Al-Qamar 54:40

Al-Qamar · from ayah 40

54:40

وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ۟۠وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:40

ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یقیناً ہم نے قرآن کو پند ووعﻆ کے لیے آسان کر دیا ہے۔ پس کیا کوئی ہے نصحیت پکڑنے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت ماننے والا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے قرآن کو تذکیر کے لئے نہایت آراستہ کیا تو ہے کوئی یاددہانی حاصل کرنے والا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے آسان کردیا اس قرآن (حکیم) کو نصیحت کے لئے تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن سمجھنے کو تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We have made this Qur'an easy as a reminder. Is there, then, any who will take heed?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We have made the Qur‘an easy for seeking advice. So, is there one to heed to the advice?

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We have made the Qur‘an easy for seeking advice. So, is there one to heed to the advice?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And in truth We have made the Qur'an easy to remember; but is there any that remembereth?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?

— Saheeh International

We have made the Quran easy to understand, but is there anyone who would pay attention?

— Muhammad Sarwar

And certainly We have made the Quran easy for remembrance, but is there anyone who will mind?

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have made the Qur'an easy for admonition; is there then any one who would be admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember: then is there any that will receive admonition?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–40

خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–42

سورة الْقَمَر 22 اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–42

خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–40

(فذوقوا عذبی ونذرہ ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مذکر) (39۔ 40) یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر والی سر گزشتوں کے ساتھ گزر چکی ہے اور جس کی پوری وضاحت ہوچکی ہے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–41

40۔ 1 قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن اور اس کے فہم و حفظ کو آسان کردینا، اللہ کا احسان عظیم ہے، اس کے شکر سے انسان کو کبھی غافل نہیں ہونا چاہیئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–42

10: سورة ہود میں گذر چکا ہے کہ ان کی بستیاں الٹ ڈالی گئیں تھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–42

ولقد یسرنا ............ من مد کر (45: 0 4) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ یہ کڑیاں اب جزیرہ عرب کے باہر سے بھی ایک منظر پیش کرکے ختم ہوتی ہیں۔ ایک مختصر اشارہ فرعون کے انجام کی طرف۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن سمجھنے کو ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“ یہ آیت یہاں چوتھی اور آخری مرتبہ آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 38–41

28 پھر دوسرے دن صبح کے وقت ان پر جو بڑا عذاب آیا اس کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ پہلے اس پورے خطہ زمین کو جبریل (علیہ السلام) نے اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جاکر پھر الٹا کر زمین پردے مارا۔ جس سے یہ خطہ زمین میں دھنس گیا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ پھر اس دھنسے ہوئے خطہ زمین پر سمندر کا پانی چڑھ آیا جو متعفن اور بدبودار ہوگیا۔ اس طرح اس قوم کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 37–41

26۔ ڈرانے کی متعدد چیزوں سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کے ارشادات بھی ہیں جو منذر تشریعی تھے اور معجزات بھی جو منذرات تکوینی تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–42

ولقد راودہ عن ضیفہ تفصیل تو سورة ہود میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو جن میں جبرئیل ومیکائیل بھی شامل تھے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا، یہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان کو ایک فرزند ارجمند کی خوشخبری دی اس کے بعد حضرت لوط علیہ الصلاۃ و اسلام کے پاس پہنچے، ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں، وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری اور ذوق خبیث کی تکسین کے لئے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر . اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے۔ سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “ ہر قصہ کے بعد اس آیت کی تکرار حقیقت میں از سرِ نو تنبیہ ہے ‘ نصیحت پذیری پر اور ترغیب ہے عبرت اندوزی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ کرنے اور قرات و کتابت کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم لوط کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس سے نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 39–40

