Explained with ayahs 23–32
فریب نظر کے شکار لوگ
ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة الْقَمَر 18
اصل میں لفظ اَشِر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ایسا خود پسند اور بر خود غلط شخص جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سودا سما گیا ہو اور اس بنا پر وہ ڈینگیں مارتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن…
Read the full tafseer →سیعلمون عذا من الکذاب الا شر (26)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا بر سر موقعہ جواب دے دیا کہ جو مکبو اس کرنی چاہتے ہیں کرلیں۔ فیصلہ کی گھڑی قریب ہے۔ اللہ کا عذاب آیا ہی چاہتا ہے۔ اس وقت یہ دیکھ لیں گے کہ جھوٹا اور شیخی باز کون ہے ؟
Read the full tafseer →26۔ 1 یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح علیہ السلام، جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غَدًا یعنی کل سے مراد قیامت کا دن یا دنیا میں ان کے لئے عذاب کا مقررہ دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
6: تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 65
Read the full tafseer →سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی کون ہے۔ “ یہ قصص کے بیان کا ایک قرآنی طریقہ ہے۔ یہ انداز قصے میں جان ڈال دیتا ہے کہ بجائے محض قصہ پارینہ کے تخیل کے زور سے اس قصے کو ایک منظر نامے کی شکل میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ قصہ نہیں رہتا بلکہ حال اور مستقبل کے واقعات بن جاتا ہے۔
سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی وہ جان لیں گے کہ جھوٹا اور لالچی کون ہے “ کل یہ حقیقت کھل جائے گی اور یہ چھوٹ نہیں سکیں گے اور یہ مصیبت بتادے گی کہ کون جھوٹا ہے اور جھوٹوں کی سزا کیا ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی بہت جلد معلوم ہوا چاہتا ہے کہ دونوں فریق میں جھوٹا اور بڑائی مارنے والا کون ہے۔
Read the full tafseer →آیت 26 { سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْکَذَّابُ الْاَشِرُ۔ } ”جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
21 کل سے مراد ان پر عذاب کا دن بھی ہوسکتا ہے اور قیامت کا دن بھی اور بہت جلد بھی یعنی یہ حقیقت جلد ہی واضح ہوجائے گی کہ اصل میں جھوٹا اور بڑیں مارنے والا کون تھا۔ صالح (علیہ السلام) یا انہیں جھٹلانے والے ؟
Read the full tafseer →20۔ (آیت) ” غدا ‘۔ مراد ” مرتے ہی “ ہے۔ دنیوی عذاب کی آمد بھی مراد ہوسکتی ہے۔ مقصود بہرصورت متوقع عذاب کی تاکید وتیقن ہے۔ عند نزول العذاب بھم اویوم القیامۃ (مدارک) (آیت) ” الکذاب “۔ جھوٹے اور سخت جھوٹے یہ لوگ ثابت ہوں گے بلحاظ انکار توحیدورسالت کے۔ (آیت) ” الاشر “۔ شیخی باز یہ لوگ ثابت ہوں گے اس لحاظ سے کہ انہیں نبی کے اتباع میں عار آتا تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اصلاح سے مایوس ہوجانے کے بعد اہل طریق بھی اسی طرز پر معاندین کو جواب دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
بل ھو کذاب اشر اشر ایسے برخود غلط اور خود پسند شخص کو کہتے ہیں جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سود اسمایا ہوا ہو اور اس بناء پر ڈینگیں مارتا ہو، مطل یہ ہے کہ جب نہ تو یہ مافوق البشر قوتوں کا مالک ہے اور نہ یہ جتھا بند شخص ہے کہ اس کو عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو اور نہ ہی یہ اوپر سے نازل کیا ہوا یا باہر سے آیا ہوا شخص ہے کہ اس کی کچھ اہمیت ہو، تو ایسی صورت میں اس کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے دو ہی مقصد ہوسکتے ہیں یا تو یہ پر لے درجہ کا جھوٹا شخص ہے یا پھر ہم پر اپنی بڑائی جتانا اور ہمارے مقابلہ میں شیخی بگھارنا مقصد ہے لہٰذا ہم ایسے کذاب اور شیخی خورے کی ہرگز پیروی نہ کریں گے۔
حضرت صالح (علیہ…
Read the full tafseer →سیعلمون غدا من الکذاب الاشر .
