Explained with ayahs 33–40
خلاف وضع فطری کے مرتکب
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
سورة الْقَمَر 21
جو لوگ مویشی پالتے ہیں وہ اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر ان کا برادہ بن جاتا ہے۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(کذبت قوم لوط بالنذرہ انا ارسلنا علیھم حاصبا الا ال لوط نجینھم بسحر) (33۔ 34)
(واقعہ قوم لوط)۔۔ فرمایا کہ اسی طرح لوط کی قوم نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا تو اتمام حجت کے بعد ہم نے ان پر سنگ ریزے برسانے والی آندھی مسلط کردی۔ حاصب کی نوعیت سورة ٔ ذاریات کی تفسیر میں واضح کی جا چکی ہے۔ (الا ال لوط) یعنی اس عذاب سے صرف ال لوط محفوظ ہے۔ لفظ ال پر اس کے محل میں بحث گزر چکی ہے کہ اس کے مفہوم میں صرف آدمی کی صلبی ذریت ہی شامل نہیں ہے بلکہ اس کی معنوی ذریت یعنی اس کے اتباع بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ (نجینھم بسحر) فرمایا کہ لوط ؑ اور ان کے اتباع کو ہم نے عذاب کے ظہور سے پہلے ہی سحر کے وقت بستی سے نکال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
31۔ 1 باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہوجاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
8: اس آدمی کا نام روایتوں میں قدار آیا ہے۔ اس نے اونٹنی کو قتل کیا۔
Read the full tafseer →قوم لوط کا قصہ دوسرے مقامات پر مفصل مذکور ہے۔ یہاں اس قصے کی تفصیلات دینا مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ عبرت دلانا مقصود ہے کہ تکذیب کا نتیجہ کیا ہوا کرتا ہے۔ یہ کہ اللہ کا سخت عذاب آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز ہی تنبیہات الٰہیہ کی تکذب کے ذکر سے ہوتا ہے۔
کذبت ............ بالنذر (45: 33) ” قوم لوط نے تنبیہات کو جھٹلایا “ اور اس کے بعد متصلا عذاب الٰہی کا ذکر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
12 یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایک نبی کی تکذیب سب انبیاء کی تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →آیت 33{ کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ۔ } ”لوط علیہ السلام کی قوم نے بھی خبردار کرنے والوں کو جھٹلایا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
24 چیخ کا عذاب :۔ یہ لوگ چیخ یا گرج دار آواز سے ہلاک کیے گئے۔ فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے۔ اور مر کر ایک دوسرے پر گرنے لگے اور اس طرح ایک دوسرے سے روندے جانے لگے جیسے کسی کھیت کے گرد لگی ہوئی باڑ چند روز میں پامال ہو کر چورا چورا بن جاتی ہے۔ یہی ان لوگوں کا حال ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
23۔ یعنی انہیں بستی سے باہر نکال کر عذاب سے محفوظ کردیا۔ (آیت) ” الا ال لوط “۔ عذاب سے محفوظ صرف خاندان لوط رکھا گیا، لیکن نہ اس لئے کہ وہ لوگ نبی کے خاندان سے تھے بلکہ اس لئے کہ وہی لوگ تو ایمان لائے اور نبی کی تصدیق کرنے والے تھے ورنہ اگر محض اس خاندان سے ہونا محفوظیت کیلئے کافی ہوتا تو خود زوجہ حضرت لوط کیوں مبتلائے عذاب ہوتیں۔ (آیت) ” بالنذر “۔ نذر۔ نذیر کی جمع اور مراد پیغمبر کی توجیہ، محض حضرت لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کی بنا پر ہوسکتی ہے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے پیغمبروں کی تکذیب کو مستلزم ہے۔
24۔ یعنی اپنے قہر و عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” من شکر “۔ شکر ادا کرنے سے یہاں مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
قوم لوط (علیہ السلام) کا اجمالی واقعہ :
کذبت قوم لوط بالنذر یہاں سے قوم لوط کی ہلاکت کا اختصار کے ساتھ ذکر ہے، اس قوم پر ایسی تیز و تند ہو اکا عذاب بھیجا کہ جو ان پر کنکر پتھر رساتی تھی اور ان کی بستیوں کو تہہ وبالا کردیا گیا، سورة ہود میں اس کی تفصیلی گذر چکی ہے، آل لوط سے مراد خود حضرت لوط علیہ الصلا ۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ لوط (علیہ السلام) کی دو بیٹیاں ان کے ساتھیں جن کو نجات دی گئی۔
Read the full tafseer →کذبت قوم لوط بالنذر
قوم لوط نے (بھی) پیغمبروں کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
(33۔ 35) قوم لوط نے بھی لوط اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر پتھر برسائے سوائے لوط کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور زنتا اور مومنین کے اور ہم نے ان کو رات کے پچھلے پہر میں اپنی جانب سے فضل کر کے بچا لیا جو توحید خداوندی کا قائل ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے ہم ظالموں سے نجات دے کر اس کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (78) کی تفسیر۔
