Al-Qamar 54:47

Al-Qamar · from ayah 47

54:47

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ۟ۘاِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ فِىۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ‌ۘ

بےشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the criminals are in error and madness.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:47

یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک گناه گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ یہ مجرم لوگ بڑی گمراہی اور بےعقلی میں پڑے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی (یا آگ کی لپیٹ) میں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا مجرم لوگ بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک مجرمین گماہی میں ہیں اور دوزخ میں پڑیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ مجرم لوگ پڑے ہیں ایک بڑی گمراہی اور ہولناک دیوانگی میں

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) مجرمین بڑی غلطی اور بےعقلی میں (پڑے ہوئے) ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا یہ مجرمین گمراہی میں ہیں اور یہ آگ (کے مختلف طبقات) میں ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک گناہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

The evil-doers are victims of error and madness.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely the guilty ones are in error and madness.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely the guilty ones are in error and madness.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, the criminals are in error and will burn.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the guilty are in error and madness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the criminals are in error and madness.

— Saheeh International

The sinful ones will face the destructive torment of hell

— Muhammad Sarwar

Surely the guilty are in error and distress.

— Muhammad Habib Shakir

Verily the culprits shall be in great error and madness.

— Abdul Majid Daryabadi

Truly those in sin are the ones straying in mind, and mad.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–55

شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 45–48

سورة الْقَمَر 24 یہ صریح پیش گوئی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی کہ قریش کی جمعیت، جس کی طاقت کا انہیں بڑا زعم تھا، عنقریب مسلمانوں سے شکست کھا جائے گی۔ اس وقت کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ مستقبل قریب میں یہ انقلاب کیسے ہوگا۔ مسلمانوں کی بےبسی کا حال یہ تھا کہ ان میں سے ایک گروہ ملک چھوڑ کر حبش میں پناہ گزیں ہوچکا تھا، اور باقی ماندہ اہل ایمان شعب ابی طالب میں محصور تھے جنہیں قریش کے مقاطعہ اور محاصرہ نے بھوکوں مار دیا تھا۔ اس حالت میں کون یہ سمجھ سکتا تھا کہ سات ہی برس کے اندر نقشہ بدل جانے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ فرماتے تھے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–48

خلاصہ تفسیر یہ کفار کے قصے اور کفر کی وجہ سے ان پر عذاب ہونے کے واقعات تو تم نے سن لئے اب جبکہ تم بھی اسی جرم کفر کے مرتکب ہو تو تمہارے عذاب سے بچنے کی کوئی وجہ نہیں کیا تم میں جو کافر ہیں ان میں ان (مذکورہ پچھلے لوگوں سے کچھ فضیلت ہے (جس کی وجہ سے تم باوجود ارتکاب جرم کے سزا یاب نہ ہو) تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں کوئی معافی (نامہ لکھ دیا) ہے (گو کوئی خاص فضیلت نہ ہو) یا (ان میں کوئی ایسی قوت ہے جو ان کو عذاب سے بچالے جیسا) یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری ایسی جماعت ہے جو غالب ہی رہیں گے (اور جب کہ ان کے مغلوب ہونے کے دلائل واضح موجود ہیں اور خود بھی اپنی مغلوبیت کا ان کو یقین ہے تو پھر ایسی بات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ان المجرمین فی ضلل و سعر) (47)۔ (فقط سحر کے جمع لانے کا فائدہ)۔ یعنی آج تو یہ بڑے طنطنہ سے کہتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے ہی اندر کے ایک بشر کو رسول مان کر اس کی پیروی کی تو ہم گمراہی اور جہنم میں پڑنے والے بنے لیکن اس دن یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جنہوں نے رسول کے انداز کی تکذیب کی وہ سارے مجرمین گمراہی میں تھے اور اس گمراہی کا نتیجہ ان کے آگے جہنم کی شکل میں آیا۔ لفظ ’ سعر ‘ ہمارے نزدیک جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں، جنون کے معنی میں نہیں بلکہ جہنم ہی کے مفہوم میں ہے۔ اس کے جمع کی صورت میں لانے سے مقصود اس کے مختلف طبقات کی طرف اشارہ ہے۔ لفظ جنت بھی اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ جمع کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 46–47