” ان کو عنقریب کل ہی کو (مرنے کے بعد ہی یا عذاب آتے ہی) معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا ‘ شیخی باز کون تھا۔ “
سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا : کل کو جان لیں گے یعنی جس وقت ان پر عذاب نازل ہوگا (غدًا سے مراد ہے یوم عذاب) ۔ کلبی نے کہا : روز قیامت مراد ہے۔
جب ثبوت نبوت کے لیے قوم والوں نے حضرت صالح سے معجزہ طلب کیا اور خود ہی اس کی صورت تجویز بھی کردی کہ پتھر کی چٹان کے اندر ایک دس ماہ کی گھابن سرخ رنگ کی اونٹنی برآمد کر دو تو اللہ نے حضرت صالح سے فرمایا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(25۔ 26) کیا ہم سب میں سے اسی شخص کو نبوت کے لیے منتخب کیا گیا ہے حالانکہ ہم اس سے زیادہ شریف اور بزرگ ہیں بلکہ یہ یعنی صالح معاز اللہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے یہ سن کر صالح نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
۔ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْم بَیْنِنَا۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ص (8) کی تفسیر۔
2۔ بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ :”اشر“ اشر یاشر ”اشرا“ (ض) سے اسم فاعل ہے ، متکبر، اکڑنے والا۔
Read the full tafseer →سیعلمون غداً وہ قیامت کے روز عذاب کو ضرور دیکھیں گے یا معنی ہے دنیا میں ہی جب ان پر عذاب نازل ہوگا تو وہ اسے دیکھیں گے۔ ابن عامر اور حمزہ نے اسے ت اء کے ساتھ پڑھا ہے کہ حضرت صالح انہیں خطاب کریں گے باقی یاء کے ساتھ پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت صالح کو ان کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : غداً لوگوں کی عادت کے طور پر ہے کہ وہ انجام کے قریب ہی وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے کہتے ہیں : ان مع الیوم غدا۔
شاعر نے کہا :
للموت فیھا سھار غیر مخطبۃ من لم یکن میتاً فی الیوم مات غداً
اس میں موت کے ایسے تیر تیر ہیں جو خطا نہیں جاتے جو آج نہیں مرے گا کل مر جائے گا۔
فمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' (ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے یعنی بدبختی ہیں۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا اذالفی ضلل وسعر '' سے مراد ہے کہ پھر تو ہم مگر اپنی مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے۔
3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وسعر ' ' یعنی گمراہی (آیت ) '' کل شرب محتضر '' (یہ ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا) یعنی وہ لوگ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی اور جب وہ آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لئے حاضر ہوں (آیت ) ''…
Read the full tafseer →سَيَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جان لیں گے ] غَدًا [ کل کو ] مَّنِ الْكَذَّابُ [کون انتہائی جھوٹا ہے ] الْاَشِرُ [خود پسند ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
قوم ثمود کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب
ان آیات میں قوم ثمود کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا انہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی خیر کا راستہ دکھایا لیکن ان پر تکبر سوار ہوگیا اور کہنے لگے تم بھی تو انسان ہو اور ہم بھی انسان ہیں پھر ہو بھی تم ہمیں میں سے تم میں کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے تم نبی بنائے گئے ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کا اتباع کریں تو یہ بڑی گمراہی کی بات ہے ہم کوئی دیوانے تو نہیں ہیں جو اتنی بات بھی نہ سمجھیں ہم اپنے ہی جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–42
تاریخ شقاوت وبدنصیبی وہلاکت امم سابقہ وتصدیق انبیاء ومرسلین قصہ اول قوم نوح (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” گذبت قبلھم قوم نوح ....... الی ........ اخذ عزیز مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزہ شق القمر کا ذکر تھا اور یہ کہ منکرین نے اس کا گستاخی اور بےہودگی کے ساتھ انکار کیا اب ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلانے اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ وہ کس طرح اپنی شقاوت وبدنصیبی کے باعث ہلاک ہوئے سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے، فرمایا۔
جھٹلاچ کی ہے ان سے پہلے قوم نوح کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ٖف 13:۔” ء القی الذکر “ اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کیا یہ صالح ہی رہ گیا تھا کہ اس پر وحی بھیجی جاتی حالانکہ ہم میں بہت سے بڑے لوگ موجود ہیں جو صالح (علیہ السلام) کے مقابلے میں مہبط وحی بننے کے زیادہ مستحق ہیں اس لیے وہ العیاذ باللہ۔ غلط بیانی کر رہا ہے اور ہم پر بڑائی چاہتا ہے۔ وہ کند ذہن دنیوی دولت اور شان و شوکت کو استحقاق نبوت کی دلیل سمجھتے تھے ” سیعلمون غدا۔ الایۃ “ اس سے پہلے قیل مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے فرمایا، کل جب ان پر عذاب آئیگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کذاب اور متکبر کون ہے۔ حکایۃ لما قالہ سبحانہ وتعالیی لصالح (علیہ السلام) وعدا لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–42
ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے…
Read the full tafseer →سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
غَدٌ
يقال للیوم الذي يلي يومک الذي أنت فيه، قال : سَيَعْلَمُونَ غَداً [ القمر/ 26] ، ونحوه .
