Explained with ayahs 41–46
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
سورة الْقَمَر 24
یہ صریح پیش گوئی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی کہ قریش کی جمعیت، جس کی طاقت کا انہیں بڑا زعم تھا، عنقریب مسلمانوں سے شکست کھا جائے گی۔ اس وقت کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ مستقبل قریب میں یہ انقلاب کیسے ہوگا۔ مسلمانوں کی بےبسی کا حال یہ تھا کہ ان میں سے ایک گروہ ملک چھوڑ کر حبش میں پناہ گزیں ہوچکا تھا، اور باقی ماندہ اہل ایمان شعب ابی طالب میں محصور تھے جنہیں قریش کے مقاطعہ اور محاصرہ نے بھوکوں مار دیا تھا۔ اس حالت میں کون یہ سمجھ سکتا تھا کہ سات ہی برس کے اندر نقشہ بدل جانے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ فرماتے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
خلاصہ تفسیر
یہ کفار کے قصے اور کفر کی وجہ سے ان پر عذاب ہونے کے واقعات تو تم نے سن لئے اب جبکہ تم بھی اسی جرم کفر کے مرتکب ہو تو تمہارے عذاب سے بچنے کی کوئی وجہ نہیں کیا تم میں جو کافر ہیں ان میں ان (مذکورہ پچھلے لوگوں سے کچھ فضیلت ہے (جس کی وجہ سے تم باوجود ارتکاب جرم کے سزا یاب نہ ہو) تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں کوئی معافی (نامہ لکھ دیا) ہے (گو کوئی خاص فضیلت نہ ہو) یا (ان میں کوئی ایسی قوت ہے جو ان کو عذاب سے بچالے جیسا) یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری ایسی جماعت ہے جو غالب ہی رہیں گے (اور جب کہ ان کے مغلوب ہونے کے دلائل واضح موجود ہیں اور خود بھی اپنی مغلوبیت کا ان کو یقین ہے تو پھر ایسی بات…
Read the full tafseer →(بل الساعۃ مرعدھم والساعۃ ادھی وامر (46)
(عذاب دنیا کے بعد عذاب آخرت)۔ یعنی اس ہزیمت و پامالی سے تو وہ اسی دنیا میں عنقریب دو چار ہوں گے لیکن ان کو جو وعید سنائی جا رہی ہے اس کے ظہورکا اصلی دن قیامت کا دن ہے جو ان کے لیے بڑا ہی کٹھن اور نہایت ہی کڑوا ہوگا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اوپر والی آیت میں اس عذاب و ہزیمت کا ذکر تھا جس سے رسولوں کے مذبین کو لازماً اسی دنیا میں سابقہ پیش آتا ہے۔ اس آیت میں اس عذاب کا حوالہ ہے جو اصل روز حساب یعنی قیامت میں انکے سامنے آئے گا اور جو بڑا ہی کٹھن ہوگا۔ اس کتاب میں جگہ جگہ ہم اس سنت الٰہی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والے اس دنیا میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46۔ 1 یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
13: یہ پیشین گوئی اس وقت کی جا رہی تھی جب مسلمان ان کافروں کے مقابلے میں بہت کمزور تھے اور خود اپنا بچاؤ بھی نہیں کر پاتے تھے۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ یہ خدائی پیشین گوئی جنگ بدر میں حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں کافروں کے جو بڑے بڑے سردار تھے، سب بدر میں مارے گئے، ستر افراد گرفتار ہوئے اور باقی بھاگ گئے۔
Read the full tafseer →بل الساعة موعدھم ............ وامر (45: 6 4) ” بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ “ اس عذاب سے جو انہوں نے دیکھا ہے یا اس زمین کی زندگی میں دیکھیں گے یا ان تمام عذابوں سے زیادہ تلخ جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں مثلاً طوفانا نوح ، باد صرصر ، سخت آواز اور پتھروں کی بارش والی ہوا اور فرعون کی زبردست غرقابی۔
اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس طرح سخت شدید اور تلخ ہوگا اور تفصیلات قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں بتائی جاتی ہے :۔
Read the full tafseer →9 یعنی یہاں کیا شکست کھائیں گے، ان کی شکست کا اصلی وقت تو وہ ہوگا جب قیامت سر پر آکھڑی ہوگی۔ وہ بہت سخت مصیبت کا وقت ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 46{ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ۔ } ”بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بہت بڑی آفت ہے اور بہت زیادہ کڑوی ہے۔“
