھک دھک کرتے ہوں گے اور خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہوں گے گویا وہ جب دوبارہ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے تو ان کو خوب اچھی طرح یاد ہوگا کہ یہ دوبارہ اتھایا جانا تو وہی اٹھایا جانا ہے جس سے ہم انکار کرتے تھے اور اس کو ماننے کے لئے قطعاً تیار نہ تھے اور اس طرح ہر طرف سے بھاگتے نظر آئیں گے گویا انسان نہیں بلکہ منتشر ‘ ٹڈیاں یا چیونٹیاں ہیں جو ہر طرف سے بھاگتی نظر آرہی ہیں یہ گویا ان کے بھاگنے کی تصویر کشی کی جا رہی ہے۔
Ayah 54:8

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

اس پکارنے والے کی طرف دوڑتے چلے جا رہے ہوں گے کافر کہتے ہوں گے یہ بڑا سخت دن ہے

سرجھکائے دوڑیں گے اور کافروں کیلئے یہ دن بہت ہی سخت ہوگا 8 ؎ (مھطعین) کا معنی اور مفہوم گزستہ آیت میں بیان کردیا گیا۔ ان کی گردنیں خود بخود ہی جھک جائیں گی اور وہ شرمندہ ہو کر رہ جائیں گے اور آواز دینے والے اور پکارنے والے کی طرف اندھا دھند دوریں اور بھاگیں گے ‘ ذلت اور ندامت ان پر چھائی ہوگی اور اپنی اکرستانیاں اور مخالفتیں ان کو یاد آجائیں گی جو وہ دنیوی زندگی میں انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کے خلاف کرتے رہے تھے اور اس وقت ان کو یقین آجائے گا کہ یہ وہی دن ہے جس کی طرف ہم بلائے جاتے تھے لیکن ہم نے بلانے والوں کی دعوت کو ایک قلم ٹھکرا دیا تھا اب ان کو خود بخود ہی معلوم ہوجائے گا کہ یہ دن کافروں کے لئے یعنی دل سے آخرت کو قبول نہ کرنے والوں کے لئے کتنا سخت ہے اگرچہ اس طرح ان کے افسوس کرنے کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا تاہم وہ دست حسرت ضرور ملیں گے اور جو کام وہ آنے والے دن کو کرنے والے ہیں ان کو آج ہی بتایا جا رہا ہے لیکن اکھڑ ہونے کی حد ہے کہ اس وقت وہ ٹس سے مس بھی نہیں ہو رہے۔
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

اس سے قبل نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تکذیب کی یعنی ہمارے بندے (نوح ) کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور ان کو جھڑکا بھی گیا

ان سے قبل قوم نوح نے ہمارے بندے نوح کو بھی جھٹلایا تھا 9 ؎ یہ پیغمبر اسلام ! نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کی قوم جو آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہی ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ‘ ان لووں سے قبل بہت سی قومیں اپنے اپنے نبی و رسول کو جھٹلا چکی ہیں اور ان جھٹلانے والوں ہی میں نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جنہوں نے اپنے نبی و رسول نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا حالانکہ وہ ہمارے خاص بندوں میں سے ایک بندہ تھا لیکن قوم نے اس کو پاگل اور مجنون قرار دیا اور ڈانٹنے ڈپتنے میں بھی کوئی کسر اتھا نہ رکھی جس کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی اور ” نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت “ میں بھی بیان کی گئی ملاحظہ ہو غزوہ الوثقی ‘ جلد چہارم سورة ہود کی آیت 49 کی تفسیر۔ (وازدجر) کے معنی جھرکنے کے بھی ہیں اور آسیب زدہ ہونے کے بھی۔ گویا قوم نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب بھی کی اور یہ بھی کہا کہ نوح کو کسی کی مار لگ گئی ہے اور وہ آسیب زدہ ہوگیا ہے اس لئے اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور پوری قوم کو قوم کے خلاف نظریہ رکھتا ہے۔ بھلا اکثریت بھی کبھی غلط ہوتی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم نے اس کی پوری وضاحت کردی ہے کہ اکثریت کسی زمانہ میں بھی درست نہیں ہوتی۔ تفصیل کے لئے غزوہ الوثقی ‘ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 116 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 54:10

