Al-Qamar 54:35

Al-Qamar · from ayah 35

54:35

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا ؕ— كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ ۟نِّعۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا‌ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِىۡ مَنۡ شَكَرَ

اپنے فضل سے۔ شکر کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

As favor from us. Thus do We reward he who is grateful.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:35

اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اپنے فضل سے۔ شکر کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنے احسان سے ہر ہر شکر گزار کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے پاس کی نعمت فرماکر، ہم یونہی صلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اپنی طرف سے خاص انعام کے ساتھ، اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیا کرتے ہیں جو شکر گزار ہوتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنی طرف سے انعام کرتے ہوئے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ہماری طرف سے احسان تھا (اور) ہم شکر کرنے والے کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

خاص اپنے فضل سے۔ ایسا ہی صلہ ہم دیا کرتے ہیں ان کو جو شکر گزار رہتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

محض اپنی مہربانی سے اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو شکر کرتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اپنی طرف سے فضل کرکے۔ جو شکر کرتا ہے اسے ہم صلہ ہی ایسا دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ نعمت تھی ہمارے پاس سے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنے فضل سے شکر کرنے والے کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

as a favour from Us. Thus do We reward those who give thanks.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

as a grace from Us. This is how We reward the one who offers gratitude.

— Muhammad Taqi Usmani

as a grace from Us. This is how We reward the one who offers gratitude.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As a favor from Us. Thus do We reward him who gives thanks.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As grace from Us. Thus We reward him who giveth thanks.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

As favor from us. Thus do We reward he who is grateful.

— Saheeh International

Thus do We recompense the grateful ones.

— Muhammad Sarwar

A favor from Us; thus do We reward him who gives thanks.

— Muhammad Habib Shakir

As a favour from us. Thus We recompense him who giveth thanks.

— Abdul Majid Daryabadi

As a Grace from Us: thus do We reward those who give thanks.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–40

خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–36

سورة الْقَمَر 21 جو لوگ مویشی پالتے ہیں وہ اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر ان کا برادہ بن جاتا ہے۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–42

خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(نعمۃ من عندنا کذلک نجزی من شکر) (35)۔ ایسے ہولناک عذاب سے اس طرح بال بال بچا لیا جانا صرف اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی غیایت ہی سے ممکن ہے۔ کسی دوسرے کے لیے اس طرح کا پروگرام بنا لینا ممکن نہیں ہے۔ (کذلک نجزی من شکر) میں حضرت لوط ؑ کی غیر معمولی صفت شکر کی غیر معمولی داد بھی ہے اور اس امر کا اعلان عام بھی کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عنایت صرف حضرت لوط ؑ ہی کے لیے خاص نہیں تھی بلکہ آج بھی جو لوگ اس کے شکر کرنے والے ہوں گے وہ اس کی عنایت خاص کے حق دار ہوں گے۔ اس کا داہن رحمت بہت وسیع ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–36

8: اس آدمی کا نام روایتوں میں قدار آیا ہے۔ اس نے اونٹنی کو قتل کیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 34–35

انا ارسلنا ............ من شکر (45:5 3) ” اور ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال لیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ “ الحاصب وہ ہوا جو پتھروں کو اڑا کر پھینک دیتی ہو اور دوسری جگہ آیا ہے کہ ان پر مٹی کے پتھر پھینکے گئے تھے۔ لفظ حاصب کی آواز ہی ایسی ہے جس سے پتھر پھینکے جانے کی آواز آتی ہے۔ اس میں شدت اور سختی ہے جو اس وقت منظر اور فضا کے مناسب ہے۔ اس عذاب سے صرف لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ بچے۔ ماسوائے ان کی اہلیہ کے اور بچنے والے اس لئے بچے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 34–35

1 یعنی وہ پچھلی رات میں اپنے گھر والوں کو لے کر صاف نکل گئے۔ ان کو ہم نے عذاب کی ذرا بھی آنچ نہ لگنے دی۔ اور یہ ہی ہماری عادت ہے۔ حق شناس اور شکر گزار بندوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35 { نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَاط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ۔ } ”وہ نعمت تھی ہمارے پاس سے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–35

25 قوم لوط پر عذاب :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کو پہلے مطلع کردیا گیا تھا کہ صبح کے وقت تمہاری قوم پر خوفناک عذاب آنے والا ہے۔ لہذا راتوں رات ہی تم اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے کر اس بستی سے نکل جاؤ تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ پیچھے ہی رہے گی اور سزا پانے والوں میں شامل ہوگی۔ اور جب تم نکلو تو خود سب سے پیچھے رہنا۔ اور تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کے دل میں یہ خیال آجائے کہ دیکھوں تو سہی کہ اس قوم پر کیسا عذاب آتا ہے۔ ورنہ وہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–35

