Al-Qamar 54:32

Al-Qamar · from ayah 32

54:32

وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ۟وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:32

ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے نصیحت کے لیے قرآن کو آسان کر دیا ہے پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے قرآن کو یاددہانی کے لئے نہایت موذوں بنایا ہے تو ہے کوئی یا ددہانی حاصل کرنے والا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے آسان کردیا اس قرآن (عظیم) کو نصیحت کے لئے تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے تو اس قرآن کو آسان کردیا ہے سمجھنے کے لیے تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We have made this Qur'an easy as a reminder. Is there, then, any who will take heed?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We have made the Qur‘an easy for seeking advice. So, is there one to heed to the advice?

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We have made the Qur‘an easy for seeking advice. So, is there one to heed to the advice?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And in truth We have made the Qur'an easy to remember; but is there any that remembereth?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?

— Saheeh International

We made the Quran easy to understand, but is there anyone who would take heed?

— Muhammad Sarwar

And certainly We have made the Quran easy for remembrance, but is there anyone who will mind?

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have made the Qur'an eary for admanirion: is there then any one who would be admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember: then is there any that will receive admonition?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–32

فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–36

سورة الْقَمَر 21 جو لوگ مویشی پالتے ہیں وہ اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر ان کا برادہ بن جاتا ہے۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–42

خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر) (32) (یہ وہی ترجیح کی آیت ہے جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے)۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 31–33

31۔ 1 باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہوجاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–36

8: اس آدمی کا نام روایتوں میں قدار آیا ہے۔ اس نے اونٹنی کو قتل کیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد ............ مد کر (45: 23) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے۔ اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ “ اس پر پردہ گرتا ہے اور منظر پر روندا ہوا بھس پڑا ہے۔ آنکھوں کے لئے ایک منظر اور دل کے لئے ایک عبرت۔ یہ قرآن پکار پکار کر بلارہا ہے نصیحت لینے والوں اور فکر و تدبر کرنے والوں کو۔ اب جب دوبارہ پردہ اٹھتا ہے تو تاریخ کا وہ ورق الٹا جاتا ہے جو جزیرہ عرب کے قریب ہے ، قوم لوط کا منظر :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 32–33

12 یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایک نبی کی تکذیب سب انبیاء کی تکذیب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے تو اس قرآن کو آسان کردیا ہے سمجھنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–33

24 چیخ کا عذاب :۔ یہ لوگ چیخ یا گرج دار آواز سے ہلاک کیے گئے۔ فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے۔ اور مر کر ایک دوسرے پر گرنے لگے اور اس طرح ایک دوسرے سے روندے جانے لگے جیسے کسی کھیت کے گرد لگی ہوئی باڑ چند روز میں پامال ہو کر چورا چورا بن جاتی ہے۔ یہی ان لوگوں کا حال ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–35

23۔ یعنی انہیں بستی سے باہر نکال کر عذاب سے محفوظ کردیا۔ (آیت) ” الا ال لوط “۔ عذاب سے محفوظ صرف خاندان لوط رکھا گیا، لیکن نہ اس لئے کہ وہ لوگ نبی کے خاندان سے تھے بلکہ اس لئے کہ وہی لوگ تو ایمان لائے اور نبی کی تصدیق کرنے والے تھے ورنہ اگر محض اس خاندان سے ہونا محفوظیت کیلئے کافی ہوتا تو خود زوجہ حضرت لوط کیوں مبتلائے عذاب ہوتیں۔ (آیت) ” بالنذر “۔ نذر۔ نذیر کی جمع اور مراد پیغمبر کی توجیہ، محض حضرت لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کی بنا پر ہوسکتی ہے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے پیغمبروں کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ 24۔ یعنی اپنے قہر و عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” من شکر “۔ شکر ادا کرنے سے یہاں مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے، اس آیت کو ہر معذب قوم کا ذکر کرنے کے بعد دہرایا گیا ہے تاکہ مشرکین مکہ ان واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر . ” اور ہم نے قرآن نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کردیا ہے۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے قرآن کریم کو نصیحت حاصل کرنے اور حفظ و قرات کے لیے آسان کیا سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ قوم صالح کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس سے عبرت حاصل کر کے نافرمانیوں کو چھوڑ دے یا یہ مطلب ہے سو کیا کوئی طالب علم دین ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 31–33

اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (78) کی تفسیر۔ 2۔ فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ : ”ھشم یھشم ھشما“ (ض)”الشئی“ کسی چیز کو توڑ کر اور کچل کر ریزہ ریزہ کردینا۔ ”ھشیم“ روندی ، کچلی ہوئی۔”حظیرہ“ باڑ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے ارد گرد ٹہنیوں وغیرہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اور ”المحتظر“ باڑ بنانے والا۔ باڑ کے پتے اور ٹہنیاں جو خشک ہو کر ٹوٹتی اور نیچے گرتی ہیں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آکر کچلی اور روندی جاتی ہیں اور ورا بن جاتی ہیں انہیں ”ھشیم“ کہا جاتا ہے۔ قوم ثمود کا عذاب کے ساتھ جو حال ہوا اسے ان پتوں اور ٹہنیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–32

4:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتعاطی فعقر '' (اس نے اونٹنی پروار کیا اور اس کو ذبح کرڈالا یعنی '' احمیمر، ثمود، اونٹنی کو پکڑ لیا اور اس کو ذبح کرڈالا (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' یعنی جلی ہوئی راکھ کی طرح۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتعاطی فعقر '' سے مراد ہے '' تتاول '' یعنی اس نے پکڑ لیا۔ 6:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' مراد ہے کہ وہ جلی ہوئی ہڈیوں کی طرح ہوگئے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کھشیم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا [ اور بیشک ہم نے آسان کردیا ہے ] الْقُرْاٰنَ [قرآن کو ] لِلذِّكْرِ [ یاد دہانی کے لئے ] فَهَلْ [ تو کیا ] مِنْ مُّدَّكِرٍ [ کوئی بھی یاددہانی حاصل کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–32

