Explained with ayahs 33–40
خلاف وضع فطری کے مرتکب
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
سورة الْقَمَر 22
اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →(ولقد راودوہ عن ضیفہ فطمسنا اعینھم فذوقوا عدابی ونذر (37)۔ یہ ان کی اس آخری جسارت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آ دھمکا۔ فرمایا کہ جس بےحیائی میں وہ مبتلا تھے رسول کی تنبیہات سے اس سے باز آتا تو الگ رہا وہ اس میں دن پر دن دلیر ہی ہوتے گئے یہاں تک کہ جب فرشتے خوبصورت مردوں کے بھیس میں حضرت لوط ؑ کے پاس آئے تو یہ ان کے مکان پر چڑھ دوڑے اور ان کو راضی کرنا چاہا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کی ہوس کاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ جو لوگ اس طرح اندھے بہرے بن جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق وہ اندھے بہرے ہی کردیئے جاتے ہیں، پھر نہ کوئی موعظت وہ سننے کے اہل رہ جاتے، نہ کوئی بڑی سے…
Read the full tafseer →37۔ 1 یا بہلایا یا مانگا لوط ؑ سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط ؑ کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبرو نوجوان لوط ؑ کے ہاں آئے ہیں۔ (جو دراصل فرشتے تھے اور انکو عذاب دینے کے لیے آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔
(2) کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل (علیہم السلام) تھے۔ جب انہوں نے بدفعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانو) کو لینے پر زیادہ اصرار کیا تو جبرائیل ؑ نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے ہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
9: سورة ہود : 78 میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے پاس فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ ان کی قوم ہم جنسی کی بیماری میں مبتلا تھی، اس لیے انہوں نے حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، اور اس طرح وہ مہمانوں تک نہ پہنچ سکے (تفسیر الدر المنثور عن قتادة)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی…
Read the full tafseer →3 یعنی فرشتے جو حسین لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ ان کو آدمی سمجھ کر اپنی خوئے بد کی وجہ سے قبضانا چاہا۔ ہم نے ان کو اندھا کردیا کہ ادھر ادھر دھکے کھاتے پھرتے تھے۔ کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اور کہا لو ! پہلے اس عذاب کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →آیت 7 3{ وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ فَطَمَسْنَـآ اَعْیُنَہُمْ } ”اور انہوں نے اس سے اس کے مہمانوں کو لے جانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا“
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بدکردار لوگ ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے جو اصل میں فرشتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کردیا۔ بائبل میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ان میں سے ایک فرشتے نے ان لوگوں کی طرف اپنا ہاتھ پھیلایا تو وہ سب کے سب اندھے ہوگئے۔
{ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو مزا چکھو اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
Read the full tafseer →27 عذاب کی نوعیت :۔ ان پر عذاب ڈھانے کے لیے تین فرشتے نہایت خوبصورت نوجوان بےریش لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ انہیں دیکھ کر سیدنا لوط (علیہ السلام) سخت پریشان ہوگئے اور ڈر گئے کہ اس بدکار قوم سے ان مہمانوں کی آبرو کو کیسے بچا سکیں۔ اتنے میں بیوی صاحبہ نے آس پاس کے مشٹنڈوں کو مخبری کردی کہ بہت اچھا مال گھر میں آیا ہے۔ وہ لوگ اوپر سے ہی آپ کے گھر میں گھس آئے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے ان بدبختوں کی بہت منت سماجت کی کہ وہ اپنے برے ارادہ سے باز آجائیں کہ مجھے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کریں۔ جب فرشتوں نے یہ صورت حال دیکھی تو سیدنا لوط (علیہ السلام) کو علیحدہ لے جا کر صورت حال بتادی کہ تمہیں ڈرنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
26۔ ڈرانے کی متعدد چیزوں سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کے ارشادات بھی ہیں جو منذر تشریعی تھے اور معجزات بھی جو منذرات تکوینی تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ولقد راودہ عن ضیفہ تفصیل تو سورة ہود میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو جن میں جبرئیل ومیکائیل بھی شامل تھے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا، یہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور ان کو ایک فرزند ارجمند کی خوشخبری دی اس کے بعد حضرت لوط علیہ الصلاۃ و اسلام کے پاس پہنچے، ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے یہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں، وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری اور ذوق خبیث کی تکسین کے لئے ان…