46۔ 1 یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–48

14: یہ قوم ثمود کی اس بات کا جواب ہے جو اوپر آیت نمبر 24 میں ذکر کی گئی تھی۔ چونکہ مکہ مکرمہ کے کافر بھی اسی جیسی بات کہا کرتے تھے، اس لیے ان کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 47–48

ان المجرمین ............ مس سقر (45: 8 4) ” یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ (یاگمراہی اور آگ میں ہیں) جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ “ یعنی وہ گمراہی میں ہیں جہاں عقل اور روح کی سزا ہوتی ہے اور جہنم میں ہیں جہاں جسم اور جلد کو سزا ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ کہتے تھے اور ان جیسے سب لوگوں نے بھی کہا ہے۔ ابشرامنا ................ وسعر (45:4 2) ” کیا ہم میں سے ایک اکیلے شخص کی ہم تابعداری شروع کردیں۔ اگر ایسا کریں تو گویا ہم بہک گئے اور کئی آگوں میں پڑگئے۔ “ اب ان کو معلوم ہوگا کہ گمراہی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 47–48

10 یعنی اس وقت غفلت کے نشہ میں پاگل بن رہے ہیں۔ یہ سودا دماغ میں سے اس وقت نکلے گا جب اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو ! اب ذرا اس کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47 { اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”یقینا یہ مجرمین گمراہی میں ہیں اور یہ آگ کے مختلف طبقات میں ہوں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–48

33 سعر کا لغوی مفہوم :۔ سُعُر۔ سعر بمعنی آگ کا بھڑکنا اور شعلے نکلنا۔ پھر یہ لفظ مجازاً اشتعال دلانے اور مشتعل ہونے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور سعر سے مراد ایسی دیوانگی ہے کہ کسی بات پر انسان فوراً مشتعل ہو کر غلط کام کرنے لگے اور اس کی عقل صحیح کام نہ کرے۔ یعنی ان مجرموں کی یہ کیفیت ہوگئی ہے کہ ہدایت کی کسی بات پر غور کرنے سے پہلے ہی سیخ پا ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 46–49

31۔ (اور اسی انداز معین ومقرر میں تعین زمان بھی شامل ہے جب علم الہی کے مطابق وقت مناسب آئے گا اس وقت قیامت لازما واقع ہو کر رہے گی نہ کہ اس کے قبل) (آیت) ” ان المجرمین “۔ مجرموں سے مراد یا تو مشرکین ہیں، یا وہ سارے فرقے جو یوم آخرت کی طرف سے تردوارتیاب میں پڑے ہوئے ہیں۔ المشرکین (معالم) ھذا یشتمل کل من اتصف بذلک من کافر ومبتدع من سائر الفرق (ابن کثیر) (آیت) ” ان ..... سعر “۔ دنیا کی کوئی حماقت ونافہمی اس سے بڑھ کر اور ہو کیا سکتی ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ قطعی اور یقینی ہے۔ انسان اس کی طرف سے غافل وبے فکر رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–48

بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر مطلب یہ ہے کہ دنیا میں غزوہ بدر کے موقع پر جو مشرکین مکہ کو سزا ملی قتل کئے گئے اور قیدی بنائے گئے یہ ان کی آخری سزا نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان المجرمین فی ضلل و سعر ” بلاشبہ یہ مجرم بڑی غلطی اور بےعقلی میں ہیں اَلْمُجْرِمِیْنَ : سے مراد ہیں عام کافر۔ پہلے صرف کفار مکہ کا ذکر کیا گیا تھا اس کے بعد اس آیت میں تمام کافروں کی حالت بیان فرما دی۔ فِیْ ضَلٰلٍ : یعنی دنیا میں حق سے بھٹکے ہوئے۔ وَّسُعُرٍ : یعنی آخرت میں (بھڑکتی) آگ کے اندر۔ بعض اہل تفسیر نے فی ضلال کی تشریح میں کہا : ” آخرت میں جنت کے راستہ سے کٹے ہوئے۔ “ وَّسُعْرٍ : اور بھڑکتی آگ میں داخل۔ (کذا قال الحسن بن فضل) قتادہ نے کہا : دُکھ اور عذاب یعنی ہے فی ضلال سے مراد دکھ اور سعر سے مراد عذاب۔ (سبب سے مسبب مراد ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ مشرکین یعنی ابو جہل وغیرہ دنیا میں بڑی غلطی اور دوزخ میں بڑی سختی اور تکلیف میں پڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ : مجرمین سے مراد مشرکین ہیں ، جیسا کہ فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ) (المطففین : 29) ”بیشک وہ لوگ جنہوں نے جرم کیے ، ان لوگوں پر جو ایمان لائے ، ہنسا کرتے تھے : اور فرمایا (ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوْنَ) (الرحمن : 43)”یہی ہے وہ جہنم جسے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے“۔ یعنی مشرکین اپنی دانست میں بڑے دانا اور صحیح راستے پر چلنے والے ہیں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–49