أشر
الأَشَرُ : شدّة البطر، وقد أَشِرَ يَأْشَرُ أَشَراً ، قال تعالی: سَيَعْلَمُونَ غَداً مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ [ القمر/ 26] ، فالأشر أبلغ من البطر، والبطر أبلغ من الفرح، فإنّ الفرح۔ وإن کان في
أغلب أحواله مذموما لقوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ [ القصص/ 76]- فقد يحمد تارة إذا کان علی قدر ما يجب، وفي الموضع الذي يجب، كما قال تعالی: فَبِذلِكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : بَشَرًا ھو منصوب بفعل یفسرہ المذکور ای اتبع بَشَرًامِّنَّا نعت ویقرء بالرفع فھومبتداء ومنانعت لہ واحِدًا حال من الھاء فی نَتَّبِعُہٓٗ من بیننا حال من الھاء الْاَشِرٌ بکسرالشین وضمہا لغتان مثل فرح و فرح ویقرأ بتشدیدا لراء ھو فعل من الشر فِتْنَۃً مفعول لہ۔
تفسیر … قوم ثمود کی بربادی : یہ تیسرا قصہ ثمود کا ہے کہ انہوں نے بھی نذر یعنی ڈر سنانے والے رسولوں کو جھٹلایا (اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا مگر جو بات صالح کہتے تھے وہی سب اگلے انبیاء کہتے آئے تھے پس ایک کا جھٹلانا گویا سب کا جھٹلانا 2 ؎ ہے۔ یا یوں کہو خدا کی طرف کے انسان کو ڈر سنانے والے انسانی…
Read the full tafseer →سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْـکَذَّابُ الْاَشِرُ ۔ (القمر : 26)
(وہ کل کو جان لیں گے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ )
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بات کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ ہمارے پیغمبر کے بارے میں جو انتہائی غلط باتیں کہہ رہے ہیں انھیں کل ہی یعنی بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا ہمارا رسول ہے یا یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ شیخی باز اور برخودغلط، ان میں سے ایک ایک شخص ہے یا ہمارا رسول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔
قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔
قوم…
Read the full tafseer →آیت 26: سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْکَذَّابُ الْاَشِرُ (ان کو عنقریب کل ہی کو معلوم ہوجائے گا۔ کہ جھوٹا شیخی باز کون تھا۔ ) جب ان پر عذاب اترے گا۔ نمبر 2۔ قیامت کے دن کہ جھوٹا شیخی باز کون ہے۔ کیا میں صالح یا مجھے جھٹلانے والے ؟
قراءت : شامی و حمزہ نے ستعلمون پڑھا ہے۔ اس کو نقل کرتے ہوئے جو ان کو صالح (علیہ السلام) نے بطور جواب فرمایا۔ نمبر 2۔ بطور التفات یہ ادخال الٰہی ہے۔
Read the full tafseer →25 ۔” ء القی الذکر “ کیا ذکر یعنی وحی نازل کی گئی ہے۔ ” علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر “ متکبر۔ اس کا ارادہ یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرکے ہم پر بڑا ہوجائے اور اشرا کڑنا، تکبر کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
9۔ 36۔ تفسیر عبد الملک بن جریج اور تفسیر 1 ؎ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہمیشہ معمولی مینہ تو بادلوں سے برستا ہے قوم نوح کے طوفان کے وقت بغیر بادلوں کے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے در وازے کھول دیئے تھے جس سے طوفان کا عذاب آیا۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں اوپر گزر چکا ہے کہ نیک روحوں کے آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بد روحوں کے لئے نہیں کھلتے اور معراج کی صحیح حدیثوں میں آسمان کے دروازہ کا ذکر موجود ہے پھر باوجود اس کے فلسفی اصول پر بعض مفسروں نے آسمان کے دروازوں کی جو تاویل کی ہے وہ تاویل قرآن شریف اور صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن رسولوں کے قصے اس سورة میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا) کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے یعنی اللہ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے ؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہیے ؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں اسی کی بنیاد پر انبیا ومرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے اللہ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انہوں نے امتوں سے کہا تھا۔ (قالت لھم رسلھم ان نحن۔۔ تا۔۔۔ عبادہ۔ ابراہیم 11) ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ واقعی ہم محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–27
شق القمر کا معجزہ دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت نزدیک آپہنچی اور چاندشق ہوگیا) چاند کا شق ہوناحضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کے طور پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادات یعنی قوانین تکوینی میں اس جیسی تبدیلی صرف اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے نبی ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بن جائے۔
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت دس صحابہ کرام سے مروی ہے جن میں حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت جبیر بن مطعم ؓ اور دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں۔ میں نے ان کی روایات کی اسانید کو طوالت کے خوف سے بیان کرنا پسند نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