23۔ یعنی انہیں بستی سے باہر نکال کر عذاب سے محفوظ کردیا۔ (آیت) ” الا ال لوط “۔ عذاب سے محفوظ صرف خاندان لوط رکھا گیا، لیکن نہ اس لئے کہ وہ لوگ نبی کے خاندان سے تھے بلکہ اس لئے کہ وہی لوگ تو ایمان لائے اور نبی کی تصدیق کرنے والے تھے ورنہ اگر محض اس خاندان سے ہونا محفوظیت کیلئے کافی ہوتا تو خود زوجہ حضرت لوط کیوں مبتلائے عذاب ہوتیں۔ (آیت) ” بالنذر “۔ نذر۔ نذیر کی جمع اور مراد پیغمبر کی توجیہ، محض حضرت لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کی بنا پر ہوسکتی ہے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے پیغمبروں کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ 24۔ یعنی اپنے قہر و عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” من شکر “۔ شکر ادا کرنے سے یہاں مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–36

قوم لوط (علیہ السلام) کا اجمالی واقعہ : کذبت قوم لوط بالنذر یہاں سے قوم لوط کی ہلاکت کا اختصار کے ساتھ ذکر ہے، اس قوم پر ایسی تیز و تند ہو اکا عذاب بھیجا کہ جو ان پر کنکر پتھر رساتی تھی اور ان کی بستیوں کو تہہ وبالا کردیا گیا، سورة ہود میں اس کی تفصیلی گذر چکی ہے، آل لوط سے مراد خود حضرت لوط علیہ الصلا ۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ لوط (علیہ السلام) کی دو بیٹیاں ان کے ساتھیں جن کو نجات دی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نعمہ من عندنا کذلک نجزی من شکر . ” اپنی جانب سے فضل کر کے۔ جو شکر کرتا ہے ہم اسکو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ “ مَنْ شَکَرَ : جو اللہ کی نعمت کا شکر کرتا ہے یعنی اللہ کی توحید کا قائل اور اطاعت گزار ہے ‘ اس کو ہم ایسی جزا دیتے ہیں جیسی لوط کے گھر والوں کو دی اور اس کو مشرکوں کے ساتھ عذاب نہیں دیتے۔ (کذا قال مقاتل)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–35

(33۔ 35) قوم لوط نے بھی لوط اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر پتھر برسائے سوائے لوط کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور زنتا اور مومنین کے اور ہم نے ان کو رات کے پچھلے پہر میں اپنی جانب سے فضل کر کے بچا لیا جو توحید خداوندی کا قائل ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے ہم ظالموں سے نجات دے کر اس کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا ط۔۔۔۔: اس میں اپنی نعمت کی عظمت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ لوط ؑ اور ان کے گھر والوں کو اس عذاب سے بچانا ہماری خاص نعمت تھی۔ اس سے اگلے جملے ”کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ“ سے ان کی اس نعمت کا اہل بننے کی وجہ بھی معلوم ہو رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے : اس لیے ہم نے انہیں اس عظیم نعمت سے نوازا ، جیسا کہ فرمایا (لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ) (ابراہیم : 7)”بیشک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا“۔ اور صرف انہی کو نہیں بلکہ جو بھی ہماری نعمتوں کی قدر کرے ہم اسے ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–39

انا ارسلنا علیھم حاصباً یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان پر کنکر پھینت کی تھی۔ حصباء سے مراد حصی ہے۔ نضر نے کہا، حاصب سے مراد ہوا میں سنگریزے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا، حاصب سے مراد پتھر ہیں۔ صحاح میں ہے : حاصب سے مراد ایسی شدید ہوا ہے جو سنگریزہ کو اڑاتی ہے اسی طرح حصبہ ہے۔ عصفت الریح یعنی ہوا تیز ہوئی۔ ھی ریح عاصف و عصرف۔ الا ال لوط اس سے مراد وہ افراد ہیں جنہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے دین کی اتباع وہ صرف آپ کی دو بیٹیاں تھیں۔ نجینھم بسحر۔ اخفش نے کہا، اسے منصرف ذکر کیا ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے۔ اگر معین دن کی سحری کا ارادہ ہوتا تو پھر اسے منصرف ذکر نہ کیا جاتا اس کی مثل اھبطوا مصراً (بقرہ : 61) جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–42

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات) قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ 10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا ۭ [ نعمت ہوتے ہوئے ہمارے پاس سے ] كَذٰلِكَ نَجْزِيْ [ اس طرح ہم جزاء دیتے ہیں ] مَنْ شَكَرَ [ اس کو جس نے شکر ادا کیا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–37

