فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۟فَذُوۡقُوۡا عَذَابِىۡ وَنُذُرِ
تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So taste My punishment and warning.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz
فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۟فَذُوۡقُوۡا عَذَابِىۡ وَنُذُرِ
تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So taste My punishment and warning.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qamar
چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا
تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
پس میرے عذاب اور میرے ڈراوے کا مزه چکھو
کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔
تو چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،
پھر (اُن سے کہا گیا:) میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو،
سو چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔
تو (ہم نے کہا) اب میرے عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو
تو چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا !
پس اب چکھو تم لوگ مزہ میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا
میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو
تو چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔
تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو۔
So have a taste of My chastisement and My warnings.
:Now taste My torment and My warnings.
:Now taste My torment and My warnings.
Then taste you My torment and My warnings.
Now taste My punishment after My warnings!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So taste My punishment and warning.
One early morning Our torment brought upon them utter destruction. We said, "Suffer Our torment of which you were warned".
So taste My chastisement and My warning.
Taste then My torment and My warnings.
"So taste ye My Wrath and My Warning."
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 33–40
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
سورة الْقَمَر 22 اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(فذوقوا عذبی ونذرہ ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مذکر) (39۔ 40) یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر والی سر گزشتوں کے ساتھ گزر چکی ہے اور جس کی پوری وضاحت ہوچکی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38۔ 1 یعنی صبح ان پر نازل ہونے والا عذاب آگیا، جو انہیں ہلاک کئے بغیر نہ چھوڑے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
10: سورة ہود میں گذر چکا ہے کہ ان کی بستیاں الٹ ڈالی گئیں تھیں۔
Read the full tafseer →فذوقوا ............ ونذر (45: 93) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ اور آخر میں وہی سبق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
4 یعنی اندھا کرنے کے بعد ان کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ اور اوپر سے پتھر برسائے گئے۔ اس چھوٹے عذاب کے بعد یہ بڑا عذاب تھا۔
Read the full tafseer →آیت 39 { فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
28 پھر دوسرے دن صبح کے وقت ان پر جو بڑا عذاب آیا اس کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ پہلے اس پورے خطہ زمین کو جبریل (علیہ السلام) نے اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جاکر پھر الٹا کر زمین پردے مارا۔ جس سے یہ خطہ زمین میں دھنس گیا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ پھر اس دھنسے ہوئے خطہ زمین پر سمندر کا پانی چڑھ آیا جو متعفن اور بدبودار ہوگیا۔ اس طرح اس قوم کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
26۔ ڈرانے کی متعدد چیزوں سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کے ارشادات بھی ہیں جو منذر تشریعی تھے اور معجزات بھی جو منذرات تکوینی تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ولقد راودہ عن ضیفہ تفصیل تو سورة ہود میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو جن میں جبرئیل ومیکائیل بھی شامل تھے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا، یہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان کو ایک فرزند ارجمند کی خوشخبری دی اس کے بعد حضرت لوط علیہ الصلاۃ و اسلام کے پاس پہنچے، ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں، وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری اور ذوق خبیث کی تکسین کے لئے ان…