[ 30] منکرین کا معاملہ ان کے انجام کے حوالے :
سو منکرین کی اس کافرانہ اور معاندانہ بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برسر موقع ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے بڑا جھوٹا شیخی باز۔ یعنی کل عذاب آئے گا، جب کہ ان کی یاس و حسرت کی کوئی حد و انتہاء نہ رہے گی، مگر اس سے ان کو اس وقت کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، سوائے دکھ اور صدمے میں اضافے کے، والعیاذ باللّٰہ، سو اب یہ لوگ جو بکواس کرنا چاہتے ہیں کرلیں، فیصلے کی گھری قریب ہے تب ان کو خود اچھی طرح معلوم ہوجائے گا اور دنیا بھی کھلی آنکھوں دیکھ لے گی کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ سو یہ ایسے منکرین اور معاندین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–40
آیات 23 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔
کثرت افراد دلیل حق نہیں۔
یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →ف 4 کل سے مراد قریب کا زمانہ ہے یعنی اترنے کا وقت یا قیامت کا دن۔
Read the full tafseer →(54:26) سیعلمون : س مستقبل قریب کے لئے ہے۔ وہ عنقریب کل ہی جان لیں گے۔ کل سے مراد۔ مرنے کے فوراً بعد یا عذاب آتے ہی۔ غداء کل مراد قیامت کا دن یا عذاب کا دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42
صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42
قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کا انجام۔
(ف 2) جن رسولوں کے قصے اس سورت میں ہیں ان کی تفصیل تو اور سورتوں میں گزرچکی ہے یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ جب قریش کے منکر لوگوں نے ایسا بڑاظاہر معجزہ چاند کے دوٹکرے ہوجانے کا دیکھا اور پھر بھی اس معجزے پر ایمان نہ لائے، اس کو جادو بتلایا تو اللہ تعالیٰ نے قوم نوح سے لے کر حضرت موسیٰ کے زمانہ تک پچھلی قوموں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرماکرآخر کو فرمایا ہے کہ اے محبوب ان منکروں میں کون سی خصوصیت ہے کہ یہ لوگ پچھلے عذاب الٰہی میں پکڑی ہوئی قوموں کے سے کام کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو کسی عذاب میں نہ پکڑے گا کیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
[7] صرصر شمال کی اس تند ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے جس سے ہر چیز پر ایک نحوست سی چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نحس کہتے۔ یہاں یوم نحس سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
قرآن آسان ہے
2: قرآن نے آسان ہونے میں شبہ نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے پیغام عمل کا حامل ہے ۔ جس میں کوئی دشواری اور الجھن نہیں ۔ مگر صلاحیت شرط ہے ۔ یہ زندگی کا ایسا پروگرام ہے ۔ جوب بالکل فطرت انسانی کے موافق ہے ۔ اس لئے قدرتاً مشکل نہیں ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول بیان کئے گئے ۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی روح میں کیوں کر بہیحت ومسرت کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے محنت درکار ہے ۔ پڑھنے لکھنے کی حاجت ہے ۔ اور بغیر عوام اور شروط لازمہ کے ہر شخص کو استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ وہ جس طرح چاہے اس کی آیتوں کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لے ۔ باوجود آسان اور سہل ہونے کے اس…
Read the full tafseer →(26) انہیں ابھی کل کو ہی معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون دروغ گو اور شیخی مارنے والا ہے - یعنی جھوٹا اور شیخی خورہ کون ہے بہت جلد کل کو وہی یہ جان لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–40
ف 5۔ یعنی وہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب کفار کے لئے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا اور بڑائی مارنے والا ہے
26 ؎ (غدا) کل یعنی آنے والا دن۔ اس جگہ اس سے مراد ان کے عذاب کا دن ہے جو عنداللہ مقرر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کذاب اور اترانے والا کون ہے ؟ صالح (علیہ السلام) یا صالح (علیہ السلام) کے متعلق اس طرح کے الزام لگانے والے ۔ (غدا) اصل میں غدوا ہے لیکن اس کا وائو بلا عوض حذف کردیا گیا ہے۔ آنے والے کل سے ان کے لئے مقرر دن جو عزاب کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہی مراد لیا گیا ہے اگرچہ بعض جگہ اس سے مراد قیامت کا دن بھی لیا جاتا ہے تاہم اس جگہ مراد قیامت کا روز نہیں بلکہ عذاب ہی کا دن ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–42
Lexicological Analysis
The word سُعُر su'ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means 'madness or insanity'. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su'ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su'ur is used in both these senses.
رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
18 The word ashir of the original means a conceited, insolent person given to bragging of his own superiority over others.
Read the full tafseer →