Explained with ayahs 23–32
فریب نظر کے شکار لوگ
ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
سورة الْقَمَر 21
جو لوگ مویشی پالتے ہیں وہ اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر ان کا برادہ بن جاتا ہے۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →اناارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکانو اکھشیم المحطتظر (31) (یہ اشارہ اس عذاب کی طرف ہے جو ان پر آیا (صیعۃ) کے معنی کڑک کے ہیں۔ دوسرے مقام میں لفظ صاعقۃ بھی آیا ہے۔ استاذ امام نے سورة ذاریات کی تفسیر میں اس عذاب کی نوعیت پر قرآن کی روشنی میں مفصل بحث کی ہے۔ آخر میں خلاصہ بحث ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ”اس تفصل سے معلوم ہوا کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے سرما کے بادلوں، تند ہوا اور ہولناک کڑک کا عذاب مطلب کیا۔ لیکن اصل تباہی ہوا کے تصرفات سے واقع ہوئی۔ اس وجہ سے اگر اثر سے موثر پر استدلال کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے سرما کے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
31۔ 1 باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہوجاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
8: اس آدمی کا نام روایتوں میں قدار آیا ہے۔ اس نے اونٹنی کو قتل کیا۔
Read the full tafseer →انا ارسلنا ............ المختظر (45: 13) ” ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکہ چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے “ قرآن کریم نے اس چیخ اور دھماکے کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ اگرچہ دوسری جگہ سورت فصلت میں تفصیل آتی ہے کہ۔
فقل ............ وثمود (1 4: 31) ” تو کہہ دو کہ میں تمہیں اسی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا “ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صاعقہ صیحہ کی صفت ہو یعنی کڑاکے دار آواز۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ اور صاعقہ ایک ہی حقیقت کے لئے استعمال ہوں یعنی اچانک ٹوٹ پڑنے والا عذاب اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ صاعقہ کی آواز ہو یا صاعقہ آواز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
11 فرشتے نے ایک چیخ ماری، کلیجے پھٹ گئے۔ اور سب چورا ہو کر رہ گئے۔ جیسے کھیت کے گرد کانٹوں کی باڑ لگا دیتے ہیں۔ اور چند روز کے بعد پائمال ہو کر اس کا چورا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 31 { اِنَّــآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ۔ } ”ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح چورا ہو کر رہ گئے۔“
اگر جانوروں کا کوئی بڑا سا گلہ کسی کھیت کی باڑھ کو روندتا ہوا گزر جائے تو وہ باڑھ چورا چورا ہوجاتی ہے ‘ بالکل اسی طرح وہ نافرمان لوگ بھی چورا چورا ہو کر پڑے رہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
24 چیخ کا عذاب :۔ یہ لوگ چیخ یا گرج دار آواز سے ہلاک کیے گئے۔ فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے۔ اور مر کر ایک دوسرے پر گرنے لگے اور اس طرح ایک دوسرے سے روندے جانے لگے جیسے کسی کھیت کے گرد لگی ہوئی باڑ چند روز میں پامال ہو کر چورا چورا بن جاتی ہے۔ یہی ان لوگوں کا حال ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
22۔ یعنی جیسے مواشی وغیرہ سے حفاظت کے لئے کھیت کے گرد کانٹوں کی باڑلگا دیتے ہیں اور چند روز بعد وہ سب چورا چورا ہوجاتی ہے، بس اسی طرح پر وہ پر قوت وپر عظمت قوم ہلاک وبرباد ہو کر رہی۔ تشبیہ خا ص عربوں کے مذاق کی ہے جسے وہ خوب اچھی طرح سمجھ سکتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
بل ھو کذاب اشر اشر ایسے برخود غلط اور خود پسند شخص کو کہتے ہیں جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سود اسمایا ہوا ہو اور اس بناء پر ڈینگیں مارتا ہو، مطل یہ ہے کہ جب نہ تو یہ مافوق البشر قوتوں کا مالک ہے اور نہ یہ جتھا بند شخص ہے کہ اس کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو اور نہ ہی یہ اوپر سے نازل کیا ہوا یا باہر سے آیا ہوا شخص ہے کہ اس کی کچھ اہمیت ہو، تو ایسی صورت میں اس کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے دو ہی مقصد ہوسکتے ہیں یا تو یہ پر لے درجہ کا جھوٹا شخص ہے یا پھر ہم پر اپنی بڑائی جتانا اور ہمارے مقابلہ میں شیخی بگھارنا مقصد ہے لہٰذا ہم ایسے کذاب اور شیخی خورے کی ہرگز پیروی نہ کریں گے۔