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ میں عاجز آگیا ہوں پس تو (ان لوگوں سے) بدلہ لے

نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوگیا تو میری مدد فرما 10 ؎ نوح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ان کی حالت سنورنے کی بجائے مزید بگڑتی ہی چلی گئی اور وہ نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں مزید بڑھتے ہی چلے گئے اور آپ کو طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دیں یہاں تک کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب ! میں مغلوب ہوچکا۔ پس تو ان سے میرے جھٹلانے کا بدلہ لے ۔ (انتصر) انتصار سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو بدلہ لے ‘ تو انتقام لے۔
Ayah 54:11

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پھر ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دہان کھول دیئے

پھر ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیئے 11 ؎ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کیا اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو اس دنیا سے ختم کرنے کا پروگرام بنا لیا جس کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم دیا اور جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو حکم دیا کہ اے آسمان ! ان لوگوں پر موسلادھار بارش برسانا شروع کر دے اور اس طرح وہی بارش جس سے رزق میں فراوانی آتی ہے اس نے موسلادھار اس طرح برسنا شروع کردیا کہ اس علاقہ کو پانی پانی کردیا بلکہ زمین نے بھی پانی اگلنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ طوفان امڈ آیا اور پھر کیا ہوا ؟ وہی کچھ ہوا جو طوفان آنے سے ہوتا ہے۔
Ayah 54:12

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین سے چشمے بہا دیئے پھر سارا پانی ایک ہی کام کے لیے جو مقرر ہوچکا تھا جمع ہو گیا

زمین سے بھی چشمے ابلنے لگے اور جو کام مقرر ہوچکا تھا وہ معرض وجود میں آگیا 12 ؎ ادھر آسمان کو برسنے کا حکم ملا تو وہ مسلسل برس رہا تھا اور ادھر زمین کو حکم ملا کہ تو چشمے ابلنا سروع کر دے تو اس نے نیچے سے پانی اوپر کو نکالنا شروع کردیا اور نوح (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والے لوگ کشتی میں سوار ہوگئے اور اپنی ضرورت ہونے کے لئے پھر بھی تیار نہ کشتی میں رکھ لیں۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کے لئے پھر بھی تیار نہ ہوئے بلکہ مخالفت میں بڑھنے ہی چلے گئے تا آنکہ زمین سے ابلنے والا پانی اور آسمان سے برسنے والا پانی دونوں کو ملا کر رکھ دیا گیا تو سارا علاقہ زیر آب آگیا اور پانی کی بلندی کا یہ حال ہوا کہ نوح (علیہ السلام) کی کشتی پہاروں کی چوٹیوں تک اوپر ہی اوپر کو اٹھتی چلی گئی اور مجرم قوم کے تباہ و برباد کرنے کا جو پروگرام بنایا گیا تھا وہ اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ اس طرح پوری قوم کی قوم تباہ و برباد کر کے رکھ دی گئی اور ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور اس طرح جو انجام ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ پورا ہوگیا۔
Ayah 54:13

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے اس (نوح ) کو تخٹوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر دیا

