Al-Qamar 54:36

Al-Qamar · from ayah 36

54:36

وَلَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ۟وَلَقَدۡ اَنۡذَرَهُمۡ بَطۡشَتَـنَا فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ

اور لوطؑ نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he had already warned them of Our assault, but they disputed the warning.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:36

لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور لوطؑ نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً (لوط علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا لیکن انہوں نے ڈرانے والوں کے بارے میں (شک وشبہ اور) جھگڑا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوط نے لوگوں کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا، لیکن وہ ساری تنبیہات میں میکھ نکالتے رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک لُوط ؑ نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا پھر اُن لوگوں نے اُن کے ڈرانے میں شک کرتے ہوئے جھٹلایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا اس نے انھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تو انھوں نے ڈرانے میں شک کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(لوط نے) انہیں ہماری گرفت سے یقینا ڈرایا تھا مگر وہ اس تنبیہ کو مشکوک سمجھ کر باتیں بناتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے ان کو ہماری ٹکڑ سے آگاہ کیا لیکن وہو تنبیہات میں میں سیکھ نکالتے ہی رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ لوط نے ان لوگوں کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے مگر وہ لوگ جھگڑے ہی کرتے رہے ہماری تنبیہات کے بارے میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور لوط نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تھا سو انہوں نے (اس) ڈرانے میں جھگڑے نکالے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور لوط ؑ نے ان کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرا بھی دیا تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Lot warned his people that We shall seize them (with Our chastisement), but they doubted the warnings.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And he (LuT) had certainly warned them of Our grasp, but they disputed the warnings.

— Muhammad Taqi Usmani

And he (LuT) had certainly warned them of Our grasp, but they disputed the warnings.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he indeed had warned them of Our punishment, but they doubted the warnings!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he indeed had warned them of Our blow, but they did doubt the warnings.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he had already warned them of Our assault, but they disputed the warning.

— Saheeh International

Lot warned them against Our torment, but they persistently disputed it.

— Muhammad Sarwar

And certainly he warned them of Our violent seizure, but they obstinately disputed the warning.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly he had warned them of Our grasp, but: they doubted the warnings.

— Abdul Majid Daryabadi

And (Lut) did warn them of Our Punishment, but they disputed about the Warning.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–40

خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–36

سورة الْقَمَر 21 جو لوگ مویشی پالتے ہیں وہ اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر ان کا برادہ بن جاتا ہے۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–42

خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ولقد انذرھم ھم بطشتنا فتماروا بالنذر) (36)۔ آیت 35 بیچ میں بطورجملہ معترضہ آگئی تھی۔ یہ ان کے اوپر عذاب نازل ہونے کا سبب بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب اسکے سزا اور ٹھہرے۔ اللہ کے رسول نے ان کو ہر پہلو سے اچھی طرح آگاہ کردیا کہ انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اور اس کی پکڑ سے کوئی بچانے والا نہیں بنے گا، لیکن وہ ہر تنبیہ میں حجتیں نکالتے رہی رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 یعنی عذاب آنے سے پہلے سخت گرفت سے ڈرایا تھا۔ 36۔ 2 لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بلکہ شک کیا اور ڈرانے والوں سے جھگڑتے رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–36

8: اس آدمی کا نام روایتوں میں قدار آیا ہے۔ اس نے اونٹنی کو قتل کیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–38

ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36 { وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ۔ } ”اور لوط علیہ السلام نے ان کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے ‘ لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔“ وہ ہماری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 سیدنا لوط کو قوم کی دھمکیاں :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے قوم کو ڈرایا تو تھا مگر یہ بدبخت قوم بھلا ان کی نصیحت کو بلکہ خود ان کو بھی کیا سمجھتی تھی۔ وہ الٹا لوط (علیہ السلام) کو دھمکیاں دینے لگی۔ اگر تم اتنے ہی پاکباز ہو تو ہماری اس گندی بستی سے نکل جاؤ۔ ورنہ ہم خود تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ نیز انہوں نے سیدنا لوط (علیہ السلام) پر یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ باہر سے آنے والے مسافروں اور مہمانوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ ورنہ اس کے نتائج کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔ اور جو بات لوط (علیہ السلام) انہیں سمجھانا چاہتے تھے اور انہیں ان کے انجام سے مطلع کرکے انہیں اللہ کے حضور جوابدہی سے ڈرانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ (جیسا کہ ہر شریر و سرکش قوم نکالتی ہی رہتی ہے۔ (آیت) ” فتماروا بالنذر “۔ یعنی کسی طرح آپ ﷺ کی تنبیہات پر یقین نہ کیا اور ان میں برابر حجتیں ہی نکالتے رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–36

