Explained with ayahs 41–46
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
سورة الْقَمَر 22
اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(ولقد جاء ال فرعون النذرہ کذبوا بایتنا کلھا فاخذنھم اخذ عزیز مقتدر) (41، 42)
(واقعہ فرعون)۔ یہ آخر میں فرعون اور اس کی قوم کیا نجام کی طرف بھی بالا جمال اشارہ کردیا۔ آل فرعون سے مراد ظاہر ہے کہ صرف فرعون کے اہل و عیال ہی نہیں بلکہ اس کی پوری قوم ہے۔ نذر یہاں جمع کے مفہوم میں ہے اور (کذبوا بایتنا کلھا) کے الفاظ سے اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ یعنی یہ اشارہ انداز کی ان تمام نشانیوں کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں مصریوں کو قہر الٰہی سے ڈرانے کے لیے ظاہرہوئیں اور جن کی پوری تفصیل تورات میں بھی موجود ہے اور قرآن نے بھی ان کا حوالہ دیا ہے اور ہم ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ہر نشانی…
Read the full tafseer →42۔ 1 وہ نشانیاں، جن کے ذریعے سے حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور فرعونیوں کو ڈرایا، یہ نشانیاں تھیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
10: سورة ہود میں گذر چکا ہے کہ ان کی بستیاں الٹ ڈالی گئیں تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ولقد یسرنا ............ من مد کر (45: 0 4) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ کڑیاں اب جزیرہ عرب کے باہر سے بھی ایک منظر پیش کرکے ختم ہوتی ہیں۔ ایک مختصر اشارہ فرعون کے انجام کی طرف۔
Read the full tafseer →6 یعنی خدا کی پکڑ بڑے زبردست کی پکڑ تھی۔ جس کے قابو میں نکل کر کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ دیکھ لو ! تمام فرعونیوں کا بیڑہ کس طرح بحر قلزم میں غرق کیا کہ ایک بچ کر نہ نکل سکا۔
Read the full tafseer →آیت 42 { کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا } ”انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا“
سورة بنی اسرائیل کی آیت 101 میں ان نشانیوں کی تعداد نو 9 بتائی گئی ہے : { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ } ”اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں“۔ ان میں دو نشانیاں تو آپ علیہ السلام کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا چمکدار ہوجانا۔ جبکہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں آیا ہے۔ یہ نشانیاں قوم فرعون پر وقتاً فوقتاً عذاب کی صورت میں نازل ہوتی رہیں۔
{ فَاَخَذْنٰــہُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔ } ”پھر ہم نے انہیں پکڑا ‘ ایک…
Read the full tafseer →29 فرعون کی خدائی اور فرعونیوں کا حشر :۔ فرعون بھی اپنے ملک میں خدا بنا بیٹھا تھا۔ سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہما السلام) اس کے پاس ایسے واضح معجزات لے کر آئے تھے جن سے انہیں یقین ہوگیا تھا کہ یہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ مگر وہ اپنی فرمانروائی اور خدائی سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہ تھا لہذا پیغمبروں کو جھٹلا دیا اور ان پر ایمان لانے کی بجائے ظلم و ستم ڈھانے لگا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردینے کے منصوبے سوچنے لگا۔ اس وقت ہم نے اسے ایسی سزادی جس سے بچ نکلنے کے لیے اس کے پاس کوئی راہ نہ تھی۔ ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو عین سمندر کے درمیان لاکر سمندر کے پانی کو روانی کا…
Read the full tafseer →27۔ یعنی قہر و غلبہ کے ساتھ پکڑا جس کے دفع کرنے پر کوئی بھی قادر نہ ہوسکا۔ (آیت) ” عزیز مقتدر “۔ زبردست اور قدرت والا۔ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔ ؟ چناچہ اسی مناسبت سے اس کی گرفت بھی سخت اور بےپناہ رہی۔ بعض مشرک جاہلی قوموں نے خدا کو خدا مان کر بھی صفات قہر وغضب سے محروم ومعزی تسلیم کیا ہے۔ عزیز ومقتدر۔ جیسے صفاتی نام لانے سے ایک مقصود ان غلط عقائد کی تردید بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ولقد راودہ عن ضیفہ تفصیل تو سورة ہود میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو جن میں جبرئیل ومیکائیل بھی شامل تھے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا، یہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان کو ایک فرزند ارجمند کی خوشخبری دی اس کے بعد حضرت لوط علیہ الصلاۃ و اسلام کے پاس پہنچے، ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں، وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری اور ذوق خبیث کی تکسین کے لئے ان…
Read the full tafseer →کذبوا بایتنا کلھا فاخذنھم اخذ عزیز مقتدر .