Read the full tafseer →ولقد راودوہ عن ضیفہ فطمسنا اعینھم فذوقوا عذابی و نذر . ” اور ان لوگوں نے لوط سے انکے مہمانوں کو بری نیت سے لینا چاہا۔ سو ہم نے انکی آنکھیں چوپٹ کردیں (اور کہا) لو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو۔ “
وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ : یعنی قوم والوں نے ان مہمانوں سے جو واقع میں فرشتے تھے اور جبرئیل بھی ان میں شامل تھے لیکن لڑکوں کی شکل میں ہو کر آئے تھے بدکاری کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت لوط سے کہا : تم ان مہمانوں کے معاملہ میں کوئی تعرض نہ کرو ‘ ان کو ہمارے سپرد کر دو ۔ اللہ نے ان فرشتوں کو قوم لوط پر کنکریلے پتھر برسانے کیلئے بھیجا اور ہر پتھر کو ایک کافر کیلئے نامزد کردیا۔ جب قوم والوں نے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(37۔ 39) اور ان لوگوں نے لوط کے مہمانوں کو یعنی جبریل امین اور جو دیگر ان کے ساتھ فرشتے تھے لوط سے ناپاک ارادے سے لینا چاہا۔ سو ہم نے ان کی آنکھوں کو چوپٹ کردیا یعنی جبریل امین نے اپنے پر سے ان کی آنکھیں اندھی کردیں اور ان سے کہا گیا کہ میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو اور پھر صبح سویرے ان پر ہمیشہ رہنے والا عذاب آپہنچا جو عذاب آخرت کے ساتھ متصل ہے۔
اور ان سے ارشاد ہوا کہ میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو۔ کہ لوط نے ان کو ڈرایا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِـہٖ۔۔۔۔”راودوہ“ باب مفاعلہ سے ہے۔ ”مراودۃ“ نرمی اور ملائمت سے بار بار مطالبہ کرنا ، پھسلانا ، بہکانا ، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں مبالغہ کے لیے ہے۔ ”صیفہ“ سے مراد فرماتے ہیں جو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔ قوم کو ان کے آنے کا علم ہوا تو انہوں نے لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ انہیں ان کے حوالے کردی۔ ”راودہ“ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے لوط ؑ پر دھوکے ، فریب ، بہکانے ، پھسلانے ، دھونس اور دھاندلی کا ہر طریقہ آزمایا کہ کسی طرح ہی وہ دھوکے میں آکر انہیں ان کے حوالے کردیں۔ وہ لوگ جو اس مقصد کے لیے آئے تھے جب حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
انا ارسلنا علیھم حاصباً یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان پر کنکر پھینت کی تھی۔ حصباء سے مراد حصی ہے۔ نضر نے کہا، حاصب سے مراد ہوا میں سنگریزے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا، حاصب سے مراد پتھر ہیں۔ صحاح میں ہے : حاصب سے مراد ایسی شدید ہوا ہے جو سنگریزہ کو اڑاتی ہے اسی طرح حصبہ ہے۔ عصفت الریح یعنی ہوا تیز ہوئی۔ ھی ریح عاصف و عصرف۔ الا ال لوط اس سے مراد وہ افراد ہیں جنہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے دین کی اتباع وہ صرف آپ کی دو بیٹیاں تھیں۔ نجینھم بسحر۔ اخفش نے کہا، اسے منصرف ذکر کیا ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے۔ اگر معین دن کی سحری کا ارادہ ہوتا تو پھر اسے منصرف ذکر نہ کیا جاتا اس کی مثل اھبطوا مصراً (بقرہ : 61) جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات)
قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ
10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُ [ اور بیشک وہ لوگ پھسلا (چکے ) ان کو ] عَنْ ضَيْفِهٖ [ ان کے مہمانوں کے بارے میں ] فَطَمَسْـنَآ [ تو ہم نے مٹا دیں ] اَعْيُنَهُمْ [ ان کی آنکھیں ] فَذُوْقُوْا [ نتیجۃ (اب ) تم لوگ چکھو ] عَذَابِيْ وَنُذُرِ [ میرے عذاب کو اور میرے خبردار کرنے کو ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 37 ۔ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے، اسکی تفصیل سورة ہود کی آیات 77 تا 83 میں اور سورة حجر کی آیات 61 تا 74 میں گزر چکی ہے۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا ۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
سیّدنا لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا، اور قوم کا کفر پر اصررا کرنا، معاصی پرجما رہنا اور آخر میں ہلاک ہونا
ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ہلاکت کا ذکر ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے وطن سے ہجرت کرکے آئے تھے دونوں نے ملک شام میں قیام فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) چند بستیوں کی طرف معبوث ہوئے ان میں بڑی بستی کا نام سدوم تھا ان بستیوں کے رہنے والے برے لوگ تھے۔ برے اخلاق اور برے اعمال میں مشغول رہتے تھے مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا توحید کی دعوت دی برے افعال سے روکا لیکن ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