قوم لوط (علیہ السلام) کا اجمالی واقعہ : کذبت قوم لوط بالنذر یہاں سے قوم لوط کی ہلاکت کا اختصار کے ساتھ ذکر ہے، اس قوم پر ایسی تیز و تند ہو اکا عذاب بھیجا کہ جو ان پر کنکر پتھر رساتی تھی اور ان کی بستیوں کو تہہ وبالا کردیا گیا، سورة ہود میں اس کی تفصیلی گذر چکی ہے، آل لوط سے مراد خود حضرت لوط علیہ الصلا ۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ لوط (علیہ السلام) کی دو بیٹیاں ان کے ساتھیں جن کو نجات دی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد انذرھم بطشتنا فتماروا بالنذر . ” اور (عذاب آنے سے پہلے) لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا لیکن انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کیے۔ “ بَطْشَتَنَا : یعنی ہماری دار و گیر اور پکڑ سے ڈرایا ‘ مراد عذاب سے ڈرایا۔ فَتَمَارَوْا بالنُّذُرِ : یعنی انہوں نے لوط کو جھوٹا قرار دیا اور تخویف عذاب میں شک کرنے لگے۔ (مترجم نے تماروا کا ترجمہ کیا ہے : جھگڑے کرنے لگے ‘ کیونکہ مراء اور مماراۃ کا معنی ہے باہم جھگڑا کرنا ‘ مقابلہ کرنا لیکن مفسر (رح) نے ترجمہ کیا : شک کرنے لگے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور لوط نے ان کو ہمارے عذاب سے ڈرایا تھا سو انہوں نے رسولوں کا انکار کیا یعنی لوط جس چیز سے ان کو ڈرا رہے تھے اس کی انہوں نے تکذیب کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ :”تمہاری یتماری تماریا“ (تفاعل) شک کرنا ، جھگڑنا ، ”لام ‘ اور ”قد“ کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کی قوت رکھتی ہے ، یعنی قسم ہے کہ لوط ؑ نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تھا، مگر انہوں نے اس ڈرانے پر یقین نہیں کیا ، بلکہ شک میں پڑے رہے اور اس کے متعلق بحث اور جھگڑا ہی کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–39

انا ارسلنا علیھم حاصباً یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان پر کنکر پھینت کی تھی۔ حصباء سے مراد حصی ہے۔ نضر نے کہا، حاصب سے مراد ہوا میں سنگریزے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا، حاصب سے مراد پتھر ہیں۔ صحاح میں ہے : حاصب سے مراد ایسی شدید ہوا ہے جو سنگریزہ کو اڑاتی ہے اسی طرح حصبہ ہے۔ عصفت الریح یعنی ہوا تیز ہوئی۔ ھی ریح عاصف و عصرف۔ الا ال لوط اس سے مراد وہ افراد ہیں جنہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے دین کی اتباع وہ صرف آپ کی دو بیٹیاں تھیں۔ نجینھم بسحر۔ اخفش نے کہا، اسے منصرف ذکر کیا ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے۔ اگر معین دن کی سحری کا ارادہ ہوتا تو پھر اسے منصرف ذکر نہ کیا جاتا اس کی مثل اھبطوا مصراً (بقرہ : 61) جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–42

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات) قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ 10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اَنْذَرَهُمْ [ اور بیشک اس (لوط) نے خبردار کردیا تھا ] بَطْشَتَنَا [ ہماری پکڑ سے ] فَتَـمَارَوْا [ تو انہوں نے شک کیا ] بِالنُّذُرِ [ ڈرانے کے بارے میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–37

سیّدنا لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا، اور قوم کا کفر پر اصررا کرنا، معاصی پرجما رہنا اور آخر میں ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ہلاکت کا ذکر ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے وطن سے ہجرت کرکے آئے تھے دونوں نے ملک شام میں قیام فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) چند بستیوں کی طرف معبوث ہوئے ان میں بڑی بستی کا نام سدوم تھا ان بستیوں کے رہنے والے برے لوگ تھے۔ برے اخلاق اور برے اعمال میں مشغول رہتے تھے مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا توحید کی دعوت دی برے افعال سے روکا لیکن ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–36

16:۔ ” کذبت قوم لوط “ یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے۔ ” حاصب “ پتھر جو قوم لوط کی بستیوں پر برسائے گئے۔ قوم لوط (علیہ السلام) نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے ان کی بستیوں کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش کی اور اس سے پہلے صبح صبح ہی لوط (علیہ السلام) اور مؤمنوں کو بستی سے نکل جانے کا حکم دے کر ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ یہ ان پر ہمارا انعام و احسان تھا، کیونکہ وہ ہمارے شکر گزار بندے تھے اور شکر کرنے والوں کو ہم ایسی جزاء دیا کرتے ہیں۔ ” ولقد انذرھم۔ الایۃ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا۔ لیکن انہوں نے ان کے انذار کو جھٹلایا اور اس میں شک کیا اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–42

ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَـمَارَوْا بِالنُّذُرِ۝ 36 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–45

ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔ تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اُنْذَرَھُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ۔ (القمر : 36) (حضرت لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا، لیکن وہ تنبیہات میں شک کا ہی اظہار کرتے رہے۔ ) عذاب آنے سے پہلے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی تکذیب اور ان کے مکروہ رویئے کی وجہ سے انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ اور برابر انھیں تنبیہات کرتے رہے۔ لیکن قوم لوط نے کبھی سنجیدگی سے انھیں نہ لیا۔ بلکہ جب بھی حضرت لوط انھیں ایسی کوئی تنبیہ کرتے تو وہ ہمیشہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–40

