Explained with ayahs 33–40
خلاف وضع فطری کے مرتکب
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
سورة الْقَمَر 22
اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →(ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستفر) (38)
صبح کے وقت ان پر کنکر برسا دینے والا ہوا کا عذاب آ دھمکا۔ عرب میں حملہ اور غارت گری کا وقت بالمعموم صبح ہی کا وقت ہوتا تھا، اس وجہ سے لفظ صبح اس معنی میں آنے لگا۔ اوپر اشارہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ؑ اپنے اتباع کے ساتھ سحر کے اول وقت بستی سے نکل چکے تھے، یہاں یہ وضاحت ہے کہ عذاب طلوع صبح کے بعد آیا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے بستی سے نکلنے کے بعد عذاب کے آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ حضرت لوط ؑ عذاب کے علاقہ سے باہر نکل گئے۔ (عذاب مستقر) سے مراد تک جانے والا عذاب ہے۔ عذاب ایک تو وہ ہے جو محض تنبیہ کے لیے آتا ہے جس میں کافر و مومن دونوں بلا امتیازحصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38۔ 1 یعنی صبح ان پر نازل ہونے والا عذاب آگیا، جو انہیں ہلاک کئے بغیر نہ چھوڑے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
9: سورة ہود : 78 میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے پاس فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ ان کی قوم ہم جنسی کی بیماری میں مبتلا تھی، اس لیے انہوں نے حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، اور اس طرح وہ مہمانوں تک نہ پہنچ سکے (تفسیر الدر المنثور عن قتادة)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
4 یعنی اندھا کرنے کے بعد ان کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ اور اوپر سے پتھر برسائے گئے۔ اس چھوٹے عذاب کے بعد یہ بڑا عذاب تھا۔
Read the full tafseer →آیت 38 { وَلَقَدْ صَبَّحَہُمْ بُـکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ۔ } ”اور ان پر صبح ہی صبح آ دھمکا ایک عذاب جو کہ ٹھہر چکا تھا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
28 پھر دوسرے دن صبح کے وقت ان پر جو بڑا عذاب آیا اس کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ پہلے اس پورے خطہ زمین کو جبریل (علیہ السلام) نے اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جاکر پھر الٹا کر زمین پردے مارا۔ جس سے یہ خطہ زمین میں دھنس گیا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ پھر اس دھنسے ہوئے خطہ زمین پر سمندر کا پانی چڑھ آیا جو متعفن اور بدبودار ہوگیا۔ اس طرح اس قوم کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
26۔ ڈرانے کی متعدد چیزوں سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کے ارشادات بھی ہیں جو منذر تشریعی تھے اور معجزات بھی جو منذرات تکوینی تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ولقد راودہ عن ضیفہ تفصیل تو سورة ہود میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو جن میں جبرئیل ومیکائیل بھی شامل تھے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا، یہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان کو ایک فرزند ارجمند کی خوشخبری دی اس کے بعد حضرت لوط علیہ الصلاۃ و اسلام کے پاس پہنچے، ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں، وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری اور ذوق خبیث کی تکسین کے لئے ان…
Read the full tafseer →ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستقر . ” اور صبح سویرے ان پر عذاب دائمی آپہنچا۔ “
صَبَّحَھُمْ بُکْرَۃً : یعنی تڑکے کے وقت ‘ جب (رات کا اخیر وقت گزرا ہی تھا) دن شروع ہوا ‘ ان پر لازوال عذاب آگیا۔
عَذَابٌ : یعنی سنگ باری۔
مُسْتَقِرٌّ : یعنی وہ عذاب جو مرنے کے بعد بھی قائم رہا۔ دُنیوی عذاب سنگ باری۔ اسکے بعد عذاب قبر اور پھر دوامی دوزخ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(37۔ 39) اور ان لوگوں نے لوط کے مہمانوں کو یعنی جبریل امین اور جو دیگر ان کے ساتھ فرشتے تھے لوط سے ناپاک ارادے سے لینا چاہا۔ سو ہم نے ان کی آنکھوں کو چوپٹ کردیا یعنی جبریل امین نے اپنے پر سے ان کی آنکھیں اندھی کردیں اور ان سے کہا گیا کہ میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو اور پھر صبح سویرے ان پر ہمیشہ رہنے والا عذاب آپہنچا جو عذاب آخرت کے ساتھ متصل ہے۔
اور ان سے ارشاد ہوا کہ میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو۔ کہ لوط نے ان کو ڈرایا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَبَّحَھُمْ بُکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (82، 83) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
انا ارسلنا علیھم حاصباً یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان پر کنکر پھینت کی تھی۔ حصباء سے مراد حصی ہے۔ نضر نے کہا، حاصب سے مراد ہوا میں سنگریزے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا، حاصب سے مراد پتھر ہیں۔ صحاح میں ہے : حاصب سے مراد ایسی شدید ہوا ہے جو سنگریزہ کو اڑاتی ہے اسی طرح حصبہ ہے۔ عصفت الریح یعنی ہوا تیز ہوئی۔ ھی ریح عاصف و عصرف۔ الا ال لوط اس سے مراد وہ افراد ہیں جنہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے دین کی اتباع وہ صرف آپ کی دو بیٹیاں تھیں۔ نجینھم بسحر۔ اخفش نے کہا، اسے منصرف ذکر کیا ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے۔ اگر معین دن کی سحری کا ارادہ ہوتا تو پھر اسے منصرف ذکر نہ کیا جاتا اس کی مثل اھبطوا مصراً (بقرہ : 61) جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات)
قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ
10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ [ اور بیشک صبح کو آچکا ہے ان کے پاس ] بُكْرَةً [ سویرے سویرے ] عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ [ قرار پانے والا عذاب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
پھر جو فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ0038﴾ عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ کا ترجمہ عذاب دائمی بھی کیا گیا ہے مستقر کا ترجمہ ہے ٹھہرنے والا، کافر کا عذاب موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے پھر اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا اس سے مستقر کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔
فائدہ : حضرت لوط (علیہ السلام) کے اہل کو نجات دینے کے تذکرہ کے بعد ﴿كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ شَكَرَ 0035﴾ فرمایا اس میں یہ مستقل قانون بتادیا کہ مومن شکر گزار بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ شانہ، کی خاص مہربانی ہوتی ہے مومن بندوں کو چاہئے کہ وہ عبادت گزار بھی رہیں اور شکر گزار بھی پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مظاہر دیکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
17:۔ ” ولقد راودوہ۔ الایۃ “ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں فرشتے آئے تو قوم لوط کے بدکردار لوگوں نے ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی خاطر حضرت لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا وہ ان کے کام میں حائل نہ ہوں اور اپنے مہمانوں کی ان سے حفاظت نہ کریں جب وہ بری نیت سے ان کے گھر میں گھس آئے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان پر اپنا بازو مارا جس سے وہ سب اندھے ہوگئے اور ہم نے فرمایا ابھی وہ عذاب تمہیں چکھنا ہے جس سے لوط (علیہ السلام) تمہیں ڈراتے تھے۔ ” ولقد صبحہم۔ الایۃ “ چناچہ علی الصباح ان پر وہ عذاب آپہنچا اور ان کو ختم کر کے چھوڑا۔ ” فذوقوا عذابی ونذر “ اب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
وَلَقَدْ صَبَّحَہُمْ بُكْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ 38 ۚ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔
تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَبَّحَھُمْ بُـکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ۔ (القمر : 38)
(اور ان پر آگیا صبح سویرے ایک ٹک جانے والا عذاب۔ )
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو جب بستی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تو وہ رات کا پہلا حصہ تھا، لیکن صبح طلوع ہونے سے پہلے پہلے وہ اس علاقے سے باہر نکل چکے تھے تب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جبکہ سحر طلوع ہوچکی تھی۔ اس طرح سے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ اور ان پر ایمان لانے والے ہر طرح سے محفوظ رہے۔ اس عذاب کی صفت کے طور پر مستقر کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی مستقل یا ٹک جانے والا عذاب۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ عذاب ایسا نہ تھا جو ہوا کے ایک جھونکے کی طرح آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔
حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے…
Read the full tafseer →آیت 38: وَلقَدْ صَبَّحَہُمْ بُکْرَۃً (اور صبح سویرے دن کے اول حصہ میں ان پر آپہنچا۔ ) عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ (دائمی عذاب) قائم رہنے والا جو ان پر اس طرح قائم ہوگیا کہ جو ان کو آخرت کے عذاب تک پہنچا کر چھوڑے گا۔
Read the full tafseer →37 ۔” ولقد راودوہ عن ضیفہ “ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپنے مہمان ان کے حوالے کردیں۔ ” فطمسنا اعینھم “ جب انہوں نے لوط (علیہ السلام) کے گھر کا ارادہ کیا اور دروازہ پھلانگا تاکہ داخل ہوجائیں تو رسولوں نے لوط (علیہ السلام) کو کہا کہ ان کا راستہ چھوڑ دیں کیوں کہ ہم آپ (علیہ السلام) کی طرف قاصد ہیں وہ آپ (علیہ السلام) تک نہ پہنچ سکیں گے پس وہ گھر میں داخل ہوئے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے ان پر اپنا پر مارا اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ۔ پس ان کو نابینا کردیا، وہ حیران سرگرداں پھرتے تھے، دروازہ کا نہ پتہ چلتا تھا تو لوط (علیہ السلام) نے ان کو اندھے ہونے کی حالت میں باہر نکال دیا کہ وہ کچھ نہ دیکھتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ) اور یقینا صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انہیں ہلاک کردیا اللہ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کرکے نچلے کو الٹ کر اوپر کردیا اور اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے جو تیرے رب کے ہاں حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے اللہ نے حضرت لوط اور ان کے گھروالوں خوان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی معصومیت سے نجات دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[ 44] قوم لوط کے عذاب اور اس کے وقت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبح ہوتے ہی آپکڑ ان لوگوں کو برے ہولناک دائمی عذاب نے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور دائمی اس لئے کہ دنیا کا یہ عذاب برزخی اور پھر اخروی عذاب کے ساتھ مل گیا، جو کہ ہمیشہ رہنے والا ہے، سو وہ ایسے عذاب میں مبتلا ہوئے کہ اب ان کیلئے اس سے نکلنے اور بچنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہی تھی، سو کتنا ہولناک انجام ہوتا ہے تکذیب حق اور کفر انکار کا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ عربوں کے یہاں حملہ اور غارت گری کا وقت بالعموم صبح ہی کا وقت ہوتا تھا، اسی بناء پر صبح کا لفظ اسی معنی کیلئے آنے لگا، سو حضرت لوط (علیہ السلام) جیسا کہ اوپر گزرا اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔
کثرت افراد دلیل حق نہیں۔
یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 3 یا ” تنبی ہیں آچکیں “
Read the full tafseer →(54:38) صبحہم : صبح ماضی۔ واحد مذکر غائب تصبیح (تفعیل) مصدر۔ بمعنی صبح سویرے کسی پر آن پڑنا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع قوم لوط (علیہ السلام) ہے جو مورد عتاب ہوئی تھی۔ صبح کا فاعل عذاب مستقر ہے۔
بکرۃ دن کا اول حصہ۔ یہ صبح سے مخصوص تر ہے۔ یعنی صبح سویرے اول النہار میں بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔
عذاب مستقر موصوف و صفت مل کر صبح کا فاعل۔ مستقر اسم فاعل واحد مذکر استقرار (استفعال) مصدر بمعنی قرار، یعنی قرار پکڑنے وال۔ ٹھہرنے والا۔ یعنی وہ عذاب جو مرنے کے بعد بھی قائم رہا۔ دینا میں عذاب سنگ باری۔ اس کے بعد عذاب قبر، پھر دوامی عذاب دوزخ۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ پس صبح سویرے اول النہار ایک لازوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(ف 1) اغلام کا انجام۔
سورة اعراف سور، سورة ہود ، سورة شعرائ، سورة نمل، سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزرچکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑوانے کے لیے مدتوں حضرت لوط نے ان لوگوں کو سمجھایا مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورت میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جوذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نوعمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کرآئے، حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
خوبصورت مہمان
حضرت لوط نے سدومیوں کو سمجھایا ۔ کہ تمہاری یہ بدفعالیاں تمہارے حق میں اچھی نہیں ۔ یہ بربادی اور تباہی فاہش ہیں ۔ جب تم فطرت کے خلاف جنگ کروگے ۔ تو ابتداً فطرت تمہارے لئے سامان ہلاکت پیدا کردے گی ۔ اور تم سے سخت ترین انتقام لے گی ۔ تم اس فعل شنیع سے باز آجائے ۔ اور پاکبازی کی زندگی بسر کرو ۔ مگر سدومیوں کے دل مسخ ہوچکے تھے ۔ ان پر شیطان پورا قبضہ کرچکا تھا ۔ انہوں نے نہ صرف انکار کردیا ۔ بلکہ خیائت نفس کا بدترین مظاہر کیا ۔
چنانچہ انہوں نے جب سن پایا ۔ کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس نہایت خوبصورت مہمان آئے ہیں ۔ تو آتے ہی ان کے مکان کا محاصرہ کرلیا ۔ اور مطالبہ کیا کہ ان کو…
Read the full tafseer →(38) اور بلا شبہ صبح سویرے ہی ان پر ایک دائمی عذاب آپہنچا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →اور صبح سویرے یعنی علی الصبح ہی ان پر دائمی عاب نازل ہو گیا
38 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ عذاب الٰہی کا وقت آپہنچا ابتدائے شب ہوئی تو ملائکہ کے اشارہ پر لوط (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والے تو اس بستی سے نکل گئے جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو نکل جانے کا حکم دیا تھا اور رہے وہ لوگ جو آپ کے نافرمان تھے تو صبح ہوتے وہ دھر لئے گئے اور عذاب الٰہی نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے نہ تو ان کی اولاد بچی اور نہ ان کی قوم کا کوئی فرد بچا۔ علاقہ پر جو گزری وہ اس طرح تھی کہ زمین شق ہوگئی اور بستیاں زمین کے اندر گھس گئیں اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کا پورا علاقہ بحرمیت یا بحر لوط میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
22 The details of this story have been given in Surah Hud: 77-83 and Surah AI-Hijr: 61-74 above, a resume of which is as follows:
When AIIah decided to punish those people with a torment, He sent a few angels in the guise of handsome boys as guests in the house of the Prophet Lot. When the people saw such handsome guests in Lot's house they rushed to it and demanded that they be handed over to them for tile gratification of their lust. The Prophet Lot implored them to desist from their evil intention, but they did not listen and tried to enter his house to take hold of the guests forcibly. At…
Read the full tafseer →