17:۔ ” ولقد راودوہ۔ الایۃ “ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں فرشتے آئے تو قوم لوط کے بدکردار لوگوں نے ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی خاطر حضرت لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا وہ ان کے کام میں حائل نہ ہوں اور اپنے مہمانوں کی ان سے حفاظت نہ کریں جب وہ بری نیت سے ان کے گھر میں گھس آئے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان پر اپنا بازو مارا جس سے وہ سب اندھے ہوگئے اور ہم نے فرمایا ابھی وہ عذاب تمہیں چکھنا ہے جس سے لوط (علیہ السلام) تمہیں ڈراتے تھے۔ ” ولقد صبحہم۔ الایۃ “ چناچہ علی الصباح ان پر وہ عذاب آپہنچا اور ان کو ختم کر کے چھوڑا۔ ” فذوقوا عذابی ونذر “ اب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَيْفِہٖ فَطَمَسْـنَآ اَعْيُنَہُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِيْ وَنُذُرِ 37
راود
والمُرَاوَدَةُ : أن تنازع غيرک في الإرادة، فترید غير ما يريد، أو ترود غير ما يرود، ورَاوَدْتُ فلانا عن کذا . قال : هِيَ راوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي[يوسف/ 26] ، وقال : تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] ، أي : تصرفه عن رأيه،
( ر و د ) الرود
المراودۃ ( مفاعلہ ) یہ راود یراود سے ہے اور اس کے معنی ارادوں میں باہم اختلاف اور کشیدگی کے ہیں ۔ یعنی ایک کا ارداہ کچھ ہو اور دوسرے کا کچھ اور راودت فلان عن کزا کے معنی کسی کو اس کے ارداہ سے پھسلانے کی کوشش کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ هِيَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔
تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ فَطَمَسْنَـآ اَعْیُنَھُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ (القمر : 37)
(اور انھوں نے حضرت لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا تو ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں، اور چکھو میرا عذاب اور میری تنبیہات۔ )
اس بدنصیب قوم نے جب دیکھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس چند خوبصورت لڑکے آئے ہیں تو انھوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو ان لڑکوں کو حوالے کرنے کے لیے ہر طرح سے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کی اس کمینہ حرکت پر کسی طرح آمادہ نہ ہوئے تو تب انھوں نے گھر میں زبردستی داخل ہو کر لڑکوں کو پکڑنا چاہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔
حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے…
Read the full tafseer →آنکھوں کو مٹا دیا :
آیت 37: وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ (اور ان لوگوں نے لوط (علیہ السلام) سے ان کے مہمانوں کو بری نیت سے لینا چاہا۔ ) انکے مہمانوں سے بےحیائی کا مطالبہ کیا۔ فَطَمَسْنَا اَعْیُنَہُمْ (پس ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں۔ ) یعنی ان کو اندھا کردیا۔
ایک قول یہ ہے :
ان کی آنکھوں کو مسخ کر کے چہرے کی طرح بنادیا۔ آنکھوں کے شقوق کا نشان نہ تھا۔ روایت میں ہے کہ جب انہوں نے لوط (علیہ السلام) کے دروازے کو مروڑا تاکہ وہ اس میں داخل ہوں تو ملائکہ نے کہا۔ ان کو اندر آنے دیں۔ ہم تو تیرے رب کے قاصد ہیں وہ ہرگز تجھ تک پہنچ نہیں سکتے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کی ایک جھپٹ ماری۔ ان کو…
Read the full tafseer →36 ۔” ولقد انذرھم “ لوط (علیہ السلام) ” بطشتنا “ ہم نے ان کو سزا میں پکڑا۔ ” فتماروا بالنذر “ انہوں نے انذار میں شک کیا اور جھٹلایا اور تصدیق نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
(كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢ بِالنُّذُرِ ) جب حضرت لوط نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلایا اور انہیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تو انہوں نے حضرت لوط کی تکذیب کی پس انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے حتی کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانووں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط کی قوم نے سنا توجلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کا برا کرے وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا انہوں نے ان کو اندھا کرڈالا، ان کے نبی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →[ 42] قوم لوط کی بدبختی کی انتہائ، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد سے ان لوگوں کی بدبختی کی انتہاء کو آشکار فرما دیا گیا جس کے بعد اللہ کا عذاب ان پر آدھمکا۔ اور رسول کی تنبیہات پر کان دھرنا اور اپنی اس بےحیائی سے باز آنا تو الگ رہا الٹا وہلوگ اپنی بدبختی اور دیدہ دلیری میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے حضرت لوط سے ان کے مہمانوں کے بارے میں مطالبہ شروع کردیا۔ کہ وہ ان کو ان کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے اپنی غرض خبیث پوری کرسکیں، کہ وہ فرشتے جو دراصل ان کے عذاب کیلئے بھیجے گئے تھے خوبصورت مرد نوجوانوں کی شکل میں ان کے پاس آئے تھے تاکہ ان لوگوں کا خبث باطن عین معقو پر کھل کر سامنے آجائے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔
کثرت افراد دلیل حق نہیں۔
یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →ف 2 مہمانوں سے مراد فرشتے ہیں جو حضرت لوط کے ہاں مہمان بن کر آئے تھے۔ سو رہ ہود اور سورة قبر میں مفصل قصہ گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(54:37) ولقد : ملاحظہ ہو آیت 22 متذکرہ الصدر۔
راودوہ : ماضی جمع مذکر غائب مراودۃ (مفاعلۃ) مصدر، پھسلانا ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ انہوں نے اس کو پھسلایا۔ رود حروف مادہ ہیں۔ الرود کے اصل معنی نرمی کے ساتھ کسی چیز کی طلب میں بار بار آمدورفت کے ہیں۔ اسی معنی میں فعل راود وارتاد آتا ہے۔ اسی سے رائد ہے جس کے معنی ہیں وہ شخص جسے پانی اور چارہ کی تلاش کے لئے قافلہ سے آگے بھیجا جائے۔
اسی سے یعنی راد ہر ود سے الارادۃ ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں ۔ اور ارادہ اصل میں اس قوت کا نام ہے جس میں خواہش ، ضرورت، اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں۔ پھر اس سے مراد دل کا کسی چیز کی طرف کھچنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(ف 1) اغلام کا انجام۔
سورة اعراف سور، سورة ہود ، سورة شعرائ، سورة نمل، سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزرچکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑوانے کے لیے مدتوں حضرت لوط نے ان لوگوں کو سمجھایا مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورت میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جوذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نوعمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کرآئے، حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
خوبصورت مہمان
حضرت لوط نے سدومیوں کو سمجھایا ۔ کہ تمہاری یہ بدفعالیاں تمہارے حق میں اچھی نہیں ۔ یہ بربادی اور تباہی فاہش ہیں ۔ جب تم فطرت کے خلاف جنگ کروگے ۔ تو ابتداً فطرت تمہارے لئے سامان ہلاکت پیدا کردے گی ۔ اور تم سے سخت ترین انتقام لے گی ۔ تم اس فعل شنیع سے باز آجائے ۔ اور پاکبازی کی زندگی بسر کرو ۔ مگر سدومیوں کے دل مسخ ہوچکے تھے ۔ ان پر شیطان پورا قبضہ کرچکا تھا ۔ انہوں نے نہ صرف انکار کردیا ۔ بلکہ خیائت نفس کا بدترین مظاہر کیا ۔
چنانچہ انہوں نے جب سن پایا ۔ کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس نہایت خوبصورت مہمان آئے ہیں ۔ تو آتے ہی ان کے مکان کا محاصرہ کرلیا ۔ اور مطالبہ کیا کہ ان کو…
Read the full tafseer →(37) اور انہوں نے بری نیت اور نیت بد سے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کو لوط (علیہ السلام) سے حاصل کرنا چاہا پھر ہم نے ان کی آنکھیں بےنور کردیں اور ان کی آنکھیں مٹا دیں اور کہا گیا کہ لو اب میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو۔ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں جو فرشتے مہمان بن کر آئے تھے ان مہمانوں پر حملہ آور ہوئے اور چاہا کہ ان مہمانوں کو لوط سے چھین کرلے جائیں اور یہیورش ان کی بدنیتی اور برے ارادے سے تھی تو ہم نے ان کو اندھا کردیا، آنکھیں پٹ ہوگئیں اور ارشاد ہوا اب میری سزا اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو کہتے ہیں حضرت جبرئیل نے اپنا پر ان کی آنکھوں پر مارا جس سے وہ اندھے ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) سے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کو انہوں نے لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں
37 ؎ (راودوہ) کا مادہ ر و د ہے۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ‘ ضمیر واحد مذکر غائب یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم نے لوط (علیہ السلام) کو ورغلانے کی کوشش کی اور اس سے گفت و شنید کی۔ معاملہ کیا تھا ؟ یہ کہ چند فرشتے نوجوان امرد لڑکوں کی صورت میں لوط (علیہ السلام) کے پاس سدوم میں پہنچے اور لوط (علیہ السلام) کے ہاں مہمان ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان مہمانوں کو دیکھا تو گھبرا گئے اور ڈرے کہ میری قوم تو بہت بدبخت ہے اور یہ آنے والے ایسے ہیں کہ جونہی قوم کے لوگوں نے ان کو دیکھا تو وہ ان پر چڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
22 The details of this story have been given in Surah Hud: 77-83 and Surah AI-Hijr: 61-74 above, a resume of which is as follows:
When AIIah decided to punish those people with a torment, He sent a few angels in the guise of handsome boys as guests in the house of the Prophet Lot. When the people saw such handsome guests in Lot's house they rushed to it and demanded that they be handed over to them for tile gratification of their lust. The Prophet Lot implored them to desist from their evil intention, but they did not listen and tried to enter his house to take hold of the guests forcibly. At…
Read the full tafseer →