عربی میں کڑوی چیز کو مُـرٌّ کہتے ہیں اور اَمَرُّ کے معنی ہیں بہت ہی زیادہ کڑوی۔ سیاقِ مضمون میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں پے درپے شکست مشرکین عرب کا مقدر ہے۔ عنقریب 9 ہجری میں ان پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جب جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین ان پر تنگ ہوجائے گی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام قبول کرنے یا حدود عرب سے باہر چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ایک مضبوط جمعیت اور اعلیٰ پائے کی جنگی صلاحیت کے باوجود ان کی…
Read the full tafseer →32 مسلمانوں سے انتقام لینے والی جماعت کو یہ سزا تو دنیا میں ملی اور اصل سزا تو قیامت کو ملنے والی ہے جو اس سزا سے دہشت ناک بھی زیادہ ہوگی اور دردناک بھی زیادہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
31۔ (اور اسی انداز معین ومقرر میں تعین زمان بھی شامل ہے جب علم الہی کے مطابق وقت مناسب آئے گا اس وقت قیامت لازما واقع ہو کر رہے گی نہ کہ اس کے قبل) (آیت) ” ان المجرمین “۔ مجرموں سے مراد یا تو مشرکین ہیں، یا وہ سارے فرقے جو یوم آخرت کی طرف سے تردوارتیاب میں پڑے ہوئے ہیں۔ المشرکین (معالم) ھذا یشتمل کل من اتصف بذلک من کافر ومبتدع من سائر الفرق (ابن کثیر) (آیت) ” ان ..... سعر “۔ دنیا کی کوئی حماقت ونافہمی اس سے بڑھ کر اور ہو کیا سکتی ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ قطعی اور یقینی ہے۔ انسان اس کی طرف سے غافل وبے فکر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر مطلب یہ ہے کہ دنیا میں غزوہ بدر کے موقع پر جو مشرکین مکہ کو سزا ملی قتل کئے گئے اور قیدی بنائے گئے یہ ان کی آخری سزا نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر .
” بلکہ قیامت ان کیلئے (اصل) وعدہ (عذاب) ہے اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے۔ “
بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ : یعنی ان سب کے عذاب پانے کا مقرر وقت تو قیامت کا دن ہے۔ دنیا میں جو عذاب ان کو محیط ہوا ہے وہ تو آخرت کے عذاب کا پیش خیمہ ہے گویا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں یہ عذاب ہی نہیں ہے۔ اس لیے بعض کافروں پر دنیوی عذاب نہیں آتا باوجودیکہ وہ مستحق عذاب ہوتے ہیں مگر دنیوی عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔
اَدْھٰی : بہت سخت مصیبت ‘ جس کو کسی طرح دفع کرنا ممکن نہ ہو۔
اَمَرُّ : یعنی عذاب دنیا سے زیادہ بدمزہ اور تلخ۔
Read the full tafseer →بلکہ بڑا عذاب قیامت میں ہوگا ان کا اصل وعدہ عذاب وہی ہے اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے اس کا عذاب بدر کے عذاب سے بہت ہی سخت ہے۔
Read the full tafseer →بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ۔۔۔۔:”اھیۃ“ بڑی مصیبت کو کہتے ہیں اور ”ادھی“ زیادہ بڑی مصیبت۔ ”مر ‘(میم کے ضمہ کے ساتھ) تلخ ، کڑوا۔ ”مر یمر مرارۃ“ (ن) کڑوا ہونا۔ ”امر“ اس سے اسم تفصیل ہے ، زیادہ تلخ ، یعنی دنیا میں ہونے والی شکست بھی اگرچہ بڑی مصیبت اور بہت تلخ ہے کہ اس میں ق تل ، گرفتاری ، غلامی ، ذلت و رسوائی اور کئی طرح کی سزائیں ہیں ، مگر اصل سزا کا وعدہ تو قیامت کے دن ہے اور قیامت دنیا کی مصیبتوں سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت اور بہت زیادہ تلخ ہے ، کیونکہ دنیا کی مصیبت اور تلخی آخر کار ختم ہونے والی ہے ، مگر آخرت کی سزا کبھی ختم ہونے والی نہیں ، پھر وہاں کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (70) گنا زیادہ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ام یقولون نحن جمیع منتصر۔ یعنی ہم ایسی جماعت ہیں جن کی تعداد کی کثرت اور قوت کی وجہ سے اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا۔ آیات کے سروں کی اتباع کرتے ہوئے منتصرین نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کیا اور فرمایا : سیھزم الجمع یعنی کفار مکہ کو شکست دی جائے گی۔ یہ غزوہ بدر اور دوسرے مواقع پر ہوا۔ عام قرأت سیھزم ہے یاء کے ساتھ مجہول کا صیغہ ہے اور الجمع نئاب فاعل ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ رویس نے یعقوب سے ستنھزم نون کے فتحہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ نقل کیا ہے اور الجمع کو منصوب پڑھا ہے۔