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔۔۔۔۔: یہاں قوم نوح ، عاد ، ثمود اور قوم لوط چاروں کے تذکرے میں یہ دونوں باتیں بار بار دہرائی ہیں ، تا کہ متعدد مرتبہ ذکر کے دوران کسی بار ہی ان کی طرف توجہ ہوجائے۔ سورة ٔ رحمن میں ”فبای الا ربکما تکذبن“ اور سورة ٔ مرسلات میں ”ویل یومئذ للمکذبین“ کو بار بار دہرانے میں بھی یہی حکمت ملحوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر۔ اس کے بارے میں تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–42

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات) قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ 10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاددہانی حاصل کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–40

پھر جو فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ0038﴾ عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ کا ترجمہ عذاب دائمی بھی کیا گیا ہے مستقر کا ترجمہ ہے ٹھہرنے والا، کافر کا عذاب موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے پھر اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا اس سے مستقر کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ فائدہ : حضرت لوط (علیہ السلام) کے اہل کو نجات دینے کے تذکرہ کے بعد ﴿كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ شَكَرَ 0035﴾ فرمایا اس میں یہ مستقل قانون بتادیا کہ مومن شکر گزار بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ شانہ، کی خاص مہربانی ہوتی ہے مومن بندوں کو چاہئے کہ وہ عبادت گزار بھی رہیں اور شکر گزار بھی پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مظاہر دیکھیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–40

17:۔ ” ولقد راودوہ۔ الایۃ “ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں فرشتے آئے تو قوم لوط کے بدکردار لوگوں نے ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی خاطر حضرت لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا وہ ان کے کام میں حائل نہ ہوں اور اپنے مہمانوں کی ان سے حفاظت نہ کریں جب وہ بری نیت سے ان کے گھر میں گھس آئے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان پر اپنا بازو مارا جس سے وہ سب اندھے ہوگئے اور ہم نے فرمایا ابھی وہ عذاب تمہیں چکھنا ہے جس سے لوط (علیہ السلام) تمہیں ڈراتے تھے۔ ” ولقد صبحہم۔ الایۃ “ چناچہ علی الصباح ان پر وہ عذاب آپہنچا اور ان کو ختم کر کے چھوڑا۔ ” فذوقوا عذابی ونذر “ اب اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–42

ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 38–40

وَلَقَدْ صَبَّحَہُمْ بُكْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ۝ 38 ۚ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–45

ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔ تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ وَلَقَدْ یَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 39، 40) (پس چکھو میرا عذاب اور میری تنبیہات۔ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ ) یہ وہی ٹیپ کی آیتیں ہیں جو اس سے پہلے گزر چکی اور ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–40

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔ حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 40: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ ) عظیم فائدہ : تذکیر و نصیحت کی تازگی کے لئے بار بار ان کلمات کو دہرایا گیا۔ کہ دوبارہ متنبہ ہوں اور اس پر آمادہ کرنے سے بیداری میں تجدید ہوجائے۔ اور سورة رحمان میں بار بار فبای الائِ ربکما تکذبان۔] الرحمان۔ 13[ کو لانے کا بھی یہی مقصد ہے۔ ہر نعمت جس کو شمار کرے۔ اس پر اپنے ذہن کو متنبہ کر کے اپنے دل و دماغ کو نئے سرے سے بیدار کرے اور اسی طرح ویل یومئذ للمکذبین ] المرسلات۔ 15[ میں دوبارہ لانے میں یہی حکمتیں ہیں۔ اور اسی طرح انبیاء…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–48

37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–40

(وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ) اور یقینا صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انہیں ہلاک کردیا اللہ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کرکے نچلے کو الٹ کر اوپر کردیا اور اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے جو تیرے رب کے ہاں حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے اللہ نے حضرت لوط اور ان کے گھروالوں خوان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی معصومیت سے نجات دی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–55

پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔ امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–41