﴿وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ 1ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ0028 ﴾ (اور انہیں بتا دیجئے کہ بیشک پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوا کرے) ۔ یہ لوگ اس اونٹنی سے تنگ آگئے اس کا اپنے نمبر پر پانی پیناناگوار ہوا لہٰذا آپس میں مشورہ کیا کہ اس کو قتل کردیا جائے ان میں سے ایک آدمی قتل کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ لوگوں نے اسے پکارا اس نے ہاتھ میں تلوار لی اور اونٹنی کو مار ڈالا پہلے سے ان کو بتادیا گیا تھا کہ اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ لگاؤ تو تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا، جب اسے قتل کردیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بتادیا۔ ﴿تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–32

15:۔ ” انا ارسلنا علیہم۔ الایۃ “ ہم نے ان پر ایک دلدوز چیخ بھیجی جس سے وہ روندے ہوئے خشک چارے کی مانند چورہ چورہ ہوگئے۔ ” ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر “۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–42

ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 32–33

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝ 32 كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍؚبِالنُّذُرِ۝ 33 كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ یَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 32) (اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ ) اس کی تشریح گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–32

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔ قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔ قوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 32: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (اور ہم نے قرآن نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے آسان کردیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ۔” انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ “ عطائؒ فرماتے ہیں جبرئیل (علیہ السلام) کی چیخ مراد ہے۔ ” فکانوا کھشیم المحتضر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ آدمی اپنی بکریوں کے لئے درختوں اور کانٹوں کے خشک حصے بناتا ہے نہ کہ درندوں کے لئے۔ پس جو اس سے گرجائے اور اس کو بکریاں روند ڈالیں۔ پس وہ ” ھشیم “ ہے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں وہ خشک درخت جو خشک ہو کر ٹوٹ جائے حتیٰ کہ اس کو ہوائیں اڑائیں اور معنی یہ ہے کہ وہ لوگ خشک درخت کی طرح ہوجائیں گے جب وہ ٹوٹ جائے اور عرب ہر اس چیز کا نام ” ھشیم “ رکھتے ہیں جو تر ہو پھر خشک ہوجائے اور قتادہ فرماتے ہیں جلی ہوئی ریزہ ریزہ ہڈیاں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ مٹی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–32

(فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ (۔ پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈر کیسا تھا یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ نے ایک سخت چنھگاڑ کے اور زلزلہ بھیجا جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کرڈالا اور اللہ نے حضرت صالح اور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 28–55

پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔ امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 31–32

[ 35] قوم ثمود کے ہولناک انجام کی تصویر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار وہ سب لوگ روندی ہوئی باڑھ کا چورا بنکر رہ گئے اور ایسے ہوگئے گویا کہ وہ مدتوں سے مرے پڑے تھے جس طرح کہ باڑ والے کی باڑ کا پرانا اور روندھا ہوا چورا پڑا ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ محتظر ] باڑھ بنانے والے کو کہتے ہیں، چرواہے عام طور پر میدانوں میں اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے جھاڑ جھنکار کی باڑھ بنا لیتے ہیں، جن کے اندر وہ رات کے وقت اپنے گلوں کو محفو کرلیتے ہیں، اس قسم کی باڑھ کچھ عرصہ بعد بارش، ہوا اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے، اسی کو عربی زبان میں ہشیم کہا جاتا ہے، سو یہ ان لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–40

آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–36

ف 1 یعنی حضرت لوط کی سب تنبیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا اور باتوں میں اڑاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–42

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–44

[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–36

نبوت کا تصور 1: حضرت صالح کی قوم ثمود کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ جب اللہ کے یہ پاکباز بندے ان میں آئے اور انہوں نے اللہ کی توحید کو بیان کیا ۔ اور تزکیہ نفس کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ تو ان لوگوں کی رگ کبروغرور پھڑک اٹھی ۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنوں میں سے ایک آدمی کو پیغمبرمان لیں ۔ اور یہ تسلیم کرلیں ۔ کہ ایک شخص جو بالکل ہماری کھاتا پیتا اور اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ وہ نبی ہے ۔ گویا ان کے نزدیک نبوت کا تصور یہ تھا کہ وہ فوق البشر خوصیات اپنے اندر رکھتا ہو ۔ اور جو کچھ ہو ۔ کم از کم انسان نہ ہو ان کو اصل میں دکھ اس بات کا ہوتا تھا ۔ کہ آخر اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب حضرت صالح بنی پر کیوں پڑی ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے وال ا اور سوچنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–40

ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے جب کوئی نصیحت حاصل کرے 32 ؎ اس کی تفصیل آیت 17 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس جگہ قرآن کریم میں صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی نصیحت گزر چکی ہے اگر کوئی شخص اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہے تو لاریب کوئی مشکل امر نہیں ہے لیکن نصیحت کون حاصل کرتا ہے وہی جو نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور قرآن کریم اس کے لئے بلاشبہ آسان ہے اور موشگافیاں کرنے والوں کو کبھی نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–42

Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–36

21 The crushed and rotten bodies of the people of Thamud have been compared to the trampled and trodden twigs and pieces of bush Iying around an enclosure for cattle.

Read the full tafseer →