Al-Qamar 54:25

Al-Qamar · from ayah 25

54:25

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ۟ءَاُلۡقِىَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۡۢ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ‏

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Has the message been sent down upon him from among us? Rather, he is an insolent liar."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qamar

All translations of 54:25

کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ہمارے سب کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وه جھوٹا اور شیخی خور ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا ہم سارے لوگوں کے درمیان یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر نصیحت نازل کی گئی ؟ نہیں، بلکہ دراصل یہ پرلے درجے کا جھوٹا شیخی باز ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ہم سب میں سے اس پر بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (یعنی وحی) اتاری گئی ہے؟ بلکہ وہ بڑا جھوٹا، خود پسند (اور متکبّر) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ہم میں سے یہی شخص رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ وہ کذاب اور ڈھینگیں مارنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ہمارے اندر سے اسی پر یا دو بانی نازل کی گئی۔ بلکہ وہ ایک لپا ٹیا اور شیخی باز ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ہم سب میں سے بس اسی پر خدا کا ذکر اتارا جانا تھا ؟ نہیں بلکہ یہ تو پرلے درجے کا ایک جھوٹا اور شیخی باز شخص ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ بلکہ یہ بڑا جھوٹا ہے شیخی باز ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے ؟ بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ نہیں ! بلکہ یہ جھوٹا، خود پسند ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Was there none but he to whom the Reminder could be vouchsafed excluding all others? Nay; he is an insolent liar.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that the advice has been cast upon him alone out of all of us? No, but he is a bragging liar.

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that the advice has been cast upon him alone out of all of us? No, but he is a bragging liar.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hath the remembrance been given unto him alone among us? Nay, but he is a rash liar.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Has the message been sent down upon him from among us? Rather, he is an insolent liar."

— Saheeh International

How is it that he has received guidance? In fact, he is the most untruthfull and arrogant person".

— Muhammad Sarwar

Has the reminder been made to light upon him from among us? Nay! he is an insolent liar!

— Muhammad Habib Shakir

Hath the Admonition been laid upon him from amongst us! Aye! he is a liar insolent.

— Abdul Majid Daryabadi

"Is it that the Message is sent to him, of all people amongst us? Nay, he is a liar, an insolent one!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 54:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–32

فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–27

سورة الْقَمَر 18 اصل میں لفظ اَشِر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ایسا خود پسند اور بر خود غلط شخص جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سودا سما گیا ہو اور اس بنا پر وہ ڈینگیں مارتا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–42

خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ء القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر (25) یعنی اول تو یہی بات عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بشیر کو رسول بنائے لیکن اس سے بھی عجیب تر یہ ہے کہ اس کار عظیم کے لئے ان کی نظر ِ انتخاب ہماری پوری قوم کے اندر سے انہی کے اوپر پڑی۔ آخران کے کیا ایسے موتی ٹن کے ہوئے ہیں کہ اللہ کو اپنی ہدایت اتارنی ہوئی تو اس نے ان پر اتاری ! جو لوگ پشہتا پشت سے قوم کی سرداری و پیشوائی کررہے ہیں آخر وہ کیوں نظر اندناز کردیئے گئے۔ بل ھو کذاب اشر یعنی یہ بالکل ناممکن ہے کہ یہ شخص اپنے دعوے اور دعوت میں سچا ہو بلکہ یہ بالکل جھوٹا ہے اور ساتھ ہی شیخی باز ہے اس وجہ سے رسول ہونے کا دعویٰ کر کے ہمارے اوپر دھونس جمانا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بھلا ہم میں سے صرف اسی پر وحی آنی تھی ؟ یا اس کے ذریعے سے ہم پر اپنی بڑائی جتانا اس کا مقصد تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بل ھو کذاب اشر (45:5 2) ” بلکہ وہ جھوٹ اور لالچی ہے “ کذاب جھوٹا ، اشر شدید لالچی اور اس تبلیغ سے وہ اقتدار اور مرتبہ چاہتا ہے۔ ہر داعی پر ہمیشہ یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے بہانے مفادات کے حصول کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور یہ ان اندھوں کا موقف ہوتا ہے جو نیک لوگوں کے جذبات اور ان کے قلبی محرکات سے واقف نہیں ہوتے۔ بات ابھی تک حکایتی اور قصے کے انداز سے چلتی ہے کہ اچانک معاملہ خطاب کا آجاتا ہے۔ اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا واقعات ابھی جاری ہیں۔ اس لئے بتایا جاتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے اور ان کا مستقبل میں ہونے والے واقعات کی دھمکی دی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی پیغمبری کے لیے بس یہی رہ گیا تھا ؟ سب جھوٹ ہے۔ خواہ مخواہ بڑائی مارتا ہے کہ خدا نے مجھے اپنا رسول بنادیا۔ اور ساری قوم کو میری اطاعت کا حکم دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25{ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ م بَیْنِنَا } ”کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے ؟“ اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے وحی کے لیے آخر اسی شخص کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس منصب کے لیے اس کی نظر ہمارے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں پڑی ؟ { بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ۔ } ”بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔“ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اور صرف اپنی بڑائی جتلانے اور شیخی بگھارنے کے لیے اس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 قوم ثمود کے سیدنا صالح کو جھٹلانے کی تین وجوہ :۔ یعنی قوم ثمود نے تین وجوہ کی بنا پر سیدنا صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا ایک یہ کہ وہ ہم ہی جیسا ایک انسان ہے۔ کھاتا ہے، پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کوئی مافوق الفطرت بات اس میں ہم نہیں دیکھتے۔ دوسری یہ کہ وہ اکیلا ہے اس کے ساتھ نہ کوئی جتھا ہے نہ فوج نہ یارو مددگار اور نہ جاہ و حشم، پھر آخر ہم کس بنا پر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں۔ اور اگر ہم اس کی اطاعت کرنے لگیں تو ہم جیسا احمق اور پاگل کون ہوگا۔ اور تیسری وجہ یہ کہ اگر اللہ کو اپنا کوئی رسول بنانا ہی تھا تو کیا اسے یہی شخص پسند آیا تھا ؟ جس کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ جاہ و حشم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ (جو شیخی کے مارے باتیں ایسی بڑائی کی کرتا ہے کہ اسے سرداری مل جائے) اللہ اللہ ! یہ پیغمبر کا درجہ ہے۔ منکروں، مسخ شدہ ذہینت والے منکروں کی نظر میں !۔۔ شیطان کے تسلط کے بعد کوئی حد ہی انسان کی سخافت فکر کی نہیں رہ جاتی !۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–31

بل ھو کذاب اشر اشر ایسے برخود غلط اور خود پسند شخص کو کہتے ہیں جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سود اسمایا ہوا ہو اور اس بناء پر ڈینگیں مارتا ہو، مطل یہ ہے کہ جب نہ تو یہ مافوق البشر قوتوں کا مالک ہے اور نہ یہ جتھا بند شخص ہے کہ اس کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو اور نہ ہی یہ اوپر سے نازل کیا ہوا یا باہر سے آیا ہوا شخص ہے کہ اس کی کچھ اہمیت ہو، تو ایسی صورت میں اس کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے دو ہی مقصد ہوسکتے ہیں یا تو یہ پر لے درجہ کا جھوٹا شخص ہے یا پھر ہم پر اپنی بڑائی جتانا اور ہمارے مقابلہ میں شیخی بگھارنا مقصد ہے لہٰذا ہم ایسے کذاب اور شیخی خورے کی ہرگز پیروی نہ کریں گے۔ حضرت صالح (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ء القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر . (اگر ہم نے ایسا کیا تو) اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے کیا ہم سب میں سے اس پر وحی نازل ہوئی ہے بلکہ یہ بڑا جھوٹا اور بڑا شیخی باز ہے۔ ءَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ : ذکر سے مراد ہے کتاب (صحیفے) اور وحی یعنی کیا ہم میں سے اس پر وحی نازل کی گئی ہے باوجودیکہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سے زیادہ وحی کے مستحق ہیں۔ مطلب یہ کہ ہم میں سے اس پر نزول وحی ہوا ہو ‘ ایسا نہیں ہوا۔ بَلْ ھُوَ کَذَّابٌ : بلکہ یہ بڑا جھوٹا ہے ‘ اللہ پر اس نے دروغ بافی کی ہے۔ اَشِرٌ : شیخی باز (اِترانے والا) ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے ہم سے اونچا بننا چاہتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–26