حضرت صالح (علیہ…
Read the full tafseer →انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکانوا کھشیم المحتظر
ہم نے ان پر ایک ہی نعرہ مسلط کیا۔ سو وہ ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑھ لگانے والے کی باڑھ کا چورا
صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً : ایک چیخ جو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نکالی تھی۔ فَکَانُوْا : پس وُ ہ ہوگئے۔
کَھَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : محتظِراُس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی بکریوں کے لیے درختوں اور کانٹوں کی باڑھ بنا لیتا ہے تاکہ درندوں سے بکریوں کی حفاظت ہوجائے اگر کوئی حصہ اس کا گر جاتا ہے اور بکریاں اس کو پامال کردیتی اور روند ڈالتی ہیں (اور اس کا چورا ہوجاتا ہے) تو اس کو ہشیم کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : خشک درخت جس کا خطیرہ بنایا…
Read the full tafseer →سو محمد دیکھو کہ ان لوگوں پر میرا عذاب اور صالح کے ذریعے ان کو میرا ڈرانا کیسا ہوا مگر وہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔
اونٹنی کے قتل کے تین دن بعد ہم نے ان پر جبریل امین کا ایک ہی نعرہ عذاب مسلط کیا تو وہ ایسے ہوگئے جیسا کہ بکری کسی چیز کو چبا کر اور روند کر چورا کردیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (78) کی تفسیر۔
2۔ فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ : ”ھشم یھشم ھشما“ (ض)”الشئی“ کسی چیز کو توڑ کر اور کچل کر ریزہ ریزہ کردینا۔ ”ھشیم“ روندی ، کچلی ہوئی۔”حظیرہ“ باڑ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے ارد گرد ٹہنیوں وغیرہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اور ”المحتظر“ باڑ بنانے والا۔ باڑ کے پتے اور ٹہنیاں جو خشک ہو کر ٹوٹتی اور نیچے گرتی ہیں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آکر کچلی اور روندی جاتی ہیں اور ورا بن جاتی ہیں انہیں ”ھشیم“ کہا جاتا ہے۔ قوم ثمود کا عذاب کے ساتھ جو حال ہوا اسے ان پتوں اور ٹہنیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے…
Read the full tafseer →انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ اس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز ہے۔ سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے : فکانوا کھشیم المختظر۔ حضرت حسن بصری (رح) ، قتادہ اور ابوالعالیہ نے المحتظر پڑھا (3) یعنی ظاء پر فتحہ ہے اس سے انہوں نے باڑہ کا ارادہ کیا ہے باقی قرئا نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے باڑے والے کا ارادہ کیا ہیخ صحاح میں ہے المحتظر اسے کہتے ہیں جو باڑہ بناتا ہے اسے کھشیم المحتظر پڑھا گیا ہے جس نے اسے کسرہ دیا ہے اس نے اسے فاعل بنایا ہے جس نے اسے فتحہ دیا ہے اس نے اسے مفعول بہ بنایا ہے۔ وہ آدی جو کم بھلائی والا ہو اس کے بارے میں کہا اجتا ہے : انہ لنکدا لخطیرۃ ابوعبید نے کہا، میرا خیال ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
4:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتعاطی فعقر '' (اس نے اونٹنی پروار کیا اور اس کو ذبح کرڈالا یعنی '' احمیمر، ثمود، اونٹنی کو پکڑ لیا اور اس کو ذبح کرڈالا (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' یعنی جلی ہوئی راکھ کی طرح۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتعاطی فعقر '' سے مراد ہے '' تتاول '' یعنی اس نے پکڑ لیا۔
6:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' کھشیم المحتظر '' مراد ہے کہ وہ جلی ہوئی ہڈیوں کی طرح ہوگئے۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کھشیم…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [ بیشک ہم نے بھیجی ان پر ] صَيْحَةً وَّاحِدَةً [ ایک ہی چنگھاڑ ] فَكَانُوْا [ تو وہ لوگ تھے ] كَهَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ [ باڑھ بنانے والے کی توڑی ہوئی ٹہنی کی مانند ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