[ 45] درس عبرت لینے کی تعلیم و ترغیب : سو لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑنے اور ان کو درس عبرت لینے کی ترغیب کے طور پر رحمتوں اور شفقتوں بھرے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنیوالا ؟ اس آیت کریمہ کو ان چاروں قصوں میں سے ہر ایک کے ساتھ دوہرایا گیا کہ ان میں سے ہر ایک میں پندونصیحت کا ایک مستقل اور کافی و وافی سامان ہے، مگر اس کے لئے جو نصیحت قبول کرنا اور سبق لینا چاہتا ہو۔ پس تاریخ کو محض قصہ گوئی کیلئے نہیں، عبرت اور سبق آموزی کے لئے پڑھنا چاہیے، مگر افسوس کہ آج کے تاریخ دانوں سے عبرت پذیری کا یہی گوہر مقصود غائب اور نایاب ہے۔ الا ماشاء اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس قصے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–40

آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:40) ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرہ الصدر۔ تنبیہہ ہے نصیحت پذیری پر ۔ اور ترغیب ہے عبرت اندوزی کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–42

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–40

(ف 1) اغلام کا انجام۔ سورة اعراف سور، سورة ہود ، سورة شعرائ، سورة نمل، سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزرچکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑوانے کے لیے مدتوں حضرت لوط نے ان لوگوں کو سمجھایا مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورت میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جوذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نوعمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کرآئے، حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–44

[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: تفسیر قرآن کا مژدہ جو ہر واقعہ کے بعد سنایا جاتا ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ قرآن یہ بتانا چاہتا ہے ۔ کہ سمجھانے کے لئے ہم انداز بیان میں کس درجہ تنوع ملحوظ رکھتے ہیں ۔ اور کیونکر حقائق کو مختلف اسالیب میں ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ اصل میں بطور ٹپ کے بند کے ہے ۔ غرض یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت مسلمان اس نکتہ کو سامنے رکھے ۔ کہ یہ کتاب عزیز اپنے انداز فکر وعمل کی کوئی دشواری نہیں رکھتی ۔ اس کو سمجھنا آسان ہے ۔ اور اس پر عمل پیرا ہونا آسان تھا

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور سوچنے والا ہے۔ یعنی یورش کے وقت تو اندھا کردیا گیا اور صبح ہونے کے وقت ٹھہر جانے والا عذاب نازل ہوگیا جو برزخ میں بھی رہا اور جہنم میں بھی ہوگگا۔ یعنی تمام بستیاں الٹ دی گئیں اور کھنگر کا پتھرائو ہوا جیسا کہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزرا ہے۔ آخر میں پھر فرمایا کہ ہم نے قرآن کو آسان کردیا نصیحت کے لئے تو کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا۔ مدکر کے ترجمے میں حضرت شاہ رفیع الدین صاحب (رح) اور شاہ عبدالقادر صاحب (رح) نصیحت حاصل کرنا اور سوچنا کرتے ہیں اس لئے ہم نے دونوں باتیں لکھی ہیں مطلب دونوں کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–40

ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

40 ؎ ہر مختصر قبضہ کے بعد اس آیت کا تکرار کیوں ؟ محض اس لئے کہ از سر نو ان کو تنبیہہ ہو جو زندہ ہیں اور اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو نصیحت حاصل کرے اور اس بار بار ترغیب سے شاید کوئی عبرت حاصل کرلے لیکن اگر کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا یا نہیں کرنا چاہتا تو کیا نصیحت کرنا یا نصیحت دینا ترک کردیا جائے گا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ نصیحت کرنے کا عمل بھی جاری رہے گا چاہے کوئی شخص نصیحت حاصل کرے یا نہ کرے اور قرآن کریم کے آسان کرنے کا مطلب ہم نے آیت 17 میں بیان کردیا ہے وہیں سے ایک بار پھر ملاحظہ کریں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–42

Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–42

22 The details of this story have been given in Surah Hud: 77-83 and Surah AI-Hijr: 61-74 above, a resume of which is as follows: When AIIah decided to punish those people with a torment, He sent a few angels in the guise of handsome boys as guests in the house of the Prophet Lot. When the people saw such handsome guests in Lot's house they rushed to it and demanded that they be handed over to them for tile gratification of their lust. The Prophet Lot implored them to desist from their evil intention, but they did not listen and tried to enter his house to take hold of the guests forcibly. At…

Read the full tafseer →