ویولون الدبر۔ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے ان کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ عیسیٰ ، ان اسحاق اور رویس نے یعقوب سے وتولنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن منیع وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سیھزم الجمع ویولون الدبر '' (عنقریب ان کی یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گی، اور یہ بدر کے دن ہوا اور ان کافروں نے کہا (آیت ) '' ام نحن جمیع منتصر '' (ہماری جماعت ایسی ہے جو غالب ہی رہے گی) تو یہ آیت نازل ہوئی (کہ انکی جماعت شکست کھاکر بھاگ جائے گی۔
رسول اللہ ﷺ کا قبہ فتح کا دن :
2:۔ البخاری والنسائی وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وابو نعیم (رح) فی الدلائل وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے…
Read the full tafseer →بَلِ السَّاعَةُ [ بلکہ وہ گھڑی ] مَوْعِدُهُمْ [ انکے وعدے کا وقت ہے ] وَالسَّاعَةُ [ اور وہ گھڑی ] اَدْهٰى [ سب سے بڑی مصیبت ہے ] وَاَمَرُّ [ اور انتہائی کڑوی ہے ]
دھ ی : (ف) دھیا ۔ مرتبہ گھٹانا ۔ مصیبت پہنچانا ۔ ادھی افعل تفضیل ہے ۔ زیادہ یا سب سے بڑی مصیبت ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 46 ۔
Read the full tafseer →یوم قیامت کی سخت مصیبت اور مجرمین کی بدحالی :
اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ 0046﴾ (بلکہ قیامت ان کا وعدہ ہے اور قیامت بہت سخت مصیبت کی چیز ہے اور بہت کڑوی ہے) دنیا میں یہ لوگ شکست کھائیں گے ذلت اٹھائیں گے مقتول ہوں گے موت کی سختی جھیلیں گے پھر برزخ کی مصیبت گزار کر قیامت کے دن کی مصیبت میں مبتلا ہوں گے وہ مصیبت بہت ہی زیادہ سخت ہوگی اور بہت ہی زیادہ کڑوی ہوگی جیسے بہت سخت کڑوی چیز کا چکھنا اور نگلنا بہت دشوار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کی مصیبت کو سمجھ لو۔ اس سے قیامت کی مصیبت کا تھوڑا سا اندازہ ہوجائے گا۔ قال صاحب الروح واشد مرارة فی الذوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
21:۔ ” بل الساعۃ۔ الایۃ “ یہ تو معمولی عذاب ہوگا اور یہ ان کے کرتوتوں کی پوری سزا نہیں، ان کی پوری سزا کا دن تو قیامت کا دن ہے جس کی دہشت وہیبت اور جس کے عذاب کی شدت سب سے زیادہ ہوگی اور جس کا عذاب ہر عذاب اور سزا سے زیادہ تلخ اور سب سے بڑھ کر المناک ہوگا۔ ” ان المجرمین۔ الایۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن تمام مجرمین ہلاکت اور بھڑکتی آگ میں ہوں گے یا دنیا میں خسارے اور جنون میں ہیں۔ قرآن ایسی روشن کتاب سے ہدایت حاصل نہ کرنا سراسر جنون اور خسارہ ہے۔ ” فی ضلال وسعر “ فی ھلاک و نیران (مدارک ج 4 ص 106) ۔ وقال ابن عباس ؓ : فی خسران وجنون (روح ج 27 ص 93) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…
Read the full tafseer →بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰى وَاَمَرُّ 46
بل
بَلْ كلمة للتدارک، وهو ضربان :
- ضرب يناقض ما بعده ما قبله، لکن ربما يقصد به لتصحیح الحکم الذي بعده وإبطال ما قبله، وربما يقصد تصحیح الذي قبله وإبطال الثاني، فممّا قصد به تصحیح الثاني وإبطال الأول قوله تعالی: إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ ما کانوا يَكْسِبُونَ [ المطففین/ 13- 14] ، أي : ليس الأمر کما قالوا بل جهلوا، فنبّه بقوله :
رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ علی جهلهم، وعلی هذا قوله في قصة إبراهيم قالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هذا بِآلِهَتِنا يا إِبْراهِيمُ قالَ بَلْ فَعَلَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–55
ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔
تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا…
Read the full tafseer →بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَاَمَرُّ ۔ (القمر : 46)
(بلکہ ان کے وعدے کا وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کا دن بڑا ہی سخت اور بڑا ہی کڑوا ہوگا۔ )
قریش ہی کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ دنیا میں ان کی جمعیت تو مسلمانوں کے ہاتھوں یقینا شکست کھائے گی اور یہ لوگ سر پر پائوں رکھ کر بھاگیں گے۔ لیکن یہ ان کی آخری سزا نہیں۔ ان کو جو وعید سنائی جارہی ہے ان کے ظہور کا اصلی دن قیامت کا دن ہے۔ اس دن ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ قیامت کا دن بڑا کٹھن دن ہے یعنی ایسی مصیبت کا دن ہوگا کہ اس دن کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے گا۔ اور ایسا کڑوا اور تلخ ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو دنیا میں عذاب دینے کے ساتھ آخرت میں بھی عذاب دیا جائے گا۔
اہل مکہ کو جو انتباہ کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف پورا ہوا اور ان کی جمعیت اور قوت کو تہس نہس کردیا گیا۔ اس کے باوجود فرمایا کہ انہیں اصل سزا قیامت کے دن دی جائے گی جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ دن بذات خود بڑا سخت اور خوفناک ہوگا۔ یقیناً مجرم کھلی گمراہی اور پاگل پن میں مبتلا ہیں۔ اس دن ان کو ان کے چہروں کے بل جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھو۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر کیا ہے تاکہ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کی پوری پوری جزا دے۔ مجرموں کے لیے…
Read the full tafseer →آیت 46: بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ (بلکہ قیامت ان کے لئے وعدئہ عذاب ہے) ۔ بدر کے بعد ان سے عذاب کا وعدہ کیا۔ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی (اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے۔ ) موقف بدر کی بنسبت زیادہ سخت ہے۔ الداھیۃ : ایسی اوپری مصیبت جس کا علاج نہ ہو۔ وَاَمَرُّ وہ عذاب دنیا سے زیادہ کڑوا ہے۔ یا مِرّہ سے زیادہ بدمزہ ہے۔
Read the full tafseer →45 ۔” سیھزم الجمع “ یعقوب (رح) نے ” سنھزم ‘ نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” الجمع “ نصب پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء اور اس کی پیش ” الجمع “ مرفوع پڑھا ہے نائب فاعل ہونے کی وجہ سے ۔ یعنی کفار مکہ ” ویولون الدبر “ یعنی پشتیں۔ واحد لایا گیا ہے آیتوں کے اختتام سے موافقت کی وجہ سے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” ضربنا منھم الرئوس وضربنا منھم الراس “ جب واحد جمع کا معنی ادا کردے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اپنی پشتوں کو پھیریں گے شکست کھا کر تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور بدر کے دن ان کی شکست دی۔ ابن عباس ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور آپ (علیہ السلام) اپنے خیمہ میں تھے بدر کے دن۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
( اَمْ لَكُمْ بَرَاۗءَةٌ فِي الزُّبُرِ ) یا تمہارے لیے سابقہ صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے ؟ یعنی کیا اللہ نے ان کتابوں میں تمہارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کررکھا ہے جو گزشتہ انبیا پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ کے وعدے اور اس کی خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے ؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے بلکہ یہ عقلا اور شرعا غیر ممکین امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی برات لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔ یہ حخمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنہوں نے افضل الانبیا سید المرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ کے ہاں تمام انبیا سے بڑھ کر ہیں صاحب تکریم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