ان المجرمین فی ضلل وسعر۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 فی ضلل یعنی حق سے دور اور سعر یعنی جلنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سعر سے مراد جنون ہے جس طرح اس سورت میں پہلے گزرا ہے۔ یوم یسحبون فی النار علی وجوھم ذوقوامس سقر۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے قریش کے مشرک آئے وہ رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ اسے امام ترمذی نے بھی نقل کیا ہے اور کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام مسلم نے طائوس سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگوں کو یہ کہتے ہئوے پایا، وہ کہہ رہے تھے ،: کل شی بقدر (1) ہر شی تقدیر کے مطابق ہے میں نے حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–47

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن منیع وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' (عنقریب ان کی یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گی، اور یہ بدر کے دن ہوا اور ان کافروں نے کہا (آیت ) '' ام نحن جمیع منتصر '' (ہماری جماعت ایسی ہے جو غالب ہی رہے گی) تو یہ آیت نازل ہوئی (کہ انکی جماعت شکست کھاکر بھاگ جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کا قبہ فتح کا دن : 2:۔ البخاری والنسائی وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وابو نعیم (رح) فی الدلائل وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ [ بیشک جرم کرنے والے ] فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ [ گمراہی اور جنون میں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا ﴿اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ0047﴾ (بلاشبہ جرم کرنے والے لوگ ہلاکت میں اور جلتی ہوئی آگوں میں ہوں گے یہ آیت کا ایک ترجمہ ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے ﴿ فِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ﴾ کی تفسیر میں فی خسران وجنون فرمایا ہے جس کا ترجمہ ہلاکت اور بےعقلی کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–55

تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 46–47

21:۔ ” بل الساعۃ۔ الایۃ “ یہ تو معمولی عذاب ہوگا اور یہ ان کے کرتوتوں کی پوری سزا نہیں، ان کی پوری سزا کا دن تو قیامت کا دن ہے جس کی دہشت وہیبت اور جس کے عذاب کی شدت سب سے زیادہ ہوگی اور جس کا عذاب ہر عذاب اور سزا سے زیادہ تلخ اور سب سے بڑھ کر المناک ہوگا۔ ” ان المجرمین۔ الایۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن تمام مجرمین ہلاکت اور بھڑکتی آگ میں ہوں گے یا دنیا میں خسارے اور جنون میں ہیں۔ قرآن ایسی روشن کتاب سے ہدایت حاصل نہ کرنا سراسر جنون اور خسارہ ہے۔ ” فی ضلال وسعر “ فی ھلاک و نیران (مدارک ج 4 ص 106) ۔ وقال ابن عباس ؓ : فی خسران وجنون (روح ج 27 ص 93) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–55

ربط آیات اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ کفار مکہ کی شکست اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۝ 47 ۘ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–55

ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔ تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰـلٍ وَّسُعُرٍ ۔ (القمر : 47) (بےشک یہ گمراہ لوگ گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑیں گے۔ ) عذابِ دنیا کے بعد عذاب آخرت آج ان مخالفین کو اپنی قوت و شوکت پر بڑا ناز ہے اور وہ عذاب اور جہنم کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں لیکن قیامت کے دن وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جن لوگوں نے بھی رسول کے انذار کی تکذیب کی وہ سب گمراہی میں تھے۔ اور اس گمراہی کا نتیجہ جہنم کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزاری ہوئی زندگی جنت کا استحقاق پیدا کرلیتی ہے اسی طرح گمراہی میں ڈوب کر جو زندگی گزرتی ہے اس کا ٹھکانہ یقینا جہنم ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–48