سیّدنا لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا، اور قوم کا کفر پر اصررا کرنا، معاصی پرجما رہنا اور آخر میں ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ہلاکت کا ذکر ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے وطن سے ہجرت کرکے آئے تھے دونوں نے ملک شام میں قیام فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) چند بستیوں کی طرف معبوث ہوئے ان میں بڑی بستی کا نام سدوم تھا ان بستیوں کے رہنے والے برے لوگ تھے۔ برے اخلاق اور برے اعمال میں مشغول رہتے تھے مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا توحید کی دعوت دی برے افعال سے روکا لیکن ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–36

16:۔ ” کذبت قوم لوط “ یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے۔ ” حاصب “ پتھر جو قوم لوط کی بستیوں پر برسائے گئے۔ قوم لوط (علیہ السلام) نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے ان کی بستیوں کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش کی اور اس سے پہلے صبح صبح ہی لوط (علیہ السلام) اور مؤمنوں کو بستی سے نکل جانے کا حکم دے کر ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ یہ ان پر ہمارا انعام و احسان تھا، کیونکہ وہ ہمارے شکر گزار بندے تھے اور شکر کرنے والوں کو ہم ایسی جزاء دیا کرتے ہیں۔ ” ولقد انذرھم۔ الایۃ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا۔ لیکن انہوں نے ان کے انذار کو جھٹلایا اور اس میں شک کیا اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–42

ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا۝ 0 ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ شَكَرَ۝ 35 نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–35

ترکیب : الحاصب اسم الفاعل من حصب اذارمی الحصباء ھی الحصاب ومنہ المحصب موضع بالحجاز قال ابوعبیدۃ الحاصب الحجارۃ الریح وقال فی الصحاح الحاصب الریح الشدیدۃ التی تثیر الحصباء تذکیر الحاصب مع انہ مسندالی الریح وھی مونث سماعی لکونھا فی تاویل العذاب الاآل لوط استثناء متصل بسحر الباء بمعنی فی اوللملابستہ ای حال کو نھم متلبسین بسحر نعمۃ منصوب علی العلۃ اوعلی المصدریۃ تماروا تفاعلوامن المریۃ وھی الشک والمجادلۃ راودوہ المرادو الطلب مرۃ بعد مرۃ۔ تفسیر … حضرت لوط (علیہ السلام) کا واقعہ : چوتھا قصہ قوم لوط کا ہے کہ انہوں نے بھی نبیوں اور ان کی باتوں کو جھٹلایا تھا جس سے ان پر بلائے عظیم نازل ہوئی۔ یہ قصہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–35

کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط نَجَّیْنٰـھُمْ بِسَحَرٍ ۔ نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا ط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ ۔ (القمر : 33 تا 35) (قومِ لوط نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا۔ تو ہم نے ان پر پتھرائو کرنے والی ہوا بھیج دی، صرف آل لوط اس سے بچے، ہم نے ان کو نجات دی سحر کے وقت۔ خاص اپنے فضل سے، اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ ) قومِ لوط کی سرگزشت کا حوالہ قومِ لوط نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی تنبیہات کو درخورِاعتنانہ سمجھا اور وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کے نبی کی رسالت، اس کے لائے ہوئے پیغام اور نہ ماننے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–40

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔ حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 35: نِعْمَۃً (اپنی جانب سے فضل کر کے۔ ) یہ مفعول لہ ہے یعنی بطور انعام کے مِنْ عِنْدِنَا کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ جو (شکر کرتا ہے اس کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ ) ایمان اور اپنی اطاعت کی نعمت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34 ۔” انا ارسلنا علیھم حاصبا “ ہوا جو ان پر کنکریاں پھینکے۔ ضحاک (رح) یعنی چھوٹی کنکریاں ۔ اور کہا گیا ہے حصباء وہ پتھر جو مٹھی پھر مقدار سے کم ہو اور کبھی حاصب پھینکنے والے کے معنی میں ہوتا ہے۔ پس اس صورت میں معنی ہوگا ہم نے ان پر عذاب بھیجا جو ان پر پتھر پھینکے۔ پھر استثناء کرتے ہوئے فرمایا ” الا آل لوط “ یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیاں۔ ” نجینا ھم “ عذاب سے ۔ ” بسحر “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–37

(كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢ بِالنُّذُرِ ) جب حضرت لوط نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلایا اور انہیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تو انہوں نے حضرت لوط کی تکذیب کی پس انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے حتی کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانووں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط کی قوم نے سنا توجلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کا برا کرے وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا انہوں نے ان کو اندھا کرڈالا، ان کے نبی نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–55

پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔ امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 40] شکر خداوندی ذریعہء نجات و عنایت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکر کرتا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں پر یہ انعام کیا اسی طرح ہم ہر اس شخص پر انعام کرتے ہیں جو ایمان و اطاعت کے ذریعے ہمارا بنکر رہتا ہے، اور ہمارا شکر بجالاتا ہے، معلوم ہوا کہ شکر نعمت نجات اور بچاؤ کا ذریعہ اور سبب ہے، جبکہ کفران نعمت ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس ارشاد میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی غیر معمولی صفت شکر کی داددی گئی ہے اور اس امر کا اظہار و اعلان بھی فرما دیا گیا کہ جو بھی کوئی اس کا شکر گزار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–40

آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–36

ف 1 یعنی حضرت لوط کی سب تنبیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا اور باتوں میں اڑاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:35) نعمۃ اسم منصوب نکرہ۔ انعام و احسان۔ منصوب بوجہ علت کے ۔ اپنی طرف سے انعام و احسان کرنے کی وجہ سے۔ انعام و اکرام دینے کے لئے ۔ یعنی ہم نے متعلقین لوط (علیہ السلام) کو اخیر سب کے وقت بچا لیا۔ اپنی طرف سے انعام و اکرام و احسان کرکے۔ کذلک : کاف تشبیہ کا۔ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ مشار الیہ۔ آپ لوط کا پتھروں کے منہ سے بچا لیا جانا۔ نجری : مضارع جمع متکلم۔ جزاء (باب ضرب) مصدر۔ ہم بدلہ دیتے ہیں۔ ہم صلہ دیتے ہیں۔ من موصولہ بمعنی الذی جو (اللہ کی نعمت کا) شکر کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–42

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–44

[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–36

نبوت کا تصور 1: حضرت صالح کی قوم ثمود کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ جب اللہ کے یہ پاکباز بندے ان میں آئے اور انہوں نے اللہ کی توحید کو بیان کیا ۔ اور تزکیہ نفس کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ تو ان لوگوں کی رگ کبروغرور پھڑک اٹھی ۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنوں میں سے ایک آدمی کو پیغمبرمان لیں ۔ اور یہ تسلیم کرلیں ۔ کہ ایک شخص جو بالکل ہماری کھاتا پیتا اور اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ وہ نبی ہے ۔ گویا ان کے نزدیک نبوت کا تصور یہ تھا کہ وہ فوق البشر خوصیات اپنے اندر رکھتا ہو ۔ اور جو کچھ ہو ۔ کم از کم انسان نہ ہو ان کو اصل میں دکھ اس بات کا ہوتا تھا ۔ کہ آخر اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب حضرت صالح بنی پر کیوں پڑی ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(35) اپنے فضل سے بچا نکالا جو شکر بجا لاتا ہے اور حق مانتا ہے ہم اس کو ایسا ہی صلہ اور ایسی جزا دیا کرتے ہیں۔ یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم پر پتھرائو ہوا پتھروں کا مینہ برسا آندھی آئی پتھرائو کی البتہ جو لوگ اس پر ایمان لائے تھے وہ بچائے گئے ایمان والوں کو آل فرمایا ان کو سحر کے وقت بچا نکالا۔ آخر میں فرماتے ہیں ہم شکر گزاروں کو ایسا ہی صلہ عطا فرماتے ہیں۔ کذلک نجزی من شکر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–40

ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

35 ؎ یہ شروع سے سنت اللہ چلی آرہی ہے کہ جب کسی نبی و رسول کی قوم پر عذاب نازل ہونے کا وقت قریب آجاتا ہے تو اس وقت اس علاقہ سے نبی و رسول کو ہجرت کا پیغام بھیج دیا جاتا ہے اور جب نبی و رسول وہاں سے ہجرت کرجاتا ہے تو اس کے بعد پوری قوم کو عذاب الٰہی میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور اس طرح تہس و نہس کر کے رکھ دیا جاتا ہے ۔ فرمایا جن کو بچایا جاتا ہے محض اس لئے بچایا جاتا ہے تاکہ ان کے شکر کی ان کو جزا دی جائے۔ گویا اس شکر کی جزا دینے کے لئے ان کو یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچالیا گیا۔ غور کرو کہ جہاں مخاطبین پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے وہاں شکر گزاروں کو بچا بھی لیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–42

Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–36

21 The crushed and rotten bodies of the people of Thamud have been compared to the trampled and trodden twigs and pieces of bush Iying around an enclosure for cattle.

Read the full tafseer →