ہم نے نوح کو تختوں اور میخوں والی کشتی میں سوار کر دیا 13 ؎ نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر سوار ہونے کا حکم ملا تو آپ اپنے لوگوں کو لے کر کشتی میں سوار ہوگئے اور کشتی کے ذکر میں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ بہت لمبے لمبے لکری کے تختوں سے بنائی گئی تھی اور میخوں سے ان تختوں کو آپس میں جوڑ دیا گیا تھا۔ جب پانی چڑھنا شروع ہوگیا تو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اس وقت بھی نوح کی کشتی میں سوار ہونے کی کیوں کوشش نہ کی ؟ اس لئے کہ وہ آپ کی مکالفت میں اس طرح اندھے ہوچکے تھے کہ ہر وہ کام کرنے کو تیار نہ تھے جو نوح (علیہ السلام) ان کو کرنے کا حکم دیتے اور آج بھی مخالفت برائے مخالف کرنے والے یہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں کہ انکو حق ناحق ‘ جائز اور ناجائز کی کوئی بحث نہیں ہوتی ان کو تو مثلاً ” الف “ کی مخالفت کرنا اور ” ہے “ کی حمایت کرنا ہے اس لئے ہر وہ بات جو ” الف “ کہے گا وہ بغیر کسی حیل و حجت اور بغیر سوچے سمجھے اس سے انکار کریں گے اور جو کچھ ان کو ” ب “ کہے گا اس کو مانیں گے کیونکہ اس کی حمایت کا انہوں نے اعلان کیا ہے اور ہاں جی اور نہ جی والوں نے کبھی بھی ہق و ناحق کو نہیں دیکھا وہ تو محض اپنی پارٹی اور جماعت کو دیکھتے ہیں۔ ہم کو نوح (علیہ السلام) کی قوم پر تعب آتا ہے لیکن اپنی موجودہ حالت پر ہم نے کبھی غور نہیں کیا کہ اس وقت ہم کیا کر رہے ہیں ؟ اگر غور کریں تو معلوم ہوجائے کہ آج ہم بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو نوح (علیہ السلام) کی قوم کرتی رہی ہے۔
Ayah 54:14

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی جاتی تھی اس کا انتقام لینے کے لیے جس کا انکار کیا گیا تھا

کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی جاتی تھی یعنی ہماری حفاظت میں تھی 14 ؎ کشتی ہماری آنکھوں سے چلتی تھی کا مطلب بالکل صاف ہے یعنی کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی لیکن نوح (علیہ السلام) کی قوم نے یہ سمجھا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے کشتی جونہی کسی پہاڑ سے ٹکرائے گی تو پاش پاش ہوجائے گی اس لئے قوم کے لوگوں میں سے کوئی شخص بھی کشتی کی طرف نہ بڑھا بلکہ نوح (علیہ السلام) نے جب اپنے بیٹے کو آواز دی تو آپ کا بیٹا بھی کشتی میں سوار ہونے کے لئے تیار نہ ہوا۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اس قدر بیوقوف اور جاہل تھے کہ جب پانی کا نام و نان بھی موجود نہین تھا تو نوح (علیہ السلام) کو کشتی بناتے دیکھ کر مجنون اور پاگل کہتے رہے اور جب پانی ان کے محلات کے بھی اوپر سے گزرنے لگا تو اس وقت بھی ان کی عقل سیدھی نہ ہوئی اور ضد نے ان کی ایسی مت ماری کہ وہ نوح (علیہ السلام) کی بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے حالانکہ کشتی بنوائی تو ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے بنوائی یعنی ہماری اجازت اور مرضی کے مطابق بنائی گئی اور پھر کشتی پر نوح (علیہ السلام) اور اس کے لوگ سوار ہوئے تو ہماری آنکھوں کے سامنے یعنی ہماری مرضی اور رضا کے مطابق سوار ہوئے اور جب کشتی چلی تو ہماری رضا اور مرضی کے مطابق چلی اور ہم خود اس کے نگہبان تھے اور ہم نے یہ سب کچھ اپنے بندے نوح کے جھٹلائے جانے کا بدلہ لیا کیونکہ ہم نے اس کو نبی بنا کر بھیجا تھا اور ہم ہی نے اس کے مغلوب ہونے کے بعد اس کی مدد کی اور اس کی قوم کو ٹھکانے لگا دیا۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اسے نشانی رہنے دیا پھر ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