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو دنیا میں عذاب دینے کے ساتھ آخرت میں بھی عذاب دیا جائے گا۔ اہل مکہ کو جو انتباہ کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف پورا ہوا اور ان کی جمعیت اور قوت کو تہس نہس کردیا گیا۔ اس کے باوجود فرمایا کہ انہیں اصل سزا قیامت کے دن دی جائے گی جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ دن بذات خود بڑا سخت اور خوفناک ہوگا۔ یقیناً مجرم کھلی گمراہی اور پاگل پن میں مبتلا ہیں۔ اس دن ان کو ان کے چہروں کے بل جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھو۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر کیا ہے تاکہ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کی پوری پوری جزا دے۔ مجرموں کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 47: اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ (بلاشبہ یہ مجرم بڑی غلطی میں ہیں) دنیا میں حق سے بھٹک کر) ۔ وَسُعُرٍ (اور آگ میں) جو آخرت میں ہے یا ہلاکت اور آگ میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46 ۔” بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر “ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں میں نے عمر بن خطاب ؓ کو فرماتے سنا۔ جس آیت ” سیھزم الجمع ولولون الدبر “ نازل ہوئی تو مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ کون سی جماعت کو شکست دی جائے گی۔ پس جب بدر کا دن تھا تو میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ اپنی زرہ میں کودے اور فرما رہے تھے ” سیھزم الجمع ویولون الدبر۔ بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھیٰ وامر “ یعنی بڑی مصیبت ہے بدر کے دن قتل اور قید سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–48

37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ ) یعنی وہ لوگ جنہوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ہیں یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں (فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ) وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے وہ قیامت کے روز دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ان پر آگ بھرکائی جائے گی آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہوگی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–55

پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔ امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 46–49

[ 51] منکرین کیلئے اصل عذاب کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لیے دنیا کے اسی عذاب پر بس نہیں بلکہ ان کو اصل عذاب قیامت کے روز ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ارشاد سے صاف وصریح طور پر اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اسی دنیاوی ہزیمت و پامالی اور تذلیل و رسوائی پر بس نہیں، بلکہ ان کے اصل عذاب کا وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کی وہ گھڑی انتہائی ہولناک اور بڑی ہی تلخ گھڑی ہوگی۔ اتنی تلخ اور اس قدر ہولناک کہ اس کی ہیبت و دہشت اور تلخی و مرارت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس ہزیمت اور پامالی سے تو یہ لوگ عنقریب اس دنیا میں ہی دوچار ہوں گے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–55

آیات 41 تا 55۔ اسرار ومعارف۔ اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔ آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 47–49

ف 9 یعنی وہ اس طرح پیش آئے وہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ اس کا نام تقدیر ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور حدیث میں ’ دقدر پیغمبروں رکھنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جبرئیل کی حدیث میں ہے وتومن بالقدر خیرد وشرہ “ کہ تم تقدیر کے خیرہ شر پر ایمان رکھو۔ ایک حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کرو اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔ اگر تمہیں کوئی چیز پہنچے تو کہو کہ اللہ نے میری تقدیر میں یونہی لکھا تھا اور ہوتا بھی وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے اور ہرگز یہ نہ لکھو اگر میں یوں کرلیتا تو ایسے ہوں اس لئے کہ یہ اگر شیطان کے عمل کو کھولتا ہے یعنی اس کی راہ دکھاتا ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–55

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55 برآءۃ معافی ہے۔ الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا تشریح : آیت نمبر 43 تا 55 اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–48