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔ حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 36: وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ (اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا تھا۔ ) بَطْشَتَنَا (ہماری پکڑ سے۔ ) عذاب مسلط کرنے سے پہلے۔ فَتَمَا رَوْا بِالنُّذُرِ (لیکن انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کیے۔ ) پس انہوں نے ڈرانے والوں میں شک کر کے جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35 ۔” نعمۃ من عندنا “ یعنی ہم نے اس پر اپنی طرف سے نعمت دی کہ ہم نے ان کو نجات۔ ” کذلک “ یعنی جیسے ہم نے آل لوط (علیہ السلام) پر انعام کیا۔ ” نجزی من شکر “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جس نے اللہ کی توحید بیان کی اللہ تعالیٰ اس کو مشرکین کے ساتھ عذاب نہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–37

(كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢ بِالنُّذُرِ ) جب حضرت لوط نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلایا اور انہیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تو انہوں نے حضرت لوط کی تکذیب کی پس انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے حتی کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانووں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط کی قوم نے سنا توجلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کا برا کرے وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا انہوں نے ان کو اندھا کرڈالا، ان کے نبی نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–55

پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔ امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 41] انکار و تکذیب حق باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے انذار کی تکذیب اور اس میں جھگڑنا باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو باز آنے اور سبق لینے کی بجائے وہ لوگ الٹے ہماری ان تنبیہات کے بارے ہی میں شک میں پڑگئے اور جھگڑنے لگے، اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور اپنے مرض میں وہ لوگ اور پکے ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اللہ تعالیٰ کے انذار کی تکذیب اور اس کے بارے میں جھگڑنا، اور حجت بازی سے کام لینا باعث ہلاکت اور موجب تباہی ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف ان لوگوں کے اوپر نزول عذاب کے سبب کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–40

آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–36

ف 1 یعنی حضرت لوط کی سب تنبیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا اور باتوں میں اڑاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:36) ولقد : واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ قد ماضی سے قبل تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور ماضی قریب کے زمانہ کو ظاہر کرتا ہے۔ انذرھم بطشتنا : انذر ماضی واحد مذکر غائب انذار (افعال) مصدر بمعنی ڈرانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع قول لوط ہے۔ بطشتنا : مضاف مضاف الیہ۔ بطش (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی سختی سے پکڑنا اور اس سے قبل (عذاب آنے سے پہلے) وہ (حضرت لوط علیہ السلام) ان کو (قوم لوط کو) ہماری پکڑ سے ڈرا چکا تھا۔ پکڑ سے مراد عذاب ہے۔ فتماروا : ماضی جمع مذکر غائب۔ تماری (تفاعل) مصدر جس کے معنی شک کرنے اور باہم جھگڑنے کے ہیں۔ انہوں نے جھگڑا کیا۔ انہوں نے شک کیا۔ بالنذر۔ یہاں نذر بطور مصدر بمعنی ڈر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–42

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–44

[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–36

نبوت کا تصور 1: حضرت صالح کی قوم ثمود کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ جب اللہ کے یہ پاکباز بندے ان میں آئے اور انہوں نے اللہ کی توحید کو بیان کیا ۔ اور تزکیہ نفس کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ تو ان لوگوں کی رگ کبروغرور پھڑک اٹھی ۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنوں میں سے ایک آدمی کو پیغمبرمان لیں ۔ اور یہ تسلیم کرلیں ۔ کہ ایک شخص جو بالکل ہماری کھاتا پیتا اور اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ وہ نبی ہے ۔ گویا ان کے نزدیک نبوت کا تصور یہ تھا کہ وہ فوق البشر خوصیات اپنے اندر رکھتا ہو ۔ اور جو کچھ ہو ۔ کم از کم انسان نہ ہو ان کو اصل میں دکھ اس بات کا ہوتا تھا ۔ کہ آخر اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب حضرت صالح بنی پر کیوں پڑی ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(36) اور بلا شبہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری گرفت اور ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا سو انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے نکال کھڑے کئے اور جھگڑے پیدا کیئے اور مکابرہ کیا۔ یعنی اس کی بات کو غلط ثابت کرنیل گے اور ٹکرانے لگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–40

ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوط (علیہ السلام) نے قوم کو ہماری گرفت سے ڈرایا اور انہوں نے جھگڑنا شروع کر دیا 36 ؎ (فتماروا) ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ پس انہوں نے جھگڑا کیا۔ انہوں نے شک کیا اور آپس میں باہم جھگڑ پڑے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان کو یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو ڈرایا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اب تم کو اپنی گرفت میں لے لے گا لیکن قوم کے لوگوں نے لوط (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں سے جھگڑا شروع کردیا اور ان کی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–42

Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–36

21 The crushed and rotten bodies of the people of Thamud have been compared to the trampled and trodden twigs and pieces of bush Iying around an enclosure for cattle.

Read the full tafseer →