2۔ فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ : ”ھشم یھشم ھشما“ (ض)”الشئی“ کسی چیز کو توڑ کر اور کچل کر ریزہ ریزہ کردینا۔ ”ھشیم“ روندی ، کچلی ہوئی۔”حظیرہ“ باڑ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے ارد گرد ٹہنیوں وغیرہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اور ”المحتظر“ باڑ بنانے والا۔ باڑ کے پتے اور ٹہنیاں جو خشک ہو کر ٹوٹتی اور نیچے گرتی ہیں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آکر کچلی اور روندی جاتی ہیں اور ورا بن جاتی ہیں انہیں ”ھشیم“ کہا جاتا ہے۔ قوم ثمود کا عذاب کے ساتھ جو حال ہوا اسے ان پتوں اور ٹہنیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے…
Read the full tafseer →کذبت قوم لوط بالنذر ۔ قوم لوط کے بارے میں خبر دی جب انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کذبت قوم لوط '' (الاآیات)
قوم لوط پر عذاب کیوں آیا :ـ
10:۔ عبد الزراق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتماروا بالنذر '' (انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے) یعنی انہوں نے ڈرانے کی تصدیق نہیں کی (آیت ) '' فطمسنا اعینہم '' (سو ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں) ہم کو یہ بتایا گیا کہ جبر ائیل (علیہ السلام) نے ان کو سزا دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لی اور رات کو اس وقت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان لوگوں نے دروازے (کی طرف جانے میں) جلدی کی تاکہ ان پر داخل ہوجائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے ساتھ اس کو…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢ [ جھٹلایا لوط کی قوم نے ] بِالنُّذُرِ [خبردار کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
سیّدنا لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا، اور قوم کا کفر پر اصررا کرنا، معاصی پرجما رہنا اور آخر میں ہلاک ہونا
ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ہلاکت کا ذکر ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے وطن سے ہجرت کرکے آئے تھے دونوں نے ملک شام میں قیام فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) چند بستیوں کی طرف معبوث ہوئے ان میں بڑی بستی کا نام سدوم تھا ان بستیوں کے رہنے والے برے لوگ تھے۔ برے اخلاق اور برے اعمال میں مشغول رہتے تھے مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا توحید کی دعوت دی برے افعال سے روکا لیکن ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
16:۔ ” کذبت قوم لوط “ یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے۔ ” حاصب “ پتھر جو قوم لوط کی بستیوں پر برسائے گئے۔ قوم لوط (علیہ السلام) نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے ان کی بستیوں کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش کی اور اس سے پہلے صبح صبح ہی لوط (علیہ السلام) اور مؤمنوں کو بستی سے نکل جانے کا حکم دے کر ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ یہ ان پر ہمارا انعام و احسان تھا، کیونکہ وہ ہمارے شکر گزار بندے تھے اور شکر کرنے والوں کو ہم ایسی جزاء دیا کرتے ہیں۔ ” ولقد انذرھم۔ الایۃ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا۔ لیکن انہوں نے ان کے انذار کو جھٹلایا اور اس میں شک کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 32 كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍؚبِالنُّذُرِ 33
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ترکیب : الحاصب اسم الفاعل من حصب اذارمی الحصباء ھی الحصاب ومنہ المحصب موضع بالحجاز قال ابوعبیدۃ الحاصب الحجارۃ الریح وقال فی الصحاح الحاصب الریح الشدیدۃ التی تثیر الحصباء تذکیر الحاصب مع انہ مسندالی الریح وھی مونث سماعی لکونھا فی تاویل العذاب الاآل لوط استثناء متصل بسحر الباء بمعنی فی اوللملابستہ ای حال کو نھم متلبسین بسحر نعمۃ منصوب علی العلۃ اوعلی المصدریۃ تماروا تفاعلوامن المریۃ وھی الشک والمجادلۃ راودوہ المرادو الطلب مرۃ بعد مرۃ۔
تفسیر … حضرت لوط (علیہ السلام) کا واقعہ : چوتھا قصہ قوم لوط کا ہے کہ انہوں نے بھی نبیوں اور ان کی باتوں کو جھٹلایا تھا جس سے ان پر بلائے عظیم نازل ہوئی۔ یہ قصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط نَجَّیْنٰـھُمْ بِسَحَرٍ ۔ نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا ط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ ۔ (القمر : 33 تا 35)
(قومِ لوط نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا۔ تو ہم نے ان پر پتھرائو کرنے والی ہوا بھیج دی، صرف آل لوط اس سے بچے، ہم نے ان کو نجات دی سحر کے وقت۔ خاص اپنے فضل سے، اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ )
قومِ لوط کی سرگزشت کا حوالہ
قومِ لوط نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی تنبیہات کو درخورِاعتنانہ سمجھا اور وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کے نبی کی رسالت، اس کے لائے ہوئے پیغام اور نہ ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔
حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے…