(ف 1) اے قریش ! کیا تم کافروں کی جماعت ان اگلے کافروں سے کچھ بہتر ہے قوت وجماعت میں زائد ہے کیا ہے کچھ بھی نہیں۔ کیا تمہارے لیے کوئی پروانہ نجات ، برات نامہ خدا کا اس کی کتابوں میں لکھ کر آگیا ہے شرک کی اجازت مل گئی ہے۔ اے محبوب ﷺ کیا ان کافروں کو یہ گھمنڈ اور دعوی ہے کہ ہم سب اکٹھے ایک جماعت، ایک دل آپس میں مدد کرنے والے ہیں ہم پر کون قابوپائے گا تو اے محبوب ﷺ عنقریب وہ وقت آگیا کہ ان کی جماعتیں پراگندہ ہوں اور سب شکست کھائیں اور پیٹھ پھیربھاگیں ۔ بلکہ اصل عذاب کا تو وعدہ آخرت کے عذاب کا ہے جس کے ظہور کا وقت قیامت ہے جو بڑی آفت کا دن ہے اور نہایت کڑوی گھڑی ہے جس میں اس طرح کے نافرمان لوگ آگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–55

[10] یعنی ان تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ کفار مکہ کی قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار و قرائن کے پیش نظر ایک بظاہر بےیارو مددگار شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشین گوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآن کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 43–52

ف 3: فرمایا : مکہ والو ! کیا تم ان لوگوں سے بہتر ہو ۔ جن کو اللہ کے غضب نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ یا تمہارے لئے کوئی معافی نامہ سابقہ کتب میں موجود ہے ۔ کہ تمہیں بہرآئینہ زندہ اور باقی رکھا جائیگا ۔ تمہاری سرکشی اور بغاوت کا آخر سبب کیا ہے ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ تمہاری جماعت بہو ٹیج مظفر ومقصور رہے گی ۔ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو ۔ تو سمجھ لو ۔ کہ حکمت اور ہزئمیت تمہارے لئے مقدارات میں سے ہے ۔ عنقریب تم حق وصداقت کے سپاہیوں کے مقابل ہمیں آؤ گے ۔ اور دم دبا کر بھاگو گے ۔ یہ ایک پیشگوئی تھی ۔ اور اس کا اظہار اس وقت کیا گیا ۔ جب کہ مسلمان نہایت کمزور اور بےسروسامنی کے عالم میں تھے ۔ پھر یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) بلا شبہ یہ مشرک بڑی گمراہی اور بےعقلی میں مبتلا ہیں۔ یعنی اس سے بڑھ کر گمراہی اور جہالت کیا ہوگی کہ دین برحق جو دلائل وبراہین سے ثابت ہے اس کو قبول نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ گناہگار بڑی غلطی اور پاگل پن میں مبتلا ہیں 47 ؎ مجرم لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ مجرم کون ہیں ھ ؟ وہی جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخالف ہیں یعنی قریش مکہ جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو نہیں مانتے تھے۔ (ضلال) معنی کیا ہیں (ضلال) کے معنوں میں بہت وسعت ہے اس کا مادہ ض ل ل ہے اور (ضلال) کے معنی گمراہی ‘ بھٹکنا ‘ راہ سے دور ہٹ جانا ‘ کھو جانا ‘ ضائع ہوجانا ‘ گم ہوجانا ‘ ہلاک ہوجانا ‘ کسی چیز کی تلاش کرنا ‘ متلاشی ہونا ہے۔ (ضلال) بالفتح ضائع ہونا ‘ گم ہونا اور مغلوب ہونا کیا جاتا ہے۔ (ضل الماء فی اللبن) یعنی پانی اتنا مغلوب ہوا کہ دودھ میں اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن زیر نظر آیت میں اس کے معنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–48

Lexicological analysis The word زُبُر zubur (in verse 43) is the plural of zabur, which stands for any written book. It specifically refers to the Scripture that was revealed to Prophet Dawud (علیہ السلام) . أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ‌ (...more calamitous and more bitter...54:46). The word adha means more or most calamitous. The word amarr is derived from murr which originally means 'bitter'. By extension anything 'difficult' or 'painful' is also referred to as amarr and murr. In the phrase فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌ fi dalalin wa su'ur, dalal, as is known, means 'error' or 'deviation' and the word su'ur…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–48

24 This is a specific prophecy that was made five years before the hijrah, saying that the hosts of the Quraish who waxed proud of their strength would soon be put to rout by the Muslims. At that time no one could imagine how such a revolution would take place in the near future. Such was the helplessness of the Muslims that a group of them had already left the country and taken refuge in Habash and the rest of the believers lay besieged in Shi'b Abi Talib, and were being starved by the Quraish boycott and siege. Under such conditions no one could imagine that within only the ncxt seven years…

Read the full tafseer →