(25۔ 26) کیا ہم سب میں سے اسی شخص کو نبوت کے لیے منتخب کیا گیا ہے حالانکہ ہم اس سے زیادہ شریف اور بزرگ ہیں بلکہ یہ یعنی صالح معاز اللہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے یہ سن کر صالح نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–26

۔ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْم بَیْنِنَا۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ص (8) کی تفسیر۔ 2۔ بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ :”اشر“ اشر یاشر ”اشرا“ (ض) سے اسم فاعل ہے ، متکبر، اکڑنے والا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ء القی الذکر علیہ من بیننا کیا آل ثمود میں سے اسے رسالت کے لئے خاص کیا گیا ہے جب کہ آل ثمود میں اس سے بڑھ کر مالدار ہیں اور اچھے حال والے ہیں۔ یہاں ہمزہ استفہام کے لئے ہے اور معنی انکار کا دے رہا ہے۔ بل ھو کذاب اشر۔ یعنی بات اس طرح نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے بلکہ وہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ بڑا بنے اور وہ بغیر استحقاق ہم پر بڑائی تلاش کرتا ہے الشر کا معنی تکبر، تجبر اور نشاط ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فرس اشر جب وہ سرکش اور چست ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اشر کا معنی سرکش ہے اشر، بطر کے معنی میں آتا ہے : شاعر نے کہا : اشرتم بلبس الخز لما لبستم ومن قبل ماتدرون من فتح القری (3) جب تم نے ریشم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–30

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' (ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے یعنی بدبختی ہیں۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' سے مراد ہے کہ پھر تو ہم مگر اپنی مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے۔ 3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وسعر ' ' یعنی گمراہی (آیت ) '' کل شرب محتضر '' (یہ ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا) یعنی وہ لوگ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی اور جب وہ آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لئے حاضر ہوں (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ءَاُلْقِيَ [ کی ڈالا گیا ] الذِّكْرُ [ اس نصیحت کو ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْۢ بَيْنِنَا [ ہمارے درمیان سے ] بَلْ هُوَ [ بلکہ وہ ] كَذَّابٌ [ انتہائی جھوٹا ہے ] اَشِرٌ [ خود پسند ہے ] ء ش ر : (س) اشرا ۔ مغرور ہونا ۔ اترانا ۔ اشر ۔ صفت ہے۔ اترانے والا ۔ خود پسند ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔ 25 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–27

قوم ثمود کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب ان آیات میں قوم ثمود کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا انہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی خیر کا راستہ دکھایا لیکن ان پر تکبر سوار ہوگیا اور کہنے لگے تم بھی تو انسان ہو اور ہم بھی انسان ہیں پھر ہو بھی تم ہمیں میں سے تم میں کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے تم نبی بنائے گئے ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کا اتباع کریں تو یہ بڑی گمراہی کی بات ہے ہم کوئی دیوانے تو نہیں ہیں جو اتنی بات بھی نہ سمجھیں ہم اپنے ہی جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–42

تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔ جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

