Explained with ayahs 41–46
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
سورة الْقَمَر 22
اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(ولقد جاء ال فرعون النذرہ کذبوا بایتنا کلھا فاخذنھم اخذ عزیز مقتدر) (41، 42)
(واقعہ فرعون)۔ یہ آخر میں فرعون اور اس کی قوم کیا نجام کی طرف بھی بالا جمال اشارہ کردیا۔ آل فرعون سے مراد ظاہر ہے کہ صرف فرعون کے اہل و عیال ہی نہیں بلکہ اس کی پوری قوم ہے۔ نذر یہاں جمع کے مفہوم میں ہے اور (کذبوا بایتنا کلھا) کے الفاظ سے اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ یعنی یہ اشارہ انداز کی ان تمام نشانیوں کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں مصریوں کو قہر الٰہی سے ڈرانے کے لیے ظاہرہوئیں اور جن کی پوری تفصیل تورات میں بھی موجود ہے اور قرآن نے بھی ان کا حوالہ دیا ہے اور ہم ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ہر نشانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
40۔ 1 قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن اور اس کے فہم و حفظ کو آسان کردینا، اللہ کا احسان عظیم ہے، اس کے شکر سے انسان کو کبھی غافل نہیں ہونا چاہیئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
10: سورة ہود میں گذر چکا ہے کہ ان کی بستیاں الٹ ڈالی گئیں تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ولقد یسرنا ............ من مد کر (45: 0 4) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ کڑیاں اب جزیرہ عرب کے باہر سے بھی ایک منظر پیش کرکے ختم ہوتی ہیں۔ ایک مختصر اشارہ فرعون کے انجام کی طرف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
5 حضرت موسیٰ اور ہارون اور ان کے ڈرانے والے نشان۔
Read the full tafseer →آیت 41 { وَلَقَدْ جَآئَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ۔ } ”اسی طرح قوم فرعون کے پاس بھی آئے تھے خبردار کرنے والے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
28 پھر دوسرے دن صبح کے وقت ان پر جو بڑا عذاب آیا اس کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ پہلے اس پورے خطہ زمین کو جبریل (علیہ السلام) نے اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جاکر پھر الٹا کر زمین پردے مارا۔ جس سے یہ خطہ زمین میں دھنس گیا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ پھر اس دھنسے ہوئے خطہ زمین پر سمندر کا پانی چڑھ آیا جو متعفن اور بدبودار ہوگیا۔ اس طرح اس قوم کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
26۔ ڈرانے کی متعدد چیزوں سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کے ارشادات بھی ہیں جو منذر تشریعی تھے اور معجزات بھی جو منذرات تکوینی تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ولقد راودہ عن ضیفہ تفصیل تو سورة ہود میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو جن میں جبرئیل ومیکائیل بھی شامل تھے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا، یہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان کو ایک فرزند ارجمند کی خوشخبری دی اس کے بعد حضرت لوط علیہ الصلاۃ و اسلام کے پاس پہنچے، ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں، وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری اور ذوق خبیث کی تکسین کے لئے ان…
Read the full tafseer →ولقد جاء ال فرعون النذر
” اور فرعون کے ساتھیوں کے پاس بھی ڈرانے کی بہت سی چیزیں پہنچیں۔ ان لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ سو ہم نے زبردست قدرت والے کی پکڑ کی طرح ان کو دھر پکڑا۔ “
النذُر : سے مراد ہیں حضرت موسیٰ ‘ حضرت ہارون اور ان کے ساتھی۔ بعض علماء کے نزدیک وہ معجزات مراد ہیں جو فرعون اور فرعونیوں کے ڈرانے کے لیے حضرت موسیٰ نے پیش کیے تھے۔ صرف آل فرعون کا ذکر کیا ‘ فرعون کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ تو معلوم ہی ہے کہ اصل فرعون ہی تھا ‘ اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔
اٰیات : سے مراد ہیں حضرت موسیٰ پر نازل شدہ نو احکام۔ حضرت صفوان بن عسال راوی ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اور فرعون اور اس کی قوم کے پاس موسیٰ اور ہارون آئے سو ان لوگوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا سو ہم نے ان کو زبردست صاحب قدرت کا پکڑنا پکڑا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ : آل فرعون کو ڈرانے اور خبر دار کرنے والوں سے مراد ان کے پاس آنے والے پیغمبر موسیٰ اور ہارون ؑ بھی ہیں اور ان کو دیئے جانے والے نو (9) معجزات بھی ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ”تسع ایت بینت“ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ٔ بنی اسرائیل (101) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →ولقد جآء ال فرعون النذر۔ آل فرعون سخے مراد قبطی ہیں۔ نذر سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہ اورن (علیہما السلام) ہیں۔ بعض اوقات جمع کا صیغہ دو افراد پرب ھی آت اعے۔ کذبوا با یتنا آیات سے مراد معجزات ہیں جو ہماری توحید اور ہمارے انبیاء کی نبوت دال ہیں وہ عصا، ید بیضا، قحط، آنکھوں کا بےنور ہونا، طوفان، ٹڈی دل، جویں، مینڈک اور خون ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : النذر سے مراد الرسل ہیں ان کے پاس حضرت یوسف علیہم السلام، ان کے بیٹے یہاں تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے۔ ایک قول یہ کی گیا ہے : نذر سے مراد نذار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات)
قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ
10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَ [ اور بیشک آچکے ] اٰلَ فِرْعَوْنَ [ فرعون کے پیروکاروں کے پاس ] النُّذُرُ [ خبردار کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آل فرعون کی تکذیب اور ہلاکت وتعذیب
ان آیات میں اولاً آل فرعون کا تذکرہ ہے یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ شانہ، کے باغی تھے۔ فرعون کی بڑی طاقت تھی اس کی جمعیت بھی تھی اسے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ کہتا تھا کہ میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی طرف بھیجا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا فرعون کا دبدبہ تو تھا ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون اور اس کی قوم کے بڑے لوگ دربار کے حاضر باش اور قوم کے سردار (جنہیں کئی جگہ ملاہٴ سے تعبیر فرمایا) لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور عوام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ٖف 18:۔ ” ولقد جاء ال فرعون النذر “ یہ تخویف دنیوی کا پانچواں نمونہ ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھی ہم نے ڈرنے والے بھیجے اور دلائل و معجزات سے اس کو سمجھایا۔ لیکن اس نے ہمارے تمام معجزات کا انکار کیا تو ہم نے ان کو دریا میں غرق کر کے جہنم میں ڈالا اور ان کو اس طرح پکڑا جس طرح ایک بڑا ہی طاقتور اور صاحب اقتدار بادشاہ مجرموں کو پکڑتا ہے جسے نہ کوئی مغلوب کرسکے اور نہ کوئی اسے انتقام سے روک سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ 41 ۚ
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔
تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
وَلَقَدْ جَآئَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ۔ کَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کُلِّھَا فَاَخَذْنٰـھُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ ۔ (القمر : 41، 42)
(اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئیں۔ انھوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان کو ایک غالب اور قوت والے کے پکڑنے کی طرح پکڑا۔ )
فرعون اور آل فرعون کا حوالہ
جن معذب قوموں کی سرگزشتوں سے استدلال کرتے ہوئے قریش کو سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے اس میں آخری سرگزشت فرعون اور آل فرعون کی بیان فرمائی گئی ہے۔ تفصیل اس لیے ذکر نہیں کی گئی کہ ہم اس سے پہلے متعدد مواقع پر اس سرگزشت کے مختلف اجزاء پڑھ چکے ہیں۔ یہاں اشارۃً صرف اتنی بات فرمائی گئی ہے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے بعد قوم فرعون کا ذکر۔
مصر کا بادشاہ سرکاری منصب کے حوالے سے فرعون کہلواتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام قابوس یا رعمیس تھا۔ یہ فرعون اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوا۔ کہ اگر میں خدا کا اوتار نہ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا فرمانروا کیونکر ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے لوگوں کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اعلانیہ طور پر رب اعلیٰ قرار دیا۔ اپنی قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے۔ میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا…
Read the full tafseer →آیت 41: وَلَقَدْ جَآئَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرِ (اور فرعون کے ساتھیوں کے پاس بھی ڈرانے کی بہت سی چیزیں پہنچیں۔ ) النذر : موسیٰ و ہارون اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) یا النذر جمع نذیر کی ہے بمعنی انذار۔ ڈراوے کی چیزیں۔