فَآخَذْنٰھُمْ : یعنی عذاب میں ہم نے ان کو دھر پکڑا ‘ دریا میں غرق کردیا ‘ پھر دوزخ میں داخل کردیا۔
اَخْذَ عَزِیْزٍ : یعنی ایسے غالب کی سی پکڑ جو کسی سے مغلوب نہ ہو۔
مُّقْتَدِرٍ : یعنی ایسا غالب جو انتقام لینے پر قادر ہو ‘ کوئی شخص اور کوئی چیز اس کو انتقام سے نہ روک سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اور فرعون اور اس کی قوم کے پاس موسیٰ اور ہارون آئے سو ان لوگوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا سو ہم نے ان کو زبردست صاحب قدرت کا پکڑنا پکڑا۔
Read the full tafseer →کَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذْنٰـہُمْ۔۔۔۔:”عزیز“ سب پر غالب ، جو کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ ”مقتدر“ ”قدر یقدر“ (ض) سے باب افتعال ہے ، حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ”مقتدر“ میں ”قادر“ اور ”قدیر“ کی بہ نسبت قدرت کا معنی زیادہ ہے ، یعنی جو کرنا چاہے اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ، کسی طرح عاجز نہیں۔ آل فرعون پر آنے والی گرفت کی شدت اور ہولناکی کا بیان مقصود ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ہود (102)
Read the full tafseer →فاخذنھم اخذ عزیز، عزیز کا معنی ہے جو انتقام لینے میں غالب ہو۔ مقتدر۔ اس پر قادر ہو جس کا ارادہ رکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات)
قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ
10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…
Read the full tafseer →كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا [ انہوں نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو ] كُلِّهَا [ ان کے کل کو ] فَاَخَذْنٰهُمْ [ تو ہم نے پکڑا ان کو ] اَخْذَ عَزِيْزٍ [ ایک زبردست کا پکڑنا ] مُّقْتَدِرٍ [ جو پوری طرح قابو یافتہ ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آل فرعون کی تکذیب اور ہلاکت وتعذیب
ان آیات میں اولاً آل فرعون کا تذکرہ ہے یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ شانہ، کے باغی تھے۔ فرعون کی بڑی طاقت تھی اس کی جمعیت بھی تھی اسے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ کہتا تھا کہ میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی طرف بھیجا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا فرعون کا دبدبہ تو تھا ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون اور اس کی قوم کے بڑے لوگ دربار کے حاضر باش اور قوم کے سردار (جنہیں کئی جگہ ملاہٴ سے تعبیر فرمایا) لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور عوام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ٖف 18:۔ ” ولقد جاء ال فرعون النذر “ یہ تخویف دنیوی کا پانچواں نمونہ ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھی ہم نے ڈرنے والے بھیجے اور دلائل و معجزات سے اس کو سمجھایا۔ لیکن اس نے ہمارے تمام معجزات کا انکار کیا تو ہم نے ان کو دریا میں غرق کر کے جہنم میں ڈالا اور ان کو اس طرح پکڑا جس طرح ایک بڑا ہی طاقتور اور صاحب اقتدار بادشاہ مجرموں کو پکڑتا ہے جسے نہ کوئی مغلوب کرسکے اور نہ کوئی اسے انتقام سے روک سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كُلِّہَا فَاَخَذْنٰہُمْ اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ 42
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔
تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
وَلَقَدْ جَآئَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ۔ کَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کُلِّھَا فَاَخَذْنٰـھُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ ۔ (القمر : 41، 42)
(اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئیں۔ انھوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان کو ایک غالب اور قوت والے کے پکڑنے کی طرح پکڑا۔ )
فرعون اور آل فرعون کا حوالہ
جن معذب قوموں کی سرگزشتوں سے استدلال کرتے ہوئے قریش کو سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے اس میں آخری سرگزشت فرعون اور آل فرعون کی بیان فرمائی گئی ہے۔ تفصیل اس لیے ذکر نہیں کی گئی کہ ہم اس سے پہلے متعدد مواقع پر اس سرگزشت کے مختلف اجزاء پڑھ چکے ہیں۔ یہاں اشارۃً صرف اتنی بات فرمائی گئی ہے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے بعد قوم فرعون کا ذکر۔
مصر کا بادشاہ سرکاری منصب کے حوالے سے فرعون کہلواتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام قابوس یا رعمیس تھا۔ یہ فرعون اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوا۔ کہ اگر میں خدا کا اوتار نہ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا فرمانروا کیونکر ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے لوگوں کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اعلانیہ طور پر رب اعلیٰ قرار دیا۔ اپنی قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے۔ میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا…
Read the full tafseer →آیت 42: کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا (ان لوگوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا۔ ) آیات سے نو نشانیاں مراد ہیں۔ فَاَخَذْنٰہُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ (ہم نے زبردست قدرت والے کی پکڑ کی طرح ان کو دھر پکڑا۔ ) عزیز جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ مقتدر : اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔
Read the full tafseer →41 ۔” ولقد جآء آل فرعون النذر “ یعنی موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور کہا گیا ہے یہ وہ نشانیاں ہیں جن کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(وَلَقَدْ جَاۗءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ) اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس ڈرانے والے آئے۔ اللہ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ کو بھیجا آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انہوں نے اللہ کی تمام نشانیوں کو جھٹلایا تب اللہ نے انکو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کے مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کردیا۔ ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو حضرت محمد مصطفیٰ کو جھٹلاتے ہیں بنابریں فرمایا (اَكُفَّارُكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
[ 46] فرعونیوں کے جرم تکذیب و انکار کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعونیوں کے پاس بھی تنبیہات آئیں مگر ان لوگوں نے بھی جھٹلایا ہماری سب نشانیوں کو۔ یعنی ان معجزات کو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرما گئے تھے، جن کو اعراف وغیرہ میں تسع آیات تسع آیات سے تعبیر فرمایا گیا ہے، نہ کہ تورات کی آیات کہ وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غرق فرعون کے بعد فرمائی گئی تھیں، بہرکیف اس ارشاد سے فرعون اور اس کی قوم کے جرام اور ان کے انجام کی طرف بالاجمال اشارہ فرما دیا گیا کہ انہوں نے بھی جھٹلایا پیغام حق و ہدایت کو، اور حضرت موسیٰ کے معجزات کو، جس کے نتیجے میں وہ بدبخت بھی ہمیشہ کیلئے مٹ مٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 3 یا ” تنبی ہیں آچکیں “
Read the full tafseer →(54:42) کذبوا : میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب آل عمران کے لئے ہے۔
بایتنا کلہا۔ ب حرف جار۔ ایتنا مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف کلہا مضاف مضاف الیہ مل کر صفت اپنے صوف کی ، ہماری تمام آیات کو۔
فائدہ : آیات سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ نو احکام ہیں وہ یہ ہیں :۔
(1) کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دو ۔ (2) چوری نہ کرو۔
(3) زنا نہ کرو۔ (4) جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو۔
(5) کسی بےقصور کو حاکم کے پاس قتل کرانے کے لئے نہ لے جاؤ۔
(6) جادو نہ کرو۔ (7) سود نہ کھاؤ۔
(8) کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ۔ (8) جہاد کے معرکہ سے پشت نہ پھیرو۔
اور ایک خاص حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(ف 1) فرعون اور اس کی قوم کی طرف حضرت موسیٰ اور ہارون ڈر سنانے آئے انہوں نے ہماری سب نشانیوں کی یعنی حضرت موسیٰ کے نومعجزوں کی تکذیب کی ہم نے ان کو یوں پکڑ کر سزا دی جیسے ایک بڑاجلیل القدر بادشاہ قاہر قادر ایک ادنی آدمی کو پکڑ لیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ف 2: فرعون کی قوت وسطوت سے کون آگاہ نہیں جب اس نے بھی آیات بینات کا انکار کیا ۔ اور اللہ کی تعلیمات سے روگردانی کی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ اس کو پکڑا ۔ اور لاؤ لشکر سمیت قلزم میں غرق کردیا ۔
Read the full tafseer →(42) کہ انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کی تکذیب کی اور ہماری سب نشانیوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ان کی ایسی گرفت کی اور ایسا کی اور ایسا پکڑا جیسے ایک زبردست زور آور صاحب اقتدار کی گرفت اور پکڑنا ہوتا ہے۔ نشانات کی تکذیب کا یہ مطلب کہ ان کو جادو بتایا اللہ تعالیٰ کی نشانی ہونے کا انکار کیا اور نشانہائے خداوندی پر جو نتیجہ مرتب ہوتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے اور دین برحق کے مطیع ہوجاتے وہ نہیں کیا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلاتے رہے۔
عزیر مقتدر یعنی جس طرح زبردست اور قوی اور بااختیار اور ذی اقتدار بادشاہ پکڑا کرتے ہیں اور سزا دیتے ہیں اسی طرح ہم نے ان کی گرفت کی اور سزا دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 2۔ یعنی ان کے مدلول و متقضی کو کہ نبوت موسویہ و توحید الہی ہے جھٹلایا، ورنہ واقعات کے وقوع کی تکذیب تو ہو نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلایا اور ہم نے بھی ان کو خوب پکڑا
42 ؎ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ ان ہماری نشانیوں سے کیا مراد ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت سے نشانات عطا فرمائے تھے جن کا ذکر سورة البقرہ ‘ سورة الاعراف ‘ سورة النحل ‘ سورة القصص ‘ سورة الاسراء ‘ سورة طٰہ ‘ سورة الزخرف ‘ سورة ال مومن ‘ سورة القمر اور سورة الصافات میں مختلف طریقوں سے کیا ہے۔ چناچہ سورة الاسراء میں ہے کہ : (ولقد اتینا موسیٰ تسع ایاب بینت فسئل بنی اسرائیل اذ جاء ھم فقال لہ فرعون انی لا ظنک یموسیٰ مسحورا قال لقد علمت ما انزل ھولاء الا رب السموات والارض بصائر وانی لاظنک یفرعون مثبورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
22 The details of this story have been given in Surah Hud: 77-83 and Surah AI-Hijr: 61-74 above, a resume of which is as follows:
When AIIah decided to punish those people with a torment, He sent a few angels in the guise of handsome boys as guests in the house of the Prophet Lot. When the people saw such handsome guests in Lot's house they rushed to it and demanded that they be handed over to them for tile gratification of their lust. The Prophet Lot implored them to desist from their evil intention, but they did not listen and tried to enter his house to take hold of the guests forcibly. At…
Read the full tafseer →