ٖف 13:۔” ء القی الذکر “ اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کیا یہ صالح ہی رہ گیا تھا کہ اس پر وحی بھیجی جاتی حالانکہ ہم میں بہت سے بڑے لوگ موجود ہیں جو صالح (علیہ السلام) کے مقابلے میں مہبط وحی بننے کے زیادہ مستحق ہیں اس لیے وہ العیاذ باللہ۔ غلط بیانی کر رہا ہے اور ہم پر بڑائی چاہتا ہے۔ وہ کند ذہن دنیوی دولت اور شان و شوکت کو استحقاق نبوت کی دلیل سمجھتے تھے ” سیعلمون غدا۔ الایۃ “ اس سے پہلے قیل مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے فرمایا، کل جب ان پر عذاب آئیگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کذاب اور متکبر کون ہے۔ حکایۃ لما قالہ سبحانہ وتعالیی لصالح (علیہ السلام) وعدا لہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–42

ربطہ آیات اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ءَ اُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْہِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ ہُوَكَذَّابٌ اَشِرٌ۝ 25 لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–30

ترکیب : بَشَرًا ھو منصوب بفعل یفسرہ المذکور ای اتبع بَشَرًامِّنَّا نعت ویقرء بالرفع فھومبتداء ومنانعت لہ واحِدًا حال من الھاء فی نَتَّبِعُہٓٗ من بیننا حال من الھاء الْاَشِرٌ بکسرالشین وضمہا لغتان مثل فرح و فرح ویقرأ بتشدیدا لراء ھو فعل من الشر فِتْنَۃً مفعول لہ۔ تفسیر … قوم ثمود کی بربادی : یہ تیسرا قصہ ثمود کا ہے کہ انہوں نے بھی نذر یعنی ڈر سنانے والے رسولوں کو جھٹلایا (اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا مگر جو بات صالح کہتے تھے وہی سب اگلے انبیاء کہتے آئے تھے پس ایک کا جھٹلانا گویا سب کا جھٹلانا 2 ؎ ہے۔ یا یوں کہو خدا کی طرف کے انسان کو ڈر سنانے والے انسانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ م بَیْنِنَا بَلْ ھُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ۔ (القمر : 25) (کیا ہمارے اندر سے اسی پر اللہ کا ذکر نازل کیا گیا ہے، نہیں، بلکہ وہ پرلے درجے کا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ ) اول تو یہی بات قابل تسلیم نہیں کہ کسی بشر کو نبوت جیسا عظیم منصب مل جائے۔ لیکن اگر اسے مان بھی لیا جائے تو اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کارعظیم کے لیے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا ہے جو قوم کا نہایت ناقابلِ ذکر آدمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا یہ دعویٰ کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اس نے ثابت کردیا ہے کہ یہ بہت بڑا جھوٹا آدمی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ شیخی باز بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–32

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔ قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔ قوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 25: ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا (کیا ہم سب میں سے اس پر وحی نازل ہوئی۔ ) مطلب یہ ہے کیا اس پر وحی اتری حالانکہ ہم میں ایسے بھی ہیں جو نبوت کے چنائو کے لئے اس سے زیادہ مستحق ہیں۔ بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ (بلکہ وہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ ) أشر : شیخی باز ٗ متکبراس کو اس کی شیخی نے آمادہ کیا ہے کہ یہ دعویٰ کر کے ہم پر بڑائی حاصل کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24 ۔” فقالوا ابشرا “ آدمی۔ ” منا واحدا نتبعہ “ اور ہم بڑی جماعت ہیں اور وہ اکیلے ہیں۔ ” انا اذا نفی ضلال غلطی میں۔ ” وسعر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عذاب میں اور حسن (رح) فرماتے ہیں سخت عذاب میں۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ذلت میں۔ وہ کہنے لگے بیشک تب تو ہم ذلت اور عذاب میں ہوں گے کہ ہمیں اس کی اطاعت لازم ہوگی۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں یہ سعیر کی جمع ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں جنون۔ کہا جاتا ہے ” نافۃ مسعورۃ “ جب اس کا سر ہلکا ہوا اپنے چہرے کے بل گرنے والی ہو اور وہب (رح) فرماتے ہیں ” وسعر “ یعنی حق سے دور ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–36