Read the full tafseer →40 ۔” ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(وَلَقَدْ جَاۗءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ) اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس ڈرانے والے آئے۔ اللہ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ کو بھیجا آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انہوں نے اللہ کی تمام نشانیوں کو جھٹلایا تب اللہ نے انکو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کے مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کردیا۔ ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو حضرت محمد مصطفیٰ کو جھٹلاتے ہیں بنابریں فرمایا (اَكُفَّارُكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
[ 45] درس عبرت لینے کی تعلیم و ترغیب :
سو لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑنے اور ان کو درس عبرت لینے کی ترغیب کے طور پر رحمتوں اور شفقتوں بھرے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنیوالا ؟ اس آیت کریمہ کو ان چاروں قصوں میں سے ہر ایک کے ساتھ دوہرایا گیا کہ ان میں سے ہر ایک میں پندونصیحت کا ایک مستقل اور کافی و وافی سامان ہے، مگر اس کے لئے جو نصیحت قبول کرنا اور سبق لینا چاہتا ہو۔ پس تاریخ کو محض قصہ گوئی کیلئے نہیں، عبرت اور سبق آموزی کے لئے پڑھنا چاہیے، مگر افسوس کہ آج کے تاریخ دانوں سے عبرت پذیری کا یہی گوہر مقصود غائب اور نایاب ہے۔ الا ماشاء اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس قصے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 3 یا ” تنبی ہیں آچکیں “
Read the full tafseer →(54:41) ای فرعون : مضاف مضاف الیہ۔ آل عمران کا ذکر کیا ہے فرعون کا ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ یہ تو معلوم ہی ہے کہ اصل فرعون ہی تھا اس لئے کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
النذر : جمع نذیر کی ڈرانے والے۔ مراد یہاں حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون اور ان کے ساتھ ہیں ۔ بعض علماء کے نزدیک وہ معجزات مراد ہیں جو فرعون اور فرعونیوں کو ڈرانے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کئے۔ النذر فاعل ہے جاء کا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(ف 1) فرعون اور اس کی قوم کی طرف حضرت موسیٰ اور ہارون ڈر سنانے آئے انہوں نے ہماری سب نشانیوں کی یعنی حضرت موسیٰ کے نومعجزوں کی تکذیب کی ہم نے ان کو یوں پکڑ کر سزا دی جیسے ایک بڑاجلیل القدر بادشاہ قاہر قادر ایک ادنی آدمی کو پکڑ لیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ف 2: فرعون کی قوت وسطوت سے کون آگاہ نہیں جب اس نے بھی آیات بینات کا انکار کیا ۔ اور اللہ کی تعلیمات سے روگردانی کی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ اس کو پکڑا ۔ اور لاؤ لشکر سمیت قلزم میں غرق کردیا ۔
Read the full tafseer →(41) اور فرعون والوں کے پاس بھی بہت سے ڈرنے والی چیزیں پہنچیں۔ ڈرانے والی چیزیں یا تو پیغمبر جیسے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نو نشانیاں فرعون بھی فرعونوالوں میں شریک ہے یعنی فرعون اور اس کے متعلقین کے پاس ڈرانے والی باتیں آئیں ڈرانے والی باتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں کو دیکھ کر اور پیغمبروں کی باتیں سن کر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور ایمان لے آتے لیکن ہوا یہ
Read the full tafseer →ف 1۔ مراد موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات اور معجزات ہیں کہ اول منذر تشریعی اور ثانی منذرات تکوینی ہیں۔
Read the full tafseer →اور آل فرعون کے پاس بھی ڈرانے والے پہنچے
41 ؎ فرعون اور آل فرعون کے پاس جانے والے کون تھے ؟ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) تھے اور وہ سارے لوگ جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ (النذر) جمع ہے لانذیر کی اور لانذیر واحد ہے ڈرانے والا اور النذر یعنی ڈرانے والے۔ جب آل فرعون کا ذکر کیا گیا تو فرعونبذاتہ ان میں آگیا کیونکہ اصل وہی تھا اور اس کے اعوان و انصار تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
22 The details of this story have been given in Surah Hud: 77-83 and Surah AI-Hijr: 61-74 above, a resume of which is as follows:
When AIIah decided to punish those people with a torment, He sent a few angels in the guise of handsome boys as guests in the house of the Prophet Lot. When the people saw such handsome guests in Lot's house they rushed to it and demanded that they be handed over to them for tile gratification of their lust. The Prophet Lot implored them to desist from their evil intention, but they did not listen and tried to enter his house to take hold of the guests forcibly. At…
Read the full tafseer →