Read the full tafseer →فذوقوا عذابی و نذر ” اور (ہم نے کہا) لو ! میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(37۔ 39) اور ان لوگوں نے لوط کے مہمانوں کو یعنی جبریل امین اور جو دیگر ان کے ساتھ فرشتے تھے لوط سے ناپاک ارادے سے لینا چاہا۔ سو ہم نے ان کی آنکھوں کو چوپٹ کردیا یعنی جبریل امین نے اپنے پر سے ان کی آنکھیں اندھی کردیں اور ان سے کہا گیا کہ میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو اور پھر صبح سویرے ان پر ہمیشہ رہنے والا عذاب آپہنچا جو عذاب آخرت کے ساتھ متصل ہے۔ اور ان سے ارشاد ہوا کہ میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو۔ کہ لوط نے ان کو ڈرایا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔۔۔۔۔: یہاں قوم نوح ، عاد ، ثمود اور قوم لوط چاروں کے تذکرے میں یہ دونوں باتیں بار بار دہرائی ہیں ، تا کہ متعدد مرتبہ ذکر کے دوران کسی بار ہی ان کی طرف توجہ ہوجائے۔ سورة ٔ رحمن میں ”فبای الا ربکما تکذبن“ اور سورة ٔ مرسلات میں ”ویل یومئذ للمکذبین“ کو بار بار دہرانے میں بھی یہی حکمت ملحوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
انا ارسلنا علیھم حاصباً یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان پر کنکر پھینت کی تھی۔ حصباء سے مراد حصی ہے۔ نضر نے کہا، حاصب سے مراد ہوا میں سنگریزے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا، حاصب سے مراد پتھر ہیں۔ صحاح میں ہے : حاصب سے مراد ایسی شدید ہوا ہے جو سنگریزہ کو اڑاتی ہے اسی طرح حصبہ ہے۔ عصفت الریح یعنی ہوا تیز ہوئی۔ ھی ریح عاصف و عصرف۔ الا ال لوط اس سے مراد وہ افراد ہیں جنہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے دین کی اتباع وہ صرف آپ کی دو بیٹیاں تھیں۔ نجینھم بسحر۔ اخفش نے کہا، اسے منصرف ذکر کیا ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے۔ اگر معین دن کی سحری کا ارادہ ہوتا تو پھر اسے منصرف ذکر نہ کیا جاتا اس کی مثل اھبطوا مصراً (بقرہ : 61) جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات) قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ 10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…
Read the full tafseer →فَذُوْقُوْا [ تو اب چکھو ] عَذَابِيْ وَنُذُرِ [ میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
پھر جو فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ0038﴾ عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ کا ترجمہ عذاب دائمی بھی کیا گیا ہے مستقر کا ترجمہ ہے ٹھہرنے والا، کافر کا عذاب موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے پھر اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا اس سے مستقر کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ فائدہ : حضرت لوط (علیہ السلام) کے اہل کو نجات دینے کے تذکرہ کے بعد ﴿كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ شَكَرَ 0035﴾ فرمایا اس میں یہ مستقل قانون بتادیا کہ مومن شکر گزار بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ شانہ، کی خاص مہربانی ہوتی ہے مومن بندوں کو چاہئے کہ وہ عبادت گزار بھی رہیں اور شکر گزار بھی پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مظاہر دیکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
17:۔ ” ولقد راودوہ۔ الایۃ “ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں فرشتے آئے تو قوم لوط کے بدکردار لوگوں نے ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی خاطر حضرت لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا وہ ان کے کام میں حائل نہ ہوں اور اپنے مہمانوں کی ان سے حفاظت نہ کریں جب وہ بری نیت سے ان کے گھر میں گھس آئے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان پر اپنا بازو مارا جس سے وہ سب اندھے ہوگئے اور ہم نے فرمایا ابھی وہ عذاب تمہیں چکھنا ہے جس سے لوط (علیہ السلام) تمہیں ڈراتے تھے۔ ” ولقد صبحہم۔ الایۃ “ چناچہ علی الصباح ان پر وہ عذاب آپہنچا اور ان کو ختم کر کے چھوڑا۔ ” فذوقوا عذابی ونذر “ اب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
وَلَقَدْ صَبَّحَہُمْ بُكْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ 38 ۚ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔ تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ وَلَقَدْ یَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 39، 40) (پس چکھو میرا عذاب اور میری تنبیہات۔ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ ) یہ وہی ٹیپ کی آیتیں ہیں جو اس سے پہلے گزر چکی اور ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔ حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے…