ہم نے اس کشتی کو ایک نشان بنا دیا اگر کوئی نصیحت ہاصل کرنے والا ہو ؟ 15 ؎ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کشتی کو ایک نشان بنا دیا کہ بعد میں آنے والے اگر عبرت حاصل کرنا چاہیں تو عبرت حاصل کریں۔ غور کرو کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک ہوئے لاکھوں سال گزر چکے لیکن آج تک ان کی اس داستان کو آنے والوں کے لئے تازہ رکھا گیا اور لوگ نسلاً بعد نسل ایک دوسرے کو بتاتے آئے۔ ہم نے جتنی آسمان سے کتابیں نازل کیں ان میں اس کا تذکرہ کیا اگر آنے والے اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے کہ نافرمان قوموں کے ساتھ شروع سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے کہ نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا۔ لاریب فرمانبردار بھی باقی نہ رہے کیونکہ اس دنیا میں کوئی شخص بھی باقی رہنے کے لئے پیدا نہیں ہوا لیکن فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا مرنا ایک جیسا نہ ہوا اور نہ ہو سکتا تھا۔ فرمانبرداروں کا انجام اس دنیا میں بھی بخیر ہوا اور آخرت میں بھی ان کی بخیر ہوگی اور نافرمانوں کی دنیا بھی برباد ہوئی کہ وہ نافرمانی کی موت مرے اور آج تک ان کی نافرمانی کی داستان تازہ ہوتی چلی آرہی ہے گویا وہ دیا میں بھی عذاب دیئے گئے اور آخرت میں بھی وہ عذاب ہی میں حاضر کئے جائیں گے۔ تعجب تو یہ ہے کہ ان نصیحت کی باتوں سے کوئی شخص بھی نصیحت حاصل نہ کرسکا۔
Ayah 54:16

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟

پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟ 16 ؎ (نذر) جمع ہے نذیر کی اور (نذر) کی راء کے نیچے جو زیر ہے وہ (نذری) کی ہے اور ی قاعدہ کے مطابق اڑ گئی اور راء کو زیر دی گئی تاکہ اس کی یاد تازہ رہے پھر دیکھو کہ میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟ یہ استفہام ہے تاکہ اس طرح کوئی بات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور عذاب کی عظمت اور ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے اگر کوئی سمجھنا چاہے تو سمجھ جائے اور سبق حاصل کرنا چاہے تو کرلے۔
Ayah 54:17

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا پھر ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