[ 51] منکرین کیلئے اصل عذاب کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لیے دنیا کے اسی عذاب پر بس نہیں بلکہ ان کو اصل عذاب قیامت کے روز ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ارشاد سے صاف وصریح طور پر اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اسی دنیاوی ہزیمت و پامالی اور تذلیل و رسوائی پر بس نہیں، بلکہ ان کے اصل عذاب کا وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کی وہ گھڑی انتہائی ہولناک اور بڑی ہی تلخ گھڑی ہوگی۔ اتنی تلخ اور اس قدر ہولناک کہ اس کی ہیبت و دہشت اور تلخی و مرارت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس ہزیمت اور پامالی سے تو یہ لوگ عنقریب اس دنیا میں ہی دوچار ہوں گے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →ف 8 جس کے سامنے دنیا کی آفتوں اور تکلیفوں کی کوئی حقیت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(54:46) بل حرف اضراب ہے۔ بل کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ حکم ما قبل کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا جائے۔ یہی صورت یہاں مراد ہے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ :۔ ان کفار کی ہزیمت اور پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلنا ہی ان کی ناکامی اور بےآبروئی کے لئے کافی نہیں بلکہ اصل عذاب تو قیامت کے دن آنے والا ہے۔ جس کا وقت مقرر ہے اسے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے۔
ای لیس ھذا تمام عقوبتھم بل الساعۃ موعد عذابھم و ھذا من طلائعۃ (روح المعانی)
اس (عذاب) سے ان کی سزا تمام نہیں ہوئی بلکہ قیامت ان کے عذاب کے وعدہ کا وقت ہے یہ موجودہ (عذاب) تو محض اس کا پیش خیمہ ہے۔ والساعۃ واؤ عاطفہ۔ الساعۃ روز قیامت۔ یا عذابھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55
برآءۃ معافی ہے۔
الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 43 تا 55
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
(ف 1) اے قریش ! کیا تم کافروں کی جماعت ان اگلے کافروں سے کچھ بہتر ہے قوت وجماعت میں زائد ہے کیا ہے کچھ بھی نہیں۔ کیا تمہارے لیے کوئی پروانہ نجات ، برات نامہ خدا کا اس کی کتابوں میں لکھ کر آگیا ہے شرک کی اجازت مل گئی ہے۔ اے محبوب ﷺ کیا ان کافروں کو یہ گھمنڈ اور دعوی ہے کہ ہم سب اکٹھے ایک جماعت، ایک دل آپس میں مدد کرنے والے ہیں ہم پر کون قابوپائے گا تو اے محبوب ﷺ عنقریب وہ وقت آگیا کہ ان کی جماعتیں پراگندہ ہوں اور سب شکست کھائیں اور پیٹھ پھیربھاگیں ۔ بلکہ اصل عذاب کا تو وعدہ آخرت کے عذاب کا ہے جس کے ظہور کا وقت قیامت ہے جو بڑی آفت کا دن ہے اور نہایت کڑوی گھڑی ہے جس میں اس طرح کے نافرمان لوگ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
[10] یعنی ان تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ کفار مکہ کی قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار و قرائن کے پیش نظر ایک بظاہر بےیارو مددگار شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشین گوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآن کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
ف 3: فرمایا : مکہ والو ! کیا تم ان لوگوں سے بہتر ہو ۔ جن کو اللہ کے غضب نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ یا تمہارے لئے کوئی معافی نامہ سابقہ کتب میں موجود ہے ۔ کہ تمہیں بہرآئینہ زندہ اور باقی رکھا جائیگا ۔ تمہاری سرکشی اور بغاوت کا آخر سبب کیا ہے ؟
کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ تمہاری جماعت بہو ٹیج مظفر ومقصور رہے گی ۔ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو ۔ تو سمجھ لو ۔ کہ حکمت اور ہزئمیت تمہارے لئے مقدارات میں سے ہے ۔ عنقریب تم حق وصداقت کے سپاہیوں کے مقابل ہمیں آؤ گے ۔ اور دم دبا کر بھاگو گے ۔ یہ ایک پیشگوئی تھی ۔ اور اس کا اظہار اس وقت کیا گیا ۔ جب کہ مسلمان نہایت کمزور اور بےسروسامنی کے عالم میں تھے ۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →(46) صرف یہ ہی نہیں ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی ہی سخت اور بڑی ہی تلخ ہے۔ یعنی یہ یوں کہتے ہیں کہ ہماری جمعیت اور ہمارا باہمی میل اور ہمارا بندھن دشمن سے خوب بدلا لینے والا ہے۔ یعنی ہمیں کون نقصان پہنچانے والا ہے اور ہماری مغلوبیت کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ہمارا باہمی بندھن بہت مضبوط ہے اور ہم میں دشمن سے بدلہ لینے کی طاقت ہے اس لئے ہم غالب رہیں گے اور مغلوب نہیں ہوسکتے۔
حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا یہ جماعت اور یہ جمعیت تو دنیا ہی میں پارہ پارہ ہوجائیگی اور یہ جماعت شکست کھائے گی اور پیٹھ پھیر کر اور پیٹھ دے کر بھاگے گی یہ تو دنیا ہی میں ہوگا جیسا کہ غزوہ بدر اور غزوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
ف 3۔ یہ پیشنگوئی بدر و احزاب میں واقع ہوئی۔
Read the full tafseer →ان کے اصل وعدہ کا وقت تو قیامت ہے جو بڑی ہی سخت اور تلخ ہے
46 ؎ یہ دنیا کا معاملہ تھا جہاں مکافات عمل ہوتا ہے لیکن وہ مکمل اور پورا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا مکمل اور پورا ہونا ممکن ہی نہیں ہے اس کی وضاحت پیچھے کتنے مقامات پر ہم کرچکے ہیں کہ دنیا میں اس کا بدلہ کیوں ممکن نہیں ؟ اس لئے کہ انسان اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ‘ خواہ وہ اچھا ہو یا برا لیکن اس کے بعض اعمال باقی رہ جاتے ہیں اور وہ اس وقت تک اثر انداز ہوتے رہیں گے جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے۔ ہمارے آبائو اجداد کتنے ہی ایسے اعمال چھوڑ گئے جو آج تک زندہ وجاوید ہیں اگرچہ ان کو دنیا سے رخصت ہوئے سینکڑوں برس گزر چکے ہیں پھر یہ کیسے ممکن تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
Lexicological analysis
The word زُبُر zubur (in verse 43) is the plural of zabur, which stands for any written book. It specifically refers to the Scripture that was revealed to Prophet Dawud (علیہ السلام) .
أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ (...more calamitous and more bitter...54:46). The word adha means more or most calamitous. The word amarr is derived from murr which originally means 'bitter'. By extension anything 'difficult' or 'painful' is also referred to as amarr and murr. In the phrase فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ fi dalalin wa su'ur, dalal, as is known, means 'error' or 'deviation' and the word su'ur…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
24 This is a specific prophecy that was made five years before the hijrah, saying that the hosts of the Quraish who waxed proud of their strength would soon be put to rout by the Muslims. At that time no one could imagine how such a revolution would take place in the near future. Such was the helplessness of the Muslims that a group of them had already left the country and taken refuge in Habash and the rest of the believers lay besieged in Shi'b Abi Talib, and were being starved by the Quraish boycott and siege. Under such conditions no one could imagine that within only the ncxt seven years…
Read the full tafseer →