Read the full tafseer →آیت 33: کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ بِالنُّذُرِ (قوم لوط نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ )
Read the full tafseer →32 ۔” ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
(كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢ بِالنُّذُرِ ) جب حضرت لوط نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلایا اور انہیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تو انہوں نے حضرت لوط کی تکذیب کی پس انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے حتی کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانووں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط کی قوم نے سنا توجلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کا برا کرے وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا انہوں نے ان کو اندھا کرڈالا، ان کے نبی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →[ 36] قوم لوط کے حال بد کا تذکرہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم لوط نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔ جس کے نتیجے میں آخر کار وہ لوگ بھیی اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس معلوم ہوا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور ان کی توہین دراصل تباہی اور فساد کی جڑ بنیاد ہے، اور اس کے بالمقال امن و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ ان کی دعوت پر لبیک کہا جائے اور ان کی تعلیمات کو صدق دل سے تسلیم کر کے ان کے مطابق اپنی زندگی کی راہیں استوار کی جائیں، اور اب وحی سماوی کا یہ نور صرف رسالت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی صورت میں اور قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہے اور بس۔ سو اب نجات صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔
کثرت افراد دلیل حق نہیں۔
یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
ف 1 یعنی حضرت لوط کی سب تنبیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا اور باتوں میں اڑاتے رہے۔
Read the full tafseer →(54:33) کذبت بالنذر۔ پیغمبروں کی تکذیب کی۔ نذر جمع نذیر کی بمعنی ڈرانے والے۔ (یعنی پیغمبر) منذر کے معنی میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
[9] چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے باڑوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی باڑھ بنا دیتے ہیں۔ جس کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہو کر چورا ہوجاتی ہیں۔ یہاں قوم ثمود کی کچلی ہوئی لاشوں کو روندی ہوئی جھاڑیوں کے اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
نبوت کا تصور
1: حضرت صالح کی قوم ثمود کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ جب اللہ کے یہ پاکباز بندے ان میں آئے اور انہوں نے اللہ کی توحید کو بیان کیا ۔ اور تزکیہ نفس کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ تو ان لوگوں کی رگ کبروغرور پھڑک اٹھی ۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنوں میں سے ایک آدمی کو پیغمبرمان لیں ۔ اور یہ تسلیم کرلیں ۔ کہ ایک شخص جو بالکل ہماری کھاتا پیتا اور اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ وہ نبی ہے ۔ گویا ان کے نزدیک نبوت کا تصور یہ تھا کہ وہ فوق البشر خوصیات اپنے اندر رکھتا ہو ۔ اور جو کچھ ہو ۔ کم از کم انسان نہ ہو ان کو اصل میں دکھ اس بات کا ہوتا تھا ۔ کہ آخر اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب حضرت صالح بنی پر کیوں پڑی ۔…
Read the full tafseer →(33) لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی رسولوں کی تکذیب کی اور رسولوں کو جھٹلایا۔ چونکہ کسی ایک پیغمبر کی تکذیب مستلزم ہے سب رسولوں کی تکذیب کو اس لئے رسول کو جمع لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی
33 ؎ یہ بات قبل ازیں ہم واضح کرچکے ہیں کہ کسی ایک نبی و رسول کی تکذیب سارے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب تصور کی جاتی ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو بار بار قوموں کو اپنے رسولوں اور نبیوں کے جھٹلانے کے لئے یہ طرز بیان اختیار نہ کیا جاتا کہ فلاں قوم نے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی جیسے اس جگہ بیان کیا گیا۔ لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کے اکیلے ہی نبی و رسول تھے لیکن قرآن کریم نے جو ارشاد فرمایا وہ یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ‘ رسولوں کی تکذیب کی حالانکہ قوم نے لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لوط (علیہ السلام) اہل سدوم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
21 The crushed and rotten bodies of the people of Thamud have been compared to the trampled and trodden twigs and pieces of bush Iying around an enclosure for cattle.
Read the full tafseer →