ہم نے قرآن کریم کو سمجھنے والوں کے لئے آسان کردیا ہے اگر کوئی سمجھنے والا ہو ؟ 17 ؎ (مدکر) اسم فاعل مذکر اداکار مصدر باب افتعال نصیحت کو یاد رکھنے والا۔ دل سے قبول کرنے والا۔ یہ لفظ اصل میں (مدتکر) ہے تاء کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا۔ (محلی) کہا گیا ہے کہ قبائل ربیعہ ذکر کو دکر کہا کرتے تھے اور ان کا تلفظ اختیار کرتے ہوئے ذکر دکر دال کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ زبان سے تلفظ بدلتا رہتا ہے اور ہر زبان میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ ہماری زبان اردو میں اکثر راکو ” ڑ “ سے اور اسی طرح لام کو ” ڑ “ سے بدل دیا جاتا ہے۔ پالا کو پاڑا ‘ لاہور کو لاہوڑ اور ربر کو ربڑ کہہ دیا جاتا ہے اور بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہے۔ بہرحال مد کر کے وہی معنی ہیں جو مذکر کے ہیں کوئی فرق نہیں اور جس طرح ذ ک ر مادہ ہے اسی طرح د ک ر بھی مادہ ہے۔ قرآن کریم کو آسان کرنے کے معنی کیا ہیں ؟ بعض لوگوں نے اس کا یاد کرنا آسان لکھا ہے لیکن حقیقت میں اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس کا یاد کرنا آسان ہے یا یاد رکھنا آسان ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کی طرف رجوع کرے اور اس کو سمجھنا چاہے اس کے لئے قرآن کو معجزانہ طور پر آسان کردیا جاتا ہے گویا یہ قرآن کریم کے زندہ وجاوید معجزہ کی طرف اشارہ ہے کہ آج بھی اگر کوئی شخص قرآن کریم کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے سمجھنے کی کوشش کرے تو شاید ہی کوئی کتاب اتنی جلدی سمجھ میں آئے جتنی کہ یہ کتاب یعنی قرآن کریم جلد سمجھ میں آجاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو قصص اس میں بیان کئے گئے ہیں اگر وہ محض قصہ اور کہانی کے طور پر نہ پڑھے جائیں بلکہ ان سے نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو یقینا آدمی نصیحت حاصل کرلیتا ہے اور اگر کوئی شخص محض قرآن خوانی اور مردوں کی بخشس کے لئے بطور ثواب تلاوت کرتا ہے تو اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا وہ ایسا ہی حی جیسے طوطے کو ایک چیز زبانی رٹائی گئی ہے اور وہ اس کو بار بار دہرائے چلا جا رہا ہے اور اس بات کا علم تک نہیں کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں اور کس سے مخاطب ہوں کیونکہ قرآن کریم سراسر زندوں سے خطاب ہے جو ان کی زندگی کو درست کرنے کے لئے پند و نصیحت ہے مرنے والا اس سے کیا حاصل کرے گا جبکہ وہ دارالعمل ہی سے رخصت ہوگیا اور اس کے عمل کا باب بند ہوگیا الا یہ کہ اگر اس نے کوئی ایسا عمل کیا ہے جو اس کے مرنے کے بعد بھی جاری وساری ہے تو یہ دوسری بات ہے کیونکہ اس کا تعلق اس کے عمل سے ہے نہ کہ کسی دوسرے کے عمل سے۔ اب غور کرو کہ مردوں کے لئے ٹھیکہ پر پڑھنے والے قرآن کریم سے نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا مردہ کو بخشوانے کے لئے ایک عمل کر رہے ہیں جو کہ مردہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ؟ مطلب بالکل صاف ہے کہ اگر کوئی شخص ان گزشتہ واقعات کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے اور عبرت حاصل کرنے کے لئے سمجھ کر پڑھتا ہے تو اس کے لئے ان کا سمجھنا نہایت ہی آسان ہے کہ وہ ایک ایک واقعہ سے عبرت حاصل کرسکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ فلاں قوم نے اپنے نبی و رسول کی تکذیب کی تو اس کو اس طرح کا عذاب دے کر اس دنیا سے رخصت کردیا گیا اور پھر نہ تو اس کی اپنی طاقت و قوت اس کے کام آئی اور نہ ہی دوسروں کے آسرے اور سہارے اس کے کام آئے اور اللہ رب کریم نے جب اس کو دی گئی مہلت کا وقت ختم کیا تو اس کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا جس طرح حباب آب کو مٹا کر رکھ دیا جاتا ہے کہ ادھر بہت آب و تاب کے ساتھ پانی پر نظر آ رہا تھا اور ادھر اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا کہ وہ بھی کوئی چیز تھا۔ افسوس کہ آج قوم مسلم کے مذہبی راہنمائوں نے اس کو آسان ذریعہ معاش سمجھ لیا ہے کہ جس کا کوئی بچہ ظاہری شکل و صورت کے لحاظ سے یا عقل و فکر کے لحاظ سے کند ذہن اور ناکارہ ہو تو اس کو قرآن یاد کرنے اور قرآن کریم کی تعلیم کے لئے مخصوص کردیا جاتا ہے اور پھر اس کے لئے جو صورت اختیار کی جاتی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ جو لوگ کردار و اخلاق کے گندے ‘ اعمال کے لحاظ سے ان کی حالت ناگفتہ بہ اور عقل و فکر کے لحاظ سے نہایت کند ذہن اور پھسڈی ہوتے ہیں۔ وہ امامت کا پیشہ اختیار کرنے کیلئے چند سورتیں یاد کرلیتے ہیں اور قرآن کریم کو پڑھنا سیکھ لیتے ہیں اور آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہلنا ان کو مفت میں آجاتا ہے جس کو بعد میں وہ جھوم جھوم کر پڑھنے میں تبدیل کرلیتے ہیں اور اس طرح وہ قوم کے امام اور پیش امام بن جاتے ہیں اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے وہ طرح طرح کے طژریقے نکالتے ہیں اور قوم کو بیوقوف بنا کر ان کے مرنے والوں کی بخشس کا سامان کرتے ہیں اور عوام اس کو اسلام کا کام سمجھ کر ان کی بہت خدمت کرتے اور ان کے پیٹ کے دوزخ کو خوب بھرتے ہیں اور اس طریقہ سے قرآن کریم کو ایک آسان ذریعہ معاش بنا کر سمجھتے ہیں کہ خود اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم بہت آسان ہے حالانکہ قرآن کریم میں جو بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پھر کیا کوئی نصیحت پکڑنے والا ہے ؟ اگر نصیحت قبول کرنے کے لئے کوئی تیار ہی نہ ہو اور نہ ہی قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرے تو کتنا بڑا فراڈ ہے جو قوم سے بھی کر رہا ہے اور اپنے آپ سے بھی۔ اب مزید غور کرو کہ آسمانی ہدایت کو قبول کرنے والوں کا بیان آگے پھر جاری کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی کو غلطی لگی ہے تو وہ اپنی غلطی کو درست کرلے۔
Ayah 54:18