﴿وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ 1ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ0028 ﴾ (اور انہیں بتا دیجئے کہ بیشک پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوا کرے) ۔ یہ لوگ اس اونٹنی سے تنگ آگئے اس کا اپنے نمبر پر پانی پیناناگوار ہوا لہٰذا آپس میں مشورہ کیا کہ اس کو قتل کردیا جائے ان میں سے ایک آدمی قتل کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ لوگوں نے اسے پکارا اس نے ہاتھ میں تلوار لی اور اونٹنی کو مار ڈالا پہلے سے ان کو بتادیا گیا تھا کہ اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ لگاؤ تو تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا، جب اسے قتل کردیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بتادیا۔ ﴿تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
15:۔ ” انا ارسلنا علیہم۔ الایۃ “ ہم نے ان پر ایک دلدوز چیخ بھیجی جس سے وہ روندے ہوئے خشک چارے کی مانند چورہ چورہ ہوگئے۔ ” ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ 30 اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ صَيْحَۃً وَّاحِدَۃً فَكَانُوْا كَہَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ 31
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
1 ؎ کہ جیسی چورا ہوئی باڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَـکَانُوْا کَھَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ ۔ (القمر : 30، 31)
(تو دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔ ہم نے ان پر ایک ہی ڈانٹ بھیجی، اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کے چورے کی طرح ہو کر رہ گئے۔ )
اس عذاب کی تفصیل ہم اس سے پہلے مختلف مواقع پر پڑھ چکے ہیں۔ بادِتند اور تیز بارش نے ان کو اس طرح ریزہ ریزہ کر ڈالا کہ جس طرح مویشی پالنے والے جانوروں کے لیے ایک باڑہ بناتے ہیں اور پھر ان کی حفاظت کے لیے اس کے اردگرد لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ جھاڑیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔
قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔
قوم…
Read the full tafseer →آیت 31: اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ (ہم نے ان پر مسلط کیا) ۔ اونٹنی کے ذبح کے چوتھے دن بعد صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً (ایک نعرہ۔ ) جبرئیل (علیہ السلام) نے ان پر چیخ ماری۔ فَکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (پس وہ ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑ لگانے والے کی باڑ کا چورا۔ ) الہشیم : خشک درخت جس کا بھوسہ بنایا جاتا ہے۔ والمحتظر : باڑ لگانے والا اور جس پر باڑ لگائیں اور زیادہ وقت گزرنے پر وہ خشک ہوجائے اور حیوانات کے پے درپے گزرنے سے وہ روندی جائے اور ٹوٹ کر چورا چور ہوجائے۔
قراءت : حسن (رح) نے مُحْتَظَر پڑھا اور وہ باڑ لگانے کی جگہ ہے۔
Read the full tafseer →30 ۔” فکیف کان عذابی ونذر “ پھر ان کے عذاب کو بیان کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
(فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ (۔ پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈر کیسا تھا یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ نے ایک سخت چنھگاڑ کے اور زلزلہ بھیجا جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کرڈالا اور اللہ نے حضرت صالح اور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[ 35] قوم ثمود کے ہولناک انجام کی تصویر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار وہ سب لوگ روندی ہوئی باڑھ کا چورا بنکر رہ گئے اور ایسے ہوگئے گویا کہ وہ مدتوں سے مرے پڑے تھے جس طرح کہ باڑ والے کی باڑ کا پرانا اور روندھا ہوا چورا پڑا ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ محتظر ] باڑھ بنانے والے کو کہتے ہیں، چرواہے عام طور پر میدانوں میں اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے جھاڑ جھنکار کی باڑھ بنا لیتے ہیں، جن کے اندر وہ رات کے وقت اپنے گلوں کو محفو کرلیتے ہیں، اس قسم کی باڑھ کچھ عرصہ بعد بارش، ہوا اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے، اسی کو عربی زبان میں ہشیم کہا جاتا ہے، سو یہ ان لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔
کثرت افراد دلیل حق نہیں۔
یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 8 یعنی جیسے جانوروں کی حفاظت کے لئے سو کھی ٹہنیوں اور کانٹوں کی باڑھ بناتے ہیں اور چند دن میں وہ پائمال ہو کر چورا ہوجاتی ہے اسی طرح وہ لوگ چورا ہو کر رہ گئے۔
Read the full tafseer →(54:31) فکانوا میںسببیہ ہے۔ پس وہ ہوگئے۔
کھشیم المحتظر : ک تشبیہ کے لئے ہے ھشیم صفت مشبہ، مضاف مجرور بمعنی اسم مفعول ۔ ھشم (باب ضرب) مصدر سے : بمعنی توڑنا۔ ٹکڑے ٹکڑے کرنا ھشیم ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا۔ ریزہ ریزہ کیا ہوا۔ سوکھے ہوئے جھانکڑ۔ چورا چورا کیا ہوا المحتظر مضاف الیہ۔ اسم فاعل واحد مذکر احتظار (افتعال) مصدر۔ اپنے لئے باڑ بنانیوالا۔ حظیرۃ لکڑیوں کا بنایا ہوا باڑہ۔
ترجمہ ہوگا :۔ تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ۔
الحظر (باب نصر) کسی چیز کو احاثہ یا باڑ میں جمع کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
نبوت کا تصور
1: حضرت صالح کی قوم ثمود کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ جب اللہ کے یہ پاکباز بندے ان میں آئے اور انہوں نے اللہ کی توحید کو بیان کیا ۔ اور تزکیہ نفس کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ تو ان لوگوں کی رگ کبروغرور پھڑک اٹھی ۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنوں میں سے ایک آدمی کو پیغمبرمان لیں ۔ اور یہ تسلیم کرلیں ۔ کہ ایک شخص جو بالکل ہماری کھاتا پیتا اور اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ وہ نبی ہے ۔ گویا ان کے نزدیک نبوت کا تصور یہ تھا کہ وہ فوق البشر خوصیات اپنے اندر رکھتا ہو ۔ اور جو کچھ ہو ۔ کم از کم انسان نہ ہو ان کو اصل میں دکھ اس بات کا ہوتا تھا ۔ کہ آخر اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب حضرت صالح بنی پر کیوں پڑی ۔…
Read the full tafseer →(31) ہم نے ان پر ہولناک آواز اور ایک نعرے کو مسلط کردیا اور ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی۔
پھر وہ ایسے ہوگئے جیسے کسی باڑ لگانے والے کی باڑ کا چورا چورا ہوجاتا ہے۔ یعنی ایک فرشتے کو مسلط کردیا اس نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے پتے پھٹ گئے اور ایسے ہوگئے جیسے باڑ لگانے والے کی باڑ کا چورا۔ اکثر دیہات میں مویشیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ کانٹول کی باڑ لگادیا کرتے ہیں تاکہ مویشی درندوں سے محفوظ رہیں لیکن چونکہ اس باڑ کے پاس سے مویشی گزرتے ہیں اس لئے وہ باڑ مویشیوں کے گزرنے کی وجہ سے کچھ عرصہ کے بعد چورا چورا ہوجاتی ہے اس سے تشبیہ دی کہ ان کا بھی یہی حال ہوگیا پامال شدہ باڑ کے ساتھ تشبیہہ دینا اہل عرب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →لاریب ہم نے ان پر ایک سخت چیخ بھیجی جس نے ان کو چورا چورا کر دیا
31 ؎ مختصر یہ کہ ان تین دونوں کے بعد وقت موعود آپہنچا اور رات کے وقت ” ایک ہیبت ناک آواز “ نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ تھا۔ قرآن کریم نے اس ہلاکت آفرین آواز کو کسی مقام پر (صاعقہ) (کڑک دار بجلی) اور کسی جگہ (رجفہ) (زلزلہ ڈال دینے کی شے) اور بعض جگہ (طاغیہ ) دہشت ناک اور بعض جگہ (صیحہ ) چیخ فرمایا۔ اس لئے کہ یہ تمام تعبیرات ایک ہی حقیقت کے مختلف اوصاف کے اعتبار سے کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے اسی عذاب کی ہولناکیاں گوناں گوں تھیں۔ تم ایک ایسی کوندنے والی بجلی کا تصور کرو جو بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
21 The crushed and rotten bodies of the people of Thamud have been compared to the trampled and trodden twigs and pieces of bush Iying around an enclosure for cattle.
Read the full tafseer →