9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–26

(ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا) کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے یعنی اللہ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے ؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہیے ؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں اسی کی بنیاد پر انبیا ومرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے اللہ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انہوں نے امتوں سے کہا تھا۔ (قالت لھم رسلھم ان نحن۔۔ تا۔۔۔ عبادہ۔ ابراہیم 11) ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ واقعی ہم محض…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–27

شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 29] منکرین کی طرف سے پیغمبر کی تکذیب و توہین۔ والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے منکرین کے بشریت پیغمبر کی بنا پر قبول حق سے انکار اور پیغمبر کی تکذیب و توہین کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ بشریت پیغمبر کی بنا پر قبول حق سے انکار کرتے ہوئے ان بدبختوں نے کہا کہ کیا ہم میں سے بس انہی پر یہ ذکر اتارا جاتا تھا ؟ جب کہ ہمارے درمیان دنیاوی جاہ و جلال، چن لیا گیا۔ سو ایسے نہیں بلکہ یہ شخص پرلے درجے کا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ دنیاداروں کے لئے دنیاوی مال و دولت نور حق سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے۔ " الا من عصمہ اللّٰہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–52

نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–40

آیات 23 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(54:25) ء القی : ء استفہامیہ انکاریہ ہے ، القی القاء سے مصدر (باب افعال) ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ ڈالا گیا۔ نازل کیا گیا۔ القی علیہ القول کسی کو کوئی قول املاء کرنا۔ الذکر۔ وحی۔ ترجمہ آیت :۔ کیا ہم سب میں سے وحی صرف اسی پر ہی اتاری گئی (یعنی یہ نہیں ہوسکتا) بل : حرف اضراب ہے یہاں ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصدیق کے لئے آیا ہے یعنی یہ صحیح کہ ہم میں سے وحی صرف اسی پر نازل ہوئی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص کذاب اور شیخی خور ہے۔ کذاب اشر : کذاب کذب (باب ضرب) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بڑا جھوٹا۔ اشر اشر (باب سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بڑائی مارنے والا۔ بہت اترانے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–42

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–36

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–27

[7] صرصر شمال کی اس تند ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے جس سے ہر چیز پر ایک نحوست سی چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نحس کہتے۔ یہاں یوم نحس سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–30

قرآن آسان ہے 2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل کی گئی اور اسی پر نصیحت کی بات اتاری گئی یہ بات نہیں ہے بلکہ وہ شخص بڑا جھوٹا اور خود پسند اور بڑائی مارنے والا ہے۔ یعنی ہم سب میں سے پیغمبری کے لئے اسی کو منتخب کیا ہے نہیں بلکہ یہ بڑا جھوٹ اور شیخی خورہ ہے بڑائی اور سرداری چاہتا ہے آگے حضرت حق تعالیٰ کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–40

ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم ثمود نے کہا کہ کیا صالح ہی ہم میں سے وحی کا مستحق ٹھہرا حالانکہ وہ جھوٹا ہے 25 ؎ قارئین کرام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ غور و فکر کریں کہ قوم نے صالح (علیہ السلام) کو کیا کہا ؟ قوم نے صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر اللہ نے ذکر نازل کیا ؟ گویا قوم کو یہ بات پسند نہ آئی اور صالح (علیہ السلام) کے متعلق جو کہا وہ یہ تھا کہ صالح تو ایک جھوٹا اور بڑائی مارنے والا آدمی ہے۔ (اشر) بہت زیادہ اترانے والا ‘ بڑائی مارنے والا اشر سے جس کے معنی بہت زیادہ اترانے اور بڑائی مارنے کے ہیں ‘ صفت ‘ مشبہ کا صیغہ ‘ اندازہ کیجئے کہ کسی اللہ کے نبی اور رسول میں بھی یہ صفت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–42

Lexicological Analysis The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses. رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

18 The word ashir of the original means a conceited, insolent person given to bragging of his own superiority over others.

Read the full tafseer →