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

(دیکھو) عاد نے جھٹلایا تھا پھر میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا تھا ؟

دیکھو عاد نے جھٹلایا تھا پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا تھا ؟ 18 ؎ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ عاد قوم نے ہود (علیہ السلام) کے ساتھ کیا کیا کیونکہ عاد کی طرف ہود (علیہ السلام) ہی کو نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا تھا لیکن قوم نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو مسترد کردیا اور آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہوئی اور انجام کار ان پر تند و تیز جھکڑ کا عذاب بھیجا گیا اور ہوا کے طوفانوں نے ان کو اٹھایا اور اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور پھر ایسا پٹخا کہ کوئی بھی ان میں سے زندہ نہ چھوڑا۔ ہوا جب تھی تو دیکھنے والوں نے جو دیکھا تو ان کے لاشے بکھرے پڑے تھے۔ اور دیکھنے والے وہی تھے جو یہاں سے ہجرت کر کے ہود (علیہ السلام) کے ساتھ چلے گئے تھے پھر اس طوفانی عذاب کے بعد جب وہ وہاں آئے تو انہوں نے سوائے لاشوں کے ڈھیر کے کچھ نہ پایا اور وہ ایسے ہی تھے جیسے کھجوروں کے تنے کاٹ کاٹ کر علیحدہ رکھ دیئے گئے ہوں جیسا کہ آگے ان کے عذاب کا ذکر آ رہا ہے۔
Ayah 54:19

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر تند ہوائیں بھیجیں ایک دائمی نحوست کے دن میں (پوری قوم کو تہس نہس کردیا)