Read the full tafseer →آیت 39: فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ (تو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو۔ ) دوبارہ لانے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر خبر کو سن کر نصیحت تازہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →38 ۔” ولقد صبحھم بکرۃ “ ان کے پاس صبح کے وقت آیا۔ ” عذاب مستقر “ دائمی ٹھہرنے والا حتیٰ کہ ان کو عذاب آخرت تک پہنچا دیا اور کہا گیا ہے عذاب حق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ) اور یقینا صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انہیں ہلاک کردیا اللہ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کرکے نچلے کو الٹ کر اوپر کردیا اور اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے جو تیرے رب کے ہاں حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے اللہ نے حضرت لوط اور ان کے گھروالوں خوان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی معصومیت سے نجات دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔ امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[ 44] قوم لوط کے عذاب اور اس کے وقت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبح ہوتے ہی آپکڑ ان لوگوں کو برے ہولناک دائمی عذاب نے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور دائمی اس لئے کہ دنیا کا یہ عذاب برزخی اور پھر اخروی عذاب کے ساتھ مل گیا، جو کہ ہمیشہ رہنے والا ہے، سو وہ ایسے عذاب میں مبتلا ہوئے کہ اب ان کیلئے اس سے نکلنے اور بچنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہی تھی، سو کتنا ہولناک انجام ہوتا ہے تکذیب حق اور کفر انکار کا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ عربوں کے یہاں حملہ اور غارت گری کا وقت بالعموم صبح ہی کا وقت ہوتا تھا، اسی بناء پر صبح کا لفظ اسی معنی کیلئے آنے لگا، سو حضرت لوط (علیہ السلام) جیسا کہ اوپر گزرا اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 3 یا ” تنبی ہیں آچکیں “
Read the full tafseer →(54:39) ملاحظہ ہو آیت 37 متذکرہ المصدر۔ آیت کی تکرار حقیقت میں از سرنو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(ف 1) اغلام کا انجام۔ سورة اعراف سور، سورة ہود ، سورة شعرائ، سورة نمل، سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزرچکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑوانے کے لیے مدتوں حضرت لوط نے ان لوگوں کو سمجھایا مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورت میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جوذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نوعمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کرآئے، حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
خوبصورت مہمان حضرت لوط نے سدومیوں کو سمجھایا ۔ کہ تمہاری یہ بدفعالیاں تمہارے حق میں اچھی نہیں ۔ یہ بربادی اور تباہی فاہش ہیں ۔ جب تم فطرت کے خلاف جنگ کروگے ۔ تو ابتداً فطرت تمہارے لئے سامان ہلاکت پیدا کردے گی ۔ اور تم سے سخت ترین انتقام لے گی ۔ تم اس فعل شنیع سے باز آجائے ۔ اور پاکبازی کی زندگی بسر کرو ۔ مگر سدومیوں کے دل مسخ ہوچکے تھے ۔ ان پر شیطان پورا قبضہ کرچکا تھا ۔ انہوں نے نہ صرف انکار کردیا ۔ بلکہ خیائت نفس کا بدترین مظاہر کیا ۔ چنانچہ انہوں نے جب سن پایا ۔ کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس نہایت خوبصورت مہمان آئے ہیں ۔ تو آتے ہی ان کے مکان کا محاصرہ کرلیا ۔ اور مطالبہ کیا کہ ان کو…
Read the full tafseer →(39) کہا گیا اب تم میرے عذاب اور میرے ڈراے کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →پس میرے ڈرانے اور میرے عذاب کا مزہ چکھو 39 ؎ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے جیسا کہ آیت 39 میں گزر چکا ہی اور اس طرح گویا ان کے اعمال کے نتائج کا ذکر کیا جا رہا ہے یعنی جو کام تم نے کئے ہیں ان کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ میرا ڈرنا اور میرا عذاب کیا ہوتا ہے اور کیسا رہتا ہے ؟ اور یہ کلمات حسرت و افسوس کے کلمات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
22 The details of this story have been given in Surah Hud: 77-83 and Surah AI-Hijr: 61-74 above, a resume of which is as follows: When AIIah decided to punish those people with a torment, He sent a few angels in the guise of handsome boys as guests in the house of the Prophet Lot. When the people saw such handsome guests in Lot's house they rushed to it and demanded that they be handed over to them for tile gratification of their lust. The Prophet Lot implored them to desist from their evil intention, but they did not listen and tried to enter his house to take hold of the guests forcibly. At…
Read the full tafseer →