ہم نے ان پر تند ہوائیں بھیجیں اور وہ دن گویا ان کے لئے نحس ثابت ہوا 19 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان پر جو عذاب آیا وہ تند و تیز ہوا کا عذاب تھا اور وہ آندھی نہیں بلکہ عذاب الٰہی ہی تھا جس نے ان کو بھسم کر کے رکھ دیا اور ایک بھی انسان اس قوم کے نافرمانوں میں سے باقی نہ رہا۔ چونکہ وہ لوگ نحس تھے اس لئے ان کی ہلاکت کے دن کو ان لوگوں کی نسبت نحس کہہ دیا جیسا کہ ہر زبان میں عام طور پر بولا جاتا ہے ورنہ حقیقت میں کوئی دن اور کوئی وقت اور گھڑی نحس نہیں ہوتی ہاں ! جس دن اور جس روز ‘ جس گھڑی اور جس جگہ نحس لوگ جمع ہوجائیں وہ دن ‘ گھڑی ‘ وقت اور جگہ ان لوگوں کے باعث نحس تصور کی جاتی ہے اور یہی اس جگہ مراد ہے۔ غور کرو کہ مکہ میں جب تک مشرک اور ظالم بستے اور رہتے تھے مکہ کو ظالموں کی بستی قرار دیا گیا لیکن جونہی مکین بدل گئے اور ظالموں کے بجائے سعید لوگ وہاں جمع ہوگئے تو مکہ ظالموں کی بستی نہ رہی بلکہ مکہ معظمہ اور مکرمہ ہوگیا۔ اس دن کو یوم نحسن انہی منحوس لوگوں کے باعث کہا گیا جن کو اس روز عذاب دیا گیا تھا۔ فرمایا ہم نے ان پر باد صر صر بھیجی اور وہی ہوا جس پر انسانی اور حیوانی زندگی کا انحصار ہے اسی ہوا کی تیزی اور تندی نے ان کو ہلاک کر کے رکھ دیا۔ غور کیجئے کہ جو لوگ ہلاک ہوئے ان کے لئے یہ دن نحس ثابت ہوا لیکن جو لوگ اس عذاب سے بچا لئے گئے جیسے ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی ان کے لئے یہ دن کیا ہوا ؟ ظاہر ہے کہ نجات کا باعث ہوا۔ سمجھنے والوں کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے بعض مفسرین نے اس آیت سے بعض دنوں کو منحوس اور بعض کو سعید بنانے کی ناجائز کوشش شروع کردی اور خود بھی راہ سے بھٹکے اور دوسروں کو بھی بھٹکا دیا اور پھر بعض دنوں کو نحس قرار دے کر ان میں سفر کرنا ‘ ان میں کوئی نیک کام کرنا منع کردیا حالانکہ قرآن کریم میں اس طرح کی کوئی بات بیان نہیں کی گئی تھی ‘ انہوں نے محض سینہ زوری سے قرآن کریم سے ایسے واہیات نظریات کی بنیاد رکھی اس لئے ہم ساتھ ساتھ ایسی باتوں کی ترید کرتے چلے آ رہے ہیں اور بار بار عرض کرچکے ہیں کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ گمراہ لوگوں کو مزید گمراہ کردیتا ہے اور ہدایت ان ہی کو ملتی ہے جو ہدایت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا۔
Ayah 54:20

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

(تند ہوا نے) لوگوں کو اکھاڑ پھینکا (اس طرح کہ) گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے تھے

20 ؎ (تنزع) وہ اکھاڑ پھینکتی ہے 0 نزع جس کے معنی کسی چیز کے اپنی جگہ سے اکھاڑ اور کھینچ لینے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب مگر اس معنی میں اس کا استعمال صرف اعراض کے لئے ہوتا ہے۔ (تنزع الناس) وہ لوگوں کو جگہ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ آندھی نے اپنے زور سے ان کو ایسا دے مارا کہ ان میں سے ایک فرد بھی نہ بچ سکا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کھجور کے تنے کٹے پڑے ہیں۔ منقعر اسم فاعل واحد مذکر قعر جڑ سے اکھڑا ہوا۔ قعر اصل میں گہرائی کو کہتے ہیں اور جہاں سے درخت اکھاڑے جاتے ہیں وہاں گہرائیاں ہوجاتی ہیں اور اس کا استعمال منہ بنانے پر بھی ہوتا ہے جس کو دیکھ کر لوگ منہ بناتے اور بسورتے ہیں۔
Ayah 54:21

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

پس (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا رہا ؟

پس دیکھ میرا عزاب اور میرا ڈرانا کیسا رہا ؟ 21 ؎ یہ ہر دعوت کے آخر میں فقرہ دہرایا جا رہا ہے جیسا کہ اس سی قبل آیت 15 اور آیت 18 میں دہرایا جا چکا ہے اور اس طرح گویا بار بار سامعین و مخاطبین کی توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے کہ اس سنت اللہ پر وہ غور کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کا انجام بھی ایسا ہی ہو جیسا کہ گزشتہ اکھڑ قوموں کا ہوچکا ہے لیکن بدقسمتی سے پہلے بھی کم ہی لوگوں نے اس کی طرف توجہ دی اور اب بھی کم ہی لوگ توجہ دیتے ہیں۔ اکثریت انہیں لوگوں کی ہے جو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینے کے عادی ہوتے ہیں پھر ایسے لوگوں کا جو انجام ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔
Ayah 54:22

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے پھر ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے

یقینا ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے پھر ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا 22 ؎ اس کی وضاحت آیت 17 کے تحت کردی گئی ہے اور یہ دونوں آیتیں اس سورت میں ہر دعوت کے بعد بار بار آرہی ہیں ‘ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ نصیحت کی بات بار بار کی جاتی ہے کہ شاید کوئی کان اگر ایک بار نہیں تو دوسری بار اور اگر دوسری بار نہیں تو تیسری بار ‘ علی ھذا القیاس کسی وقت ہی متوجہ ہو اور سمجھ جائے تاکہ اس کا فائدہ ہوجائے اور نصیحت کا یہ طریقہ محض اس لئے اپنایا جاتا ہے تاکہ سننے والے تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے ہی سمجھ جائیں اور گرنے سے بچ جائیں اگر وہ بچنے کی کوشش کریں لیکن نادانوں نے کبھی بھی اس نصیحت سے فائدہ حاصل نہ کیا۔ آپ خود دیکھ لیں کہ اس وقت بھی ایسے آدمیوں کی کمی موجود نہیں ہے بلکہ ہر آدمی اس گڑھے میں گرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اس کو بچنے کی تاکید کی جاتی ہے۔
Ayah 54:23

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا

قوم ثمود نے بھی اپنے رسول کو جھٹلایا 23 ؎ ثمود قوم کی طرف صالح (علیہ السلام) کو نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا تھ اور یہ وہی قوم تھی جو عاد کی ہلاکت کے وقت بچی تھی اور جہاں ہجرت کر کے یہ لوگ گئے تھے وہی آباد ہوگئے۔ ان کے درمیان کتنی نسلیں گزر چکی تھیں اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس کی وضاحت نہ تو قرآن کریم نے کی ہے اور نہ ہی کسی تاریخ میں اس کی حتمی وضاحت آئی ہے۔ اس کے لئے جو ذخیرہ ہے وہ تورات ہے اور تورات نے جو نام گنوائے ہیں لاریب وہ فرضی ہیں کیونکہ اس طرح گزشتہ قوموں کے درمیان کوئی زیادہ بعد ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ دو تین نسلیں تو ایک ہی صدی میں تقریباً گزر جاتی ہیں اور اس طرح ساری قوموں کے درمیان کل سو ڈیڑھ سو سال کا وقفہ آتا ہے جو کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے بہرحال جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ قوم ثمود ‘ قوم عاد ہی کے بقیہ کا نام ہے اور یہ بھی کہ ثمود نام کا ایک آدمی ان میں ہوا ہے جس کی طرف اس قوم کی نسبت کی گئی ہے اور یہی نسل عاد ثانیہ بھی کہلاتی ہے تو دونوں قوموں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے اس جستجو کی ضرورت بھی کیا ہے ؟ ثمود کی بستیاں حجر میں تھیں جو حجاز اور شام کے درمیان وادی قریٰ کا میدان نظر آتا ہے یہی ان کا مقام سکونت ہے اور یہ بھی کہ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں اور مورخین نے اس کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی وضاحت کی ہے کہ یہ لوگ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر بہت بڑے بڑے محلات بنایا کرتے تھے اور اس صنعت میں انہوں نے نامپیدا کیا تھا اور اس طرح کی حویلیوں اور حوضوں کے نشانات آج تک پائے جاتے ہیں جو اس بات کا زندہ وجاوید ثبوت ہیں ۔ گویا ان لوگوں نے اپنے آبائو اجداد کے فن کو مزید ترقی دی۔ عاد کے لوگ بڑی بڑی اونچی بلڈنگیں تیار کرتے تھے لیکن ان جگہوں پر جہاں ہموار اور نرم زمین آتی تھی لیکن جب وہ تباہ و بربا ہوئے تو غالباً ان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ اگر ہمارے آبائو اجداد اس نرم اور ہموار زمین میں یہ عمارات نہ بناتے تو تباہ و برباد نہ ہوتے اس لئے انہوں نے پہاڑوں کو کھود کھود کر گھر بنائے تاکہ وہ اس طرح کی ہلاکت سے محفوظ رہیں لیکن جب ان کے غرق ہونے کا وقت آیا تو ان کو بھی ان کے پختہ مکانوں نے نہ بچایا اور جو امر الٰہی تھا وہ واقع ہوگیا۔